Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer NovelR50758

Last updated: 5 July 2026

Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer 

منال کی آنکھ صبح چہرے پر پانی گرانے کی وجہ سے کھلی چہرے پر پانی گرنے سے ملال ایکدم ہر بڑا کر اٹھی ۔
اور سامنے دیکھنے لگی جہاں پر وہیں رات والا شخص موجود تھا
منال کو دیکھ کر بولا
واہ کیا سکون سے سو رہی تھی دل تو نہیں کیا تمہیں جگانے کا
دل کیا تمہارے چہرے کی طرف غور سے دیکھتا ہی رہوں اتنا معصوم اور خوبصورت چہرہ ہے
لیکن مجبوری تھی جگانا پڑا
چلو اٹھ کر ناشتہ کرو اس کے بعد ہمیں نکلنا ہے
کہاں نکلنا ہے ۔۔۔منال بولی
سوری یہ تو میں تمہیں نہیں بتا سکتا کہ کہاں جانا ہے
بس چپ کرکے ناشتہ کرو اس کے بعد ہمیں فور ا نکلنا ہے ۔۔
____________
تمہارے ساتھ کہیں نہیں جانا مجھے صرف گھر جانا ہے مجھے گھر جانے دو ۔ ۔۔۔
تمہیں ایک بات کی سمجھ نہیں آتی مجھے زبردستی کرنے پر مجبور مت کرو ۔۔۔ وہ منال کو دیکھ کر بولا ۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے نہیں کرنا ناشتہ تو مت کرو اور
نورا ں نامی عورت کو آوازیں دینے لگا
آواز سن کر وہ عورت فورا اندر آئی اور بولیں جی صاحب آپ نے مجھے بلایا ہے
یہ برتن لے جاؤ تم بھی آج سے چھٹی کرو میں اس کو لے کر دوسری جگہ پر شفٹ ہو رہا ہوں اب تمہارا کام ختم ہوگیا ہے
اس کے ہاتھ میں پیسے رکھتے ہوئے بولا ۔۔ ۔
وہ عورت برتن اٹھا کر باہر جانے لگی ۔۔۔
تبھی وہ منال کی طرف متوجہ ہوا ۔ . .
منال کی آنکھوں پر کپڑا باندھ لینے لگا اور پھر
رسی کھولنے لگا
منال کی آنکھوں پر جب کپڑوں بندا گیا تو منال نے مزاحمت کرنے کی کوشش کی لیکن بے کار گی ۔۔۔۔۔۔
رسی کھولنے کے بعد وہ منال کو بازو سے پکڑ کر باہر گھسیٹتا ہوا لے جانے لگا
اور جا کر گاڑی کی بیک سیٹ پر پٹک دیا
اور خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی کو نکال کے لے گیا ۔۔۔۔
مقصود نامی اس لڑکے کو اوپر سے حکم آیا تھا کہ وہ منال کو یہاں سے لے کر دوسری جگہ شفٹ ہو جائے ۔۔۔۔
منال کی معصوم صورت دیکھ کراس کا دل نہیں کر رہا تھا اس کے ساتھ کوئی زیادتی کریں ۔۔۔۔۔
اس کے اپنے گھر پہ بھی بہن موجود تھی ۔۔۔
مقصود نہیں جانتا کہ منال کو کیوں پکڑا گیا ہے ۔۔۔۔۔
مقصود پیسوں کے لئے کام کرتا تھا باپ سر پر تھا نہیں
گھر میں ایک بہن اور ماں موجود تھی
کام کوئی کرتا نہیں تھا روزگار پاس تھا نہیں اس لیے چھوٹے موٹے ڈاکے ڈال کر وہ گھر کا گزارا چلا رہا تھا
ابھی وہ منال کو لے کر شہر میں موجود ایک فلیٹ میں لے کر جا رہا تھا باس کے حکم سے ۔۔۔
***************************
آج بڑے دنوں بعد رومان اپنی تائی کے گھر آیا تھا ۔۔۔ایک وجہ تو اس کے پیپر ہو رہے تھے
بہت دنوں سے اس کی ملاقات بھی منال سے نہیں ہوئی تھی
آج صبح ناشتہ کرنے کے بعد وہ تائی کی طرف آ گیا
سلام کر کے اندر داخل ہوا اور سیدھا دادا جی کے کمرے میں چلا گیا ان کو سلام کرنے اور حال چال پوچھنے
سرمد صاحب بیٹھ کر تسبیح پڑھ رہے تھے
رومان کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے
رومان بھی ان کے گلے لگ گیا ۔۔
اور حال چال پوچھنے لگا
آسیہ اس کے لیے پانی کا گلاس لے کر آئیں اور اس سے حال چال پوچھنے لگی ۔۔
آسیہ دل ہی دل میں ڈر رہی تھی کہیں فیاض نے رومان سے منال کا ذکر تو نہیں کر دیا جس کی بنا پر وہ یہاں آیا ہے ۔ ۔۔
اور بیٹا سب خیریت ہے گھر پر
سب ٹھیک ٹھاک ہیں آپ سنائیں گھر والے کیسے ہیں منال کیسی ہیں اور مشعل آپی ۔۔۔
بیٹا سب ٹھیک ہے آسیہ بولی !
رومان آگے پیچھے دیکھتے ہوئے بولا منال اور ردا نظر نہیں آرہی ۔۔۔
آسیہ دل ہی دل میں بہانہ سو چ چکی تھی اسی لیے بولی کہ بیٹا ردا سو رہی ہے اور منال اپنی آپی مشعل کے گھر گئی ہے رات کی ۔۔
اچانک رات کو علی اور مشعل آگئے تھے
منال کے پیپر ختم ہوچکے تھے اس لیے میں نے جانے دیا کہ کچھ دن رہ لو بہن کے پاس ۔۔آسیہ جھوٹ بولتے ہوئی بولی ۔
اچھا بیٹا تم اپنے دادا سے باتیں کرو میں تمہارے لیے اچھی سی چائے بنا کر لاتی ہوں
رومان کو سخت مایوسی ہو اور وہ بولا نہیں میں چاۓ نہیں پیئوں گا بس اب چلوں گا مجھے ضروری کام سے جانا ہے ۔۔۔
تایا ابو کو میری طرف سے سلام دینا اب نو چلتا ہوں ۔۔۔
بیٹل چلو چائے نہیں پینی تو کچھ دیر اؤر بیٹھو تو سہی ویسے بھی کافی دنوں کے بعد آئے ہو ۔۔۔۔
تائی پھر کبھی سہی پھر آؤں گا ابھی آپ اجازت دے اپنا خیال رکھنا اور منال کا فون آیا تو میری طرف سے اسے پوچھنا ۔۔۔۔
اللہ حافظ

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *