Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari NovelR50755 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode30
No Download Link
753.9K
44
Rate this Novel
Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode01 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode02 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode03 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode04 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode05 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode06 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode07 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode08 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode09 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode10 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode11 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode12 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode13 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode14 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode15 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode16 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode17 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode18 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode19 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode20 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode21 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode22 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode23 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode24 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode25 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode26 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode27 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode28 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode29 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode30 (Watching)Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode31 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode32 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode33 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode34 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode35 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode36 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode37 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode38 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode39 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode40 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode41 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode42 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode43 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Last Episode
Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode30
Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode30
علشبہ صبح اٹھی تو اس کی نظر پاس رکھی سائیڈ ٹیبل پر گئی جہاں بہت ہی خوبصورت گلاب کے پھولوں کا گلدستہ تھا.. اس نے آہستہ سے اٹھ کر ان پھولوں کو اپنے ہاتھ میں لیا اور انھیں سونگھ کر ان کی خوشبو اپنے اندر اتار نے لگی اسے بچپن سے ہی گلاب کی بھینی بھینی خوشبو بہت پسند تھی۔۔
علشبہ نے کارڈ اٹھایا جو پھولوں کے ساتھ ہی رکھا ہوا تھا بہت ہی پیارا اور خوبصورت سا علشبہ نے کارڈ کھول کر پڑھنا شروع کیا۔۔
اب کہاں اور کسی چیز کی چاہ رکھی ہے
دل میں اک تیری تمنا جو بسا رکھی ہے
سر بکف میں بھی ہوں شمشیر بکف ہے
تو نے بھی تو کس دن پہ یہ تقریب اٹھا رکھی ہے
دل سلگتا ہے ترے سرد رویے سے میرا
دیکھ اب برف نے کیا آگ لگا رکھی ہے
آئینہ دیکھ ذرا کیا میں غلط کہتا ہوں
تو نے خود سے بھی کوئی بات چھپا رکھی ہے
جیسے تو حکم کرے دل میرا ویسے دھڑکے
یہ گھڑی تیرے اشاروں سے ملا رکھی ہے
مطمئن مجھ سے نہیں ہے جو رعیت میری
یہ میرا تاج رکھا ہے یہ قبا رکھی ہے
گوہر اشک سے خالی نہیں آنکھیں انورؔ
یہی پونجی تو زمانے سے بچا رکھی ہے
وہ ان الفاظوں میں کہیں کھو سی گئی تھی
پھر اس سے نیچے خوبصورت سا دل بنا ہوا تھا اور ساتھ ہی S اور A لکھا ہوا تھا ۔۔
(یعنی شاہ میر اینڈ علشبہ
) اور ساتھ ہی یہ الفاظ بھی جو شاعری کی صورت وہ اسے کہہ رہا تھا ۔۔۔
اس ذندگی نے دیا ہے ساتھ تمہارا••
آپ کے پیارسےکم نہیں پیار ہمارا•
کوئی تمنا نہیں صرف اک خواہش کےسوا•
نہ تم روٹھو نہ ٹوٹے کبھی ساتھ ہمارا••
علشبہ کو یہ لفظ دل پر لگ رہے تھے وہ چاہ کر بھی اپنے دل کو شاہ میر کی طرف مائل ہونے سے نہیں روک پارہی تھی اس کے دل نے اچانک ہی رفتار پکڑی تھی اس کا دل کر رہا تھا وہ جائے اور شاہ میر کا گریبان پکڑ کر پوچھے کیا سچ میں وہ اس سے محبت کرتا ہے
تو دل نے ایک پل کے لیے گواہی دی کہ ہاں وہ تجھے بہت چاہتا ہے پر اگلے ہی پل دماغ نے نفی کی.. علشبہ دل دماغ کی جنگ میں الجھ کر رہ گئی تھی اور اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئی تھی۔۔
ماما تھینک یو تھینک یو تھینک یو سو مچ… شاہ میر ثمینہ بیگم کے پیچھے سے گلے میں بازو ڈال کر پیار کرتے ہوئے بولا جس پر ثمینہ بیگم اس کا بچپنا دیکھ کر مسکرا دیں اور پلٹ کر اسے دیکھنے لگی جو کتنے ٹائم بعد ایسے خوش ہوا تھا.. انھوں نے اس کے ماتھے پر بوسا دیا اور خوشی سے چمکتے دمکتے چہرے کو دیکھ کر ماشاءاللہ کہا اور ہمیشہ ایسے ہی خوش رہنے کی دعا دی جس پر شاہ میر ان کے گلے لگ گیا۔۔۔
یہ سب کچھ آپ کی وجہ سے ہوا ہے.. ماما وہ ان کا گال چومتے ہوئے بولا۔۔۔
ہمم تو مل لیے تم علشبہ سے.. وہ اس کے کان کھینچتے ہوئے بولیں۔ پر خبردار جو اسے تنگ کیا تو تم نے میں اسے اسی بنا پر لائی ہوں کہ تم بلکل اسے تنگ نہیں کرو گے.. وہ ساتھ ہی اسے تنبیہ کرتے اور بتاتے ہوئے بولیں۔۔۔
کیا ماما میں تنگ کرتا ہوں یا آپ کی بہو۔ جب بھی اس سے بات کرنے کی کوشش کرو تو وہ کاٹ کھانے کو دوڑتی ہے.. وہ منہ بناتا ہوا بولا تو ثمینہ بیگم ہنس دیں۔۔
اچھا اچھا بس اب جاؤ اور جا کر ناشتہ کرو مسکان یا ثمرین سے بول دینا میں آتی ہوں.. وہ اسے کہتے ہوئے اپنے کام میں مصروف ہوگئیں تو وہ بھی باہر کی طرف چل دیا جہاں سب ناشتہ کر چکے تھے صرف شاہ میر رہتا تھا ۔۔۔
بھائی کہاں جانے کی تیاری ہے؟ شاہ میر نے احد سے پوچھا۔۔
ارے کہاں جاؤنگا آفس اور کہاں۔۔ اور سب ٹھیک ہے؟ وہ جواب دیتے ہوئے شاہ سے پوچھنے لگا جس کا مطلب سمجھ کر شاہ میر مسکرا دیا۔۔
ہاں بھائی موسم تھوڑا ابر آلود ہے آپ دعا کریں اب کے بارش میرے حق میں برس جائے.. وہ سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا۔ تو احد بھی ہنس دیا ۔۔۔
ہاں ہاں ضرور ضرور انشاء اللہ ایسا ہی ہوگا مجھے اپنے بھائی کی قابلیت پر پورا بھروسہ ہے۔۔ احد نے بھی اسی کی طرح جواب دیا اور دونوں قہقہہ لگا کر ہنس پڑے۔۔
اچھا بھائی آپ تھوڑی دیر رک جائیں میں بھی آپ کے ساتھ چلتا ہوں شاہ میر نے احد کو دیکھ کر کہا جس پر احد حیران ہوگیا۔۔
کیوں بھئی ؟ وہ بھوئیں أچکاتے ہوئے پوچھنے لگا ۔۔
بھائی مجھے پہلے ہی یہ سب کر لینا چاہیے تھا پر اپنے مسئلوں میں ایسے الجھا کہ آپ کا اور ڈیڈ کا کچھ ساتھ ہی نہ دے سکا ڈیڈ کی بیماری کے بعد آپ ہی سب دیکھ اور سنمبھال رہے ہیں میرا بھی کچھ فرض بنتا ہے۔۔ اور میں نے بھی یہ فیصلہ لیا ہے کہ میں بھی آپ کے ساتھ آفس جاؤنگا ہاں تھوڑا مشکل ہے مجھے اس فیلڈ میں کام کرنا پر آپ ہیں ناں سب سکھانے اور سمجھانے کیلئے.. وہ پہلے سنجیدگی سے اور بعد میں شرارتی انداز میں بولا جس پر احد مسکرا دیا۔۔
بلکل میں نے کہا نہ مجھے اپنے بھائی کی قابلیت پر پورا بھروسہ ہے. وہ زندگی کے ہر معاملے میں کامیاب ہوگا انشاء اللہ۔ اور تمہارا بھائی کس لیے ہے بلکہ تم ایسا کرو آج سے نہیں کل سے چلنا آج تم آرام کرو کافی دن تم مجنوں بنے رہے ہو اب تھوڑا انسان بن جاؤ پھر کل سے کام شروع کرتے ہیں ۔۔احد اس کی حالت کو دیکھ کر چھیڑتے ہوئے بولا جس پر ایک بار پھر شاہ میر دل کھول کر ہنسا تو احد نے بھی دل سے اسے اسی طرح خوش رہنے کی دعا دی۔۔
لائبہ میری یہ شرٹ استری کردو۔لائبہ جو کچن میں کام کر رہی تھی حماد کے کہنے پر مڑی۔۔
لائیں میں کر دیتی ہوں.. اس نے مسکرا کر حماد سے شرٹ لی اور گیس کی آنچ دھیمی کر کے چلی گئ۔۔
اچھا کمرے میں لے آنا وہ کہتا ہوا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔
پر لائبہ کا استری کرتا ہوا ہاتھ ایک پل کو تھم گیا اسے حماد کے کمرے میں جانے سے ہی اپنا دل حلق میں آتا ہوا محسوس ہوا..
وہ سر جھٹکتی پریس کی ہوئی شرٹ لیکر حماد کے کمرے کی طرف بڑھی اور کپکپاتے ہاتھوں سے ہلکے سے دروازے پر دباؤ دیتی تو وہ کھلتا ہی چلے گیا پر اندر بڑھنے پر اسے حماد نظر نہیں آیا وہ واشروم میں تھا۔۔
لائبہ مسکرا کر چاروں طرف سے کمرے کا جائزہ لینے لگی۔۔
مستقبل کے کمرے کیلئے کچھ تبدیلیاں کروانی ہیں تو بتادو آخر یہ اب تمہارا بھی کمرہ ہے مسز ۔۔تبھی حماد نے پیچھے سے اکر اس کے کان /میں کہا تو وہ بدک کر پیچھے ہوئی۔۔
کیا ہے ڈرا دیا آپ نے.. وہ دل پر ہاتھ رکھے منہ بناتے ہوئے بولی۔۔
لیں پکڑے اپنی شرٹ۔۔ وہ اسے شرٹ دینے لگی تو حماد نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنی جانب کھینچا تو وہ اس کے سینے سے لگتے لگتے بچی تو گھبرا کر حماد کو گھورنے لگی اور اپنا ہاتھ چھڑوانے لگی حماد بھی مسکرا کر اس کی کارروائی دیکھ رہا تھا ۔۔
کیا ہے چھوڑے نا.. اب وہ جھنجھلا کر بولی تو حماد نے چھوڑ دیا۔۔
ظالم دیکھیں کیسے نشان پڑ گیا وہ اپنا ہاتھ اس کی طرف دیکھاتے ہوئے شکایت کرنے لگی۔۔جس پر حماد کو اس پر ٹوٹ کر پیار آیا اور اس کے ہاتھ کو نرمی سے تھام کر چوم لیا جیسے وہ اس کی دوا ہو تو لائبہ بھی نظریں جھکا کر شرمیلی سی مسکان سجالی ۔۔
حماد بیٹا؟ سفیان صاحب حماد کو آواز دیتے ہوئے اس کے کمرے میں آئے تو لائبہ اس سے جھٹ سے دور ہوئی۔۔۔
یہ لیں شرٹ.. وہ جلدی سے حماد کو دے کر وہاں سے بھاگ گئی جس پر سفیان صاحب مسکرا دیے ۔۔
لگتا ہے میں غلط ٹائم پر آگیا ۔۔وہ حماد کو چھیڑتے ہوئے بولے تو حماد شرمندہ سا ہوگیا۔۔
ابو آپ یہاں مجھے بلا لیا ہوتا ۔۔وہ ان کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے بولا۔۔
ہاں مجھے تم سے کچھ بات کرنی تھی ۔وہ کہتے ہوئے بیڈ پر بیٹھ گئے۔۔
ہاں کہیں ابو ۔۔
وہ ہم اب تمہارا ولیمہ کرنا چاہتے ہیں اور ساتھ ساتھ عمر کا بھی اب وہ بھی نکاح کر کے بیٹھا ہے تو تمہاری ماں کہتی ہے وہ اس کا بھی ساتھ ہی کرے گی اور وہ اپنی بہو کو جلد سے جلد اپنے گھر لائیں گی.. وہ ساری بات بتاتے ہوئے بولے تو حماد کے اندر خوشی کی لہر دوڑ گئی۔۔
ہاں ابو امی صحیح کہہ رہی ہیں اور ویسے بھی اب وہ اپنی ساری ذمہ داری سمجھنے لگا ہے دیکھا نہیں کیسے پڑھائ کے ساتھ ساتھ میرے ساتھ دوکان میں بھی ہاتھ بٹاتا ہے اور پھر وہ پڑھ لے تو اسے ضرور کسی اچھی پوسٹ پر جاب مل جائے گی ورنہ ابھی تو وہ کام کر ہی رہا ہے ۔۔وہ عمر کی آنکھوں میں مسکان کیلئے وہ ہی محبت دیکھ چکا تھا جو لائبہ کیلئے اس کی آنکھوں میں ہے تبھی وہ اس کی سفارش کر رہا تھا۔۔۔
ہمم کہہ تو ٹھیک رہے ہو چلو اب علشبہ کے سسرال والوں سے بات کرتے ہیں ۔۔وہ کچھ سوچتے ہوئے بولے۔۔
نہیں ابو ابھی علشبہ کے سسرال والوں کو نہیں پتا اس سب کے بارے میں ہاں شاہ میر کو پتا ہے میں پہلے اس سے بات کرتا ہوں وہ پہلے خود سب کو بتا دے تو زیادہ اچھا ہوگا ۔وہ ان کو سمجھاتے ہوئے بولا ۔۔
(شاہ میر نے خود سے پہل کر کے حماد کو بھروسہ دلایا تھا کہ وہ اب علشبہ کو کوئی دکھ نہیں پہنچنے دیگا اور اس کو ساری خوشیاں دیگا وہ علشبہ کے اسپتال سے آنے کے بعد سے کال پر رابطے میں تھا حماد سے )
ہمم جیسا تمہیں ٹھیک لگے کر لو پھر ہمیں بتا دینا ۔وہ کہتے ہوئے کھڑے ہوکر آگے بڑھ گئے پر پھر کچھ سوچ کر پلٹے اور حماد کی طرف آئے ۔۔
آج میں بہت خوش ہوں تم دونوں کو لیکر مجھے یہ بات آندر ہی اندر کھائے جارہی تھی کہ میں نے علشبہ کی طرح تمہارے اور لائبہ کے ساتھ بھی غلط کر دیا اور تمہارا نکاح بھی زبردستی کروا دیا پر آج تم دونوں کو ایک ساتھ دیکھ کر سب سے زیادہ سکون میں میں ہوں.. وہ کہتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے تو حماد ان کے گلے لگ گیا۔۔
آپ ہمارے ساتھ کچھ غلط نہیں کرسکتے ابو آپ نے ہمیشہ ہمارا اچھا ہی چایا ہیں وہ ان سے الگ ہوتے ہوئے بولا۔۔انھیں ہمیشہ اپنے اس بیٹے پر فخر محسوس ہوا ہے وہ اسے دیکھتے ہوئے سرشاری سے مسکرا دیے ۔۔۔
_______
جس طرح ٹوٹ کے برستی ہے بارش
اس طرح خود کو تیری ذات پے مرتے دیکھا 
حماد دیکھیں ناں کتنا پیارا موسم ہورہا ہے اور اب تو بارش بھی ہورہی ہیں پلیز چلیں نا انجوائے کرتے ہیں ۔۔لائبہ نے حماد کو آکر کہا جو چائے پکوڑے کے مزے لینے میں مست تھا ۔۔
نہیں بلکل بھی نہیں بیمار پڑ جاؤ گی.. وہ اس کے منہ میں پکوڑا ڈالتے ہوئے صاف منع کر گیا۔
پلیز چلیں نا.. وہ اس کا ہاتھ پکڑ تے ہوئے بولی۔ جس پر اس نے نا میں سر ہلاتے ہوئے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے نکال کر چائے پینے لگا۔۔
ٹھیک ہے مت جائیں میں خود ہی جارہی ہوں وہ اس کو گھورتے ہوئے پیر پٹختی ہوئی بول کر صحن میں چلی گئی۔۔حماد بھی اس کے پیچھے پیچھے گیا اور ہاتھ باندھے خود بھی بھیگتے ہوئے اسے دیکھنے لگا جو سب چیزوں سے بے نیاز اپنا منہ اوپر کیے بارش میں بھیگنے میں مگن تھی..
لائبہ چلو بس آجاؤ اب.. تھوڑی دیر بعد حماد اسے بلاتا ہے..
اتنی جلدی.. ؟؟ اتنے ٹائم بعد تو کراچی میں صحیح سے بارش ہورہی ہے.. آپ تو بیوقوف ہیں جو نہیں بھیگ رہے اس بارش میں.. لائبہ نے جواب دیا..
اچھا میں بیوقوف ہوں؟؟ حماد یکدم شیڈ والی جگہ سے نکل کر اس کے قریب آیا..
اور نہیں تو کیا.. لائبہ اس کی آنکھوں میں پانی کی بوندیں اڑاتے ہوئے بولی..
لائبہ…حماد نے اس کے دونوں ہاتھ کلائیوں سے تھام لیے اور اسے تکنے لگا..
چلیں اندر چلتے ہیں.. لائبہ اس کی نظروں سے گھبرا کر بؤلی..
کیوں اتنے ٹائم بعد ہورہی ہے نا کراچی میں صحیح سع بارش اب بھیگتے ہیں نا ساتھ.. حماد اسے اپنے مزید قریب کرتے ہوئے بولا..
حمادد.. لائبہ شرما کر اس کے سینے میں منہ چھپا گئی اور وہ دونوں اس برستے ساون میں بھیگتے رہے..
ایک تو میں نے حماد بھائی کو دو بجے آنے کو کہا تھا ابھی تو صرف گیارہ ہی بجے ہیں.. بارش اتنی تیز ہورہی ہے. سب ہی اسٹوڈنٹس اپنے اپنے گھر جارہے ہیں میں اب کیسے جانگے.. موبائل بھی گھر بھول گئی عریشہ تو بھی نا جب سب سے اہم کام ہوتا ہے تبھی موبائل بھول جاتی ہے۔۔ عریشہ کالج کے باہر کھڑی اپنے آپ کو کوس رہی تھی ۔تبھی وہاں سے اسد کا گزر ہوا جو اسے دیکھ کر اپنی گاڑی اس کے قریب لاکر روک دی جس پر عریشہ اسے دیکھ کر نظر انداز کر گئی۔۔پ
گھر جانا ہے میں چھوڑ دیتا ہوں؟؟ اسد اتر کر اس کی طرف آکر بولا ۔۔
نہیں شکریہ میں خود چلی جاؤں گی ۔۔۔
اکیلی کیسے جاؤ گی بارش میں بھی تیزی آتی جارہی ہے.. بھیگ کر بیمار پڑ جاؤ گی.. وہ پہلے سمجھاتے ہوئے پھر فکر کرتے ہوئے بولا۔۔ جس پر عریشہ نے اسے گھور کر دیکھا تو وہ سنبھلا۔۔
ارے یار چل لو کھا نہیں جاؤنگا میں تمہیں اور مجھے بھی بیمار پڑ واؤ گی کیا.. وہ بات کا رخ بدلتے ہوئے بولا۔۔
ہاں تو کس نے کہا ہے کہ یہاں کھڑے ہو کر بارش میں بھیگو اور میری منتیں کرو ۔وہ منہ موڑتے ہوئے بولی۔۔جس پر اسد نے اسے گھورا ۔۔
ٹھیک ہے مت جاؤ مجھے کیا… وہ بھی غصے میں کہتا گاڑی میں جاکر بیٹھ گیا پر گاڑی آگے نہیں بڑھا پایا اسے کوئی انجانی سی کشش تھی جو عریشہ کی جانب کھینچتی تھی.. اسد نے ہارن بجا کر ایک بار پھر مخاطب کیا جس پر وہ دوسری طرف دیکھنے لگی.. اسے بھی اسد کو تنگ کرنے میں مزا آرہا تھا کافی ٹائم بعد تو وہ اس کے ہاتھ لگا تھا کریلے کھاتی ہوں میں اب بتاؤں گی کڑوی چیز کیسی ہوتی ہے.. وہ مسکراتے ہوئے سوچ رہی تھی۔۔
تم ایسے نہیں مانو گی.. اسد نے اپنا موبائل نکالا اور کال ملائی اور تھوڑی ہی دیر میں باہر آکر عریشہ کی طرف موبائل بڑھایا.. جس پر عریشہ نے ناسمجھی سے موبائل کو دیکھ کر کان سے لگا لیا اور دوسری طرف کی بات سننے لگی۔۔
پر عمر میں خود اچھا اچھا آرہی ہوں کوئی ضرورت نہیں امی کو بولنے کی… وہ منہ پھلا کر بولتی کال کٹ کر کے أسد کو موبائل دیتی گاڑی میں جاکر بیٹھ گئی۔۔
اسد نے عمر کو کال کرکے بتا دیا تھا سب جس پر اس نے عریشہ کو کہا تھا کہ وہ اسد کے ساتھ آجائے اس کی بائیک خراب ہوگئی تو وہ ٹھیک کرانے میں مصروف ہے اور اسے آدھا گھنٹہ لگ جائے گا وہ نہیں مانی تو اسے امرین بیگم کی دھمکی دینی پڑی جس پر وہ مان گئی اور اب منہ دوسری طرف کیے آتی جاتی گاڑیوں کو دیکھنے میں مگن تھی ۔۔۔
اور اسد اسے ایسے دیکھ کر مسکرا رہا تھا وہ اسے ناراض ہوتی ہوئی بلکل اپنی اپنی سی لگی تھی اسد ابھی بھی اپنی فیلینگز سمجھنے سے قاصر تھا۔۔۔خاموشی میں صرف ونڈ اسکرین پر بارش کی بوندوں کی گرنے کی آوازیں آرہی تھیں جو خوبصوت سا ماحول بنا رہی تھیں.. لیکن فلحال اس ماحول کو سمجھنے والی عریشہ نہ تھی..
اسد کے عریشہ کے گھر کے باہر گاڑی روکنے پر عریشہ اترنے لگی تو اسد نے اس کا ہاتھ پکڑ کر روک لیا ۔۔اسد بے اختیار ہی اس کا ہاتھ پکڑ گیا تھا وہ اسے ناراض ہوتا ہوا نہیں جانے دینا چاہتا تھا۔۔
عریشہ نے جھٹکے سے اپنا ہاتھ اس سے کھینچا اور غصے سے اسے گھورنے لگی.. (شکر تھا کہ کوئی چیز اٹھا کر نہیں ماری
یہ کیا بدتمیزی ہے؟ وہ غصے سے بھڑکی۔۔
اوہ سو سوری ۔وہ اپنے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے ندامت سے بولا۔۔تو وہ تھوڑی دھیمی پڑی۔۔
وہ مجھے۔۔ پتا نہیں کیوں آج اسد اس کے سامنے ہکلا رہا تھا اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کیا کہے۔۔
کیا ہے جلدی پھوٹو ۔وہ جھنجھلا کر بولی اسے آج اسد کچھ مشکوک مشکوک سا لگ رہا تھا۔۔
ارے بندہ تھینک یو ہی بول دیتا ہے۔۔آخر میں نے تمہیں لفٹ دی ہے ۔۔وہ اب تھوڑا اپنے آپ پر قابو پاتے ہوئے بولا۔۔
ہاں تو میں نے کہا تھا زبردستی والی لفٹ ہننننہہہ وہ منہ بناتے ہوئے بولی۔۔تو اسد ہنس دیا ۔۔
یہ کس بات پر اتنا گلا پھاڑ پھاڑ کر ہنس رہے ہو ۔۔وہ اس کے ہنسنے پر چوٹ کرتے ہوئے بولی۔۔
ہے ایک بندریا جب وہ منہ بگاڑ کر بولتی ہے نا تو قسم سے نا چاہتے ہوئے بھی ہنسی آجاتی ہے۔۔وہ بھی اسد تھا حساب برابر کرنا اچھے سے آتا تھا۔۔
تم نا ایک نمبر کے لوفر ہو۔ وہ دانت پیستی اپنے بیگ سے بک نکال کر اس کے سر پر مارتے ہوئے بولی۔۔
ایک مرتبہ نہیں ہزار مرتبہ کہوں گا بندریا چڑیل أسد.. اپنا بچاؤ کرتے ہوئے اسے اور غصہ دلانے لگا ۔۔
تم بھی کسی بندر اور جن سے کم نہیں ہو۔ عریشہ کے ہاتھ دکھ گئے تو وہ رک گئی اور ایک غصے بھری نظر ڈال کر بولتی ہوئی باہر نکل گئی۔۔ پر اسد کے قہقہے اسے گھر کے اندر جانے تک سنائی دیے جس پر وہ اور کھول گئی۔۔۔
اے بارش زرا تھم کے برس
جب وہ آئے تو جم کے برس
پہلے نا برس کے وہ آ نا سکے
پھر اتنا برس کے وہ جا نا سکے
تم یہاں کیا کر رہی ہو؟ عمر جو بائیک صحیح کرا کر جارہا تھا مسکان کو گول گپے کھاتے دیکھ اس کی طرف آکر تھوڑا برہمی سے بولا۔۔ جو پنک اینڈ یلو کلر کے قمیض شلوار پہنے دوپٹہ شانوں پر اچھے سے پھیلائے بھیگتی ہوئی گول گپے کھانے میں مگن تھی۔۔
وہ میں۔۔وہ عمر کی آواز پر اس کی طرف پلٹتے ہوئے ہکلائی وہ اس کی آنکھوں میں غصہ دیکھ چکی تھی اسے اب اپنی غلطی کا احساس ہوا تھا. وہ اپنی دوست کے گھر سے آرہی تھی تو اسے گول گپے نظر ائے اس سے رہا نہیں گیا تو وہ گاڑی سے باہر نکل آئی اور سب سے بے نیاز کھانے میں مگن تھی۔۔
اب وہ نظریں جھکائے کھڑی تھی تو عمر اس کا ہاتھ سختی سے پکڑ کر اپنی بائیک کی طرف لے آیا.. وہ بھی اس کے ساتھ چلتی جارہی تھی۔۔
وہ مجھ سے ایم سوری۔۔عمر نے اس کا بائیک کی طرف لاکر ہاتھ چھوڑا تو وہ نیچے نظریں جھکائے اٹک اٹک کر بولی ۔۔جس پر عمر اسے دلچسپی سے دیکھنے لگا جو شرمندہ شرمندہ سی کھڑی تھی اس کا غصہ تو تبھی ہوا ہوگیا تھا جب اس کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تھا.
جاری ہے
