Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode21

Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode21

فیاض صاحب نے اپنے دوست سے نور کے رشتے کی بات کی
اور کہا اگر تمہاری نظر میں کوئی اچھا رشتہ ہے تو مجھے بتاؤ میں نور کی شادی جلد سے جلد کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔
اگر تم فیاض برا نہ مانو تو میں اپنے بیٹے سکندر کے لئے تم سے تمہاری بیٹی کا ہاتھ مانگتا ہوں ۔۔۔
سکندر دس پاس تھا اور باپ کے ساتھ ہی پولٹری فارم پر ہوتا تھا ۔۔۔
فیاض احمد سوچ میں پڑ گئے ۔۔
وہ نور کی وجہ سے اب ڈر چکے تھے کے اگر نور نے کوئی غلط قدم اٹھا لیا ۔۔
تو وہ کہیں منہ دکھانے لائق نہیں رہیں گے ۔۔
کیا ہوا فیاض فیاض کس سوچ میں پڑ گئے ہو ۔۔
تمہیں کوئی اعتراض ہے ۔۔۔
میرا بیٹا تمہارے سامنے ہے دیکھا بالا ہے اس میں کوئی بری عادت نہیں ہے ۔۔۔انور بولا
نہیں مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے اور سکندر کو میں بہت اچھے سے جانتا ہوں وہ سلجھا ہوا اور نیک بچہ ہے مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے اس رشتے سے ۔۔۔
تو یار اٹھ کے گلے مل انور بولا
اور کھڑے ہوکر فیاض کو گلے سے لگا کر مبارک دی اور بولا آج شام کو میں اپنی گھر والی کے ساتھ آؤں گا اور اپنی نشانی کر جاؤں گا ۔۔۔
بس آج سے نور میری بیٹی ہے ۔۔۔۔
فیاض کے دل سے اچانک سے کوئی بھاری بوجھ اتر گیا
اور وہ انور سے اجازت لے کر گھر کی طرف رخصت ہو گئے تاکہ جلدی سے رقیہ کو یہ خوشخبری سنا سکیں ۔۔ذ
اگلے پندرہ منٹ بعد فیاض گھر پر موجود تھے ۔۔
انہوں نے رقیہ کو پاس بلا کر ساری بات بتا دی ۔۔
رقیہ نور کو سمجھا دینا ان کے سامنے کوئی الٹی سیدھی بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔
۔آپ بے فکر ہو جائیں فیاض میں اسے سمجھا دوں گی
ٹھیک ہے سمجھا دینا اور اگر سمجھ گئی تو اسی میں اسکی بہتری ہے اور اگر نہ سمجھیں تو مجھے اپنی طریقے سے سمجھانا آتا ہے ۔۔۔۔
ٹھیک ہے آپ فکر نہ کریں میں سنبھال لوں گی ۔۔رقیہ بولی
ٹھیک ہے !!!
اور یہ بتاؤ آج کل رومان کہاں گھم ہے گھر پر بھی زیادہ نظر نہیں آتا
اسے پاس بٹھاؤں اور سمجھاؤں کہ نور پر اب کڑی نظر رکھے ۔۔فیاض بولے
بس ذرا دوستوں کے ساتھ گھومتا پھرتاہے
آتا ہے تو میں سمجھا دیتی ہوں اسے ۔۔۔رقیہ بولی
ٹھیک ہے شام کو انتظام کر لینا انور اور اس کی بیوی آںُیں گے بات پکی کرنے ۔۔
سہی ہے میں نور کو بول آؤ شام کو تیار ہو جائے گی ۔۔رقیہ بولتے ہوے اٹھی
💗💗💗💗💗💗💗💗
ارم کمرے میں داخل ہوئی تو منال کو چپ بیٹھا دیکھ کر اس کے پاس چلی آئی
اور بولی کیا بات ہے منال کیوں چپ بیٹھی ہوئی ہو
اور کس کافون تھا
یہ رومان کون ہے اور وہ کیوں ایسی بات کر رہا تھا
کچھ بس ایسے ہی سر میں درد ہے اس لئے چپ بیٹھی ہوں منال بولی
ہوں ۔۔وہ تو ٹھیک ہے لیکن تم نے بتایا نہیں یہ رومان کون ہے ۔۔۔۔ارم نے پوچھا
کوئی نہیں بس ایسے ہی ۔۔۔۔۔چھوڑو دفع کرو جو بھی تھا
منال ارم کو کہہ کر اٹھ گئی
منال اس طرح تم مجھ سے نظریں نہیں چرا سکتی مجھے بتاؤ کیا بات ہے ۔۔
ارم نے اس کا بازو پکڑ کر اسے روک لیا اور اس کے سامنے کھڑی ہو کر بولی
کیا مطلب ارم میں تم تم سے کب نظریں چُرا رہی ہو
اور تم پریشان نہ ہو
ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔۔۔منال اس کے سامنے سے ہٹتے ہوے بولی
ٹھیک ہے منال تم اگر مجھے سچ نہیں بتانا چاہتی تو ٹھیک ہے ۔۔
میں اس روم سے باہر جا رہی ہوں
اور تب تک واپس نہیں آؤں گی جب تک تم مجھے سب سچ نہیں بتا دیتی ۔۔۔ارم کہ کر باہر جانے لگی
ٹھیک ہے جاؤ ۔۔۔
رہو باہر ٹھنڈ میں ۔۔۔میں نے بھی نہیں آناپیچھے تمہارے ۔۔منال باتھ روم میں چلی گئی
تم اؤ گی دیکھ لینا ۔۔ارم کہتی کمرے سے باہر چلی گئی
ارم نے عمیر اور فواد کو میسج کر کے کیفے میں ملنے کے لیے بلایا
اور خود کیفے میں جا کر دونو ں کا ویٹ کرنے لگی
اگلے پانچ منٹ بعد وہ دونوں ارم کے سامنے تھے
ہاں ارم بولو کیا بات کرنی ہے ۔۔۔عمیر اور فواد اس کے پاس رکھی گئی کرسیوں پر بیٹھ گئے
میں نے آپ دونو ں کو یہاں پر ایک ضروری بات کرنے کے لئے بلایا ہے۔۔ارم دونوں کو دیکھتے ہوئے بولی
کون سی ضروری بات فواد بولا
ارم نے دونو ں کو ساری بات بتا دی اور پلا ن بھی
اور بولی مجھے آپ
دونو ں کی ہیلپ چاہیے انھیں ملانے میں ۔۔۔
شاہ ویز سر بہت پیار ہیں منال سے
وہ تو سب ٹھیک ہے لیکن ۔۔۔فواد بولا
کیا لیکن ۔۔ارم بولی
اگر منال کو ہمارے پلا ن کا پتہ چل گیا تو بہت برا ہوگا فواد بولا
ڈونٹ وری اسے کوئی نہیں بتا ے گا عمیر بولا
ٹھیک ہے پھر آج رات سے کام شرو ع کرتے ہیں
فواد تم سب دھیان سے کرنا پکڑے نہ جانا ۔۔۔ارم بولی
ٹھیک ہے تم ٹینشن نہ لو ۔۔فواد بولا
پھر ہم جا کر سارا انتظام کرتے ہیں ۔۔۔فواد اور عمیر اٹھ کر جانے لگے ۔
ارم بھی اٹھ کر مہوش اور مقدس کے روم میں آ گئی
💗💗💗💗💗💗💗💗
اما ں میں یہ شادی کبھی نہیں کروں گی
بتا دیں ابو کو ۔۔
میں صرف ظفر سے شادی کروں گی ۔۔۔نور نے ماں کو بولا
بکواس بند کر اپنی ۔۔ورنہ زبان کھینچ لوں گی گی جڑ سے
اگر اب ظفر کا نام آیا زبان پر تو۔۔۔۔۔۔ رقیہ بولی
ہاں کھینچ لیں لیکن یاد رکھنا شادی صرف ظفر سے ہی کروں گی جو مرضی ہو جائے
کمبخت آگے سے زبان چلاتی ہوں ۔۔۔دیکھتی ہوں کیسے کرتی ہے ظفر سے شادی ۔۔۔غصے سے رقیہ بولتی باہر آ گئی
💗💗💗💗💗💗
امی آپ نے آپی کے رشتے کی ہاں کر دی ہے اور انہیں بتایا ہی نہیں ہے ۔۔
اگر انہیں کوئی اعتراض ہوا تو۔۔۔۔ ردا بولی
اور بتاؤ کیوں اعتراض کرے گی اتنا اچھا لڑکا ہے اور سب سے بڑی بات وہ اپنی منال کو بہت پسند کرتا ہے اسے بہت خوش رکھے گا ۔۔۔آسیہ بولی
امی آپ کو تو آپی کی عادت کا پتا ہے وہ ہر بار آے رشتے سے انکار کر دیتی ہیں انہیں کوئی پسند ہی نہیں آتا
اس لیے میں کہہ رہی ہوں
کہ آپ سے آپ ایک بار بات کر لیں ۔۔ردا بولی
کہ توتم ٹھیک رہی ہو گئی ہیں اسے ایک بتا دیتے ہیں چلو شام کو فارغ ہوکر اسے کال کریں گے اور بتا دینگے ۔۔۔
سہی ہے امی
ردا بہت خوش تھی کے اس کی آپی کا رشتہ اتنے بڑ ے گھر میں ہو رہا تھا
💗💗💗💗💗💗💗💗
منال کمرے میں بور رہی تھی
اپنے کمرے کی ونڈو سے اس نے نیچے دیکھا
دو بچےآپس میں لڑ رہے تھے آس پاس کوئی نہیں تھا
منال جلدی سے کمرے سے باہر نکلی اور نیچے جانے لگی
شاہ ویز نے اسے نیچے جاتے دیکھا تو فورا اس کے کمرے کی طرف بڑھا
منال کے کمرے کا دروازہ کھول کر دیکھا وہ کھلا ہوا تھا فوراً واپس اپنے کمرے میں آیا اور کچھ اٹھا کر واپس منال کے کمرے میں گیا
اور اپنا کام کر کے اگلے بیس منٹ بعد وہ روم سے باہر تھا ۔۔
منال نے دونوں بچوں کی لڑائی ختم کروا کر صلح کروائی اور دونو ں کو پیار سے سمجا یا
دونو ں بچے آپس میں کزن تھے اور بال کی وجہ سے لڑ رہے تھے ۔۔
منال واپس روم میں جانے لگی
کیوں کہ باہر بہت ٹھنڈ ہو رہی تھی
عمیر نے اسے اپنے کمرے کی کھڑکی سے دیکھا تو اس کے پاس چلا آیا اور بولا ۔۔۔
منال مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے امید ہے آپ میری بات کو ٹھنڈے دماغ سے سنیں گی ۔۔عمیر نے پنک قمیض اور وائٹ ٹرا وزر میں ملبوس گرے شارٹ جرسی پہنے منال کو دیکھا
سر پر پنک حجاب کر رکھا تھا
جی بولیں ۔۔کیا بات کرنی ہے منال اس کی نظروں سے گھبرا کر بولی
منال مجھے تم سے شاہ ویز کے متعلق بات کرنی ہے وہ تمہیں بہت پسند کرتا ہے اور تم سے شادی کرنا چاہتا ہے ۔۔۔
او اچھا تو آپ کو سر شاویز نے اپنا ہیلپر بنا کر بھیجا ہے کہ آپ آکر مجھ سے بات کریں ۔۔۔منال طنزیہ لہجے میں بولی
نہیں منال تم غلط سمجھ رہی ہو مجھے یہاں شاہ ویز نے نہیں بھیجا بلکے میں خود آیا ہوں تم سے بات کرنے کے لیے ۔۔۔عمیر بولا
لیکن مجھے آپ سے اس ٹا پک پر بات نہیں کرنی ۔۔میں جا رہی ہوں
رکو منال تم میری پوری بات سن لو اس کے بعد بے شک چلی جانا ۔۔۔۔
عمیر منال کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا
لیکن مجھے ۔۔۔اس سے پہلے منال اپنی بات مکمل کرتی عمیر بول پڑا
دیکھو منال شاہ ویز تم سے بہت پیار کرتا ہے وہ تمہیں بہت خوش رکھے گا
بلکہ پیار نہیں عشق کہنا چاہیے
وہ تم سے پاگلوں کی طرح عشق کرتا ہے وہ کچھ بھی کر سکتا ہے تمہارے لئے ۔۔۔آزما لو اسے
منال عمیر کی بات پر ہنسنے لگی
اور بولی ٹھیک ہے اگر وہ میرے لئے کچھ بھی کر سکتا ہے تو اسے بولو سامنے جو پہاڑی نظر آرہی ہے اسے کہو یہاں سے چھلانگ لگا کر دکھائے میں تب مانو گی وہ مجھ سے پاگلوں کی طرف سے عشق کرتا ہے ۔۔۔
منال نے عمیر کو چیلنج دیا
عمیر نے سامنے بنی پہاڑی کی طرف دیکھا جو فلحال برف سے ڈھکی ہوئی تھی اس کے نیچے بہت گہری کھائی تھی
ٹھیک ہے منال اگر شاہ ویز نے یہ ثابت کردیا تو
تو میں مان جاؤں گی وہ واقعی ہی میں مجھ سے سچا پیار کرتا ہے ۔۔۔
خالی ماننے سے کچھ نہیں ہوگا تمہیں وہ سب کرنا پڑے گا جو ہم بولیں گے بولو منظور ہے ۔
۔منال کچھ سیکنڈ سوچنے کے بعد بولی ہاں منظور ہے ۔۔۔
ٹھیک ہے تم اپنی بات پر قائم رہنا ۔۔۔کہ کر عمیر اندر بڑھ گیا
یہ ان کے پلان کا ایک حصہ تھا
لیکن وہ نہیں جانتے تھے منال شاہ ویز کو پہاڑی سے چھلانگ لگانے کے لیے بول دے گئی
💗💗💗💗💗💗💗
شام کو انور اور اس کی بیوی آے
اور رشتہ پکا کر گئے
نور کے ہاتھ پر ہزار کا نوٹ رکھ کر اور سرخ دوپٹہ کروایا
اور ایک ہفتے بعد سادگی سے نکاح طے کیا گیا
نور غصے سے اٹھی
اور کمرے میں چلی گئی
سن ظفر ۔۔یہ لوگ کبھی بھی میری شادی تم سے نہیں ہونے دیں گے اور میں تمہارے سوا کسی سے شادی نہیں کروں گی
اگے سے نہ جانے کیا کہا گیا جسے سن کر نور مطمئن ہو گئی اور فون بند کر کے لیٹ گئی ۔۔۔
💗💗💗💗💗💗💗💗
منال واپس کمرے میں آئ تو اس کی نظر جب سامنے پڑی
تو حیران رہ گئی
کمرے میں ڈریسنگ ٹیبل کے شیشے پر منال کو بڑا سا سوری لکھا نظر آیا
سنٹر ٹیبل پر سرخ گلاب اور دو کارڈ نظر آیا
منال اگے بڑھی اور کارڈ اٹھا کر دیکھا
بہت پیارا کارڈ تھا سوری لکھا ہوا منال نے کارڈ پر نظر
دوڑ ا ئی لیکن بجھنے والے کا کہیں نام نہیں لکھا تھا ۔۔
منال نے وہ کارڈ رکھ کر
دوسرا اٹھایا ڈیپ ریڈ کلر کا ہارٹ شیپ میں بنا ہوا تھا اور اس کے درمیان میں چھوٹا سا ایک اور دل بنا ہوا تھا
جس پر I LOVE YOU لکھا ہوا تھا ۔۔۔
منال نے کارڈ کھولا
اندر ایک غزل لکھی ہوئی تھی منال اسے پڑھنے لگی
“اسے میں کیوں بتا دوں
میں نے اس کو کیوں چاہا ہے
بتایا جھوٹ جاتا ہے
کے سچی باتوں کی خوشبو
تو خود محسوس ہوتی ہے
میری باتیں میری سوچیں
اسے خود جان جانے دو
ابھی کچھ دن اور
میری محبت آزمانے دو
تمہاری ہاں کا منتظر فقط تمہارا اور صرف تمہارا شاہ ویز
غزل پڑھ کر منال نے گہرا سانس لیا
اور پھولوں کا بکے اٹھا کر اسے دیکھنے لگی
منال نہ چاہتے ہوئے بھی شاہ ویز کے بارے میں سوچنے لگی ۔۔۔
کیا یہ واقعی ہی مجھ سے سچی محبت کرتا ہے ۔۔
کیوں میرا دل اس کی محبت پر یقین کرنے کو کہہ رہا ہے
کیوں میرا دل اسے سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے ہر بار
کیا میرے دل میں شاہ ویز کے لئے جگہ بن رہی ہے ۔۔۔
نہیں ایسا نہیں ہو سکتا اگر شاہ ویز کی محبت بھی رو مان کی طرح نکلی تو ۔۔۔
یا اللہ میں کیا کروں مجھے پلیز سیدھا رستہ دکھا دے
تھک ہار کر منال نے بیڈ کی ٹیک سے سر ٹکا دیا اور آنکھیں موندھ لی
💗💗💗💗💗💗💗
کیا منال نے ایسا کہا ہے
اگر ایسا کرنے سے میری محبت ثابت ہو جائیں گی تو میں یہ کام کرنے کے لئے تیار ہوں ۔۔۔۔شاہ ویز بولا
لیکن یار یہ کام بہت رسکی ہے
اس میں تمہاری جان بھی جا سکتی ہے ۔۔۔عمیر پریشانی سے بولا
یار آگے میری زندگی کونسا آسان ہے ۔۔۔
تو جانتا ہے میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتا ۔۔۔
وہ میری محبت کو آزمانہ چاہتی ہے تو میں اس کی آزمائش پر پورا اتروں گا ۔۔۔۔
تم بس اسے کل خبر کر دینا کہ میں اپنے محبت ثابت کرنے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہوں
چاہے اس میں میری جان ہی کیوں نہ چلی جاۓ ۔۔۔
میں اس کے لئے سب کچھ کر سکتا ہوں ۔۔۔شاہ ویز بولا
یار ایسی بیوقوفی مت کرنا
ہم منال کو سمجھا لیں گے تو پلیز وعدہ کر تو ایسا کوئی کام نہیں کرے گا ۔۔۔عمیر بولا
سوری یار میں یہ وعدہ نہیں کر سکتا
مجھے اپنی محبت ثابت کرنی ہے اور اس کیلئے میں کچھ بھی کر جاؤں گا تو بس میرے لیے دعا کرنا کی میں اپنی محبت پر ثابت قدم رہ سکوں ۔۔۔شاہ ویز کہ کر ونڈو کے قریب آ گیا اور بولا
ککل کا دن میرے لیے بہت خاص ہو گا یا تو میں ہمیشہ کے لئے اپنی محبت کو پالوں گا
یا پھر اپنی جان دے کر ہمیشہ کے لیے امر ہو جاؤں گا
عمیر نے تاسف سے اس کی طرف دیکھا ۔۔۔
کیوں کہ اب اس سے کچھ بھی کہنا فضول تھا ۔۔۔۔
عمیر شاہ ویز کے لیے دل ہی دل میں دعا کرنے لگا
💗💗💗💗💗💗💗💗
منال کے فون پر آسیہ کی کال آئی
سلام دعا اور حال چال پوچھنے کے بعد آسیہ نے منال کو کہا کہ مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے
جی امی بولیں کیا بات کرنی ہے
منال میں جو بات کرنے لگی ہوں اس کو ٹھنڈے دل اور دماغ سے سننا
میں نے تمہارا رشتہ تمہارے پھوپھو کے بیٹے کے ساتھ طے کر دیا ہے
کیوں کہ اب میں مزید تمہاری بیوقوفیاں نہیں دیکھ سکتی تھی
لیکن امی آپ ایسے کیسا کرسکتی ہیں مجھ سے پوچھے بغیر ۔۔۔کیا میری مرضی آپ کے لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتا منال دکھ سے بولی
تمہاری مرضی میرے لیے اہمیت رکھتی ہے
لیکن اب میں مزید تمہاری نادانیاں نہیں دیکھ سکتی تھی جو بھی رشتہ آتا تم اس سے انکار کر دیتی
اس لیے اس دفعہ تمہاری مرضی نہیں تھی بلکے خود فیصلہ کیا ہے
اور مجھے امید ہے تم میرے فیصلے کا احترام کرو گی
اور وہی کروں گی جو میں چاہوں گی ۔۔۔۔
تمہاری پھوپھو خود تمہارا ہاتھ مانگنے کے لیے آئی ہیں
ان کو خالی لوٹا دینا اتنی مجھ میں ہمت نہیں تھی ۔۔۔
امی ۔۔۔۔۔۔منال دکھ سے بولی اور رونے لگی
لڑکے کو تم ملی ہوئی ہو بہت اچھا ہے پڑھا لکھا ہے امریکہ سے پڑھ لکھ کر آیا ہے
اور یہاں پر اپنا کاروبار ہے تمہیں بہت خوش رکھے گا
وہ اور بھی کچھ بول رہی تھی لیکن منال نے کال ڈسکنکٹ کر دی ۔۔۔
امی اتنا بڑا فیصلہ مجھ سے پوچھے بغیر کیسے کر سکتی ہیں ۔میری مرضی کی کوئی اہمیت نہیں رہی آپ کی نظر میں منال نے دکھ سے سوچا
💗💗💗💗💗💗💗💗
رومان نے بہت مشکل سے منال کا موبائل نمبر حاصل کیا تھا لیکن منال اس کی کوئی بھی بات سننے کو تیار نہیں تھی ۔۔۔
رومان منال کے بارے میں ہی سوچ رہا تھا جب اس کا موبائل بول پڑا
رومان نے سکرین پر نام دیکھا تو علینہ کی کال آ رہی تھی
رومان نے کال یس کرکے کان کے ساتھ لگا لیا اور
ہیلو
ہیلو کیسی ہو تم
میں ٹھیک ہوں تم کیسے ہو پاکستان جا کر بھول ہی گئے ہو ۔۔۔
لگتا ہے منال مل گئی ہیں جس کی وجہ سے تم مجھے بھی بھول گئے ہو ۔۔۔علینہ شکوہ کرتے ہوئے بولی
میں ٹھیک ہوں یار بس کچھ نہیں مصروفیات کی وجہ سے میں رابطہ نہیں کر سکا اور ا بھی منا ل نہیں ملی جس دن ملی سب سے پہلے تمہیں بتاؤں گا ۔۔۔۔
تم سناؤ سب کیسے ہیں ۔۔۔
ٹھیک ہیں تمہیں بہت یاد کرتے ہیں ۔۔علینا بولی
تھوڑی دیر اور اگے پیچھے کی بات کرنے کے بعد رومان نے کال بند کر دی
وہ اس وقت صرف تنہائی چاہ رہا تھا
💗💗💗💗💗💗💗
منال کھانا کھا ے بغیر ہی سو گئی تھی
کھا نے کی ٹیبل پر شاہ ویز نے اس کی کمی محسوس کی
لیکن چپ کر کے بیٹھا رہا
اگر منال خالی پیٹ سو سکتی تھی تو شاہ ویز بھی سو سکتا تھا
عمیر سمجھ گیا تھا شاہ ویز کیوں نہیں کھا رہا
تھوڑی دیر بعد شاہ ویز اٹھ کر روم میں آ گیا اور خاموشی سے بیڈ پر لیٹ گیا
💗💗💗💗💗💗💗
صبح منال کی آنکھ عجیب طرح کے شور سے کھلی
منال نے ٹائم دیکھا تو گھڑی پر سوا دس ہو رہے تھے
منال کو نماز قضا ہونے کا دکھ ہوا
اٹھ کر باتھ روم چلی گئی ہاتھ منہ دھونے ۔۔۔۔۔روم میں واپس آئ تو ارم مقدس اور مہوش تینو ں موجود تھی
تینو ں کے چہروں پر پریشانی تھی
کیا ہوا پریشان لگ رہی ہو تینو ں خیریت ہے نہ ۔۔۔منال بولی
بات ہی کچھ ایسی ہے ۔۔۔۔۔۔مقدس بولی
چھوڑو مقدس اسے بتانے کا کوئی فائدہ نہیں اس کی بلا سے کوئی جیے یا مرے اسے کوئی فرق نہیں پڑتا اسے صرف اپنی فکر ہے ۔۔۔ارم غصے سے بولی
کیا مطلب ہے تمہارا کیا بات ہے جو تم ایسے بات کر رہی ہو ارم ۔۔۔منال ارم کی بات سن کر پریشانی سے بولی
ارم رخ پھیر کر کھڑی ہو گئی
تبھی مہوش بولی کہ منال سر شاہ ویز صبح سے غائب ہیں ان کا کہیں پتا نہیں چل رہا موبائل نمبر بھی ان کا بند جا رہا ہے سب بہت پریشان ہیں
یہیں کہیں ہوں گے انہوں نے کہاں جانا ہے ٹھیک سے سارے ہوٹل میں چیک کرو ۔۔۔منال بولی ۔
چیک کیا سارا ہوٹل لیکن وہ کہیں نہیں ہے سب بہت پریشان ہے پتا نہیں وہ کہاں چلے گئے ہیں سر عمیر اور فواد باہر گئے ہیں انہیں ڈھونڈنے کے لئے ۔۔۔۔
عمیر کے ذکر پر منال کو عمیر سے کل ہوئی اپنی گفتگو یاد آگئی اور منال کے ہاتھ سے تو لیہ نیچے جا گرا ۔۔۔۔۔
منال کے چہرے کا رنگ ایکدم پیلا پڑ گیا ۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *