Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode23

Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode23

مسکان کو آئے ہوئے آج پورا ایک ہفتہ ہوگیا تھا. اس نے غصے میں اپنا موبائل بھی آف کیا ہوا تھا ثمینہ بیگم نے کل ہی اس سے پوچھا تھا کہ اسے ان کا پسند کیا ہوا رشتہ قبول ہے. مسکان سے کچھ بن نہیں پارہا تھا کہ وہ کیا بولے. ثمینہ بیگم اس کی خاموشی کو ہاں سمجھ کر سر پر ہاتھ رکھتی چلی گئیں. جاوید صاحب نے ہی بیٹی کی اجازت لینے بھیجا تھا اب سب بہت خوش تھے. گھر میں ایک الگ ہی ماحول بن گیا تھا اور اس کے ہاں کرتے ہی منگنی کی تیاریاں شروع ہوگئی تھیں اسے صبح ہی پتا چلا تھا کے شام میں اس کی منگنی ہے ۔۔۔
مسکان جب سے اپنے آپ کو کمرے میں بند کیے بیٹھی تھی. جو بھی تھا اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے. ثمینہ بیگم یا کسی سے بھی اس کی ہمت نہیں ہورہی تھی بات کرنے کی اسے آج شدت سے اپنی بہن نہ ہونے کی کمی بھی بہت بری لگ رہی تھی کہ اگر اس کی بہن ہوتی تو وہ اس سے اپنی بات شیئر کرتی علشبہ کی کمی کا احساس اسے اب زیادہ ہورہا تھا جو بھی تھا وہ اس سے بھی اپنے دل کی بات کرسکتی تھی وہ سر گھٹنوں میں دیے بیٹھی رو رہی تھی
🌹🌹🌹
یار تجھے کتنی بار کہہ چکا ہوں وہ اس دن تیرے جانے کے بعد آئی تھی تیرا پوچھنے پر جب انھوں نے سنا کے تو چلا گیا ہے تو میری ادھوری بات سن کر وہ چلی گئی اور پھر تیرے کہنے پر میں نے ان کی دوست سے بھی پوچھا تھا تو اس نے بھی بتایا وہ اپنے گھر چلی گئیں اب جو بھی سب ہوا میں نے تجھے بتا دیا اور تو ہے کہ ایک ہی بات بار بار پوچھ رہا ہے.. علی عمر کے ہفتے بھر سے اس کے ایک ہی سوال کا بار بار جواب دے رہا تھا جس پر آج اس کی بس ہوگئی اور وہ غصے سے کال پر عمر کو جواب دینے لگا ۔۔
اچھا نا یار ناراض تو نہ ہو میں بھی کیا کروں اس کا موبائل بھی بند جارہا ہے. وہ بہت غصہ ہے. مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ میں کیا کروں پر بس اب بہت ہوگیا آج رات ہی اس کے گھر جاؤں گا بھلے کچھ بھی ہو جائے. عمر پہلے مایوسی سے پھر امید سے بولا۔۔
اچھا چل میں سمجھ سکتا ہوں تیری پریشانی تو یہ بتا تو آج آرہا ہے ناں؟ علی نے اس سے سوال کیا۔۔
یار آج میں نہیں آسکو گا ابو کو چیک اپ کے لئے ہسپتال لے جانا ہے. بھائی بھی مصروف ہیں ورنہ وہ ہی لے کر جاتے ہیں تو جانتا۔۔۔
ہاں ٹھیک ہے مت آ ۔۔علی نے اس کی بات بیچ میں کاٹ کر کہا اور جھٹ سے کال کٹ کردی ۔۔۔
🌹🌹🌹
شاہ میر روز ہی علشبہ کو ڈھونڈنے نکل جاتا تھا پر اس کا اسے اب تک کچھ پتا نہیں لگ سکا تھا جس پر وہ کافی مایوس ہوگیا تھا پر ناامید نہیں پر آج وہ اپنی بہن کی خوشی میں شریک تھا ساری تیاریاں سنبھال رکھی تھیں شاہ میر نے پر اسے مسکان کا خیال آیا تو وہ اس کے کمرے کی طرف نکل پڑا کہ اس سے ایک بار بات کرلے وہ تو اس کو کچھ ٹائم نہیں دے سکا تھا پر آج اس کا خود دل کر رہا تھا مسکان سے بات کرنے کو۔۔
آجائیں اندر مسکان جو ابھی واشروم سے اپنا منہ دھو کر نکلی تھی شاہ میر کے نوک کرنے پر اجازت دی۔۔۔
آرے بھائی آپ آئے نا. اس نے شاہ میر کو دیکھ کر کہا۔
کیسی ہے ہماری گڑیا؟؟
(اسد کے علاؤہ جاوید صاحب احد اور شاہ تینوں ہی اسے گڑیا کہہ کر بلاتے تھے)
میں ٹھیک ہوں بھائی. وہ نظریں نیچے کئے بولی۔
کیا ہوا گڑیا تم رو رہی تھیں؟؟ شاہ میر کو وہ ٹھیک نہیں لگی وہ اس کے سوجی آنکھوں کو دیکھ کر بولا اور اس کے جھکے سر کو اوپر کیا۔۔۔
نہیں بھائی میں بلکل ٹھیک ہوں. وہ نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولی.
تو پھر یہ آنکھیں کیوں کچھ اور بتا رہی ہیں تم اپنے بھائی کو نہیں بتاؤ گے. وہ اس کے گال پر ہاتھ رکھتے ہوئے نرمی سے بولا تو وہ اس کے گلے لگ کر رونے لگے تو شاہ میر گھبرا گیا۔۔
کیا ہوا گڑیا کچھ تو بتاؤ کسی نے کچھ کہا ہے ؟؟ وہ اس کی کمر سہلاتے ہوئے بولا۔
نہیں بھائی کسی نے کچھ نہیں کہا. اب وہ اپنے آپ کو سنبھال کر اس سے الگ ہوتے ہوئے بولی ۔۔
تو پھر کیوں روئی؟
وہ بھائی مجھے علشبہ بھابھی یاد آرہی تھیں وہ بہت اچھی ہیں آپ پلیز انھیں لے آئیں ناں میں انھیں بہت یاد کرتی ہوں. وہ بچوں کی طرح اس سے فرمائش کرتے ہوئے بولی جس پر شاہ میر کا بھی منہ اتر گیا۔۔
کیا کروں میں گڑیا پوری کوشش کررہا ہوں کہ وہ مجھے مل جائے پر شاید وہ مجھ سے ملنا ہی نہیں چاہتی میری غلطی معافی کے قابل نہیں ہے شاید.. وہ اپنے ہاتھوں کو دیکھتے ہوئے بولا ۔۔۔
بھائی آپ مایوس ناں ہو دیکھنا آپ کو جلد ہی بھابھی مل جائیں گی. اللہ پر بھروسہ رکھیں. وہ اس کو اب بڑوں کی طرح سمجھاتے ہوئے بولی۔۔
ہمم اب میری گڑیا نے کہہ دیا نا بس اب جلد ہی مل جانی ہے. اچھا اب بلکل نہیں رونا تم نے تم جانتی ہو میں تمہیں روتا ہوا نہیں دیکھ سکتا. وہ اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا اور جانے لگا پر پھر کچھ سوچ کر مڑا۔۔
گڑیا سچ میں یہ ہی بات تھی ناں؟وہ اس کو گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا کہ شاید وہ اس منگنی سے خوش نہ ہو تو وہ ہڑبڑاتی ہوئی نہ میں سر ہلا گئی ۔۔۔
پر کوئی بھی بات ہو تم مجھے بتا سکتی ہو میں ہو تمہارے ساتھ ہوں ۔
نہیں بھائی کوئی بات نہیں.. وہ اپنے ہاتھ مسلتے ہوئے بولی وہ چاہ کر بھی شاہ میر کو نہیں بتا پارہی تھی کہ وہ بھائی ہے اگر اس کے نکاح کا پتا چل گیا تو وہ اسے ہی غلط نا سمجھ بیٹھے. شاہ میر اس کو آرام کرنے کا کہہ کر چلا گیا۔۔
میرا موبائل کہاں ہے.. وہ شاہ میر کے جانے کے بعد الماری میں ڈھونڈتی ہوئی بولی ۔۔
اوہ شٹ وہ تو دعا نے پھینک دیا تھا اور میں نے بھی غصے میں صحیح نہیں کروایا نہ ہی نیو لیا پتا نہیں عمر نے کال کی بھی ہوگی کہ نہیں میرے پاس ایک ہی راستہ تھا اب میں کیا کروں میرے پاس اس کا نمبر بھی نہیں کیسے بتاؤں اسے یا اللہ میری مدد کر تو نے ہی انھیں میرا محرم بنایا ہے میں یہ تیرا دیا ہوا رشتہ نبھانا چاہتی ہوں مجھے اپنے شوہر سے محبت بھی ہوگئی ہے میں اب ان سے چاہ کر بھی الگ نہیں ہوسکتی پر کیا کروں میں تو ہی میری مدد کر یہ سب روک دے یہ غلط ہے.. وہ اپنا سر پکڑتی ہوئی بیڈ پر بیٹھ کر رونے لگی اور اللہ کو پکارنے لگی ۔۔۔
🌹🌹🌹
(جاوید صاحب گھر کے لان میں ہی منگنی کے سب انتظامات کیے گئے تھے )
مسکان کو گھر میں ہی بیوٹیشن کو بلا کر تیار کروا لیا گیا تھا. مسکان نے کافی مرتبہ کوشش کی کہ وہ ثمینہ بیگم کو سب بتا دے پر جب بھی وہ بات شروع کرتی کوئی نا کوئی بیچ میں آجاتا تیاریوں میں سب اتنے بزی تھے کہ کسی کو اس کے بے رونق چہرے کو دیکھنے کا بھی ٹائم نہیں مل رہا تھا جو دیہان دے پاتے کہ وہ خوش ہے بھی کہ نہیں.. اب بھی ثمینہ بیگم نے رامین کو بھیج کر مسکان کو لانے کو کہا تھا ۔۔۔
وہ رامین کے ساتھ آہستہ آہستہ چلتی اسٹیج کی طرف جارہی تھی آنکھیں تھیں کہ چھلکنے کو بے تاب تھیں وہ آہستہ سے آکر بیٹھی تو کسی کو جھٹکا لگا وہ کوئی اور نہیں علی تھا جس سے اس کی منگنی ہونی تھی. وہ حیرت زدہ نظروں سے مسکان کو ہی دیکھ رہا تھا اچانک اسے ہوش آیا یہ سب کچھ غلط ہو رہا ہے وہ مسکان کی سچویشن کو بھی اچھے سے سمجھ رہا تھا۔۔
اس نے سب سے پہلے عمر کو کال لگائی جس پر بیل جاتی رہی پر عمر تھا کہ کال اٹھا ہی نہیں رہا تھا اس کے کافی بار ملانے کے بعد بھی اس نے نہیں اٹھائی تبھی علی کی ماں اس کے پاس آئی کہ اب رسم شروع کریں تو علی کو جیسے جھٹکا لگا اس نے فوراً سے اپنی ماں کو منع کیا کہ وہ یہ منگنی بلکل نہیں کرسکتا۔۔۔
یہ تم کیا کہہ رہے ہو علی پاگل ہو گئے ہو کیا… وہ برہمی سے بولیں. وہ تو اچھا تھا وہ ان لوگوں سے تھوڑا ہٹ کر کھڑا ہوگیا تھا کہ عمر کو سب بتا سکے ۔۔۔
ہاں امی میں بلکل ٹھیک ہوں اور مجھے یہ منگنی بلکل نہیں کرنے. وہ بھی تھوڑا تیز لہجے میں بولا ۔۔۔
پر کیوں؟
امی میں آپ کو نہیں بتا سکتا بس آپ یہ سب ختم کریں. وہ بے بسی سے مسکان کو دیکھتا ہوا بولا وہ کیسے اپنے ہی دوست کی بیوی.. اس سے آگے وہ کچھ سوچ ہی نہیں پارہا تھا۔۔
نہیں علی جب تک تم مجھے وہ وجہ نہیں بتا دیتے میں کچھ بھی نہیں کرونگی میں جانتی ہوں ضرور کوئ بڑی وجہ ہے تبھی تم ایسا کر رہے ہو. وہ اسے دیکھتے ہوئے بولیں وہ اپنے بیٹے کی عادت سے بھی اچھے سے واقف تھیں تبھی زور دیتے ہوئے بولیں۔۔۔
اچھا میں آپ کو بتاتا ہوں پر آپ وعدہ کریں یہ بات کسی کو نہیں بتائیں گی خاص طور پر سحرش آپی کو آپ جانتی تو ہیں وہ بات کا بتنگڑ بنا دیتی ہیں پلیز.. وہ ان سے التجا کرتے ہوئے ہاتھ تھام کر بولا۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے نہیں بولتی پر بتاؤ تو سہی۔۔
وہ اپنی ماں کی سلجھی ہوئی عادت اچھے سے جانتا تھا اسے پتا تھا وہ اس آئی ہوئی آفت کو اچھے سے سمجھیں گی اور سب ٹھیک کر دیں گی تبھی اس نے سب کچھ اپنی ماں کو بتا دیا پر پیچھے کھڑی اس کی بہن سحرش جو انھیں ہی بلانے آئی تھی اس نے سب سن لیا۔۔۔
کیا کہا تم نے اس لڑکی نے پہلے سے نکاح کیا ہوا ہے.. سحرش علی کے سامنے آکر تیز آواز میں بولی جس پر سب ان کی طرف متوجہ ہوگئے۔۔۔
آپی چپ ہو جائیں ایسا کچھ بھی نہیں ہے. وہ سب کو دیکھتا ہوا اسے آہستہ سے تنبیہ کرتے ہوئے بولا۔۔۔
ارے میں کیوں چپ ہو جاؤں میں تو بولوں گی اتنا بڑا دھوکا دیا ہے ان سب نے بیٹی نے چھپ کر نکاح کیا ہوا ہے اور یہ میرے بھائی کے پلے باندھنے چلے ہیں. وہ ان سب کو دیکھتی ہوئی بولی تبھی سہیل صاحب (علی کے ابو) سحرش کی طرف بڑھے اور اسے ٹوکا کہ وہ یہ کس طرح کے لہجے میں بات کر رہی ہے پر اس نے پہلے کسی کی سنی ہے جو اب سنتی ۔
یہ کیا بکواس کیے جارہی ہیں آپ؟ شاہ میر کی اب بس ہوگئی تھی تبھی وہ اس کے سامنے آتے ہوئے بولا ۔۔
بکواس نہیں کررہی سچ کہہ رہی ہوں جاؤ جا کر پوچھو اپنی بہن سے کسی اور کے نکاح میں ہوتے ہوئے بھی میرے بھائی سے منگنی کررہی ہے پوچھو اس سے۔۔۔
ہمیں کچھ پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے ہمیں اپنی بہن پر پورا بھروسہ ہے. اسد نے بھی آگے بڑھ کر اس کو جواب دیتے ہوئے کہا پیچھے مسکان ڈر سے کانپتی ہوئی صوفے پر اپنی گرفت مضبوط کیے ہوئی تھی ۔۔۔
بولو تم کسی کے نکاح میں ہو کک نہیں بولو تم نے چھپ کر نکاح کیا ہے کہ نہیں بتاؤ اپنے گھر والوں کو.. سحرش مسکان کے پاس آکر اس سے پوچھتے ہوئے بولی تبھی اس کو علی نے آکر روکا پر وہ کہاں رکنے والی تھی ۔۔۔
مسکان کہہ دو یہ سب جھوٹ ہے ان لوگوں کو غلط فہمی ہوئی ہے.. احد اس کو بازوں کے حصار میں لیتے ہوئے بولا جو سحرش کے آنے سے ڈر کر کھڑی ہوگئی تھی۔۔۔
وووووہ بھھھھائی ۔۔
ہاں بولو ہم سب ہیں تمہارے ساتھ بیٹا. اب کی بار جاوید صاحب نرمی سے بولے۔۔
یہ سچ ہے ڈیڈ.. اس نے آنکھیں بند کر کے جلدی سے کہا تو پاس کھڑے احد کی اس کے بازوؤں پر گرفت ہلکی پڑگئی اب اس نے آہستہ سے سب کو دیکھا جو اسے ہی بے یقین نظروں سے دیکھ رہے تھے۔۔
پر بھائی ایک بار میری پوری بات سن لیں یہ سب کچھ میں نے… وہ احد کے ہاتھ پکڑتے ہوئے بولنے لگی تبھی جاوید صاحب کے گرنے کی آواز سے سب ان کی طرف بھاگے ۔۔۔
کیا ہوا آپ کو؟؟ شاہ میر احد کچھ کرو دیکھو کیا ہوا ان کو.. ثمینہ بیگم جاوید صاحب کو ہلاتے ہوئے بولیں ۔۔۔
امی کچھ نہیں ہوگا.. اسد گاڑی نکالو احد بھائی شاہ میر سب سے پہلے ان تک پہنچتے ہوئے چیخ کر بولا اور جلدی سے انھیں لے کر نکلے آہستہ آہستہ سارے مہمان بھی چلے گئے اب پیچھے ثمینہ بیگم رو رہی تھین جنہیں رامین سنمبھالے ہوئے تھی. تبھی مسکان روتی ہوئی آکر ان کا ہاتھ تھامنے لگی ۔۔
دور رہو مجھ سے آج تمہاری وجہ سے وہ اس حالت میں ہیں. تم نے ہمیں کہیں منہ دکھانے لائق نہیں چھوڑا مسکان اچھا ہوتا جو تم پیدا ہوتے ہی مرگئی ہوتی آج تمہارے باپ کی یہ حالت نہ ہوتی تمہارے باپ بھائیوں کو رسوا نہ ہونا پڑتا تمہاری وجہ سے اگر انھیں کچھ ہوگیا ناں تو میں تمہیں کبھی معاف نہیں کرونگی سنا تم نے چلی جاؤ یہاں سے چلی جاؤمم وہ روتے ہوۓ انگلی اٹھا کر چیخ کر بولیں تو رامین انھیں اندر کو لے گئی۔۔۔
_______
اچھا ہوا عریشہ تم آگئی لائبہ نے آتی ہوئی عریشہ کو دیکھ کر کہا جو علشبہ کے سامنے والے صوفے پر بیٹھی ہوئی تھی۔۔
کیوں کیا ہوا بھابھی؟وہ علشبہ کے قریب آکر اس کے گال پر پیار کرتے ہوئے بولی اس کا یہ انداز دیکھ کر علشبہ مسکرا دی۔۔
ارے علشبہ کو ہسپتال لے کر جانا ہے ڈاکٹر کی اپارٹمنٹ ہے میرے آج پیر میں بہت درد ہے تمہارے بھائی بھی نہیں ہیں جو لے جاتے. لائبہ نے بتایا۔۔۔
ہیں کیوں کیا ہوا آپ کے پیر کو وہ علشبہ کے برابر سے اٹھ کر لائبہ کے پاس بیٹھ کر اس کے پیر کا فکر مندی سے جائزہ لینے لگی۔۔
دیکھو علشبہ ایسے دیکھ رہی ہے جیسے کتنی بڑی ڈاکٹر ہے. لائبہ ہنس کر بولی تو وہ منہ بناتی ہوئی پیچھے کو ہوکر بیٹھ گئی۔۔
ایک تو کوئی مجھے خاطر میں ہی نہیں لیتا
ارے بابا میں نے تو مزاق کیا ہے تم تو میری پیاری سی چھوٹی سی نند اور بہن ہو اب ناراضگی ختم کرو ناں😔 لائبہ اس کو اپنے ساتھ لگاتے ہوئے پیار سے بولی جس پر علشبہ زور سے ہنسنے لگی۔۔
لائبہ یہ تمہیں بیوقوف بنا رہی ہے نوٹنکی ایکٹنگ کررہی ہے کوئی ناراض نہیں تم سے یہ. عریشہ بھی زور سے ہنس دی ۔۔
کیا آپی تھوڑا تنگ تو کرنے دیتیں. وہ علشبہ کو آنکھ مارتے ہوئے بولی اور وہاں سے اٹھ کر علشبہ کے پاس بیٹھ گئی جلدی سے کے کہیں لائبہ کوئی ردعمل ظاہر ناں کردے ۔۔۔
عریشہ کی بچی تمہیں تو میں بعد میں بتاؤ نگی ابھی جاؤ اپنی بہن کو لیکر ٹائم ہوگیا ہے اور دیھان سے جانا ۔۔۔
ہاں ہاں آپی چلیں دیر ہو جائے گی ورنہ. وہ علشبہ کو دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔
پر عریشہ گھر میں ابو تمہیں دیر نہ ہو جائے ۔۔
آرے آپی اب نہیں کرتے ابو غصّہ اور آپ لوگوں کو پتہ ہے انھیں پتا ہے میں آپ لوگوں سے ملنے آتی ہو بہانے بنا کر. وہ ان کو سرپرائز کرتے ہوئے بولی۔۔۔
مطلب تم کہنا چاہ رہی ہو ابو اب مجھ سے ناراض نہیں. علشبہ حیرت سے بولی۔۔
آپی اس کا تو نہیں پتا پر ان کا دل وقت کے ساتھ ساتھ نرم ہو رہا ہے اور دیکھنا ایک دن وہ آپ کو خود سے لے کر جائیں گے گھر. وہ اس کا اترا ہوا چہرہ دیکھ کر ہاتھ تھام کر بولی تو وہ بھی مایوسی سے مسکرا دی ۔۔۔
(سفیان صاحب پچھتا رہے تھے انھوں نے جب اپنا موازنہ حماد سے کیا تو انھیں احساس ہوا کے انھوں نے آج تک اپنی اولاد کو دیا ہی کیا ہے صرف بے جا پابندیاں اس دن بھی ان کی حالت اسی باعث بگڑی تھی وہ اب کچھ زیادہ نہیں بولتے تھے بس علشبہ سے ملنا چاہتے تھے کہ سب سے زیادہ انہوں نے اسے ہی تکلیف دی ہے اور یہ ہی نہیں انھیں اپنی بیماری کے ٹائم علشبہ بہت یاد آنے لگی تھی وہ بس اس انتظار میں تھے کہ وہ ان کی بیماری کا سن کر بھاگی چلی آئے اور پہلے کی طرح ان کا سر دبائے بات بے بات پوچھے ابو آپ ٹھیک ہیں کچھ چاہیئے تو نہیں وہ اس کے بچپن سے لیکر بڑے ہونے تک جب جب بیمار پڑے سب سے آگے علشبہ کو پایا جو انھیں بیماری میں کبھی اکیلا نہیں چھوڑ تی تھی )
(انھوں نے امرین بیگم اور عمر کی باتیں بھی سن لی تھیں جو علشبہ کے بارے میں ہی بات کر رہے تھے کہ علشبہ کو ان کی بیماری کے بارے میں بتانے سے حماد نے منع کیا تھا اس کی حالت کی وجہ سے انھیں اب پتا چلا تھا کے ان کی بیٹی ماں بننے والی ہے جب کہ اس کا اب آٹھواں مہینہ چل رہا تھا. وہ اس دن سب سے چھپ کر بہت روئے کہ انھوں نے اپنی ہی بچی کی زندگی خود برباد کی ہے وہ چاہ کر بھی خود سے اس کے پاس نہیں جا پارہے تھے وہ ہی تو تھی ان کے سب سے قریب پھر کیسے انھوں نے اسے جیتے جی مار دیا وہ اب روز اپنے آپ کو ملامت کرتے روز اپنے آپ سے لڑتے کہ دنیا کی باتوں میں آکر وہ اپنی ہی بیٹی کو تکلیف پہنچا بیٹھے)
🌹🌹🌹
سب لوگ اپنے اپنے راستے جارہے تھے پر وہ اپنا سب کچھ لٹا چکی تھی اور کسی کی بھی پرواہ کئے بس آگے چلتی جارہی تھی تبھی سامنے سے ایک ٹرک آرہا ہوتا ہے پر اسے کسی کا بھی ہوش نہیں ہوتا ۔۔
تبھی کوئی اسے اپنی جانب کھینچتا ہے۔
پاگل ہو گئی ہو یہ کیا کر رہی تھی تم،،،؟؟
چھوڑیں مجھے مرجانے دیں مجھے. میرے پاس اب کچھ نہیں بچا مجھے مرنا ہے..
وہ اپنے آپ کو زبردستی اس سے چھڑوانے کی کوشش کرتی ہے تبھی سامنے سے ایک کار آتی ہے. وہ شخص دوبارہ اسے اپنی جانب کھینچ کر ایک تھپڑ مارتا ۔۔
مسکان ہوش میں آؤ.. عمر اس کو جھنجھوڑتے ہوئے بولا تو وہ اس کے گلے لگ کر رونے لگی۔۔۔
(مسکان کے کان میں ثمینہ بیگم کے الفاظ گھوم رہے تھے کہ وہ مر کیوں نہیں گئی آج اس کے ڈیڈ کی حالت کی زمہ دار وہ ہے وہ کب چلتی چلتی باہر کی طرف نکل کر روڈ پر آگئی اسے خود نہیں پتہ چلا بس اسے سب سے دور جانا تھا وہ ان کو اور تکلیف نہیں دینا چاہتی تھی)
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *