Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari NovelR50755 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode40
No Download Link
753.9K
44
Rate this Novel
Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode01 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode02 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode03 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode04 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode05 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode06 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode07 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode08 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode09 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode10 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode11 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode12 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode13 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode14 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode15 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode16 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode17 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode18 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode19 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode20 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode21 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode22 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode23 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode24 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode25 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode26 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode27 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode28 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode29 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode30 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode31 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode32 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode33 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode34 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode35 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode36 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode37 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode38 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode39 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode40 (Watching)Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode41 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode42 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode43 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Last Episode
Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode40
Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode40
ﺗﯿﺮﮮ ﺑﻐﯿﺮ ﺩﻝ ﮐﯽ ﮐﯿﺎ ﺣﺎﻟﺖ ﮬﮯ ﺗﻢ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﻧﻮ
ﻣﻞ ﮐﺮ ﺑﺘﺎئیں ﮔﮯ ﯾﮧ ﺩﻝ ﮐﺘﻨﺎ ﺗﮍﭘﺎ ﮬﮯ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﺭﮦ ﮐﮧ
اسد اس کے آنسو دیکھ کر اس کی طرف بڑھا۔۔
پاگل لڑکی اگر نکاح کے ٹائم اپنے کان اور آنکھیں کھول لیتی تو ایسا نہیں ہوتا وہ اس کے آنسو اپنے ہاتھوں سے چننے لگا۔۔۔تو وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔
مطلب کے جس کے نکاح میں بندھنے کی بات آپ کر رہی ہیں وہ آپ کا یہ ناچیز عاشق ہی ہے جسے آپ سے بیحد محبت ہے اور اب وہ اپنی بیوی پر پورا پورا حق رکھتا ہے.. وہ اس کے گال پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا تو وہ جھٹ سے اس کے گلے لگ گئی تھوڑی ہی دیر میں اسے اپنی بے اختیاری پر شرم سی آئی تو وہ اسد پر ہی برس پڑی اسے ایک بار پھر پیچھے کیا۔۔
تو کب سے اپنی چھچھوری حرکتیں شروع کی ہوئی تھیں بتا نہیں سکتے تھے نکل جاؤ مجھے تم سے کوئی بات ہی نہیں کرنی جاؤ یہاں سے. اس نے خفگی سے کہتے اسے کمرے سے باہر نکال دیا ۔۔
ہاں ہاں ٹھیک ہے یاد رکھنا اب میں بھی تمہیں چھوڑنے والا نہیں ہوں ۔وہ مسکراتے ہوئے اسے وارن کرنے لگا ۔۔
ہاں ہاں جاؤ بہت دیکھے ہیں تمہارے جیسے.. وہ ایک ادا سے بولی تو اسد اسے انگلی دکھاتے ہوئے جانے لگا ۔۔۔
پر ایک منٹ ۔وہ اس کی طرف پلٹتے ہوئے بولا۔۔۔
کیا ہے اب ؟
کچھ نہیں وہ تمہارے ماتھے پر.. وہ اس کے قریب آتے ہوئے بولا تو وہ ناسمجھی سے اپنا ماتھا چھونے لگی ۔۔۔
آہاں ایسے نہیں ایسے۔وہ اس کے ماتھے پہ بوسا دے کر بولا اور پلٹ کر آنکھ مار کر چلے گیا عریشہ حیرت سے اسے دیکھتی اپنے ماتھے پر ہاتھ رکھتی مسکرا کر اندر چلی گئی۔۔۔
بعد نکاح ماتھا چوم کر وہ کہنے لگے
کہا تھا نا آپ صرف میری ہیں صرف میری
علشبہ کو چھوڑ کر سب ینگ جنریشن اسٹیج پر کھڑے اسد عریشہ کو مبارکباد دے رہے تھے تو لائبہ نے گھبرا کر حماد کا بازو پکڑ لیا جو کسی کو نیچے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
لائبہ کیا ہوا؟؟
وہ حماد ۔۔لائبہ اسٹیج کے سامنے نیچے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ہکلا کر بولی۔شاہ میر جو ان دونوں کے پاس ہی کھڑا ہوا تھا نیچے کو دیکھا تو وہاں علشبہ کے تایا کے ساتھ سرفراز اور اس کا بھائی تھا جو ویل چیئر پر تھا ۔۔۔
ریلیکس لائبہ میں دیکھتا ہوں۔۔ شاہ میر نیچے کی طرف بڑھتے ہوئے بولا سب انھی کو دیکھ رہے تھے ۔۔
حماد یہ وہی جس نے میرے ساتھ۔۔لائبہ نے اٹکتے ہوئے کہا تو حماد سب سمجھ گیا اور اسے اپنے سے لگا کر حوصلہ دیا ۔۔۔
تایا نے سفیان صاحب کے پاس جاکر اپنے دونوں ہاتھ جوڑ دیے اور ندامت سے سر جھکا دیا۔۔۔
ارے بھائی یہ آپ کیا کر رہے ہیں ۔۔سفیان صاحب نے فوراً سے ان کے جڑے ہاتھوں کو تھاما ۔۔۔
مجھے معاف کردو سفیان میں نے بہت غلط کیا تمہارے ساتھ اور خاص طور پر علشبہ کے ساتھ ۔۔
نہیں بھائی ایسا نا کہیں اب سب ٹھیک ہوگیا ہے آپ اپنے آپ کو قصوروار نا کہیں یہ سب شاید ایسا ہی ہونا لکھا تھا۔۔وہ اداسی سے اپنا کیا سب یاد کرتے ہوئے کہنے لگے۔۔
نہیں سفیان یہ سب ایک چال تھی ہمارے گھر کی عزت کو پھنسایا تھا وہ ویڈیو جان بوجھ کر ایسے بنا کر دیکھائی گئی تھی کہ سب کو علشبہ اور شاہ میر قصوروار لگے اور وہ سب اس شخص نے کیا تھا۔۔تایا ایک ایک بات سرفراز کی وہاں سب کو بتاتے ہوئے بولے ۔۔
ہاں انکل میں آپ سب سے اپنے بھائی کے کیے کی معافی مانگتا ہوں آپ سب اس کو معاف کردیں پلیز اسے اللہ نے سزا دے دی ہے بہت تکلیف میں ہے میرا بھائی اس نے بے قصور پر تہمت لگوائی تھی اور آج آپ سب کے سامنے بولنے لائق نہیں رہا ہے ۔۔
سب لوگ سرفراز کو دیکھنے لگے جو ویل چیئر پر بیٹھا تھا اور گردن ایک طرف کو لڑکھی ہوئی تھی اور ساتھ ساتھ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔۔
سرفراز نشے میں دھت تھا جب اس کو ایک ٹرک نے ٹکر مار دی اور اندھیرے میں کچل دیا جس کی وجہ سے وہ ایک زندہ لاش بن کر رہ گیا تھا سب سن سکتا تھا پر چلنے پھرنے اور بولنے لائق نہیں رہا تھا سب اسے دیکھ کر حق دق تھے آج اللہ نے انصاف کیا تھا آج علشبہ اور شاہ میر اس الزام سے آزاد ہوئے تھے اچانک شاہ میر کی نظر علشبہ پر پڑی جو اسٹیج کے پاس کھڑی روتی ہوئی سب سن رہی تھی اس نے بہت سہا تھا چپ چاپ کسی سے کوئی شکوہ نا کیا تھا شاہ میر کو بھی اپنا نصیب سمجھ کر قبول کیا تھا بس اسے اپنے اللہ پر پورا یقین تھا کہ ایک نا ایک دن سب سچ سامنے ضرور آئے گا اور اس ذلت اور رسوائی سے اس کی جان چھوٹے گی پر اس طرح اس کے معصوم دل کو دکھ ہوا تھا سرفراز کا ایسا حال دیکھ کر۔سب ٹھیک تھے اس کے ساتھ پر ایک چھبن تھی دل میں جو آج جڑ سے ختم ہوگئی تھی۔۔
- کوئی تمھارا کردار اٹھا کر بیچ سڑک پر بھی لٹکا دے تو بھی یاد رکھو،
وَتُعِزُّ مَنٌ تَشَاء وَتُزِلُّ مَنٌ تَشَاء۔

اوہ اس لیے رات ہی رات میں سفیان صاحب نے بیٹی رخصت کر دی تھی اور تبھی اس کے شوہر نے علشبہ کو چھوڑا ہوگا باپ کے گھر جانے پر بھی اس نے اسے دھتکار دیا تھا اور گھر سے ہی نکال دیا تھا چلو اللہ نے کرم کیا بیچاری علشبہ پر اس کی اولاد کی وجہ سے شوہر نے بھی اپنا لیا ۔۔۔
ہال میں سب باتیں بنانے لگے تھے تبھی سفیان صاحب کی پڑوسن نے اپنے ساتھ کھڑی عورتوں کو کہا جو باخوبی سب نے سنا اور علشبہ کو دیکھا جس کا چہرہ فق ہوگیا تھا۔۔
بسس بہت ہوگیا چپ کر جائیں سب ۔۔شاہ میر کی دھاڑ سن کر سب چپ کر گئے تھے ۔۔
خبردار جو اب کسی نے میری بیوی کے خلاف کچھ بھی کہا تو اور آنٹی آپ کو شرم آنی چاہیئے آپ خود ایک عورت ہیں اور دوسری عورت کا درد نہیں سمجھ رہی ارے میں پوچھتا ہو اگر علشبہ کی جگہ آپ کی خود کی بیٹی ہوتی تب بھی اسی طرح باتیں بناتی آپ ہاں ۔۔شاہ میر نے غصے سے کہا۔۔
آرے اللہ نا کریں میری بچی کے ساتھ ایسا کچھ ہو۔وہ تڑپ کر اپنے دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی تو شاہ میر زخمی سی ہنسی ہنس دیا۔
پتا ہے ہمارا پرابلم کیا ہے جب تک ہم پر یا ہمارے اپنوں پر اسی طرح کی کوئی پریشانی نا ہو ہمارے سمجھ میں نہیں آتی ہم صرف باتیں بنا سکتے ہیں کے اس نے یہ کیا اس نے وہ کیا کبھی اپنے اندر نہیں جھانکتے کبھی یہ نہیں سوچتے کہ اس سامنے والے کے دل پر کیا گزر رہی ہے اور میں پوچھتا ہوں صرف لڑکی کو ہی کیوں قصور وار ٹہراتے ہیں ہاں کیوں اسے بے گھر کر دیتے ہیں کیوں اس بیچاری کے کردار پر انگلیاں اٹھاتے ہیں کیوں اس کی رضامندی کے بغیر اسے کسی کے ساتھ بھی چلتا کیا جاتا ہے کیا ہمارے مذہب میں لڑکیوں کی شادی پر ان کی رضامندی لینا ضروری نہیں؟؟؟ بتائیں مجھے کیوں صرف انھیں ہی درگور کیا جاتا ہے مرد کو تو پھر چار کی اجازت ہے پر اسے ہی کیوں پابند کر دیا جاتا ہے کیوں اس کے خونی رشتے اتنی آسانی سے اسے چھوڑ دیتے ہیں ہاں۔۔۔
وہ کہہ رہا تھا اور سب چپ چاپ سن رہے تھے کتنوں کے سر ندامت سے جھکے ہوئے تھے اور سب اپنے آپ کو کٹہرے میں کھڑا محسوس کر رہے تھے سب کو اپنی اپنی غلطیاں نظر آنے لگی تھی۔۔
شاہ میر علشبہ کی طرف بڑھا اور اسے کندھے سے پکڑ کر اپنے ساتھ لگا لیا علشبہ یک ٹک اسے دیکھ رہی تھی اور وہ سب کو۔۔۔
آپ لوگوں کو کس نے کہا میں نے اپنی بیوی کو چھوڑ دیا تھا اور یہ رشتہ میں زبردستی نبھا رہا ہوں یا اپنی اولاد کی وجہ سے میں آج آپ سب کے سامنے کہتا ہوں اگر علشبہ نہیں ہوتی تو شاید میں ادھورا رہتا تم نے آکر مجھے مکمل کیا ہے علشبہ اور کسی کو یقین ہو نا ہو مجھے تمہاری پاک دامنی پر شروع سے یقین تھا ہے اور رہے گا میں ہی تمہارا گواہ ہو جب تو ہم اس رشتے میں بھی نہیں بنے تھے تب بھی گواہ تھا اور اب بھی ہو تم جیسی محبت کرنے والی نصیبوں سے ملتی ہے اور میں بہت خوش ہو کے اللہ نے تمہارا نام میرے نام کے ساتھ جوڑ دیا میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں اور یہ محبت دن با دن بڑھ رہی ہے جو میرے مرنے کے بعد ہی ختم ہوگی ۔۔شاہ میر علشبہ کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا اور علشبہ بھی اس کی سحر زدہ آواز اپنے دل کے اندر اتار رہی تھی اس کا ہر ایک جملہ اس کی روح کو سکون بخش رہا تھا اسے لگا اب اس کی سزا ختم پر آخری بات پر تڑپ کر اس کے منہ پر ہاتھ رکھا تھا اور روتے ہوئے اس کے ساتھ لگ گئی تھی سب نے خوشی سے تالیاں بجائی تھی امرین بیگم ثمینہ بیگم سمیت کتنے اپنوں کی آنکھوں میں آج آنسو تھے پر خوشی کے اور دونوں کو دیکھ کر دل سے دعائیں دی تھیں ۔۔۔
وقت۔۔۔۔ہر وقت کو بدل دیتا ہے
بس ۔۔۔وقت کو تھوڑا وقت چاہئیے 
مجھے ماضی کے دریچوں میں جھانکنا اچھا لگتا ھے. کچھ مدھم ہوتے زخموں کو کرید کر ہلکا سا درد محسوس کرنا اچھا لگتا ھے کچھ پرانے لوگوں سے وابستہ آذیت ناک یادیں پھر سے دہرا کر آپنا ضبط آزمانا بھی اچھا لگتا ھے. اچھا لگتا ھے خود کو پرکھوں کہ آج وہ ماضی کے آذیت والے پل اب بھی ویسے ہیں یا انکی آذیت گزرتے سالوں نے کم کر دی ؟ مجھے یہ دیکھنا بھی اچھا لگتا ھے کہ وقت کس حد تک میرے زخموں پر مرہم رکھ رہا ھے .
لائبہ کی بھی ساری رسومات ادا کر کے اسے حماد کے کمرے میں پہنچا دیا تھا۔۔۔
لائبہ اپنا گھونگھٹ اٹھائے حماد اور اپنے مشترکہ کمرے کو دیکھنے لگی وہ پہلے بھی کتنی دفعہ اس کمرے میں آچکی تھی پر آج یہ اس کا خود کا کمرہ تھا اس کا بھی پورا حق تھا اس پر۔ وہ گلاب کے پھولوں سے سجے کمرے کو غور سے دیکھ رہی تھی اور بیڈ پر پڑے پھولوں کو ہاتھوں میں لیے ان کی خوشبو اپنے اندر اتار رہی تھی تبھی دروازے پر دستک ہوئی اور حماد اندر آیا لائبہ نے جلدی سے گھونگھٹ کرلیا پر ماتھے پر ننھے ننھے قطرے پسینے کے پھوٹ پڑے اور گھبراہٹ طاری ہونے لگی۔۔
حماد نے لائبہ کے سامنے بیٹھ کر اسے سلام کیا اور اس کا گھونگھٹ اٹھا دیا اب وہ اس کو یک ٹک دیکھے جارہا تھا لائبہ اس کی نظروں سے کنفیوز ہوتی سلام کا جواب زور سے دے کر کھڑی ہونے لگی پر کلائی حماد کے ہاتھ میں آچکی تھی حماد نے جھٹکے سے اسے واپس اپنے سامنے بیٹھا دیا اور اپنی پاکٹ سے بریسلیٹ نکال کر لائبہ کے ہاتھ میں پہنا دیا جس کی آنکھیں حیرت سے کھلی ہوئی تھیں۔۔
یہ تو وہی ہے نا جو اس دن شاپنگ مال میں۔۔وہ پیار بھری نظروں سے دیکھتی کہتے کہتے رکی۔۔
جی ہاں یہ وہی ہے جو تمہیں پسند آیا تھا پر میرے پوچھنے پر منع کر گئی تھی کہ زیادہ خاص نہیں۔۔وہ شادی کی شاپنگ کرنے گئے تھے تب لائبہ کی آنکھوں کو گولڈ کا بریسلیٹ جس پر باریک باریک سرخ رنگ کے نگ لگے ہوئے تھے بها گیا تھا پر مہنگا ہونے کی وجہ سے لائبہ نے دیکھتے ہی منع کر دیا تھا پر آج تک حماد سے کچھ چھپ پایا ہے جو اب چھپتا… لائبہ سے چھپ کر اسی وقت حماد نے یہ خرید لیا تھا اور اب اس کے ہاتھ کی زینت بنا دیا تھا جو لائبہ کے ہاتھ میں جاکر دلفریب لگ رہا تھا حماد نے اس کا ہاتھ چوم لیا تو لائبہ اپنے آپ میں سمٹنے لگی ۔۔۔
ہم نے ہاتھ پھیلا کر صرف عشق مانگا تھا
آپ نے تو ہاتھ چوم کر جان نکال دی__
حماد نے اس کے قریب ہوکر اس کے سر پر ٹکے دوپٹے کو پنوں سے آزاد کروایا اور ایک ایک کر کے اس کے زیور اتارے.. لائبہ نے اپنی آنکھیں شرم سے میچ رکھی تھیں حماد کے لمس پر اس کی دھڑکنیں منتشر ہورہی تھیں۔۔
حماد نے اس کی جیولری اتار کر اس کے ماتھے اور بند آنکھوں کا بوسہ لیا اور خود بھی کھڑا ہوا اور لائبہ کا ہاتھ پکڑ کر اسے بھی کھڑا کیا تو وہ لرزتی سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔
چلو آؤ شکرنے کے نوافل ادا کرتے ہیں لائبہ آج سب سے پہلے اس پاک پروردگار کا شکریہ ادا کرتے ہیں جس نے کسی بھی آزمائش میں ڈالے بغیر ہمیں ایک کیا مجھے میری محبت اور خوشیاں دی تم میری پہلی اور آخری خواہش تھی بچپن سے تمہیں چاہا ہے اور اپنے اللہ سے ہر دعا میں تمہیں مانگا ہے تم نے میری زندگی مکمل کردی ہے لائبہ۔۔
ترستى نظروں نے هر پل ديدار مانگا
جيسے آسمان نے هر رات چاند مانگا.
جل گيا سارا زمانہ هم سے.
جب هم نے هر دعا ميں تيرا ساتھ مانگا..
وہ اس کے ہاتھوں کو مضبوطی سے تھامے کہنے لگا۔۔تو لائبہ کی آنکھوں میں آنسوں جھلملانے لگے. آج تک اسے اتنی محبت کہاں ملی تھیں۔ وہ حماد کو دیکھتی اپنے اوپر فخر سا محسوس کرنے لگی تھی ۔۔۔
“ساگر جیسی گہری ہیں اور بهنور سی آنکهیں ہیں
سادہ سے اک چہرے پر کیا جادوگر سی آنکهیں ہیں”
وہ اس کی آنکھوں سے آنسوں چنتا شعر پڑھ گیا اور ایک بار پھر اپنے ہونٹ اس کی آنکھوں پر رکھ دیے پھر حماد کے دور ہٹنے پر لائبہ شرما کر اس کے سینے میں اپنا چہرہ چھپا گئی۔۔
یار ایسے کرو گی تو مجھے اپنا آپ سنمبھالنا مشکل ہو جائے گا.. حماد اسے اپنی پناہوں میں لیے سکون سے آنکھیں موندے کہنے لگا تو لائبہ جھٹ سے الگ ہوکر شرم سے لال ہوتی واشروم کی طرف بڑھنے لگی پر حماد نے ہاتھ پکڑ کر روک لیا۔۔۔
مجھے بھی اللہ کا شکر ادا کرنا ہے جس سے میں ہمیشہ شکوہ کرتی آئی ہو کہ میرے ہر اپنے کو ان کی محبتوں کو مجھ سے چھین لیا ۔میں غلط تھی ہمیں ہر حال میں اس کا شکر ادا کرنا چاہیئے جو اپنے بندوں کیلئے اس سے کئی گنا اچھا چاہتا ہے پر ہمیں اس کی رحمت کا اندازہ دیر سے ہوتا ہے مجھے آپ کے ساتھ جوڑ کر جہاں اتنے پیار کرنے والے رشتے ملے وہیں آپ جیسا سچا اچھا اور محبتوں سے گندھا شخص میری زندگی میں شامل کیا جو میرے بن کہے میری تکلیفیں میری خوشی ہر چیز سمجھ جاتے ہیں آپ جیسے شوہر پر مجھے فخر ہے اور میں بھی آپ سے بہت بہت محبت کرتی ہوں.. وہ آخر میں اظہار محبت کرتی شرما کر واشروم میں بھاگ گئی ۔۔
حماد تو اس کے سچے جذبات اس کی باتوں کے ساتھ اس کی آنکھوں میں بھی دیکھ رہا تھا پر اچانک سے اس کا اظہار محبت کرنا اسے بے یقین کر گیا تھا پر جب تک سمجھ آیا وہ اس کی دسترس سے باہر تھی۔۔
ہائے حماد تو تو گیا۔وہ مسکرا کر اپنے دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا۔۔۔
کیا سوچا جارہا ہے؟؟مسکان ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی اپنی چوڑیاں اتارتے رہی تھی پر دماغ کہیں اور تھا جب پیچھے سے عمر نے اسے دیکھ کر پوچھا۔۔۔
ہاں نہیں کچھ نہیں۔ وہ بوکھلاتے ہوئے پیچھے عمر کو دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔
ہممم اچھا جی پر مجھے کیوں ایسا لگ رہا ہے کہ آپ کا یہ چھوٹا سا دماغ کچھ سوچ رہا ہے تو کیا میرے بارے میں سوچا جارہا تھا۔۔وہ اس کے گردن میں اپنے دونوں ہاتھوں کو رکھتے ہوئے بولا۔۔
ہاں بڑی خوش فہمی ہے جناب کو ۔وہ اس کے ہاتھوں کو ہٹاتے ہوئے مسکرا کر ڈریسنگ ٹیبل کی طرف مڑتے ہوئے بولی۔۔۔
تو پھر بتادو نا ورنہ نہ ہی تمہیں یہاں سے ہلنے دونگا نا ہی خود ہٹونگا۔۔ وہ وارننگ دینے والے انداز میں بولا۔۔۔
ہمم پتا ہے سنے بغیر جان نہیں چھوڑو گے میری۔۔۔
وہ تو ویسے بھی نہیں چھوڑونگا جاناں۔۔وہ اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے بولا۔۔
ہاں ہاں بس پتا ہے مجھے ۔۔میں تو بھائی بھابھی کے بارے میں سوچ رہی تھی بس۔۔۔ وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اداسی سے بولی۔۔
آپی کے بارے میں؟؟
ہاں کتنا سہا ہے نا انھوں نے اپنے گھر والوں کو لے کر اپنے شوہر اور بچے کو لے کر کیا کچھ نہیں سننا پڑا انھیں بہت ہمت والی ہیں بھابھی میں ان کی جگہ ہوتی تو کب کی ہار مان چکی ہوتی۔۔کہتے کے ساتھ ہی اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔۔جس کو عمر نے بڑے پیار سے صاف کیا اور اپنے ساتھ لگا لیا مانتا تو وہ بھی تھا پر چاہ کر بھی وہ اپنی بہن کیلئے کچھ نہیں کر پایا تھا بس یہ ہی ایک بات کی کسک تھی دل میں پر آج شاہ میر کی باتیں سن کر اس کی آنکھوں میں اس کے لہجے میں جو اس کی بہن کیلئے محبت تھی جو مان تھا اسے دیکھ کر آج وہ مطمئن تھا اس کی بہن کی آزمائشیں ختم ہوئی تھیں وہ خوش تھی تو انھیں اور کیا چاہئیے تھا ۔۔
_______
شاہ میر ڈرائیو کر رہا تھا پر بار بار نظریں برابر میں بیٹھی علشبہ پر بھٹک رہی تھیں جو شاہ میر سے بے نیاز پتا نہیں کن سوچوں میں گم تھی وہاں تقریب میں جو ہوا اس کے بعد سے اسے چپ سی لگ گئی تھی جسے کسی نے محسوس کیا ہو یا نہیں شاہ میر نے اچھے سے کیا تھا ۔۔۔
شاہ میر نے ایک سائیڈ پر گاڑی روکی اور میڈیکل اسٹور سے پانی لانے کیلئے بڑھ گیا وہ جو گم صُم بیٹھی تھی.. اس کو سامنے سے آتے ہوئے دیکھنے لگی۔ پر اچانک ہی سین بدلا اور سب الٹ ہوگیا..
وہ ہق دق سی باہر نکلی اور اندھا دھند اس کی طرف بھاگی اور اس کا سر اپنی گود میں رکھا جس سے خون بہہ رہا تھا اور آنکھیں بند ہورہی تھیں پر شاہ میر نے علشبہ کو دیکھ کر ہمت پکڑی اور اس کو دیکھنے لگا جس کی آنکھوں سے بھل بھل آنسو جاری تھے۔۔۔
(شاہ میر اسٹور سے منرل واٹر لیے روڈ کراس کر رہا تھا جب ایک تیز رفتار گاڑی اسے چھو کر گزری جس سے وہ ڈگمگا کر الٹے منہ گرا اور سر پتھر پر جا لگا جس کی وجہ سے خون جاری ہو گیا)
شش میں ٹھیک ہوں علشبہ شاہ میر نے اس کے آنسو صاف کیے اور اس کا ہاتھ تھامے کھڑا ہوا.. سر پر لگنے گی وجہ سے اسے چکر سے آرہے تھے اور بار بار آنکھوں کے آگے اندھیرا سا آرہا تھا پر علشبہ کو دیکھ کر اس نے ہمت پکڑی اور اسے ساتھ لیے گاڑی میں آکر بیٹھ گیا
زندگی کے ہر موڑ پر جہاں امتحان ہوتے ہیں وہیں اللہ کی مدد بھی موجود ہوتی ہے۔
آپ پلیز پہلے ہاسپٹل چلیں بہت خون بہہ رہا ہے۔ وہ روتی ہوئی بولی ۔۔
علشبہ میں ٹھیک ہوں ہم گھر جارہے ہیں کچھ نہیں ہوا مجھے ۔اس نے تھوڑا سختی سے کہا۔۔
پر کتنا خون بہہ رہا ہے۔ وہ روہانسی ہوتے ہوئے بولی اور اپنے پرس سے رومال نکال کر شاہ میر کی طرف منہ کیے اس کے زخم پر رکھ کر خون روکنے کی کوشش کرنے لگی اس کا ہاتھ بھی لال ہوچکا تھا پر شاہ میر کچھ سن ہی نہیں رہا تھا اسے صرف علشبہ کو اس سنسان راستے سے خیریت سے گھر پہنچانا تھا۔۔
شاہ میر نے گھر کے باہر گاڑی روک کر لمبی سانس خارج کی اور علشبہ کا دوسرا ہاتھ تھام کر نرمی سے دبا کر اسے دلاسا دیا کہ وہ ٹھیک ہے اور اس کا ہاتھ اپنے ماتھے پر سے ہٹایا جس سے خون بہنا بند ہوچکا تھا ۔۔۔
وہ آنسو بہاتی ہوئی اس کے پیچھے پیچھے تھی.. شاہ میر سیدھے گیسٹ روم کی طرف ہی بڑھا تھا اس کا سر ابھی بھی چکرا رہا تھا اسے ریسٹ کرنا تھا۔ اور وہ نہیں چاہتا تھا اسے کوئی اس طرح دیکھ کر پریشان ہو ۔۔
شاہ میر بیڈ سے ٹیک لگائے آنکھیں موند کر بیٹھ گیا تھا علشبہ اس کے قریب بیٹھ گئی اور اس کا خون صاف کر کے پٹی کرنے لگی شاہ میر نے آنکھیں کھول کر علشبہ کو دیکھا جو اس کے قریب بیٹھی پٹی کر رہی تھی اسے اپنا ہوش تک نہیں تھا وہ اسی طرح سجی سنوری شاہ میر کے قریب بیٹھی اس کی دھڑکنیں منتشر کر رہی تھی۔۔
جاری ہے
