Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Last Episode

Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Last Episode

میں جانتی ہوں میں نے آپ لوگوں کی عزت خاک میں ملا دی ہے
نور باپ کے پاؤں میں گر گئی اور معافی مانگنے لگی
نور بلک بلک کر رو رہی تھی
خود ظفر کے آنسو نکل آے رقیہ بیٹی کو ایسے روتا دیکھ کر خود بھی رونے لگی
نور واسطے دے رہی تھی
فیاض احمد کب تک برداشت کرتے آخر کو باپ تھے اور نور اکلوتی بیٹی تھی اور لاڈلی بھی
اسے اٹھایا اور گلے سے لگا لیا
بابا مجھے معاف کر دیں ۔۔نور کی زبان پر ایک ہی تکرار تھی مجھے سکون نہیں ہے جس دن سے یہ قدم اٹھایا سکون سے سو نہیں پائی
ہر پل آپ لوگوں کی یاد اور چہرے میری آنکھوں کے سامنے ہوتے ہیں ۔۔
میں اچھی بیٹی نہیں ہوں ابا آپ لوگوں کو دکھ دیا ۔
مجھے معاف کر دیں
فیاض نے اسے خود سے جدا کیا اور اس کے آنسو صاف کئے
اور بولے بس چپ اب اور نہیں رونا ۔۔بہت رو لیا
میں نے اپنی بیٹی کو معاف کیا دل سے ۔اور ایک بار پھر گلے لگا لیا
رقیہ باپ بیٹی کو ملتے دیکھ کر آنکھوں میں آے آنسو صاف کرنے لگی تو فیاض نے ظفر اور رقیہ کو پاس بلایا اور بازو کے گھیر ے میں لے لیا ۔۔
نور نے مسکرا کر پہلے باپ اور پھر ظفر کو دیکھا اور دوبارہ باپ کے کندھے سے سر لگا لیا اور آنسو صاف کرنے لگی
💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗
منال اور شاہ ویز کی دعوتوں کا سلسلہ شرو ع ہو چکا تھا دو ہفتے بعد دونو ں ہنی مون پر جا رہے تھے
منال جان چکی تھی ان چند دنو ں میں شاہ ویز اپنے قول کا پکا اور ایک مخلص انسان ہے
آج سب کی مشعل اور علی کی طرف دعوت تھی
اور موسم بھی کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا تھا بارش کے آثار نظر آ رہے تھے
جلدی کرو منال سب ریڈ ی ہیں نیچے ۔۔۔۔
شاہ ویز نے ایک نظر حجاب سیٹ کرتی منال کو دیکھا
جو نیوی بلیو کلر کے جار جٹ کے فراک میں غضب ڈھا رہی تھی
شاہ ویز نے پر فیوم کی بوتل رکھی اور آرام سے منال کے پاس آ گیا
منال حجاب سیٹ کرنے کے بعد فائنل لک دیکھ رہی تھی جب شاہ ویز پر نظر پڑھی تو یک دم پز ل ہو گئی
تو بلا وجہ شیشے کے اگے رکھی چیزیں سیٹ کرنے لگی
شاہ ویز نے منال کا ہاتھ پکڑا اور سیدھا کھڑا کر دیا اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ دئے
بہت خوبصورت لگ رہی ہو ۔۔دل کر رہا ہے دعوت پر جانا کینسل کر دوں اور تمہیں لے کر بھاگ جاؤں جہاں کوئی نا ہو صرف تم اور میں ہوں اور میرا پیار ہو ۔۔شاہ ویز جذب سے بولا
منال بلش کر گئی
شاہ ویز منال کو آنکھوں کے
زر یعے دل میں اتارنے لگا
منال نے جب اسے کھویا ہوا دیکھا تو بولی
اب دیر نہیں ہو رہی آپ کو ۔۔
اس سے پہلے شاہ ویز کچھ کہتا سدرہ نے دروازہ کھول دیا
لو جی ہم سب نیچے تیار کھڑ ے انتظار کر رہے ہیں آپ
دونو ں کا اور یہاں رومنس چل رہا ہے ۔سدرہ شوخی سے بولی
لگتا کوئی ارادہ نہیں چلنے کا ۔۔۔
سدرہ کی آواز پر منال فورن پیچھے ہٹی اور شرم سے باہر نکل گئی
شاہ ویز نے خفت سے سر کھجا یا
اب تم بھی آ جاؤ ویسے بھی موسم خراب ہے
سدرہ مسکراتے ہوے بولی
تو شاہ ویز بھی باہر نکل گیا
💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗
روما ن گھر پہنچا تو سامنے نور کو بیٹھا دیکھ کر ہائپر ہو گیا اور اسے مارنے کو آیا ۔۔
تو کیا لینے آئ ہے اب یہاں ۔تجھے میں زندہ نہیں چھوڑوں گا ۔نور کا گلا دبا تے ہوے بولا ۔۔
رقیہ کچن میں تھی شور کی آواز سے باہر نکل آئ تو سامنے کا منظر دیکھ کر پریشان ہو گئی
کیا کر رہا ہے رومی ۔۔۔چھوڑ مر جائے گی
نور کی حالت خراب ہونے لگی تھی
چھوڑ یہ پیٹ سے ہے مر جائے گی ۔۔۔رقیہ نے روتے ہوے بتایا
تو رومان نے ایک دم نور کا گلا چھوڑ دیا
نور تحت پر گر گئی سانس اٹک اٹک کر آرہی تھی
نور کی حالت دیکھتے ہوے رقیہ فورن پانی لے آئ اور اسے پلانے لگی
اس سے پوچھ کیوں آئ ہے یہ یہاں ۔۔۔۔
کیوں جس کے ساتھ گئی تھی اس نے نکال دیا گھر سے جو واپس آ گئی گئی
ہمارے لئے تو مر گئی تھی اب کیوں آئ رومان غصے سے بولا نور اب کافی سمبھل چکی تھی
بھائی مجھے معاف کر دے رومان کے قدموں میں بیٹھ گئی اور رونے لگی
رومان نے نفرت سے نور کو دیکھا اور اندر جانے لگا
بھائی پلیز ۔۔۔۔
معاف کر دیں
رقیہ اگے ای اور بولی
رومان بچے معاف کر دے ۔۔تیرے ابا نے بھی معاف کر دیا ہے اور میں نے بھی تو بھی معاف کر دے ۔۔۔اسےاپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہے ۔۔
اما ں آپ معاف کر سکتی ہیں ۔میں کیسے معاف کر دوں جو بدنامی ہوئی ہماری وہ ۔
کہیں منہ نکالنے کو نہیں چھوڑا اس نے ہمیں ۔۔۔
بھائی مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوگیا ہے پلیز بھائی ۔۔۔
فیاض احمد نماز پڑھ کر گھر آے تو سامنے رومان کو غصے سے بھرا دیکھا ۔۔۔
رومان کہ کندھے پر ہاتھ رکھا اور بولے رومان بیٹا معاف کر دو اسے میں نے بھی معاف کر دیا ہے ۔۔
لیکن ابا ۔۔۔۔
کیا کرو بیٹی ہے اس نے جو کام کیا وہ معافی کے لائق نہیں ہے لیکن مجبور ہو گیا باپ ہوں اس کا ۔۔۔۔
رومان چپ ہو گیا اور اپنے کمرے میں چلا گیا
نور اٹھ کے کمرے میں چلی گئی
فیاض اور رقیہ سر پکڑ کر بیٹھ گئے
💗💗💗💗💗💗💗💗💗
مشعل کے ہاں دعوت شاندار رہی
سب نے خوب انجوا ے کیا بچے بھی خوش ہوے ۔۔
بارش شرو ع ہو چکی تھی جس وقت ان سب کی واپسی ہوئی
گھر پہنچ کر سب اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے
منال بھی اپنے روم میں چینج کرنے کے لئے جانے لگی جب پیچھے سے شاہ ویز نے اس سے کہا کہ
اگر مائنڈ نہ کروں تو ایک کپ کافی کا بنا دو سر درد کر رہا ہے ۔۔
منال اوپر جانے کا ارادہ ترک کرتی پہلے کچن میں آگئی اور شاہویز کے لیے کافی بنانے لگی
باہر بارش تیز ہو چکی تھی
شاہ ویز اپنے روم میں آ گیا اور چینج کرنے کے بعد ٹیرس کا دروازہ کھول کر بارش کی گرتی ہوئی بوندوں کو دیکھنے لگا
منال جب سے شاہویز کی زندگی میں آئی تھی شاہ ویز کو زندگی خوبصورت لگنے لگی تھی
منال کافی لے کر آئ تو شاہ ویز نے اسے تھینکس کہا اور پینے لگا
منال ڈریس لے کر باتھ روم چلی گئی
تھوڑی دیر بعد چینج کر کے واپس آئ تو شاہ ویز روم سے غائب تھا
اب یہ کہاں چلے گئے ۔منال نے خود کلا می کی
بارش تیز ہو چکی تھی اور بادلوں کی کڑک کے ساتھ بجلی کا چمکنا منال کو خوف زدہ کر گیا
شاہ ویز برستی بارش میں کھڑا ہو کر بازو پھیلا ےُ بارش کی بوندوں کو چہرے پر محسوس کر رہا تھا
وہاں کیا کر رہی ہو یہاں آؤ ۔۔۔منال کو دیکھ کر شاہ ویز بولا
نہیں ۔۔۔۔۔میں یہیں ٹھیک ہوں ۔۔۔منال انکار کرتے ہوے بولی
یہ کیا بات ہوئی ۔۔آؤ نا شاہ ویز منال کے قریب آیا اور بولا
نہیں ۔۔پلیز نہیں ۔۔بارش کی رفتار دیکھ کر منال بولی
منال کے دل میں خوف تھا بجلی اور بادلوں کی کڑک آواز کا
شاہ ویز نے اس کے انکار کی پروہ کئے بغیر اس کا ہاتھ پکڑا اور بارش میں لے گیا
منال انکار کرتی رہی ۔۔
بارش کی بوندوں نے کچھ ہی لمحوں میں منال کو بھگو دیا
یہ کیا کر دیا ۔منا کیا تھا ابھی چینج کیا پھر چینج کرنا پڑنے گا مجھے ۔منال تپ کر بولی
کوئی بات نہیں مائے ڈیر وائف ۔۔ایسا رومینٹک موسم بار بار نہیں آتا ۔۔شاہ ویز ہنس کے بولا
منال شیڈ کے نیچے آ گئی
کیا ہوا یار ۔۔شاہ ویز منال کے پاس گیا اور بولا
میں نے تو سوچا تھا تم ساتھ دو گی میرا ۔۔۔
لیکن تم نے ساتھ چھوڑ دیا
شاہ ویز جان بوجھ کر ایسا بولا وہ جاننا چاہ رہا تھا کہ منال کے دل میں کیا ہے
کیوں کہ اتنے دنوں میں جس طرح منال نے اپنا آپ شاہویز کو سونپ دیا تھا شاہ ویز تھوڑا الجھ گیا تھا
ایک طرف سے وہ بہت خوش بھی تھا لیکن دوسری طرف اسے منا ل کی خوشی کی بھی فکر تھی
منال میں تم سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں ۔۔
مجھے امید ہے تم مجھے سچ سچ جواب دو گی
تمہارے دل میں جو کچھ ہے وہی بتاؤ گی
منال نے الجھ کر شاہ ویز کی طرف دیکھا اور ہاں میں سر ہلا دیا ۔۔
منال کیا تم میرے ساتھ خوش ہو ۔۔
میں جاننا چاہ رہا ہوں مجھے بتاؤ
شاہ ویزسیریس انداز میں بولا ۔۔۔
منال نے ایک نظر شاہ ویز کو دیکھا پھر برستی بوندوں کو دیکھنے لگیں اور بولی
میں نے یہ شادی اس لئے کی تھی
کیوں کہ میری امی نے مجھے فورس کیا تھا اور کہا تھا کہ اگر میں نے اس شادی کے لیے خامی نہ بھری تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا
اور میں بھی اکیلی تھک چکی تھی اپنے ماضی کا دکھ جھیل جھیل کر ۔۔۔
میں وہ سب بھول جانا چاہتی تھی
اور کہیں حد تک بھول بھی چکی تھی لیکن آپ نے ہوٹل میں ذکر کر کے دوبارہ وہ اذیت تازہ کر دی
پھر رومان کا مجھے کال کرنا ملنے آنا وہ سب اتنا آسان نہیں تھا میرے لئے
ایک طرف میری شادی تھی
دوسری طرف رومان کا لوٹ کے آنا ۔۔اور معافی مانگنا
اور آپ کا پیار ۔۔
مجھے اس بات کا دکھ بھی تھا کہ میں نے آپ کا دل دکھایا ہے ۔۔
میں نہیں جانتی تھی میری شادی آپ سے ہو رہی ہے
لیکن میں نے یہ رشتہ پورے دل سے قبول کیا تھا
اور آپ یہ بات اپنے دل سے نکال دیں گے میں رومان سے پیار کرتی ہوں
کیونکہ میرے دل میں رومان کی محبت اسی دن مر گئی تھی جس دن اس نے میرے کردار کے بارے میں باتیں کی تھیں اور مجھ سے رشتہ ختم کیا تھا
بارش اب ہلکی ہو چکی تھی
منال بغیر آواز کے رو رہی تھی
اتنے دنوں میں منال یہ جان چکی تھی کہ شاہویز سچ میں منال سے دل وجان سے محبت کرتا ہے جس طرح وہ منال کا خیال رکھ رہا تھا
اور جس طرح وہ منال کو خوش رکھنے اور ہنسانے کے بہانے ڈھونڈتا تھا
شاہویز کے لیے ایک نرم گوشہ منال کے دل میں پیدا ہو گیا تھا اور ویسے بھی ہو نکاح کے دو بولوں میں اتنی طاقت ہوتی ہے
کے دو نفرت کرنے والے بھی آپس میں محبت کرنے لگتے ہیں
شاہ ویز نے منال کی ساری باتیں بہت توجہ سے سنی تھی
تو اس کا مطلب ہے تم میرے ساتھ خوش ہو ۔۔شاہ ویز بولا
منال نے گھور کر شاہ ویز کو دیکھا اور ہاں میں گردن ہلا دی ۔۔
شاہ ویز نے آسمان کی طرف دیکھا اور دل میں اللہ کا شکر ادا کیا
منال میں نے یہ اس لئے پوچھا ہے کیوں کہ میں چاہتا ہوں ماضی میں جو کچھ ہو چکا ہے
وہ سب بھول کر ہم نےُ انداز میں زندگی شروع کریں
منال میں تمہیں بہت خوش رکھنا چاہتا ہوں تم میں وہ ساری خوشیاں دینا چاہتا ہوں جس کی تم حقدار ہو
منال نے مسکراتے ہوئے شاہویز کی طرف دیکھا
اور بولی میرے لئے آپ کا ساتھ ہی سب سے بڑی خوشی کی بات ہے ۔۔
منال نے جیسے ہی یہ بات کہی شاہ ویز کا دل خوشی سے پاگل ہونے لگا
آج یہ بات شاہویز جان گیا تھا پیار اپنا آپ منوا لیتا ہے
شاہ ویز نے مسکراتے ہوئے منال کا ہاتھ پکڑا اور کمرے میں داخل ہوگیا ۔۔
💗💗💗💗💗💗💗💗💗
اگلے دن ظفر نور کو لینے آیا تو رومان کے ساتھ ملاقات ہوئی
اماں اور ابا کے سمجھانے پر رومان نے نور کو معاف کر دیا تھا اور ظفر کو دل سے بہنوئی تسلیم کر لیا تھا
رومان نے سیٹس بک کروا دی تھی چار دن بعد وہ لوگ جا رہے تھے
اور نور چاہ رہی تھی اماں ابا اور رومان کے جانے تک ان کے پاس رہے ۔۔
شام تک ظفر وہی رہا
ماں کے گھر اکیلے ہونے کی وجہ سے ظفر واپس آگیا
فیاض احمد نے ظفر سے وعدہ کیا
کہ وہ کل ان کی طرف آئیں گے اور ظفر کی ماں سے ملیں گے
ظفر کے جانے کے بعد فیاض احمد رومان کو لیکر فرنیچر شو روم آگئے
نور کے لیے سارا فرنیچر آڈر کیا
کیونکہ فیاض احمد چاہ رہے تھے
کل جب وہ نور کے سسرال جائیں تو اس کے جہیز کے ساتھ جائیں
💗💗💗💗💗💗💗
موم آپ کو پتہ چلا آپ کی دوست کی بیٹی مدیحہ نے کوٹ میرج کر لی ہے
شام کی چائے پر شاہ ویز نے بریکنگ نیوز دی
کون مدیحہ ۔۔۔یہ کیا کہہ رہے ہو تم ہوش میں تو ہو
وہ ایسے کیسے کر سکتی ہیں
جی موم میں بالکل ہوش میں ہوں بات کو ایک ویک ہو گیا ہے
اور مام ویسے بھی میں بہت پہلے جان چکا تھا
مدیحہ کا اپنے فرینڈ کے ساتھ افیئر چل رہا ہے
میں نے کئی دفعہ ان کو ایک ساتھ دیکھا تھا
بس موقع نہیں ملا آپ کو کچھ بتانے کا ۔۔
چلو اچھا ہی ہوا وہ لڑکی میری بہو نہیں بنی
دیکھنے میں کتنی معصوم لگتی تھی
اور اتنا بڑا قدم اٹھا گی ۔۔۔عائشہ دکھ سے بولی
ثمرین آنٹی بھی بہت دکھی تھی
کل مجھے ملی تھی بہت رو رہی تھی
آپ ان کی طرف چکر لگا لینا شاہ ویز بولا
ہاں جاؤں گی کہتے ہوے چائے کا کپ لبوں سے لگا لیا
💗💗💗💗💗💗💗💗💗
نور کے جہیز کے سامان کے ساتھ جب فیاض احمد اور رقیہ اور رومان نور کے سسرال پہنچے تو ظفر کے سات سات اس کی ماں اور بہنیں حیران ہو گئی
ہم جانتے ہیں ہماری بیٹی عزت کے ساتھ رخصت نہیں ہوئی کیوں کہ جو قدم نور اور آپ کے بیٹے نے اٹھایا تھا
وہ معافی کے لائق نہیں تھا
لیکن ہم نے نو ر اور ظفر کو معاف کر دیا ہے
اسی لئے اب نور کے جہیز کے سامان کیساتھ آئے ہیں
لیکن بھائی صاحب اس کی کیا ضرورت تھی ظفر کی ماں بولی
بہن جی بات ضرورت کی نہیں ہے جس بھی حال میں نور کا نکاح ہوا
وہ آئیں تو آپ کی طرف خالی خاتھ تھی لیکن ہم نہیں چاہتے ہماری بیٹی خالی ہاتھ سسرال میں رہے اس لیے ہم نے یہ سب کیا ہے
ظفر کی بہنوں نے جلدی سے چائے پانی کا انتظام کیا
تھوڑی دیر مزید بیٹھنے کے بعد فیاض احمد نے اجازت چاہی اور رخصت ہو گے
💗💗💗💗💗💗💗💗💗
آسیہ اور ردا منال کو ملنے آئی تو بیٹی کو اپنے گھر خوش دیکھ کر وہ مطمئن ہو گی
شاہ ویز اور منال کی عمرے کی ساری تیاریاں مکمل ہوچکی تھی
رومان اپنے ابا اور اما ں کے سا تھ ملنے آیا تھا
رومان کی شادی علینہ کے ساتھ ایک سال بعد طے پائی تھی
💗💗💗💗💗💗💗💗
آج منال کی خوشی کا کوئی ٹھکانا نہیں تھا
آج شام کی فلائٹ سے شاہ ویز اور منا ل دونوں جارہے تھے
گھر میں رونق لگی ہوئی تھی مشعل بھی اپنے بچوں کے ساتھ آئی ہوئی تھی
ہر طرف گہما گہمی کا عالم تھا
کچھ نے منال اور شاہ ویز کو گھر سے ہی رخصت کیا
جب کے شاہ میر اور سدرہ اور ردا ایئرپورٹ چھوڑنے آے
آمنہ واپس امریکہ چلی گئی تھی شادی اٹینڈ کرنے کے بعد
ردا ماما کا خیال رکھنا اور ٹائم سے انہیں میڈیسن دیتی رہنا ۔۔ردا کے گلے لگتے ہوئے منال بو لی
پھر باقی سب سے ملنے کے بعد منال اور شاہ ویز جہاز میں بیٹھنے کے لئے آگے بڑھ گئے ۔۔
سیٹ پر شاہ ویز کی ہمراہی میں بیٹھنے کے بعد منال نے مطمئن ہو کر آنکھیں بند کر لی
منال کا دل آج مکمل طور پر پر سکون ہو گیا تھا
جہا ز اڑنے کے لئے بالکل تیار تھا
جیسے ہی جہاز نے اڑنا شروع کیا منال نے ساتھ بیٹھے شاہ ویز کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا
شاہ ویز نے مسکرا کر منال کی طرف دیکھا اور اس کے کان میں بولا
میرے ہوتے ہوئے تمہیں ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔۔
اب آنکھیں کھول لو
نہیں مجھے ڈر لگتا ہے ۔۔۔منال بولی
کچھ نہیں ہوتا میں نے کہا ہے نہ میں تمہارے ساتھ ہوں اب شاباش آنکھیں کھولو اور باہر دیکھو کتنا خوبصورت نظارہ ہے منال ونڈو کے ساتھ بیٹھی تھی
منال نے د ھیرے سے آنکھیں کھولیں اور باہر دیکھا
جہاز بادلوں کے بیچ میں سے گزر رہا تھا
منال بادلوں کو بلکل قریب سے پہلی دفعہ دیکھ رہی تھی
کیسا لگا نظارہ ۔۔
بہت خوبصورت ہے ۔منال بولی
لیکن تم سے زیادہ خوبصورت نہیں ہے شاہ ویزشوخی سے بولا
شاہویز کی بات پر پہلے تو منال نے اسے گھور کر دیکھا لیکن پھر ہنسنے لگی
کچھ سیکنڈ بعد شاویز بھی ہنس رہا تھا
دونو ں ایک ساتھ خوش تھے اب آنے والا وقت ان کے لئے مزید خوشیاں لا رہا تھا
جہاز میں بیٹھے کہیں لوگوں نے انہیں ہنستا دیکھ کر ہمیشہ خوش رہنے کی دعا دی
جسے چپکے سے بادلوں نے سن سن کر آمین کہا
🍁🍁ختم شد🍁🍁

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *