Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode18

Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode18

لگاتار گاڑی چلنے کی وجہ سے اس کا انجن گرم ہو گیا اور گاڑی بس بند ہو گئی
وہ مری کی حدود میں داخل ہو چکے تھے ۔۔
عمیر نے ڈرائیور سے اتر کر پوچھا تو اس نے بولا تھوڑی دیر ریسٹ کرنے دیں گاڑی کو ۔۔انجن ٹھنڈا ہو گا تو دوبارہ سٹارٹ ہو جائے گی
ابھی بہت گرم ہے گاڑی نہیں چل پاےُ گی
سب گاڑی سے اتر کر نیچے انے لگے ۔۔
باہر ٹھنڈ نے منال کا استقبال کیا ۔۔۔
منال ایک دم کانپنے پر مجبور ہو گئی
سب اپنی اپنی فیورٹ جگہ پر ریسٹ کرنے کی نیت سے بیٹھ گئے
وہ لوگ اونچائی پر تھے
شاہ ویز اور عمیر دونو ں باتیں کرنے میں مصروف ہو چکے تھے
شاہ ویز باتیں عمیر سے کر رہا تھا
لیکن دیکھ منال کو رہا تھا
منال کا چہرہ میک اپ سے بالکل عا ری تھا
بلا کی معصومیت تھی وہاں
منال آنکھیں بند کیے اپنے خود کو ریلیکس کر رہی تھی ۔۔
منال کی لمبی پلکوں میں وقفے وقفے سے جنجش ہو رہی تھی ۔۔
شاہ ویز کو وہ بہت معصوم سی گڑیا کی طرح لگی
اس کا دل کیا وہ اس کے چہرے کے ہر ایک نقش کو چھو کر دیکھے ۔۔۔
عمیر نے شاہ ویز کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا ۔۔۔
تم پسند کرنے لگے ہو اسے ۔۔۔
عمیر نے شاہ ویز سے پوچھا
شاہ ویز کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی اور مڑ کر عمیر کو دیکھنے لگا اور بولا ۔۔!!!
شائد ۔۔۔۔۔۔۔ہاں
کیا مطلب میں سمجھا نہیں ۔۔عمیر نے نا سمجھی سے اسے دیکھا
یار فلحال میں خود نہیں سمجھ پا رہا ۔۔۔یہ پیار ہے یا کوئی وقتی جذبہ ۔۔۔۔۔
بس اتنا سمجھ لے
رات سونے تک اس کا چہرہ میری آنکھوں کے سامنے رہتا ہے
عمیر جان چکاتھا شاہ ویز کو منال سے پیار ہو چکا ہے
کیوں کے منال کو سامنے پا کر
جس طرح شاہ ویز کھو جاتا اور اس کے چہرے پر کہیں رنگ منال کو دیکھ کر آ جاتے تھے ۔۔
گاڑی میں منال کا ہاتھ پکڑ کر بیٹھا نا اس سے باتیں کرنا ۔۔۔۔اور ابھی جس طرح شاہ ویز اس کے چہرے میں کھویا ہوا تھا ۔۔۔
وہ سب پیار ہی تھا اور کچھ نہیں ۔۔۔
عمیر نے چپکے سے منال کو نظر بھر کر دیکھا اور رخ پھیر لیا
تھوڑی دیر وہاں اور رکنے کے بعد گاڑی دوبارہ سٹارٹ ہوئی اور وہ لوگ سفر پر روانہ ہو گئے ہوٹل کے لئے ۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓
نور کے رشتے کے لئے اسی دن رقیہ نے رشتے والی کو پیغام بھجوا یا اور گھر پر بلا لیا ۔۔۔
دیکھ لو بہن میری نور کو تم بچپن سے جانتی ہو بس اب اچھا سا کوئی رشتہ لانا جو کماتا ہو ۔۔۔۔
میں بس جلد جلد اس کی شادی کر دینا چاہتی ہوں
نور موبائل سے کسی کے ساتھ بات کرنے میں مصروف تھی جب اس کے کانو ں میں آواز پڑی تو وہ فون بند کر کے باہر آ گئی ۔
سامنے رشتے والی ماسی کو بیٹھا دیکھ کر نور کو گڑ بڑ لگی ۔۔۔۔۔
سناؤ ماسی کیا حال ہے خیریت ہے آج یہاں کا کیسے چکر لگا لیا ۔۔۔۔
پلیٹ سے سیب کا ٹکرا اٹھا تے ہوے بولی ۔۔۔!!!
میں تو بیٹا ٹھیک ہوں تم سناؤ ۔۔۔۔۔!!!
میں بھی ماسی ٹھیک ہوں ۔۔۔بتاؤ کس کا رشتہ لائی ہو کس کے لئے اما ں نے بلایا ہے ۔۔۔۔
اس سے پہلے راضیہ کچھ بولتی ۔۔۔
رقیہ نے نور کو یہ کہ کر اٹھا دیا پاس سے ۔۔۔
جا خالہ کے لئے دودھ پتی بنا کر لا ۔۔۔۔۔
نور منہ بناتی پاس سے اٹھ گئی
اور رقیہ نے راضیہ کو سمجایا کے ابھی نور کے سامنے اس بات کا ذکر نہ کرے جب تک کوئی رشتہ نہیں آ جاتا ۔۔۔
رضیہ نے رقیہ کی بات سمجھ کر سر ہلایا اور سیب کھا نے لگی ۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓
سب کے ٹھہرنے کا انتظام ہوٹل میں کیا گیا تھا شام کے پانچ بج چکے تھے
جب گاڑی ہوٹل کے سامنے رکی
تو سب باری باری اپنا سامان اٹھا کر اترنے لگے ۔۔۔
باہر بہت ٹھنڈ تھی ہر چیز پر برف کی سفید چادر بچھی ہوئی تھی ہر شے برف سے ڈھکی نظر آ رہی تھی
بہت پیارا نظارہ تھا
منال اپنی زندگی میں پہلی بار مری آئ تھی
قدرت کے حسین مناظر دیکھ دیکھ کر وہ بہت خوش ہوئی تھی ۔۔۔
سارے راستے وہ قدرت کے حسین مناظر دیکھتی آئ تھی
ابھی بھی وہ ایک درخت کو دیکھ رہی تھی جس کی شاخیں جھکی ہوئی تھی برف کی وجہ سے ۔۔۔
کیا خیال ہے یہیں کھڑ ے کھڑ ے قلفی بننا ہے یا اندر بھی جانا ہے ۔۔۔
منال کو کھڑ ے دیکھ کر شاہ ویز پاس چلا آیا
باقی سب ہوٹل کی لابی میں جا چکے تھے ۔۔
شاہ ویز بھی جانے لگا جب اس کی نظر منال پر پڑی جو
بڑ ے غور سے درخت کو دیکھ رہی تھی اور سردی سے کانپ بھی رہی تھی ۔۔۔۔
شاہ ویز کو پاس کھڑا دیکھ کر منال فورن پیچھے ہوئی اور ہاتھ کی انگلی سے شاہ ویز کو وارن کرتے ہوے بولی ۔۔۔!!
آپ سے مطلب میں چاہیے قلفی بنو یا کچھ اور آپ اپنے کام سے کام رکھیں
اور پلیز مجھ سے فا صلے پر رہیں اگے بہت غصہ ہے مجھے آپ پر ۔۔۔۔
اور مجھ سے بات کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے آپ کو اور نہ میں کرنا چاہتی ہوں آپ سے کوئی بھی بات ۔۔۔
کہ کر منال ہینڈ کیر ی گھسیٹتی اندر چلی گئی ۔۔۔!
اس غصے اور نفرت کو پیار میں نہ بدل دیا تو میرا نام شاہ ویز نہیں ۔۔۔۔۔؟؟؟
دل میں کہ کر شاہ ویز گھر فون کرنے لگا خیریت سے پہنچ آ نے کا بتانے کے لئے ۔۔۔۔۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓
عمیر نے سب کو ان کے رومز کی چابیاں دی ۔۔۔
عمیر نے یہاں آ نے سے پہلے رومز بک کروا لئے تھے
منال صوفے پر بیٹھی ہوٹل کی خوبصورتی دیکھ رہی تھی بہت خوبصورت انداز میں سجایا گیا تھا ۔۔
مس منال آپ کے اور ارم کے روم کی چابی سیکنڈ فلور پر چوتھا روم ہے ۔۔عمیر چابی منال کے سامنے کرتے ہوے بولا
منال نے چابی پکڑ کر تھینکس کہا اور اٹھ کر جانے لگی ۔۔۔مس منال مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے
منال کو عمیر کی آواز اپنے پیچھے سنائی دی ۔۔
منال نے مڑ کر دیکھا اور بولی جی بولیں کیا بات کرنی ہے ۔۔۔
ابھی نہیں پھر کروں گا آپ ابھی جائیں ریسٹ کریں تھک گئی ہوں گی لمبے سفر کی وجہ سے ۔۔۔
کہ کر عمیر روکا نہیں تیزی سے منال کے پاس سے گزر کر چلا گیا ۔۔۔
منال نے نا سمجھی سے کندھے اچکا ںُین اور اپنے روم کی طرف جانے کے لئے لفٹ میں داخل ہو گئی
منال کو جاتا دیکھ کر ارم بھی لفٹ میں بھاگی اور جلدی سے داخل ہو گئی اندر ۔۔۔۔۔۔
ارم بہت خوش نظر آ رہی تھی
کیا بات ہے بڑ ی خوش نظر آ رہی ہو ۔۔۔منال نے اس کی طرف دیکھتے ہوے پوچھا
آ ہاں ایسی کوئی بات نہیں بس ایسے ہی ۔۔۔ارم بولی
تم بتاؤ کیا پلا ن ہے ۔۔۔۔فریش ہونے کے بعد ۔۔
لفٹ سے دونو ں نکل کر روم کی طرف بڑھنے لگی ۔۔۔
میں تو سو جاؤں گی کیوں کےمجھے سخت نیند آئ ہوئی ہے
چلو ٹھیک ہے ۔۔۔۔
میں بھی کچھ دیر سو جاؤں گی کیوں کے راستے میں تو فواد کی باتیں ہی ختم نہیں ہو رہی تھی توبہ اتنا بولتا ہے
ارم کہ کر خود ہی ہنسنے لگی
روم میں دو سنگل بیڈ لگے ہوے تھے دیوار کے ساتھ بنی الماری ، دو سیٹر صوفہ
بتیس انچ کی ایل سی ڈی ،روم فریج کے علاوہ ایک ٹیبل اور دو کرسیاں موجود تھی ۔۔۔۔
منال نے بیگ کھول کر تو لیہ نکالا اور حجاب اتار کر واش روم فریش ہونے کے لئے چلی گئی ۔۔۔
جب کے ارم اسی طرح بیڈ پر لیٹ گئی
تو لیے سے منہ صاف کرتی منال باہر نکلی ۔۔۔
تو بیڈ پر ارم کو سوتے پایا ۔۔۔۔
منال نے موبائل اٹھا کر گھر کال کی اس کے بعد سونے کے لئے لیٹ گئی ۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓
شاہ ویز روم آ کر فریش ہونے کے بعد انٹر کام پر کافی کا آرڈر دے کر ونڈو کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا اور باہر کا دل کش نظارہ دیکھنے لگا ۔۔۔
باہر سنو فال شرو ع ہو چکی تھی
شاہ ویز نے ونڈو کھول دی
ٹھنڈ ک کا جھونکا شاہ ویز کو چھو کر گزرا
ہاتھ باہرنکال کر سنو فال کو گرتے ہوے محسوس کرنے لگا
ویٹر کافی دے کر چلا گیا ۔۔۔۔۔
کڑوی کافی کو گھونٹ گھونٹ کر کے اپنے اندر اتارنے لگا اور منال کو سوچنے لگا ۔۔۔۔
آخر اس کے ساتھ ایسا کیا ہوا ہے جس نے منال کو اتنا تلخ بنا دیا ہے ۔۔۔۔
اس کے حسین چہرے سے مسکراہٹ کو غائب کر دیا
آخر ایسا کیا ہوا ہے اس کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔
۔یہ بات میں پتا لگا کر رہوں گا ۔۔۔
منال کو سوچتے سوچتے کافی ختم کرنے کے بعد شاہ ویز نے موبائل اٹھایا اور ایک نمبر ڈائل کرنے لگا ۔۔۔۔۔۔
بیل جا رہی تھی ۔۔!!!!تیسری بیل پر فون اٹھایا گیا
ہیلو
میں شاہ ویز اسجد بات کر رہا ہوں ۔۔
میں ملنا چاہتا ہوں ضروری کام ہے اس لئے ۔۔۔
اگے سے نجانے کیا کہا گیا ۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے آج سے پانچ دن بعد مولاقات ہو گی ۔۔
کہ کر فون بند کر دیا
اور شاہ ویز نے موبائل گیلری سے منال کی تصویر نکال کر دیکھنے لگا ۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
رومان کو انتظار تھا ۔۔۔!!!!
شائد علینا اسے سی آف کرنے کے لئے آے ۔۔۔۔
لیکن وہ نہیں آئ تھی
رومان کو دل میں ملال ضرور ہوا
فلیٹ کو لاک کرنے کے بعد رومان ایئر پورٹ کے لئے روانہ ہو گیا ۔۔۔۔۔
اس نے اپنے آنے کی گھر اطلا ع نہیں دی تھی
وہ جس مقصد کے لئے جا رہا تھا وہ پورا کرنا چاہتا تھا پہلے
ایئر پورٹ پہنچ کر ساما ن چیکنگ کے بعد
رومان پلین میں سوار ہو گیا ۔۔۔۔
وہ نہیں جانتا تھا اگے چل کر اس کے ساتھ قسمت کیا کرنے والی ہے
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
رات آٹھ بجے ڈنر پر سب کی دوبارہ ملاقات ہوئی ۔۔
وہیں پر ڈیساںُیڈ کیا گیا کے کل سب سے پہلے کہاں جایئں گے ۔۔۔
کھانا کھا نے کے بعد کچھ سٹوڈنٹس اپنے روم میں چلے گئے اور کچھ باہر نکل آے
منال بھی گرم شال خود پرلپیٹ کر باہر آ گئی ارم اور باقی ٹیچرز کے ساتھ ۔۔۔
باہر بہت ٹھنڈ تھی
شاہ ویز قدرے فا صلے پر ان سے چل رہا تھا ۔۔۔۔
سب نے موبائل کی ٹارچین آن کی ہوئی تھی
سب یہاں کا موسم انجو ا ےُ کرنے کے ساتھ ساتھ باتوں میں مصروف تھے
بازار کھلے ہوے تھے اور وہاں رونقیں لگی ہوئی تھی ۔۔۔
منال کا چہرہ سردی کی شدت سے سرخ ہو چکا تھا ۔۔
وہ سب روڈ پر واک کرنے نکلے تھے ۔۔
شاہ ویز کا نیند اور ٹھنڈ سے برا حال تھا وہ ڈنر کرنے کے بعد فورن سونا چاہتا تھا ۔۔۔
لیکن منال کو واک پر جاتا دیکھ کر وہ بھی تیار ہو گیا ساتھ چلنے کو ۔۔۔
شاہ ویز جلدی میں کوئی جیکٹ بھی نہ پہن سکا صرف ایک ہاف بازو والی ٹی شرٹ پہن رکھی تھی ۔۔
اور اب اسے سخت ٹھنڈ لگ رہی تھی اور اب ساتھ سنیزنگ بھی شرو ع ہو چکی تھی
💓💓💓💓💓💓💓💓
شاہ ویز کی حالت دیکھتے ہوے عمیر نے سب کو واپس چلنے کو کہا ۔۔۔۔
شاہ ویز کا ٹھنڈ سے اور چھینکیں مار مار کا برا حال ہو رہا تھا ۔۔۔
سب واپسی کے لئے چل پڑے
منال ارم کے ساتھ ساتھ چل رہی تھی
شاہ ویز کو ایسے دیکھ کر منال کو اچھا نہیں لگا ۔۔۔۔
وہ خود سمجھ نہیں پائی کے ایسا کیوں اسے لگا ہے ۔۔۔
عمیر نے اپنی جیکٹ شاویز کو دینی چاہئیں لیکن شاویز نے لینے سے انکار کر دیا ۔۔۔
اور کہا میں ٹھیک ہوں ۔۔۔۔
کہاں ٹھیک ہو حالت دیکھی ہے اپنی تمہاری کیا حالت ہو رہی ہے تم اتنے لاپرواہی برت رہے ہو ۔۔۔۔عمیر فکرمندی سے بولا
کچھ نہیں ہوتا یار ۔۔۔
بڑی ڈھیٹ مٹی ہوں ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں سے میں پریشان نہیں ہوتا ۔۔۔
ویسے یار آپس کی بات ہے جس کے لئے میں یہ سب کر رہا ہوں اسے فرق ہی نہیں پڑھ رہا۔۔شاہ ویز منال کو ارم کے ساتھ چلتا دیکھ کر بولا ۔۔۔۔
عمیر نے شاہ ویز کی تقلید میں منال کو دیکھا اور بولا ۔۔!!اسے کیا پتہ تھا اس کا مجنوں اس کے پیچھے مری کی ٹھنڈک برداشت کر رہا ہے ہیرو بن رہا ہے ۔۔۔
عمیر کی بات پر شاویزکا قہقہ نکل گیا اور بولا ۔۔۔۔
ہیرو نہیں زیرو بول ۔۔وہ گھاس بھی نہیں رہی ۔۔
آ آ آ آ چھو ۔۔۔سوری یار
دیکھ لے سنیزنگ شرو ع ہو گئی اب تو جیکٹ پہن لے ہیرو پھر کبھی بن جانا
کہنے کے ساتھ عمیر نے جیکٹ اتار کر دے دی شاہ ویز ۔۔
مجبورا شاہ ویز کو لے کر پہننی پڑی۔۔۔
وہ لوگ ہوٹل پہنچ چکے تھے
عمیر نے جلدی سے ہیٹر آن کیا روم کا اور بلینکٹ دے کر شاہ ویز کو بیٹھا دیا اور خود کافی کا آرڈر کرنے چلا گیا ۔۔۔
💗💗💗💗💗💗💗
رومان کی فلائٹ کراچی لینڈ کر چکی تھی
ٹیکسی بک کروانے کے بعد سا ما ن گاڑی میں رکھا اور گھر کے لئے روانہ ہو گیا ۔۔۔
رومان نے اپنے انے کی اطلا ع گھر نہیں دی تھی
رومان پورے پانچ سال بعد پاکستان لوٹ کر آیا تھا ۔۔۔ہر چیز کو وہ بڑ ے غور سے دیکھ رہا تھا
سیٹ کے ساتھ ٹیک لگا کر آنکھیں موند لی اور منال کے بارے میں سوچنے لگا
وہ اب کیسی دیکھتی ہو گی ۔۔
رومان نے جیب سے موبائل نکال کر منال کی آج سے پانچ سال پہلے کی تصویر کھول کر دیکھنے لگا ۔۔
یہ تصویر رومان اور منال کی منگنی والے دن کی تھی
منال کسی بات پر ہنس رہی تھی جب چپکے سے رومان نے تصویر بنائی تھی ۔۔۔
صاحب کس گلی میں جانا ہے ڈرائیور دو ایک جیسی گلیاں دیکھ کر بولا
رومان تصویر میں کھویا ہوا تھا جب ٹیکسی ڈرائیور نے گلی کا پتا پوچھا ۔۔
رومان چونک کر اسے دیکھنے لگا اور پوچھا کیا کہا آپ نے ۔۔
ڈرائیور نے دوبارہ سوال کیا جس پر رومان نے گلی کا بتایا ۔۔۔
اگلے پانچ منٹ بعد وہ گھر کے دروازے کے باہر کھڑا تھا ۔۔۔۔
گاڑی والا کرایہ لے کر واپس جا چکا تھا ۔۔
رومان نے ڈور بیل بجائی ۔۔۔
آرہی ہوں صبر کر جاؤ ۔۔
اندر سے نور کی آواز آئ ۔۔
نور نے جیسے ہی دروازہ کھولا سامنے بھائی کو دیکھ کر اس کی چیخ نکل گئی اور وہ بھائی سے لپٹ گئی
نور کی چیخ کی آواز سن کر رقیہ بھاگتی ہوئی باہر ای اور سامنے رومان کو کھڑا دیکھ کر وہ خوشی سے جھوم اٹھی ۔۔
آ گیا میرا پتر ۔۔۔رومان نور سے مل کر رقیہ کے گلے لگ گیا
رقیہ پانچ سال بعد بیٹے کو گلے لگا کر رو پڑی
کیا اماں آپ تو رونے لگی ۔۔۔میں واپس چلا جاؤں کیا ۔۔
ماں کو روتے دیکھ کر رومان بولا ۔۔
ارے پاگل یہ تو خوشی کے آنسو ھیں جو تمہیں سامنے پا کر مجھے ملی ہے ۔۔
ماں کو ساتھ لگاے شاہ ویز اندر بڑھ گیا اور ابو کے بارے میں پوچھنے لگا ۔۔۔
وہ ذرا زمینوں پر گئے ھیں آ جاتے ھیں تم بیٹھو آرام سے ۔۔رقیہ بولی اور نور کو دود ھ لانے کو بولا ۔۔
نور جی کہتی باہر نکل گئی
رقیہ بیٹے کے پاس بیٹھ گئی اور اس کے ہاتھ پکر چومنے لگی ۔۔
کتنا کمزور ہو گیا ہے میرا بیٹا ۔۔وہاں بالکل اپنا خیال نہیں رکھا ہو گا ۔۔
امی رکھا ہے خیال بس کام کی وجہ سے تھوڑا انسان اگے پیچھے ہو جاتا ہے ۔۔۔
نور بھائی کے لئے جلدی سے دودھ کا گلاس لے آئ ۔۔۔
رقیہ نے دود ھ کا گلاس پکڑ کر رومان کو دیا اور بولی اب تم آ گئے ہو میں خود خیال رکھوں گی اپنے بیٹے کا ۔
💗💗💗💗💗💗💗💗💗
فیاض احمد گھر آے تو اس وقت رومان سو رہا تھے
ساری رات اور دن کو جاگنے کی وجہ اسے سخت نیند آئ ہوئی تھی اس لئے وہ سو گیا تھا
میں سوچ رہی ہوں رومان آیا ہے اب اس کی شادی کر کے واپس بیجوں اسے ۔۔۔
میں نے رشتے والی سے نور کی بھی بات کر کر لی ہے جلد وہ اچھا سا رشتہ لے آے گی ۔۔کیا خیال ہے آپ کا
رقیہ بیٹھی کباب بنا رہی تھی دن کے لئے ۔۔جب وہ فیاض احمد سے مخا طب ہوئی ۔۔
سہی کہ رہی ہو اچھا ہے اس گھر میں بھی بچوں کے کھیلنے کودنے کی آوازیں آںُیں ۔۔۔
اب یہ گھر کاٹ کھانے کو آتا ہے مجھے ۔۔۔
معیز بھی بیوی بچوں کے ساتھ مگن ہے
فیاض احمد اداسی سے بولے ۔۔
نور ابا کے لئے پانی کا گلاس لائی تو دروازے میں ہی رک گئی
نور نے اماں کے منہ سے جب اپنے رشتے کا سنا اور اس کا
پا رہ ہائی ہو گیا ۔ابا کی وجہ سے چپ کر گئی
لیکن دل میں وہ ڈر گئی
جلدی جلدی ابا کو پانی دے کر کمرے میں بھاگی اور موبائل اٹھا کر میسج لکھنے لگی ۔۔
جاری یے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *