Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari NovelR50755 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode27
No Download Link
753.9K
44
Rate this Novel
Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode01 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode02 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode03 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode04 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode05 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode06 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode07 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode08 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode09 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode10 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode11 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode12 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode13 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode14 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode15 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode16 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode17 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode19 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode20 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode18 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode21 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode22 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode23 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode24 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode25 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode26 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode27 (Watching)Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode28 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode29 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode30 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode31 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode32 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode33 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode34 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode35 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode36 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode37 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode38 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode39 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode40 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode41 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode42 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode43 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Last Episode
Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode27
Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode27
یا اللہ یہ سب میری غلطیاں ہیں تجھے جو سزا دینی ہے مجھے دے دے پر علشبہ کو اور اس معصوم جان کو بچا لے ویسے ہی اسے میں نے بہت دکھ دیے ہیں. میری جان لے لے پر اسے اس کی زندگی واپس کردے.. وہ ویسے ہی کھڑا اپنی آنکھیں بند کیے اللہ سے دعا گو تھا۔۔۔
ثمینہ بیگم اور اسد اسپتال پہنچے تو آگے ہی امرین بیگم کھڑی رو رو کر دعا مانگ رہی تھیں.. ثمینہ بیگم ان کی طرف بڑھ گئیں اور اسد شاہ میر کی طرف جو ابھی بھی اسی پوزیشن میں دیوار سے ٹیک لگائے کھڑا تھا..
بھائی،اسد نے شاہ میر کے کندھے پر اپنا ہاتھ رکھا جو ذرا سی دیر میں ہی بے حال اور ٹوٹا ہوا نظر آرہا تھا ۔۔
شاہ میر اسد کو دیکھتے ہی اس کے گلے لگ گیا ۔۔
بھائی سنبھالیں اپنے آپ کو سب ٹھیک ہو جائے گا.. وہ اس کے کندھے پر ہاتھ کا دباؤ دیتے ہوئے بولا جس پر شاہ میر اس سے الگ ہوا اور لہو رنگ آنکھیں لیے اپنا ضبط آزمانے لگا اور ہاں میں سر ہلانے لگا تبھی ڈاکٹر باہر آئیں اور سب ان کی طرف بڑھے۔۔
مبارک ہو آپ کو اللہ نے رحمت سے نوازا ہے..ڈاکٹر خوشی سے شاہ میر کو دیکھتے ہوئے بولیں۔۔
شاہ میر کے چہرے پر خوشی کی لہر آئی پر اچانک علشبہ کا سوچ کر اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔۔
ڈاکٹر میری وائف.. شاہ میر کے پوچھتے ہی سب کے چہرے پر جو ایک خوشی کی رمق آئی تھی اس پر سایہ سا لہرایا اور سب ڈاکٹر کو منتظر نگاہوں سے دیکھنے لگے۔۔۔
آپ کی وائف بھی ٹھیک ہیں پر..
پر کیا ڈاکٹر…عمر نے آگے بڑھ کر پوچھا۔۔
ارے پریشانی کی بات نہیں ہے ماں اور بچی دونوں تھوڑے کمزور ہیں تو بس آپ لوگوں کو ان کا اچھے سے خیال رکھنا ہوگا.. وہ ان کے چہروں کو دیکھتے ہوئے تسلی والے انداز میں بولی۔۔
میں مل سکتی ہوں اپنی بچی سے.. امرین بیگم نے آنسو صاف کرتے ہوئے پوچھا۔۔
تھوڑی دیر میں انہیں کمرے میں شفٹ کر دیا جائے گا تب آپ لوگ مل سکتے ہیں.. پر اس سے پہلے آپ اپنی بیٹی سے مل لیں.. نرس جو بچی کو لیے باہر آئی تھی ڈاکٹر اس سے لیتی ہوئی شاہ میر کی طرف بڑھاتے ہوئے بولی ۔
شاہ میر نے ڈرتے ڈرتے گود میں لے لیا.. اور اسے دیکھنے لگا تو ایک آنسو نکل کر بچی کے گال پر گرا جسے شاہ میر نے آہستہ سے صاف کیا.. اور اس کے ماتھے پر بوسہ دیا اب وہ بچی کو پاس کھڑی امرین بیگم دینے لگا. کتنی پیاری اور پھول سے بچی تھی.. اسے ایسا محسوس ہورہا تھا کہ اسے دنیا بھر کی سب خوشیاں مل گئی ہوں..صرف اپنی بیٹی کو دیکھ کر وہ اللہ کے بعد علشبہ کا بہت مشکور تھا جس نے اسے اتنی بڑی خوشی دی وہ علشبہ سے ملنا چاہتا تھا پر ہمت نہیں کر پارہا تھا۔۔
کیا کہا آپ نے سچ میں علشبہ ٹھیک ہے اور اسے بیٹی ہوئی ہے.. لائبہ خوشی سے چہکتے ہوئے بولی۔۔
ہاں لائبہ اب علشبہ بلکل ٹھیک ہے ابھی اسے روم میں شفٹ کردیں گے تو سب اس سے مل سکتے ہیں.. اور میں ماموں بن گیا اتنی پیاری اور گڑیا سی ہے دل کرتا ہے اسے دیکھتے ہی جاؤں…حماد جواب دیتے ہوئے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے بولا۔۔
ہاں تو وہ اپنی خالہ پر جائے گی تو پیاری تو ہوگی نہ.. وہ ایک ادا سے بولی ۔۔۔
تم نے دیکھا نہیں تو تم کیسے کہہ سکتی ہو وہ عریشہ پر گئی ہے.. حماد نا سمجھی سے بولا۔
کیا حماد میں نے عریشہ کا تھوڑی اپنا کہا ہے.. علشبہ میری سہیلی اور بہن ہے تو میں ہوئی نہ اس کی خالہ اور سب سے زیادہ میں ہی اس کے ساتھ رہی ہوں.. کہتے ہیں ماں کے سامنے سب سے زیادہ جو ہو بچہ اسی پر جاتا ہے اسی لیے وہ مجھ پر گئی ہے.. وہ اس کی نا سمجھی پر سر پیٹتے ہوئے بولی تو حماد کھل کر ہنسا ۔۔
کیا ہے ہنس کیوں رہے ہیں ؟
کچھ نہیں وہ ایسے ہی.. وہ جلدی سے بوکھلا کر بولا کے کہیں ناراض ہی ناں ہو جائے ۔۔
اچھا سنو وہ پیار سے بولا۔۔
کیا ہے؟؟ .. وہ روٹھے ہوئے لہجے میں بولی۔۔
اب ایسے روٹھو گی تو یہاں رہنا مشکل ہو جائے گا.. وہ اپنے دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا تو لائبہ مسکرا دی۔۔
ہاں ہاں مسکرا لو اب.. وہ اس کو چھیڑتے ہوئے بولا۔۔
آپ کو کیسے پتا چل جاتا ہے سب..؟؟ وہ اب جھنجھلا کر بؤلی. ہر بار ایسا ہی ہوتا تھا لائبہ کے کچھ کہنے سے پہلے ہی حماد سب سمجھ جاتا تھا ۔۔۔
تم یہ سب چھوڑو اور یہ بتاؤ تم صرف خالہ ہو گڑیا کی؟ وہ اب اپنی بات پر زور دیتے ہوئے بولا۔۔
ہممم
سوچ کر بتاؤ نگی
وہ کھلکھلا کر بولی۔۔
ٹھیک ہے منسز حماد وہ میں آپ کو گھر آکر بتاؤنگا اور اب تو پکا انتظام کرنا ہی پڑے گا.. وہ زومعنی انداز میں بولا جو لائبہ کے سر کے اوپر سے گزری ۔۔
پکا انتظام؟ وہ ناسمجھی سے پوچھ بیٹھی۔۔
جی پکا انتظام گڑیا کیلئے.. وہ پھر ذومعنی انداز میں بولا تو وہ کنفیوز ہو گئی ۔۔
آرے گڑیا کو بھی تو بہن بھائی کی ضرورت ہوگی نا جو اس کے ساتھ کھیل سکے پر شرط یہ ہے اس ٹائم میں رہوں گا ہر وقت تمہارے سامنے تا کہ وہ مجھ پر جائے ۔۔
وہ کہتے جارہا تھا اور لائبہ کا منہ حیرت اور بے یقینی سے کھلے جارہا تھا اس نے پہلی بار حماد کو ایسے بولتے دیکھے تھا ۔۔
اب اپنا منہ تو بند کرلو.. اس کے کہتے ہی جھٹ سے لائبہ نے اپنا کھلا منہ بند کیا اور شرما کر جلدی سے کال کٹ کردی تو حماد جو اسپتال کے باہر کھڑا تھا قہقہہ لگا کر ہنس پڑا ۔۔۔۔
محبت استخارہ نہیں جو ہر کوئی کر لے
محبت الہام ہے جو کسی کسی کو ہوتا..
_______
علشبہ آنکھیں موندے لیٹی تھی جب سب اندر آئے. سب سے پہلے سفیان صاحب نے بڑھ کر علشبہ کے سر پر اپنا ہاتھ رکھا جس پر علشبہ نے وہ لمس پہچان کر جلدی سے آنکھیں کھولیں اور بھیگی آنکھوں سے سفیان صاحب کو دیکھنے لگی ۔۔
ابو..وہ اٹھنے ہی لگی تھی کہ سفیان صاحب نے اسے روک دیا اور خود اس کے پاس بیٹھ گئے اور اپنے ہاتھ اس کے آگے جوڑ دیے ۔۔۔
نہیں ابو ایسا نا کریں.. وہ ان کے دونوں ہاتھ تھام کر تڑپ کر بولی۔
مجھے معاف کردو علشبہ میں تمہارا گنہگار ہو میں نے اپنی انا اور عزت کی خاطر تمہیں بہت تکلیفیں پہنچائی ہیں بہت ظلم کیا ہے بیٹا اپنے باپ کو معاف۔۔۔
نہیں ابو یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ایسے نہ کہییں مجھے تکلیف ہورہی ہے میں آپ کو ایسے بلکل نہیں دیکھ سکتی اور آپ نے کچھ نہیں کیا میرے ساتھ.. میرے نصیب میں ایسا ہی ہونا لکھا تھا. وہ ان کی بات کاٹتے ہوئے بیچ میں بولی ۔۔۔
پر بیٹا تم پھر..
بس ابو اگر آپ نے آگے کچھ کہا تو میں آپ سے سچ میں ناراض ہو جاؤنگی ناں کریں پلیز.. وہ تکلیف کے باعث پھر بھی تھوڑا اٹھ کر انکے گلے لگ چکی تھی اور خوب رونے لگی جیسے اس کو اب سب کچھ اپنا مل گیا ہو اس کا کل سرمایہ… سب لوگ نم آنکھوں سے انھیں دیکھ رہے تھے پر وہ تھی کہ روئے جارہی تھی اور سفیان صاحب اس کی کمر سہلاتے ہوئے اسے پچکار رہے تھے جیسے وہ چھوٹی تھی تب کیا کرتے تھے ان کی بھی آنکھیں نم تھی اب سب کچھ ٹھیک ہوتا جارہا تھا ۔۔
ارے اپنی بچی سے بھی ملو گی یا اسی طرح روتی رہو گی امرین بیگم اسے روتے دیکھ بچی کو لیے اس کی طرف بڑھیں..تو وہ جھٹکے سے ان سے الگ ہوئی. امریں بیگم اس کی جلد بازی پر مسکرانے لگیں اور اسے بچی پکڑائی جس پر علشبہ کبھی اس کو دیکھ کر ہنستی تو کبھی آنکھیں نم ہوجاتیں. وہ خود اپنی کیفیات سمجھنے سے قاصر تھی وہ اس کے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں کو چومنے لگی اور ماتھے پر بوسہ دیا. سب یہ نظارہ کھڑے خوشی سے دیکھ رہے تھے۔۔
بھائی بہت بہت مبارک ہو .. علشبہ کی فیملی کے کمرے میں جانے کے بعد ثمینہ بیگم اور اسد شاہ میر کو مبارکباد دینے لگے. آج ثمینہ بیگم بھی بہت خوش تھیں انھیں ایک امید سی جاگی تھی کہ شاید اب سب کچھ ٹھیک ہو جائے. انھوں نے پیار سے شاہ میر کے ماتھے پر بوسہ دیا اور اس کی ہمت بندھائی کہ اب سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔۔
چلو اندر علشبہ سے مل لو..ثمینہ بیگم شاہ میر کو دیکھتے ہوئے بولیں۔۔
نہیں ماما آپ لوگ جاؤ..وہ چاہ کر بھی ہاں نا کرسکا اور انھیں منع کر دیا جس پر ثمینہ بیگم سمجھ کر اندر چلی گئیں اور ساتھ ساتھ اسد بھی تو شاہ میر بھی اپنے منہ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے شکرانے کے نوافل ادا کرنے چلے گیا۔۔۔
ثمینہ بیگم جیسے ہی اندر آئیں علشبہ کی نظر ان کی طرف اٹھی. تو وہ انھیں دیکھ کر مسکرانے لگی سفیان صاحب بھی دیکھ کر اٹھ کھڑے ہوئے ثمینہ بیگم نے علشبہ کے سر پر ہاتھ رکھ کر اس کا ماتھا چوما۔۔
کیسی ہے میری بیٹی ..وہ خوش دلی سے اس کے پاس بیٹھ کر بولیں۔۔
میں بلکل ٹھیک ہوں ماما آپ کیسی ہیں؟؟
مجھے کیسا ہونا ہے جب میری بیٹیاں ہی میرے پاس نہیں ہیں وہ مسکان کو بھی یاد کرتے ہوئے بولیں۔۔
کیا ماما آپ بھی بھابھی کو سینٹی کر رہی ہو ارے اپنی پوتی سےتو مل لیں پھر میری بھی باری آنی ہے کب سے اپنی پری سے ملنے کے انتظار میں ہوں۔۔اسد بری بری شکل بناتا ہوا بولا تو علشبہ نے سب سے پہلے اسے بلا کر بچی کو دیا۔۔
ماما دیکھیں تو کتنی پیاری ہے بلکل ڈول جیسی.. وہ ثمینہ بیگم کو دکھاتے ہوئے بولا۔
اسد ماشاءاللہ بولو. ثمینہ بیگم نے ٹوکا۔۔
ہاں ہاں ماشاءالله.. اسے پیار کر کے ثمینہ بیگم کو پکڑا دیا. جس پر ثمینہ بیگم نے اسے پیار کر کے اپنے گلے کی چین اتار کر بچی کے گلے میں ڈال دی۔۔
ماما. علشبہ نے کہنے کیلئے منہ کھولا ہی تھا کہ ثمنیہ بیگم نے روک دیا ۔۔
بلکل ایسا لگ رہا ہے میری مسکان میرے ہاتھ میں آگئی ہو پر گئی بلکل شاہ میر پر ہے بلکل اس کا بچپن ہے. وہ اپنی پوتی کو پیار سے دیکھتے ہوئے بولی تو علشبہ کے چہرے پر ایک رنگ آکر گیا جس کو اسد نے محسوس کیا پر جلد ہی اس نے خود کو سنمبھال لیا۔ پھر ثمینہ بیگم علشبہ کی طرف بچی کو بڑھا کر امرین بیگم کی طرف بڑھیں۔۔
امرین بہن ہمیں معاف کردیں ہم علشبہ کا بلکل خیال نہیں رکھ سکے بہت دکھ دیے اسے ہم نے میں آپ سے معافی چاہتی ہوں. وہ ان سے ہاتھ جوڑ کر بولیں ۔۔
نہیں ماما یہ آپ کیا کر رہی ہیں . علشبہ نے تڑپ کر کہا جب وہ اپنے باپ کے جڑے ہاتھ نہیں دیکھ سکتی تو ثمینہ بیگم نے تو پھر اس کو مشکل وقت میں سنبھالا تھا اس کی ماں بن کر پیار دیا تھا تو وہ کیسے نا تڑپتی۔۔
ارے نہیں بہن ایسے شرمندہ نا کریں مجھے پتا ہے آپ نے میری بچی کا خیال مجھ سے زیادہ رکھا ہے جب اس کو اس کی ماں کی سب سے زیادہ ضرورت تھی تو آپ تھیں اس کے ساتھ بس جو ہوا اسے قسمت کا لکھا سمجھ کر بھول جائیں.. امرین بیگم ان کے گلے لگتے ہوئے بولی اور ساری کڑواہٹ سب کچھ دور کردی اب سب نے سب کو کھلے دل سے اپنا لیا تھا بس علشبہ تھی جو شاہ میر کا سوچنا بھی نہیں چاہتی تھی اور سب نے اس پر فیصلہ چھوڑ دیا تھا کہ وہ کیا چاہتی ہیں وہ ہی ہوگا اب۔۔۔
ماما مسکان میرے ساتھ تھی .اچانک علشبہ نے بم پھوڑا تھا ثمینہ بیگم اور اسد پر۔۔
کیا بھابھی مسکان آپ کے پاس تھی .اسد نے بے یقینی سے پوچھا جس پر علشبہ نے ہاں میں سر ہلایا۔۔
اللہ کا شکر ہے.. ثمینہ بیگم لمبی سانس اندر کو کھینچتی ہوئی اوپر دیکھ کر بولیں۔۔وہ مسکان کے جانے کے بعد بہت ڈر گئی تھیں کہ وہ کہاں ہوگی کیسی ہوگی اور اس سے آگے وہ کچھ غلط سوچ نہیں سکتی تھیں پر اب ان کے دل کو تسلی ہوئی تھی علشبہ کے منہ سے سن کر ۔۔
اور کچھ دن میں اسے اپنے ساتھ رکھ لوں؟؟ وہ ان سے اجازت چاہ رہی تھی تاکہ ان کی پریشانی بھی دور ہو اور ان کو سب سچ بھی بتا سکے یا شاہ میر ہی بتا دے پر اسے یہ وقت اور جگہ ٹھیک نہیں لگی بتانے کیلئے اس لیے انھیں آدھا سچ بتا دیا جس سے وہ لوگ ریلیکس ہوسکیں مسکان کی طرف سے ۔۔
ہاں ہاں کیوں نہیں بیٹا پر اس سے کہنا اس کی ماں بہت شرمندہ ہے اپنے کہے پر .وہ مایوسی سے بولیں ۔۔۔
پر بیٹا اب تم بھی اپنے گھر آجاؤ وہ گھر تمہارے بنا نا مکمل ہے ..وہ اس کو دیکھتے ہوئے پیار سے بولیں۔۔
ماما میں اب آرام کرو گی مجھے نیند آرہی ہے.. وہ ان سے نظریں چراتے ہوئے بولی۔۔
ثمینہ بیگم سمجھ گئی تھیں کہ وہ اس بارے میں بات نہیں کرنا چاہتی تبھی اس کے سر پر ہاتھ رکھتی اسے اپنا خیال رکھنے کا بول کر چلی گئیں وہ اس کے ساتھ زبردستی نہیں کرنا چاہتی تھیں۔۔
سب لوگ گھر چلے گئے تھے صرف امرین بیگم تھیں جو علشبہ کے پاس رکی ہوئی تھیں. اس کے کمرے میں رکھے صوفے پر سورہی تھیں۔۔
ترس رہے ہیں بہت ملنے کو
کاش کہیں ملاقات ہو جائے
اک وہم سا کیوں لگ گیا دل کو
مل کر وہ، نہ کہیں کھو جائے
خوشیاں ملیں تو ڈر گیا یہ دل
قسمت اپنی نہ کہیں سو جائے
شاہ میر جو کب سے برداشت کیے ہوئے تھا اب اس کی بس ہوگئی تھی. وہ جانتا تھا علشبہ اس سے بہت ناراض ہے وہ چاہتا تھا وہ تھوڑی ٹھیک ہو جائے تو وہ اسے پھر سے منائے گا. پر اب اس کی ہمت جواب دے گئی تھی. وہ اسے ایک نظر دیکھنا چاہتا تھا اسی لیے رات کے آدھے پہر وہ ہاسپٹل میں اس کے کمرے کی طرف بڑھا اور آہستہ سے دروازہ کھول کر اندر آیا جہاں بیڈ پر وہ بے خبر سورہی تھی اور پاس ہی رکھے جھولے میں اس کی بیٹی تھی جسے دیکھ کر وہ اس کی طرف بڑھ گیا اور سوتی ہوئی بچی کو اپنا ہاتھوں میں لیا اور اسے چومنے لگا جس پر وہ کسمسا کر اٹھ گئی اور اسے دیکھنی لگی ۔۔
آپ کو پتا ہے آپ بلکل اپنی ماما پر نہیں گیی ہو. وہ اس کے قریب سرگوشی میں بولا جیسے وہ سب سن اور سمجھ رہی ہو تو وہ برے برے منہ بنانے لگی۔
ارے ماما پر نہیں اپنے پاپا پر گئی ہو آپ ہاں بس یہ ناک تھوڑی تھوڑی اپنی ماما پر ہے. وہ اس کے منہ کے زاویے دیکھتے اس کی ناک کو چھوتے ہوئے بولا جس پر وہ پہلی دفعہ مسکرائی تو شاہ میر بھی اسے دیکھ کر مسکرا کر ہنس دیا ۔
پاس لیٹی علشبہ کی آنکھ کھل گئی تھی. وہ جب سے شاہ میر کو بچی سے پیار اور باتیں کرتے دیکھ رہی تھی (وہ الگ بات تھی وہ جتنا آہستہ بول رہا تھا اسے کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا)۔اسے بہت برا لگ رہا تھا وہ جو سمجھ رہی تھی کہ شاہ میر اس کیلئے نہیں اپنی اولاد کیلئے آیا ہے اسے اپنی باتوں پر یقین آگیا تھا نا چاہتے ہوئے بھی وہ انھیں دیکھتی رو رہی تھی اسے اپنا آپ بلکل بے مول لگ رہا تھا۔۔
شاہ میر نے بچی کو آہستہ سے لٹایا اور اس کے ماتھے پر بوسا دے کر جھک کر بولا۔۔ آپ نے اپنی ماما کا بہت خیال رکھنا ہے جب تک وہ آپ کے پاپا سے ناراضگی ختم نہیں کرلیتیں پھر آپ دونوں کا خیال آپ کے پاپا رکھیں گے وہ منہ بناتا ہوا بولا تو بچی بھی برے برے منہ بنانے لگی جیسے سمجھ گئی ہو وہ اب جارہا تھا ۔۔
بچی کو جھولے میں ڈالتے ہی علشبہ نے جلدی سے اپنے آنسو پونچھے اور آنکھیں بند کر لیں کہ جیسے وہ بڑی گہری نیند میں ہو ۔۔۔
شاہ میر علشبہ کے قریب آیا اور اسے دل بھر کر دیکھنے لگا۔۔
(وہ الگ بات ہے اس کا دل کبھی بھرنا ہی نہیں تھا اسے دیکھ کر
اس نے اس کے ماتھے پر آہستہ سے بوسا دیا اس کا رنگ کتنا زرد پڑ گیا تھا وہ کچھ ہی وقت میں کتنی کمزور ہوگئی تھی شاہ میر کو ایک بار پھر اپنے آپ پر غصہ آیا کہ اس کی حالت کی وجہ وہ ہے وہ اس کو دیکھنے میں اتنا گم تھا کہ کمرے کے باہر کچھ گرنے کی آواز پر چونکا اور پھر علشبہ کا ایک ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور دوسرا اس کے گال پر رکھ کر سرگوشی والے انداز میں بولا۔
علشبہ تھینک یو میری زندگی مکمل کرنے کیلئے بس ایک بار معاف کردو سب ٹھیک کر دوں گا بس ایک بار پلیز وہ اتنے التجائیہ انداز میں بولا کہ علشبہ کا دل کر رہا تھا وہ اپنی آنکھیں کھول دے اور اسے جھنجوڑ کر بتائے کہ اب کچھ صحیح نہیں ہوسکتا وہ ایک بار پھر اس کی زندگی میں ان چاہی بن کر نہیں آسکتی نہیں گرا سکتی اب اپنے آپ کو پر پھر بھی برداشت کر کے لیٹی رہی تو شاہ میر اس کا ہاتھ چوم کر وہاں سے اٹھ کر چلا گیا۔۔۔
علشبہ حیرت سے دروازے کو دیکھ رہی تھی جہاں سے شاہ میر گیا تھا اور پھر اپنے ہاتھ کو تبھی بچی کے رونے پر امرین بیگم اٹھ گئیں انھوں نے اسے مخاطب کیا تو وہ ہوش میں آئی پر اس کا دماغ وہی شاہ میر میں اٹک کر رہ گیا تھا ۔۔
جاری ہے
