Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer NovelR50758 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode01
No Download Link
581.2K
29
Rate this Novel
Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode01 (Watching)Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode02 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode03 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode04 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode05 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode07 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode08 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode09 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode10 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode11 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode12 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode13 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode14 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode15 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode16 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode17 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode18 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode19 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode20 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode21 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode22 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode24 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode25 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode26 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode27 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode28 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Last Episode Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode23 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode06
Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode01
Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode01
گرمی پورے زور سے پر رہی تھی پسینےسے ہر بندا پورا
گیلا ہو رہا تھا۔۔
ایسا لگ رہا تھا آج گرمی اپنا پورا ریکارڈ توڑ کر رہی گی پرندے درختوں میں چھپے بیٹھے تھے سڑکوں پر ہو کا عالَم تھا تپش کے با عث
کوئی بھی گھروں سے نکلنے کو تیار نہ تھا
اسٹاپ پے گاڑی رکی اور اس میں سے مسافر اترنے لگے اور کچھ چڑ نے لگے
انہی مسافروں میں سے وہ بھی اتری اور گھر کی طرف چلنے لگی گرمی کی وجہ سے اس کا حلق تک سوکھ چکا تھا چہرے پے آتاپسینہ وہ بار بار ہاتھوں سے صاف کرتی گھر کی راہ پے چل رہی تھی
اور بار بار آسمان پے نظر ڈال رہی تھی اور دل سے دعا کرتی جا رہی تھی یا اللہ تو رحمان ہے رحیم ہے ہم گناہ گا روں پر کرم فرما
آنسوآنکھوں سے نکلنے لگے میں کیا کہوں گی گھر آج بھی مایوسی کے سوا اسے کچھ نہ ملا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ردا اٹھ بہن انے والی ہو گی باہر گرمی بھی زیادہ ہے اس کے لئے اٹھ کے لیمو ں پانی بنا کے رکھ دے
ردا جو اسکول کا کام کرنے میں مگن تھی
اما ں کی آواز پے ان کی طرف دیکھتے ھوے بولی۔۔
ٹھیک ہے بنا دیتی ہوں کاپی اور کتاب رکھتے ھوے اٹھی اور کچن میں جانے لگی تب ہی دروازہ کھولتے منال گھر میں داخل ہوئی ا ور دروازہ بند کر کے بر آمد ے میں بچی چارپائی پے سلام کرتے ھوے بیٹھ گئی ۔۔
آگئی میری بیٹی اماں پیار سے سر پے ہاتھ رکھتے
ھوے بولی اٹھ میری بیٹی اٹھ کے منہ دھو کے آ جا اور ردا کو آواز دے کے پانی لانے کو کہا۔
منال برقع اترتے ھوے صحن میں لگے واش روم میں چلی گئی ہاتھ منہ دھونے پانی بھی گرمی کی وجہ سے گرم تھا لیکن جلدی جلدی ہاتھ اور منہ دھو کے واپس ای اور پانی پینے لگی وہ جلدی جلدی پانی پی رہی تھی تبہی امی بولی بیٹا آرام سے پیو جلدی جلدی نہیں پیتے بلکے پانی ٹھہر ٹھہر کر پیتے ہیں
منال امی کی بات سن کے شرمندہ ہوئی اور بولی امی پیاس کی وجہ سے گلہ خشک ہو رہا تھا
آپ بتائیں آج تو نہیں آیا دوبارہ وہ پیسے لینے اور کوئی الٹی سیدھی حرکت تو نہیں کر کے گیا
وہ چہرے پر فکر لاتے ھوے امی سے پوچنھے لگی
نہیں بیٹا آج وہ نہیں آیا منال کی نظریں نیچے فرش پر تبھی وہ امی کی منا کرتی نظریں نہ دیکھ پائی جو ردا کو کچھ بولتے ھوے دیکھ کر کر رہی تھی
ردا آنکھوں سے آنسو صاف کرتی کچن میں چلی گئی بہن کے لئے روٹی لانے کے لئے اور دکھ سے بہن کے لئے سوچنے لگی جو اتنی سی عمر میں ان کے لئے باہر کے دھکے کھا نے لگ پڑی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گڈ ایوننگ موم !کہتے ھوے موم کے گلے میں بازو ڈالتے ھوے لاڈ سے بولتا ہوا پاس ہی بیٹھ گیا۔
گڈ ایوننگ مائے سن
کہاں تھے آپ صبح سے ابھی نظر آ رہے ہیں آپ کو کہا تھا آج آفس کا چکر لگا لینا کچھ ضروری کام تھا لیکن آفس تو دور آپ صبح سے گھر سے بھی غائب تھے وہ بھی بتاے بغر چہرے پر سختی لاتے ھوے وہ شاہ ویز سے بولی :
I am sorry mom
وہ ایکچولی دوست کا ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا جس کی وجہ سے مجھے جلدی میں جانا پڑا اور آپ کو بتا بھی نہیں سکا سو سوری موم نیکسٹ ایسا کبھی نہیں ہو گا ای پرومس
شاہ ویز کان پکڑ تے ھوے بولا :
کان پکڑ ے دیکھ کے اسے
عائشہ بیگم نرم پڑھتے ھوے بولی اچھا ٹھیک ہے جاؤ جا کر فریش ہو جاؤ چا ے تیار ہو رہی ہے
اوکے موم کہتا وہ اٹھ کے سیڑ ھیاں چڑ ھتا روم میں چلا گیا
فریش ہونے کے بعد وہ نچے آیا اور چاے کا کپ اٹھا کر پینے لگا تبھی عائشہ بیگم اسے دیکھتے ھوے بولی میں چاہتی ہوں اب تم شادی کر لو اس گھر کو اب بہو کی ضرورت ہے تا کے وہی آ کر تمہارے کان کھینچے وہی سیدھا کرے گی آ کے تمیں
میر ی تو کوئی بات سنتے نہیں تم
موم کی بات سن کے وہ ان کے چہرے پر دیکھنے لگا اور
ہنس کر کہنے لگا آپ کو لگتا ہے کوئی مجھے سیدھا کر سکتا ہے ایسا کوئی آج تک پیدا ہی نہیں ہوا جو شاہ ویز کو سیدھا کر سکے
اسے ہستا دیکھ کے عائشہ بیگم غصّے بری خفگی سے دیکھتے ھوے بولی باز آ جاؤ یہ نہ ہو کل کی جگہ اج ہی شادی کروا دوں
اوکے اوکے باز آیا میں بٹ پلز آپ ابھی میری شادی کی فکر نکال دیں دل سے میں ابھی شادی نہیں کرنا چاہتا وہ سنجید گی سے کہنے لگا
میں کچھ نہیں جانتی اب اور انتظار نہیں کر سکتی میں میں نے اپنی ایک دوست کی بیٹی پسند کی ہے بہت پیاری ہے تم اسے مل لو اور پھر فیصلہ کر لینا اور میں کوئی انکار نہ سنو ای سمجھ میری بات ورنہ مجھ سے بات نہ کرنا
موم لیکن میں ابھی یہ سب نہیں چاہتا آپ پلز منا کر دیں مجھے نہیں ملنا کسی سے وہ بیزار لہجے میں بولا :
تم پہلے ایک بار مل لو مجھے امید ہے ضرور پسند آے گی ایسے میں بات ختم نہیں کر سکتی مدیحہ بہت پیاری اور پڑھی لکھی لڑکی ہے تمہیں ضرور پسند آے گی وہ پیار سے بولی کیوں کے انہیں پتا تھا اگر زیادہ غصہ کیا تو وہ کبھی ان کی بات نہیں سنے گا ۔
اوکے موم آپ بھی کیا یاد کریں گی مل لیتا ہوں وہ رضا مندی ظاہر کرتا وہی ان کی گود میں سر رکھ ک لیٹ گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غیر معمولی شور سے اس کی آنکھ کھلی وہ جو کھانا کھا
نے کے بعد سو گئی تھی شور کی آواز سے وہ اٹھ کے باہر ای اور صحن میں ڈیرہ جما ے سب کو بیٹھے دیکھا
منال کی بڑ ی بہن اپنے تین بچوں کے ساتھ ای ہوئی تھی اور یہ شور کی آواز بی انی بچوں کی تھی منال چلتی ہوئی پاس ای اور سب کو باری باری پیار کرنے کے بعد وہ بہن کے پاس ای اور گلے ملنے کے بعد اسی کے پاس بیٹھ گئی
اور سناؤ منال کیسی ہو پہلے سے کمزور لگ رہی ہو ؟اپنا خیال نہیں رکھتی کیا۔۔۔؟
مشعل غور سے منال کو دیکھتے ھوے بولی ۔۔
آپی رکھتی ہوں خیال آپ کافی ٹائم کے بعد ای ہیں اس لئے آپ کو ایسا لگ رہا ہے آپ سنائیں علی بھائی کیسے ہیں وہ نہیں آے ساتھ ان کو بھی لے آتی
آے تھے چھوڑ کے چلے گئے تم سو رہی تھی اس لئے نہیں جگایا ۔۔۔
سہی ہے اب آئ ہیں تو رہیں گی نہ کچھ دن آپ کی تو جب سے شادی ہوئی ہےکم ہی آ کے رہتی ہیں مہینہ بعد آ کے بس شکل دیکھا جاتی ہیں کے دیکھ لو ۔۔بدل تو نہیں گئی شکل سر پر سینگ تو نہیں آ گئے نہ
منال ہستے ھوے بہن کو تنگ کرتے ھوے بولی۔
مشعل منال کی بات پے ہنسنےلگی اور بولی دیکھ لیں امی کیسے تنگ کر رہی ہے جب اس کی خود کی شادی ہو گی تب میں پوچھوں گی مشعل نے جان بوج کر اس کی شادی کا قصہ چھیڑ دیا کیوں کے وہ جانتی تھی ویسے تو اس نے چپ کرنا نہیں مزید تنگ کرے گی تبھی ایسے ہی منال کی بولتی بند کروا دی کیوں کے وہ شادی کے نام پر ایسے ہی چڑ جاتی تھی ۔۔۔۔!!!
کیا آپی آپ سیدھی طرح بول دیں چپ کر جاؤ میری شادی کی بات چھیڑ کر آپ نے اب امی کو بھی موقع دے دیا وہ بھی اب یہی بات لے کے بیٹھ جائین گی وہ چہرے پر خفگی لاتے ہوے بولی ۔۔۔۔اور منہ پھلا کر بیٹھ گئی
اچھا بابا سوری معاف کر دو میں تو جان کے تنگ کر رہی تھی اچھا جاؤ مشعل کان پکڑ تے ہوے بولی تو منال کی ہنسی نکل گئی اور بہن کے گلے لگ لگی ۔۔۔!!!!
اچھا جاؤ منال ذرا اپنے ہاتھ کی چاے ہی بنا کر پلا دو کافی ٹائم سے نہیں پی اب تو ذائقہ ہی بھول گیا ہے مشعل منال کو وہاں سے اٹھانا چاہتی تھی کیوں کے وہ جو بات کرنا چاہتی تھی اس کے لئے منال کا وہاں سے جانا ضروری تھا کیوں کے اگر اسے بینک پڑھ جاتی تو اس نے لڑنا شروع کر دینا تھا مشعل سے “
منال اچھا کہتی ہوئی اٹھ کر کچن میں چلی گئی ردا بچوں کے ساتھ کھیلنے میں مصروف تھی یہی موقع تھا آرام سے امی سے بات کرنے کا
امی مجھے آپ سے منال کے سلسلے میں بات بات کرنی ہے ۔۔منال کے لئے میں اپنے دیور کا رشتہ لائی ہوں آج کل گھر میں عمر کے رشتے کی بات چل رہی ہے تو عمر نے خود مجھے منال کے لئے کہا ہے کے بھابی آپ باہر پلز دیکھنے کی بجاے منال کے لئے بات چلا لیں میں اسے پسند بھی کرتا ہوں بہت سلجھی ہوئی لڑکی ہے مجھے یقین ہے وہ آپ کی طرح اس گھر کو جوڑ کر رکھے گی ۔۔۔۔!!!!
مشعل بات کرتے ہوے امی کے چہرے پر بھی دیکھ رہی تھی جہاں انھیں اس کی بات سے خوشی ملی وہاں تھوڑی پریشانی بھی تھی
تبھی بولی امی کیا بات ہے آپ کو اچھا نہیں لگا کیا عمر میں کوئی برائی ہے کیا اچھا کما لیتا ہے سب سے بڑی بات اس نے خود کہا ہے وہ منال کو پسند کرتا ہے آپ پلز اس بارے میں سوچ سمجھ کے فیصلہ کرنا منال خوش رہے گی !!؟
وہ سب تو ٹھیک ہے لیکن مشعل منال نہیں ماننے گی کبھی بھی اسے تمہارا دیور بالکل نہیں پسند اور تمہیں پتا تو ہے وہ جس بات سے انکار کر دے جلدی مانتی بھی نہیں ہے پھر بھی میں کوشش کروں گی وہ مان جائے اچھا ہے عزت سے اپنے گھر کی ہو جائے ورنہ جیسے وہ محنت کرتی ہے اس گھر کو چلانے کے لئے سچ پوچھو تو دل کٹ کے رہ جاتا ہے اس کی ذمہ داری نہیں ہے لیکن وہ پھر بھی ہم سب کی خاطر کر رہی ہے اللہ ہی میری بچی کی مشکلات آسان فرماے اور نصیب کھولے آسیہ احمد آنکھوں سے آنسو صاف کرتے ہوے بولی _____
مشعل آمین کہتی ہوئی ما ں کے گلے لگ گئی اور آنسو صاف کرنے لگی ان کے آپ فکر نہ کریں سب ٹھیک ہو جائے گا بس آپ د عا کیا کریں ساتھ ہی منال کو آواز دی کے چاے بنا رہی ہو یا پاے بنا رہی ہو ۔۔۔
مشعل کی آواز پے منال ٹرے اٹھا ے باہر آ گئی جس میں چاے کے ساتھ پکوڑے بی موجود تھے میں نے سوچا سوچا موسم ذرا خوش گوار ہوا ہے تو کیوں نہ چاے کے ساتھ پکوڑے بھی بنا لوں آسمان پے نظر ڈالتے منال بولی جہاں ایک دم سے ٹھنڈی ہوا چلنے لگ پڑی تھی اور بادل بننے لگ پڑے تھے
گہری سانس خارج کرتے ھوے آسمان پے دیکھتے ھوے چاے پینے لگ پڑی ساتھ پکو ڑوں سے انصاف بھی
________________________________________________یار شاہ : کافی عر صے سے کہیں گومنے کا پروگرام نہیں بنایا آج موسم بہت اچھا ہے کہیں چلتے ہیں ولید جو شاہ ویز کا دوست تھا اسے کہنے لگا ہاں تو ٹھیک کہ رہا ہے ایسا کر باقی سب کو بھی کال کر اور چلتے ہیں مستی کرنے کافی ٹائم کے بعد ایسا موسم ہوا ہے کھل کے انجواے کرنے کا
اگلے پندرہ منٹ میں باقی دوست بھی موجود تھے اپنی اپنی بائیک کے ساتھ شاہ و یز موم کو اطلا ع کرتا بائیک کی چابی اٹھا کر باہر نکل گیا ان سب کا موڈ روڈ پر گومنے پھر نے کا تھا کیوں کے آسمان کالے بادلوں سے بھر چکا تھا ایسا لگتا تھا جیسے بارش کسی بھی وقت برس سکتی ہے ۔۔۔۔۔۔
__________________________________
منال گھر سے امی کے لئے دوائی لینے نکلی موسم سخت خراب تھا لیکن مجبوری تھی امی کا بی پی اچانک ہائی ہو گیا تھا اور دوائی بھی دو دن سے ختم ہو چکی تھی لیکن منال کو انہوں نے نہ بتایا کیوں کے مہینے کا آخر تھا وہ جانتی تھی اگے بہت مشکل سے گھر کا نظام چل رہا ہے اسی وجہ سے لیکن آج اچا نک سے طبیعت بگڑ گئی مشعل کے جانے کے بعد ہی فورن منال گھر سے نکل پڑی اور میڈیکل اسٹور پے تیز تیز چلتی ہوئی پہنچ گئی یہ بھی شکر تھا میڈیکل اسٹور روڈ پر ہی تھا گھر سے محض پیدل بیس منٹ کے فا صلے پر موجود تھا لیکن جیسے ہی دوائی لے کے مڑی بارش بر سنے لگی تیز منال ایک دم گھبرا گئی لیکن یہ بھی شکر تھا شاپ پر اس کے علاوہ کچھ مرد اور دو عورتیں موجود تھی لیکن اگر ایسے ہی بارش رکنے کا انتظار کرتی تو وہ تو لگتا تھا صبح تک نہیں روکے گی بارش کی سپیڈ ایک دم ہلکی ہوئی تو وہ اگے پیچھے دیکھتی تیز تیز باہر نکلی اور گھر کی طرف چل پڑی قدموں میں تیزی تھی بارش کی وجہ سے اور کچھ کیچڑ کی وجہ سے مشکل تو ہو رہی تھی چلنے میں لیکن چلتی رہی تبھی پاس سے تیزی سے بائیک گزرنے کی وجہ سے روڈ ہوا کیچڑ سارا اس پے آ کے گرا وہ جو اگے ہی بارش کی وجہ سے بھیگ چکی تھی ساری رہی سہی کسر اب پوری ہو گئی کچھ بولنے کے لئے لب کھولے لیکن کچھ سوچ کر چپ کر گئی کیوں کے اس وقت وہ اکیلی لڑکی تھی اور جب کے وہ بائیک پے موجود 5 لڑکے تھے تبھی سر جھٹک کر دوبارہ تیزی سے چلنے لگی اور تبھی وہی بائیک والا جس نے اس پر کیچڑ گرایا واپس پلٹ کر آیا اور منال کے ساتھ ساتھ چلنے لگا اگر منال اگے ہوتی تو وہ پیچھے اور اگر منال پیچھے تو وہ اگے ہو جاتا ولید کی اس حرکت کو دیکھتے ھوے باقی بھی اپنی بائیک پاس لے آے اور ساتھ ساتھ چلنے لگے منال ایک دم گھبرا گئی اور تقریبن بھا گنے لگی منال کو بھاگتا دیکھ کر وہ لڑکے ہنسنے لگے اور آواز یں دینے لگے اؤ ہم چھوڑ اتے ہیں کہاں جانا ہے ۔۔۔۔!!!!؟؟؟
ساتھ ساتھ ہستے جا رہے تھے تبھی منال جو تیزتیز بھا گنے کی وجہ ایک دم روڈ پے گری تبھی ان تمام لڑکوں کے قہقے نکل گئے
منال کو ایک دم اپنی جان جسم سے نکلتے محسوس ہوئی زبان پے وہ مسلسل دواؤں کا ورد کر رہی تھی برقےاور نقاب میں ہونے کی وجہ سے وہ لڑکے ابھی تک منال کا چہرہ نا دیکھ پاے تھے منال تیزی سے اٹھی اور بھاگ کے سامنے بنے ایک گھر میں گھس گئی شکر تھا دروازہ کھلا تھا تبھی منال کو اپنے پیچھے ان لڑکوں کی آواز یں ای جو شکار کو ہاتھ سے نکلا دیکھ کر پچھتا رہے تھے منال دروازے کے ساتھ لگ کے کھڑی ہو گئی اور آنسو اس کی آنکھوں سے جاری تھے وہ رو رہی تھی کافی دیر ایسے کھڑا رہنے کے بعد جب آواز آنا بند ہو گئی تو منال نے دروازہ کھول کے دیکھا باہر کوئی نہیں تھا بارش اب ہلکی ہو چکی تھی منال باہر ای اور اگے پیچھے دیکھتی روڈ پے گری دوائی اٹھا کر بھاگتے ھوے گھر کی طرف چل پڑی وہ جلدی جلدی گھر جانا چاہتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!!!!
کہا بھی تھا نہ جائے بارش تیز ہے پتا نہیں کہاں ہو گی آسیہ احمد بیٹی کی فکر میں پریشان دروازے پے نظریں جما ے بیٹھی تھی تبھی فکر سے اٹھ کے خود اسے دیکھنے کے لئے نکل کے جانے لگی تبھی دروازہ کھول کر منال گھر میں داخل ہوئی امی اسے دیکھتے ھوے پریشان ہو گئی تبھی وہ جلدی سے بولی امی آپ کی دوائی لے ای ہوں آپ کیوں اٹھی ہیں چارپائی سے آرام کریں آپ چپ کر کے لیٹ جائیں
میں ٹھیک ہوں اب میری فکر نہ کرو تم نے اپنی حالت دیکھی ہے سارے کپڑے خراب ہو گئے ہیں کہا بھی تھا نہ جاؤ لیکن تم سنتی کب ہو کسی کی امی فکر مندی سے بولی
آپ پریشان نہ ہوں بس ذرا روڈ پر کیچڑ ہونے کی وجہ سے وہ ساری بات گول کرتے ھوے بولی وہ نہیں چاہتی تھی وہ مزید پریشان ہو۔۔۔۔!!!
اچھا جلدی سے کپڑےبدل کر آ جاؤ اور آ کے کھانا کھا لو
کمرے میں انے کے بعد کب سے روکے آنسو ایک بار پھر نکل پڑے آج اللہ نے اس کی مدد کی تھی اگر آج وہ ان کے ہاتھ لگ جاتی تو نجانے کیا ہو جاتا یہی سوچ کے وہ بار بار آنکھوں میں آے آنسو صاف کرتی رہی اور خود کو سمبھال کر کپڑے وغیرہ لے کر باتھ روم میں چلی گئی نہانے !!!!!!!
____________________________________________
یار بہت غلط حرکت کی ہے آج تم لوگوں نے یوں کسی لڑکی کے ساتھ ایسا کرنا کیا گزری ہو گی اس پر کیا سوچتی ہو گی وہ ہمارے بارے میں؟۔۔۔۔۔!!شاہ ویز دوستوں کو دیکھتے ھوے بولا۔۔۔۔۔۔۔۔
ارسل شاہ ویز کو دیکھتے ھوے بولا OH common on
وہ کون سا ہمیں جانتی ہے یا ہم جانتے ہیں اسے اور تو پریشان نا ہو تو جانتا ہے ہم سب نے آج تک ایسا کوئی کام نہیں کیا جسمیں ہم نے ایسے کسی لڑکی کو تنگ کیا ہو
آج بھی شرط رکھ دی فراز نے جس کی وجہ سے یہ سب کرنا پڑا ۔۔۔۔۔میری بات تم لوگ سن لو آج کے بعد ایسی کسی شرط میں مجھے مت لانا تم لوگ شاہ ویز ان سب کو کہتے ھوے اٹھ کے گھر کی طرف جانے لگا
ا و کدھر چلا اب تو تبھی پیچھے سے ولید نے آواز دی ۔۔
بارش رک چکی تھی وہ لوگ مزید بارش سے بچنے کے لئے ایک دکان کے شٹر کے نیچے آ کے کھڑے ہو گئے تھے
بارش رکتی دیکھ کر سب گھر کی طرف چل پڑے کیوں کے اندھیرہ کافی پھیل چکا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ .
___________________________________________
بارش کے بعد کی صبح کافی نکھری نکھری تھی منال نماز پڑھنے کے بعد چھت پر چلی تھی ٹھنڈی ہوا میں واک کرتے ھوے وہ کل والے واقع کے بارے میں سوچتے ھوے وہ ایک بار پورے وجود سے کانپ اٹھی گھر میں اس نے کسی کو کچھ نہیں بتایا تھا وہ نہیں چاہتی تھی امی اس کی وجہ سے مزید پریشان ہو جاتی
نیچے سے ردا کی آواز ای جو اسے ناشتے کے لئے بلا رہی تھی ردا کی آواز سن کر وہ نیچے آ گئی آسیہ احمد بیٹھی ناشتہ کر رہی تھی اسے آتا دیکھ کر ساتھ جگہ بنائی
امی کو دیکھتے ھوے منال بولی امی آج میں کچھ لیٹ ہو جاؤں گی اسکول سے اتے ھوے آپ پریشان نہ ہونا
ناشتہ کرتے ہوے منال بولی ۔۔۔؟؟
کیوں بیٹا خیریت ؟؟؟
جی امی ا یک اکیڈمی جانا تھا مجھے میری دوست نے بتایا تھا وہاں انھیں ضرورت ہے ایک ٹیچر کی اس لئے میں نے cv بجوا دی تھی آج انٹرویو کے لئے جانا ہے اس لئے کہا ہو سکتا ہے لیٹ ہو جاؤں
وہ اٹھتے ہوے بولی ۔۔۔
سہی ہے بیٹا دھیان سے جانا ۔۔
برتن کچن میں رکھنے کے بعد وہ تیار ہونے کمرے میں چلی گئی جہاں ردا تیار بیٹھی منال کا ویٹ کر رہی تھی دونو ں بہنیں ایک ساتھ ہی اسکول جاتی تھی ردا کا اسکول پاس ہی تھا ردا میٹرک کی سٹوڈنٹ تھی اور منال شہر میں موجود ایک پرائیویٹ اسکول میں پیچھلے تین سال سے نوکری کر رہی تھی مجبوری کے تحت منال BSC کرنے کے بعد نوکری کرنے لگی گھر کا خرچہ منال کی نوکری کی وجہ سے ہی چل رہا تھا
اسکول سے لیٹ ہونے کی وجہ سے ردا نے شور مچایا کے جلدی کرو آپی آج ہماری اسمبلی کی ڈیوٹی ہے
ردا کی آواز پے منال جلدی جلدی نقاب کرتی ہوئی بیگ اٹھا کر امی کو خدا حافظ کہتی ردا کے ساتھ باہر نکل گئی ۔۔۔۔۔
جاری ہے
