Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode38

Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode38

علشبہ نے جھنجھلا کر پاس رکھی ٹیبل پر وفا کو لٹا دیا وفا نے اس کا برا حال کر رکھا تھا وہ بار بار اس کے کھلے بالوں کو کھینچ رہی تھی ۔۔
دونوں باپ بیٹی نے مجھے تنگ کر کے رکھا ہوا ہے بیٹی ہے کہ بالوں کھلا نہیں چھوڑنے دیتی اور باپ ہے باندھنے نہیں دیتا.. علشبہ جھنجھلا کر وفا کے منہ میں فیڈر دیتے ہوئے بڑبڑا رہی تھی جسے پاس سے گزرتے شاہ میر نے خوب سنا تھا اور اس کے چہرے پر پل میں مسکراہٹ آکر معدوم بھی ہوئی تھی.. پاس کھڑی ثمینہ بیگم نے بھی اس کی باتیں سنی تھیں اور مسکرا دی تھیں۔۔
وفا اب تنگ نہ کرنا آجاؤ ماموں پاس چلتے ہیں.. وہ اس کو اٹھاتی اسٹیچ کی طرف بڑھ گئی پر وفا نے اس کے بالوں سے کھیلنا بند نہیں کیا اور انگلیوں جب الجھ جاتی تو کھینچنے لگ جاتی ہیں جس کی وجہ سے علشبہ کو تکلیف ہوتی پر کیا کرتی شاہ میر کے کہنے پر اس نے بالوں کو کھلا چھوڑا تھا تو تکلیف بھی منظور تھی۔۔
آپی ؟عمر کھڑے ہوکر علشبہ سے ملا وہ چاروں دلہن دلہا ساتھ میں اسٹیج پر بیٹھے تھے ۔
یہ لو پکڑو اپنی بھانجی کو ۔۔علشبہ نے وفا کو اسے دے دیا تو عمر نے خوشی خوشی وفا کو لیکر پیار کیا پر وہ رونے لگی اسے اس کے کھیلنے سے روکا تھا تبھی وہ مچل گئی جس پر باری باری سب نے لیا پر کسی سے نہیں سنبھلی تو علشبہ نے منہ بناتے ہوئے اسے لے لیا جس پر وہ بلکل چپ کر گئی تو سب حیرت سے دیکھنے لگے۔۔۔
ہیں آپی آپ کے پاس آتے ہی چپ کر گئی ہماری گودوں میں کانٹے لگے ہوئے ہیں عریشہ نے خفگی سے کہا تو ثمینہ بیگم جو نیچے کھڑی سب دیکھ رہی تھیں اوپر آگئیں اور آہستہ سے وفا کے ہاتھوں سے علشبہ کے بالوں کو نکالا اور اسے لے لیا پر آج وفا نے چپ نہیں ہونا تھا آج اس نے شاہ میر کی طرح علشبہ کو زچ کر کے رکھنا تھا۔۔
لائیں دے دیں ماما یہ نہیں چپ ہوگی آج ۔۔وہ وفا کو دیکھتی خفگی سے بولی اور اسے لے لیا۔۔۔
ارے علشبہ بالوں کو باندھ لو نا پھر ؟؟لائبہ اس کی الجھن سمجھتے ہوئے بولی تو ثمینہ بیگم مسکرا دی۔۔
ہاں نہیں ایسے ہی ٹھیک ہیں سوئے گی اب تبھی ۔وہ بہانہ بناتے ہوئے بولی ۔۔
شاہ میر نیچے احد سفیان صاحب اور جاوید صاحب کے ساتھ کھڑا تھا پر نظریں علشبہ پر تھیں جو وفا کی وجہ سے پریشان تھی ۔۔۔
لائبہ بیٹا شوہر کی فرمائش پر کھولے ہیں پر بیٹی نے کھلونا سمجھ لیا ہے ۔۔ثمینہ بیگم ہنستے ہوئے سب بتا گئیں تو سب ہنس دیے علشبہ بیچاری سب کے سامنے جھینپ گئی اور چہرہ سرخ ہوگیا اس کے بھائیوں کے آگے کہا تھا پر وہ چاہ کر بھی جا نہیں سکتی تھی ۔۔۔
