Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari NovelR50755 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode21
No Download Link
753.9K
44
Rate this Novel
Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode01 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode02 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode03 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode04 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode05 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode06 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode07 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode08 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode09 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode10 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode11 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode12 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode13 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode14 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode15 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode16 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode17 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode19 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode20 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode18 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode21 (Watching)Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode22 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode23 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode24 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode25 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode26 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode27 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode28 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode29 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode30 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode31 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode32 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode33 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode34 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode35 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode36 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode37 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode38 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode39 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode40 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode41 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode42 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode43 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Last Episode
Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode21
Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode21
کیا بھائی آپ لوگ مجھے کیوں لے آئے اپنے ساتھ یہاں..؟؟ حماد جو گاڑی پارک کر کے ان کے پاس آیا تھا علشبہ نے اسے دیکھتے ہی پھر سے کہا اس کا بلکل دل نہیں تھا ان کے ساتھ آنے کا پر حماد لائبہ کے زور دینے پر اسے آنا پڑا..
(حماد آج انھیں باہر کھانا کھلانے ریسٹورنٹ لایا تھا)
کیا ہوگیا علشبہ ہم یہاں انجوائے کرنے آئے ہیں اور اب میں تمہارے منہ سے کچھ ناں سنو کب سے ایک ہی بات کی رٹ لگائی ہوئی ہے بہت بورنگ ہوگئی ہو تم ابھی عریشہ ہوتی تو کتنی خوش ہوتی. حماد کی جگہ لائبہ غصے سے بولی جو کافی دیر سے علشبہ کی نا نا سن رہی تھی۔۔۔
اچھا نا سوری اب نہیں بولوں گی اب اپنا موڈ تو خراب نہیں کرو. علشبہ لائبہ کا موڈ بگڑتے دیکھ بولی جس پر وہ مسکرا دی اور تینوں اندر چلے گئے ۔۔۔
گاڑی روک پیچھے بیٹھے سمیر نے انس سے کہا جو گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا اور آگے فرنٹ سیٹ پر شاہ میر بیٹھا ہوا تھا وہ تینوں صبح سے نکلے ہوئے تھے انس کے ماموں کی طرف جہاں سے انھیں علشبہ کے گھر کا پتا چل سکتا تھا ۔۔۔
کیا ہوا سمیر ؟
آرے بھائی مجھے بھوک لگی ہے اور وہ دیکھ سامنے ریسٹورنٹ یار صبح سے کچھ نہیں کھایا مجھ معصوم نے اور تم لوگ ہو کہ بےحس کچھ احساس ہی نہیں میرا.. سمیر نے برے برے منہ بناکر بیچارگی سے کہا۔۔
ارے تو ہم بھی تو صبح سے تیرے ساتھ ہی ہیں تو تو ایسے کہہ رہا ہے کہ جیسے ہم لوگ پارٹیاں اڑاتے پھر رہے ہیں. انس نے غصے سے سمیر سے کہا ۔۔
ارے یار سوری مجھے اپنی پریشانی میں احساس ہی نہیں ہوا ایسا کرو میں یہیں ہو تم لوگ جاکر کھا آؤ مجھے بھوک نہیں
شاہ میر نے دونوں کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔
نہیں جائیں گے تو تینوں ساتھ ورنہ ہم بھی نہیں جارہے. سمیر برے برے منہ بنا کر بیچارگی سے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر بولا وہ جانتا تھا شاہ میر اپنی پریشانی میں خود سے کچھ کھانے سے رہا۔۔
چلو ڈرامے باز.. شاہ میر سمیر کو دیکھ کر مسکرا کر بولا تبھی اس کا موبائل رنگ کرنے لگا۔۔۔
ماما کی کال ہے تم دونوں اندر جاؤ میں بات کر کے آیا. وہ موبائل کو دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔
یہ کیا ہوگیا ہے آج کیوں اتنی بیچینی لگی ہوئی ہے نیند ہے کہ آکر ہی نہیں دے رہی اور ایک یہ موصوف ہیں کتنے مزے سے سورہا ہے عمر لیٹے سے اب بیٹھ کر علی کو دیکھتا ہوا بولا جو مزے سے بے خبر سورہا تھا۔۔۔
مجھے اس لڑکی نے پاگل کردیا ہے بلکل جب تک اس سے بات نہیں کر لیتا مجھے نیند نہیں آنی ایک تو اس کا نمبر بھی نہیں میرے پاس.. عمر اپنے موبائل کو ہاتھ میں لیکر بڑبڑاتے ہوئے بولا۔۔۔
تو اس میں مشکل کیا ہے عمر بیٹا سامنے ہی کمرے میں ہے جا اور لے آ.. عمر کے دل نے جواب دیا تو وہ اٹھ کر ٹراؤزر کی پاکٹ میں موبائل ڈال کر سامنے کمرے کی طرف نکل پڑا۔۔۔
عمر کا نصیب اچھا تھا دروازے میں لوک نہیں لگا تھا اس کے ہاتھ کے دباؤ دیتے ہی دروازا کھلتا چلا گیا۔۔
(ویٹر کھانا دے کر دروازے کو بند کر کے چلا گیا تھا وہ دونوں کھانا کھا کر کافی دیر تک ایک دوسرے سے باتیں کرتی رہیں. انہیں لگا دروازہ لاک ہے پھر نیند آنے پر علینہ سوگئی پر مسکان کی سوچیں عمر کی طرف چلی گئی کب وہ عمر کو سوچتے سوچتے نیند کی وادی میں گئی اسے پتا ہی نہیں چلا)
کھڑکی سے چاند کی مدھم روشنی اس کے چہرے پر پڑ رہی تھی سامنے ہی اسے وہ دشمن جاں نظر آگئی تھی جو سوتی ہوئی بہت معصوم اور پیاری لگ رہی تھی. سوتے ہوئے بھی اس کے چہرے پر ایک الگ ہی مسکراہٹ تھی جو عمر کو اپنی جانب کھینچ رہی تھی ۔۔۔
عمر آہستہ آہستہ قدم بڑھاتے ہوئے اس کے پاس گٹھنوں کے بل بیٹھ گیا اب اس نے آہستہ سے مسکان کے چہرے پر آئے بال ہٹائے تو مسکان نے اپنے چہرے پر کسی کا لمس پاکر جھٹ سے آنکھیں کھول دیں ابھی وہ چیخنے ہی لگی تھی کہ عمر نے اس کے منہ پر اپنا ہاتھ رکھ کر اسے چپ کرا دیا ۔۔
شش اب وہ اس کے چہرے پر جھکا اسے چپ رہنے کو بول رہا تھا جو اسے پھٹی پھٹی نظروں سے دیکھ رہی تھی. عمر کے ہاتھ ہٹانے پر وہ جھٹ سے اٹھ کر بیٹھ گئی اور برابر میں علینہ کو دیکھنے لگی جو بے خبر سورہی تھی۔۔
آپ یہاں کیا کر رہے ہیں ؟وہ عمر کا ہاتھ پکڑ کر بیڈ سے تھوڑا دور لے جاتے ہوئے آہستہ سے بولی۔۔
کیا کر رہا ہوں کیا اپنی بیوی سے ملنے آیا ہوں. وہ بچوں کی طرح منہ بگاڑتے ہوئے بولا جس پر مسکان کو ہنسی آگئی ۔۔۔
کیا یار مسکان اتنی رات گئے کیوں ہنس رہی ہو سو جاؤ. علینہ کروٹ لیے سورہی تھی مسکان کے ہنسنے کی وجہ سے اس کی آنکھ کھل گئی. وہ پیچھے مڑے بغیر ہی بولی جس پر اس نے عمر کو واشروم کے دروازے کی طرف دھکیل دیا کہ علینہ اسے دیکھ نا سکے۔۔۔
ہاں تم سوجاؤ میں ابھی آئی ۔اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو مسکان واشروم کی طرف جارہی تھی وہ ہاں میں سر ہلا کر دوبارہ سوگئی۔۔۔
بچ گئے آپ کو تکلیف کیا تھی یہاں آنے کی. وہ اندر آکر عمر سے برہمی سے بولی جو دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے مزے سے کھڑا مسکرا رہا تھا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔۔۔
آپ ہنس رہے ہیں پلیز جائیں یہاں سے علینہ نے دیکھ لیا تو… وہ بار بار باہر کی طرف دیکھتے ہوئے آہستہ آواز میں بول رہی تھی۔۔
عمر نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے دیوار کے ساتھ لگا دیا ۔۔۔
شش کتنا بولتی ہو اور دیکھتی ہے تو دیکھنے دو مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا بیوی ہو تم میری. عمر نے آہستہ سے اس کے قریب ہوکر کہا وہ پھٹی پھٹی نظروں سے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔
ارے یار صرف تمھیں دیکھنے آیا تھا میری ساری نیندیں تو تم نے اڑا لی اور خود بے خبر سورہی تھی. وہ اس کے گال پر ہاتھ رکھتے ہوئے ایک جزب کے عالم میں بولا اور اس کے چہرے پر جھکنے لگا تبھی مسکان نے اسے اپنے سے دور جھٹکا دے کر پیچھے کیا اور گھبرا گئی دل الگ زور زور سے دھڑک رہا تھا ۔۔۔
سوری وہ میں ۔۔
جائیں آپ یہاں سےمم مسکان خفگی سے اسے دیکھے بغیر بولی ۔۔۔
ارے یار سوری پتا نہیں کیا ہوگیا تھا مجھےمم وہ اس کو دیکھ کر شرمندہ ہوتے ہوئے بولا۔
اچھا سنو وہ ایک بار پھر اس کے پاس آیا. تو وہ گھبرا کر دیوار سے جا لگی
ارے گھبراؤ تو نہیں میں جارہا ہوں پر مجھے تم سے کچھ چاہیئے. وہ اس کو گھبراتے ہوئے دیکھ کر پیچھے ہوتے ہوئے بولا تو وہ اسے گھورنے لگی۔۔
ارے یار ایسے تو نا گھورو بس نمبر چاہئیے تمہارا.. وہ اپنا کان کھجاتے ہوئے اسے دیکھ کر بولا جس کے چہرے پر صاف لکھا تھا کے وہ اسے اپنا نمبر بلکل نہیں دے گی ۔۔۔
تو ٹھیک ہے میں بھی یہاں سے کہیں نہیں جانے والا اور نا تمہیں جانے دونگا. وہ اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے بولا ۔۔۔
نہیں میں دیتی ہوں پر پھر آپ جائیں یہاں سے پلیز. وہ گھبرا کر کہتی اس کو نمبر نوٹ کروانے لگی ۔۔۔
وہ عمر کو چھوڑنے اس کے پیچھے پیچھے آئی پر اچانک عمر اس کی طرف مڑا تو وہ اس سے ٹکرانے سے بچی عمر نے ایک ہاتھ سے اس کے منہ پر آئے بال پیچھے کیے اور اس کے ماتھے پر بوسہ دیا اپنا خیال رکھنا اور ہاں اب تم میری ہو اس کا بھی بخوبی خیال رکھنا.. وہ مسکرا کر کہتا ہوا اس کا گال تھپتھپا کر چلا گیا۔۔
وہ کتنی دیر ہی بے یقین سی وہاں کھڑی رہی اور پھر علینہ کے برابر میں آکر لیٹ گئی اب تو اس کی نیند بھی عمر اڑا لے گیا تھا۔۔

گـآپ کے دل میں قید ہیں سانسیں ہماری
دھڑکتے رہا کرو ورنہ مر جائیں گے ہم
ارے شاہ میر کیسے ہو ؟مہک نے شاہ میر سے پوچھا جو ریسٹورنٹ کے اندر آیا تھا۔ٹھیک ہوں تم بتاؤ کیسی ہو اور یہاں؟شاہ میر نے جواب یتے کے ساتھ ہی سوال بھی کر ڈالا۔۔
(اسے مہک کا یہ نیا پہناوا اچھا لگا تھا جس نے آج تک دوپٹہ نہیں لیا آج وہ پنک کلر کی لمبی قمیض اور چوڑی دار پاجامہ پہنے ہوئے تھی اور ساتھ میچنگ کا دوپٹہ لیے وہ پہلے والی مہک کہیں سے بھی نہیں لگ رہی تھی )
ہاں وہ اپنی دوستوں کے ساتھ آئی تھی. اس نے ایک ٹیبل کی طرف اشارہ کر کے کہا۔۔۔
علشبہ جو لائبہ اور حماد کے ساتھ کھانا کھا رہی تھی سامنے شاہ میر کو کھڑے دیکھ کر حیران رہ گئی ابھی وہ صحیح سے ریئکٹ بھی نا کر پائی کہ شاہ میر کے ساتھ مہک کو کھڑے دیکھا جو شاہ میر کے ہاتھوں پر اپنا ہاتھ رکھے کچھ کہہ رہی تھی اور شاہ میر ہلکا سا مسکرایا تھا اس کی بات پر. علشبہ کا یہ منظر دیکھ آنکھوں میں نمکین پانی جمع ہونے لگا تو کھانا چھوڑ کر کھڑی ہوگئی۔۔۔
کیا ہوا علشبہ ؟؟
وہ بھائی میرا دل گھبرا رہا ہے یہاں پر آپ لوگ کھائیں میں باہر ہوں. علشبہ روہانسی ہو کر اتنا ہی بولی۔۔
تو میں بھی چلتی ہوں تمہارے ساتھ.. لائبہ علشبہ کی حالت دیکھتے ہوئے بولی۔۔
نہیں پلیز تم کھانا کھاؤ لائبہ میں باہر ہی ہوں. وہ اپنے آنسو اپنے اندر اتارتے ہوئے بولی وہ نہیں چاہتی تھی کہ وہ ان کے سامنے اپنا ضبط کھو بیٹھے اس کی نظر بار بار شاہ میر پر جارہی تھی جو اب مہک سے کچھ کہہ رہا تھا ۔۔۔
پر علشبہ؟
لائبہ پلیز میں کوئی چھوٹی بچی نہیں ہوں جو کھو جاؤں گی. وہ تھوڑا برہمی سے بولی۔۔
اچھا جاؤ علشبہ اور یہ لو گاڑی کی چابی چاہو تو بیٹھ جانا ہم آرہے ہیں. حماد اس کی حالت دیکھتے ہوئے بولا تو علشبہ دوسری طرف سے ہوکر نکل گئی۔۔۔
پر حماد آپ نے۔۔
لائبہ کچھ نہیں جانے دو وہ اکیلے رہنا چاہتی ہے اب تم جلدی سے کھاؤ پھر چلتے ہیں ۔۔
اچھا ٹھیک ہے پر علشبہ کیلئے بھی کچھ پیک کروا لیجیے گا کچھ بھی نہیں کھایا اس نے. وہ علشبہ کو جاتے ہوئے دیکھتے مایوسی سے بولی اسے اپنی دوست کی ایسی حالت بہت دکھ دے رہی تھی ۔۔۔
حماد اس کی علشبہ کو لیکر فکر اور پیار کو دیکھ کر مسکرا دیا اسے ایسی ہی تو ہمسفر چاہئیے تھی جو اس کو اور اس کے گھر والوں کو اچھے سے سمجھے. حماد نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا تو وہ بھی اس کے تسلی دینے والے انداز کو دیکھ کر مسکرا دی ۔۔
مہک شاہ میر کے ہاتھ کو تھام کر اس سے ایک بار پھر معافی مانگ رہی تھی اور ساتھ ساتھ اس کا شکریہ بھی ادا کر رہی ته. ی شاہ میر نے اسے سمجھا کر رخصت کیا اور انس سمیر کی طرف بڑھنے لگا پر تبھی اسے باہر نکلتی ہوئی علشبہ دکھی۔۔۔
سفیان سفیان؟؟ کیا ہوا آپ کو؟؟ آنکھیں کھولیں آپ… عریشہ عریشہ؟ امرین بیگم سفیان صاحب کی بگڑتی ہوئی حالت دیکھ کر چیخ کر عریشہ کو بلانے لگی۔۔
کیا ہوا امی ؟ابو آپ ٹھیک تو ہیں آنکھیں کھولیں پلیز.. عریشہ امرین بیگم کی آواز پر گھبراتے ہوئے کمرے میں آئی اور سفیان صاحب کی حالت دیکھ کر پریشان ہو گئی جو تکلیف کے باعث پسینے سے شرابور تھے اور بیہوش ہو گئے تھے۔۔۔
امی میں بھائی کو کال کرتی ہو آپ پریشان نا ہوں ابو کو کچھ نہیں ہوگا.. عریشہ امرین بیگم کو حوصلہ دیتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بھاگی ۔
________
جاتے ہوئے جی بھر کے اُنہیں دیکھ تو لوں میں
اے آنکھ! ٹھہر تجھ کو تو رونے کی پڑی ہے
علشبہ دھندلائی آنکھوں سے گاڑی کی طرف بڑھ رہی تھی. تبھی پیچھے سے اس کا کسی نے ہاتھ پکڑ لیا علشبہ پیچھے مڑی تو اپنے سامنے شاہ میر کو دیکھ کر دنگ رہ گئی جو اس کا ہاتھ تھامے اسے ہی دیکھ رہا تھا جو نقاب کیے بلکل پہلے کی طرح لگ رہی تھی بس فرق صرف اتنا تھا کہ وہ اپنی حالت کی وجہ سے تھوڑی بھر گئی تھی جس پر شاہ میر اسے دیکھ کر مسکرا دیا اب وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا جو آنسوؤں سے بھری شکوہ کر رہی تھیں۔۔۔
ہاتھ چھوڑیں میرا. علشبہ برہمی سے بولی اسے مہک کا شاہ میر کا ہاتھ پکڑنا نہیں بھول رہا تھا۔۔۔
نہیں چھوڑوں گا پہلے ایک بار میری بات سن لو. وہ رعب سے بولا اور قدم بڑھا کر اس کے قریب کھڑا ہوگیا۔۔۔
علشبہ کو اس کا یہ انداز دیکھ کر اور غصہ آگیا وہ ہر بار ایسے ہی تو کرتا آیا تھا صرف اپنی کرنے والا ۔۔
میں نے کہا میرا ہاتھ چھوڑیں اور پیچھے ہٹیں. علشبہ اپنا ہاتھ چھڑواتے ہوئے کہنے لگی اور دوسرے ہاتھ سے شاہ میر کو پیچھے کیا پر وہ کسی خاطر پیچھے ہونے کو نہ تھا کے کہیں وہ پھر سے اس سے دور نا چلی جائے ۔۔۔
کیا ہوا بیٹا کیوں بچی کو تنگ کر رہے ہو. ایک درمیانے عمر کے آدمی نے پیچھے سے شاہ میر کو آکر کہا.
جس پر شاہ میر ان کی طرف متوجہ ہوگیا اور علشبہ اپنا ہاتھ چھڑوا کر وہاں سے گاڑی میں جاکر نیچے کو ہوکر بیٹھ گئی کہ شاہ میر اسے دیکھ ناں سکے۔۔۔
شاہ میر کو جب احساس ہوا کہ علشبہ وہاں سے غائب ہے وہ اسے پاگلوں کی طرح ڈھونڈنے لگا پر وہ تھی کہ مل کر ہی نہیں دے رہی تھی ۔۔۔
کہاں جاسکتی ہے. ابھی تو یہیں تھی میں اس کے اتنے قریب آکر اب پھر سے دوررر نہیں نہیں.. وہ اپنے آپ سے بڑبڑاتے ہوئے پریشانی سے بولا ۔۔۔
بھائی آپ ؟؟ لائبہ نے شاہ میر کو دیکھ کر کہا۔۔۔
(حماد نے لائبہ کو علشبہ کے پاس جانے کو کہا اور خود کھانا پیک کروانے چل دیا علشبہ کیلئے )
شاہ میر کسی کی آواز پر اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے پیچھے کو مڑا۔۔
کیسے ہیں بھائی آپ پہچانا آپ نے مجھے؟؟ وہ جوش سے بولی تو شاہ میر نے اس کا انداز دیکھ کر ہاں میں سر ہلایا تبھی پیچھے سے حماد آگیا لائبہ کے پاس۔۔۔
بھائی ان سے ملیں یہ میرے شوہر اور حماد میں نے آپ کو بتایا تھا نہ کہ اس بدتمیز لڑکے سے جس نے مجھے بچایا.. وہ بولتے ہوئے اٹکی تو حماد سمجھ کر خوش ہوتے ہوئے شاہ میر سے ہاتھ ملانے لگا اور اس کا شکریہ ادا کیا جس پر شاہ میر بھی خوش دلی سے ملا۔۔
شکریہ نہ کریں یہ ایک بھائی کا فرض تھا. شاہ میر نے لائبہ کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا جس پر وہ دونوں بھی مسکرا دیے اور ملنے کا کہہ کر چلے گئے۔
تو کیوں اپنے آنسو ضائع کر رہی ہے علشبہ. جب اس شخص کو تیری کوئی پرواہ نہیں وہ اپنی زندگی میں بہت خوش اور مگن ہے تو تو کیوں اپنا دل جلا رہی ہے اب مجھے کوئی بات نہیں سننی ان کی. دیکھ لیا میں نے سب اپنی آنکھوں سے نہیں بہلانا اپنے دل کو اب میرا کوئی واسطہ نہیں ان سے بس میرا بچہ اور میں. علشبہ گاڑی میں بیٹھی اپنے آپ کو رونے سے بعض رکھتے آنسو صاف کر کے ایک امید سے خود سے بولی ۔۔۔
کیا ہوا شاہ میر یار کب سے تیرا اندر ویٹ کررہے ہیں.. سمیر انس کے ساتھ باہر آکر شاہ میر سے بولا جو ابھی بھی یہاں وہاں نظریں دوڑا رہا تھا ۔۔
کیا ہوا بھائی کسے ڈھونڈ رہا ہے کہی بھابھی تو نہیں مل گئیں؟؟ سمیر نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا جس پر وہ اسے مایوسی سے دیکھنے لگا ۔۔۔
مطلب یہ سچ ہے؟ شاہ میر کے دیکھنے پر سمیر نے اس سے تائید چاہی جس پر اس نے ہاں کہا۔۔
کیا کہاں ہیں وہ؟؟؟ بتا یار!! آنس نے خوش ہوتے ہوئے پوچھا۔۔ وہ چلی گئی وہ مجھ سے کوئی بات ہی نہیں کرنا چاہتی. شاہ میر غمگین لہجے میں بولا۔۔
اچھا چل کوئی بات نہیں ان کا حق بنتا ہے تجھ سے ناراض ہونے کا پر مجھے پتا ہے تو انھیں منا لے گا اب چل ہم ان کے گھر چلتے ہیں. ہمیں ویسے بھی ان کا اڈریس مل تو گیا ہے بس اب ان کے ہاتھ کا ہی کھانا کھائیں گے. انس اسے حوصلہ دیتے ہوئے بولا۔۔
سچ میں وہ مان جائے گی کیا؟ وہ بے یقین سا بولا وہ اب تک علشبہ کی آنکھیں نہیں بھولا تھا جس میں اس کو صاف بے اعتباری دکھی تھی اپنے لیے اور اس کا برہمی سے بولنا ۔۔
ہاں کیوں نہیں بھائی اور ویسے بھی ہم ہیں نا تیرے وکیل ان کو منانے کی پوری کوشش کریں گے اور انھیں منا کر ہی رہین گے. سمیر نے جواب دیتے ہوئے کہا۔۔۔
چل اب جلدی چل سب سے پہلے ان کے گھر چلتے ہیں اور اگر وہ غصے میں کچھ کہہ بھی دیں یا تھپڑ مار دیں تو چپ کر کے کھالیو ویسے بھی اب تو سب سیکھ جا بیوی کے سامنے چپ رہنے میں ہی بہتری ہوتی ہے.. وہ شاہ میر کو چھیڑتے ہوئے بولا۔
ہاں تجھے تو بڑی پریکٹس ہے. شاہ تو اس کی بکواس ناں سن اور چل اب. انس نے جواب دیتے ہوئے پہلے سمیر کو کہا اور پھر شاہ میر کو۔۔
سنیں سر ؟؟ ایک ویٹر شاہ میر کو روکتے ہوئے بولا ۔۔
سر وہ جو کپل آپ سے بات کر رہے تھے آپ انھیں جانتے ہیں. وہ شاہ میر سے بولا ۔۔۔
ہاں جانتا ہوں پر کیوں؟ شاہ میر نے جواب دیتے ہوئے سوال کیا۔۔
سر وہ میڈم اپنا پرس بھول گئیں آپ سے بات کرتے ہوئے دیکھا تھا انھیں تو آپ یہ ان کو دے دیں گے؟ وہ جواب دیتے ہوئے اس کی طرف پرس بڑھانے لگا جس پر شاہ میر نے اس سے لے لیا۔۔۔
کیا شاہ یہ کس کی بات کر رہا تھا؟؟ سمیر نے پوچھا تو شاہ میر نے اسے سب بتا دیا۔۔
تو تجھے ان کا گھر پتا ہے شاہ ؟ انس نے پوچھا۔
ہاں میں نے گھر چھوڑا تھا ناں تب دیکھ لیا تھا. شاہ میر نے جواب دیا اب چلو بھی ویسے ہی تمہاری بھابھی بہت ناراض ہیں اب بس اللہ ہی بچائے اس کے غصے سے.. وہ اس کا انداز یاد کرتے ہوئے بولا جس پر وہ لوگ مسکرا کر چل دیے ۔۔
جاری ہے
