Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode20

Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode20

رومان کی وجہ سے پیچھے ہٹ گیا تھا لیکن ڈیڈ اب میں دوبارہ ایسا کچھ نہیں کرنا چاہتا ۔۔آپ پلیز کچھ کریں ڈیڈ
میں اب اس کے بغیر نہیں رہ سکتا ۔۔
اوکے بیٹا تم پریشان نہ ہو میں کچھ کرتا ہوں میں نے تمہاری موم سے بھی ذکر کیا تھا ۔۔۔
کے تم باہر رشتہ کرنے کی بجائے اپنے میکے میں بھی ایک نظر ڈال لو۔۔
تم پریشان نہ ہو مجھے وقار کے گھر کا ایڈریس دو
کیوں کہ میں ان کے پہلے گھر گیا تھا وہاں سے مجھے پتا چلا وہ لوگ گھر بیچ کر کہیں اور شفٹ ہو چکے ہیں ۔۔۔
اوکے ڈیڈ میں آپ کو ان کے گھر کا ایڈ ر یس میسج کر دیتا ہوں ۔۔۔
اوکے بیٹا اپنا خیال رکھنا اور پریشان نہ ہونا میں سب ہینڈل کر لوں گا تم خوش رہو اور اب منال کو تنگ مت کرنا ۔۔
ٹھیک ہے ڈیڈ آپ بھی اپنا خیال رکھنا کہ کر فون بند کر دیا اور صوفے کے ساتھ ٹیک لگا کر نیچے قالین پر بیٹھ گیا
اور منال کو سوچنے لگا جب اس نے پہلی بار منال کو دیکھا تھا
ماضی
شاہ ویز اپنی نانی کی ڈیتھ کی خبر سن کر اپنی ماں کے ساتھ پاکستان آیا تھا
منال اس وقت آٹھویں کلاس میں تھی ۔۔۔
رومان بھی اس کے ساتھ ہی اسکول جاتا تھا
رومان اور منال بچپن سے ایک ہی اسکول جاتے اور آتے تھے
شاہ ویز اس وقت فرسٹ ایئر میں تھا ماں کے ساتھ دو ہفتے کے لئے پاکستان آیا تھا
شاہ ویز کو وہ چھوٹی سی لڑکی بہت پیاری لگی اس نے منال سے دوستی کرنی چاہی رومان کی طرح
لیکن منال شاہ ویز سے ڈرتی اور شرماتی تھی ۔۔اس کے سامنے نہیں جاتی تھی ۔
رومان کے ساتھ کھیلتی ۔۔۔
شاہ ویز کو دیکھ کر ماں کے پیچھے چھپ جاتی ۔۔
اسی طرح کرتے عائشہ اور شاہ ویز کی واپسی کا دن آن پہنچا۔ ۔۔
جانے سے پہلے منال کی بہت سی تصویریں اپنے موبائل میں بنا لی۔۔۔
امریکہ جا کر شاہ ویز ہر روز صبح جب اٹھتا تو سب سے پہلے موبائل سے تصویر نکال کر اس سے باتیں کرتا ۔۔
وقت کے ساتھ ساتھ شاہ ویز کے دل میں منال اپنی جگہ اور مقام مضبوط کرتی گئی ۔۔۔شاہ ویز منال کے پیار میں پور پور ڈوب چکا تھا
اس کا ارادہ ڈیڈ اور موم سے بات کر کے منال کوہمیشہ کے لئے اپنا بنانے کا تھا لیکن اچا نک
مشعل کی شادی کے موقعے پر رومان اور منال کا رشتہ طے پا گیا ۔۔
اس بات کا جب شاہ ویز کو پتا چلا۔۔
تو وہ ٹوٹ کے رہ گیا اور کہیں دن وہ کمرہ بند کیے پڑا رہا
اسجد صاحب کے پوچھنے پر شاہ ویز ان کے سامنے رو پڑا اور سب بتا دیا ۔۔
بیٹا اگر پہلے پتا ہوتا تو میں وقار سے منال کا ہاتھ مانگ لیتا ۔۔لیکن اب مشکل ہے
اس رشتے میں رومان اور منال دونو ں کی مرضی شامل ہے ۔۔۔اب میں چاہ کر بھی کچھ نہیں کر سکتا بیٹا
تم صبر سے کام لو اور خود کو سمبھالو ایسے کب تک چلے گا ۔اسجد صاحب نے شاہ ویز کو دوبارہ واپس زندگی کی طرف لاے۔۔۔
وقت کے ساتھ ساتھ شاہ ویز سنبھل گیا لیکن اس کی دل سے منال کیلئے پیار نہ نکل سکا ۔۔۔
منال کی رومان سے منگنی کے بعد سے شاہ ویز نے اس کی کوئی تصویر نہیں دیکھی تھی اور نہ کسی سے رابطہ رکھا تھا سارا وقت وہ کام میں مصروف رہتا ۔۔
پھر کچھ عرصے بعد شاہ ویز کو رومان اور منال کی منگنی ٹوٹنے کی خبر پتہ چلے ۔۔
اور پھر وہ لوگ کراچی سے لاہور شفٹ ہو گئے اس سے زیادہ شاہ ویز کو معلومات نہیں تھی اور نہ موم جانتی تھی وہ لوگ کس ایریا میں شفٹ ہوے ہیں۔۔۔
کیوں کہ وقار کی موت کی خبر سن کر موم نہ جا سکی بڑی بہو پریگنٹ تھی ۔۔۔
فون پر رابطہ رہا بس ۔۔۔
اور پھر سرمد احمد کے انتقال پر وہ دوسرے ملک گئی ہوئی تھی بر وقت اطلاع نہ مل سکی انہیں اور وہ نہ آ سکی ۔۔بعد میں وہ فیاض کی طرف آئ لیکن دو دن رہ کر واپس چلی گئی ۔۔
اور آسیہ سے ملاقات نہ کر سکی ۔۔
اس کہ بعد پھر انہوں نے آسیہ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن ان کا نمبر مسلسل بند ملتا رہا ۔۔۔
پھر وقت کے ساتھ ساتھ عائشہ بھی اپنی بو تیک کے کام میں مصروف ہو گئی اور پاکستان والوں سے رابطہ کم ہوتا گیا ۔۔۔۔۔!!!
دو سال پہلے ہی شاہ ویز اور اس کی موم پاکستان شفٹ ہوے تھے اور یہاں پر انہوں نے اپنا کاروبار سیٹ کیا تھا ۔۔
اسی لئے ارم کی منگنی کے دن منال کو دیکھ کر وہ پتھر کا ہو گیا تھا اور پھر جب نام کا پتا چلا تو اس کا شک یقین میں بدل گیا کہ یہ کوئی اور نہیں اس کی اپنی منال ہے ۔۔۔
اسی لئے اس نے جلدی سے عمیر سے تصدیق کی ۔۔
اور منال کا پتا کروایا سارا بائیو ڈیٹا وہ کہاں رہتی ہے وغیرہ۔۔۔۔
ایک بار پھر منال اسکے سامنے تھی اس دفعہ وہ منال کو کھونا نہیں چاہتا تھا ۔۔
💗💗💗💗💗💗💗💗
رقیہ نے نور کو کمرے میں بند کر دیا تھا ۔۔
فیاض احمد گھر آے تو رقیہ نے ان سے ساری بات کی اور کہا جلدی جلدی اس کا کہیں رشتہ کریں اس سے پہلے یہ ہماری عزت خاک میں ملا دے ۔۔
فیاض احمد کا ضبط اور غصے سے برا حال ہوگیا اور وہ اٹھ کر نور کے کمرے میں چلے گئے ۔۔
فیاض احمد دروازے کی کنڈی کھول کر کمرے میں داخل ہو گے نور سامنے بیٹھی ہوئی تھی ۔
۔باپ کو دیکھ کر کھڑی ہو گئی
فیاض احمد اس کے سامنے کرسی رکھ کر بیٹھ گئے اور اسے بیٹھنے کا بولا ۔۔۔
نور ڈرتے ڈرتے بیڈ پر دوبارہ بیٹھ گئی
تو فیاض احمد نے بولنا شروع کیا مجھے سچ سچ بتانا تمہاری ماں جو کہہ رہی ہے وہ سچ ہے یا نہیں ۔۔۔
اور میری ایک بات یاد رکھنا جھوٹ نہیں بولنا ورنہ اس کا انجام بہت برا ہوگا ۔۔۔۔
بولو تمہاری ماں سچ کہہ رہی ہے کیا ۔۔۔فیاض احمد غصے سے بولے ۔۔۔
تو نور نے گھٹی گھٹی آواز میں جی بول دیا
نور کے جی بولنے پر فیاض احمد نے قہر برساتی ہوئی نگاہوں سے اسے دیکھا اور بولے۔۔۔
کیا تم اتنی بڑی ہو گئی ہو کہ اپنی زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ تم نے ہم سے پوچھے بنا کر لیا ۔۔۔
بہتر یہی ہے تم اسے بھول جاؤ اور یہ بات یاد رکھنا تمہاری شادی وہاں ہو گئی جہاں پر ہم کریں گے ۔۔
اور اگر تم نے کچھ بھی الٹی سیدھی حرکت کرنے کی کوشش کی تو تمہارا خون میرے ہاتھوں سے ہوگا یہ بات یاد رکھنا ۔۔۔
فیاض احمد کہ کر کمرے سے جانے لگے
تب نور بولی ابو یہ ظلم نہ کریں میں ظفر کو بہت پسند کرتی ہوں شادی اسی سے کرنا چاہتی ہوں آپ پلیز اسے ایک بار مل لیں۔۔
میں اس کے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس سے پہلے نور اپنی بات مکمل کرتی فیاض نے اس کے منہ پر زور سے تھپڑ مارا اور بولے ۔۔
بکواس بند کر بے حیا لڑکی ورنہ ا بھی جان سے مار دوں گا
رقیہ فیاض کی غصے سے بھری آواز سن کرتیزی سے کمرے میں داخل ہوئیں ۔۔۔۔
اس کو رقیہ سمجھا دو اب یہ اپنی دوبارہ منحوس شکل لے کر میرے سامنے نا آے ۔۔ورنہ اچھا نہیں ہو گا فیاض احمد ایک قہر بھری نظر نیچے بیٹھی روتی نور پر ڈال کر باہر نکل گئے ۔۔۔
رقیہ تاسف سے بیٹی کو دیکھتی باہر نکل گئی
ٹھیک ہے اگر یہ لوگ اس طرح نہیں مانے تو میں گھر سے بھاگ جاؤں گی نور آنکھوں سے آنسو صاف کرتی ایک عزم سے دوبارہ کھڑی ہوگی ۔۔
💗💗💗💗💗💗💗💗💗
عمیر سب کو لے کر واپس آ چکا تھا ۔۔
ارم جس وقت کمرے میں داخل ہوئی اس نے منال کو بیڈ پر سوتے ہوئے پایا ۔۔۔
ارم خاموشی سے بغیر آواز پیدا کیے واش روم چلی گئی جس ٹائم وہ منہ دھو کر واپس آئیں تو منال بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی ۔۔۔
اٹھ گئی تم طبیعت تو ٹھیک ہے نہ تمہاری ۔۔ارم بیڈ پر بیٹھتے ہوئے بولی
ہاں ٹھیک ہوں مجھے کیا ہونا ہے تم سناو کیسا رہا وزٹ مزہ آیا ۔۔منال سستی سے بولی
یار موسم کی وجہ سے جلدی واپس آنا پڑا ۔۔۔ارم دکھ سے بولی
چلو کوئی نہیں دوبارہ چلی جانا کہ کر منال اٹھی اور واش روم میں وضو کرنے چلی گئی نماز کے لیے ۔۔۔
ارم افسوس سے گہر ی سانس لیکر بیڈ پر نیم دراز ہو گئ
💗💗💗💗💗💗💗💗💗
شام کو دوبارہ ڈاکٹر شاہ ویز کو چیک کرنے آیا
شاہ ویز کا بخار اتر چکا تھا اور بہت بہتر محسوس کر رہا تھا اسی لیے ڈاکٹر کے جانے کے بعد شاہ ویز عمیر کو ساتھ لے کر باہر نکل آیا ۔۔۔
💗💗💗💗💗💗💗
اسجد صاحب اور عائشہ اسی شام منال کے گھر پہنچ گئے
دونو ں ایک دوسرے کو ا تنے عرصے بعد دیکھ کر ایک دوسرے کے گلے لگ گئی اور رونے لگی ۔۔۔
جب دونوں اپنے اندر کا غبار باہر نکال چکی تو اسجد صاحب بولے ۔۔۔
کیا یہیں پر کھڑے ہو کر سارے سین کرنے کا ارادہ ہے ۔۔اندر جانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے کیا ۔۔۔
اسجد کی بات پر آسیہ شرمندہ ہو گئی اور دونوں کو اندر آنے کا رستہ دیا ۔۔
اور ڈرائنگ روم میں بیٹھا دیا اور خود ردا کو بلانےچلی گئی ۔۔جب وہ واپس آئی تو ان کے ہاتھ میں دو گلاس کولڈ ڈرنک کے تھے اور ردا بھی ساتھ تھی ۔
بیٹا ان سے ملو یہ تمہاری عائشہ پھوپھو ہے اور یہ ان کے ہسبنڈ ہے ۔۔
ردا نے آگے بڑھ کر دونوں کو سلام کیا اور عائشہ کے بلانے پر ان کے پاس جا کر بیٹھ گئی تو عائشہ نے اسے ساتھ لگاکر خوب پیار کیا ۔۔
کہاں غائب تھیں عائشہ اتنے عرصے بعد سے دوبارہ ملاقات ہو رہی ہے آسیہ بولی ۔۔۔
بھابی میں نے آپ سے رابطہ کرنے کی بہت کوشش کی تھی لیکن آپ کا نمبر مسلسل بند جا رہا تھا اس کے بعد میں بھی اپنے بوتیک کے کاموں میں مصروف ہو گی اور چاہنے کے باوجود میں آپ سے دوبارہ کوئی رابطہ نہیں رکھ سکی
ہم لوگ دو سال پہلے ہی پاکستان شفٹ ہو گے ہیں ۔۔
پاکستان آنے کے بعد بھی میں نے آپ لوگوں کو ڈھونڈنے کی کوشش کی لیکن آپ لوگ یہاں شفٹ ہو گئے ۔۔
اور اس جگہ کا ایڈریس بھی آج ہی ہمیں پتہ چلا ہے شاہ ویز سے ۔۔۔
اس کے بعد اسجد صاحب نے مختصر ساری بات کر دی ساری کے منال شاہ ویز کی اکیڈمی میں پڑھانے جاتی ہے ۔۔۔
دونو ں کی مولاقات وہاں ہوئی ۔۔
اور آج شاہ ویز کا مجھے فون آیا ہے اس نے کہا وہ منال سے شادی کرنا چاہتا ہے اور آپ سے رشتے کی بات کی جائے ۔۔۔
شاہ ویز کی شروع سے منال سے شادی کرنے کی خواہش تھی لیکن رومان اور منال کی منگنی کی وجہ سے وہ پیچھے ہٹ گیا تھا ۔۔۔
شاہ ویز منال کو بہت پسند کرتا ہے میں آپ کے آگے ہاتھ جوڑ کر منال کا رشتہ مانگتا ہوں شاہ ویز کے لئے ۔۔۔
آسیہ کی آنکھوں میں خوشی سے آنسو آگئے
اور فوراً بولی بھائی آپ مجھے شرمندہ نہ کریں منال آپ کی بھی بیٹی ہے ۔۔
میرے لیے شاہ ویز سے بڑھ کر کوئی بھی نہیں ہے مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے اگر میری بیٹی آپ کی بہو بنے تو میرے لیے تو خوشی کی بات ہوگی ۔۔۔
عائشہ اٹھ کر آسیہ کے پاس آ گئی اور ساتھ ساتھ لگا کر ان کی آنکھوں سے آنسو صاف کرتے ہوئے بولی آپ بے فکر ہو جائیں منال میری بھی بیٹی ہے اور میں وعدہ کرتی ہوں اسے ہمیشہ خوش رکھوں گی ۔۔۔
آسیہ نے سب کا منہ میٹھا کروایا ۔۔اور پھر کافی دیر باتیں کرنے کے بعد اسجد اور عائشہ شام کا کھانا کھا کر وہاں سے رخصت ہوگئے ۔۔۔۔
💗💗💗💗💗💗💗
گھر آ کر اسجد صاحب نے شاہ ویز کو میسج کیا اور کہا منال کی امی نے رشتہ دینے سے انکار کردیا ہے
وہ شاہ ویز کو سرپرائز دینا چاہتے تھے اس کی واپسی پر اس لیے اسے تھوڑا تنگ کرنے کے لئے میسج کیا ۔۔وہ دل ہی دل میں شاہ ویز کی حالت کو سوچ کر مسکرانے لگے
💗💗💗💗💗💗
منال کے سیل پر انجان نمبر سے کال آ رہی تھی نمبر دیکھ کر اس نے فون رکھ دیا ۔
کال مسلسل آ رہی تھی ۔۔انجان نمبر دی
کھ کر منال سوچ میں پڑ گئی
کون ہو سکتا ہے ۔۔یہ کس کا نمبر ہے ۔
ایک دو بار کال ڈسکنیکٹ بھی کی
لیکن کرنے والا والا بھی کوئی ڈ ھیت ہی تھا
دوبارہ کال آئ تو منال نے یس کر لی ۔۔۔
ہیلو
منال نے جیسے ہی کال یس کی اگلی طرف سے ایک لڑکے کی آواز میں ہیلو کہا گیا ۔۔
جی کون اور کس سے بات کرنی ہے ۔۔۔منال نے پوچھا
بات تو مجھے آپ سے ہی کرنی ہے منال ۔۔۔
منال اس کے منہ سے اپنا نام سن کے گھبرا گئی اور فورا کال کاٹ دی ۔۔۔
کال دوبارہ انے لگی ۔۔
منال جان کر انجان بن گئی پاس ارم سو رہی تھی ۔۔
فون کی بیل سے اس کی بھی نیند ٹوٹ گئی اور بولی
منال کہاں کھوئی ہوئی ہو تمہارا فون بج رہا ہے اٹھاؤ اسے ۔۔ارم جمائی لیتے ہوے بولی
نہیں ایسے ہی رانگ نمبر ہے ۔۔تم سو جاؤ میں فون کی بیل بند کر دیتی ہوں ۔۔
کال دوبارہ انے لگی ۔۔
اچھا لاؤ دو مجھے میں بات کرتی ہوں کون ہے جو تنگ کر رہا ہے ایسے ۔۔۔
منال کو فون نہ اٹھاتا دیکھ کر ارم نے خود اس کے ہاتھ سے فون لے کر یس کر کے کان کے ساتھ لگا لیا اور ہیلو بولی ۔۔
دیکھو منال پلیز اب فون بند نہ کر نا ۔۔میں رومان بات کر رہا ہوں
مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے پلیز میری بات سن لو ۔۔۔پلیز
کون رومان ۔۔۔۔۔ارم نے پوچھا
رومان کے نام پر منال نے فورا ارم کی جانب دیکھا
منال مانتا ہوں میں نے غلط کیا تھا لیکن اب تم میرا نام سن کر یوں اجنبی نہ بن جاؤ صرف ایک بار بات سن لو پلیز
ارم نے موبائل چپ کر کے منال کی طرف بڑ ھا دیا اور خود باہر جانے کا اشارہ کرتی نکل گئی ۔۔
منال نے دھرکتے دل سے فون کان کے ساتھ لگایا۔۔
کس لئے فون کیا ہے مجھے تم نے ۔۔۔
پلیز منا میری بات سن لو میں تم سے ملنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔
مجھے تمہاری کوئی بات نہیں سننی اور نہ ہی میں تم سے ملنا چاہتی ہوں ۔۔۔
پلیز منال تمہیں خدا کا واسطہ میری بات سن لو میں اپنی کیے پر بہت شرمندہ ہوں میں تم سے معافی مانگنا چاہتا ہوں
منال میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں میں چا ہ کر بھی تمہیں بھول نہیں پا رہا
پلیز منال مجھ سے ایک بار مل لو ۔۔رومان رونے لگا
کس بے شرمی سے تم مجھے یہ بات کہہ رہے ہو کہ تم مجھ سے پیار کرتے ہو
میں تو بدکردار تھی اپنے یار کے ساتھ بھاگ گئی تھی اب میں کیسے اچھی ہو گئی ۔۔
جاؤ رو مان جاؤ !!
میرے دل میں اب تمہاری کوئی جگہ نہیں ہے میں تو تمہیں اپنی نفرت کے بھی قابل نہیں سمجھتی اب
اور دوبارہ مجھے فون کبھی مت کرنا ۔۔۔
منال نے کہ کر غصے سے فون بند کر دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیوں رومان تو لوٹ کر واپس آ ے ہو
میں نے اپنے دل کے دروازے ہمیشہ کے لئے تم پر بند کر لئے ہیں
رومان آئ ہیٹ یو
سنا تم نے میں تم سے نفرت کرتی ہوں ۔۔
منال غصے سے بول کر زور قطار رونے لگی
میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی ۔۔
تم نے مجھ پر الزام لگایا مجھے غلط کہا میرے کردار کے بارے میں بکواس کی ۔۔
آج کس منہ سے تم پیار کی بات کر رہے ہو ۔۔
منال فرش پر بیٹھ کر زور زور سے رونے لگی ۔۔
💗💗💗💗💗💗💗
شاہ ویز نے باپ کا میسج پڑھا
تو فورا انھیں کال کر ڈالی ۔۔
اسجد صاحب شاہ ویز کی کال آتی دیکھ کر مسکرانے لگے اور فون اٹھا لیا ۔۔
ہیلو ڈیڈ :یہ کیا میسج کیا کیوں انکار کر دیا مامی نے ۔۔
آپ ان کو سمجھاتے نہ آپ ان کا انکار سن کر آ گئے ہیں اور کتنے آرام سے مجھے میسج کیا ہے کہ انہوں نے انکار کر دیا ہے ۔۔
ڈیڈ میں کچھ کر بیٹھوں گا اگر مجھے منال نہ ملی تو آپ اچھے سے جانتے ہیں میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتا آپ مامی کو سمجھاتے
ان سے بات کرتے ان کو بتاتے کہ میں منال سے کتنا پیار کرتا ہوں ۔۔شاہ ویز بے تابی سے بولا
بیٹا میں نے بہت کوشش کی ہے آسیہ کو منانے کی لیکن اس کی نہ ہاں میں نہیں بدلی ۔۔۔
اور بیٹا میں زبردستی تو نہیں کرسکتا نہ
اگر تم کہتے ہو تو ایک مرتبہ پھر میں بات کر لیتا ہوں ۔۔اسجد صاحب اپنی مسکراہٹ چھپاتے ہوئے بولے
ٹھیک ہے ڈیڈ آپ ایک مرتبہ پھر ان سے بات کریں
اگر وہ پھر بھی نہ مانیں تو میں خود ان سے بات کروں گا اگر مجھے ان کے پاؤں بھی پکڑنا پڑے تو میں پکڑ لوں گا لیکن انہیں منا کر رہوں گا ۔۔۔شاہ بولا
ٹھیک ہے بیٹا میں پھر بات کر کے تمہیں بتاؤں گا ابھی مجھے تھوڑا کام ہے میں کل بات کروں گا اپنا خیال رکھنا ۔۔
اوکے ڈیڈ اللہ‎ حافظ
فون بند ہونے پر اسجد صاحب کھل کر مسکرانے لگے
تبھی بولی کیوں میرے بیٹے کو تنگ کر رہے ہیں آپ بتا کیوں نہیں دیتے سچ اسے ۔۔
پریشان کر دیا ہے اسے ۔۔۔۔
کچھ نہیں ہوتا اسے تھوڑا سا تنگ کرنے دو ۔۔
اور یہ ہم دونوں باپ بیٹے کا معاملہ ہے
خبردار آپ نے اسے کچھ بتایا تو ورنہ میں آپ سے بات کرنا بند کر دوں گا ۔۔اسجد صاحب پیار بھری دہمکی دیتے ہوے بولے
اوکے بابا آپ جاننے اور آپ کا بیٹا جانے
عائشہ مسکرا کر بولی ۔۔
کل شاہ میر اور باقی سب آ رہے ہیں اچھا ہے شاہ ویز کی شادی پر سب موجود ہوں گے ۔عائشہ خوشی سے بولی
ہاں ٹھیک کہ رہی ہو اسجد بیوی کو پیار سے دیکھتے ہوے بولے
ٹھیک ہے مجھے مارکیٹ جانا ہے کچھ چیزیں لانی ہے میں وہ لے آؤں اگر آپ نے ساتھ چلنا ہے تو چلے ۔
عائشہ اٹھتے ہوئے بولی
ٹھیک ہے میں بھی ساتھ چلتا ہوں گھر رہ گیا آپ کے بغیر بور ہو جاؤں گا ۔۔۔اسجد صاحب ہنستے ہوے بولے
ان کی بات پر عائشہ نے مسکرا کر انہیں دیکھا اور بولی آپ بھی نہ ۔۔۔۔۔
ہاہاہاہاہا
اسجد صاحب کا قہقہ ہوا میں بلند ہو گیا
تھوڑی دیر بعد دونوں مارکیٹ جانے کے لئے گھر سے گاڑی پر نکل چکے تھے
💗💗💗💗💗💗
شاہ ویز نے جب سے اسجد صاحب سے رشتے سے انکار کا سنا تھا وہ بے چینی سے کمرے میں ٹہلنے لگا تھا
اس کا بس نہیں چل رہا تھا وہ اڑ کر لاہور پہنچ جائے اور مامی کو منا لے ۔۔
شاہ ویز منال سے بات کرنے کے ارادے سے روم سے باہر نکلا
منال کے روم کے باہر ارم کو کھڑا دیکھا
خیریت ارم آپ باہر کھڑی ہیں سب ٹھیک ہے آپ کی دوست کدھر ہے ۔۔۔
جی سر خیریت ہے وہ ایکچولی منال کال پر بات کر رہی تھی تو میں باہر آ گئی تا کہ وہ آرام سے بات کر سکے ۔۔
او اچھا ۔۔۔
کہ کر وہ پلٹنے لگا تبھی پیچھے سے ارم بولی ۔۔۔
سر ایک بات بولوں اگر آپ برا نہ منائیں تو ۔۔۔ڈرتے ڈرتے ارم بولی
ہاں بولو ارم شاہ ویز دوبارہ اس کی طرف پلٹ گیا
سر آپ منال سے شادی کر لیں وہ بہت اچھی لڑکی ہے ۔۔
ارم کی بات سن کر شاہ ویز کو حیرت کا جھٹکا لگا ۔۔
سر پلیز آپ غصہ نہ ہونا میں نے ویسے ہی ایک بات کی ہے اگر آپ کی نہیں مرضی تو کوئی بات نہیں ۔۔۔
ڈونٹ وری ارم ؛میں غصہ نہیں کرتا ۔۔۔
میں تو خود اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں لیکن وہ غصہ ہے مجھ پر وہ کبھی نہیں مانے گی
سر کیوں ۔۔۔۔۔۔۔
آپ نے اس سے بات کی تھی کیا
کیا کہا اس نے ۔۔؟؟؟ارم بولی
شاہ ویز نے ارم کو اپنے روم میں انے کا کہا تا کے وہاں آرام سے بات کر سکیں ۔۔۔
ارم شاہ کے پیچھے اس کے کمرے میں چلی گئی اور صوفے پر بیٹھ گئی ۔۔
شاہ ویز نے مختصر ساری بات بتا دی
ارم سن کا بولی ۔۔سر آپ بےفکر ہو جائیں
منال کو منانا میرا کام ہے ۔۔میں آپ کے ساتھ ہوں
ارم خوش دلی سے بولی
اس کے بعد ارم نے ایک پلا ن بنایا شاہ کو ساری بات سمجھا دی ۔۔
شکریہ ارم ۔۔
کوئی بات نہیں سر آپ کے کام آ کر مجھے خوشی ملے گی اب میں چلتی ہوں پلا ن پر کام بھی کرنا ہے ۔۔
اوکے بیسٹ آف لک
اب شاہ ویز کو یہ دیکھنا تھا کہ ارم کا پلان کہاں تک کامیاب ہوتا ہے۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *