Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode17

Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode17

مسکان جو سونے کیلئے لیٹی تھی اس کو وہ سب کچھ یاد آنے لگا جو اس کے ساتھ ہوا تو وہ اچانک اٹھ کر بیٹھ گئی۔۔۔
مجھے ماما کو سب سچ بتا دینا چاہیے کہ کس طرح میرا نکاح… نہیں… اگر انھوں نے مجھے غلط سمجھا تو… وہ نفی میں سر ہلاتے ہوئے بؤلی. نہیں نہیں مسکان تجھے ماما کو بتا دینا چاہیے کچھ نہیں ہوگا اور آگے کیا ہوگا وہ سب دیکھ لیں گے وہ فیصلہ لیتے ہوئے کھڑی ہوئی اور اب اس کا ارادہ سب ثمینہ بیگم کو بتانے کا تھا ۔
🌹🌹🌹
کیا آپی آپ لوگ تو اس مسکان کے آگے ایسے بچھے جارہے ہیں جیسے وہ کوئی نوبل پرائز جیت کر آئی ہو. پتا نہیں کہاں گل کھلا کر آئی ہے پوری رات اور ایک آپ ہیں کہ اس کے آگے کھانے سرو کر رہی ہیں. رامین جو مسکان کو اور سب کو کھانا سرو کر کے اب مہک کے پاس اپنے کمرے میں آئی تو مہک غصے میں رامین پر برس پڑی۔۔۔
یہ تم کیا بولے جارہی ہو مہک کچھ احساس ہے تمہیں وہ بیچاری کتنی بڑی مشکل سے نکل کر آئی ہے اور تم کچھ بھی بولے جارہی ہو. رامین مہک کی باتیں سن کر اس کو شرم دلاتے ہوئے بولی۔۔۔۔
کیا آپی میں نے کیا غلط کہا. جو دیکھا وہ ہی کہہ رہی ہو اور کیا پتا وہ کسی لڑکے کے ساتھ میرا مطلب کہ کیا پتا وہ کسی کو پسند کرتی ہو اور اس کے ساتھ…. رامین کے گھورنے پر مہک بات پلٹتے ہوئے بولی۔۔۔
بس مہک تم غلط بول رہی ہو مسکان بلکل بھی ایسی نہیں ہے. رامین نے جواب دیتے ہوئے کہا۔۔
ہاں وہ تھی نہیں ایسی پر کیا پتا ہوگئی ہو آخر اپنی چہیتی بھابھی کے ساتھ جو رہ رہی ہے اس نے بھی تو شاہ میر کو پھنسا کر شادی کر لی۔۔۔
اور دوسری طرف شاہ میر ہے جو اسے اپنی بیوی ہی نہیں مانتا اور گھر سے بھی نکلوا دیا زبردستی کا رشتہ تھوپ رکھا ہے اس پر آپی. جاوید انکل کو بھی اپنے قابو میں کیا ہوا ہے اور باقی سب کو بھی. آپ مانیں یا نا مانیں یہ علشبہ بہت چالاک ہے. وہ اپنی باتوں کا رخ علشبہ کی طرف موڑتے ہوئے رامین کو بولی۔۔۔۔
بس مہک اب ایک اور لفظ نہیں سنوں میں تمہارے منہ سے کچھ بھی بولے جارہی ہو. میں مانتی ہوں تمہیں دکھ ہوا ہے پر اب تم مان لو کہ شاہ میر تمہارے نصیب میں نہیں اور تم اب شاہ میر کے بارے میں سوچنا چھوڑو اس کی جوڑی علشبہ کے ساتھ ہی تھی. بس اللہ ان دونوں کا رشتہ ٹھیک کر دے بیچاری نے بہت دکھ اٹھائے ہیں اور تم اس کو برا ناں سمجھو وہ بہت پیاری ہے ایک شاہ میر ہی ہیں جو اسے چھوڑ کر بیٹھا ہے اور تم اب اپنے آگے کے بارے میں سوچو. رامین نے پہلے غصے سے پھر پیار سے اس کا ہاتھ پکڑ تے ہوئے سمجھایا۔۔۔
🌹🌹🌹
ہیلو ؟؟
جی وہ میں ،،
لائبہ ہاں بولو کیا ہوا؟؟ حماد نے کال پر لائبہ کی آواز سن کر حیرت سے پوچھا۔۔
وہ کچھ نہیں آپ کہاں ہیں؟؟؟
میں کسی کام سے باہر آیا ہوا ہوں کوئی کام تھا ؟؟
نہیں تو کوئی کام نہیں تھا. لائبہ نے جواب دیتے ہوئے کہا۔۔۔
اوہ اچھا یعنی میری بیوی کا اپنے شوہر سے بات کرنے کو دل چاہ رہا ہے. حماد نے شوخی سے کہا۔۔
ہاں نہیں نہیں تو میں نے کب ایسا کہا. مجھے یہ بتانا تھا وہ عمر گھر آگیا ہے اچھا میں رکھتی ہوں. اللہ حافظ. لائبہ نے ہڑبڑاتے ہوئے جلدی سے کال کٹ کردی۔۔
پاگل،،
حماد نے مسکرا کر کہتے ہی موبائل رکھا اور گاڑی میں بیٹھ کر آگے نکل گیا ۔۔۔
لائبہ تجھ سے موبائل پر بات نہیں ہو پارہی تو ان کے سامنے دل کی بات کیسے کہے گی. کچھ نہیں ہوتا آج میں بھی ان کو بتا کر رہوں گی کہ میں آپ سے بہت محبت کرتی ہوں. وہ کہتے کے ساتھ ہی اپنا چہرہ چھپا کر مسکرا دی۔۔۔
🌹🌹🌹
ماما مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہیں مسکان نے ثمینہ بیگم کے پاس آکر کہا۔۔۔
ہاں تم نے مجھ سے کچھ کہا مسکان..
کیا ہوا ماما آپ پریشان لگ رہی ہیں ؟؟؟
ہاں وہ علشبہ کی طبیعت ٹھیک نہیں ابھی ڈاکٹر کو بلایا ہے وہ اندر ہیں علشبہ کے پاس. ثمینہ بیگم نے بتایا۔۔۔
کیوں ماما کیا ہوا علشبہ کو؟؟ رامین نے مہک کے ساتھ آتے ہوئے ثمینہ بیگم کی بات سن کر پوچھا۔۔
پتا نہیں بیٹا اب ڈاکٹر باہر آئے تو پتا چلے ۔۔۔
تھوڑی ہی دیر میں ڈاکٹر نے باہر آکر ان سب پر جو انکشاف کیا وہ سب سن کر حیرت میں رہ گئے.
اچھا کمزوری بہت ہے آپ اپنی بہو کا اچھے سے خیال رکھیں. اب میں چلتی ہوں اور کوئی بھی بات ہو آپ مجھے بلوا لیجیے گا. ڈاکٹر ان سب کا حیرت زدہ چہرہ دیکھ کر ثمینہ بیگم کو مسکراتے ہوئے بولیں اور باہر نکل گئیں۔۔۔۔
دیکھا آپی میں نے کہا تھا ناں اور ایک آپ لوگ ہیں جو اسے کتنا معصوم اور سیدھا سمجھتے ہیں اور اس نے کیسے آپ لوگوں کی آنکھوں کے آگے… اف مجھے تو سمجھ نہیں آرہا میں کیا بولوں اس علشبہ نے آپ سب لوگوں کو دھوکا دیا اور شاہ میر اسے تو کچھ معلوم ہی نہیں کہ اس کی بیوی کہاں منہ کالا کر کے آئی ہے اور پتا نہیں کس کا گندا خون… ابھی مہک اس سے آگے کچھ بولتی ایک زور دار تھپڑ اس کے چہرے پر پڑا جس سے اس کی بولتی بند ہوگئی۔۔۔۔
خبردار جو تم نے ایک بھی غلط لفظ میرے بچے کے بارے میں کہا تو میں تمہاری جان لے لونگی اب تک میں نے اپنے اوپر لگے سب الزام سب باتیں چپ کر کے سن لیں. صرف اس لیے کہ میں غلط نہیں ہوں تو کیوں صفائیاں دیتی رہوں پر اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ تم میرے بچے کو گالی دو یہ اس گھر کا خون ہے اب تک سب کچھ سہہ لیا پر اب بات میرے بچے کی ہے اور ایک عورت سب کچھ سہہ سکتی ہے پر اپنے بچے پر ایک غلط نظر برداشت نہیں کر سکتی اور میں تمہیں پہلی اور آخری بار وارن کر رہی ہوں میرے اور میرے گھر کے معاملے سے دور رہو. علشبہ نے غصے سے مہک کو وارن کیا ۔۔۔
علشبہ کو بھپری ہوئی شیرنی کی طرح دیکھ کر سب لوگ پہلے سے زیادہ حیران رہ گئے ۔۔۔۔
تمہاری اتنی ہمت تم نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا. مہک پہلے غصے سے پھر مسکرا کر بولی ہاں تم اور کر بھی کیا سکتی ہو ویسے. آخر اپنے خلاف بولنے والے کے بولتی جو بند کرنی ہے دیکھ لیں آپی اپنا کیا چھپانے کو کیسے غصے سے بھپر گئی. یہ ہے اس کا اصل چہرہ اپنے گناہ کو یہ آپ سب پر مسلط کر رہی ہے. اب شاہ میر بھی نہیں جو اس کو اس کی اوقات دکھاتا کیا ہمیں نہیں پتا جب سے شادی ہوئی ہے شاہ میر تم سے بات تک کرنا گوارہ نہیں کرتا. اب وہ علشبہ کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔۔
اور کیا کہا تھا تم نے اس گھر کا خون شاہ میر نہیں تو پھر ۔۔۔۔
بس مہک کب سے دیکھ رہی ہوں کچھ بھی بولے جارہی ہو یہ ہمارے گھر کی بات ہے تم جاؤ یہاں سے. مسکان علشبہ کے آگے آتے ہوئے بولی اور مہک کو ہاتھ کے اشارے سے باہر کا راستہ دکھایا۔۔۔
مسکان یہ میری بہن ہے اور یہ میرا بھی گھر ہے تم کون ہوتی ہو اس کو یہاں سے نکالنے والی. رامین کو مسکان کا انداز اچھا نہیں لگا تو وہ غصے سے مسکان کو بولی ۔۔۔۔
سوری بھابھی پر آپ بھی دیکھیں یہ کب سے ۔۔
ہاں میں دیکھ رہی ہوں اور کیا غلط کہا مہک نے. پوچھو اپنی اس بھابھی سے کس کا بچہ ہے یہ. رامین نے بھی مہک کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا ۔۔۔
آج میں تمہیں یہاں سے نکلوا کر ہی رہوں گی ہممم آئیڈیا واہ.. مہک اب تو پکا ہے اس کا اس گھر سے جانا. مہک اپنے آپ کو سراہتے ہوئے علشبہ کو دیکھتے ہوئے دل میں بولی اور کمینی مسکراہٹ سجائے ایک بار پھر آگے آئی۔۔۔
آرے آپی آپ ابھی بھی نہیں سمجھی اس نے کہا تو ہے یہ اس گھر کا خون ہیں شاہ میر نا سہی اسد کیا پتا اس کا ہو اور ویسے بھی پورا پورا دن تو اس کے آگے پیچھے گھومتا رہتا ہے۔۔۔
مہکککککک بس اب اور نہیں ورنہ… مسکان نے چیخ کر غصے سے کہا۔۔
ثمینہ بیگم سر پکڑے نڈھال سی پاس رکھے سوفے پر بیٹھ گئیں. انھیں کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا یہ سب کیا ہو رہا ہے. وہ کوئی فیصلہ لینے کی پوزیشن میں نہیں تھیں۔۔۔۔
علشبہ اسد کا نام سن کر صدمے سے باہر کر طرف پیچھے کو الٹے قدم بڑھنے لگی وہ اپنے کمرے سے فیصلہ کر کے آئی تھی کے سب کے سوالوں کا سامنا وہ کرے گی پر ایک بار پھر وہ ٹوٹ گئی تھی جس اسد کو اس نے عمر سے کم نہیں جانا اس کو لیکر اتنا بڑا الزام تبھی وہ کسی سے ٹکرائی اور کسی نے اسے کندھوں سے پکڑ کر تھام لیا۔۔۔
🌹🌹🌹
اب کہا چلی تمہاری سواری عریشہ نے عمر کو باہر جاتے دیکھ کر روکتے ہوئے کہا ۔۔۔
کیوں تمہیں کیوں بتاؤں میں.. تم میری امی جی لگتی ہو. وہ عریشہ کی طرف مڑتے ہوئے جھک کر بولا۔۔
ہاں ہاں نا بتاؤ پر مجھے سب پتا ہے کہ تم کہا چلے. عریشہ اپنی آنکھیں گول گول گھماتے ہوئے ایک ادا سے بولی تو عمر اسے گھورنے لگا۔۔۔
کیا ایسے کیا گھور رہے ہو ہاں ۔۔۔
عمر اسے نظر انداز کیے ایک بار پھر باہر کی طرف مڑا تو عریشہ جھٹ سے اس کے آگے آگئی ۔۔۔۔
اب کیا ہے؟؟؟
مجھے بھی ملواؤں میری بھابھی سے عریشہ نے رازداری سے کہا۔۔۔
کہیں اس کو میرے نکاح کا سب نہیں نہیں عمر ایسے کیسے… عمر پریشان ہو کر عریشہ کو دیکھنے لگا۔۔۔
ارے میرا مطلب ہونے والی بھابھی وہی جس کو تم نے با حفاظت اس کو اس کے گھر چھوڑا بلکل ہیرو کی طرح. حالانکہ مجھے یقین نہیں آرہا پر پھر بھی یقین کر لیتی ہوں آخر تم میرے جڑواں بھائی ہو تو اتنا اثر آنا تو بنتا ہے. مجھے اپنے اوپر پورا بھروسہ ہے کہ یہ میری قابلیت تم پر ضرور اثر چھوڑ گئی ہوگی جو اب باہر آئی ہے. عریشہ نے بھرپور ایکٹنگ کرتے ہوئے کہا۔۔۔
عمر نے عریشہ کی بات سن کر لمبی سانس لی پھر جب پوری بات پر غور کیا تو عریشہ اس کو چڑاتے ہوئے اندر کو بھاگ گئی وہ جانتی تھی اس کی اب خیر نہیں تبھی وہ موقع پاتے ہوئے بھاگ گئی ۔۔۔
چڑیل میں تمہیں آکر بتاتا ہو عمر زور سے بول کر شکر کرتا ہوا باہر کو نکل گیا۔۔۔
_______
علشبہ نے اپنے پیچھے کھڑے اس شخص کو دیکھا جو اسے تھامے کھڑا تھا تو آنکھوں سے ناں رکنے والا ایک سیلاب جاری ہوگیا اور ہونٹ تھے جو صرف پھڑپھڑا کر رہ گئے پر آواز جیسے کہیں اندر ہی دم توڑ گئی ۔۔۔
وہ حیران ہوتی اس شخص کے گلے لگ کر اب پھوٹ پھوٹ کر رو دی جیسے تپتی دھوپ میں کوئی سایہ مل گیا ہو کوئی اپنا جو اسے سنمبھال سکتا ہے ۔۔۔
مہک کو یہ سب دیکھ کر ایک اور موقع مل گیا بولنے کا اور علشبہ پر الزام لگانے کا،،،
لیں دیکھ لیں آپ سب لوگ ایک اور آگیا اس کا چاہنے والا کیسی بے شرم ہے آنٹی آپ کے سامنے کیسے چپک کر اس شخص کے ۔۔
بس خبردار جو تم نے ایک بھی لفظ اپنے اس گندے منہ سے نکالا تو میں تمہارا وہ حشر کروں گا کے تم ساری زندگی یاد کرو گے. اب وہ علشبہ کو اپنے ساتھ لگائے مہک کے سامنے غصے سے بھرا اس کو وارن والے انداز میں بولا کے جیسے اس نے ابھی اپنا منہ کھولا تو وہ اس کو جان سے مار دیگا ۔۔۔
مہک بھی ڈر کر رامین کے پیچھے کو ہوگئی ۔۔۔
بھائی نہیں ۔۔۔
علشبہ نے حماد کو اتنے غصے میں پہلی مرتبہ دیکھا تھا وہ روتے ہوئے اس کے ہاتھ پر اپنے ہاتھ کا دباؤ دیتے ہوئے ناں میں سر ہلاتے ہوئے بولی۔۔
نہیں علشبہ اب نہیں. کیا سمجھتے ہیں یہ لوگ تم اکیلی ہو تو کچھ بھی کریں گے تمہارے ساتھ پر اب نہیں. میں آگیا ہوں دیکھتا ہوں کیسے کوئی تمہیں کچھ بھی کہتا. ہے وہ مہک کو گھورتے ہوئے بولا ۔۔
ہاں تو پہلے اپنی بہن کے بھی کرتوت دیکھیے ناں. مہک نے غصے سے جواب دیا۔۔
شٹ اپ میں تمہیں. حماد غصے سے مہک کی طرف بڑھا پر علشبہ نے ہاتھ تھام کر اسے روک لیا ۔۔
چلو علشبہ یہاں سے میں تمہیں ایک پل بھی یہاں نہیں رہنے دوں گا. وہ غصے سے علشبہ کا ہاتھ پکڑ کر باہر لے جاتے ہوئے بولا۔۔۔
بیٹا رکو.. ثمینہ بیگم کو احساس ہوا کے یہ سب غلط ہورہا ہے تو وہ کھڑے ہوکر علشبہ اور حماد کی طرف بڑھ کر انھیں روکتے ہوئے بولیں۔۔۔۔
علشبہ کہیں نہیں جائے گی. یہیں رہے گی یہ اس کا اپنا گھر ہے ثمینہ بیگم حماد کو دیکھتے ہوئے بولیں۔۔۔
علشبہ تم کہیں نہیں جاؤ گی. اب وہ علشبہ کی طرف بڑھ کر اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑتے ہوئے بولیں۔۔۔۔
نہیں امی مجھے مت روکیں مجھے یہاں نہیں رہنا. علشبہ نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے ثمینہ بیگم سے کہا۔۔۔
نہیں بھابھی آپ مت جائیں پلیز ہمیں آپ پر پورا بھروسہ ہے اور آپ کسی کی باتوں پر دیھان نا دیںم مسکان نے بھی آگے بڑھ کر علشبہ کو روکتے ہوئے کہا۔۔۔
ہاں بیٹا مسکان صحیح کہہ رہی ہے مت جاؤ۔۔۔
مسکان تم تو سمجھو مجھے میں اب اور یہاں نہیں رہ سکتی. اتنا سب کچھ ہوجانے کے بعد بھی میں نے کبھی کسی سے کوئی شکایت نہیں کی. اپنے آپ پر لگا ہر الزام برداشت کیا یہاں تک کہ شاہ میر بھی مجھے ہی کسی نہ کسی حد تک قصوروار سمجھتے رہے مگر یہ سب مجھ سے برداشت نہیں ہوگا جو آج میرے ساتھ ہوا ہے
‏بات صرف اتنی ھے
ذندگی کے سفر میں_!!
ساتھ چلنے والے کو
ھمسفر نھیں کہتے…!
امی مجھے جانے دیں پلیز. اسد جس نے مجھے بھابھی کم بڑی بہن زیادہ سمجھا مجھے ہنسایا میرا ساتھ دیا میں نہیں چاہتی کہ اب کوئی اور ہمارے رشتے پر انگلی اٹھائے میرا یہاں سے چلے جانا ہی بہتر ہے. آپ نے مجھے ایسے وقت میں سنبھالا جب میرا کوئی اپنا میرے ساتھ نہیں تھا مجھے بہت پیار دیا میں یہ سب کبھی نہیں بھول سکتی پر پلیز مجھے جانے دیں. وہ روتے ہوئے ثمینہ بیگم کے ہاتھ پکڑ کر ان سے التجا کرتے ہوئے بولی ۔۔۔۔
ثمینہ بیگم نے ہاں میں سر ہلاتے ہوئے اسے گلے سے لگا لیا اور ناں چاہتے ہوئے بھی اسے جانے دیا۔۔۔
🌹🌹🌹
سفیان صاحب باہر سے آکر صحن میں رکھی کرسی پر سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔۔
کیا ہوا ابو ؟؟عریشہ نے سفیان صاحب کو دیکھ کر پریشانی سے پوچھا۔۔۔
کچھ نہیں بس تھوڑا سر میں درد ہے۔۔۔
تو میں دبا دوں؟؟
نہیں ایسا کرو ایک کپ چائے لے آؤ ابھی ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔
جی ابھی لائی عریشہ کہتے ہوئے کچن میں جانے لگی۔۔۔
اچھا یہ عمر کہاں ہے؟؟ سفیان صاحب نے عریشہ کو روکتے ہوئے پوچھا۔۔
جی ابو وہ ابھی ابھی باہر گیا ہے کہہ رہا تھا کوئی کام ہیں عریشہ نے جواب دیا۔۔
ہمم سفیان صاحب نے کہتے ہوئے سر کرسی کی پشت سے لگا کر آنکھیں موند لیں۔۔۔۔
🌹🌹🌹
سمیر ٹکٹ کنفرم ہو گئی ؟؟؟
شاہ میر نے باہر سے آتے سمیر سے پوچھا۔۔
ہاں یار پر دو دن بعد کی ملی ہے پر تو مایوس ناں ہو یہ دو دن بھی یوں ہی نکل جائیں گے. وہ جانتا تھا شاہ میر کو گھر جانے کی کتنی جلدی ہے تبھی وہ اس کو سمجھاتے ہوئے بولا۔۔۔
شاہ میر مایوس ہو کر ہاں میں سر ہلاتے ہوئے پاس رکھے صوفے پر آنکھیں موندے لیٹ گیا اور سوچنے لگا یہ دو دن وہ کیسے گزارے گا اس سے ایک پل برداشت نہیں ہورہا تو وہ یہ دو دن کیسے نکالے گا۔۔۔
اس کا بس چلتا تو وہ اڑ کر لمحوں میں گھر پہنچ جاتا پر اسے ان دو دن کی انتظار کی سولی پر اور لٹکنا تھا پر کیا صرف یہ دو دن ہے؟؟؟ یہ تو اسے گھر جا کر ہی پتا چلنا تھا کے اس کی گھر چھوڑ نے کی غلطی اسے کتنی مہنگی پڑنے والی ہیں ۔۔۔
وہ وقت کی قید میں اس قدر الجها تھا
کہ اپنوں سے بھی دور تها
وہ بھولا بیٹھا تھا ان رشتوں کو بھی
جن پہ کبھی اس کو غرور تھا
🌹🌹🌹
بھائی.. ابو۔۔؟؟
گاڑی گھر کے باہر رکتے دیکھ علشبہ نے حماد کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
کچھ نہیں ہوگا میں ہوں ناں تمہارے ساتھ چلو. وہ علشبہ کو ہمت دیتا گاڑی سے نکلتے ہوئے بولا۔۔۔
یہ لیں ابو چائے. عریشہ نے سفیان صاحب کی طرف کپ بڑھاتے ہوئے کہا۔۔۔
ارے بھائی آپ آگئے آپ کو بھی چائے…عریشہ حماد کو دیکھ کر کہنے لگی پر حماد کے پیچھے علشبہ کو دیکھ کر اس کے آدھے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے۔۔
آپی،،،
عریشہ خوشی سے چہکتی ہوئی علشبہ کے گلے لگ گئی۔۔۔
آپی یہ آپ ہی ہو نا. وہ اب روتے ہوئے علشبہ کے چہرے کو چھوتے ہوئے بولی تو علشبہ نے روتے اور ہنستے ہوئے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔
یہ لڑکی یہاں کیا کر رہی ہے حماد؟؟
سفیان صاحب علشبہ کو دیکھ کر زور سے دھاڑتے ہوئے بولے۔۔۔
امرین بیگم اور لائبہ سفیان صاحب کی آواز سن کر اپنے اپنے کمرے سے باہر آئیں۔۔۔
وہ دونوں علشبہ کو دیکھ کر خوشی سے اس کی طرف بڑھنے لگیں۔۔۔۔
رک جاؤ کوئی بھی آگے نہیں بڑھے گا اس لڑکی کی طرف. انھوں نے علشبہ کو گھورتے ہوئے کہا۔۔۔
امرین بیگم روتی ہوئی وہی ٹھہر گئیں اور علشبہ کو دیکھنے لگیں. جب سے علشبہ گئی تھی انھیں کسی پل چین نہیں آرہا تھا وہ ہر وقت اس کیلئے پریشان رہتی تھیں پر اب وہ جب سامنے تھی تو وہ کیسی ماں تھی جو اپنی بچی کو اپنے سینے سے بھی نہیں لگا سکتی تھی۔۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *