Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode08

Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode08

فیاض سے مل کر وقار نے ساری بات بتائی ۔۔۔۔جس پر فیاض بھی پریشان ہو گئے اور بولے ۔۔۔تم خود یار اتنی بڑی پریشانی سے گزر رہے ہو اکیلے اور مجھے نہیں بتایا ۔۔۔۔
فیاض کی بات پر وقار رو پڑے ۔۔۔کہتے ہیں مرد نہیں روتا ۔۔
لیکن یہ غلط بات ہے مرد بھی روتا ہے اسے بھی درد ہوتا ہے
یوقار کو روتا دیکھ کر فیاض پاس آیا ۔۔۔اور گلے سے لگا کر حوصلہ دیا ۔۔۔۔۔۔
وقار بولے بیٹی کا معملہ ہے ۔۔۔بد نامی سے ڈرتا ہوں ۔۔۔۔
فیاض نے انہیں منا کیا اس بات کا ذکر اب کسی کے سامنے نہ کرنا ۔۔۔۔۔
اور وقار کے ساتھ تھانے چلے گئے ۔۔۔راستے میں فون کر دیا تھا فیاض نے حماد کو کے وہ آرہے ہیں بہت ضروری کام ہے ۔
********************************
رر پورٹ لکھونے کے بعد وقار سیدھا گھر آ گئے ۔۔۔۔
آسیہ کے پوچنھے پر بتایا کے کل سے کام شرو ع ہو گا تلاش کا
منال کی تصویر دے آیا ہوں اب جلد وہ ہمارے پاس ہو گی ۔۔۔
اللہ‎ کرے ۔۔۔آسیہ کہتی اٹھی اور باہر نکل گئی صحن میں نفل ادا کرنے اور منال کی خیریت کی د عا کرنے ۔۔۔
*******************************
اے ایس پی حماد نے فور ا ایکشن لیا ۔۔۔۔فیاض کی دوستی کی وجہ سے ۔۔۔۔
دونو ں بہت گہرے دوست تھے ۔۔۔۔
حماد نے ٹیم تیار کی اور سب کو ان کا کام سمجایا اور کہا کل سے کام پے لگ جاؤ اور اختیا ط سے کام کرنا ۔۔۔۔
کہنے کے ساتھ وہ سب کو تصویر دکھانے لو اور بتانے لگا مزید ۔۔۔۔۔
*******************************
کھانا کھانے کے بعد منال بیٹھ گئی ۔۔۔اور اب بولی تو لہجہ تلخ تھا
اب بتاؤ کیوں پکڑ ا ہے مجھے کیا قصور ہے ۔۔۔میرے گھر والے پریشان ہوں گے پلیز جانے دو ۔۔۔۔۔
تم کہیں نہیں جا سکتی یہاں ہی رہو گی اب ۔۔۔۔۔اور کن گھر والوں کی بات کر رہی ہو وہ اب تک کیاپتا تم پر فا تحہ پڑھ چکےہوں ۔۔۔۔۔
ہستے ہوے بولا ۔۔۔۔۔
بہت غلط کر رہے ہو میرے بابا تمہیں چھوڑیں گے نہیں ۔۔۔۔۔
ہاہاہا ہاہاہا تم اب تک کہاں تھی ۔۔
یہاں پر تمہارے بابا تو دور کوئی نہیں آے گا یہ جنگل ہے جہاں صرف جنگلی جانوروں کے سوا کوئی نہیں ۔۔۔
اپنی طرف سے اس نے منال کو ڈرانا چاہ ۔اب تو چیخو چلاؤ یا شور کرو یہاں کوئی نہیں سنے گا ۔۔ کہنے کے ساتھ وہ باہر نکل گیا ۔۔۔۔۔
منال کے رونے میں شدت آ چکی تھی
یا اللہ‎ میری مدد کر میں مجبور اور بےبس ہوں تو رحمان ہے رحیم ہے ۔۔۔۔۔
تو سب کی سنتا ہے میری بھی سن لے ۔۔۔۔
روتے روتے منال کی آنکھ لگ گئی ۔
*******************************
آسیہ کی آنکھ صبح جلدی کھل گئی ساری رات جائے نماز پر بیٹھ کر نوافل ادا کرتی رہیں اور دعا مانگتی رہیں انہیں پتہ بھی نہیں چلا وہ کب جائے نماز پر سو گئی ۔۔۔۔
شائد بے سکونی سے سونے کی وجہ سے آنکھ کھل گئی ۔۔۔
گھڑی پر نظر پڑی تو صبح کے پانچ ہو رہے تھے آسیہ بیگم اٹھی اور وضو کر کے فجر کی نماز ادا کی ۔۔۔۔۔
نماز ادا کرنے کے بعد وہ کمرے میں آئی اور دیکھا وقاراحمد کرسی پر بیٹھے بیٹھے ہی سو گئے تھے
ایک ہی رات میں دونوں کتنے بے سکون ہو گئے تھے
آسیہ بیگم آنکھ میں آنے والے آنسو صاف کرتی باہر نکل گئی اور منال ا ور ردا کے کمرے میں گئی جگہ پر ردا ابھی تک سو رہی تھی ۔۔۔۔
کمرے میں دو سنگل بیڈ لگے ہوئے تھے ایک بیڈ پر منال سوتی تھی اور دوسرے پرردا سوتی تھی ۔۔۔
آسیہ بیگم چلتی ہوئی منال کے بیڈ پر آکر بیٹھ گئی اور بیڈ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے رونے لگی
کہاں چلی گئی ہو میری بچی ۔۔۔کہاں تلاش کریں تمہیں
پلیز واپس آ جاؤ آسیہ روتے ہوئے یہ الفاظ دور آ رہی تھی
آسیہ کے رونے میں شدت آ چکی تھی رونے کی آواز سن کر پاس سے ردا بھی جاگ گئی ا ور ماں کو روتے دیکھ کر وہ ایک دم پریشان ہوگی ۔۔۔
اور اٹھ کر ماں کے پاس آئی اور بولی امی کیا بات ہے آپ کیوں رو رہی ہے
اپنے ہاتھوں سے ماں کے آنسو صاف کرنے لگی
ردا کو پریشان دیکھ کر انہوں نے اپنے آنسو صاف کیے اور بولی کچھ نہیں بیٹا بس ویسے ہی مشی کی یاد آ رہی تھی تو دل بھر آیا ۔۔۔
آسیہ آنسو صاف کرتے ہوئے بولی اور کہنے لگی کہ اب اٹھ گئی ہو تو جا و جا کر منہ ہاتھ دھو لو میں ناشتہ بناتی ہوں پھر سکول بھی جانا ہے ۔۔۔
کہنے کے ساتھ وہ باہر نکل آئیں
اور کچن کا رخ کیا کیوں کہ وہ نہیں چاہتی تھی ردا مزید سوال پوچھ کر پریشان کرے
ردا منہ ہاتھ دھو کر کچن میں ہی ماں کے پاس آ گئی اور بیٹھ کر ناشتے کا ویٹ کرنے لگی ۔۔
تبھی یاد آنے پر ردا نے ماں سے پوچھا
کہ امی آپی کہاں ہیں کل سے نظر نہیں آرہی
آپ سے کل بھی پوچھا تھا آپ نے کہا تھا دوست کی طرف گئی ہے آ جائے گی لیکن اب صبح ہو گئی ہے اب تک نہیں آئی ۔۔۔۔
آسیہ بیگم جس سوال سے بچ رہی تھی وہی سوال ردا نے کیا ۔۔۔۔
بیٹا وہ آ جائے گی میری بات ہوئی ہے اس سے
اس کی دوست کی طبیعت خراب تھی جس وجہ سے وہیں پر رک گئی ہے آپ ناشتہ کر کے سکول جاؤ ۔۔۔
آسیہ ردا آگے ناشتہ رکھتے ہوئے بولی ۔۔
اور خود چائے کا کپ لے کر بیٹھ گئی کیوں کہ ان کے سر میں اب شدید درد ہو رہا تھا ۔۔ .
ناشتہ کرنے کے بعد ردا اٹھ کر کمرے میں چلی گئی اور تیار ہو کر سکول چلی گئی ۔۔۔
ردا کےجانے کے بعد آسیہ نے جلدی جلدی گھر کے کام کیے اور وقار کے پاس آ گئی اور اانہیں جگاتے ہوے بولی اٹھ جائیں وقار صبح ہو گئی ہے ۔۔۔۔۔
آسیہ کی آواز پر وقار جاگے اور اٹھ کر فریش ہونے کے بعد ناشتہ کرنے لگے
ناشتہ کرنے کے دوران بولے کے آسیہ میں ناشتہ کرنے کے بعد منال کو تلاش کرنے نکل جاؤنگا تم گھر پر کسی سے کوئی کسی قسم کا ذکر مت کرنا
خاص کرکے اباجی سے ۔۔۔
ابا جی ابھی سو رہے ہیں میں گئی تھی ان کو ناشتہ دینے
ان کو سوتا دیکھ کر واپس آگئی آپ فکر نہ کریں میں کسی سے کوئی ذکر نہیں کروں گی آپ بس کسی طرح میری منال کو واپس لے آئے ۔۔۔
ہوں پولیس سے بات ہوئی ہے وہ کہتی ہے ہم ضرور کچھ نہ کچھ کریں گے آج سے وہ کام شروع کریں گے میں بھی اپنی کوشش جاری رکھوں گا اور فیاض بھی ۔۔۔۔
ناشتہ کرنے کے بعد وقار گھر سے باہر نکل گئے ۔۔۔۔
*************************
منال کی آنکھ صبح چہرے پر پانی گرانے کی وجہ سے کھلی چہرے پر پانی گرنے سے ملال ایکدم ہر بڑا کر اٹھی ۔
اور سامنے دیکھنے لگی جہاں پر وہیں رات والا شخص موجود تھا
منال کو دیکھ کر بولا
واہ کیا سکون سے سو رہی تھی دل تو نہیں کیا تمہیں جگانے کا
دل کیا تمہارے چہرے کی طرف غور سے دیکھتا ہی رہوں اتنا معصوم اور خوبصورت چہرہ ہے
لیکن مجبوری تھی جگانا پڑا
چلو اٹھ کر ناشتہ کرو اس کے بعد ہمیں نکلنا ہے
کہاں نکلنا ہے ۔۔۔منال بولی
سوری یہ تو میں تمہیں نہیں بتا سکتا کہ کہاں جانا ہے
بس چپ کرکے ناشتہ کرو اس کے بعد ہمیں فور ا نکلنا ہے ۔۔
____________
تمہارے ساتھ کہیں نہیں جانا مجھے صرف گھر جانا ہے مجھے گھر جانے دو ۔ ۔۔۔
تمہیں ایک بات کی سمجھ نہیں آتی مجھے زبردستی کرنے پر مجبور مت کرو ۔۔۔ وہ منال کو دیکھ کر بولا ۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے نہیں کرنا ناشتہ تو مت کرو اور
نورا ں نامی عورت کو آوازیں دینے لگا
آواز سن کر وہ عورت فورا اندر آئی اور بولیں جی صاحب آپ نے مجھے بلایا ہے
یہ برتن لے جاؤ تم بھی آج سے چھٹی کرو میں اس کو لے کر دوسری جگہ پر شفٹ ہو رہا ہوں اب تمہارا کام ختم ہوگیا ہے
اس کے ہاتھ میں پیسے رکھتے ہوئے بولا ۔۔ ۔
وہ عورت برتن اٹھا کر باہر جانے لگی ۔۔۔
تبھی وہ منال کی طرف متوجہ ہوا ۔ . .
منال کی آنکھوں پر کپڑا باندھ لینے لگا اور پھر
رسی کھولنے لگا
منال کی آنکھوں پر جب کپڑوں بندا گیا تو منال نے مزاحمت کرنے کی کوشش کی لیکن بے کار گی ۔۔۔۔۔۔
رسی کھولنے کے بعد وہ منال کو بازو سے پکڑ کر باہر گھسیٹتا ہوا لے جانے لگا
اور جا کر گاڑی کی بیک سیٹ پر پٹک دیا
اور خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی کو نکال کے لے گیا ۔۔۔۔
مقصود نامی اس لڑکے کو اوپر سے حکم آیا تھا کہ وہ منال کو یہاں سے لے کر دوسری جگہ شفٹ ہو جائے ۔۔۔۔
منال کی معصوم صورت دیکھ کراس کا دل نہیں کر رہا تھا اس کے ساتھ کوئی زیادتی کریں ۔۔۔۔۔
اس کے اپنے گھر پہ بھی بہن موجود تھی ۔۔۔
مقصود نہیں جانتا کہ منال کو کیوں پکڑا گیا ہے ۔۔۔۔۔
مقصود پیسوں کے لئے کام کرتا تھا باپ سر پر تھا نہیں
گھر میں ایک بہن اور ماں موجود تھی
کام کوئی کرتا نہیں تھا روزگار پاس تھا نہیں اس لیے چھوٹے موٹے ڈاکے ڈال کر وہ گھر کا گزارا چلا رہا تھا
ابھی وہ منال کو لے کر شہر میں موجود ایک فلیٹ میں لے کر جا رہا تھا باس کے حکم سے ۔۔۔
***************************
آج بڑے دنوں بعد رومان اپنی تائی کے گھر آیا تھا ۔۔۔ایک وجہ تو اس کے پیپر ہو رہے تھے
بہت دنوں سے اس کی ملاقات بھی منال سے نہیں ہوئی تھی
آج صبح ناشتہ کرنے کے بعد وہ تائی کی طرف آ گیا
سلام کر کے اندر داخل ہوا اور سیدھا دادا جی کے کمرے میں چلا گیا ان کو سلام کرنے اور حال چال پوچھنے
سرمد صاحب بیٹھ کر تسبیح پڑھ رہے تھے
رومان کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے
رومان بھی ان کے گلے لگ گیا ۔۔
اور حال چال پوچھنے لگا
آسیہ اس کے لیے پانی کا گلاس لے کر آئیں اور اس سے حال چال پوچھنے لگی ۔۔
آسیہ دل ہی دل میں ڈر رہی تھی کہیں فیاض نے رومان سے منال کا ذکر تو نہیں کر دیا جس کی بنا پر وہ یہاں آیا ہے ۔ ۔۔
اور بیٹا سب خیریت ہے گھر پر
سب ٹھیک ٹھاک ہیں آپ سنائیں گھر والے کیسے ہیں منال کیسی ہیں اور مشعل آپی ۔۔۔
بیٹا سب ٹھیک ہے آسیہ بولی !
رومان آگے پیچھے دیکھتے ہوئے بولا منال اور ردا نظر نہیں آرہی ۔۔۔
آسیہ دل ہی دل میں بہانہ سو چ چکی تھی اسی لیے بولی کہ بیٹا ردا سو رہی ہے اور منال اپنی آپی مشعل کے گھر گئی ہے رات کی ۔۔
اچانک رات کو علی اور مشعل آگئے تھے
منال کے پیپر ختم ہوچکے تھے اس لیے میں نے جانے دیا کہ کچھ دن رہ لو بہن کے پاس ۔۔آسیہ جھوٹ بولتے ہوئی بولی ۔
اچھا بیٹا تم اپنے دادا سے باتیں کرو میں تمہارے لیے اچھی سی چائے بنا کر لاتی ہوں
رومان کو سخت مایوسی ہو اور وہ بولا نہیں میں چاۓ نہیں پیئوں گا بس اب چلوں گا مجھے ضروری کام سے جانا ہے ۔۔۔
تایا ابو کو میری طرف سے سلام دینا اب نو چلتا ہوں ۔۔۔
بیٹل چلو چائے نہیں پینی تو کچھ دیر اؤر بیٹھو تو سہی ویسے بھی کافی دنوں کے بعد آئے ہو ۔۔۔۔
تائی پھر کبھی سہی پھر آؤں گا ابھی آپ اجازت دے اپنا خیال رکھنا اور منال کا فون آیا تو میری طرف سے اسے پوچھنا ۔۔۔۔
اللہ حافظ
اوکے بیٹا اپنا خیال رکھنا آسیہ بیگم اسے دروازے تک چھوڑنے آئ اور اللہ حافظ کہہ کر دروازہ بند کر دیا ۔
آسیہ دل ہی دل میں ڈر گئی تھی کہ اگر رومان کو پتہ چل گیا تو مسئلہ بن جائے گا ۔۔۔
وہ اب مزید زیادہ پریشان تھی کیونکہ رات گزر گئی تھی لیکن منال کا کچھ پتہ نہیں چلا تھا ۔۔۔۔
اللہ جانے میری بچی کس حال میں ہوگی . کوئی سمجھ نہیں لگ رہی کہاں پر اپنی بچی کو ڈھونڈو میں ۔۔۔
آسیہ کی آنسو ایک دفعہ پھر آنکھوں سے چھلکنے لگے
آنکھوں سے آنسو صاف کرتی سرمد صاحب کے کمرے کی طرف بڑھی ان کی آواز پر ۔۔
جی ابو آپ نے بلایا ہے کسی چیز کی ضرورت تو نہیں آپ کو ۔۔۔
ہاں بیٹا بلایا ہے مجھے تم سے بات کرنی ہے ۔
جی ابو بولے آپ کیا بات کرنی ہے ۔۔۔۔
بیٹا کل سے منال گھر پر نظر نہیں آرہی اور تم نے رومان سے جھوٹ کیوں بولا تھا کہ رات کو مشعل اور علی آئے تھے
اگر علی اور مشعل آتے تو وہ مجھ سے ضرور مل کے جاتے ۔۔اور میں دیکھ رہا ہوں کل سے تم بھی بہت پریشان لگ رہی ہو اور وقار بھی پریشان ہے
بیٹا کیا بات ہے مجھے بتاؤ ۔۔۔۔
سب خیریت ہے نہ اور یہ منال کدھر ہے اس کو بلاؤ میرے پاس ۔۔۔۔سرمد بولے
منال کے ذکر پر آسیہ کی آنکھوں سے آنسو پھر چھلکنے لگے اور وہ رونے لگیں
کیا ہوا ہے آسیہ کیوں رو رہی ہو سب خیرہے نہ ۔۔۔مجھے بتاؤ کیا مسلہ ہے ۔۔۔سرمد احمد پریشانی سے بولے ۔۔۔
آسیہ نے انہیں سب بتا دیا
جسے سن کے سرمدصاحب کے ہوش ا ڑ گئے ۔۔۔
غصے سے بولے کے تم لوگوں نے مجھے کل سے اس بات سے لاعلم کیوں رکھا ہے
میں تم لوگوں کے لیے غیر تھا کیا
منال میری بھی بچی ہے اب بتاؤ وقار کہاں ہے ۔۔۔
ابوجی وہ صبح ناشتہ کرنے کے بعد گھر سے نکل گئے تھے منال کو تلاش کرنے کوئی سمجھ نہیں لگ رہی کہاں چلی گئی ۔۔۔
آسیہ اور سرمد اس بات سے لاعلم تھے کہ باہر کھڑا رومان ساری باتیں سن رہا ہے
رومان اپنی بائیک کی چابی بھول گیا تھا جسے اٹھانے واپس آیا تھا
اندر سے آتی آواز سن کر رومان وہیں رک گیا اور سب سن لیا ۔۔۔۔
رومان سے اپنے قدموں پر کھڑے ہونا مشکل ہوگیا ۔۔۔وہ
سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ منال ایسا کچھ کر سکتی ہے
رومان کے دل میں ایک دم منال کے لیے شدید بد گمانی نے جنم لے لیا ۔۔۔۔
اندر جا کر چیخ چیخ کر پوچھنا چاہتا تھا کہ منال نے اس کے ساتھ ایسا کیوں کیا ایسے کیسے وہ کسی کے ساتھ بھاگ کر جا سکتی ہے ۔۔۔
اس کو ایک بار بھی رومان کی محبت کا خیال دل میں نہیں آیا ۔۔۔۔۔
کیوں منال ایسا کیا میرے ساتھ ۔۔۔کیوں جیتے جی مجھے مار دیا
میرے جذبات کے ساتھ کھیلتی رہی ہو کبھی معاف نہیں کروں گا ۔۔۔۔
رومان چابی لئے بغیر واپس آ گیا ۔۔۔
***********************************
مقصود کافی تیزی سے گاڑی چلا رہا تھا وہ چاہتا تھا جلد سے جلد وہ فلیٹ تک پہنچ جائے ۔۔
رستے میں ایک جگہ ناقہ لگا ہوا تھا …جہاں پر گاڈیو ں کو چیک کیا رہا تھا ۔۔۔
مقصود نے ایک نظر پیچھے لیٹی منال کو دیکھا اس کے ہاتھ بندھے ہوے تھے اور منہ پر ٹیپ لگائی گی تھی تا کے شور نہ کر سکے…
مقصود کچھ پل کے لئے روکا اور سوچنے لگا کیا کروں ۔۔
کچھ سوچ کر اگلی سیٹ سے اترا اور پیچھے بیٹھی منال کے پاس آیا ۔۔
اور جلدی سے اس کے ہاتھ کھولنے لگا
اور بولا کے اگر شور کیا تو اچھا نہیں ہو گا چپ کر کے بیٹھی رہنا ۔۔۔۔
منال نے مزاحمت کرنی چاہی لیکن مقصود نے یہ کہہ کر اس کو روک دیا کہ اگر تم نے کچھ بھی کسی کو بتانے کی کوشش کی تو نتائج کی ذمہ دار تم خود ہو گی ۔۔
بس جیسا کہا ہے ویسا ہی کرو ۔۔۔
منال کے منہ سے ٹیپ اتارتے ہوئے بولا ۔۔۔۔
ٹیپ اترنے پر منال نے گہرا سانس لیا اور بولی کیوں چپ رہوں ۔۔۔۔۔۔میں شور کروں گی سامنے دیکھتے ہوے بولی ۔۔۔منال کی نظر پولیس پر پڑ چکی تھی ۔۔
ٹھیک ہے یہ بھی کر کے دیکھ لو میں بھی ان کو کہ دوں گا کیا یہ میری بیوی ہے تھوڑی پاگل ہے ہوسپٹل لے کے جا رہا ہوں علاج کے لئے ۔اس کی بات پر یقین نہ کریں ۔۔۔
تمہاری جرات کیسے ہوئی مجھے بیوی کہنے کی ۔۔۔منال تیز لہجے میں بولی ۔۔۔۔۔
میں سب کو بتاؤں گی کے iاس نے مجھے کڈنیپ کیا ہے مجھے بچا لو ۔۔۔
منال کی آواز تیز ہوتی جا رہی تھی ۔۔۔۔مقصود کو اس پر مزید غصہ آیا اور تھوڑی دیر پہلے والی ہمدردی کی جگہ غصے نے لے لی ۔۔۔اور اس نےجیب سے بیہوش کرنے والا انجکشن نکلا اور جو پہلے سے وہ سرنج میں بھر کر لایا تھا کے ضرورت پڑ سکتی ہے ۔ ۔۔۔
منال کو فورا لگا دیا ۔۔۔منال جو اونچا بول رہی تھی گاڑی کے شیشے بند ہونے کی وجہ سے آواز باہر نہیں جا رہی تھی ۔۔
ایک دو منٹ کے بعد منال کی آنکھیں بند ہونے لگی اور اس کے خواس جاتے رہے اور پھر وہ ہو ش سے بیگانا ہوگی
مقصود نے سکون کا سانس لیا اور پچھلی سیٹ سے اتر کر فرنٹ سیٹ پر آ کر بیٹھ گیا اور گاڑی سٹارٹ کر دیں
ناکے پر پہنچ کر جب مقصود کی گاڑی روکی گئی تو وہ ریلیکس تھا
پولیس والا مقصود کے پاس آتے ہوئے بولا
ہاں جی کدھر جانا ہے ۔۔۔ساتھ کون کون ہے پولیس والا اندر جھانکتے ہوئے بولا ۔۔
مقصود نے ہاتھ سے پولیس والے کو روکا اندر جھانکنے سے اور بولا کہ شہر اپنے گھر جا رہا ہوں اور ساتھ میری بیوی ہے پیچھے ۔۔۔
منال سیٹ کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھی ہوئی تھی اور اس کی آنکھیں بند کر دیں ۔۔
گاڑی میں اس کے علاوہ کوئی نہیں ہے چاہو تو چیک کر سکتے ہو۔۔۔۔مقصود بے خوفی سے بولا
پولیس والے نے گاڑی کے کاغذات چیک کیے اور جانے کی اجازت دے دی ۔۔۔
مقصود نے گہرا سانس لیا اور سلام کرتا ہوا گاڑی لے کر چلا گیا ۔۔۔۔
آج وہ بال بال بچ گیا تھا
اگر منال ہوش میں ہوتی تو سارا پلین خراب ہو جاتا ۔۔مقصود کا
مزید دس منٹ کی ڈرائیو کے بعد مقصود منال کو لے کر فلیٹ پر پہنچ گیا مقصود نے منال کو سہارا دے کر پکڑا ہوا تھامنال کا سر مقصود کے کندھوں پر تھا مقصود نے سیڑھیوں سے جانے کی بجائے لیفٹ کا سہارا لیا اور لفٹ میں داخل ہو کر فلیٹ تک پہنچ گیا ۔۔۔۔
فلیٹ کے پاس پونچھ کر مقصود نے دروازہ کھٹکھٹایا ۔
اندر سے دروازہ ایک عورت نے کھولا مقصودہ آگے پیچھے دیکھتا ہوا منال کو لے کر اندر داخل ہو گیا ۔۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *