Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode29

Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode29

آپی آنٹی آئی ہیں۔عریشہ نے علشبہ کو آکر کہا۔
ارے ماما آئیں نا باہر کیوں کھڑی ہیں۔علشبہ وفا کے کپڑے چینج کررہی تھی عریشہ کے کہنے پر دروازے پر کھڑی ثمینہ بیگم کو دیکھ کر بولی تو وہ بھی چلتی ہوئی علشبہ کے پاس آکر بیٹھ گئی۔۔
کیا ہوا ماما آپ بہت خاموش خاموش لگ رہی ہیں کوئی بات ہے۔۔علشبہ نے چپ بیٹھیں ثمینہ بیگم کو پوچھا۔۔
ہاں مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے علشبہ۔انہوں نے جواب دیتے ہوئے کہا ۔۔
اچھا آپی آپ لوگ بات کریں میں چائے لاتی ہوں۔عریشہ مسکرا کر کہتی ہوئی کمرے سے چلی گئی۔۔
ہاں ماما بولیں کوئی پریشانی ہے ؟وہ ان کا چہرہ دیکھتے ہوئے فکر مندی سے بولی۔۔
علشبہ آج میں تم سے کچھ مانگنے آئی ہوں۔ وہ آس بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے بولیں۔۔
ہاں ماما بولیں میں پوری کوشش کروں گی۔وہ ان کا ہاتھ تھامتے ہوئے بولی۔۔
علشبہ اپنے گھر چلو بیٹا۔وہ اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے بولی تو علشبہ نے اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ سے نکال لیا ۔۔
علشبہ تمہارے ڈیڈ کی طبیعت ٹھیک نہیں رہتی بیٹا وہ تمہارے اور شاہ میر کے الگ ہونے کو اپنا قصور ٹہراتے ہیں۔وہ اسے دیکھتے روتے ہوئے بولیں جس پر علشبہ بوکھلا گئی ۔۔
ارے ماما آپ روئیں تو نہیں.. وہ ان کے آنسو صاف کرنے لگی۔پر ماما آپ نے تو کہا تھا اب ڈیڈ بلکل ٹھیک ہیں۔۔
ہاں بیٹا میں نے کہا تھا پر مجھے پتا ہے انھیں تم لوگوں کا دکھ اندر ہی اندر کھا رہا ہے انھیں لگتا ہے اگر وہ شاہ میر کے ساتھ زبردستی نہیں کرتے اسے پیار سے سمجھاتے تو یہ سب نہ ہوتا ۔وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولیں۔۔
پر ماما اس سب میں ڈیڈ کا کوئی قصور نہیں۔وہ نہ میں سر ہلاتے ہوئے بولی۔
پر علشبہ انھیں ایسے نہیں لگتا جب تک وہ تمہیں اپنی آنکھوں سے خوش نہ دیکھ لیں اسی طرح اندر ہی اندر گھٹتے رہیں گے تم ان کے سامنے رہو گی تو وہ سنبھل جائیں گے اب تو وہ اپنی پوتی سے بھی ملنے کیلئے تڑپ رہے ہیں۔ وہ پاس لیٹی وفا کے ہاتھ پکڑتے ہوئے بولیں۔۔
پر ماما یہ میرے ۔وہ بولتے بولتے اٹکی ۔
علشبہ میں سمجھ سکتی ہو تمہارے لیے کتنا مشکل ہے پر پلیز یہ ایک بیوی تمہارے سامنے وہ اس کے آگے ہاتھ جوڑنے ہی لگی تھیں کہ علشبہ نے ان کے ہاتھ پکڑ لیے۔۔
یہ کیا کر رہی ہیں آپ ماما اس طرح نا کریں آپ بس حکم دیں آپ کی بیٹی آپ کیلئے کچھ بھی کر سکتی ہےم وہ کہتے ہی ان کے گلے لگ گئی تو ثمینہ بیگم نے اوپر دیکھ کر اللہ کا شکر ادا کیا وہ جس کام سے آئی تھیں وہ ہوگیا تھا بس اب ان کے بچوں کو ان کی خوشیاں مل جائیں اور سب ٹھیک ہو جائے۔۔
وہ ان سے الگ ہوئی تو انھوں نے اس کے ماتھے پر پیار کیا ۔۔
علشبہ بیٹا تمہاری آنکھیں اتنی سوجی ہوئی کیوں ہیں پوری رات سوئی نہیں کیا۔وہ جانتی تھیں پر پھر بھی پوچھ بیٹھیں تو علشبہ نظریں چرانے لگی۔۔
وہ ماما میں ۔۔اسے سمجھ نہیں آرہی تھی وہ کیا جواب دے کیسے بتائے کے کل ان کے بیٹے کی وجہ سے وہ کتنا تڑپی ہے ۔۔
ارے ہاں میں بھی وفا نے سونے نہیں دیا ہوگا چھوٹے بچے اسی طرح تنگ کرتے ہیں شروع شروع میں… وہ اس کا بوکھلانا سمجھ گئی تھیں تبھی اس کی مشکل آسان کرتے ہوئے بولیں جس پر علشبہ وفا کو دیکھ کر مسکرانے لگی۔۔
اچھا تم اپنا سامان بتاؤ میں پیکنگ میں تمہاری مدد کر دوں.. وہ کھڑے ہوتے ہوئے بولیں۔۔
نہیں ماما میں کھوخود کر لوں گی وہ مجھے آپ..وہ اٹکی۔۔۔
ہاں بولو علشبہ کیا بولنا چاہ رہی ہو۔۔
وہ ماما وہاں میں صرف۔۔وہ ایک بار بولتے پھر اٹکی۔
علشبہ تم فکر نہیں کرو وہاں تم جیسے چاہو ویسے رہنا اور تمہیں کوئی تنگ نہیں کرے گا. وہ اس کا چہرہ تھامتے ہوئے اسے یقین دلانے لگی۔تو علشبہ نے اپنی نظریں نیچے کرلیں۔۔
اچھا میں سب کو بتا دوں اور مسکان کو بھی کہہ دوں کہ وہ بھی چلنے کی تیاری کرے اب۔۔ وہ خوش ہوتے ہوئے بولیں ان کے چہرے سے صاف پتا لگ رہا تھا وہ اس کے فیصلے سے کتنی خوش ہیں ۔۔
علشبہ انھیں خوش دیکھ کر مطمئن ہوگئی وہ کچھ بھی کر لے اپنی وجہ سے کسی کو تکلیف نہیں دے سکتی۔۔۔
🌹🌹🌹
علشبہ؟حماد نے علشبہ کے کمرے میں آتے ہوئے اسے پکارا۔
جی بھائی..
میں نے جو سنا وہ سب سچ ہے؟ وہ اس کے پاس بیڈ پر بیٹھتے ہوئے بولا..تو اس نے ہاں میں سر ہلایا۔۔
علشبہ تم سے کسی نے کچھ کہا ہے کیا؟
ارے نہیں بھائی ایسی کوئی بات نہیں..
تو پھر یہ تمہارا خود کا کیا ہوا فیصلہ ہیں یا پھر کسی کے دباؤ ..وہ کہتے کہتے رکا۔۔
بھائی ایسی کوئی بات نہیں ہے میں اپنی مرضی سے ہی جارہی ہوں.وہ بولتے بولتے نظریں نیچے جھکا گئی۔۔
یہاں دیکھو میری طرف.وہ اس کا چہرہ اوپر کرتے ہوئے بولا۔تو تم نے شاہ میر کو..
