Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari NovelR50755 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode35
No Download Link
753.9K
44
Rate this Novel
Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode01 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode02 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode03 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode04 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode05 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode06 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode07 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode08 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode09 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode10 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode11 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode12 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode13 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode14 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode15 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode16 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode17 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode19 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode20 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode18 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode21 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode22 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode23 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode24 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode25 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode26 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode27 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode28 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode29 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode30 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode31 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode32 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode33 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode34 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode35 (Watching)Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode36 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode37 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode38 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode39 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode40 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode41 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode42 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode43 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Last Episode
Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode35
Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode35
شاہ میر کی آنکھ وفا کے رونے سے کھل گئی تھی. علشبہ کا سر ابھی تک شاہ میر کے بازو پر تھا اور ہاتھ شاہ میر کے گرد… وہ اتنی بے خبر سورہی تھی کہ وفا کے رونے پر بھی نہیں اٹھی تھی.. شاہ میر نے آہستہ سے اس کا سر تکیے پر رکھا اور اس کا ہاتھ ہٹانے لگا جس پر علشبہ کی آنکھ کھل گئی اس نے بوکھلاتے ہوئے اپنا ہاتھ ہٹایا شاہ میر پر سے اور اٹھ کر بیٹھ گئی ۔۔
اف دس بج گئے میں اتنا کیسے سوگئی… وہ شاہ میر سے نظریں چرا کر اپنے کھلے بالوں کا جوڑا بنا کر بڑبڑائی اور دوپٹہ کندھے پر ڈال کر وفا کی طرف بڑھی جسے شاید بھوک لگی تھی دونوں ہی قریب آرہے تھے پر بات کرنے میں پہل کوئی نہیں کر رہا تھا… دونوں کو ہی ایک دوسرے کی غلطی دکھ رہی تھی اب دیکھنا یہ تھا کہ پہل کون کرتا ہے…
بیٹا آج تمہاری بہن کی شادی ہے اور تم ابھی تک کمرے میں ہی بند پڑے ہو… جاؤ دیکھو تمہارے دونوں بھائی کاموں میں لگے ہوئے ہیں تم بھی جاؤ تمہارے ڈیڈ بہت غصہ کر رہے ہیں۔۔ثمینہ بیگم اسد کے کمرے میں آکر بولیں جو بیڈ پر بیٹھا پتا نہیں کن خیالوں میں گم تھا ان کے کہنے پر چونک کر انھیں دیکھنے لگا۔۔
جی ماما بس آتا ہوں چینج کر کے آپ جائیں ۔۔
چلو اچھا ٹھیک ہے جلدی سے آؤ باہر اب تم مجھے کمرے میں نا دکھو۔
جی اچھا ۔۔
اسد نے ثمینہ بیگم کے جانے کے بعد اپنا موبائل اٹھایا اور عریشہ کا نمبر ڈائل کیا ۔۔
عریشہ بھی بیڈ پر بیٹھی اپنے خیالوں میں گم تھی جب موبائل کی رنگ نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا۔عریشہ نے انجان نمبر دیکھا تو رکھ دیا پر ایک بار پھر رنگ کرنے پر اس نے اٹھا لیا۔۔۔
ہیلو کون؟
اسد نے عریشہ کی آواز سن کر لمبی سانس لی اور خود کے اندر سکون اتارا پر بولا کچھ نہیں ۔۔۔
بڑی شفا ہے ، تیرے عشق میں !
جب سے ہوا ہے
کوئی دوسرا …درد نہیں ہوتا
ہیلو کوئی بولے گا ہیلو۔۔عریشہ مسلسل بولتے ہوئے اچانک چپ کر گئی تھوڑی دیر دونوں طرف خاموشی رہی جیسے ایک دوسرے کی سانسوں کی آواز سن رہے ہوں ۔۔
اسد !
عریشہ کے نام لینے پر اسد کے چہرے پر مسکراہٹ کھل اٹھی یعنی وہ اس کے بن کہے ہی اسے پہچان گئی ۔۔
عریشہ کیوں کر رہی ہو یار یہ سب میں جانتا ہوں تم اس رشتے سے خوش نہیں ہو پھر کیوں اپنے آپ کو دھوکا دے رہی ہو کیوں تم سب جان کر انجان بن رہی ہو میں وعدہ کرتا ہوں میں تمہارے ساتھ ہون تم کچھ بولو تو سہی۔۔ اب چپ ہونے کی باری عریشہ کی تھی وہ بولے جارہا تھا اور عریشہ کی آنکھوں سے آنسوں جاری تھے وہ اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنی آواز کا دم گھوٹ رہی تھی وہ جان بوچھ کر اپنی فیلینگز کو جھٹلا رہی تھی پر اب اسد کی آواز سن کر ٹوٹ گئی تھی مگر اس پر ظاہر بھی نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔
اسد بھی اس کی خاموشی کو دیکھ کر چپ کر گیا تھا پر کال دونوں طرف سے ہی کٹ نہیں کی گئی تھی۔۔۔
تیری خاموشی اگر تیری مجبوری ہے.
تو رہنے دے عشق کونسا ضروری ہے…!!
اسد نے غصّے سے کہہ کر کال کٹ کردی تھی اور عریشہ اس کے کہے لفظوں میں کہیں کھو سی گئ تھی اور ایک بار پھر سے آنکھوں سے آنسوں جاری ہوگئے تھے۔۔۔
سب ہال میں جانے کیلئے تیار تھے مسکان کو پہلے ہی رامین اور اسد کے ساتھ ہال بھیج دیا گیا تھا۔۔ ثمینہ بیگم بھی وفا کو لیے کھڑی تھیں جس نے بلیک کلر کی فراک پہنی ہوئی تھی.. ثمینہ بیگم نے شاہ میر کو دیکھتے ہی ماشاءاللہ کہا تھا کہ کہی انھی کی نظر نا لگ جائے۔ جس نے وائٹ کلر کی شلوار قمیض پر بلو کلر کی واسکٹ پہنی ہوئی تھی وہ گیسٹ روم سے نکلتا اپنی ہاتھ کی گھڑی پر نظر ڈالتا انھی کی طرف آرہا تھا۔۔۔
وہ کہتے ہیں کہ کالا سوٹ
بہت جچتا ہے تم پہ
ارے انہیں کوئی بتائے کہ ہم
سفید لباس میں بھی
قیامت ڈھاتے ہیں
چلیں ماما۔اس نے وفا کے گال پر پیار کرتے ہوئے کہا تو وہ کھلکھلا دی۔۔
ہاں پر اپنی بیگم کو تو بلا لو جو ابھی تک کمرے میں ہی بند ہے ۔۔انھوں نے جواب دیتے ہوئے کہا تبھی احد اور جاوید صاحب نے آکر جلدی مچا دی کہ چلیں ۔۔۔
شاہ تم علشبہ کو اپنے ساتھ لے کر آجانا بیٹا ہم سے پہلے بارات وہاں پہنچ جائے اچھا نہیں لگتا ہم نکلتے ہیں.. جاوید صاحب نے شاہ میر کو مخاطب کر کے کہا ۔۔
ہاں شاہ میر وفا کو میں لیکر جارہی ہوں تم دونوں دوسری گاڑی میں آجاؤ جلدی سے.. ثمینہ بیگم بھی کہتے ہوئے جاوید صاحب کے پیچھے پیچھے چل دیں۔۔۔
شاہ میر کافی دیر تک اس کا باہر انتظار کرتا رہا پر اس کے نا آنے پر شاہ میر جھنجھلا کر کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔
شاہ میر نے جیسے ہی قدم اندر رکھا وہی ٹھہر گیا… علشبہ ڈریسنگ ٹیبل کے آگے کھڑی اپنے نیکلس کا ہک لگانے کی کوشش میں ہلکان ہورہی تھی شاہ میر کے قدم علشبہ کی جانب اٹھ گئے ۔۔
علشبہ نے اپنے ہاتھ پر کسی کا لمس محسوس کیا تو فوراً سے سر اٹھا کر آئینے میں دیکھا شاہ میر اس کے پیچھے ہی کھڑا تھا اس نے آہستہ سے اپنے ہاتھ ہٹالیے تو شاہ میر نے اس کے نیکلس کا ہک بند کیا پھر دونوں ایک دوسرے کو آئینے میں سے ہی دیکھنے لگے جو بلکل چاند سورج کی جوڑی لگ رہی تھی علشبہ کے دل نے زور زور سے دھڑکنا شروع کر دیا تھا شاہ میر کو اپنے اتنے قریب دیکھ کر…. شاہ میر نے ٹرانس کی سی کیفیت میں علشبہ کا رخ اپنی طرف کیا اور سجی سنوری علشبہ کو دیکھنے لگا ۔۔
علشبہ نے بھی شاہ میر کے جیسے میچنگ کے کپڑے پہنے ہوئے تھے لائٹ بلو کلر کی گول دامن کی شرٹ اور بلو ہی دوپٹہ جس پر ہاتھ کا وائٹ نگینوں کا کام کیا ہوا تھا اور گھیر دار شلوار پہنی ہوئی تھی اور ساتھ ڈائمنڈ کا نازک سا وائٹ نیکلس اور بالوں کا خوبصورت سا جوڑا بنایا ہوا تھا پر آگے سے بالوں کی لٹیں نکلی ہوئی تھیں جو اس کے چہرے پر جھول رہی تھیں اور ساتھ ہی ماڈل میک اپ کیا ہوا تھا جو زبردستی ثمینہ بیگم نے بیوٹیشن سے کروایا تھا.. وہ آج اس کو الگ ہی روپ دے رہا تھا جو بلکل سادی سی رہنے والی علشبہ سے بلکل مختلف تھا… شاہ میر اسے یک ٹک دیکھے جارہا تھا تبھی اس کا موبائل بجنے لگا جس پر وہ ہوش میں آیا اور علشبہ سے دو قدم دور ہوکر کال ریسیو کی اور اس کو باہر آنے کا اشارہ دے کر خود بھی باہر نکل گیا۔۔
شاہ میر گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا اور علشبہ فرنٹ سیٹ پر بیٹھی اس سے لا تعلق باہر آتے جاتے نظارے دیکھنے میں مگن تھی شاہ میر نے اس خاموشی سے اکتا کر سونگ چلا دیا جس پر نبیل اور آئمہ کی خوبصورت سی آواز نے ماحول سا بنا دیا۔۔
جا تجھے معاف کیا دل کو توڑنے والے،،
ستم ہے خدایا کیوں پیار بنایا جو ٹوٹے دل کا جہاں
دل اتنا رلایا ہے غم مسکرایا کہ اپنے ہیں انجانے
(گانے کے الفاظوں پر دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا جیسے دونوں کے دلوں کا درد وہ لوگ بیان کر رہے ہو)
ٹوٹ کر پیار کرے دل جو بکھر جاتا ہے ،،
عشق تو سامنے آنکھوں کے مکر جاتا ہے،
بوجھ ہے دل پہ محبت کا اتاروں کیسے،،
کہہ کے دو بول ایک عمر گزاروں کیسے،،
آئمہ کے کہے لفظوں پر علشبہ کی آنکھوں میں آنسوں آگئے۔
رکھ دے پیمانے پہ اپنوں کو تولنے والے ،،
جا تجھے معاف کیا دل کو توڑنے والے،،
ستم ہے خدایا کیوں پیار بنایا جو ٹوٹے دل کا جہاں
دل اتنا رلایا ہے غم مسکرایا کہ اپنے ہیں انجان
ہر شاہ میر نے اس کی طرف دیکھا تو اس نے اپنا چہرہ موڑ لیا دونوں کے دلوں پر اس وقت قیامت سی مچی ہوئی تھی دونوں ہی اپنی جگہ ٹھیک تھے پر دونوں کی ہی انا آڑے آرہی تھی وہ چاہ کر بھی ایک دوسرے کی غلط فہمیاں دور نہیں کر پارہے تھے دونوں نے ہی چپ سادھ لی تھی اس واقعے کے بعد سے ۔۔
مسکان نے ریڈ شرٹ جس کا گلا گرین کلر کا اور گولڈن کلر کا کڑھائی اور نگینوں کا کام تھا ساتھ شرارے پر گولڈن کلر کے ہاتھ کی کڑھائی سے بارک پھول بنے تھے جس کے دامن اور شرارے کی لیس پر گرین کلر کا کام تھا اور گولڈن ہی نگ تھے.. برائیڈل میکپ کے ساتھ گولڈ کا سیٹ جس پر گرین اور ریڈ نگ تھے اور ساتھ ہی ناک میں نتھ اور بالوں کا اوپر سے پف اور باقی کے بال کرل کر کے آگے کیے ہوئے تھے مہندی سے سجے ہاتھوں میں چوریاں اور ریڈ کلر کی چندری جو مسکان کے چہرے کو ڈھانپے ہوئے تھی… وہ مکمل دلہن کے روپ میں سجی سجائی برائیڈل روم میں بیٹھی تھی جہاں اس کا ایک بار پھر نکاح ہونا تھا سب کی رضامندی سے اور خاص کر اپنے دل کی رضا مندی سے جو صرف عمر کے لیے دھڑکتا تھا اب وہ دل کی اتھل پتھل سانسوں کو ہموار کرنے کی کوششوں میں تھی تبھی بارات آنے کا شور مچ گیا اور اس کے ہاتھوں پر پسینے سے پھوٹ پڑے ۔۔
عریشہ نے گولڈن کلر کا پلازو اور پنک کلر کی شارٹ شرٹ پہنی ہوئی تھی اور ساتھ ہی لائٹ گولڈن دوپٹہ جس پر پنک کلر کی خوبصورت سی بیل لگی ہوئی تھی.. کانوں میں گولڈ کی بالیاں جس پر باریک پنک کلر کے نگ لگے ہوئے تھے لائٹ سا میک اپ اور ایک طرف دوپٹہ اور دوسری طرف بالوں کو کرل کیے وہ کسی پری سے کم نہیں لگ رہی تھی اسد کو وہ بارات کے ساتھ سہج سہج کر قدم اٹھاتی ہوئی اندر آرہی تھی جب اس کو اپنے اوپر کسی کی نظروں کو احساس ہوا تو سامنے دیکھنے پر اسے اسد نظر آیا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا.. أسد مہرون رنگ کا کرتا جس کے گلے پر گولڈن دھاگے کی کڑھائی کی ہوئی تھی ساتھ سفید شلوار اور جیل سے بال سیٹ کیے ہوئے تھے.. ایک ہاتھ میں برینڈڈ گھڑی پہنی تھی جس کا گولڈن ڈائل دور سے ہی چمک رہا تھا. وہ کسی ریاست کا مغرور شہزادہ لگ رہا تھا.
_______
سفیان صاحب اور حماد کے ساتھ عمر سٹیج کی طرف چلا آرہا تھا جس نے گولڈن کلر کی شیروانی جس پر ریڈ کلر کی کڑھائی کی پٹی تھی اور ریڈ کلر کا سر پر کلہ اور ہاتھ میں برانڈڈ گھڑی تھی. مغرور چال چلتا اپنی دلہن کو لینے آیا تھا. چہرے سے مسکراہٹ جدا نہیں ہورہی تھی۔۔
عریشہ اور علشبہ دونوں سٹیج پر کھڑی تھیں.. عریشہ کی نظر اپنے برابر میں کھڑی علشبہ پر پڑی جو غصے سے سامنے دیکھ رہی تھی.. عریشہ نے اس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا تو وہاں شاہ میر کسی لڑکی سے باتیں کر رہا تھا جو مہک تھی ۔۔۔
آپی یہ لڑکی کون ہے جو جیجو کے ساتھ کھڑی باتیں کررہی ہے ؟عریشہ نے انجانے میں علشبہ سے پوچھا جو غصہ سے بھری کھڑی تھی۔۔۔
مجھے نہیں پتا جاؤ خود پوچھ لو اپنے جیجو سے.. وہ غصے سے کہتی پیر پٹختی وہاں سے چلی گئی۔پر عریشہ ابھی بھی وہیں دیکھ رہی تھی جہاں اب شاہ میر کے ساتھ اسد بھی تھا.. اسد جاوید صاحب کے کہنے پر شاہ میر کو بلانے آیا تھا شاہ میر کے جانے کے بعد اسد مہک سے اس کی خیریت معلوم کر رہا تھا جس پر مہک مسکرا کر اسے جواب دے رہی تھی.. عریشہ کا دل کیا اس کا منہ نوچ لے جو مسکرا مسکرا کر بتلا رہی تھی اسے مہک اسد کے ساتھ کھڑی بہت بری لگ رہی تھی اس کا بس نہیں چل رہا تھا وہ اس کا سر پھاڑ دے… وہ علشبہ تو تھی نہیں جو آرام سے چپ کر کے بیٹھ جاتی اس نے اپنے ہاتھ میں پکڑے جوس کے گلاس کو دیکھا اور مسکرا کر ان دونوں کی طرف بڑھ گئی۔
اف سو سوری ۔عریشہ نے جان بوجھ کر مہک کے ڈریس پر جوس گرا دیا تھا اور اب ہونٹوں پر مسکان سجائے اسے سوری کہہ رہی تھی ۔۔۔اسد خاموشی سے دونوں کو دیکھ رہا تھا.. وہ عریشہ کی مسکراہٹ سمجھنے سے قاصر تھا۔۔
کوئی بات نہیں میں ابھی آئی اسد ۔مہک دونوں کو کہتی وہاں سے چلی گئی۔۔ مہک کا اسد کے نام لینے پر عریشہ جی جان سے جل اٹھی ۔۔
تم یہاں کیا کر رہے ہو؟ وہ غصے سے بولی اسد سے۔۔ تو وہ اس کا بلا وجہ غصہ کرنا سمجھ نہیں پایا غصہ تو اسے کرنا چاہئیے تھا جو اپنی زندگی میں آگے بڑھ رہی تھی یہ سوچے بغیر کہ اس کا کیا ہوگا۔۔
کس کے خیالوں میں کھو گئے؟؟ وہ طنز کرتے ہوئے بولی آنکھوں سے صاف ناراضگی چھلک رہی تھی ۔۔
محبت مار ڈالے گی ابھی تم پھول جیسے ھو۰۰۰۰۰
تمہیں کیا اس سے میں کسی کے بھی خیالوں میں گم ہوں.. کسی سے بھی بات کروں تمہیں کیا جاؤ تم مناؤ اپنی خوشیاں آخر کو منگنی کی دلہن ہو یہاں کیا کر رہی ہو ۔۔وہ غصے سے بھرا اس کو سب یاد دلا رہا تھا تو عریشہ کی آنکھوں میں نمی آگئی جسے اسد نے اچھے سے دیکھا ابھی وہ آگے بڑھتی مہک پھر آگئی جس پر اسد اسے اور جلانے کیلئے اس سے اچھے سے باتیں کرنے لگا اور ہنسی مذاق بھی جس پر عریشہ کا غصہ ایک بار پھر عود آیا۔۔
آپ کو نظر نہیں آرہا تھا ہم بات کر رہے تھے آپ جائیں یہاں سے۔عریشہ مہک کو جھاڑتے ہوئے بد تمیزی سے بولی مہک عریشہ کی باتوں پر حیران رہ گئی کہ اس نے کیا کیا وہ اسد کو سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی ۔۔
ارے نہیں کوئی ضروری بات نہیں تھی اور ہاں آپ بات کرسکتی ہیں یہ بھی ہماری فیملی ممبر ہیں کہیں کیا کہنا ہے ۔۔وہ معصوم بنا اسے طیش دلا رہا تھا وہ اچھے سے سمجھ گیا تھا کہ عریشہ مہک کی وجہ سے ایسا کہہ رہی ہے اور اب تو اسے موقع مل گیا تھا جسے وہ اپنے ہاتھ سے بلکل جانے نہیں دینا چاہتا تھا۔۔
جی بولیں کیا بات ہے؟ وہ اس کے غصے کو ہوا دے رہا تھا ۔
کچھ نہیں کرو تم اپنی فیملی ممبر سے بات.. وہ اسد کے پیر پر اپنا ہیل والا پاؤ مارتی کہہ کر وہاں سے واک آؤٹ کر گئی۔۔ عریشہ کے اسد کے پاؤں پر مارنے پر وہ بلبلا اٹھا۔۔۔
قربان ہیں ہم تیرے ہر اک انداز پر
تجھ پر تو ہم اپنی جان نثار کرتے ہیں۔۔
ظالم حسینہ
وہ اپنا پاؤں پکڑے بولا اور ہنس دیا مہک بھی ان دونوں کو دیکھ سب سمجھ کر ہنس دی ۔۔
نکاح میں بڑی طاقت ہوتی ہے کیونکہ اس میں گواہوں سے زیادہ خدا کی رضامندی شامل ہوتی ہے.
عمر کو نکاح کیلئے بٹھا دیا گیا تھا اس کی دلی آمادگی اور گواہ اور بڑوں کے بیچ اس نے ایک بار پھر قبول ہے بول کر اپنی ساری خوشیاں غم اپنا ہر پل مسکان کے نام کر دیا تھا۔۔
مسکان نے بھی کپکپاتے ہاتھوں سے سائین کر کے عمر کو ایک بار پھر تسلیم کیا تھا پر اپنے ماں باپ بھائیوں کی موجودگی میں.. اس کی دھڑکنیں الگ ہی شور سا مچا رہی تھی اس کی آنکھوں سے کب آنسو بہنے لگے اسے خود نہیں پتا چلا تھا ۔۔۔
آپی علشبہ شاہ میر کے بیچ سب ٹھیک ہوا کہ نہیں ؟وہ دونوں سٹیج پر ہی کھڑی تھیں جب مہک کی نظر شاہ میر پر پڑی وہ وہاں کھڑا کسی سے باتیں کررہا تھا تو اچانک سے مہک رامین سے پوچھ بیٹھی۔۔
ہاں بس تھوڑا تھوڑا ہی تمہیں بتایا تو تھا ابھی بھی شاہ میر اپنے کمرے میں نہیں جاتا اس کا مطلب یہ ہی ہے کہ علشبہ نے شاہ میر کو معاف نہیں کیا… وہ خود سے ہی اندازہ لگاتے ہوئے بولی۔تبھی مہک کی نظر علشبہ پر پڑی جو ڈریسنگ روم کی طرف جارہی تھی ۔۔۔
آپی میں ابھی ائی۔
پر کہاں جارہی ہو؟
وہ آپی میں علشبہ سے بات کر کے آتی ہوں ۔وہ کمرے میں جاتی علشبہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی۔۔
پر مہک؟
آپی پلیز اب مجھے کر لینے دیں بات میں جب تک اس سے معافی نہیں مانگوں گی مجھے سکون نہیں ملے گا پلیز ۔وہ آس بھری نظروں سے رامین کو دیکھتے ہوئے بولی تو رامین نے ہاں میں سر ہلا کر جانے دیا ۔
جاری ہے
