Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer NovelR50758 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode11
No Download Link
581.2K
29
Rate this Novel
Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode01 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode02 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode03 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode04 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode05 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode07 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode08 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode09 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode10 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode11 (Watching)Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode12 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode13 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode14 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode15 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode16 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode17 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode18 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode19 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode20 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode21 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode22 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode24 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode25 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode26 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode27 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode28 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Last Episode Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode23 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode06
Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode11
Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode11
شاہ ویز اکیڈمی پہنچ چکا تھا اوراب عمیر کے پاس آفس میں بیٹھا ہوا تھا ۔۔
چائے پی رہا تھا ۔۔
کیا سوچا ہے پھر کس جگہ پر ٹرپ لے کر جانا ہے ۔۔عمیر بولا ۔۔
یہ تو اب سارے سٹاف اور سٹوڈنٹس سے پوچھنا پڑے گا کہ وہ کہاں جانا چاہتے ہیں ۔۔۔
اس کے بعد ہی فیصلہ ہو پائے گا دیکھتے ہیں کس جگہ کے بارے میں زیادہ ووٹ آتے ہیں پھر اسی جگہ پر لے کر چلے جائیں گے ۔۔شاہ ویز بولا
چل سہی ہے پھر سب سے پوچھ کر دو دن تک ڈیسائیڈ کر لیتے ہیں ۔عمیر بولا
اچھا تم بتاؤ سب ٹھیک چل رہا ہے نہ کوئی مسئلہ تو نہیں ہو رہا کسی کو
اور ہاں وہ جو ٹیچر تم نے رکھی تھی اس کا بتاؤ کیسی جا رہی ہےاسٹوڈنٹس اس سے مطمئن ہیں یا نہیں ۔۔شاہ ویزبولا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
یاد بہت محنت اور لگن سے پڑھا رہی ہے اور سارے سٹوڈنٹ بہت خوش ہیں ۔ عمیر نے منال کی تعریف کی
اچھی بات ہے یہ تو پھر لیکن پھر بھی دھیان رکھنا ہوسکتا ہے شروع شروع میں محنت اور لگن سے کام لے بعد میں پھر لاپروائی کرنا شروع ہو جائے ۔۔۔
اوکے یار رکھ لوں گا دھیان اب چل راؤنڈ لے لے ساری کلاسز کا ۔۔عمیر اٹھتے ہوے بولا ۔۔
شاہ ویز بھی اٹھ گیا اور آفس سے باہر نکل گیا
شاویز عمیر کے ساتھ ایک ایک کلاس میں جاکر ٹیچرز اور سٹوڈنٹس سے مل رہا تھا اور سوال پوچھ رہا تھا ۔۔۔
ہمیشہ ان لوگوں کے ساتھ بھی اچھا کرو جنہوں نے آپ کے ساتھ برا کیا ہو کیوں کہ برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دینا چاہیے کیوں کہ اگر کوئی ہمارے ساتھ غلط کرتا ہے
بدلے میں ہم بھی اس کے ساتھ غلط کریں گے تو پھر ہم میں اور اس میں کوئی فرق نہیں رہتا
اس لیے میری بات ہمیشہ یاد رکھنا اگر کوئی آپ کے ساتھ غلط کر بھی دے تو آپ بدلے میں اس کے ساتھ کچھ غلط مت کرنا۔۔اللہ پر معاملہ چھوڑ دینا اپنا ۔۔۔۔
اچھے سے پیش آنا تا کہ اس انسان کو خود ہی اپنے غلط ہونے کا احساس ہو جائے ۔۔ منال بول رہی تھی
میرا ایک سوال ہے میم آپ سے ۔ایک سٹوڈنٹ کھڑی ہوئی اور بولی
جی ضرور کریں سوال ۔۔۔۔۔منال بولی
لیکن ایسا بھی ہوتا ہے کوئی ہمارے ساتھ مسلسل غلط کرے اور ہم بدلے میں اچھائی کرتے رہیں لیکن اس کو پھر بھی اس بات کا احساس نہیں ہوتا اور وہ غلط ہی کرتا رہتا ہے اور دوسروں کا نقصان کرتا ہے انہیں تکلیف دے کر وہ سکون حاصل کرتا ہے ۔۔۔سوال پوچھنے کے بعد وہ سوالیہ نظروں سے منال کو دیکھ رہی تھی
۔ کچھ لوگوں کی فطرت ہی ایسی ہو جاتی ہے وہ صرف اپنا ہی سوچتے ہیں بس اپنے ہی فائدے کے بارے میں وہ سوچتے ہیں اس کے لئے وہ دوسروں کا نقصان کر دیتے ہیں لیکن اس چیز کا احساس انکو نہیں ہوتا بس وہ اپنی دھن میں لگے رہتے ہیں ان کو اس چیز سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ان کے ایسے رویے سے دوسرا کتنا ہرٹ ہوتا ہے
ان کے اس رویہ سے ہرٹ ہونے والا تو ہو جاتا ہے لیکن اس شخص کے دل میں اپنا ایک برا امیج چھوڑ جاتا ہے ۔۔۔
اکثر ہماری لائف میں ایسا ہوتا ہے کہ جس انسان کو ہم خود سے زیادہ پیار کرتے ہیں وہی بدلے میں ہمارے ساتھ برا کرتا ہے انسان ایک دوسرے کو سمجھنے کے دعوے تو بڑے کرتا ہے لیکن جب اسی چیز کا ثبوت مانگا جاتا ہے تو اسی انسان میں اس کو لاکھ برائیاں نظر آنے لگتی ہیں
اور جو لوگ دوسروں کو اذیت دے کر یہ سوچتے ہیں کہ ہم نے بہت بڑا کام کر لیا ہے لیکن وہ ایک بات بھول جاتے ہیں
ہر انسان کی اتنی طاقت اور حیثیت نہیں ہوتی کہ وہ بدلہ لے سکے ۔۔۔
جب کوئی انسان اپنا بدلہ اللہ پر چھوڑ دیتا ہے تو اللہ اسے مایوس نہیں کرتا ۔۔
اگر کوئی برا کرے تو آپ بدلے میں اچھائی کرو ۔۔۔اسے خود ہی احساس ہو جائے گا کے ہم غلط کرتے ہیں اور اگلا ہمارے ساتھ اچھائی کر رہا ہے ۔۔۔۔۔اور بلا وجہ کسی دوسرے کا غصہ بھی کسی دوسرے انسان پر نہیں اتارنا چاہیے ۔۔۔۔
۔۔۔منال کی دروازے کی طرف کمر تھی اور وہ بول رہی تھی
شاہ ویز دروازے میں کھڑا سب سن رہا تھا ۔۔اس نے کلاس میں جانے کا ارادہ ترک کیا اور واپس آ گیا
منال کی شکل تو دیکھ نہیں پایا تھا
لیکن اتنا جان گیا تھا کہ منال بہت اچھے سے بات سمجھانا جانتی ہے ۔۔۔
*****************************
ماضی
منال بس میں سفر کر رہی تھی جیسے جیسے گھر قریب آ رہا تھا منال کے دل کی دھڑکن تیز ہوتی جا رہی تھی ۔
اور وہ مسلسل ایک ہی بات سوچ رہی تھی کہ نہ جانے گھر والے اس کو دیکھ کر کیا ری ایکشن کریں گے ۔۔۔
اس کو گھر میں داخل ہونے دینگے یا نکال دینگے ۔۔۔۔
اس کے گھر سے غائب ہونے کی خبر پر گھر والوں کا کیا ری ا یکشن ہوا ہوگا
رومان نے کیا سوچا ہو گا .. رومان کا خیال اتے ہی منال عجیب عجیب خیال آنے لگے
یا اللہ میری مدد کرنا ۔۔۔
***************************
رقیہ تک خبر پہنچ چکی تھی
وہ بے انتہا خوش تھی بلا سر سے ٹل چکی تھی ۔۔۔۔
وہ جشن منانا چاہ رہی تھی
لیکن رومان کی وجہ سے خاموش تھی
وہ خاموش تھا اور بے انتہا غصے میں
رقیہ جی بھر کے آسیہ وقار اور منال کو کوس رہی تھی
ارے کہیں منہ دکھانے لائق نہیں چھوڑا اس نے ہمیں
خاندان میں کس کس سے جھوٹ بولیں گے .
بھاگ کے وہ گئی ہے کمبخت ۔۔ اب لوگوں کی ہمیں بھی جواب دینا پڑے گا میرے بیٹےکے ساتھ رشتہ جو جڑا تھا .
جیسی ماں ویسی بیٹی نکلی ۔ ارے میں تو پہلے ہی راضی نہ تھی ۔۔۔۔فیاض احمد
تمہیں ہی شوق تھا بتیجھی لانے کا
۔۔۔منہ کالا کروا دیا ۔۔۔
رقیہ مسلسل بول رہی تھی ۔۔۔
رومان اور فیاض پاس بیٹھے ہوے تھے
تنگ آ کے رومان بولا :بس کر دیں آپ دماغ پھٹ رہا ہے درد سے میرا
کہ کر اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔۔۔؟؟
**********************
بس کر دے کیوں اس معصوم کو کوس رہی ہو ۔۔اس کا کوئی قصور نہیں ہے
وہ کسی کے ساتھ بھاگ کر نہیں گئی اور نہ ہی وہ ایسی حرکت کر سکتی ہے ۔۔۔فیاض منال کے حق میں بولے
وہ بچپن سے منال کو جانتے تھے وہ بہت سلجی اور سمجھدار لڑکی تھی
آپ تو بس چپ ہی کر جائیں فیاض صاحب ۔۔۔میں جا رہی ہوں ذرا آسیہ کے گھر
ذرا پوچھ کے آؤں کے بیٹی کا اگر چکر کہیں اور چل رہا تھا تو کیوں میرے بیٹے کے ساتھ رشتہ جوڑا ۔۔۔۔
کہتے ہوے وہ اٹھی ۔۔۔۔اور نور کو آواز دے کر چادر لانے کو کہا
کوئی ضرورت نہیں جانے کی اب کیا لینے جانا ہے ۔۔۔۔
تمہارا بیٹا سارے رشتے ختم کر آیا ہے اب خوش ہو جاؤ
تمہاری کب مرضی تھی دونو ں کا رشتہ ہو ۔۔۔۔۔فیاض غصے سے بولے
فیاض سخت شرمندہ تھے اپنے بھائی سے
تم نہ جاؤ میں جاؤں گی آج موقع ملا ہے مجھے ۔۔۔۔۔وہ دل ہی دل میں بولی
اور فیاض کی پروا کیے بغیر گھر سے نکل گئی
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
آسیہ نماز پڑھ کے فارغ ہوئی ۔۔۔
اور سرمد صاحب کو چا ےُ بنا کر دینے کے لئے کچن میں چلی گئی ۔۔۔
وقار پولیس کے ساتھ اس پی سی او کی طرف گئے تھے جہاں سے کال آئ تھی ۔۔ وقار کا دل کہ رہا تھا کال کرنے والی ان کی منال ہے کوئی اور نہیں ۔۔۔
مشعل کا دن کو فون آیا تھا آسیہ نے اسے ساری بات بتا دی ۔۔۔
مشعل سنتے ہی رونے لگی اپنی بہن کے لئے تڑپ گئی تھی
اب وہ لاہور سے کراچی آ رہی تھی ۔ علی نے سیٹ کروا دی تھی پلین کی ۔۔۔لیکن وہ ساتھ نہیں آ رہا تھا کام کا بوج زیادہ تھا اس وجہ سے
آسیہ نے دو کپ چائے بنائی اور ردا کے لئے ملک شیک بنایا ۔۔۔۔
باہر صحن میں ایئر کولر میں تازہ ٹھنڈا پانی ڈال کے سرمد صاحب اور ردا بیٹھے ہوئے تھے
ردا اسکول کا ہوم ورک کر رہی تھی ۔۔۔
جب کے سرمد صاحب پودوں کو پانی دے رہے تھے ۔۔۔
آ جائیں ابو جی گرم گرم چاےُ پے لیں ۔۔۔
آج آسیہ کا دل نا جانے کیوں خوش گمان ہو رہا تھا انھیں ایسا لگ رہا تھا وقار گئے ہیں منال کو ضرور لے آیئں گے ساتھ ۔۔۔
آگیا بیٹا بس یہ ایک پودا رہ گیا ہے اس کو پانی دے لو ۔
گرمی کی وجہ سے اگر ایک دن بھی پودوں کو پانی نہ دیا جائے تو وہ فور مرجھا جاتے ہیں
جس طرح انسان کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح پودوں کو بھی پانی کی اشد ضرورت ہوتی ہے ۔۔۔۔سرمد صاحب پائپ کو ایک سائیڈ پر رکھتے ہوے بولے
جی بالکل ابو جی سہی کہا ۔ اور ردا کو ملک شیک کا گلاس پکڑایا خود چاے پینے لگی ۔۔
دروازے پر بیل ہوئی آسیہ اٹھی اور جا کے دروازہ کھولا ۔۔۔۔سامنے رقیہ کھڑی تھی اکیلی ۔۔
آسیہ نے سائیڈ پر ہو کر راستہ دیا اندر آنے کا . .
رقیہ اندر آ گئی اور چلتی ہوئی سرمد صاحب کے پاس آئ ۔۔اور سلام کیا
وعلیکم سلام آؤ بیٹا بیٹھو ۔۔۔اور آسیہ جاؤ رقیہ کے لئے چا ےُ لے کر آؤ ۔۔۔
نہیں اس کی ضرورت نہیں ہے مجھے کچھ نہیں پینا ۔میں تو بس اتنا پوچھنے آئی ہوں کہ کیا قصور تھا میرے بیٹے کا منال کی اگر مرضی نہیں تھی تو وہ پہلے ہی انکار کر دیتی
یو منگنی کر کے تماشا بنانے کی کیا ضرورت تھی خود تو وہ اپنے یار کے ساتھ بھاگ گئی ہے لیکن میرے بیٹے کو روک لگا دی ہے ۔۔۔۔
آسیہ کا پارہ ہائی ہو گیا اور ر قیہ سے بولی زبان سنبھال کر بات کرو میری بیٹی کسی کے ساتھ بھاگ کر نہیں گئی ۔
اگر بھاگ کر نہیں گی تو کہاں غائب ہیں دو تین دن سے نظر کیوں نہیں آ رہی۔۔۔
سرمد صاحب ردا سے بولے ۔بیٹا تم جاؤ جا کر ٹی وی دیکھو بعد میں کام کر لینا ۔۔۔
اور پھر رقیہ کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے بولے۔۔
کیا بکواس کر رہی ہو اور ایسی کوئی بات نہیں ہے منال کسی کے ساتھ بھاگ کر نہیں گئی میرا خون اتنا گندا نہیں ہو سکتا کہ وہ ایسی کوئی نیچ حرکت کرے ۔
منال کا کڈنیپ ہوا ہے پولیس ڈھونڈ رہی ہے بہت جلد وہ مل جائے گی ۔۔۔
ارے آپ لوگ کتنے پاگل ہیں اگر منال کڈ نیپ ہوئی ہوتی تو اب تک فون آ چکا ہوتا پیسوں کے مطالبہ کے لئے ۔۔۔۔لیکن کوئی فون نہیں آیا اس کا مطلب کیا نکلتا ہے وہ اپنی مرضی سے گئی ہے ۔۔۔
واہ آسیہ تم سے اپنی بیٹی بھی سمبھالی نہیں گئی ۔۔تم ماں تھی تمہیں اس کی حرکتوں پر نظر رکھنی چاہیے تھی سارے خاندان کی عزت تو اس نے مٹی میں ملا یہی ہے ہمیں بھی کہیں منہ دکھانے کے لائق نہیں چھوڑا ۔۔
ارے اب میں لوگوں کو کیا جواب دوں گی میرے ہونے والی بہو کسی کے ساتھ بھاگ گئی ہے ۔۔۔۔۔
آسیہ طنز کے تیر چلانا شروع ہوگئی تھی
سرمد بولے ۔رقیہ منال کے بارے میں ایسی باتیں مت کرو تم بھی اس کو اچھی طرح جانتی ہوں وہ کیسی ہے ۔۔۔۔
ارے اگر جانتی ہوتی ماموں تو کبھی رشتہ نہ کرتی مجھے کیا پتا تھا بعد میں ہماری ہی منہ پر کالک مل جائے گی وہ بدبخت ۔۔۔۔خیر جیسی ماں ویسی بیٹی نکلی
آسیہ بولنا بہت کچھ چاہتی تھی لیکن سرمد صاحب کی نظروں نے اس کو بولنے سے روک دیا ۔۔۔۔
اور ر قیہ سے بولے کے زبان سنبھال کر بات کرو ۔۔۔۔
آپ کس کس کی زبان کو رکوائیں گے سچ تو یہی ہے وہ ہم سب کا منہ کالا کر کے چلی گئی ہے ۔۔ رقیہ کی آواز اونچی ہو گئی تھی . ۔۔۔
لوگوں کو بھی پتا چلنا چاہیے کہ اس کی بیٹی نے کیا گل کھلا یا ہے بظاہر پاک صاف نظر آنے والی اندر سے کتنی گنی اور میسنی نکلی ۔۔۔۔۔۔
رقیہ اس سے پہلے میں تم سے اپنا رشتہ بھول جاؤ گے تم اپنی زبان کو لگام دے لو ورنہ اچھا نہیں ہوگا ۔۔۔سرمد غصے میں بولے
آسیہ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے تھے اس سے زیادہ وہ اپنی بیٹی کی تذلیل برداشت نہیں کر سکتی تھی سرمد صا حب کی منع کرنے کے باوجود وہ بول اٹھیں ۔۔۔
رقیہ بات کو نمک مرچ لگا کر کرنا تمہاری پرانی عادت ہے
میرے ہی گھر میں کھڑی ہوکر تم میری بیٹی پر الزامات لگا رہی ہو
میں بہت اچھے سے واقف ہوں تمہاری نیچر سے بہتر یہی ہے تم یہاں سے چلی جاؤ میں مزید تمہارے منہ نہیں لگنا چاہتی ۔۔۔۔
مجھے بھی یہاں رکنے کا کوئی شوق نہیں ہے یہاں رک کر میں مزید بد نام نہیں ہونا چاہتی تم لوگوں کی وجہ سے
بہت اچھا ہوا تمہاری بیٹی نے بھاگ کر یہ رشتہ خود ہی ختم کروا دیا ورنہ میں تو تمہارے گھر رشتہ کرنا ہی نہیں چاہتی تھی ۔۔۔۔
مجھے تم سمیت تمہاری بیٹیوں سے شدید نفرت ھے ۔۔۔میں تو تم لوگوں کا سایہ بھی ایک سیکنڈ کے لئے برداشت نہ کرو کہاں اس بلا کو مسلسل اپنے گھر میں برداشت کرتی ۔۔۔
نفرت سے بولتی
بس ر قیہ اگر تم رشتہ نہیں کرنا چاہتی تھی تو یہاں پر بیٹھ کر اب فضول باتیں کرنے کا بھی کوئی حق نہیں ہے بہتر یہی ہے تم یہاں سے چلی جاؤ ۔سرمد بولے
ہاں جا رہی ہوں مجھے کوئی شوق نہیں ہے یہاں پر بیٹھنے کا ۔۔۔۔۔
اور بھی برا بھلا کہتی وہ چلی گئی گلی میں بھی بولتی جا رکھی تھی محلے کے دو تین گھروں کی عورتوں نے شور کی وجہ پوچھی جس پر رقیہ بولی
ارے تم لوگ نہیں جانتے آسیہ کی بیٹی گھر سے بھاگ گئی ہے
وہ کس طرح بھاگ گئی اس کا تو رشتہ تو
تمہارے بیٹے کے ساتھ ہوا تھا
ہاں ہوا تھا رشتہ لیکن وہ کسی اور کو پسند کرتی تھی اسی کے ساتھ بھاگ گئی ۔۔۔میرا بیٹا تو اس کے پیچھے پاگل تھا لیکن وہ بد بخت اپنا آپ دکھا گئی ہے
عزت دار لڑکیاں ایسا کام کبھی نہیں کرتی جس طرح اس نے اپنا ہو کر کیا ہے ۔۔
ارے آسیہ کی بیٹی بھاگ گئی کسی کے ۔ساتھ۔ ۔
کیا زمانہ آ گیا ہے ۔۔۔باپ دادا کی عزت مٹی میں ملا دی
کالج جاتی تھی وہیں سے بھاگی ہو گی ۔۔
شکل سے کتنی معصوم لگتی تھی ۔۔توبہ توبہ
محلے کی عورتیں ایک گھر کے دروازے میں جمع ہو کر باتیں کرنے لگی ۔۔
رقیہ کا مقصد پورا ہو گیا تھا ۔چہرے پر فاتحا نہ مسکراہٹ لئے چل پڑی ۔۔
%%%%%%%%%%%%%%%%%%%
گھر کے پاس بنی روڈ پر گاڑی نے منال کو اتار دیا تھا
منال چادر سے اپنا وجود اچھے سے کور کرتے حالی حالی نظروں سے آگے پیچھے دیکھنے لگی ۔۔۔۔بہت سے منظر منال کی آنکھوں کے سامنے چلنے لگے تھے ۔۔۔
منال آنکھوں میں آئے آنسو صاف کرتی ہیں گھر کی طرف چل پڑی لیکن اس کے قدم چلنے سے انکار کر رکھے تھے
وہ نہیں جانتی تھی کہ اس کے ساتھ آگے سے کیسا سلوک کیا جائے گا ۔۔۔
وہ اپنی صفائی کیسے پیش کریں گی
اس کی بات کا کون یقین کریں گا ۔
محلے کی دو تین عورتوں کی نظر منال پر پڑی تو وہ جٹکا کھا کر رہ گئی
ارے آسیہ کی بیٹی واپس ہوگی ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی رقیہ بتا کر گئی کے منال بھاگ گئی ہے ۔۔
ارے کوئی اس کی حالت تو دیکھو بال کیسے بکھرے ہوئے ہیں نہ پاؤں میں جوتی ہے ۔۔۔
عورتیں اس کو دیکھ کر باتیں کر رہی تھی منال چپ کر کے نظر جھکائے چل رہی تھی ۔۔۔
بھاگ کر گئی ہے دیکھو کس دیدہ دلیری سے واپس اپنے گھر میں آ گئی ہے ۔۔۔۔
کس منہ سے واپس آئی ہے لگتا ہے جس یار کے ساتھ گئی تھی اس نے چھوڑ دیا ہے تبھی تو یہ حا ل بنا ہوا ہے ۔۔۔
دیکھو رنگت بھی کیسی پیلی پڑ گئی ہے ۔۔۔
دیکھو آسیہ نے ہوا تک نہ لگنے دیں یہ بھی آج اگر رقیہ نہ بتاتی تو ہم تو بے خبر ہی رهتے ۔۔۔۔توبہ توبہ
منال کیلئے یہ سب باتیں سننا برداشت سے باہر ہورہا تھا وہ تیز تیز قدموں سے چلتی اپنے گھر کے دروازے کی طرف آگئی اور بیل پر ہاتھ رکھ دیا۔۔۔۔
کون ہے _____؟؟اندر سے آسیہ بولی
ماں کی آواز سن کر منال مزید رونے لگی اس سے بولا نہیں گیا
آسیہ نے جواب نہ پا کر دروازہ کھول دیا ۔۔
آسیہ نے جیسے ہی دروازہ کھولا خیرانی اور خوشی سے ان کی آنکھیں پھیل گئیں ۔۔۔۔
منال میری بچی ۔۔۔
آسیہ فورا اگے بڑ ی ۔۔۔
منال کے لئے قدموں پر کھڑا ہونا مشکل ہو گیا اور وہ ماں کے بازو میں جھول گئی
منال کو گرتا دیکھ کر آسیہ نے فورن آواز دی اپنے سسر کو ۔۔۔
سرمد صاحب آسیہ کی آواز سن کر دروازے میں آے اور منال کو ایسے دیکھ کر حیران ہو گئے
فورن اگے بڑھ کر منال کو سمبھالا اور اندر لے آے ۔۔۔
آسیہ کچن سے پانی کا گلاس لینے کے لیے دوڑ ی
منال کو سرمد صاحب نے بیڈ پر لٹا دیا
آسیہ پانی کا گلاس لے کر آئیں اور منال کی چہرے پر اس کے چھینٹے مارنے لگی ۔۔۔چہرے پر چھینٹے پڑنے کی وجہ سے منال کو ہوش آگیا اور وہ اپنے آپ کو ماں اور دادا کے سامنے پا کر بے تحاشہ رونے لگی اور بولی میرا کوئی قصور نہیں ہے دادا جان میں بے قصور ہوں ۔۔ماں کے گلے لگ کر منال مزید رونے لگی ۔۔۔۔
چپ کر جاؤ میرا بچہ ۔آسیہ بھی منال کو سامنے پا کر رونے لگی ۔۔۔
سرمد صاحب دونوں ماں بیٹی کو روتا دیکھ کر بولےچپ کر جاؤ تم دونوں نہ رو ۔۔۔۔۔۔
اور منال سے بولے __؟؟؟تم کہاں تھی
دادا جان میں نہیں جانتی میں کہاں پر تھی منال نے ساری کہانی دونو ں کو بتا دی ۔۔۔۔
اور آخر میں بولی میرا پلیز یقین کریں میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا نہ میری کوئی غلطی ہے ۔۔اور رونے لگی
آسیہ نے منال کو ساتھ لگا دیا اور بولی ہم جانتے ہیں ہماری بیٹی کبھی کوئی غلط کام نہیں کر سکتی ۔۔
ہمیں اپنی بیٹی پر بھروسہ ہے
منال جان گئی تھی اس سازش کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے اور اس نے یہ سب کیوں کیا ہے ۔۔۔
آسیہ نے وقار کو کال کر کے منال کی گھر واپس آنے کی اطلاع دے دی ۔۔۔۔
***************************
وقار صاحب جب گھر آئے تو ان کے ساتھ مشعل بھی تھی
دونوں باپ بیٹی ایک دوسرے کے گلے لگ کر بہت روئے منال باپ سے معافی مانگنے لگی :۔۔//
وقار احمد کو آسیہ نے سب کچھ بتا دیا تھا
رات کو جب وقار احمد منال کے پاس آئے تو منال نے انہیں سب بتا دیا اور ان کے آگے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگنے لگی جس پر وقار احمد بولے ________؟؟؟
میری بیٹی کا کوئی قصور نہیں ہے میں اپنی بیٹی کو اچھے سے جانتا ہوں کہ ایسا کوئی کام نہیں کر سکتی مجھے خود سے زیادہ اپنی بیٹی پر بھروسہ ہے اگر ساری دنیا بھی میری بیٹی کے مخالف ہو جائے میں تب بھی اپنی بیٹی کا ساتھ دوں گا ۔۔۔میری بیٹی میرا فخر اور مان ہے
مشعل اور آسیہ اور سرمد صاحب بھی وہیں آ گئے تھے
منال نے اپنے باپ کے ہاتھوں کو چوما اور ان کے گلے لگ گئی اور رونے لگی ۔۔۔۔
نہیں میرا بیٹا تم اب مزید نہیں رو گی بہت رو لیا تم نے ۔۔اب تم اکیلی نہیں ہو ہم سب تمہارے ساتھ ہیں.
جاری ہے