وہ اس سے پہلے کچھ کہتا علشبہ نے اسے روک دیا بات کرنے سے۔۔
بھائی آپ کی بہن میں اتنی ہمت ابھی باقی ہے کہ وہ اپنے لیے لڑ سکے اور رہی بات میرے یہاں سے جانے کی تو بھائی وہاں وہ لوگ بھی ہیں جنہوں نے مجھے بنا غرض کے سنمبھالا اور پیار دیا آج انھیں میری ضرورت ہے اور ویسے بھی میں اب کسی سے نہیں ڈرتی میرے بھائی ابو میرے ساتھ ہیں تو آپ کی علشبہ اب سب کچھ سنمبھال سکتی ہے ۔۔وہ اپنے باپ بھائی کا مان لیے تھوڑا مغرور ہوئی۔۔
پر علشبہ تم اپنے ۔۔
بھائی آپ کیوں فکر کررہے ہیں میں ٹھیک ہوں ۔وہ اس کی بات کاٹ کر اپنی بات پر زور دیتے ہوئے بولی تو حماد کھڑا ہوگیا۔۔
ٹھیک ہے پر تم مجھ سے وعدہ کرو کہ کوئی بھی بات ہو یا تمہیں کسی بھی وقت ایسا لگے کے تمہیں وہاں نہیں رہنا تو تم فوراً مجھے بتاؤ گی میں تمہیں وہاں بلکل نہیں رہنے دونگا۔وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے تنبیہہ کرتے ہوئے بولا۔۔
وہ ڈر گیا تھا اب تک جو علشبہ کے ساتھ ہوا اس لیے وہ اسے اب اکیلا چھوڑنے پر راضی نہیں تھا پر اس نے شاہ میر کی آنکھوں میں پچھتاوا اور محبت دیکھی تھی اپنی بہن کیلئے تبھی وہ نا چاہتے ہوئے مان گیا تھا پر اسے اپنی بہن کا بھی پتا تھا وہ چپ کر کے سب سہہ لے گی پر کسی سے کچھ نہیں کہے گی اس لیے وہ اس سے وعدہ لے رہا تھا۔۔۔
ہاں بھائی پکا وعدہ۔۔
وہ حماد کی باتوں میں اپنے لیے فکر اور پیار ہی پیار دیکھ رہی تھی تبھی وہ نم آنکھوں سے کھڑے ہو کر اس کے گلے لگ کر بولی..حماد بھی اس کو اپنے سے لگائے اس کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیر رہا تھا ۔۔۔
ارے علشبہ تھوڑا پیار ہمارے لیے بھی بچا کر رکھ لو کے سارا اپنے بھائی پر ہی لٹا دوگی ۔لائبہ اندر آتے ہوئے منہ بنا کر بولی۔۔تو علشبہ نے اشارہ کیا حماد کو تو وہ بھی مسکرا دیا۔۔
ادھر آؤ لائبہ۔حماد نے اسے اپنے پاس بلا کر دونوں کو اپنے ساتھ لگا لیا۔لائبہ علشبہ کے سامنے اس کی أس جرات پر حیران رہ گئی تھی پر علشبہ کے جانے کا یاد کر کے اس کے حصار کو اور مظبوط کر گئی ۔۔
بس اب آپ دونوں بھی ایک ہوجائیں نکاح تو کر ہی چکے ہیں بھائی اب رخصتی بھی کرا ہی لیں۔۔ وہ ان دونوں سے الگ ہوتے ہوئے حماد اور لائبہ کو چھیڑتے ہوئے بولی ۔تو لائبہ شرم سے اور غصے سے لال ہوتی ہوئی اپنی کمینی دوست کو گھورنے لگی جو حماد کے سامنے ہی شروع ہوگئی تھی آج وہ دوست نہیں اس کی نند بنے کھڑی تھی۔۔۔
کہہ تو صحیح رہی ہو اب کچھ تو کرنا ہی پڑے گا۔۔ وہ سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے مسکرا کر لائبہ کو دیکھتے ہوئے بولا۔۔جس پر لائبہ اسے منہ کھولے دیکھنے لگی ۔۔
بے شرم۔
وہ کہتی پیر پٹختی ہوئی کمرے سے چلے گئی تو پیچھے علشبہ اور حماد قہقہہ لگا کر ہنس دیے ۔۔
🌹🌹🌹🌹
کیا ہو رہا ہے؟ عمر مسکان کے پاس کمرے میں آتے ہوئے بولا جو ثمینہ بیگم کے کہنے پر اپنا سامان پیک کر رہی تھی ۔۔۔
کچھ نہیں.. وہ خفگی سے بولی۔۔
اسے یہاں سے جانا اچھا نہیں لگ رہا تھا وہ تھوڑے ہی دنوں میں سب سے گھل مل گئی تھی خاص کر عریشہ اور لائبہ سے.. اب جاتے ہوئے وہ بہت اداس تھی پر ان سب کی محبت اور اپنا پن لے کر جارہی تھی وہ یہ بھول گئی تھی کے آنا اس نے بعد میں اسی گھر میں ہے۔۔
ہمم ادھر دیکھو۔ وہ اس کے ہاتھ پکڑتے ہوئے اپنی طرف کرتے ہوئے بولا۔۔
تم مجھے مس کرو گی ۔وہ اس سے آس بھرے لہجے میں بولا۔۔جس پر مسکان اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگی جہاں اس کیلئے محبت ہی محبت تھی۔۔
نہیں بلکل نہیں۔وہ منہ موڑتے ہوئے مسکرا کر بولی۔۔
ہیں تو پھر اتنی اداس کیوں ہو؟؟ ۔وہ اس کا چہرہ ایک بار پھر اپنے سامنے کرتے ہوئے بولا۔۔
آپ کے علاؤہ سب کو کروں گی مس.. جنہوں نے مجھے اتنی محبت اور پیار دیا ۔وہ ایک جذب کے عالم میں ان لوگوں کیلئے اپنے لہجے میں محبت سموئے بولی۔۔
اور میری محبت،وہ روٹھے ہوئے لہجے میں پوچھنے لگا۔۔
مجھے کیا پتا آپ کس سے محبت کرتے ہیں؟وہ کندھے أچکا کر بولی جیسے اسے کچھ پتا ہی نہیں۔
اچھا جی میری محبت کا نہیں پتا آپ کو..وہ اس کے قریب ہونے لگا اور مسکان اس کو اپنی طرف بڑھتے دیکھ پیچھے ہونے لگی اور دیوار سے لگ گئی۔۔
اب کہاں بھاگو گی میری محبت سے.. وہ اس کے دونوں طرف ہاتھ کی دیوار بناتے ہوئے بولا۔۔ تو مسکان نے ڈر سے اپنی آنکھیں میچ لیں۔۔
ہاہاہاہا بس میری اتنی سی محبت سے ڈر گئیں ۔وہ ہنستے ہوئے اس کی ناک پکڑتے ہوئے بولا تو مسکان اس کو پیچھے کو دھکا دے کر غصے سے بیگ کی طرف بڑھی پر اس سے پہلے اس کی کلائی عمر کی گرفت میں تھی ۔۔۔
کیا ہے ؟وہ روٹھے ہوئے لہجے میں بولی۔۔
کچھ نہیں۔۔ وہ اس کو کھینچ کر اپنے سامنے کرتے ہوئے بولا۔۔
ہاں بس ایک بات کہنا چاہتا ہوں تم سے مسکان میں تم سے بہت بہت محبت کرنے لگا ہوں جب تم میرے سامنے ہوتی ہو نا تو ایسا لگتا ہے جیسے زندگی میں صرف سکون ہی سکون ہے اور جب تم نظر نہیں آتی تو میرا حال بلکل بے سکون سا ہو جاتا ہے ایسا لگتا ہے جیسے اب دل بند ہوا ۔وہ اپنے دل پر اس کا ہاتھ رکھتے ہوئے بولا جو دھک دھک کے ساتھ ہی مسکان کے دل کی دھڑکنوں کو بڑھا رہا تھا۔ مسکان اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے نرمی سے نکال کر مڑگئی تو عمر اس کی حالت دیکھ کر مسکرانے لگا جو اس سے نظریں چرا رہی تھی۔۔
اچھا سنو تم مجھے مس نا کرنا بھلے پر میری کال ضرور اٹھانا اور اگر اب تم نے موبائل بند رکھا یا میری کال نہیں اٹھائی تو قسم سے تمہارے گھر پہنچ جاؤنگا ۔وہ اس کو وارن کرتے ہوئے بولا۔۔
اور ہاں اب جلد ہی امی ابو کو بھیجوں گا تم تیار رہنا دوبارہ یہیں آنا ہے تم نے آخر تمہیں اپنی محبت بھی تو دکھانی ہے. وہ اس کو چھیڑتے ہوئے بولا۔تو وہ شرم سے اور غصے سے لال ہوتی ہوئی اسے ھکا دے کر کمرے سے نکالنے لگی ۔۔
بے شرم انسان جاؤ یہاں سے۔۔وہ اسے انگلی دکھاتے ہوئے بولی۔۔
اچھا نا بابا جارہا ہو ابھی سے اپنے کمرے سے نکال رہی ہے بعد میں کیا ہوگا عمر تیرا۔ وہ منہ میں بڑبڑایا ۔۔
اچھا نا آخری بار جی بھر کر تو دیکھنے دو پتا نہیں پھر تم کب سامنے آؤ. وہ اس کو اپنی اور کھینچتے ہوئے منہ بنا کر بولا۔جس پر مسکان ہنس پڑی ۔۔
ہنس لو ہنس لو میرا بھی ٹائم آئے گا پھر بتاؤ گا وہ اس کے دونوں ہاتھ تھامے ہوئے بولا۔۔
اچھا بس اب جاؤ ماما آجائیں گی مجھے پیکنگ بھی کرنی ہے ۔وہ جھنجھلا کر بولی تو عمر اس کے دونوں ہاتھ اور ماتھا چومتا ہوا الٹے قدموں چلا گیا۔۔
تو پیچھے مسکان نم آنکھوں سے اللہ کا شکر ادا کرنے لگی جس نے اسے عمر جیسا ہم سفر دیا۔۔
🌹🌹🌹
ارے شاہ میر کہاں جارہے ہو کچھ کھاتے تو جاؤ کل سے تم نے کچھ نہیں کھایا ماما آئیں گی نا تو مجھے ڈانٹ پڑے گی۔۔
رامین شاہ میر کو باہر جاتے دیکھ روک کر بولی جو کل رات سے اب اپنے کمرے سے نکلا تھا۔۔
بھابھی میرا دل نہیں کھانے کو اور مجھے دیر ہورہی ہے ماما سے کہہ دیے گا میں انس سمیر کی طرف جارہا ہوں رات کو دیر سے آؤنگا انتظار نا کریں.. وہ کہتا ہوا گلاسس لگائے گھر سے نکل گیا۔۔
پیچھے رامین اسے روکنے لگی پر وہ اس کی ان سنی کرتا چلا گیا۔۔
یا اللہ شاہ میر کی ساری پریشانی دور کر اور اسے ساری خوشیاں دیں ۔وہ جاتے ہوئے شاہ میر کو دیکھ کر سچے دل سے اللہ سے دعا کرتے ہوئے بولی۔۔
🌹🌹🌹
علشبہ باری باری سب سے مل رہی تھی ۔۔
آپی آپ میری وفا کو بھی لے جارہی ہو .. عریشہ وفا کو گود میں لیے اداسی سے بولی اور اس کا ماتھا چومنے لگی۔۔۔
اے چڑیل چھوڑ بھی دے اب میری گڑیا کو اس کے ماموں سے بھی اسے ملنے دے۔۔
ایک تو وہ جب یہاں تھیں تب بھی نہیں ملنے دیتے تھے اب وہ جاری ہیں تب بھی نہیں ملنے دے رہے ۔۔وہ منہ بناتا ہوا بولا۔۔
وفا سے سب باری باری مل چکے تھے صرف عمر تھا جو رہ گیا تھا پر عریشہ اسے نہیں دے رہی تھی جس پر علشبہ نے وفا کو لیکر عمر کی گود میں دیا اور اس کے بال بگاڑ دیے جس پر سب مسکرانے لگے۔
کیا آپی یار سارے بال خراب کر دیے اب میں بچہ تھوڑی ہوں آپ کی نند کا شوہر ہو خیر سے بیوی والا اب تو میرے ساتھ ایسا نا کریں.. وہ علشبہ کے کان میں سرگوشی والے انداز میں مسکان کو دیکھتے ہوئے بولا۔۔
جس پر علشبہ نے ہنستے ہوئے ایک بار پھر اس کے بال بگاڑ دیے چاہے تمہارے بچے بھی ہوجائیں نا تم میرے لیے پھر بھی وہی میرے چھوٹے سے اور پیارے سے بھائی ہی رہو گے تو عادت ڈالے رکھو.. وہ کہتی ہوئی عریشہ کی طرف بڑھ گئی جو رونے جیسا منہ بنائے کھڑی تھی ۔۔۔
علشبہ عریشہ کے گلے لگی تو نا چاہتے ہوئے بھی دونوں بہنوں کی آنکھیں نم ہوگئیں۔
ارے بیٹا تم جب چاہو اپنی بہن سے ملنے آسکتی ہو وہ تمہارا اپنا گھر ہے ثمینہ بیگم عریشہ کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولیں۔۔۔
اور پھر امرین بیگم کی طرف بڑھیں جنہوں نے انھیں گلے لگا کر الوداع کیا اور پھر مسکان کو گلے لگایا ۔
اچھا بہن اب اجازت دیں اور آپ لوگ بھی آئیے گا اپنی بیٹی کے گھر.. وہ ان لوگوں کو دیکھ کر بولیں۔۔
جی ہاں اب تو آنا جانا لگا ہی رہے گا اور ویسے بھی ہم بہت جلد آئیں گے اپنی امانت لینے.. امرین بیگم مسکان کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولیں جس پر عمر نے مسکان کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی اور پھر نظریں نیچے کر لیں پر ثمینہ بیگم ناسمجھی سے ہاں میں سر ہلاتی ہوئیں عمر سے وفا کو لیکر علشبہ مسکان کو لیے باہر نکل گئیں۔۔
_______
شاہ میر کی واپسی رات دیر سے ہوئی تو وہ سیدھے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔
شاہ میر جیسے ہی کمرے میں داخل ہوا اس نے سامنے بیڈ پر کھیلتی وفا کو پایا وہ حیرت سے اس کی طرف بڑھا اور بیڈ کے کنارے پر کھڑا اسے دیکھنے لگا۔۔۔
پہلے صرف ماں نظر آتی تھی اب بیٹی بھی شاہ میر تو پاگل ہوگیا ہے وہ اپنے آپ سے بڑبڑاتے سر پر ہاتھ مارتے ہوئے بولا۔۔۔
پھر وفا کے پاس بیٹھ کر اسے پیار سے دیکھنے لگا اس کے پاس جھکا اور اس کے گال پر پیار سے دو انگلیاں رکھیں جسے وفا دیکھ کر فوراً سے ہنس پڑی۔ (وہ اسے دوسری مرتبہ اتنے قریب سے دیکھ رہا تھا اور وہ بھی دوسری بار شاہ میر کو دیکھ کر ہنس رہی تھی)
شاہ میر نے اس کے ہاتھ میں اپنی انگلی پکڑا دی جسے وفا نے مضبوطی سے تھام لی. وہ شاہ میر کو دیکھ کر ہنس اور کھیل رہی تھی شاہ میر اسے دلچسپی سے دیکھ رہا تھا تبھی علشبہ واشروم میں سے نکلی اور سامنے وفا کے ساتھ شاہ میر کو بیٹھے دیکھا تو جھٹ سے اس کی طرف بڑھ کر وفا کو جھٹکے سے اٹھا لیا جس پر شاہ میر کی انگلی اس کے ہاتھ سے چھوٹ گئی اور وہ رونے لگی تو علشبہ اسے تھپک کر چپ کرانے لگی ۔۔۔
شاہ میر ابھی بھی حیرت زدہ تھا ۔۔
آپ یہاں کیا کر رہے ہیں جائیں یہاں سے.. علشبہ کے غصے سے کہنے پر شاہ میر کو ہوش آیا اور وہ اسے مسکرا کر دیکھنے لگا۔تو یہ میرا خواب نہیں سچ ہے… وہ دل میں مسکرا کر بولا۔۔
علشبہ کو اس کا مسکرانا آگ لگا گیا تو وہ روتی ہوئی وفا کو اور زور زور سے تھپکنے لگی۔۔
ارے یار کیوں میرا غصّہ میری بچی پر اتار رہی ہو.. اس نے علشبہ کی طرف بڑھ کر وفا کو لینا چاہا جس پر علشبہ دو قدم پیچھے کو ہوگئی۔۔
خبردار جو آپ میری بچی کے قریب بھی آئے.. وہ اسے انگلی دکھاتے ہوئے بولی۔ پر آج شاہ میر کو اس کا کچھ بھی کہنا برا نہیں لگ رہا تھا وہ تو اسے دیکھ کر صرف مسکرا رہا تھا۔
آپ کسی غلط فہمی میں مت رہیے گا میں یہاں ماما کے کہنے پر صرف ڈیڈ کیلئے آئی ہوں اور ان کے ٹھیک ہوتے ہی یہاں سے واپس چلی جاؤں گی.. وہ اس کی مسکراہٹ کو دیکھ کر اس کی غلط فہمی دور کرنے لگی ۔۔
(تو شاہ میر دل ہی دل میں اپنی ماں کو سراہنے لگا وہ ان کا بے حد ممنون تھا جنہوں نے کچھ ہی گھنٹوں میں اس کی زندگی اس کے سامنے لا کھڑی کی تھی )
آپ جائیں یہاں سے ورنہ میں ماما کو بولوں گی وہ اس کو ایک بار پھر وارننگ دینے لگی جس پر شاہ میر پر کوئی اثر نہیں ہوا وہ اسے اسی طرح گھورے جا رہا تھا جس پر علشبہ اس کی نظروں سے گھبرانے لگی ۔۔
ٹھیک ہے رہیں یہاں میں ہی چلے جاتی ہوں. وہ پیر پٹختی وفا کو لیے اس کے برابر سے نکلنے لگی تو شاہ میر نے اس کا بازو تھام کر اسے روک لیا تو وہ اسے غصے سے دیکھنے لگی ۔۔
نہیں تم کہیں نہیں جاؤ گی یہیں رہو گی اسی کمرے میں۔ میں جارہا ہوں تم آرام کرو.. وہ اس کو دیکھ کر سنجیدگی سے بولا اور سوئی ہوئی وفا کا گال چوم کر علشبہ کا گال تھپتھپا کر چلا گیا تو پیچھے علشبہ حیرت سے اپنے گال پر ہاتھ رکھے اسے جاتا ہوا دیکھنے لگی۔۔۔
شاہ میر علشبہ کو دیکھ کر بہت خوش تھا پر وہ اسے تنگ کر کے اپنے کمرے سے بلکل نہیں جانے دینا چاہتا تھا اس نے سوچ لیا تھا اب وہ اپنے عمل سے اسے منائے گا چاہے اسے کچھ بھی کرنا پڑے پر اس کیلئے علشبہ کو ابھی اکیلا چھوڑنا ہی بہتر تھا۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *