Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode22

Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode22

عمیر کو جب شاہ ویز کے ہوٹل سے غائب ہونے کی اطلا ع ملی تو وہ فورن فواد کو لے کر اسے ڈھونڈنے نکل گیا ۔۔
عمیر کے دل میں بہت عجیب عجیب وسوسے انے لگے
شاہ ویز کا نمبر بند جا رہا تھا
فواد اور عمیر دونو ں پریشان تھے
💗💗💗💗💗💗💗
رومان نہانے کے بعد ما ں کے پاس آ کر بیٹھ گیا امی کیا بات ہے بہت خاموش ہیں طبیعت تو ٹھیک ہے نہ آپ کی ۔۔۔۔۔۔
رقیہ جو خاموشی سے جب بیٹھتی ہوئی تھی
بیٹے کو دیکھنے لگی
رومان میرا بچہ ہماری عزت خطرے میں ہے کچھ سمجھ نہیں آ رہی کیسے بچاؤں اپنی عزت کو ۔۔۔
کیا مطلب امی کیا ہوا ہے ایسا آپ ایسا کیوں کہ رہی ہیں ۔۔رومان پریشانی سے ماں کو دیکھتے ہوے بولا جن کی آنکھوں میں انجانا خوف تھا
وہ نور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔رقیہ کچھ کہتے کہتے ایک دم رک گئی
کیا امی بولیں کیا ہوا نور کو ۔۔۔۔کیا کیا اس نے
نور
نور ساتھ ہی رومان نور کو آواز دینے لگا
رقیہ نے رومان کو نور کو آوازیں دیتا دیکھ کر اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور خاموش رہنے کو اشارہ کیا ۔۔۔
جی بھائی ۔۔۔رومان کی آواز سن کر نور باہر آ گئی کمرے سے
آپ نے بلایا کوئی کام تھا ۔۔۔۔
اس سے پہلے رومان نور سے کچھ پوچھ پاتا رقیہ فورن بولی جاؤ بھائی کے لئے ناشتہ بنا کر لاؤ ۔۔
نور نا سمجھی سے سر ہلا کر چلی گئی
نور کو بیجھ کر رقیہ فورن رومان سے مخا طب ہوئی
رومان مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے نور سے متعلق
تم ناشتہ کر لو
پھر میرے کمرے میں آنا یہاں بات کرنا مناسب نہیں ہے
ٹھیک ہے امی ۔۔مجھے بھی آپ سے ایک بات کرنی ہے ضروری ۔۔تھوڑی دیر تک آپ کے پاس آتا ہوں
رقیہ اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئی
جب کے رومان منال کے نمبر پر میسج کرنے لگا
💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗
منال کے چہرے کا رنگ بدلتا دیکھ کر مہوش اس کے قریب آئ
اور بولی تمہیں کیا ہوا طبیعت تو ٹھیک ہے نہ
منال نے سر اٹھا کر مہوش کو دیکھا لیکن بولی کچھ نہیں
اور خاموشی سے چلتی ہوئی بیڈ کے کنارے بیٹھ گئی
تبھی منال کے موبائل پر میسج بیل ہوئی
منال نے جلدی سے فون اٹھایا
شائد شاہ ویز کی اطلا ع کا کوئی میسج ہو
میسج انجان نمبر سے آیا تھا منال نے اوپن کیا تو
کوئی تیرے جیسا نہ تھا …
تمہیں بھول جانے کا حوصلہ …
نہ تھا نہ ہے نہ ہو گا …
تو جدا دور رہ کر بھی …
نہ تھا نہ ہے نہ ہو گا …
تجھ سے مل کر کسی اور سے کیا ملنا …
کوئی تیرے جیسا نہ تھا نہ ہے نہ ہو گا ….
میسج پڑھ کے منال کا دل تیز تیز دھڑکنے لگا
میسج بیجھنے والے کوئی نام موجود نہیں تھا
منال نے مایوسی سے موبائل رکھ دیا ۔۔۔
اور اٹھ کر برقع پہنے لگی اور جلدی سے حجاب سیٹ کرتے ہوے بولی ۔۔
مہوش میں باہر جا رہی ہوں کچھ دیر تک آ جاتی ہوں
ارم منہ پھیلا کر بیٹھی تھی اس لئے اسے مخاطب نہیں کیا اور چپ کر کے باہر نکل گئی
منال اندر ہی اندر ڈر رہی تھی
اگر شاہ ویز نے سچ میں وہ کر دکھایا جس کا منال نے کہا تھا تو پھر ۔۔۔۔اس سے اگے جا کر منال کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہو رہی تھی
منال ہوٹل سے باہر نکل گئی اور روڈ پر چلنے لگی
منال یہاں کے راستوں سے واقف نہیں تھی
منال جلد سے جلد وہاں پہنچ جانا چاہتی تھی جہاں سے شاہ ویز کو کو د نے کا کہا گیا تھا
💗💗💗💗💗💗💗💗
رومان ناشتہ کرنے کے بعد ماں کے پاس ان کے کمرے میں چلا گیا
رقیہ بیڈ پر بیٹھ کر تسبیح پڑھ رہی تھی ساتھ ساتھ رومان کا انتظار کر رہی تھی
وہ اب مزید دیر نہیں کرنا چاہتی تھی رومان کو نور کے بارے میں سب بتا دینا چاہ رہی تھی
کیا بات ہے امی
آپ پریشان لگ رہی ہیں ۔
رومان بیٹا پہلے دروازہ بند کرو مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے نور کے بارے میں ۔۔
رومان نے جلدی سے دروازہ بند کیا اور ماں کے پاس آ کر بیٹھ گیا
جی امی بولیں ۔۔۔۔
رقیہ نے ساری بات بتا دی جسے سن کر رومان کے چہرے پر غصہ نمودار ہو گیا
اور وہ اٹھ کر کھڑا ہو گیا اور باہر جانے لگا ۔۔۔
رقیہ نے آواز دے کر روک لیا
نہیں رومان ۔۔۔ابھی نہیں غصہ اس کو الٹا اور باغی بنا دے گا تم آرام سے بات کرو اسے سمجھاؤ
لیکن امی ۔۔۔۔وہ اتنا بڑھ گئی ہے اور آپ مجھے آرام سے بات کرنے کا کہ رہی ہیں
ہاں بیٹا کیوں کے میں نہیں چاہتی وہ کچھ الٹا سیدھا کر بیٹھے ۔۔۔۔
ٹھیک ہے امی میں پہلے آرام سے بات کروں گا اگر وہ مان گئی تو ٹھیک ورنہ آپ مجھے مت روکنا
کہ کر وہ باہر نکل گیا نور کے کمرے کی طرف ۔۔۔
💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗
منال تیز تیز چل رہی تھی
تبھی منال کی نظر روڈ سے تھوڑا ہٹ کر ہجوم پر پڑی
منال نا سمجھی سے اس ہجوم کی طرف بڑھ گئی
اور پاس پہنچ کر دیکھنے لگی ۔۔
کیا ہوا ہے یہاں ۔۔۔۔۔
منال نے وہاں کھڑ ے ایک لڑکے سے پوچھا
یہاں ایکسیڈنٹ ہوا ہے ایک لڑکے کا کافی سیر یس ہے اسے بس ابھی ابھی ہوسپٹل لے کر گئے ہیں
ہوں کون تھا لڑکا ۔۔۔کہاں کا تھا کچھ پتا چلا ۔ منال کو ایک دم شاہ ویز کا خیال آیا
وہ لڑکا نا جانے کیا بولا ۔۔۔منال جلدی سے وہاں سے ہٹ کر اس پہاڑی کی طرف بڑھنے لگی جو برف سے ڈھکی ہوئی تھی ۔۔
منال کو بہت مشکل پیش آ رہی تھی برف پر چلنے سے
پاؤں برف کے اندر دھنس رہے تھے ۔۔۔۔
منال جلد سے جلد وہاں پہنچ جانا چاہتی تھی
بہت مشکل سے وہ وہاں پہنچی
وہاں اور بھی بہت سے لوگ انجوے کر رہے تھے
منال سب کے چہروں میں شاہ ویز کو تلاش کرنے لگی
پہاڑی نیچے کھائی کی وجہ سے زیادہ اونچی محسوس ہوتی لیکن اوپر سے وہ زیادہ اونچی نہیں تھی
منال نے نیچے کھائی میں جھانکا تو اسے ایک دم چکر آیا وہ فورن پیچھے ہٹ گئی
وہیں نیچے بیٹھ گئی اور آنکھوں میں آیا پانی صاف کرنے لگی
منال نہیں جانتی تھی شاہ ویز کہاں گیا ۔۔۔
یا اللہ‎ میری مدد کر
میرا دل اس کی محبّت پریقین کرنے کو چاہ رہا ہے پلیز اسے کچھ مت ہو وہ جہاں ہو خیریت سے ہو ۔۔۔۔۔
منال رو رہی تھی
اچا نک اس کے موبائل پر ارم کی کال آنے لگی
ہیلو منال کہاں ہو جہاں ہو جلدی پہنچو۔۔۔
کیا ہوا ارم سب خیر ہے ۔۔۔
خیر نہیں ہے منال وہ سر شاہ ویز ۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا ہوا شاہ ویز کو بولو ارم ۔۔۔وہ ٹھیک تو ہیں نہ کچھ ہوا تو نہیں ۔۔۔
ارم منال کے لہجے کی بے چینی نوٹ کر رہی تھی
بولو ارم ۔۔
تم بول نہیں رہی ۔۔۔۔
منال رونے لگی وہ تھک چکی تھی ۔۔
منال سر شاہ ویز ہوسپٹل ہیں ہم وہاں جا رہے ہیں تم جلدی سے آ جاؤ ۔۔۔۔میں ویٹ کر رہی ہوں ۔۔۔
ہوسپٹل کیوں کیا ہوا وہ ٹھیک تو ہیں نہ تم مجھے اصل بات کیوں نہیں بتا رہی ۔۔۔۔
وہ ایکچولی ان کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے تم جلدی آؤ کہ کر ارم نے فون بند کر دیا
منال کو اپنی جان ٹانگوں سے نکلتی محسوس ہوئی
💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗
نور میں یہ کیا سن رہا ہوں ۔۔۔
نور بیڈ پر بیٹھ کر موبائل پر میسج ٹائپ کر رہی تھی
رومان کو دیکھ کر نور نے موبائل رکھ دیا
اور کھڑی ہو گئی
جی بھائی کیا سنا ۔۔۔۔
یہ ظفر کون ہے اس کا کیا چکر ہے ۔۔۔۔۔
رومان نے پوچھا
نور نے سنجیدہ کھڑ ے رومان کو دیکھا
جی بھائی ۔۔۔۔۔
وہ ظفر اور میں ایک دوسرے سے پیار کرتے ہیں اور شادی کرنا چاھتے ہیں ۔۔۔
آپ پلیز امی ابو کو منا لیں وہ نہیں مان رہے
میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتی پلیز بھائی مان جائیں
نور تمہیں پتا ہے تم کیا کہ رہی ہو ۔۔
تمہارا رشتہ طے ہوچکا ہے اب کچھ نہیں ہو سکتا تمہاری شادی وہیں ہو گی جہاں ابو نے طے کر دی ہے ۔۔۔
بہتر یہی ہے اسے بھول جاؤ ۔۔۔۔
اور چپ کر کے شادی کی تیاری کرو
لیکن بھائی میں یہ شادی نہیں کروں گی۔۔۔
میں صرف ظفر سے کروں گی جو مرضی ہو جائے ۔۔
نور
ہٹ دھرمی سے بولی ۔۔۔
رومان کو نور کی بات سن کر غصہ آ گیا ۔۔۔۔
کیا کہا تم نے تمہیں شرم نہیں آتی ۔۔
ایسی با ت کرتے ہوے اب اگر دوبارہ ظفر کا نام لیا تو اچھا نہیں ہو گا سمجھی تم ۔۔
انگلی سے نور کو وارننگ دیتا رومان بولا ۔۔
کیوں بھائی میں کیوں نہیں کر سکتی اگر معیز بھائی کر سکتے ہیں تو میں بھی کر سکتی ہوں ۔۔۔
بکواس بند کرو نور ورنہ ۔۔۔
ورنہ کیا بھائی آپ مجھے چپ نہیں کروا سکتے آپ نے بھی تو منال سے پیار کیا تھا منگنی کی ۔۔۔
اب اگر میری بات آئ تو مجھ پر غصہ آ رہا ہے پابندیاں لگ رہی ہیں لیکن میری بات سن لیں میں ظفر کے سوا کسی سے شادی نہیں کروں گی ۔۔۔
نور کی بات جیسے ہی مکمل ہوئی رومان کا ہاتھ اٹھا اور نور کے گال پر پڑا ۔۔۔
دیکھتا ہوں کیسے کرتی ہو ظفر سے شادی تم اب ۔۔۔
رومان کہ کر باہر نکل گیا ۔۔۔
دیکھتی ہوں میں بھی کیسے روکتے ہیں مجھے شادی تو میں صرف اسی سے کروں گی ۔۔۔
💗💗💗💗💗💗💗
منال جیسے ہی ہوٹل پہنچی
پارکنگ میں ارم عمیر فواد کھڑ ے تھے ۔۔۔
منال جلدی سے ان کے پاس گئی اور بولی ۔۔۔
کیسے ہیں شاہ ویز ۔۔۔
وہ ہوش میں تو ہیں نہ ۔۔۔
پتا نہیں کیسا ہے ہم لوگ تمہارا ویٹ کر رہے تھے کے آؤ تو نکلیں ۔۔
جلدی سے بیٹھو گاڑی میں ۔۔۔۔
منال ارم کے ساتھ پیچھے بیٹھ گئی
آنکھوں میں آنسو تھے تو زبان پر ورد ۔۔۔۔
ارم نے اس کی حالت دیکھی تو اس کا ہاتھ پکڑکر حوصلہ دیا ۔۔
کچھ نہیں ہو گا سب ٹھیک ہو جائے گا
تم پلیز پریشان مت ہو نا رو ۔۔۔۔
ارم وہ میری وجہ سے اس حال میں پہنچا ہے میرا قصور ہے ۔۔۔۔
اگر میں اسے نہ کہتی تو کبھی ایسا نہ ہوتا ۔۔۔
اگر اسے کچھ ہو گیا تو میں کیسے معاف کر پاؤں گی خود کو ۔۔۔منال کہ کر رونے لگی
کچھ نہیں ہوتا تم الٹا مت سوچو سب ٹھیک ہو جائے گا ارم بولی ۔۔۔
منال کا بس نہیں چل رہا تھا وہ اڑ کر ہوسپٹل پہنچ جائے اگلے دس منٹ بعد وہ لوگ ہوسپٹل تھے ۔۔۔۔
عمیر اور فواد بھاگ کر ریسپشن پر پہنچے
اور پوچھنے لگے ۔۔۔
اس کے بعد وہ منال اور ارم کے پاس آے اور بولے ۔۔۔
تم دونو ں بیٹھ جاؤ
اور دعا کرو وہ ٹھیک ہو کیوں کے ابھی کچھ نہیں بتا رہے ڈاکٹر ۔۔۔
منال نے آنسو بھری آنکھوں سے عمیر کی بات سنی اور اٹھ کر واش روم چلی گئی وضو کرنے ۔۔۔
💗💗💗💗💗💗💗💗💗
رومان غصے سے باہر نکلا تھا
وہ فیاض کے پاس پہنچ کر ان سے بات کر کے
نور کی شادی جلد سے جلد کر کے یہاں سے دفع کرنا چاہ رہا تھا اب ۔۔
💗💗💗💗💗
نور نے غصے سے دروازہ بند کیا اور بیگ میں اپنے کپڑے
ز یور اور پیسے رکھنے لگی ۔۔۔
بیگ احتیاط سے بند کر کے بیڈ کے نیچے رکھا اور باہر نکل کر کچن میں چلی گئی چا ے بنانے کے لئے ۔۔۔
رقیہ سو رہی تھی ۔۔۔۔
رومان باپ کے پاس گیا تھا ۔۔
نور کے پاس موقع تھا بھاگنے کا ۔۔۔
نور جلدی سے کچن سے نکلی اور کمرے میں پہنچ کر فون کرنے لگی ۔۔۔
ہیلو ظفر تم کہاں ہو ۔۔
موقع اچھا ہے ابا اور بھائی گھر نہیں بھاگ جاتے ہیں ابھی ۔۔
نہیں نور ابھی نہیں میں اس وقت دوسرے شہر آیا ہوں ابھی نہیں آ سکتا ۔۔
اور ابھی بھاگنا مناسب نہیں پکڑے جائیں گے آج رات تک ویٹ کرو تم بس ۔۔۔
لیکن ظفر ۔۔۔۔
بس میں نے کہ دیا تم سمجھو میری بات کو رات کو ایک بجے تیار رہنا کہ کر ظفر نے فون بند کر دیا
نور نے بند فون دیکھا اور بیڈ پر لیٹ گئی
💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗
شاہ ویز کی حالت نازک تھی
ڈاکٹرز نے دعا کرنے کو کہا تھا سر پر چھوٹ لگنے سے خون کافی بہہ گیا تھا
منال نفل پڑھ کے شاہ ویز کے لئے دعا کرنے لگی
ارم اور فواد بھی پریشان تھے
عمیر کی جان سولی پر لٹکی ہوئی تھی
منال دعا مانگنے کے بعد عمیر کے پاس آئ اور شاہ ویز کی حالت کا پوچھا
عمیر ایک دم پھٹ پڑا
اب خوش ہو جاؤ تمہاری مراد پوری ہو گئی یہی چاہتی تھی تم اب تمہیں کیا وہ جئے یا مرے تم کیوں فکر کر رہی ہو ۔۔۔
ارے وہ پاگل تم سے پاگلوں کی طرح پیار کرتا رہا اور تم نے کیا صلا دیا اسے ۔۔۔۔منال تم صرف اپنا سوچتی ہو دوسروں کا نہیں ۔۔
تم نے بہت برا کیا شاہ ویز کے ساتھ ۔۔
اگر شاہ ویز کو کچھ ہوا تو میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گا
اب ان آنسوؤ ں کا کوئی فائدہ نہیں منال بی بی ۔۔۔منال کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر عمیر بولا
منال عمیر کی باتوں سے ہرٹ ہوئی بہت اور روتی ہوئی بھاگ کر ہوسپٹل سے باہر آ گئی
💗💗💗💗💗💗💗💗
شام کو فیاض اور رومان واپس آے تو دونو ں خاموش تھے
نور نے خاموشی سے چا ے بنائی اور جا کر دونو ں کے اگے رکھی ۔۔
نور بیٹھو مجھے بات کرنی ہے فیاض بولے
نور بیٹھ گئی
دو دن بعد تمہارا نکاح ہے کل جا کر ماں اور بھائی کے ساتھ شاپنگ کر لینا اپنی پسند سے ۔۔۔۔
نور نے ایک دم نظریں اٹھا کر باپ کو دیکھا اور بولنے کے لئے لب کھولنے لگی تبھی فیاض بولے ۔۔۔
بس میں نے کہ دیا جو کہنا تھا اب جا سکتی ہو تم ۔۔۔
نور غصے سے اٹھی اور کمرے میں چلی گئی ۔۔۔
فیاض مجھے ڈر لگ رہا ہے بہت رقیہ بولی ۔۔۔
اتنی جلدی سب کیسے ہو گا تیاری کرنی ہے ساری ۔۔
کل جا کر کر لینا جو جو لانا ہے لے آنا ویسے بھی نکاح ہے شادی نہیں ہو رہی ۔۔
حالا ت ہی ایسے ہیں سب جلدی میں کرنا پڑ رہا ہے
تم فکر نہ کرو سب ٹھیک ہو گا فیاض تسلی دیتے ہوے بولے ۔۔۔۔۔
💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗
رات کو سب کے سونے کے بعد نور جاگتی رہی
نور نے کھا نے میں نیند کی گولیاں مکس کر کے سب کو کھانا دیا ۔۔۔
سوا بارہ کے قریب نور کے نمبر پر کال آئ
نور نے ظفر کا نمبر دیکھ کر کال اٹھا لی
نور میں گھر سے نکل چکا ہوں تھوڑی دیر تک تمہارے پاس ہوں گا گاڑی میں تمہارے گھر سے دور پارک کروں گا تمہیں بیل دوں گا تم باہر آ جانا آرام سے ۔۔۔
نور نے اوکے کہ کر فون بند کر دیا اور بیٹھ کر خط لکھنے لگی ۔۔۔۔۔۔۔
💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗
نور نے آخری نظر اپنے کمرے کو دیکھا اور آرام سے باہر نکل کر ماں کے کمرے میں گئی
اور آرام سے دروازہ کھول کر ماں اور باپ کو بیڈ پر سوتا پا کر وہ آرام سے چلتی ان کے قریب ای
اور پاؤں پر ہاتھ رکھ کر دل میں معافی مانگتی اور ٹیبل سے
چابی اٹھا کر تالے کی وہ فورن باہر نکل ای
رومان سو رہا تھا باہر سے اس کے کمرے کے دروازے کو دیکھ کر آنسو صاف کرتی
وہ صحن میں آگئی
اور آرام سے دروازے کھولنے لگی
نور نے آخری نظر پورے گھر کو دیکھا اور دیلیزپار کر گئی ۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *