Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer NovelR50758 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode04
No Download Link
581.2K
29
Rate this Novel
Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode01 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode02 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode03 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode04 (Watching)Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode05 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode07 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode08 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode09 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode10 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode11 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode12 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode13 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode14 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode15 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode16 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode17 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode18 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode19 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode20 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode21 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode22 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode24 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode25 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode26 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode27 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode28 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Last Episode Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode23 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode06
Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode04
Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode04
ماضی
معیز اور رومان باپ کے پاس آ کے بیٹھ گئے اور باپ کے بولنے کا انتظار کرنے لگے ۔۔۔۔
ر قیہ بھی آ کے بیٹھ گئی اور بولی اب بتائیں کیا بات ہوئی وہاں ۔۔۔۔
تبھی وقاص احمد گلہ صاف کرتے ہوے بولے ۔۔۔۔!!!!!
معیز تمہاری ما ں تمہاری شادی مشعل سے کرنا چاہتی ہیں کیا تمہیں اس بات کا علم ہے اس نے مجھے وقار سے تمہارے اور مشعل کے رشتے کی بات کرنے کو کہا تھا جب کے یہ جانتی ہے مشعل کا رشتہ ہو چکا ہے اس کی شادی کی
تیا ر یا ں بھی شروع ہیں ۔۔۔۔لیکن اس عورت نے مجھے مجبور کیا میں اپنے بھائی سے نظر یں نہیں ملا پا رہا تھا شرمندگی سے ۔۔۔۔۔۔۔
رقیہ وقاص کی بات کاٹتے ہوے بولی نہ میں نے ایسی کون سی بات کر دی تھی جو آپ کو شرمندگی ہوئی بس مشعل اور معیز کے رشتے کی ہی بات کی تھی نہ کیا کمی ہے معیز میں ہر چیز تو ہے پاس اس کے ۔۔۔۔وہ وقاص کو غصنے سے دیکھتی ہوئی بولی ۔۔۔۔
معیز بولا اما ں میں نے آپ کو منا کیا تھا مجھے مشعل سے شادی نہیں کرنی پھر آپ نے کیوں ابا سے بات کی وہاں رشتے کی معیز غصے سے بولا ۔۔
تو چپ کر تیرا کسی نے مشورہ نہیں مانگا ۔۔۔۔رقیہ بیٹے کو ڈانٹتے ہوے بولی ۔۔۔
اما ں میری بھی بات سن لے میری شادی صرف صباء سے ہو گی اور کسی سے نہیں
میں بھی دیکھتی ہوں کیسے کرتا ہے اس سے شادی تو ۔
رومان دونو ں کو آپس میں لڑتا دیکھ کر بولا چپ کر جائیں آپ دونو ں ابا نے جس بات کے لئے بلا یا وہ سن لیں ۔۔۔۔
معیز غصے سے باہر جانے لگا تو وقاص احمد نے آواز دے کر کہا ابھی میری بات مکمل نہیں ہوئی بیٹھ جاؤ چپکر کے اب آواز نہ آے دو نو ں کی ۔۔۔
دونو ں چپ کر کے بیٹھ گئے تو وقاص احمد بولے ابا جی نے فیصلہ کیا ہے مشعل کی جگہ وہ منال کا رشتہ رومان کے ساتھ کرنے کو تیار ہیں کیوں کے اب کچھ نہیں ہو سکتا پہلے کہاں تھے جب مشعل کا رشتہ نہیں ہوا تھا اس وقت مانگ لیتے اب مشعل کا اور معیز کا نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔
رو ما ن تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں اس رشتے سے تم خوش ہو نہ اگر دونو ں کا ہو جائے تو ۔۔۔وقاص رومان سے اس کی رضا مندی پوچھتے ہوے بولے
رومان باپ کی بات سن کر خوش ہو گیا وہ دل ہی دل میں منال سے محبت کرتا تھا اب وہ آسانی سے اپنی محبّت پا رہاتھا اسے کیا اعتراض ہونا تھا ۔۔
رومان بولا تو خوشی اس کے چہرے سے جلک رہی تھی مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے آپ میری طرف سے ہاں ہے ابو جی ۔۔۔۔۔
رومان کا ہاں میں جواب دیکھ کر رقیہ فور ن بولی ایسے کیسے رومان تو ما ن گیا میرے پوچھے بغیر میں ابھی زندہ ہوں تری شادی میں نے اپنے بھائی کے گھر کرنی ہے منال سے نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔اگر وہ مشعل کا رشتہ نہیں دیتے تو ہم نے بھی نہیں منال کا کرنا ۔۔۔۔۔۔
اور وقاص احمد آپ انکار کر دیں کے ہمیں منظور نہیں یہ رشتہبس ۔۔۔۔۔
رومان کو ماں کی بات سن کر دکھ پونچھا ۔۔۔۔۔۔وہ بولا امی مجھے کوئی اعتراض نہیں میں راضی ہوں منال مجھے پسند ہے ۔۔۔۔
واہ جی واہ ۔۔۔۔۔۔۔ایسا کیا جادو کر دیا اس نے تج پر جو تو اپنی ماں سے زبان چلارہا ہے۔۔۔۔۔۔کہ دیا نہیں کرنا تو مطلب نہیں کرنا دونو ں ماں بیٹیاں جادو گر نیا ں ہے پہلے ماں نے وقار احمد پر کیے اب بیٹی میرے بیٹے پر کرنے لگی ہے ۔۔۔۔۔۔رقیہ کے لہجے میں نفرت ہی نفرت تھی ۔۔۔۔
وقاصاحمد جو کب سے خاموش بیٹھنے تھے بیوی کی باتیں سن رہے تھے ۔۔۔۔
غصے میں بولے : مجھے فرق نہیں پڑتا تم راضی ہوتی ہو یا نہیں میرے بیٹے نے میرا ما ن رکھ لیا ہے میں راضی ہوں میرا بیٹا راضی ہے۔ ۔۔۔۔فیصلہ ہو گیا ہے منال اور رومان کا رشتہ ہو گا مرضی ہے تم شامل ہو یا نہ ہو ۔۔۔۔۔وقاص احمد کہتے باہر نکل گئے ۔۔۔۔۔ان کے پیچھے معیز اور رومان بھی کمرے سے باہر چلے گئے ۔۔۔۔۔
پیچھے غصے سے رقیہ کی آواز آئ جو غصے سے پاگل ہو رہی تھی دیکھتی ہوں کیسے کرتے ہیں میری مرضی کے خلاف ۔۔۔۔۔۔
*************************
اور پھر وہی ہوا جو وقاص احمد نے چاہا رقیہ کے لا کھ منا کرنے کے باوجود ،رقیہ نے گھر چھوڑنے کی دھمکی دی ۔خود کشی کی دھمکی دی سارے ہر بے آ ز ما ے ۔۔۔۔
وقاص احمد نے ان کی کسی بھی بات کو کوئی اہمیت نہ دی الٹا طلاق کی دہمکی دے دی ۔۔۔۔۔
جس پر رقیہ کے سارے ڈرامے جاگ کی طرح بیٹھ گئے اور وہ وقتی چپ کر گئی اور بے دلی سے منگنی کی تیاری
شروع کر دی لیکن دل میں وہ مزید بد زن ہو گئی تھی ا ور ان کے دل میں نفرت مزید بڑ ھ گئی تھی ۔۔۔۔۔
*********************
رقیہ کے دل میں آسیہ اور اس کی بیٹیوں کے خلاف سخت نفرت پیدا ہو چکی تھی ۔۔۔ لیکن مجبوری کے تحت وہ چپ کر گئی تھی وقتی ۔۔۔لیکن دل ہی دل میں وہ پچھتانا رہی تھی کہ انہوں نے کیوں مشعل اور معیز کے رشتے کی بات چھیڑی ۔۔۔
الٹا رومان اور منال کا رشتہ پکا ہو گیا
دل ہی دل میں انہوں نے ارادہ کر لیا تھا وہ یہ رشتہ کبھی تکمیل تک نہیں پونچھنے دیں گی ۔۔۔۔
************************************
ردا کے اسکول پارٹی تھی جس کے لئے اسے نیا ڈریس چاہیے تھا ۔۔۔
منال نے وعدہ کیا تھا وہ اسے اس کی پسند کا سوٹ لے کر دے گی اگلے دن اسکول سے آنے کے بعد کھانا کھا کر منال ردا کو لے کر لبرٹی مارکیٹ آ گئی ڈریس لینے
ردا کو کوئی ڈریس پسند نہیں آ رہا تھا وہ ایک شاپ سے دوسری شاپ میں دیکھے جا رہی تھی لیکن اسے کچھ پسند نہیں آ رہا تھا ۔۔۔۔
تنگ آ کر منال نے ردا کو ڈانٹا اور کہا جلدی کرو مجھے اکیڈمی بھی جانا ہے اور تمیں ڈریس ہی پسند نہیں آ رہا ۔۔۔۔۔۔
جس پر ردا کا منہ سوج گیا اور وہ خاموشی سے ایک شاپ پر جا کر ڈریس دیکھنے لگی ۔۔۔
منال کو دکھ ہوا کے اس نے ردا کو ڈانٹا ہے مگر وہ چپ کر کے کپڑے دیکھتی رہے اگر وہ ذرا سا لاڈ دکھاتی تو ردا نے پھر بہت وقت لگا دینا تھا ۔۔۔
اللہ اللہ کر کے ردا کو ایک ڈریس پسند آیا ڈارک بلو فراک پر پنک کلر کی کڑھائی ہوئی وی تھی بلو چوڑی دار پاجامہ اور دوپٹہ تھا ساتھ ۔۔۔
کپڑے لینے کے بعد منال نے ایک سوٹ امی کے لئے لیا اور ردا کو جوتی کا جوڑا لے کر دیا اس دوران ردا کا موڈ آف ہی رہا ۔۔ ۔۔۔تو منال اس کا موڈ ٹھیک کرنے کے لئے بولی آئس کریم کھاؤ گی منال جانتی تھی آئس کریم میں تو ردا کی جان ہے لیکن منال کو خیرت کا جٹکا لگا جب ردا نے صاف منا کر دیا اور گھر جانے کو بولا ۔۔۔۔
منال ردا کو وہیں روکنے کا کہ کر خود آئس کریم لینے چلی گئی ۔۔۔۔۔
ردا وہیں مال میں کھڑی ہو کے اگے پیچھے دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔
گفٹ شاپ پے ردا کوڈسپلے پے ایک بہت خوبصورت سا شیشے سے بنا گھر نظر آیا ردا چلتی ہوئی پاس آ گئی اور کھڑی ہو کے دیکھنے لگی ردا نے ٹچ کر کے دیکھا ۔۔۔۔ شیشے کے گھر میں کانچ کا ہی صوفہ بیڈ پڑے تھے ۔۔۔۔ردا نے قیمت پوچھی شاپ والے سے اس نے پانچ ہزار بتائی ۔۔۔۔۔۔۔ردا قیمت ہی سن کے پیچھے ہو گئی تبھی ردا کی ٹکر شاپ میں داخل ہوتے لڑکے سے ہوئی اور ردا کے گرنے اور ہاتھ لگنے کی وجہ سے وہ شیشے کا گھر بھی نیچے گر کر چور چور ہو گیا ۔۔ ۔۔۔۔
ردا کا سانس اوپر کا اوپر اور نیچے کا نیچے رک گیا ۔۔۔شاپ کا مالک بھاگتا پاس آیا اور ردا برسنے لگا کہ یہ کیا کر دیا ہے اب نقصان کیا ہے تو اس کی قیمت بھی دینی پڑے گی ۔۔۔ ۔۔
ردا جو ایک دم پریشان ہو گئی تھی ہمت کر کے اٹھی اور بولی میں نے کوئی نقصان نہیں کیا یہ میری وجہ سے نہیں ٹوٹا اس لڑکے کی وجہ سے ٹوٹا ہے اور نقصان کی قیمت میں نہیں بلکہ یہ لڑکا دے گا اس سے قیمت لے آپ ۔۔۔۔
تبھی وہ لڑکا بولا میں کیوں دوں قیمت یہ میری وجہ سے نہیں ٹوٹا آپ کو دیکھ کر چلنا چاہیے تھا نظر خود نہیں آتا الزام دوسروں پر لگا رہی ہو تم ۔۔۔۔۔۔۔۔
میں کیوں دوں قیمت تمیں دیکھ کر چلنا چاہیے تھا تمہاری وجہ سے گرا ہے قیمت تو تمہیں دینی ہی پڑے گی ۔۔۔۔۔
عجیب زبردستی ہے ایک تو نقصان خود کیا اور پھر اس کا الزام بھی دوسروں پر لگا رکھی ہو وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاپ والا پریشان ہو کر کبھی ایک کا منہ دیکھے اور کبھی دوسرے کا منہ
تنگ آ کر بولا نقصان جس نے بھی کیا ہے مجھے پیسے چاہیے اور میں لے کر رہوں گا ۔۔۔۔۔۔۔
تبھی ردابولی یہ آپ کے سامنے کھڑا ہے آپ اس سے اپنے نقصان کے پیسے لے لیں میرے پاس کوئی پیسے نہیں ہیں دیکھ لے میرا بیگ بالکل خالی ہے ۔۔۔۔۔
شاہ ویز غصے سے پیچ و تاب کھانے لگا کہ عجیب ڈ ھائی ہے ایک تو نقصان خود کیا اور پھر اس کی بھرپائی بھی دوسروں سے کروا رہی ہے ۔۔۔۔۔
تبھی ولید شاپ میں آیاوہ جو شاہ ویز کو اگے پیچھے ڈھونڈ رہا تھا شاپ سے آواز ای تو اس طرف دیکھنے سے پتا چلا وہ کوئی اور نہیں شاہ ویز تھا جو ایک چھوٹی سی لڑکی سے بحث کر رہا تھا ۔۔۔۔۔
ردا بولی میں شاپ سے باہر جا رہی تھی تو یہ اچانک اندر داخل ہوئے ان کے اندر داخل ہونے کی وجہ سے ان کی ٹکر مجھ سے لگی جس کی وجہ سے یہ شیشے کا گھر نیچے گرنے سے ٹوٹ گیا اب آپ بتائیں کس کی غلطی ہے میری یا ان کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہ ویز کا موڈ سخت خراب ہو گیا تھا اس لڑکی کی وجہ سے تبھی وہ غصےمیں شاپ والے کو پیسے پکڑا کر باہر نکل گیا ۔۔۔۔۔۔
منال آئسکریم لے کر آئ تو وہاں ردا کو موجود نہ پا کر ماگے پیچھے دیکھنے لگی ۔۔۔۔ لیکن ردا کہیں نظر نہ آئ منال پریشان سی اسے تلاش کرنے لگی ۔۔۔۔۔۔۔
تبھی شاہ ویز جو غصے سے شاپ کے اندر سے نکلا تھا ایک دم منال سے ٹکرا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔افففف دیکھ کر نہیں چل سکتے آپ منال کے ہاتھ میں پکڑی آئس کریم شاہ ویز کی شرٹ پر اور کچھ اپنے اوپر گرنے کی وجہ سے دونو ں کے کپڑے خراب ہو گئے۔۔۔۔۔
شاہ ویز جو آگے ہی غصے میں تھا اور اب اپنی شرٹ پر گرنے والی آئس کریم دیکھ کر وہ مزید آگ بگولا ہو گیا ۔۔۔۔
اور بولا محترمہ میں تو دیکھ کر کی چل رکھا تھا مجھے لگتا ہے آپ کی نظر کمزور ہے جو آپ کو میں نظر نہیں آیا
مجھے تو لگتا ہے آپ مجھ سے جان بوج کر ٹکرای ہیں ۔اور اب الزام بھی مجھ پر لگا رہی ہیں واہ بہت خوب ۔۔۔۔۔۔
ا گر اتنا ہی شوق ہے تو باہر دروازے کے آگے کھڑے ہو جائیں وہاں سے بہت سے لوگ آ جا رہے ہیں ان سے جا کے ٹکرا لیں ۔۔۔۔شاہ ویز غصے سے بولا ۔۔۔۔
منال شاویز کی بات پر غصے میں آ گئی اور بولی ۔۔۔۔!!!!
مجھے کوئی شوق نہیں آپ سے جان بوجھ کر ٹکر ا نے کا
سوری بولنے کی بجاے آپ الٹا سر چڑ رہے ہیں پتا نہیں کیا سمجھتے ہیں خود کو ۔۔۔۔۔۔۔
شاہ ویز اور منال کو آپس میں الجتے دیکھ کر ولید نے اپنا سر ہاتھوں میں گرا لیا اور شاہ ویز کی جگہ سوری بولتا اس کا ہاتھ پکڑ تا مال سے باہر لے گیا
شاہ ویز نے بولا تو نے سوری کیوں کی تیری کوئی غلطی نہیں تھی ۔۔۔۔۔غلطی اس لڑکی کی تھی
چل یار کوئی نہیں ہو گیا جو ہونا تھا اب موڈ ٹھیک کر اپنا ۔۔۔۔ولید بولا
کیسے موڈ ٹھیک کروں پہلے وہ شاپ پے لڑکی ٹکرا ئ پھر یہ ساری شرٹ خراب کر دی ۔۔۔۔۔چھوڑوں گا نہیں دونو ں کو ملے ذرا دوبارہ ۔۔۔۔۔شاہ ویز غصے سے بولا ۔۔۔۔۔
بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی ابھی تو چل یہاں سے ۔۔۔۔۔ولید اسے لے کے اپنے فلیٹ پر چلا گیا ۔۔۔۔۔
*********************************************
ردا بھی منال کو ڈھونڈتی اس کے پاس آ گئی اور بولی آ گئی آپی کہاں ہے آئس کریم ۔۔۔۔۔۔۔
ردا کو دیکھ کر منال بولی کہاں تھی تم کب سے ڈھونڈ رہی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔بغیر بتا ے کہاں غائب ہو گئی تھی پتا ہے کتنا پریشان ہو گئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
سوری آپی میں بس ایسے ہی بور ہوئی تو ونڈو شاپنگ کرنے لگی ۔۔۔۔۔۔۔وہ باقی بات چھپا گئی وہ نہیں چاہتی تھی منال پریشان ہو ۔۔۔۔۔۔۔
اوکے سہی ہے نیکسٹ ایسا نہ ہو بغیر بتا ے کہیں نہ جانا اب چلو گھر دیر ہو رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔
لیکن آپی آئس کریم ۔۔۔۔کہاں ہے ردا بولی ۔۔۔۔۔
لائی تھی تمیں ڈھونڈنے میں گر گئی اب چلو نئی لے لینا ۔۔۔۔
آئس کریم لینے کے بعد دونو ں گھر آگئی اور چینج کرنے کے بعد منال اکیڈمی چلی گئی آج پہلا دن تھا وہ نہیں چاہتی تھی لیٹ ہو ۔۔۔۔
******************************
منال ادھر آنا یہ پردہ یہاں لگا دو منال جو ہاتھ میں کپڑا پکڑے گھر کا کونہ کونہ چمکا رہی تھی امی نے ڈرائنگ روم میں آواز دے کر بلایا ۔۔گھر میں کہیں بھی پردے لگوا نے ہوتے تو منال کو ہی آواز دی جاتی اس کے قد کی وجہ سے ۔۔مشعل کا قد اپنی امی پر چلا گیا تھا نارمل جب کے منال کا قد مشعل سے بڑا تھا اور اس کی ہائیٹ اپنے بابا پر چلی گئی تھی۔۔۔۔۔
مشعل کی شادی کی تاریخ رکھنے آج اس کے سسرال والوں نے آنا تھا صبح سے گھر میں ہل چل مچی ہوئی تھی سب اپنی اپنی ذمہ داری نبا رہے تھے ۔۔۔۔۔
آسیہ نے منال اور رومان کے رشتے پر رقیہ کی وجہ اعتراض بہت کیا ان کے دل میں وہم بہت آ رہے تھے وہ اچھے سے جانتی تھی رقیہ کی فطرت کو ۔۔۔۔۔۔
منال سےجب پوچھا گیا اس رشتے رشتے کے بارے میں تو اسے کوئی اعتراض نہ تھا وہ بھی رومان کو پسند کرنے لگی تھی شائد اس کے پیچھے بھی رومان کی محبّت کا ہی ہاتھ تھا جو منال کو دیکھ کر اس کی آنکھون میں سمٹ آتی تھی ۔۔۔گو کے رومان نے اظہار کبھی نہیں کیا تھا لیکن منال سے یہ بات چھپی نہ رہ سکی ۔۔۔
گھر کے سارے کام مکمل ہو چکے تھے مشعل کے سسرال والوں نے ایک گھنٹے تک آنا تھا ۔۔۔
مشعل بہت خوش تھی اسے بھی علی بہت پسند آیا تھا اور خوشی مشعل کے چہرے سے ظاہر ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔مشعل نے گرین کلر کا ہلکے کام والا سوٹ پہنا tتھا جو اس کی گوری رنگت پر بہت جچ رہا تھا بالوں کی لمبی چٹیا بناے اور پنک کلر کی لپ ا سٹک اور آنکھوں میں کاجل لگاے وہ بہت پیاری لگ رہی تھی امی بار بار صدقے واری جا رہی تھی اور دعا کر رہی تھی کسی کی نظر نہ لگے مشعل کی خوشیوں کو ۔۔۔۔۔۔۔
منال تیار ہونے کمرے میں چلی گئی منال نے پنک قمیض جس میں چھوٹے چھو ٹے وائٹ اور پنک کلر کے پھول بنے ہوے تھے ساتھ وائٹ کیپر ی اور پنک اور وائٹ میں کنٹراس دوپٹہ تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کاجل کی لکیر کھینچے آنکھوں میں اور پنک کلر کا لپ گلو ز لگاے ، لمبے بالوں کو پونی ٹیل کی شکل میں بناے وہ بہت پیاری اور معصوم لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔
منال Keکے لبو ں پر ہلکی ہلکی مسکان تھی رشتے کے فائنل ہونے کے بعد آج پہلی دفع اس کا سامنا رومی سے ہوناتھا ۔۔۔۔۔
وہ تیار ہو کر کمرے سے باہر آئ تو چاچو کی فیملی آ چکی تھی وہ ڈرائنگ روم میں جانے کی بجاے کچن میں آ گئی کولڈ ڈرنک سرو کرنے کے لئے وہ گلاسوں میں بوتل ڈال رہی تھی جب امی کچنمیں آئ اور بولی بیٹا چا ے بھی ساتھ ہی بنا لینا تمیں پتا ہے تمہارے چچا چا ے شوق سے پیتے ہیں اور کولڈ ڈرنک لے کے ڈرائنگ روم میں ہی آ جانا مل لو ان سے
اب سو کرو تمہارا ہونے والا سسرال ہے ۔۔۔۔۔۔منال اچھا امی کہتی ٹرے اٹھا کر ڈرائنگ روم میں چلی گئی اور سلام کرنے کے بعد پہلی نظر سامنے بیٹھے وائٹ کاٹن کا سوٹ پہنے رومان پر پڑی جو بابا کے ساتھ کسی بات پر ہنس رہا تھا ۔۔۔۔رومان نے نظر اٹھا کر منال کو دیکھا اور سلام کا جواب دیا ۔۔۔۔۔۔منال اگے بڑھ کر چچا کو ملی اور چچی اور نور کو ملی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔چچی بظاہر ببڑھے پیار سے ملی منال کو اور پاس جگہ بنا کر بیٹھنے کو بولا ۔۔۔۔۔۔
منال بیٹھ گئی منال کے سامنے والے صو فے پے رومان بابا کے ساتھ بیٹھا تھا ۔۔۔۔۔۔رومان چوری چو ری ایک نظر نور اور چچی سے بات کرتی منال پر ڈال لیتا ۔۔۔۔اور جب منال کی نظر ملتی تو وہ شرماکر سر جھکا لیتی ۔۔۔۔۔۔۔
تبھی باہر شور ہوا مشعل کے سسرال والے آ گئے تو منال موقع پا کر باہربھاگ گی کیوں کے منال کے لئے مزیدوہاں بیٹھنا مشکل ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*********************
جاری ہے