شاہ میر جو علشبہ کو نظر انداز کر رہا تھا اب اسٹیج پر بڑھ کر عمر حماد سے ملا اور مسکان کے سر پر ہاتھ رکھا پھر علشبہ کی گود سے وفا کو لے لیا جس نے اب کوئی واویلا نہیں مچایا تھا بلکہ شاہ میر کے پیار کرنے پر کھلکھلائی تھی سب حیرت سے وفا کو دیکھ رہے تھے۔۔۔
میں آتی ہوں۔ علشبہ جل کر بولتی نیچے کو چلے گئی ہر دفعہ وہ شاہ میر کے پاس جاکر اسی طرح کرتی اور اپنی ماں کو بھول جاتی ۔۔۔
جیجو لگتا ہے آپی ناراض ہوگئیں اب آپ منائیں جاکر ۔۔عریشہ کے کہنے پر سب مسکرا دیے تو شاہ میر بھی نیچے چلا گیا۔۔۔
🌹🌹🌹
ولیمے کا فنکشن اچھے سے ہوا تھا ان دونوں جوڑیوں کے پوسٹ بننے کے بعد مووی بنی جس میں سب نے ان کو گفٹ دیا اور پھر دلہنوں کو برائیڈل روم میں پہنچا دیا تھا اب باری تھی عریشہ اور اسد کی ۔۔
اسد جو سٹیج سے نیچے کہیں جارہا تھا جاوید صاحب کے بلانے پر اوپر آیا۔۔۔
جی ڈیڈ ؟
بیٹھو. وہ عمر کے برابر میں اسد کو بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے بولے ۔تو وہ اچھنبے سے انھیں دیکھنے لگا پر اتنے سب لوگوں کی موجودگی میں اسے سوال کرنا اچھا نہیں لگا تبھی چپ کر کے بیٹھ گیا پر آنکھیں ضرور سوال کر رہی تھیں ان سے.. پر جاوید صاحب نے جواب دینا ضروری نہیں سمجھا ۔۔۔
اسد نے بھی تھری پیس سوٹ پہنا تھا پر گرے کلر کا وہ بیچارہ ہکا بکا سب کو دیکھ رہا تھا کہ ہو کیا رہا ہے.۔
شروع کریں۔اسد کے بیٹھتے ہی جاوید صاحب نے کہا.. اسد تو ہونق بنا ان سب کو ہی دیکھ رہا تھا ۔۔
اسد سے جیسے ہی مولوی صاحب نے اس کی رضامندی پوچھی وہ حیران ہوتا سب کو دیکھنے لگان. اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ جس لڑکی سے اس نے عشق کیا وہ لڑکی اس کی ہونے جارہی ہے تبھی عمر نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا جس پر وہ ہوش کی دنیا میں آیا ورنہ اسے تو یہ سب ایک خواب سا لگ رہا تھا اس نے ایک بار پھر سب کو دیکھا جو دبی دبی مسکراہٹ سے ہنس رہے تھے اسے اب سمجھ آئی تھی کہ یہ سب اس کے ساتھ مزاق کیا گیا تھا جو اس کی کچھ دنوں کے اندر ہی جان لے گیا تھا۔۔
مولوی صاحب کے پوچھنے پر کہ عریشہ اسے اپنے نکاح میں قبول ہے اس نے بنا دیر کیے ایک ساتھ جھٹ سے قبول ہے کہہ دیا جس پر سب ہنس دیے اور اس طرح اسد نے بھی خوشی خوشی اس ظالم حسینہ کو اپنی زندگی میں شامل کر لیا اب باری عریشہ کی تھی جسے کچھ نہیں پتا تھا۔۔
عریشہ یہاں بیٹھو.. علشبہ اسے صوفے پر بیٹھاتے ہوئے بولی۔۔۔
عریشہ کو بھی پارلر سے تیار کروایا گیا تھا وہ جو اسد کے اظہار محبت پر اپنی منگنی بھول بیٹھی تھی پھر دل مار کر امرین بیگم کے ڈانٹنے پر چلے گئی تھی اس کی بھی فل میکسی تھی جو پوری وائٹ تھی اور وائٹ ہی نفیس سی کڑھائی اور نگینوں کا کام تھا پر اس کے بالوں کا جوڑا بنایا تھا اور دوپٹہ بھی وائٹ ہی تھا جو سر پر سیٹ کیا تھا عریشہ کی وائٹ کلر کی نازک سی جیولری تھی جس میں کہیں کہیں گہرے گلابی رنگ کے نگ تھے اور ساتھ بندیا بھی لگائی تھی اس کے ماتھے پر اور اس نے خود ہی ہلکا میک اپ کروایا تھا اور ناک میں چھوٹی سی ایک نگ کی نوز پن پہنی ہوئی تھی جس کا صرف نگ چمک رہا تھا اور اس کے چہرے پر خوب بھلا لگ رہا تھا ثمینہ بیگم نے کپڑے اور جیولری خود بھیجی تھی.. پر عریشہ کو یہ سب معلوم نہیں تھا وہ بیچاری اپنے غم میں سب بھول بیٹھی تھی۔۔۔
علشبہ نے لاکر عریشہ کے سر پر لال چنری اوڑھا دی عریشہ کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا وہ دونوں کو سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔۔
عریشہ کچھ دیر میں منگنی کی جگہ تمہارا نکاح ہے سب آتے ہونگے ۔لائبہ نے بتا کر اس پر انکشاف کیا تھا جو پل میں اس کی جان نکال گیا تھا تبھی سب اندر آئے علشبہ نے اس کی چنری اس کے چہرے پر ڈال دی… عریشہ تو کچھ سن ہی نہیں رہی تھی اسے تو اپنی محبت پر ماتم بھی نہیں کرنے دیا تھا نا ہی سنبھلنے کا موقع دیا وہ یہ ہی سوچ رہی تھی اسے مولوی صاحب جو کہہ رہے تھے کچھ نہیں سنائی دے رہا تھا لائبہ نے کندھے پر ہاتھ رکھا جس پر وہ اپنے سامنے کھڑے بھائیوں اور باپ کو دیکھنے لگی اور یہ جانے اور سنے بغیر کہ کس سے نکاح ہورہا ہے کس کو وہ اپنے سارے حقوق دے رہی ہے اس نے نم آنکھوں سے سب کو دیکھ کر قبول ہے کہہ کر سائین کر دےے.. اس کا دماغ سن ہوگیا تھا جو اس کی کیفیت بری کر رہا تھا اسے وہاں کیا کہا جارہا ہے کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا پر انجانے میں اس نے اپنے گھر والوں کا کہا مانا تھا ان کی عزت کیلئے اپنی خوشیاں تک قربان کرنے چلی تھی اسے بھی اللہ نے مایوس نہیں کیا تھا اور اس کا دل جس کیلئے دھڑکا تھا اب وہی اس کا شوہر اس کا محرم بن چکا تھا اسد سمیت سب خوش تھے پر عریشہ تو جیسے سب احساسات سی عاری ہوگئی تھی اور چپ تھی ۔۔
جب دل کسی شخص پر ٹھہر جائے نا
تو ذہن کسی اور کو قبول کرنے کے قابل نہیں رہتا.
_____
عریشہ ؟؟
ہاں ۔۔علشبہ نے عریشہ کو پکارا تو وہ اپنے خیالوں سے چونکی اور ہڑبڑا کر جواب دیا اس سے سب مل کر چلے گئے تھے پر اس نے کوئی رسپانس ہی نہیں دیا تھا علشبہ کو وہ ٹھیک حالت میں نہیں لگی۔۔۔
ٹھیک ہو ؟
ہممم۔۔
لو پانی پیو۔علشبہ اس کو پانی پلا کر وہاں سے چلی گئی. اب اسے اسد کو وہاں بھیجنا تھا تاکہ وہ اس سے بات کرسکے اور اس کی پریشانی دور کرے ۔۔۔
اسد ؟؟
جی بھابھی ۔۔وہ اپنے دوستوں سے مبارکباد وصول کر رہا تھا جب اسے علشبہ نے پکار کر اپنے پاس بلایا۔۔۔
بھابھی آج میں بہت خوش ہوں پر آپ لوگوں نے اچھا نہیں کیا مجھے پریشان کر کے.. وہ مصنوعی ناراضگی دکھاتے ہوئے بولا۔۔
بھابھی آپ کی بہن نے کیسے رئیکٹ کیا۔وہ اس کے جواب نا دینے پر عریشہ کا پوچھنے لگا۔۔
رئیکٹ ہی تو نہیں کیا اس نے چپ بیٹھی ہے بلکل.. ایسا کرو تم جاؤ اور اس سے بات کرو ۔۔وہ پریشانی سے بولی تو اسد بھی پریشان ہوگیا اور اندر برائیڈل روم کی طرف بڑھ گیا جہاں وہ اب بھی اسی طرح بیٹھی تھی ۔۔۔
عریشہ؟؟
اسد کے پکارنے پر عریشہ نے چونک کر اسے دیکھا اور کھڑی ہوگئی ۔۔۔
اسد اس کے سامنے آکر کھڑے ہوگیا اور سجی سنوری اپنی بیوی کو دیکھنے لگا جو آج اسد پر بجلیاں گرا رہی تھی۔۔اسد اس کے چہرے کو یک ٹک دیکھے جارہا تھا اس کا دل کیا وہ اس کی ناک میں پہنی نوز پن کو چھوئے جو اس کے چہرے پر بہت پیاری لگ رہی تھی ۔اسد نے اپنی دل کی بات پر ہاں کہا اور عریشہ کے بلکل نزدیک جاکر کھڑا ہوگیا اب تک وہ اپنے احساسات اور جذبات پر قابو پاتے آیا تھا کہ وہ اس پر کوئی حق نہیں رکھتا تھا پر آج وہ اس کی شریک حیات تھی اس کی محرم تو وہ کیسے نا ہاں کہتا۔۔۔
عریشہ جو اسد کے اندر آنے پر اسے بے یقین نظروں سے دیکھ رہی تھی اب وہ آہستہ آہستہ آکر اس کے سامنے کھڑا ہوگیا اسے لگا یہ اس کا خواب ہے تو اپنی آنکھیں میچ لیں اور جب کھولیں تو وہ اس کے بلکل نزدیک کھڑا تھا ایک پل کو اس کا بھی دل کیا وہ اسے چھو کر دیکھے پر اچانک اسے اپنا نکاح یاد آیا تو اسد کو پیچھے کو دھکا دیا اور خود بھی دو قدم پیچھے ہٹ کر کھڑی ہوگئی۔۔۔
کیوں آئے ہو یہاں جاؤ یہاں سے کسی نے دیکھ لیا تو.. میں نہیں چاہتی کوئی میرے کردار پر انگلی اٹھائے۔۔وہ کہتے کے ساتھ ہی پیٹھ موڑ کر کھڑی ہوگئی اور اپنے آنسو اس سے چھپانے لگی ۔۔وہ کہہ رہی تھی اور اسد کے سر کے اوپر سے گزر رہی تھی اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ ایسے کیوں کہہ رہی ہے جب کے اب تو وہ میاں بیوی ہیں اور کسی کو کیوں اعتراض ہوگا ۔
اسد اس کے قریب گیا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنی اور کھینچا تو وہ اس کے سینے سے آ لگی ۔۔عریشہ حیرت سے اسے اپنے اتنے قریب دیکھ رہی تھی اسے یقین نہیں آرہا تھا اسد نے اب تک اپنی محبت کا دعویٰ کیا پر کبھی اس طرح کی حرکت نہیں کی پر آج جب کہ وہ کسی اور کے نکاح میں ہے تو وہ اسے کیسے چھو سکتا ہے وہ لرز رہی تھی اور اپنے آپ کو چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی پر اسد پر کوئی اثر نہیں پڑ رہا تھا ۔۔
اسد اسے مزاحمت کرتے دیکھ رہا تھا اس نے اپنی گرفت ہلکی کی کہ اسے چھوڑ دے پر اس سے پہلے پھر سے اس کے دل میں خواہش آئی جس پر اس نے عمل کر دیا اپنے ہونٹوں سے اس کی نوز پن کو چھو لیا۔۔
بہت ہی شرارتی ہے یہ تیری آوارہ نتھلی.
زیور کا بہانا بنا کر تیرے ہونٹوں کے پاس رہتی ہے
عریشہ اس کی حرکت پر جی جان سے لرز اٹھی اور اسے جھٹکے سے پیچھے کیا اور غصے سے بھری جو بھی اس کے ہاتھ میں آیا مارنا شروع کردیا وہاں پر رکھے کشنز اپنا رکھا پرس اور اب اپنی سینڈل اتارتی اسے مارنے لگی تھی۔اسد اپنا بچاؤ کرتا اس کے وار برداشت کر رہا تھا پر سینڈل اتارنے پر اس کا ہاتھ پکڑ لیا جلدی سے۔۔۔
میں نے کہا چھوڑو میرا ہاتھ…. .. وہ چیخنے لگی پر اسد نے اس کے منہ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا جس پر آواز تو بند ہوئی پر عریشہ نے اس کا ہاتھ کاٹ لیا جس پر اسد بلبلا کر پیچھے کو ہٹا۔۔۔
کٹکھنی بلی کیا ہوگیا ہیمے تمہیں۔۔وہ اپنے ہاتھ کو سہلاتے ہوئے بولا اسے تو عریشہ کا رویہ کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا جب کہ وہ جانتا تھا وہ بھی اس سے محبت کرتی ہے پھر اب جب سب ٹھیک ہے تو اس سے آگے اسے کچھ سوجھ ہی نہیں رہا تھا ۔۔
تم نے مجھے چھوا کیسے تمہیں شرم آنی چاہیئے نکلو یہاں سے۔۔وہ غصے سے لال پڑتی اسے باہر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی۔۔
ہیںںں شرم آنی چاہیئے پر کیوں میں نے کیا غلط کیا۔۔وہ حیرت سے پوچھنے لگا۔۔
تمہیں نہیں پتا جیسے ہاں پہلے تو تم نے کبھی ایسی حرکت نہیں کی ۔وہ افسردگی سے بولی۔۔
ہاں تو پہلے میں اور اب میں بہت فرق ہے ۔۔وہ لاپرواہی سے اس کو جتاتے ہوئے بولا۔۔
کیوں تمہیں نہیں پتا پہلے بھی ہمارا کوئی رشتہ نہیں تھا اور اب تو بلکل بھی نہیں ہے میں اب کسی اور کے نکاح میں ہوں کیوں نہیں سمجھ رہے تم ۔۔۔وہ لاچاری سے بولی۔۔
ہااااااا واٹ ؟؟؟ااسد نے حیرت سے عریشہ کو دیکھا اور اپنا سر پکڑ لیا مطلب اس نے نکاح کے پیپرز پر سائن تو کیا پر کس کے ساتھ اس کا نام جڑا اسنے نہیں سنا اسے اب اس کی حرکتوں پر ہنسی آئی تھی مطلب کے وہ اس کے قریب گیا اور وہ اپنے آپ کو کسی اور کے نکاح میں تصور کر رہی تھی۔۔
ہاہاہاہاہاہاہا اسد پیٹ پکڑے ہنسنے لگا۔۔
کیا ہے کیوں ایسے ہنس رہے ہو پاگل ہوگئے ہو چپ کر جاؤ ۔۔وہ اس کے ہنسنے پر چوٹ کرتے ہوئے بولی پر اس کے قہقہے نہیں رکے تو عریشہ کی آنکھوں میں آنسوں آگئے اس کے دل پر کیا گزر رہی تھی وہ اس سے انجان بنا ہنسے جارہا تھا۔۔۔
ﺗﯿﺮﮮ ﺑﻐﯿﺮ ﺩﻝ ﮐﯽ ﮐﯿﺎ ﺣﺎﻟﺖ ﮬﮯ ﺗﻢ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﻧﻮ
ﻣﻞ ﮐﺮ ﺑﺘﺎئیں ﮔﮯ ﯾﮧ ﺩﻝ ﮐﺘﻨﺎ ﺗﮍﭘﺎ ﮬﮯ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﺭﮦ ﮐﮧ
اسد اس کے آنسو دیکھ کر اس کی طرف بڑھا۔۔
پاگل لڑکی اگر نکاح کے ٹائم اپنے کان اور آنکھیں کھول لیتی تو ایسا نہیں ہوتا وہ اس کے آنسو اپنے ہاتھوں سے چننے لگا۔۔۔تو وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی۔۔
مطلب کے جس کے نکاح میں بندھنے کی بات آپ کر رہی ہیں وہ آپ کا یہ ناچیز عاشق ہی ہے جسے آپ سے بیحد محبت ہے اور اب وہ اپنی بیوی پر پورا پورا حق رکھتا ہے.. وہ اس کے گال پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا تو وہ جھٹ سے اس کے گلے لگ گئی تھوڑی ہی دیر میں اسے اپنی بے اختیاری پر شرم سی آئی تو وہ اسد پر ہی برس پڑی اسے ایک بار پھر پیچھے کیا۔۔
تو کب سے اپنی چھچھوری حرکتیں شروع کی ہوئی تھیں بتا نہیں سکتے تھے نکل جاؤ مجھے تم سے کوئی بات ہی نہیں کرنی جاؤ یہاں سے. اس نے خفگی سے کہتے اسے کمرے سے باہر نکال دیا ۔۔
ہاں ہاں ٹھیک ہے یاد رکھنا اب میں بھی تمہیں چھوڑنے والا نہیں ہوں ۔وہ مسکراتے ہوئے اسے وارن کرنے لگا ۔۔
ہاں ہاں جاؤ بہت دیکھے ہیں تمہارے جیسے.. وہ ایک ادا سے بولی تو اسد اسے انگلی دکھاتے ہوئے جانے لگا ۔۔
پر ایک منٹ ۔وہ اس کی طرف پلٹتے ہوئے بولا۔۔
کیا ہے اب ؟
کچھ نہیں وہ تمہارے ماتھے پر.. وہ اس کے قریب آتے ہوئے بولا تو وہ ناسمجھی سے اپنا ماتھا چھونے لگی ۔۔۔
آہاں ایسے نہیں ایسے۔وہ اس کے ماتھے پہ بوسا دے کر بولا اور پلٹ کر آنکھ مار کر چلے گیا عریشہ حیرت سے اسے دیکھتی اپنے ماتھے پر ہاتھ رکھتی مسکرا کر اندر چلی گئی۔۔۔
بعد نکاح ماتھا چوم کر وہ کہنے لگے
کہا تھا نا آپ صرف میری ہیں صرف میری♥
🌹🌹🌹
علشبہ کو چھوڑ کر سب ینگ جنریشن اسٹیج پر کھڑے اسد عریشہ کو مبارکباد دے رہے تھے تو لائبہ نے گھبرا کر حماد کا بازو پکڑ لیا جو کسی کو نیچے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
لائبہ کیا ہوا؟؟
وہ حماد ۔۔لائبہ اسٹیج کے سامنے نیچے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ہکلا کر بولی۔شاہ میر جو ان دونوں کے پاس ہی کھڑا ہوا تھا نیچے کو دیکھا تو وہاں علشبہ کے تایا کے ساتھ سرفراز اور اس کا بھائی تھا جو ویل چیئر پر تھا ۔۔
ریلیکس لائبہ میں دیکھتا ہوں۔۔ شاہ میر نیچے کی طرف بڑھتے ہوئے بولا سب انھی کو دیکھ رہے تھے ۔
حماد یہ وہی جس نے میرے ساتھ۔۔لائبہ نے اٹکتے ہوئے کہا تو حماد سب سمجھ گیا اور اسے اپنے سے لگا کر حوصلہ دیا ۔۔
تایا نے سفیان صاحب کے پاس جاکر اپنے دونوں ہاتھ جوڑ دیے اور ندامت سے سر جھکا دیا۔۔
ارے بھائی یہ آپ کیا کر رہے ہیں ۔۔سفیان صاحب نے فوراً سے ان کے جڑے ہاتھوں کو تھاما ۔۔
مجھے معاف کردو سفیان میں نے بہت غلط کیا تمہارے ساتھ اور خاص طور پر علشبہ کے ساتھ ۔۔
نہیں بھائی ایسا نا کہیں اب سب ٹھیک ہوگیا ہے آپ اپنے آپ کو قصوروار نا کہیں یہ سب شاید ایسا ہی ہونا لکھا تھا۔۔وہ اداسی سے اپنا کیا سب یاد کرتے ہوئے کہنے لگے۔۔
نہیں سفیان یہ سب ایک چال تھی ہمارے گھر کی عزت کو پھنسایا تھا وہ ویڈیو جان بوجھ کر ایسے بنا کر دیکھائی گئی تھی کہ سب کو علشبہ اور شاہ میر قصوروار لگے اور وہ سب اس شخص نے کیا تھا۔۔تایا ایک ایک بات سرفراز کی وہاں سب کو بتاتے ہوئے بولے ۔۔
ہاں انکل میں آپ سب سے اپنے بھائی کے کیے کی معافی مانگتا ہوں آپ سب اس کو معاف کردیں پلیز اسے اللہ نے سزا دے دی ہے بہت تکلیف میں ہے میرا بھائی اس نے بے قصور پر تہمت لگوائی تھی اور آج آپ سب کے سامنے بولنے لائق نہیں رہا ہے ۔۔
سب لوگ سرفراز کو دیکھنے لگے جو ویل چیئر پر بیٹھا تھا اور گردن ایک طرف کو لڑکھی ہوئی تھی اور ساتھ ساتھ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *