Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer NovelR50758 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode27
No Download Link
581.2K
29
Rate this Novel
Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode01 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode02 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode03 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode04 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode05 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode07 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode08 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode09 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode10 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode11 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode12 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode13 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode14 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode15 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode16 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode17 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode18 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode19 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode20 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode21 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode22 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode24 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode25 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode26 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode27 (Watching)Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode28 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Last Episode Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode23 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode06
Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode27
Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode27
رومان اور علینا ایک ساتھ خوش نظر آ رہے تھے دور سے فیاض نے دونو ں کی خوشیاں قائم رہنے کی دعا کی
علینا ایک سلجھی ہوئی لڑکی تھی
گرین کلر کی میکسی حجاب لئے ہوے بہت خوبصورت لگ رہی تھی
علینا منال سے مل کر بہت خوش ہوئی
علینا بھی رومان کی پسند دیکھ کر حیران ہو گئی کیوں کے منال حد سے زیادہ خوبصورت لڑکی تھی
بالکل کانچ کی گڑیا جیسی جسے زور سے ہاتھ لگایا تو وہ ٹوٹ جائے گی
رومان نے دلپر پتھر رکھ لیا تھا
اور منال کے لئے دعا کی تھی ۔۔۔۔
رقیہ کو علینا بہت پسند آئ تھی جٹ اپنے ہاتھ سے سونے کے دو کڑ ے اتار کر علینا کو پہنا دئے
اور گلے سے لگا کر قبولیت بخش دی
سب رومان کے لئے بہت خوش ہوے
مجھے یقین نہیں آ رہا تم میری ہو گئی ہو
شاہ ویز منال کی تصویر دیکھتے ہوے بولا
تم بہت خوبصورت لگ رہی تھی آج ۔۔
دل کیا تمہیں دیکھتا رہوں سامنے بیٹھا کر ۔۔
کوئی اتنا حسین کیسے ہو سکتا ہے جتنا تم ہو ۔۔
سوری تمہیں تنگ کیا مشعل آپی نے میرے کہنے پر میں تمہیں سرپرائز دینا چاہتا ہوں اس لئے یہ سب کیا ۔۔۔
کل تم میرے پاس ہو گی بہت باتیں کرنی ہیں تم سے ۔۔
شاہ ویز بہت خوش تھا
رات کے دو بج چکے تھے اور شاہ ویز کی آنکھوں سے نیند بہت دور تھی
زبردستی آنکھیں بند کی اور منال کا عکس آنکھوں میں اتر آیا ۔۔
منال سے باتیں کرتے کرتے شاہ ویز کی کب آنکھ لگی اسے پتا ہی نا چلا اور وہ سو گیا ۔۔۔
منال گھر آنے کے بعد خفگی میں ہی رہی مشعل سے کوئی بات نا کی
چپ چاپ اپنے کمرے میں چلی گئی اور چینج کر کے سو گئی
تھکن سے برا حال ہو رہا تھا بیڈ پر لیٹتے ہی نیند آ گئی
مشعل روم میں آئ تو منال سو رہی تھی
اسے سوتا دیکھ کر مشعل پاس بیٹھ گئی اور اسے کے ماتھے پر پیار دیا اور آنکھ میں آیا آنسو صاف کرتے باہر نکل گئی
منال کی جدائی کا سوچ کر مشعل کو رونا آ رہا تھا
اس کی نیند خراب ہونے کے ڈر سے وہ باہر آ گئی
صبح وقت کے مطابق منال کی آنکھ کھل گئی اس نے وضو کیا اور فجر کی نماز ادا کی اور اپنے اچھے نصیب کی بہت سی دعائیں مانگی
باہر بہت ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی
منال کا آج آخری دن تھا یہاں ۔۔
وہ ہر چیز کو اپنے ہاتھ سے چھو کر محسوس کر رہی تھی اور رو رہی تھی
منال آسیہ کے کمرے میں گئی تو وہ نماز کے بعد تسبی پڑھ رہی تھی
منال کو دیکھ کر وہ مسکرائی
اور اشارے سے اندر بلایا
منال اندر جا کر ان کے پاس بیٹھ گئی
تسبیح ختم کرنے کے بعد پاس بیٹھی منال پر پھونک ماری اور اس کے ماتھے پر پیار دیا اور بولی
نماز پڑھ لی بیٹا ۔۔
جی امی پڑھ لی منال بولی ۔۔
تو آج میری بیٹی اپنے گھر کی ہو رہی ہے
تم سوچ بھی نہیں سکتی منال میں کتنی خوش ہو ۔آسیہ خوشی سے بولی
ایک ما ں کیلئے سب سے خوشی کی بات یہ ہوتی ہے
کہ وہ اپنی بیٹی کو عزت سے رخصت کر سکے ۔۔
امی آج مجھے بابا بہت یاد آ رہےہیں
آج اگر وہ زندہ ہوتے تو کتنا اچھا ہوتا
منال دکھ سے بولی
بس بیٹا وہ اتنی ہی عمر لکھوا کر آئے تھے منال کو ساتھ لگاتی ہوئی آسیہ بولی اور اس کے آنسو صاف کرنے لگی
وقار احمد کی کمی آج بہت محسوس کر رہی تھی آسیہ لیکن منال پر ظاہر نہیں کیا
وہ نہیں چاہتی تھی کہ منال پریشان ہوجائے
منال بابا کو یاد کرکے دکھی تھی
اس لئے آسیہ کے کمرے میں آئی تھی
بس بیٹا اللہ پاک ان کی اگے ہی منزلیں آسان کرے آسیہ نے کہا
آمین منال بولی
بیٹا اپنے سسرال والوں کا خیال رکھنا
انہیں عزت ،مان دینا اور سب سے بڑی بات شاہ ویز کا خیال رکھنا وہ بہت اچھا اور نیک بچہ ہے ۔۔
تمہاری پھوپھو بہت اچھی عورت ہے
کبھی ان کا دل مت دکھانا
اور نندوں سے ہمیشہ بہنوں کی طرح رہنا
اگر ان کی کوئی بات بری لگ بھی گئی تو تم اگنور کر دینا ۔۔۔
آسیہ منال کو سمجھاتے ہوئے بولی
جی امی ۔۔۔
منال وہیں امی کے پاس بیڈ پر لیٹ گئی اور چھوٹی چھوٹی باتیں کرتی رہی دونو ں
باتوں کے دوران ہی منال کی آنکھ گئی تو آسیہ اٹھ کر باہر آ گئی
تا کے مہمانوں کے لیے ناشتے کا انتظام کر سکیں
دوبارہ منال کی آنکھ دس بجے کے قریب کھلی
ہاتھ منہ دھو کر باہر آگئ
اور ناشتے کے لیے تخت پر بیٹھ گئی
مشعل اپنی بیٹی کو ناشتہ کروا رہی تھی
آسیہ دور کی رشتے دار عورتوں کے پاس بیٹھی باتیں کر رہی تھی اور ساتھ چا ے پی رہی تھی
علی نے منال کو تخت پر بیٹھا دیکھا
تو اس کے پاس چلا آیا
اور بولا تمہارے منہ پر کیوں بارہ بجے ہیں
آج تو تمہیں خوش ہونا چاہیے
آفٹر آل آج تمہاری رخصتی ہو رہی ہے ۔۔
یہی بات آپ اپنی بیگم سے پوچھیں
کل رات انہوں نے جو کچھ میرے ساتھ کیا ہے
کیا ایسا انہیں کرنا چاہیے تھا بس اسی وجہ سے موڈ آف ہے میرا ۔۔۔
کیوں ایسا کیا ہو گیا علی نے مشعل کو دیکھا
مشعل کے چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہو گئی اور بولی یہ تو آپ منال سے ہی پوچھیں کیا ہوا تھا ۔۔مشعل منال کو تنگ کرنے کے انداز میں بولی
کیوں میں کیوں بتاؤں آپ بتائیں منال ایک دم بولی
علی نے مشعل کی طرف دیکھا اور اس سے ساری بات بتانے کو کہا
مشعل نے ساری بات علی کو بتا دی
جسے سن کر علی بولا
اس میں پریشان ہونے والی کونسی بات ہے
تم نے دولہے کا چہرہ دیکھنا تھا
میں تمہیں ابھی دیکھا دیتا ہوں یہ دیکھو
میرے موبائل میں اس کی کل والی تصویریں موجود ہیں
تم یہاں سے دیکھ لو
علی جیب سے موبائل نکالتے ہوے بولا
اس سے پہلے وہ تصویر نکال کر منال کو دکھاتا
مشعل نے اس کے ہاتھ سے موبائل پکڑ لیا اور بولی
تصویر میں دکھا دیتی ہوں آپ کو جو کام بولا تھا وہ کرکے اے
کون سا کام مجھے تو تم نے کوئی کام نہیں بولا لاؤ موبائل دو مجھے علی بولا
منال نے نہ سمجھی سے پہلے مشعل اور پھر علی کو دیکھا
اف بولا تھا آپ بھول گئے ہیں شاید
آئیں میں آپ کو دوبارہ بتاتی ہوں ساتھ ہی مشعل نے آنکھوں سے علی کو اشارہ کیا اور اسے وہاں سے اٹھنے کو بولا ۔۔
علی اٹھ کر مشعل کے پیچھے چلاگیا
یہ کیا کرنے لگے تھے آپ سارے سرپرائز کا بیڑہ غرق ہوجاتا اگر آپ منال کو شاہ ویز کی تصویر دکھا دیتے ۔۔
کیا مطلب میں سمجھا نہیں کونسا سر پرائز علی نہ سمجھی سے بولا
مشعل کو ساری بات علی کو سمجھانا پڑی
جسے سن کر علی کو اچھا لگا اور منال کے لئے دکھی بھی ہوا
چلو ٹھیک ہے میں باہر جا رہا ہوں کچھ کام سے تم منال کو ناشتہ کروادو
علی کہ کر باہر نکل گیا
یہ بھی شکر تھا منال رستے میں نہیں ملی
وہ اٹھ کر کمرے میں واپس چلی گئی تھی
مشعل نے منال کا ناشتہ تیار کیا
اور ردا کے ہاتھ اس کی کمرے میں بھجوا دیا
ردا تم نے رات کے فنکشن کی کوئی تصویر بنائی تھی مجھے دیکھنا ہے میں کیسی لگ رہی تھی منال ناشتہ کرتے ہوے بولی
جی آپی بنائی تھی اور آپ بہت خوبصورت لگ رہی تھی بالکل آسمان سے اتری کسی خور کی طرح ۔۔۔
شاہویز بھائی تو آپ کو دیکھتے ہی رہ گئے تھے
اچھا تو مجھے بھی دکھاؤ تصویریں کہاں ہے منال جلدی سے بولی
ردا کو مشعل نے منا کر رکھا تھا تصویر دکھانے سے تبھی جلدی سے بولی
آپی موبائل کی بیٹری لو ہے چارجنگ پر لگایا ہوا ہے ۔۔
ردا کی بات سن کر منال کو مایوسی ہوئی
اچھا آپ ناشتہ کریں میں باہر جارہی ہوں ردا کہ کر فورا باہر نکل گئی
اور جاکر ساری باتیں مشعل آپی کو بتائیں
اچھا کیا نہیں دکھائی ۔۔۔مشعل بولی
لیکن آپی یہ تو غلط بات ہے نا ردا بولی
ہے تو غلط لیکن گڑیا ایسا کرنے کے لئے شاہ ویز نے بولا ہے اب اس کی بات کا مان رکھنا ہو گا ہمیں ویسے بھی کچھ ہی گھنٹو ں کی بات ہے اب
تم جاؤ جا کر امی کو دیکھو
اور پوچھو کوئی کام تو نہیں ہے مشعل کہ کر کچن میں چلی گئی
شاہ ویز کی آنکھ بڑ ے خوش گوار موڈ میں کھلی
آج اس کی شادی تھی
فریش موڈ کے ساتھ اٹھا
اور باتھ روم اٹھ کے چلا گیا
فریش ہونے کے بعد ناشتے کی میز پر آیا
تو وہاں رومان اور علینا اور سدرہ ناشتہ کر رہے تھے
ہاں جی اٹھ گیا میرا بیٹا اسجد صاحب بولے
جی ڈیڈ ۔۔اٹھ گیا
اچھا بیٹا ناشتہ کرنے کی بعد ایک چکر آفس کا لگا لینا وہاں بہت کام پینڈنگ پڑا ہے ۔اسجد صاحب جان بوجھ کر شاہ ویز کو چھیڑتے ہوئے بولے
واٹ ۔۔۔ڈیڈ آج میری شادی ہے اور آج کے دن میں آفس کیسے جا سکتا ہوں
شاہ ویز صدمے سے بولا
شادی ہے تو کیا ہوا اس کا مطلب یہ تو نہیں تم کام چھوڑ دو
ویسے بھی شادی شام کے وقت ہے
ابھی تمہارے پاس بہت ٹائم ہے مجھے پتا ہے تم آرام سے سب مینیج کر لو گے
لیکن ڈیڈ ۔۔۔۔
شاہ ویز کی حالت سے سب محفوظ ہو رہے تھے
کیوں تنگ کر رہے ہیں میرے بیٹے کو ۔۔عائشہ شاہ ویز کا من پسند ناشتہ سامنے رکھتے ہوے بولی
تم بیٹا ناشتہ کرو اس کے بعد تمہیں سیلون جانا ہے
ویسے بھی بارہ بج چکے ہیں
اگے ہی تم لیٹ اٹھے ہو
شاہ ویز خاموشی سے ناشتہ کرنے لگا ۔۔۔
منال ٹائم کے مطابق پارلر کے لئے روانہ ہو گئی
ڈیپ ریڈ کلر کے لہنگے میں ملبوس
ہیوی جیو لری پہنے اور برائیڈل میک اپ کیے
منال پہچاننے ہی نہیں ہو رہی تھی
منال سارے ہتھیاروں سے لیس تھی
آج تو شاہ ویز کی خیرنہیں۔۔۔۔
ارم منال کاحسن دیکھتے ہوے بولی ۔۔۔
منال کے ساتھ ارم اور مشعل اور ردا آے تھے
مشعل اور ردا تیار ہو کے گھر چلی گئی تھی جب کے ارم وہیں رک گئی تھی ۔۔
ارم نے منال کے ساتھ ہی ہوٹل جانا تھا
منال اور ارم تیار گاڑی کا ویٹ کر رہی تھی
بارات آ چکی تھی
تازہ پھولوں کی پتیوں سے استقبال کیا گیا بارات کا
شاہ ویز گولڈن شیر وانی جس میں ڈیپ ریڈ کلر کا کام کیا گیا تھا
میں ملبوس بہت حسین لگ رہا تھا
بینڈ باجے کے ساتھ بارات کی آمد ہوئی تھی
سارے بہت خوش لگ رہے تھے
برا تی بیٹھ چکے تھے
عائشہ آسیہ کے گلے لگی اور مبارک باد دی اسے
خیر مبارک ۔۔۔آپ کو بھی مبارک ہو
رقیہ آسیہ اور عائشہ کے پاس چلی آئ اور بولی
آسیہ تم نے مجھے معاف تو کر دیا ہے نا دل سے ۔۔۔
آسیہ نے نا سمجھی سے رقیہ کو دیکھا اور بولی
ایسا کیوں لگا تمہیں ۔۔۔۔میں نے تمہیں دل سے معاف کیا ہے اب میرے دل میں کچھ نہیں ہے ایسا تم ایسا مت سوچو کچھ بھی
پتا نہیں مجھے سکون نہیں مل رہا ۔۔دل پریشان رہتا ہے ہار وقت رقیہ دکھ سے بولی
آپ پریشان نا ہوں سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔آپ ضرور نور کی وجہ سے پریشان ہیں
عائشہ بولی ۔۔
آپ پریشان نا ہوں سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔
اس سے پہلے وہ کوئی اور بات کرتی ایک عورت پاس آ گئی انہیں چپ ہونا پڑا
شاہ ویز اسٹیج پر بیٹھا کسی ریاست کا شہزادہ لگ رہا تھا
منال کو اسٹیج تک لایا گیا
شرم اور حیا سے نظریں جھکی ہوئی تھی منال کی
شاہ ویز اٹھا اور ہاتھ بڑھا دیا
جسے منال نے ججکتے ہوے تھام لیا ۔۔
اور ایک پل کے لئے منال کی نظریں اٹھی اور پلٹنا بھول گئی
اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا
پلکیں جھپکیں پھر کھولی
لیکن نہیں سامنے کھڑ ے شخص کو دولہے کے روپ میں دیکھ کر منال حیران رہ گئی
ایک دم اسے چکر آیا
آنکھوں کے اگے اندھیرہ اس سے پہلے وہ گرتی شاہ ویز کی مضبوط باہوں نے اسے سہارا دے دیا
منال کی آنکھیں حیرت سے پھٹی نظر آئ
منال کو گرتا دیکھ کر مشعل پاس آئ اور پوچھا سب خیر ہے تم ٹھیک ہو منال ۔۔
شاہ ویز نے ایک دم منال کو سیدھا کیا اور اسٹیج پر رکھے صوفے پر بیٹھ گیا
منال نے خود کو سمبھالا اور مشعل کا سہارا لے کر شاہ ویز کے قریب بیٹھ گئی ۔۔
منال کے اندر جو بے چینی تھی
وہ ایک دم سے ختم ہو گئی تھی ۔۔
شاہ ویز کے پہلو میں بیٹھی منال کسی شہزادی سے کم نہیں لگ رہی تھی
دیکھنے والی ہر نظر ان دونو ں کو دیکھ رہی تھی
کسی آنکھ میں حسد تھا ان دونو ں کے لئے اور
کسی میں پیار تھا
آج شاہ ویز کی خوشی کا ٹھیکا نا نہیں تھا
منال ابھی تک شاک میں تھی
کیا ہوا یقین نہیں آ رہا آپ کو ۔۔منال کے کان کے پاس شاہ ویز بولا
منال نے ایک دم سر اٹھا کر اسے دیکھا
نظروں سے نظریں ملی
جہاں صرف منال کو اپنے لئے پیار ہی پیار نظر آیا شاہ ویز کی آنکھوں میں اور کچھ نہیں ۔۔۔
منال نے سر جھکا لیا اور بولی
نہیں ۔۔۔۔۔۔۔
واٹ میں تمہارے ساتھ بیٹھا ہوں تم میری بیوی بن چکی ہو اور تمہیں یقین نہیں آ رہا ابھی تک ۔۔۔شاہ ویز جان بھوج کر معصومیت سے بولا
یقین تو مجھے آپ کے فراڈ پر نہیں آ رہا ۔۔
جو میرے ساتھ کیا ۔۔۔
میں کیا سمجھی تھی آپ کو اور آپ کیا نکلیں ۔۔
چھوڑوں گی نہیں منال الفاظ چبا چبا کر بولی ۔۔
ہاےُ کون کمبخت چھوڑنے کو کہ رہا ہے میں تو چاہتا ہوں مجھے اپنے ساتھ ہمیشہ رکھو بلکے ایسے کرو باند ھ لو
۔۔سامنے دیکھتے ہوے شاہ ویز بولا
شاہ ویز کی بات سن کر منال ایک دم نر وس ہو گئی لیکن بولی کچھ نہیں ۔۔
تبھی مشعل دود ھ کا گلاس لے کر اسٹیج پر آئ
ہاں جی جیجو صاحب جیب ڈ ھیلی کریں اب ۔۔مشعل اترا کر بولی
شاہ ویز کو شرارت سوجی
اور جیب سے سو کا نوٹ نکالا اور مشعل کی طرف بڑھا دیا
یہ کیا ۔۔مشعل کا منہ کھل گیا سو دیکھ کر
پیسے ہیں رکھ لیں ۔۔شرارت سے بولا
اس دود ھ کے لئے جو زیادہ سے تیس کا ہو گا میں تو پھر سو دے رہا ہوں لہجے میں صاف شرارت تھی
ارے کیوں تنگ کر رہے بچی کو دے دو پیسے جتنے مانگ رہی ہے
عائشہ مشعل کی حمایت میں بولی
تب شاہ ویز نے منہ مانگے پیسے دے کے جان
چھڑ وائی اپنی ۔۔۔
مشعل نے شاہ ویز کے سر پر پیار سے تھپکی دی اور دود ھ کا گلاس پیش کر دیا ۔۔۔
تھوڑی دیر بعد رخصتی کا شور اٹھا اور منال سب کی دعاوُں کے زیر اثر رخصت ہو گئی
منال نے گاڑی نکل کر جیسے ہی اپنے سسرال پہلا قدم رکھا
اس پر پھولوں کی برسات ہو گئی
WEL come home bhabi
شاہ میر بولا
بھابی کے لفظ پر منال کے چہرے پر دھیمی سی مسکراہٹ ابھر آئ
شاہ ویز منال کے پاس آکر کھڑا ہو گیا تو عائشہ نے دونوں کی نظر اتاری
اور منال کو رسم کے مطابق دایا ں پاؤں اندر کہا
تو منال بھا ری لہنگا سنبھالتیں اندر داخل ہوگی
منال آمنہ اور سدرہ کے سہارے آرام سے صو فے پر بیٹھ گئی اور پھر شاہ ویز کو اس کے پاس بٹھایا گیا
اور باقی کی رسمیں ادا کرنے لگی عائشہ
تھکن منال کے چہرے سے ظاہر ہو رہی تھی لیکن وہ سب کی خوشی کی خاطر جبر کرتی بیٹھی رہی
آدھے گھنٹے تک عائشہ مختلف رسمیں کرتی رہی
اس کے بعد سدرہ کو کہ کر منال کو اس کے روم میں لے جانے کا کہا ۔۔
اٹھو بیٹا !بھابی کو اس کے روم میں چھوڑ آؤ
جی موم !کہتی سدرہ اٹھی اور منال کو اٹھنے میں مدد کی اور ہاتھ پکڑ کر آرام سے سیڑ ھیا ں چڑ نے لگی
منال نے دونو ں ہاتھوں سے لہنگا تھام رکھا تھا سدرہ نے پیچھے سے لہنگے کو پکڑا اور اس کی مدد کرتی روم تک لے آئ
پورا روم سرخ گلابوں سے سجا یا گیا تھا
تازہ پھولوں کی خوشبو سے کمرہ مہک رہا تھا
منال نے ایک گہرا سانس لے کر خوشبو کو اپنے اندر اتارا اور چلیں بھابی ۔۔۔
منال کو رکتا دیکھ کر بولو
منال چلتی ہوئی بیڈ کے پاس آئ
اور سرخ گلابوں سے مسہری سجائ گئی تھی
بیڈ کے درمیان میں پھولوں کی پتیوں سے دل بنایا گیا تھا
منال بیڈ پر ایک سائیڈ پر سدرہ کے سہارے بیٹھ گئی ۔۔
منال کا دل بہت زور زور سے دھڑک رہا تھا
آپ آرام سے بیٹھے منال ۔۔گھبرانا نہیں
کسی چیز کی ضرورت ہوئی تو مجھے بتانا ۔۔۔سدرہ پیار سے بولی
منال فقط جی کہ پائی
ٹھیک ہے تم شاہ ویز کا ویٹ کرو وہ آتا ہی ہو گا
میں چلتی ہوں اگر مجھے یہاں دیکھا
تو بیچارہ صد مے سے بیہوش نا ہو جائے کے میں یہاں کیا کر رہی ہوں
اسے میں بیجتی ہوں اندر ۔۔۔
جاتے جاتے وہ منال کو چھیڑ گئی
شاہ ویز کے نام پر منال کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا
جو بھی تھا اب وہ اس کا شوہر تھا
بیشک وہ شاہ ویز سے محبت نہیں کرتی تھی لیکن نا پسند بھی نہیں کرتی تھی اب ۔۔۔
کیوں کے روما ن کے بعد اس کا محبّت سے اعتبار اٹھ گیا تھا
منال نے سکون سے پورے کمرے کو دیکھا
ہر چیز میں نفاست جھلک رہی تھی
کمرہ بہت خوبصورتی سے سجایا گیا تھا
منال سامنے دیوار پر لگی شاہ ویز کی تصویر کو دیکھنے لگی ۔۔تصویر میں شاہ ویز بہت دل کش انداز میں مسکرا رہا تھا ۔۔
شاہ ویز کی مسکراہٹ بہت پیاری تھی
یہ آج اسے پتا چلا تھا جب دود ھ پلائ کے دورا ن وہ کھل کر ہنسا تھا اور اب تصویر میں اسے مسکراتا دیکھ کر
منال سوچ میں پڑ گئی کوئی اتنا حسین کیسے ہو سکتا ہے ۔
دروازہ کلک کی آواز سے کھلا اور شاہ ویز اندر داخل ہوا
منال ایک دم سنبھل کر بیٹھ گئی
اور گود میں رکھے ہاتھوں کو آپس میں مسلنے لگی
سیج پر بیٹھی منال کو دیکھ کر شاہ ویز کے اندر ایک سکون سا اترا.
جاری یے
