Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer NovelR50758 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode23
No Download Link
581.2K
29
Rate this Novel
Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode01 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode02 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode03 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode04 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode05 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode07 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode08 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode09 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode10 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode11 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode12 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode13 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode14 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode15 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode16 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode17 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode18 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode19 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode20 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode21 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode22 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode24 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode25 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode26 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode27 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode28 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Last Episode Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode23 (Watching)Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode06
Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode23
Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode23
ساری رات منال چین سے سو نا پائی
بار بار اس کا خیال شاہویز کی طرف جاتا رہا
ہوسپٹل سے سے باہر آنے کے بعد منال دوبارہ اندر واپس نہیں گئی تھی باہر ہی رہی ۔۔۔
باہر سے ہی فواد کو کال کر کے کہا کہ وہ ہوٹل واپس جانا چاہتی ہے ۔۔۔۔
فواد عمیر کو بتا کر ارم اور منال کو لے کر ہوٹل واپس آ گیا ۔۔۔
شاہ ویز کے ڈیڈ کو اطلا ع کر دی تھی عمیر نے اور وہ بھی فورن گھر سے نکل پڑے تھے مری کے لئے ۔۔
منال جاگ رہی ہو سوئی نہیں تم ابھی تک
رات کے دو بجے ارم کی آنکھ کھلی تو منال کو بیڈ پر بیٹھے دیکھ کر بولی ۔۔۔
نیند نہیں آ رہی اس لئے ۔۔منال نے جواب دیا
کیوں کیا ہوا ۔۔۔طبیعت تو ٹھیک ہے نہ
زیرو کے بلب کی روشنی میں ارم نے منال کے چہرے پر پھیلا اضطراب دیکھا ۔۔
اور اٹھ کر لائٹ آن کر کے وہ منال کے پاس آکر بیٹھ گئی ۔۔۔
منال سوری میں کچھ زیادہ ہی ری ایکٹ کر گئی تھی ارم اداسی سے بولی
کوئی بات نہیں ۔۔مجھے برا نہیں لگا میں سمجھ سکتی ہوں ۔۔۔۔منال بولی
منال تم سر شاہ ویز سے شادی کر لو ۔۔وہ بہت اچھے انسان ہیں بہت پیار کرتے ہیں تم سے ۔۔پلیز منال اب انکار مت کرنا ۔۔منال کا ہاتھ پکڑتے ہوئے ارم بولی
منال ی ارم کی طرف دیکھنے لگی اور آنکھوں میں آیا پانی صاف کرتے ہوئے بولی
ارم میں جان گئی ہوں سر شاہ ویز
مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں لیکن اب میں چاہ کر بھی ان سے شادی نہیں کر سکتی ۔۔
کیا مطلب منال ۔۔۔۔کیوں شادی نہیں کر سکتی
کیوں کے میری امی نے میرا رشتہ میری پھوپھو کے گھر طے کر دیا ہے اور اب انہوں نے کہا ہے جو مرضی ہو جائے تمہاری شادی وہیں ہو گی ۔۔۔۔
لیکن منال ایسے کیسے ۔۔۔۔
تم جانتی ہو سب اپنی امی سے بات کرو پلیز کچھ کرو
ایسے تو شاہ ویز سر ٹوٹ جائیں گے مزید ۔۔تم ان کے ساتھ ایسے کیسے کر سکتی ہو منال ۔۔ارم بولی
میں مجبور ہو ارم میں کچھ نہیں کرسکتی آگے میری امی میرے انکار کی وجہ سے بہت پریشان تھی اس دفعہ انھوں نے اپنی مرضی سے فیصلہ کیا ہے اور مجھے سختی سے کہ دیا ہے ۔۔۔
جو مرضی ہو جائے تمہاری شادی یہی پہ ہوگی ۔۔۔
تو سر شاہ ویز کا کیا بنے گا ۔۔۔ارم فورن بولی
کل ہم واپس جا رہے ہیں ۔۔
جانے سے پہلے میں ان سے مل کر سب کلئیر کر دوں گی تم پریشان نہ ہو ارم ۔۔۔
منال کہ کر لیٹ گئی اور آنکھوں پر بازو رکھ دیا ۔۔۔
اس کا صاف مطلب تھا وہ اب مزید بات نہیں کرنا چاہتی ۔۔۔سو ارم بھی اٹھ کر لائٹ بند کر کے اپنے بیڈ پے چلی گئی ۔۔
شاہ ویز کو ہوش آ چکا تھا
عمیر اس کے پاس ہی تھا
شاویز کو ہوش میں آئے آدھاگھنٹہ ہوچکا تھا جب ڈاکٹر تفصیلی چیک اپ کرنے کے بعد سب ٹھیک ہے کہتے باہر چلے گئے ۔۔۔
شاہ ویز کو روم میں شفٹ کر دیا گیا تھا ۔۔
کیا یار ۔۔۔ایسے بھی کوئی کرتا ہے ۔۔
اگر تمہیں کچھ ہو جاتا تو ۔۔۔۔۔۔۔۔عمیر بولا
کچھ نہیں ہوا مجھے ٹھیک ہوں تمہارے سامنے ہوں ۔۔۔۔۔۔شاہ ویز بولا
ہاں وہ تو نظر آ رہا ہے کہ کچھ نہیں ہوا عمیر نے سر تا پیر دیکھتا ہوا طنز سے بولا ۔۔۔
شاہ ویز کے سر پر پٹی بندھی ہوئی تھی اور دائیں ٹانگ میں فریکچر ہوا تھا اور اس کے علاوہ رگڑ لگنے سے شاہ ویز کا بازو اور ہاتھ زخمی ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
سوری یار ۔۔۔میں ایسا نہیں کرنا چاہ رہا تھا لیکن ۔۔
لیکن کیا شاہ ویز ۔۔
اگر تمہیں کچھ ہو جاتا تو تم نے سوچا ہے تمہارے گھر والوں کا کیا ہوتا اور تم نے جس کے لیے یہ سب کیا ہے تمہیں لگتا ہے اسے کوئی فرق پڑا ہوگا ۔۔۔۔عمیر بولا
میں نہیں جانتا اسے فرق پڑا ہو گا یا نہیں…
لیکن میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتا …
وہ کیوں نہیں سمجھ رہی اس بات کو ۔۔۔
کیا ا سے پتا نہیں ہے میرا ایکسیڈنٹ ہوا ہے عمیر کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوے بولا ۔۔
عمیر نے تعجب سے اسے دیکھا
پتا ہے میڈم آ ہی تھی ہمارے ساتھ ۔۔۔لیکن
لیکن کیا عمیر۔۔۔۔ منال کی آمد کی خبر نے شاہ ویز میں خوشی کی لہر پیدا کر دی ۔۔۔
میں نے غصے میں الٹا سیدھا اسے سنا دیا مجھ سے تمہاری حالت دیکھی نہیں گئی ۔۔۔
آج تمہاری اس حالت کی ذمدار وہ ہے ۔۔عمیر بول کر خاموش ہو گیا
شاہ ویز نے جیسے ہی بولنے کے لئے لب کھولے۔۔۔۔ اسی پل اسجد صاحب روم میں داخل ہو گئے ۔۔۔
بیٹے کو۔ اس حال میں دیکھ کر اسجد صاحب کا دل ایک دم گبھرا گیا
کیوں کے فون پر عمیر نے صرف ہلکی سی چوٹ لگنے کا بتایا تھا ۔۔۔
شاہ ویز باپ کو دیکھ کر حیران ہوا ۔۔
کیسے ہو بیٹا اب ۔۔شاہ ویز کے ماتھے پر پیار دیتے ہوے بولے ۔۔۔۔
ڈیڈ اب ٹھیک ہوں ۔۔۔۔آپ سنائیں موم کہاں ہیں وہ بھی آئ ہیں کیا ۔۔۔
نہیں بیٹا تمہاری ماں نہیں آئ ۔۔۔اسے تمہارے ایکسیڈنٹ کا نہیں بتایا میں نے ۔۔۔۔
پریشان ہو جاتی اور رو رو کے برا حال کر لیتی ۔۔۔۔
اسجد صاحب کی بات پر شاہ ویز خاموشی سے اپنے ہاتھوں کو دیکھنے لگا
لیکن یہ سب کیسے ہوا ہے ۔۔۔۔تم شاہ ویز اتنے لاپروہ کبھی نہیں تھے ۔۔۔۔
اگر ہمیں پتا ہوتا یہ سب ہو جائے گا تو کبھی تمہیں نہ آ نے دیتے یہاں ۔۔۔۔اسجد صاحب سے بیٹے کو اس حال میں دیکھنا مشکل ہو رہا تھا
سوری ڈیڈ ۔۔!!!!میری وجہ سے آپ کو تکلیف پہنچی ہیں ۔۔۔
جانتے ہو جب پتا چلا تو مجھے ایسا لگا کسی نے میرے وجود پر وار کیا ہو ۔۔۔تم جانتے ہو تم میرے سب سے قریب ہو اور چوٹ تمہیں لگتی ہے درد مجھے ہوتا ہے ۔۔۔اسجد صاحب کی آنکھوں میں بیٹے کی تکلیف کو دیکھ کر آنسو آ گئے اور روتے ہوے بولے
عمیر نے روتے دیکھا تو اٹھ کے قریب آ گیا اور حوصلہ دینے لگا ۔۔۔
ڈیڈ کچھ نہیں ہوا معمولی چوٹیں آ ہیں فٹا فٹ ٹھیک ہو جاؤں گا آپ پلیز مت روئیں ورنہ میں بھی رو دوں گا
شاہ ویز کی بات پر اسجد نے آنکھ میں آے آنسو صاف کیے اور اس سے تفصیل بتانے کو کہا ۔۔
انکل آپ شاہ ویز سے بات کریں میں آپ کے لئے کھا نے اور پینے کے لئے کچھ لے کر آتا ہوں ۔۔عمیر کہ کر باہر نکل گیا
ہاں بیٹا اب بتاؤ ۔۔۔۔کیسے ہوا یہ سب
ڈیڈ ۔۔۔بس ایسے ہی روڈ پر چل رہا تھا اچا نک سامنے سے گاڑی آ گئی اور پتا نہیں چلا ۔
جب تک سمبھل پاتا اس وقت تک گاڑی سے ٹکر ہو چکی تھی ۔۔اور پھر ہوش نہیں رہا جب ہوش آیا تو ہوسپٹل تھا ۔شاہ ویز بول کر چپ ہو گیا ۔۔
تمہارا دھیان کہاں تھا ۔۔۔اسجد نے پوچھا
شاہ ویز نے چہرہ اٹھا کر باپ کو دیکھا اور ان کا ہاتھ پکڑ لیا اور بولا ۔۔۔۔
سچ پوچھیں تو میرا دھیان منال کی طرف تھا مامی کے انکار کی طرف ۔۔۔ڈیڈ منال میرے سامنے ہوتی ہے لیکن میں چاہ کر بھی کچھ نہیں کر پاتا پلیز ڈیڈ کچھ کریں ۔۔۔۔
میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتا اب مجھ میں اتنا حوصلہ نہیں ہے کہ میں دوبارہ ا سے کھو دوں ۔۔۔
اسجد نے شاہ ویز کے چہرے کی طرف دیکھا جو لگ رہا تھا کہ بس ابھی کے ابھی رو دے گا ۔۔۔۔
شاہ ویز کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر اسے حوصلہ دیا اور بولے کہ تم پریشان نہ ہو میں نے تمھارا کام کر دیا ہے ۔۔۔
اب کسی کو بھی اس رشتے سے انکار نہیں ہے
کیا مطلب ڈیڈ ۔۔۔۔۔۔شاہ ویز نے نا سمجھی سے انہیں دیکھا
مطلب بھی سمجھ آ جائے گا اتنی جلدی کس بات کی ہے ۔۔اسجد صاحب تنگ کرتے ہوے بولے
شاہ ویز ان کی بات تھوڑی تھوڑی سمجھ گیا تھا
ڈیڈ پلیز مجھے ساری بات بتائیں ۔۔۔۔
اسجد صاحب کا موڈ اسے مزید تنگ کرنے کا تھا لیکن بیٹے کی حالت دیکھتے ہوے بولے ۔۔
بیٹا تیار ہو جاؤ گھو ڑ ی چڑ نے کے لئے
رشتے کی ہاں ہو گئی ہے ۔۔۔۔
بلکے اسی دن ہو گئی تھی ہاں جس دن ہم گئے تھے ۔۔۔بس تمہیں تھوڑا تنگ کرنے کے چکر میں چھپایا گیا تم سے ۔
اسجد صاحب ہنستے ہوئے بولے ۔۔۔
شاہ ویز کی آنکھیں حیرت اور خوشی کے باعث مزید کھل گئی ۔۔۔۔
ڈیڈ آپ سچ کہ رہے ہیں ۔۔۔۔۔
ہاں یار بالکل سچ ۔۔۔۔۔
شاہ ویز سے اپنی خوشی کنٹرول کرنا مشکل ہو رہا تھا ۔۔۔
ڈیڈ میں بہت خوش ہوں بہت بہت زیادہ خوش آپ کو میں بتا نہیں سکتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاں بیٹا وہ تو نظر آ رہا ہے تم کتنا خوش ہوں ۔۔۔میری دعا ہو تم ہمیشہ اسی طرح خوش اور آباد رہو اب مجھے یہ بتاؤ منال کہاں ہے ۔۔۔۔
ڈیڈ منال تو ہوٹل ہی ہے کل ان سب کی واپسی ہے ۔۔۔۔
چلو ٹھیک ہے میں لاہور جا کر منال سے مل لوں گا ۔۔۔۔اور ہاں بیٹا ابھی تم منال سے کوئی بات نہ کرنا ۔۔۔
ٹھیک ہے ڈیڈ میں اس سے کوئی بات نہیں کروں گا انفیکٹ ڈیڈ آپ بھی اِس سے کوئی بات نہ کرنا اسے ہم سب مل کر سرپرائز دیں گے ۔۔۔۔۔۔۔شاہ ویز بولا
ٹھیک ہے بیٹا ۔۔۔۔۔۔۔۔
عمیر دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا اس کے ہاتھ میں ٹرے تھی جس میں جوس اور کھانے پینے کی چیزیں موجود تھیں ۔۔۔۔
اسجد صاحب کھانے پینے کی چیزیں دیکھ کر بولے ارے بیٹا تم نے ایسے ہی تکلف کیا ہے ۔۔۔۔
ارے انکل اس میں تکلف کی کیا بات ہے ۔۔۔
میں بھی تو آپ کا بیٹا ہی ہو ۔۔۔عمیر ان کے ہاتھ میں جوس کا کلاس پکراتے ہوئے بولا ۔۔۔
ہاں بیٹا اس میں کوئی شک نہیں ہے آپ بالکل مجھے شاہ ہوئی کی طرح عزیز ہو ۔۔۔۔۔۔
انکل بہت بہت شکریہ آپ کا آپ شاہ ویز کے پاس بیٹھ کر باتیں کریں مجھے ہوٹل جانا ہے اپنی پیکنگ کرنی ہے کیوں کہ کل صبح ہماری ہوٹل سے روانگی ہے ۔۔۔۔
اور میں نے ڈاکٹر سے بات کر لی ہے کل صبح تک شاہ ویز بھی ڈسچارج ہو جائے گا ۔۔۔۔
کیوں کے ڈاکٹر کے مطابق آب خطرے والی کوئی بات نہیں ہے ہم شاہ ویز کو لے کر گھر جا سکتے ہیں ۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے بیٹا آپ آرام سے جاؤ میں شاہ ویز کے پاس ہی ہوں ۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے شاہ ویز اپنا خیال رکھنا میں رات میں آؤں گا دوبارہ ۔۔۔۔
اوکے یار ۔۔۔۔ٹیک کیئر
رقیہ کی آنکھ معمول کے مطابق کھل چکی تھی
ہمیشہ صبح اٹھ جانے کے بعد رقیہ کو چائے کی طلب ہوتی جب تک رقیہ نماز اور تسبیح پڑھ کر فارغ ہوتی نور چائے کا کب بنا کر ماں کو دے جاتی ۔۔۔۔
آج بھی نماز اور تسبیح پڑھ کر فارغ ہو کر بیٹھ گئی اور چائے کا انتظار کرنے لگی ۔۔۔۔۔
کافی دیر گزر جانے کے بعد وہ خود ہی اٹھ گئی اور سوچا شاید نور ابھی تک سو رہی ہوگی اٹھ کر خود ہی بنا لیتی ہوں ۔۔۔۔
فیاض احمد مسجد گئے ہوئے تھے نماز پڑھنے وہ سورج پوری طرف طلوع ہونے کے بعد ہی مسجد سے گھر آتے تھے
رقیہ اٹھ کر باہر آ گئی ۔۔۔
صحن میں بہت اچھی اور تازہ ہوا چل ر ہی تھی ۔۔
رقیہ کچن میں آ گئی اور چائے کیلئے پانی چولہے پر رکھ دیا چاۓ کی پتی اور چینی پتیلی میں ڈال کر چولہا آہستہ کر کے نور کے کمرے کی طرف بڑھ گئی
آج رقیہ نے نور کے ساتھ شاپنگ پہ جانا تھا اس لئے نور کو جلدی اٹھانے کے لئے اس کے کمرے کی طرف گئی ۔۔۔۔
نور پتر ۔۔اٹھ جاؤ
سورج نکل رہا ہے کہنے کے ساتھ ہی دروازہ کھولا اور سامنے بیڈ پر نظر پڑی ۔۔
بیڈ پر کوئی نہیں تھا رقیہ آگے پیچھے دیکھنے لگی اور اٹیچ باتھ روم کی طرف بڑھ کر آواز دینے لگی نور اندر ہوتم کیا ۔۔
لیکن اندر سے کوئی جواب نہ آیا ۔۔
رقیہ نے دو تین دفعہ نور کو آواز دی اور دروازہ بھی کھٹکھٹایا لیکن کوئی جواب نہ آیا ۔۔۔
رقیہ ایک دم پریشان ہوگئ اور باتھ روم کے دروازے کو ہلکا سا زور لگایا تو وہ کھل گیا لیکن وہ یہاں بھی نہیں تھی رقیہ فورا باہر آئی اور نور کو آوازیں دینے لگی اور باری باری سارے کمرے چیک کرنے لگی ۔۔۔
لیکن نور کہیں نہیں ملی
رقیہ بھاگتی ہوئی رومان کے کمرے کی طرف گئی اور اس کو جاکر زور زور سے ہلایا
رومان ایک دم اٹھ کے بیٹھ گیا اور بولا کیا ہوا سب ٹھیک ہے نا ۔۔۔
خیر ہی تو نہیں ہے
رومان نور بھاگ گئی ہے ۔۔۔
وہ گھر میں کہیں نہیں ہے ہمارے منہ پر کالک مل ہے کے وہ خود چلی گئی ہے ۔۔۔
اماں کیا کہہ رہی ہے آپ
رومان ایک دم کھڑا ہو گیا اور بولا کہ آپ گھر میں چیک کریں شاید کہیں آگے پیچھے ہو وہ ایسے کیسے جا سکتی ہے ۔۔۔
آج اس کا نکاح ہے شام میں ۔۔۔۔رومان اپنے کمرے سے نکل کر نور کے کمرے کی طرف بھاگا اور دروازہ کھول کر آگے پیچھے دیکھنے لگا اور اسے آوازیں دینے لگا تبھی رومان کی نظر ٹیبل پر پڑے کاغذ پر پڑی ۔۔۔
ارمان فورا آگے بڑھا اور کاغذ اٹھا کر کھول کر پڑھنے لگا جس پر لکھا ہوا تھا ۔۔۔
میں جانتی ہو آج صبح آپ لوگ جب مجھے گھر پر نہ پائیں گے تب کیا گزرے گی آپ سب پر ۔۔
میں یہ قدم انتہائ مجبوری کے تحت اٹھا رہی ہوں میں نے بہت دفعہ آپ لوگوں سے کہا ہے کے میں ظفر سے شادی کرنا چاہتی ہوں ۔۔
لیکن آپ لوگوں نے میری بات نہیں مانی الٹا میرا رشتہ کہیں اور طے کر دیا ہے ۔۔۔
میں اپنی مرضی اور خوشی سے یہاں سے جا رہی ہوں میری آپ لوگوں سے درخواست ہے کہ مجھے ڈھونڈنے کی کوشش مت کرنا ۔۔۔
کیوں کے یہاں سے نکلنے کے بعد میں اور ظفر فورن شادی کر لیں گے ۔۔۔
ایک اور راز جس سے مجھے پردہ اٹھانا ہے وہ یہ ہے کے منال بالکل بے قصور ہے
منال آپی کا کسی کے ساتھ کوئی چکر نہیں تھا
وہ تو بالکل پاکیزہ اور معصوم ہیں
ان کے خلاف سازش رچی گئی تھی اور ان کو اغوا کروایا گیا تھا تاکہ رومان بھائی آپ سے منال کا رشتہ ختم کیا جا سکے ۔۔
کیوں کہ میں جانتی ہوں اما ں آپ کے اور منال آپی کے رشتہ سے شروع سے خوش نہیں تھی اور انہوں نے ہر ممکن کوشش کی تھی کہ کسی طرح یہ رشتہ نہ ہو لیکن ابا نے ان کی ایک نہ چلنے دی گئی اور رشتہ کر لیا ۔۔
اماں جب آپ کو اور منال آپی کو آپس میں خوش دیکھتی تو اماں کا خون جلتا ہو اور وہ مزید منال کے خلاف ہو جاتی ۔۔
بھائی منال کو اغوا کروانے والا کوئی اور نہیں تھا بلکہ اماں تھیں جنہوں نے یہ سب اس لیے کیا تھا کہ آپ منال سے بدظن ہوکر اس سے رشتہ ختم کر دے ۔۔۔
اور وہی ہوا آپ منال سے بدظن ہوگئے اور بغیر سوچے سمجھے اس کے کردار کے بارے میں الٹا سیدھا بولنے لگے اور اس سے رشتہ ختم کر دیا ۔۔۔۔
اور یہ بھی نہیں سوچا کہ منال آپی پر کیا گزری ہوگی
ہو سکے تو منال آپی سے معافی مانگ لیں وہ بہت پاکیزہ ہیں وہ تو آپ سے بہت پیار کرتی تھی اور آپ کے سوا ان کی زندگی میں کوئی لڑکا نہیں تھا
لیکن اماں نے ان کی زندگی تباہ کر دی اور افسوس اما ں کو آج بھی اس پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے اپنی حرکت پر ۔۔
رومان جوں جوں خط پڑھتا جا رہا تھا
اس کی آنکھوں سے آنسو بہتے جا رہے تھے اور اس کیلئے یقین کرنا مشکل ہو رہا تھا ۔۔۔۔
نہیں ایسا کیسے ہو سکتا ہے میری اماں ایسے کیسے میری خوشیاں تباہ کر سکتی ہیں رومان سے کھڑے ہونا مشکل ہو گیا اور وہ لڑکھڑا کر کرسی پر گر گیا اور زور زور سے رونے لگا ۔۔۔
رومان کے رونے کی آواز سن کر رقیہ بھاگتی ہوئی کمرے میں آئی اور پوچھا کیا ہوا رومان تم کیوں اتنی زور زور سے رو رہے ہو ۔۔۔بتاؤ کیا لکھا ہے اس میں
رومان کچھ نا بولا ۔۔۔۔۔
رومان کے ہاتھ سے خط لے کر رقیہ پڑھنے لگیں جیسے جیسے خط پڑتی جارہی تھی ان کے چہرے کا رنگ بدلتا جا رہا تھا ۔۔۔۔
کیوں اماں آپ نے ایسا کیوں کیا میرے ساتھ ۔۔
اتنی گھٹیا سازش آپ نے منال کے خلاف چلیں یہ بھی نہیں سوچا کہ آپ کا بیٹا اس سے کتنا پیار کرتا ہے ۔۔
ماں کو کندھوں سے پکڑ کر بولا ۔۔۔
رقیہ کو ایک دم چپ لگ گئی اور ان سے کچھ نہ بولا گیا
کیوں کیا ہے اماں ایسا مجھے جواب دیں
آپ اپنی نفرت میں اتنی پاگل ہوگئی تھی کہ آپ نے اپنے بیٹے کی خوشیاں اپنے ہاتھوں سے برباد کر دی ۔۔۔
کیوں کیا اماں آپ نے ایسا مجھے جواب دے رومان غم اور غصے سے پاگل ہو چکا تھا
رقیہ کچھ نہ بولی ۔۔۔
اماں میں آپ سے کچھ پوچھ رہا ہوں
مجھے جواب دیں اس سے پہلے میں غصے سے کچھ کر بیٹھو ں مجھے بتائیں ۔۔۔۔
بیٹے کو غصے سے پاگل ہوتا دیکھ کر ر قیہ بولی ۔۔
ہاں کیا ہے میں نے وہ سب ۔۔
جانتے ہو کیوں
کیوں کے میں آسیہ اور اس کی بیٹیوں سے شدید نفرت کرتی ہو
اس نے مجھ سے وقار کو چھینا تھا اس کے بعد رقیہ نے ساری کہانی رومان کو بتا دی
بیٹا
میں بہت شرمندہ ہوں مجھے معاف کردو ۔۔۔۔
فیاض احمد دروازے میں کھڑے ساری باتیں سن چکے تھے
اور ان کی ہمّت نہیں ہو رہی تھی وہ کیسے کمرے میں جائیں ۔۔۔
دل کا درد اٹھا اور وہ وہیں دروازے میں گر گئے
رومان کی نظر باپ پر پڑی
اور دونو ں فیاض کے پاس آ گئے
ابو اٹھیں کیا ہو گیا آپ کو ۔۔۔۔رقیہ بھاگ کر پانی کا گلاس لے آئی اور فیاض کے منہ پر چھینٹے مارتے ہوئے بولی فیاض کیا ہوگیا ہے آپ کو آنکھیں کھو لیں ۔۔۔۔
لیکن ان کے جسم میں کوئی حرکت نہ ہوئی
رومان نے فورن فیاض احمد کو اٹھایا اور گاڑی میں ڈال کر ہاسپٹل لے گیا
منال اپنی پیکنگ کرنے کے بعد ہوٹل کے لا ن میں آ کر بیٹھ گئی
باقی سب لوگ باہر گئے تھے گھومنے پھرنے کے لیے
ارم بھی ان لوگوں کے ساتھ چلی گئی
ارم نے منال کو ساتھ چلنے کا کہا لیکن اس نے انکار کر دیا
اور اپنی پیکنگ کرنے کے بعد لان میں آ کر بیٹھ گئی ۔۔۔
منال نے لان میں ہی بیٹھ کر اپنے گھر کال کی اور حال چال پوچھنے کے تھوڑی دیر آگے پیچھے کی باتیں کرنے کے بعد
منال نے کال کاٹ دی
اور ان باکس میں آے میسج چیک کرنے لگی
کچھ میسج کمپنی والوں کے تھے اور ایک دو میسج ردا کے تھے
ایک میسج اس نمبر سے آیا ہوا تھا جس نمبر سے رو مان نے منال کو کال کی تھی
منال نے بے اختیار میسج اوپن کیا اور پڑھنے لگیں
میسیج میں بھی رومان معافیاں مانگ رہا تھا اور ملنے کے لیے کہہ رہا تھا
منال نے میسج پڑھنے کے بعد ڈلیٹ کر دیا اور اٹھ کر واک کرنے لگیں ۔۔۔۔
عمیر نے منال کو لا ن میں واک کرتے دیکھا تو اس کی طرف بڑھ گیا
السلام علیکم کیسی ہیں منال آپ ۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام سر میں ٹھیک ہوں آپ کیسے ہیں اور سر شاویز اب کیسے ہیں ۔۔۔
میں بھی اللہ کا شکر ہے ٹھیک ہوں اور سر شاہ ویز بھی اب ٹھیک ہیں
ایکچولی منال میں تم سے اپنے کل والے رویے کے لئے معافی مانگنا چاہتا ہوں میں جانتا ہوں میں غصے میں کچھ زیادہ ہی بول گیا تھا ۔۔۔
نہیں سر آپ کو معافی مانگنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے میں سمجھ سکتی ہوں اگر آپ کی جگہ میں بھی ہوتی تو شاید میں اس سے بھی زیادہ غصے سے بات کر جاتی اس لئے آپ پلیز معافی مانگ کر مجھے شرمندہ نہ کریں ۔۔۔
یہ تو منال تمہارا بڑا پن ہے جو کہ تم ایسا کہہ رہی ہو ۔۔
اچھا یہ بتاؤ تم ان سب کے ساتھ کیوں نہیں گئیں باہر ۔۔عمیر نے پوچھا
بس ایسے ہی میرا دل نہیں کر رہا تھا اس لئے نہیں گئی..
چلو ٹھیک ہے میں تھوڑی دیر تک ہاسپٹل دوبارہ جا رہا ہوں تم بھی میرے ساتھ چلنا شاہ ویز تمہارا پوچھ رہاتھا ۔۔۔عمیر بولا
میں ۔۔۔منال بولی
ہاں تم تیار ہو جاؤ تب تک ۔۔۔عمیر کہ کر اگے بڑھ گیا
پیچھے منال سوچ میں پڑھ گئی کہ اب کیا کریں
تھوڑی دیر سوچنے کے بعد منال ایک فیصلے پر پہنچی اور اپنے کمرے کی طرف قدم بڑھا دئیے ۔۔۔
جاری ہے
