Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer NovelR50758 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode16
No Download Link
581.2K
29
Rate this Novel
Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode01 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode02 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode03 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode04 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode05 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode07 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode08 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode09 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode10 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode11 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode12 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode13 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode14 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode15 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode16 (Watching)Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode17 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode18 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode19 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode20 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode21 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode22 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode24 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode25 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode26 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode27 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode28 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Last Episode Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode23 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode06
Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode16
Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode16
علینہ تم سب جانتی ہو پھر بھی ایسا کہہ رہی ہو ۔۔۔
ہاں رومان میں سب جانتی ہوں اسی لیے ایسا کہہ رہی ہوں کیوں کہ میں تم سے پیار کرتی ہوں اور جو بے وقوفی تم نے کی تھی اس سے تم نے اپنا پیار خود کھو دیا ہے
ویسی بے وقوفی کر کے میں اپنا پیار نہیں کھونا چاہتی ۔تم سمجھ کیوں نہیں رہے میری بات کو ۔۔۔
علینا نے بے بسی سے اپنے بالوں کو مٹھیوں میں جکڑ لیا
علینہ میں پاکستان جانا چاہتا ہوں میں اپنی طرف سے ایک آخری کوشش کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔
میں تم سے وعدہ کرتا ہوں اگر میں اپنی کوشش میں ناکام ہوگیا تو واپس لوٹ کر تمہارے پاس آ جاؤں گا ۔۔
اور اگر میں اپنی کوشش میں کامیاب ہوگیا تو تم مجھ سے وعدہ کرو تم آگے بڑھ جاؤ گی
رومان کار پٹ پر علینہ کے سامنے بیٹھتے ہوئے بولا ۔۔۔
اور اپنا ہاتھ علینہ کے سامنے کیا اور بولا مجھ سے وعدہ کرو تم ۔۔۔
علینا پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی اور اٹھ کر دروازے کی طرف بھاگی ۔۔
دروازہ کھولنے سے پہلے بولی ۔رومان میں نے تم سےسچا پیار کیا ہے میں نے ہمیشہ تمہاری خوشی چاہی ہے ہر وہ کام کیا ہے جس سے تمہیں خوشی ملتی تھی
میں تم سے ملنے سے پہلے پیار کیا ہوتا ہے نہیں جانتی تھی ۔۔میری بے رنگ زندگی میں بہار تم سے آئ ہے ۔
۔میری زندگی میں ساری خوشیاں تم سے ہیں میں مر جاؤں گی اگر تم مجھے نہ ملے تو ۔۔میں تم سے وعدہ نہیں کروں گی ۔۔
وہ وعدہ نہ لو مجھ سے جو میں نبھا نہ سکوں
تمہیں اجازت دی جا کے آزما لو اپنا پیار اگر تمہارا پیار سچا ہوا اور اس میں طاقت ہوئی تو وہ ضرور معاف کر کے اپنا لے گی تمہیں ۔۔۔
تم اپنے پیار کے لئے لڑو ۔
میں اپنے پیار کو حاصل کرنے کے لئے کوشش کروں گی ۔۔
کہ کر وو رکی نہیں دروازہ بند کرتی باہر نکل گئی ۔۔
رومان پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا
وہ علینا کو بھی تکلیف نہیں دینا چاہتا تھا پیچھلے پانچ سال سے علینا اور رومان دوست تھے
علینا اپنی ماں باپ اور ایک چھوٹے بھائی کے ساتھ یہاں رہتی تھی
رومان جب انگلینڈ آیا تو اس کے ہفتے بعد ایک اسٹور پر دونو ں کی مولاقات ہوئی تھی
وقت کے ساتھ ساتھ دونو ں کی دوستی گہر ی ہوتی گئی ۔۔
رومان کے لئے وہ صرف دوست تھی
جب کے علینا کے لئے وہ دوست سے بڑھ کر تھا
ایک سال پہلے ہی علینا نے اپنے پیار کا اظہار کیا تھا
رومان کے لئے علینا سے دوبارہ ملنا مشکل ہو گیا تھا پورا ایک مہینہ رومان نے علینا سے بول چال بند rرکھی ملنا چھوڑ دیا ۔
علینا کا فون آتا کاٹ دیتا ۔اگر وہ رومان کے فلیٹ پر آتی تب دروازہ نہ کھولتا وہ بیل بجا بجا کر واپس چلی جاتی
علینا ہر اس جگہ ملنے پہنچ جاتی جہاں وہ جاتا ۔۔
علینا نے ہر طرح ملنے اور بات کرنے کی کوشش کی لیکن سب بیکار جاتا
تنگ آ کر علینا نے خود کشی کی کوشش کی
بروقت ہسپتال پہنچانے کی وجہ سے علینہ کی جان بچا لی گئی رو مان کو جب علینہ کی اس حرکت کا پتہ چلا تو وہ فورا ہسپتال پہنچ آیا
اور علینہ کے ہوش میں آنے کے بعد علینا کی انسلٹ کی ۔۔
تم سمجھتی کیا ہو خود کو اور ایسا کر کے تم کیا ظاہر کرنے کی کوشش کرنا چاہتی ہوں تم نے سوچا ہے اگر تمہیں کچھ ہو جاتا تو تمہارے گھر والوں کا کیا ہوتا اپنا نہیں تو کم از کم ان کا ہی خیال کر لیتی ۔رومان غصے سے بولا
علینا پورے ایک مہینے کے بعد اپنے سامنے رومان کو دیکھ کر خوشی سے رونے لگی
اور بے اختیار رومان کے سینے سے لگ گئی
رومان اپنی جگہ ساکت ہو گیا
آئی ایم سوری رومان میں تم سے بہت پیار کرتی ہوں تمہارے بغیر میں نہیں جی سکتی
تم مجھ سے بات نہیں کر رہے تھے میرا فون نہیں اٹھا رہے تھے میں نے تم سے ملنے کی بہت کوشش کی لیکن تم مجھ سے دور بھاگ رہے تھے
اور مجھ سے تمہارا دور جانا برداشت نہیں ہو رہا تھا ۔۔علینہ رومان کی سینے سے لگی سب کہ رہی تھی
رو مان نے علینہ کو اس کے کندھوں سے پکڑ کر خود سے جدا کیا اور بولا :دیکھو علینہ میرے لئے تم صرف ایک دوست کی حیثیت رکھتی ہو اور اس سے بڑھ کر میرے لئے تم کچھ نہیں ہوں ۔۔
اگر تم چاہتی ہو میں تم سے دوبارہ پہلے کی طرح ملو تو تمہیں مجھ سے اسی علینا کی طرح ملنا ہو گا جو میری صرف دوست ہوا کرتی تھی ۔۔
اگر تمہیں منظور ہے تو ٹھیک ہے
ورنہ میں ابھی یہ دوستی حتم کرتا ہوں ۔۔
رومان کی بات پر علینہ نے تڑپ کر اس کی طرف دیکھا
علینہ کیلئے رومان کا ساتھ اب بہت ضروری ہو گیا تھا وہ بس اس کے ساتھ رہنا چاہتی تھی چاہے دوست کی حیثیت سے ہی کیوں نہ وہ اس کے ساتھ رہتا ۔۔۔وہ ہر دم اسے اپنی نظروں کے سامنے رکھنا چاہتی تھی
علینہ نے اپنی گردن جھکا لی اورآ ہستہ آواز میں بولی مجھے منظور ہے ۔۔۔
گڈ ۔۔اب اپنی بات پر قائم رہنا تم
تم ریسٹ کرو میں ڈاکٹر مل کر آتا ہوں ۔کہہ رومان باہر نکل گیا
علینا نے اپنا سر تکیے پر رکھا اور رونے لگی ۔۔۔
ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد علینا اور رو مان پہلے کی طرح ملتے ۔۔۔
وقت کے ساتھ ساتھ علینا کی پیار میں اضافہ ہوتا گیا
علینہ کے لیے رومان اسی طرح ضروری ہوگیا تھا جیسے جینے کے لیے سانس ضروری ہوتی ہے ۔۔۔
اور آج رومان نے ا سے اس موڑ پر لاکر کھڑا کردیا تھا
جہاں پر علینا کا رومان کے بغیر سانس لینا بھی مشکل تھا
منال نے گھر آ کر کپڑے چینج کرتے ہوئے اپنا بازو دیکھا تو وہاں پر شاہ ویز کی انگلیاں اپنا نشان چھوڑ کر جا چکی تھی اور ساتھ درد اور جلن بھی
ایک دفعہ پھر منال کے دل میں اس کے لئے سخت نفرت پیدا ہو گئی تھی ۔۔۔۔
کل رات کے واقعے کے بعد منال نے سکول اور اکیڈمی سے چھٹی کر لی تھی ۔۔۔۔
امی نے چھٹی کی وجہ پوچھی تو انہیں سر درد کا کہہ کر ٹال دیا ۔۔۔
ردا اسکول جا چکی تھی
ردا کے سکول جانے کے بعد منال نے اپنا اور امی کا ناشتہ تیار کیا اور اکٹھے بیٹھ کر کیا
امی میں سوچ رہی ہوں کہ دونوں طرف سے جاب چھوڑ کر کہیں اچھی سیلری پر ایک ہی جگہ نوکری کرلو ۔۔۔۔
کیوں کہ اکثر اکیڈمی سے واپس آتے آ تے رات ہو جاتی ہے
اور میں نہیں چاہتی محلے کے لوگ باتیں کریں
کہہ تو بیٹا تم ٹھیک رہی ہو تمہیں دو دو جگہ نوکریا ں کرتا دیکھ کر میرا دل کٹتا ہے
کہیں تلاش کی ہے تم نے دوسری نوکری ۔۔
نہیں امی فلحال میں نے تلاش نہیں کی میں چاہ رہی تھی پہلے آپ سے بات کر لوں اس کے بعد کہیں تلاش کر وں ۔۔
ٹھیک ہے بیٹا جیسے تمہاری مرضی ۔۔۔
کہ کر آسیہ چاےُ پینے لگی
منال ناشتے کے برتن اٹھا کر کچن میں لے آئی اور دھونے لگی
منال کو جب سے پتہ چلا تھا وہ شخص اکیڈمی کا اونر ہے تب سے منال نے جا ب چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا تھا
شاہ ویز آج جان بوج کر اکیڈمی آیا تھا
سارا سٹاف حاضر تھا سواۓ منال کو چھوڑ کر ۔۔۔
کال رات منال کو ردا کے ساتھ جاتے دیکھ کر شاہ ویز نے سوچ لیا تھا وہ اس لڑکی کو ضرور سبق سیکھا ے گا
شاہ ویز کو منال کے نام سے شک ہوا تھا
اسی لئے فورا پاس بیٹھے عمیر سے تصدیق کی یار یہ وہی لڑکی ہے جس کے بارے میں تم نے بتایا تھا جاب کے لیے آئی ہے اور جس کا انٹرویو تم نے لے کر اسے سلیکٹ کر لیا تھا ۔
کونسی لڑکی کس کے بارے میں تم کہہ رہے ہو ۔۔میں نے تمہارے بغیر دو تین لڑکیوں کا انٹرویو لے کر سلیکٹ کیا تھا
آپ مجھے کیا پتا تم کس کا پوچھ رہے ہو ۔۔
یار وہی لڑکی جو ابھی یہاں بلیک فراک میں موجود تھی شاہ ویز بولا
یہاں میں نے دو تین لڑکیوں کو بلیک فراک میں دیکھا ہے تم کس کی بات کر رہے ہو عمیر ہاتھ کے اشارے سے دو لڑکیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوے بولا جنہوں نے بلیک فرک پہنا ہوا تھا وہ یا
وہ والی ۔۔۔
شاہ ویز نے دونوں کو باری باری دیکھ کر نفی میں سر ہلا یا
اور پھر کوٹ کی جیب سے موبائل نکال کر اس میں سے ایک تصویر نکال کر عمیر کے سامنے کرتے ہوئے بولا یہ والی لڑکی ۔۔
عمیر نے حیرت اور بے یقینی سے شاویز کی طرف دیکھا
یہ تصویر شاہ ویز نے تب بنائی جب ارم کو پکڑ کر وہ چل رہی تھی زوم کر کے صرف منال کی تصویر لی گئی تھی ۔
عمیر کے اندر ایک دم کچھ ٹوٹا تھا لیکن
بظاہر نارمل رہتے ہوئے بولا یہ لڑکی ۔۔۔۔اس لڑکی کی بات کر رہے ہو تم
وہ تصدیق کرنا چاہ رہا تھا
ہاں یہی لڑکی شاہ ویز بولا
اس لڑکی کا نام منال وقار ہے اور اسی کا انٹرویو لے کر میں نے سلیکٹ کیا تھا
بہت ہی زیادہ ذہین اور محنتی لڑکی ہے اور ضرورت مند بھی
لیکن تم کیوں پوچھ رہے ہو اور یہ تصویر تمہارے موبائل میں کیسے آئی ہے ۔
کیا تم نے اس کی تصویر چوری بنائی ہے ۔۔عمیر اس کے چہرے پر کھوجتی نظروں سے بولا۔۔
عمیر کی بات پر شاہ ویز مسکرایا اور بولا
یہ تصویر میں نے کیوں بنائی یہ وجہ میں بھی ابھی نہیں جانتا ۔۔
لیکن جلد تمہیں بتا دونگا
کہہ کر شاہ ویز اٹھا اور بولا ٹھیک ہے یار اب میں چلتا ہوں کل ملاقات ہو گی اپنا خیال رکھنا
پیچھے سے عمیر کی نظروں میں دور تک اس کا پیچھا کیا
مس منال کیوں چھٹی پر ہیں آپ سب اچھے سے جانتے ہیں بچوں کے ایگزامز قریب ہیں لیکن پھر بھی وہ چھٹی کر کے گھر بیٹھ گئی ہے۔ مہوش کو اپنے آفس بلا کر شاہ ویز نے پوچھا
سر مجھے نہیں معلوم وہ آج کیوں نہیں آئی اور نہ ہی اس نے چھٹی کے بارے میں کچھ بتایا تھا
ہوں ٹھیک ہے آپ آپ جائیں اور سارے سٹاف کو سٹاف روم میں اکھٹا کریں مجھے آپ سب سے بات کرنی ہے
مہوش جی کہ کر باہر نکل گئی اور باری باری سب کو سٹاف روم میں جمع کیا
شاہ ویز اٹھ کر سٹاف روم میں چلا گیا
سب جمع ہوگئے تو شاہ ویز نے بولنا شروع کیا ۔۔
آپ سب جانتے ہیں بچوں کے ایگزامز قریب آ رہے ہیں
اور سارے اسٹوڈنٹس چاہتے ہیں ان کے فری ہونے سے پہلے ان کا ٹرپ لے کر جایا جائے
مجھ سے عمیر نے بات کی تھی تو میں نے سوچا آج فائنل کر دیا جائے آپ سب لوگ کہاں پر جانا چاہتے ہیں اپنی اپنی رائے بتا دیں
سارے سٹاف کے چہروں پر خوشی کی لہر پیدا ہو گئی
سب نے اپنی را ےُ بتائی وہ سب مری جانا چاہ رہے تھے
حالانکہ اب موسم چینج ہو چکا تھا اب پہلے جیسی گرمی نہیں رہی تھی
سب کی متفقہ رائے سے اوکے کر دیا گیا اور شاہ ویز نے اعلان کر دیا کے ہم لوگ جمرات کو نکلیں گے اور اتوار کو واپسی ہو گی
آپ سب لوگ اپنی اپنی تیاری کر لیں
اور سٹوڈنٹ سے بھی کہہ دیں جو جانا چاہتے ہیں وہ عمیر سر سے رابطہ کر لیں ۔۔
کے کر عمیر آفس واپس آ گیا
ارم نے منال کو کال کر کے مری جانے کا بتا دیا اور کہا کے تم آج سے ہی اپنی تیاری شروع کر دو ۔۔گرم کپڑے ضرورت رکھ لینا وہاں پر بہت ٹھنڈ ہو گئی
منال سوچ میں ڈوب گئی
پہلے کی بات اور تھی وہ جانے کے لیے مان گئی تھی لیکن اب شاہ ویز کی وجہ سے منال سوچ میں پڑ گئی تھی کے وہ کیا کرے اب اگر اب انکار کیا تو وعدہ ٹوٹ جائے گا اور ارم بھی ناراض ہو جائے گی مجھ سے وہی واحد دوست ہے میری اگر وہ بھی ناراض ہو گئی تو
خیر
میں کیوں اس سے ڈر رہی ہو وہ کونسا مجھے کھا جائے گا ہے تو وہ بھی انسان ہی ۔۔۔
دیکھا جائے گا اگر وہاں اس نے اگر کوئی الٹی سیدھی حرکت کی تو ۔۔۔
ارم کو اوکے کہہ کر منال نے فون بند کر دیا اور امی کو بتانے کے لئے ان کے پاس چلی گئی
شاہ ویز نے شام کی چاۓ پر موم اور ڈیڈ دونوں کو دعوت دی کہ وہ ٹرپ کے ساتھ مری چلیں
بیٹا آپ جانتے ہیں ہفتے کو شاہ میر اور باقی سب آ رہے ہیں اس لئے ہم تو نہیں جا سکتے لیکن آپ ضرور جانا ۔۔۔
شاہ ویز موم کی بات پر چپ ہوگیا
شاہ میر بڑا بھائی تھا شاہ ویز کا شادی شدہ دو جڑ واں بیٹوں اور ایک بیٹی کا باپ تھا
اوکے موم آپ میری پیکنگ کر دینا ہمیں جمعرات کو صبح پانچ بجے نکلنا ہے
اوکے بیٹا ۔۔۔
اچھا شاہ ویز مجھے آپ سے پوچھنا تھا کہ آپ نے اب مدیحہ کے بارے میں کیا سوچا ہے
موم ابھی میں نے اس بارے میں زیادہ نہیں سوچا میں کوئی بھی فیصلہ لینے سے پہلے مدیحہ کو اچھی طرح جان لینا چاہتا ہوں ۔۔۔آپ پلیز مجھے تھوڑا سا وقت دیں تاکہ میں کوئی اچھا فیصلہ کر سکوں
بیٹا یہی بات ہے نہ یا پھر کوئی اور لڑکی تو نہیں پسند آ گئی
کیوں کے ایک مہینہ ہو گیا ہے اور آپ ابھی تک فیصلہ نہیں کر پا ےُ ۔۔
ہاں بیٹا اگر ایسی کوئی بات ہے تو تم ہمیں بتا سکتے ہو اسجد صاحب بولے
نہیں ڈیڈ ایسی کوئی بات نہیں ہے اور اگر ہوئی تو سب سے پہلے میں آپ کو ہی بتاؤں گا
اوکے بیٹا ۔خوش رہو اسجد صاحب بولے
منال اور ارم نے اپنے اسکول تین دن کی چھٹی کی بات کر لی تھی
منال نے وہاں کے موسم کے حساب سے اپنی پیکنگ مکمل کر لی تھی اور کچھ کھانے پینے کی چیزیں بھی بیگ میں رکھ لی تھی
جانے سے ایک دن پہلے آسیہ نے منال کو بلا کر اس کے ہاتھ میں دس ہزار روپے رکھے اور بولی ۔۔
یہ کچھ پیسے رکھ لوں وہاں پر جو دل کیا وہ چیز لے لینا تمہیں دل مارنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے جو چیز پسند آئی وہ لے لیتا ۔۔۔
لیکن امی میرے پاس پیسے ہیں ان کی کوئی ضرورت نہیں ہے آپ انہیں اپنے پاس رکھیں یہ آپ کے پیسے ہیں آپ کے کام آئیں گے منال نے پیسے لینے سے انکار کر دیا
بیٹا میرے اور تمہارے پیسوں میں کوئی فرق نہیں ہے اور یہ پیسے میرے نہیں تمہارے ہیں اس لئے انہیں چپ کر کے رکھ لو میں انکار نہیں سنوں گی
آسیہ نے پیسے زبردستی منال کے ہاتھ پر رکھ دیے
صبح منال کو پانچ بجے نکلنا تھا
باقی اسٹاف اور سٹوڈنٹس اکیڈمی سے ہی بسوں میں بیٹھ گئے صرف منال نے اپنے اسٹاپ سے بس پر بیٹھنا تھا
کیوں کہ منال کے لیے صبح صبح اکیڈمی پہنچنا مشکل تھا اس لئے منال کی مشکل کو دیکھتے ہوئے اسے سٹاپ سے بیٹھا نے کا فیصلہ کیا گیا
دو بسوں کا انتظام کیا گیا تھا سٹوڈنٹس زیادہ ہونے کی وجہ سے
ایک پوری بس سٹوڈنٹ سے بھری ہوئی تھی جب کہ دوسری بس میں سٹوڈنٹس کے ساتھ ٹیچرز بھی موجود تھی
منال بس میں داخل ہوئی پوری بس بھری ہوئی تھی صرف دو سیٹوں کو چھوڑ کر
مہوش اور مقدس بیٹھی ہوئی تھی
جب کے ارم فواد کے ساتھ بیٹھی تھی
منال کو دیکھ کر ارم نے ہاتھ ہلایا بدلے میں منال نے بھی ہاتھ ہلا دیا اور خالی سیٹ پر جا کر بیٹھ گئی
بس ا سٹارٹ ہوئی تو منال نے پوری بس پر نظر دوڑائیں
شاہ ویز کو بس میں موجود نہ پا کر منال نے سکون کا سانس لیا اور آنکھیں موند کر سیٹ کے ساتھ ٹیک لگا لی
لیکن وہ نہیں جانتی تھی کہ یہ سکون صرف وقتی ہے
منال ساری رات سکون سے سو نہیں سکی تھی صبح بھی وہ چار بجے اٹھ گئی تھی اور تیاری میں لگ گئی تھی
ابھی دس منٹ ہی ہوئے تھے بس کو چلتے ہوئے کہ منال کی آنکھ لگ گئی اور وہ سو گئی
منال سو رہی تھی جب شاہ ویزبس میں داخل ہوا
اور منال کے ساتھ والی خالی سیٹ پر بیٹھ گیا ۔۔
شاہ ویز کے چہرے پر منال کو سوتا دیکھ کر مسکراہٹ نمودار ہو گئی ۔۔۔
شاہ ویز صرف منال کو زچ کرنے کی خاطر ساتھ جا رہا تھا….
جاری ہے
