Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer NovelR50758 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode07
No Download Link
581.2K
29
Rate this Novel
Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode01 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode02 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode03 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode04 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode05 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode07 (Watching)Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode08 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode09 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode10 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode11 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode12 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode13 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode14 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode15 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode16 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode17 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode18 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode19 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode20 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode21 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode22 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode24 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode25 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode26 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode27 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode28 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Last Episode Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode23 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode06
Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode07
Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode07
وہ اپنے دوستوں سے آنکھ مار کے کہتے ہوا بولا ۔۔
اور بائیک سے اتر کر منال کے پاس آنے لگے ۔۔
منال ایک دم ڈر گئی ۔
وہ لڑکے پاس آ کے رک گئے ۔۔۔بارش تیز ہوتی جا رہی تھی ۔۔
منال بینچ سے اٹھ گئی اور ان کے پاس سے گزرنے لگی تو ان میں سے ایک لڑکے نے منال کا بازو پکڑ لیا اور روک لیا ۔۔
کہاں جا رہی ہو اکیلی ہمیں بھی ساتھ لے جاؤ ۔۔۔
چھوڑو میرا بازو منال بازو چھڑاتے ہوے بولی ۔۔۔۔لیکن گرفت مضبوط تھی ۔۔
منال چیخنا چاہتی تھی لیکن روڈ بالکل خالی تھی ۔۔۔
بارش کی وجہ سے ۔۔۔
منال اپنا پورا زور لگا رہی تھی ۔۔۔لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا ۔۔۔۔چھوڑ دو تمہیں واسطہ ہے خدا کا ۔۔۔۔۔پلز جانے دو مجھے ۔۔۔
منال روتے ہوے بولی ۔۔
فیا ض یہ تو رونے لگی ۔۔۔۔اوہ ہو چپ کرو بےبی ۔۔۔روتے نہیں ہم ہیں نہ ۔۔
منال نے فیاض نامی لڑکے کو زور سے منہ پر تھپڑ مارا ۔۔۔۔ایک پل کو منال بھی حیران رہ گئی کیوں کے تھپڑ بہت زور سے مارا گیا تھا ۔۔۔۔
اس نے منال کا بازو چھوڑ دیا ایک دم ۔۔۔اور منہ پر ہاتھ رکھ لیا ۔۔۔۔ منال کو گالی نکالی اور غصے سے منال کی طرف بھڑنے لگا اور بولا اب نہیں چھوڑوں گا تمہیں ۔۔۔۔
منال نے ایک دم موقعے کا فائدہ اٹھایا اور اسے د ھکا دے کر بھاگی ۔۔۔۔۔باقی دونو ں لڑکے پیچھے جانے لگے تو فیاض بولا بھاگنے دو تھوڑا ۔۔۔۔تھک جائے گی تو خود ہی گر جائے گی ،۔
آ ے گی میرے پاس ہی ۔۔۔۔
منال تیز تیز بھاگنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔وہ تینو ں بائیک پے منال کے پیچھے پیچھے تھے اور ہنس رہے تھے ۔۔۔۔
منال کا سانس پھول چکا تھا بھاگ بھاگ کر ۔۔۔۔منال مسلسل بھاگ رہی تھی زبان پر آیت الکرسی جاری تھی ۔۔۔۔
اچا نک سامنے سے گاڑی آ گئی اور منال اس سے ایک دم ٹکرا کر روڈ پر گر گئی ۔۔۔۔۔ خوف اور کچھ چوٹ لگنے کی وجہ سے منال بیہوش ہو گئی ۔۔۔۔۔
******************************************
وقار احمد کے موبائل پر انجان نمبر سے کال آئی ۔۔۔۔
انہوں نے کال اٹھائیں آگے سے جو خبر سننے کو ملی اس نے وقار احمد کو اپنے پاؤں پڑ کھڑے ہونے سے انکار کر دیا وہ بے اختیار پاس پڑی کرسی پر گر گئے اور آسیہ کو آواز دینے لگے ۔۔۔۔۔۔۔۔
آسیہ جو آج منال کی . پسند کی بریانی بنا رہی تھی
بریانی بنا کر سلاد کاٹ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
وقار کی آواز پر کچن سے باہر آئیں اور ان کے پاس گئی وقار کو کرسی پر ایسا بیٹھے دیکھ کر آسیہ ایک دم پریشان ہوگی اور تیز تیز چلتی ہوئی ان کی پاس آئیں اور بولیں کیا بات ہے آپ پریشان لگ رہے ہیں سب خیریت ہے نہ ۔۔۔۔آپ رو کیوں رہے ہیں ۔۔۔۔
آسیہ میری منال ۔۔۔۔
کیا ہوا منال کو وہ ٹھیک ہے نہ آپ بتائیں نہ پلز میرا دل گبھرا رہا ہے ۔۔۔
منال کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے وہ ہوسپٹل ہے ابھی کال آئ ہے ۔۔۔
میں جا رہا ہوں اس کے پاس ۔۔۔۔۔وقار اٹھتے ہوئے بولے
انسیہ فورا بولی میں بھی آپ کے ساتھ جاؤں گی ۔۔۔۔
نہیں تم گھر پر رہو ردا گھر پر اکیلی ہے میں جا رہا ہوں تم بس دعا کرو ہماری منال ٹھیک ہو ۔۔۔۔
وقار احمد جلدی سے نکل گئے گھر سے اور ہاسپٹل کی طرف روانہ ہوں گے ۔۔۔۔۔
*****************************
جس کی گاڑی کے ساتھ منال کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا وہ شخص باہر نکلا اور پریشانی سے اس کی طرف بڑھا۔۔
اور اسے آوازیں دینے لگا جب آواز دینے پر بھی اس میں کوئی حرکت نہ ہوئی تو اس نے منال کو ہلا کر دیکھا لیکن وہ بیہوش ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔۔
اس نے فورا منا ل کو اٹھا کر گاڑی میں ڈالا اور قریبی ہسپتال پہنچا دیا
اور منال کے پاس موجود بیگ سے ایک ڈائری ملی جس پر اس کے گھر کے ایڈریس کے ساتھ والد کا نمبر بھی لکھا ہوا تھا ۔۔۔۔۔
وہیں سے اس شخص نے کال کر کے منال کے والد کو بتایا اور ہسپتال آنے کو کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد وقار احمد ھاسپیٹل پہنچ گئےریسپشن سے پتہ کرنے پر وہ اس شخص کے پاس پہنچ گئے اور اس سے
بولے میں وقار منال کا باپ ہوں کہاں ہے وہ ۔۔۔۔کیسے ہوا یہ سب وہ ٹھیک تو ہے نہ ۔۔۔۔ وقار پریشانی سے پوچھ رہے تھے ۔۔۔۔
اس شخص نے اپنا نام نواز بتایا اور پھر مختصر سارا واقعہ بتا دیا اور بولا اب خطرے سے باہر ہے اور ہو ش میں ہے ۔۔۔۔
آپ اس سے مل سکتے ہیں ۔۔۔۔
نواز وقار کو لے کرایمبرجنسی روم میں آ گیا جہاں منال کو ڈراپ لگی ہوئی تھی ۔۔۔۔
باپ کو دیکھ کر منال کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔۔۔وقار نے پاس جا کر منال کے سر پر ہاتھ رکھا اور پیار دیا اور حوصلہ ۔۔۔۔
پھر اس شخص کی طرف متوجہ ہوئے اور بولے آپ کا بہت شکریہ اگر آج آپ نہ ہوتے تو نہ جانے کیا ہو جاتا میری بیٹی کی جان بچانے کا شکریہ ۔۔۔
وہ شخص شرمندہ ہوتے ہوئے بولا نہیں شکریہ کی کوئی بات نہیں ہے اس کا ایکسیڈنٹ میری گاڑی سے ہوا ہے تو میرا فرض بنتا تھا اس کی مدد کرنا ۔۔۔
اب آپ آگئے ہیں تو مجھے اجازتدیں اب میں چلتا ہوں اور ہسپتال کے بل کی فکر نہ کرنا میں نے سارا کلیئر کر دیا ہے
بس یہ ڈر پ ختم ہوتی ہے تو آپ بچی کو گھر لے جا سکتے ہیں ۔۔
اس کی میڈیسن کا شا پر ٹیبل پر پڑا ہے وہ بھی یاد سے کر لے جائے گا .
وقار احمد نے بہت کوشش کی ان کو پیسے دینے کی لیکن انہوں نے لینے سے انکار کر دیا اور بولے ان پیسوں کا منال کو فروٹ اور جوس لے کر دینا تاکہ یہ جلدی سے اچھی ہو جائے ۔۔۔۔۔
وقار احمد نے ان کا شکریہ ادا کیا ۔۔۔نواز وقار سے اجازت لے کر رخصت ہوگئے
تو وقار بیٹی کے پاس آکر بیٹھ گئی اور اس سے پوچھا کہ کیسی طبیعت ہے درد تو نہیں ہو رہا ۔۔۔۔
نہیں بابا اب میں ٹھیک ہوں درد نہیں ہو رہا ۔۔۔
باپ نے پوچھا کیے یہ سب کیسے ہوا ہے تو وہ اصل بات گول کر گئی اور بولی کے بس بابا میں جا رہی تھی اچانک سے سامنے سے گاڑی آ گئی اور ٹکر ہوگئی اس کے بعد مجھے ہوش نہیں رہی بے جب ہوش آیا تو میں یہاں تھی ۔۔۔
ہوں ۔۔بیٹا آپ ریسٹ کرو میں ڈاکٹرز سے مل کر آتا ہوں پھر گھر چلتے ہیں آپ کی ڈراپ ختم ہونے والی ہے ۔۔۔۔
ڈراپ ختم ہونے کے بعد وقار احمد منال کو لے کر گھر آ گئے ۔
منال کے سر پر پٹی بندھی دیکھ کر آسیہ فورن دوڑ کر پاس آئے اور منال کو گلے سے لگا کر پیار دیا اور بولی کے یہ سب کیسے ہوا ہے تم ٹھیک تو ہو نا ۔۔۔۔
آسیہ بیگم کو سوال کرتے دیکھ کر وقاراحمد بولے کہ منال کو اندر تو جانے دو اب یہ ٹھیک ہے تم جاؤ منال کے لیے ٹھنڈا ہو جوس لے کر آؤ ۔۔۔۔
وقار احمد منال کو لے کر اس کے روم میں آ گئے اتنے میں آسیہ بی جوس لے کر آگئی اور منال کو پینے کے لئے دیا ۔۔۔
اور بیٹی کے پاس ہی بیٹھ گئی اور اس سے پوچھنے لگیں تو منال نے مختصر ان کو سب بتا دیا اور کہا امی آپ پریشان نہ ہوں میں اب ٹھیک ہوں ۔۔۔۔۔
آسیہ تھوڑی دیر پاس بیٹھ کر اس سے پوچھتی رہی پھر اٹھ کر اس کے لیے دلیہ بنانے چلی گئی تاکہ اس کو میڈیسن
دے پھر ۔۔۔۔۔
وقار احمد بی تھوڑی دیر بیٹھ کر نماز پڑھنے چلے گئے
آسیہ دلیہ بنا کر لائی اور منال کو دلیہ کھلانے کے بعد دوائی دے کر اسے آرام کرنے کا بول کر خود نماز پڑھنےچلی گئی۔۔۔
منال کو میڈیسن کھانے کی وجہ سے نیند آنے لگی تو وہ سوگئی
*******************************
منال جب سو کر اٹھیں تو چاچو کی فیملی آئی ہوئی تھی ان تک بھی منال کی ایکسیڈنٹ کی خبر پہنچ چکی تھی منال کو اٹھتا دیکھ کر اسی کے پاس سارے چلے آئے اور حال احوال پوچھنے لگے ۔۔۔۔
رومان نہیں آیا تھا
وہ شہر گیا ہوا تھا کسی کام سے ۔۔۔۔۔
دو دن بعد رومان کی واپسی ہوئی تو اس کو پتہ چلا تو وہ فورا منال کے گھر آیا اور ڈانٹا اسے کے دھیان کدھر تھا تمہارا دھیان سے روڈ کراس نہیں کرسکتی تھی ۔۔۔۔۔اگر تمہیں کچھ ہو جاتا تو میں کیا کرتا
منال اس کے لہجے کی فکر دیکھ کر بولی میں اب بالکل ٹھیک ہوں پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے
تم پریشان مت ہو
رومان تھوڑی دیر پاس بیٹھا رہا اور باتیں کرتا رہا پھر کسی کام کا کہ کر چلا گیا
مشعل اور علی کو پتا چلا تو وہ بھی منال کا پتہ کرنے آئے ہو مشعل ایک رات رہ کر واپس چلی گئی
منال ایک ہفتے تک بیڈ ریسٹ پر رہی پھر آہستہ آہستہ وہ اٹھ کر گھر کے کاموں میں حصہ لینے لگی اس کے پیپر بھی نزدیک تھے اور وہ پڑھائی میں مگن ہوگی
منال کے پیپر شروع ہوگئے وہ مکمل طور پر پڑھائی کی ہو کر رہ گئی نہ کھانے کا ہوش تھا نہ پینے کا
جس دن منال کا آخری پیپر تھا اس دن منال نے شکر ادا کیا اس کا ارادہ گھر آ کر خوب نیند پوری کرنے کا تھا
لیکن وہ اس بات سے بے خبر تھی کہ اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے
****************************
منال پیپر دے کر سینٹر سے باہر آئیں تو وہ ر کشے کی تلاش میں آگے پیچھے نظر دوڑ آنے لگی ۔۔۔۔۔
ایک رکشہ اس کے پاس آ کر رکا تو وہ اس میں سوار ہوگئی
رکشا چلنے لگا تھوڑی دور جا کر رکشہ ایک دم رک گیا
منال کہ پوچھنے پر رکشے والے نے بتایا کہ ٹائر پنچر ہو گیا ہے جس کی وجہ سے رکا ہے تھوڑی دیر آپ کو انتظار کرنا پڑے گا میں تب تک ٹائر بدل لوں ۔۔۔۔۔
منال کا موڈ ایک دم خراب ہوگیا ۔۔اور وہ پوچھنے لگی کہ کتنا انتظار کرنا پڑے گا
تبھی وہ بولا کہ تقریبا پندرہ بیس منٹ لگ جائیں گے آپ آرام سے یہاں درخت کے نیچے سائے میں بیٹھ جائیں میں تک ٹائر بدل لیتا ہوں ۔۔
منال رکشے سے نکل کر درخت کے سائے کے نیچے بیٹھ گئی رکشے والا کسی کو فون کرنے لگا اور کچھ بولنے لگا ۔۔۔۔
پانچ منٹ کے بعد وہ منال کے پاس آیا اور بولا آپ تھوڑی دیر یہاں انتظار کریں مجھے ٹائر لے کر یہاں پاس میں پنچر والی دکان ہے وہاں سے پنچر لگوا نے جانا پڑے گا ۔۔۔
منال اچھا کہتی کھڑی ہو گئی اور بولی اگر اس دوران کوئی رکشے والا آگیا تو میں چلی جاؤں گی اور اگر نہ آیا تو میں یہاں انتظار کر لوں گی ۔۔۔۔
رکشے والا اچھا باجی کہتا چلا گیا ۔۔۔۔۔
منال اپنے دھیان میں کھڑی تھی اسے پتہ بھی نہیں چلااور کوئی آرام سے چلتا ہوا اس کے پاس آیا اور رو مال اس کے ناک پر رکھ دیا ۔۔۔۔۔
منال نے چیخنا چاہا لیکن اس کے حواس کام کرنا چھوڑ گئے اور وہ بے ہوش ہو گئی ۔۔۔۔
*************************
منال کو جب ہوش آیا تو خود کو ایک اندھیری کوٹھڑی میں بند پایا پہلے تو منال سمجھ نہ پائیںکے وہ کہاں ہے لیکن جب حواس بیدار ہوئے تو ذہن نے کام کرنا شروع کیا اور اس کو سب یاد آتا گیا ۔۔۔۔
منال کے ہاتھ رسی سے بندھے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔۔
منال اونچی اونچی آواز میں بولنے لگی کوئی ہے میری مدد کرو کوئی ہے یہاں پلیز میری مدد کرو نکالو یہاں سے مجھے ۔۔۔۔۔۔۔
منل کی اونچی اونچی آواز سن کر باہر سے دروازہ کھلنے کی آواز آئی تومنال ایک دم چپ ہو گئی ۔۔۔۔
اندر داخل ہونے والی ایک عورت تھی جس کے ہاتھ میں پانی کا گلاس تھا وہ چلتی ہوئی
منال کے پاس آئی اور بولی کیا ہے کیوں اتنا شور مچایا ہوا ہے چپ کر کے بیٹھ جاؤ ورنہ اچھا نہیں ہو گا
منال بولی کون ہو تم اور مجھے کس لئے یہاں پر بند کیا ہے مجھے جانے دو ۔۔۔
وہ عورت بولی ہمیں حکم نہیں ہے تمہیں کچھ بتانے کا اس لیے چپ کر کے یہاں پر بیٹھی رہوں زیادہ شور کیا تو اچھا نہیں ہو گا ۔۔
وہ عورت اتنا کہہ کر دوبارہ باہر چلی گئی اور دروازہ بند کر دیا اور وہاں پھر اندھیرا چھا گیا ۔۔۔۔۔۔۔
منال بابا اور امی کو یاد کر کے رونے لگی ہوں بہت پریشان تھی کہ وہ کس مصیبت میں پھنس گئی ہے ۔۔۔۔۔۔
وہ یہاں سے نکلنا چاہتی تھی لیکن اس کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔
________________
شام ہونے والی تھی لیکن منال ابھی تک گھر واپس لوٹ کر نہیں آئی تھی ۔۔
آسیہ بیگم پریشان ہو گئی تھی
کیوں کہ پیپر دینے کے بعد میں منال ایک بجے تک گھر واپس آ جاتی تھی اور اب شام کے پانچ ہو گئے تھے لیکن اس کا کچھ پتہ نہیں تھا
وقار احمد بھی گھر پر نھیں تھے
آسیہ نے کہیں بار وقار کے نمبر پر کال کی لیکن ان کا نمبر مسلسل بند جا رہا تھا ۔۔۔
فکر اور پریشانی سے آسیہ کا برا حال ہو رہا تھا ۔۔۔
تنگ آ کرآسیہ خود ہی باہر نکل گئی اور آگے پیچھے دیکھتے ہوئے روڈ تک آئ ۔۔۔
وقار کسی کام کے سلسلے میں کچہری گئے ہوئے تھے ۔۔۔ ۔
روڈ پر گاڑیاں آ جا رہی تھی ۔۔۔۔
تبھی وقار احمد کا موٹر سائیکل نظر آیا
وہ آسیہ کو روڈ کے پاس کھڑا دیکھ چکے تھے ۔۔۔پاس آ کر بولے خیریت ہے یہاں کیوں کھڑی ہو ۔۔۔
کوئی کام تھا کیا ۔۔۔
آسیہ وقار کو دیکھ کر بالکل ہمّت ہار گئی اور مزید رونے لگی ۔۔۔۔
کیا ہوا ہے آسیہ ایسے کیوں رو رہی ہو گھر میں سب خیریت ہے نہ ۔۔۔۔کچھ ہوا تو نہیں۔ ۔وقار فکر مندی سے بولے ۔۔۔۔
خیریت نہیں ہے وقار ۔۔۔۔ہم برباد ہو گئے ہیں ۔۔۔
آپ گھر چلیں سب بتاتی ہوں ۔۔۔۔
کہنے کے ساتھ وہ بائیک پر بیٹھ گئی ۔۔
گھر انے کے بعد آسیہ نے انہیں منال کا بتایا کے وہ ابھی تک گھر نہیں آئ پانچ ہو گئے ہیں ۔۔۔
وقار احمد ایک دم پریشان ہو گئے اور بولے کہاں جا سکتی ہے وہ ۔۔۔۔
تمہیں کچھ بتایا تو ہو شائد کسی دوست کے گھر چلی گئی ہو ۔۔۔
وقار اس کی زیادہ دوستیں نہیں ہیں ۔۔
اور جو ہیں انہیں کال کر کے پوچھا ہے وہاں بھی نہیں ہے ۔۔۔
سدرہ سے پوچھ کے آئ ہوں بہانے سے وہ بھی یہی کہ رہی تھی پیپر دینے کے بعد میں آ گئی ۔۔۔
منال وہیں رکشے کا انتظار کرنے لگی تھی ۔۔۔
وقار کی پریشانی میں اضافہ ہو گیا ۔۔۔اور بولے پریشان نہ ہو میں جا کے پتا کرتا ہوں ۔۔۔۔اس کے سینٹر ۔۔۔
وقار احمد پریشانی سے باہر نکل گئے اور بائیک تیز ہوا سے باتیں کرنے لگی ۔۔وقار کو جلدی تھی کالج پہنچے کی ۔۔۔۔
چوکی دار دروازے پر موجود تھا وقار اس کے پاس گئے اور سلام کیا ۔۔
وقار اس کو منال کی تصویر دکھاتے ہوے پوچھنے لگا ۔۔۔۔
یہاں پر اتنی لڑکیاں آئ تھی اب ہم کو کیا پتا یہ لڑکی کون ہے ۔۔۔کہاں گئی ہے ہم نہیں جانتا ۔۔۔خان وقار کو بتاتے ہوے بولا ۔۔۔
اور ویسے بھی اب ساری لڑکیاں چلی گئی ہیں اندر بس تین لڑکیاں موجود ہیں ان کو لینے کوئی نہیں آیا ابھی تک ۔۔۔۔
خان کیا میں دیکھ سکتا ہوں ان کو ۔۔۔وقار کے لہجے میں بےبسی تھی ۔۔
ہاں دیکھ لو ۔۔۔خان بولا
وقار جلدی سے اندر آے اور بینچ پر بیٹھی لڑکیوں کے پاس چلے گئے خان بھی ساتھ ہی تھا ۔
ان لڑکیوں میں سے ایک نے برقع پہن رکھا تھا اور دو برقے کے بغیر دوپٹے میں تھی ۔۔۔
وقار پاس آے انہیں مایوسی ہوئی سخت کیوں کے منال وہاں موجود نہیں تھی ۔۔۔۔خان کو نفی میں سر ہلا کر بتایا اور سر جھکا کر چلے گئے ۔ .
وقار سخت پریشانی کے عالم میں باہر نکلے وہ کچھ سمجھ نہیں آرہے تھے کہ وہ اب کیا کریں۔۔
بائیک اسٹارٹ کر کے وہ گھر کی طرف روانہ ہوگئی
*****************************
رونے کی وجہ سے منال کا حلق خشک ہو گیا تھا
پانی کا مٹکا پڑا ہوا تھا لیکن منال کے ہاتھ اور پاؤں بندھے ہوئے تھے وہ کرسی سے اٹھ نہیں پا رہی تھی ۔۔
منال نہیں جانتی اسے یہاں آئے کتنا وقت گزر چکا ہے
منال کو بابا اور امی کی بہت یاد آرہی تھی اور وہ ان کے لئے سخت پریشان تھی
منال کو نہ پا کر اس کی امی اور بابا کی کیا حالت ہوئی ہو گی ۔۔۔
منال بے بسی سے اپنے بندے ہاتھوں کو دیکھنے لگی اور چیخنے لگی
کھولو مجھے کیوں بند کیا ہے مجھے ۔۔۔
چیخنے اور چلانے کی وجہ سے منال کی رہی سہی ہمت بھی جواب دے گی ۔۔۔۔اور اب وہ بے حال ہو چکی تھی ۔۔
صبح پیپر کی فکر کی وجہ سے منال ٹھیک سے ناشتہ بھی نہیں کر پائی تھیں اور اب بھوک پیاس سے اس کا برا حال تھا۔۔۔۔
اللہ سے دعا کرنے لگی یا اللہ مجھے بچا رحم کر ۔۔۔
میرے بابا کو مجھ تک پونچھا دے ۔۔۔۔پلیز اللہ رحم کر میری فریاد سن لے ۔۔۔
اچآنک دروازہ کھلنے کی آوازآئ ۔۔۔
اور کمرے میں روشنی کی ایک ہلکی سی روشنی پیدا ہوئی
اور کوئی دروازے سے اندر داخل ہوا ۔۔..
داخل ہونے والا اس دفع عورت نہیں کوئی مرد تھا ۔۔۔۔
موبائل فون پر کسی سے بات کرتا ہوا ۔۔۔۔موبائل کا بیک کیمرہ آ ن کر کے اس نے منال پر کیمرہ مارا اور بولا ۔۔۔۔
جیسا تو نے کہا تھا ویسا ہی کام ہوا ہے کسی کو شک نہیں ہوا ۔۔۔۔
نگرانی پوری ہو رہی ہے ۔۔۔
اگے سے نجانے اس نے کیا کہا جس پر کمر ے میں اس لڑکے کا قہقہ گونجا۔ ۔۔۔
اور یہ اگے سے بولا ۔۔۔۔آ کے خود دیکھ لینا میرا کام تھا حکم کی تعمیل کرنا ۔۔۔۔۔
تسلی ہو گئی ہے تو فون رکھ دوں اور بھی کام ہے ۔۔۔
کل تو آ کے خود دیکھ لینا سب آنکھوں سے ۔۔۔۔۔
کہنے کے ساتھ اس نے فون بند کر دیا ۔۔۔۔اور چلتا ہوا منال کے پاس آیا ۔۔
منال نے اسے پاس آتا دیکھ کر خوف سے آنکھیں بند کر لی ۔۔۔اور دل میں ورد کرنے لگی ۔۔۔
نہ نہ ڈرو مت ۔۔۔۔کچھ نہیں کہوں گا میں ۔۔۔
منال کو ڈرتا دیکھ کر بولا ۔۔۔۔
کون ہو تم کیوں بند کیا ہے مجھے ۔۔۔۔منال بولی
مجھے گھر جانا ہے کھولو مجھے منال ہاتھ اور بازو پر بندھی رسی کھو لنے کی کوشیش کرنے لگی ۔۔۔۔
کوئی فائدہ نہیں تم سے نہیں کھلے گی کیوں خود کو تھکا رہی ہو سویٹی ۔۔۔
منال نے اس کے سویٹی کہنے پر اسے غصے سے اسے دیکھا ۔
اور بولی مجھے کھولو میرے بابا انتظار کر رہے ہوں گے پلیز جانے دو ۔۔منال بےبسی سے روتے ہوے بولی ۔۔۔۔
سوری نے تم کہیں نہیں جا سکتی اب یہی رہو گی ہمیشہ بھول جاؤ گھر جانے کا خواب ۔۔۔۔۔۔وہ لڑکا بولا ۔۔
کس لئے بند کیا ہے مجھےمیرا قصور کیا ہے ۔۔۔۔چھوڑ دو مجھے پلیز ۔۔۔
منال منت کرتے ہوے بولی ….
اتنے میں وہی عورت دوبارہ آئ اس کے ہاتھ میں کھانے کی ٹرے تھی وہ خاموشی سے رکھ کے چلی گئی ۔۔۔۔۔
چلو کھانا آ گیا ہے کھاؤ شاباش ۔۔۔۔
وہ منال کے ہاتھ کھولتے ہوے بولا ۔۔۔۔
نہیں کھانا مجھے لے جاؤ ۔۔۔۔۔۔
منال نفرت سے بولی ۔۔۔۔
کھانا تو پڑے گا چا ہے خوشی سے کھاؤ یہ نہ کھاؤ وہ روٹی کا نوالہ بنا کر منال کے منہ میں ڈالنے لگا ۔۔۔۔۔۔۔منال نے غصے
سے ہاتھ مار کر گرا دیا اور چیخ کے بولی ایک دفع کہا ہے نہیں تو مطلب نہیں لے جاؤ یہاں سے ۔۔۔مجھے مرنا منظور ہے لیکن تم لوگوں کا کھانا نہیں کھاؤں گی ۔۔۔۔
سامنے بیٹھا شخص غصے میں آ آگیا اور بولا چپ کر کے عزت سے کھاؤ ورنہ اچھا نہیں ہو گا ۔۔یہ جو خوبصورت چہرہ ہے بگاڑ دوں گا کہیں منہ دیکھا نے نہیں چھوڑوں گا سمجھی تم ۔۔۔۔۔
اب عزت سے کھاؤ ۔۔۔۔۔
نہیں کھاؤں گی لے جاؤ یہاں سے ۔۔،۔منال بولی ۔
اس سے زیادہ برا کیا ہو گا میرے ساتھ مزید اب ۔۔۔۔
منال کو ضد میں دیکھ کر بولا ۔۔۔۔ٹھیک ہے نہ کھاؤ نتائج کی ذمہ دار اب تم خود ہو کہتا وہ کھڑاہوا اور منال کی طرف بڑا ۔۔۔۔۔
منال اسے قریب آتا دیکھ سمٹ کر بیٹھ گئی ۔۔۔وہ قریب آ کر رک گیا اور ہاتھ منال کے چہرے پر پھیرنے لگا ۔۔۔اور بولا اب بتاؤ کیا ارادہ ہے کھانا کھاؤ گی ۔۔۔یا نہیں
منال نے اس کا ہاتھ اپنے چہرے سے جھٹک کر بولی دور ہٹو اور اب ہاتھ نہ لگانا مجھے ۔۔۔۔۔بھوک کے با و جود وہ نہیں کھا رہی تھی ۔۔۔
اگر تم چاہتی ہو ہاتھ نہ لگاؤں تو چپ کر کے کھاؤ ۔۔
منال بےبسی سے روتے ہوے سامنے رکھا کھانا کھانے لگی ۔
***************************
آپ کیوں کچھ نہیں کر رہے ہیں ابھی تک منال
کا کچھ پتا نہیں چلا
آسیہ بیگم روتی ہوئے بولی ۔۔۔
ہر جگہ میں تلاش کر کے آیا ہوں پولیس تک خبر اگر پہنچ گئی تو بدنامی ہماری بیٹی کی ہوگی کچھ سمجھ نہیں آ رہا کیا کروں میں ۔۔۔۔
کہاں تلاش کروں ۔۔۔وقار خود سخت پریشان تھے ۔۔۔۔
بیٹی کا معملہ تھا ۔۔۔۔
شام سے رات ہو گئی تھی وقار علا قے میں موجودسارے ہوسپٹل میں بھی پتا کر آے تھے کہیں پتا نہ چلا ۔۔
وہ خود پریشان تھے آخر کہاں گئی منال ۔۔۔۔دعا کررہے تھے دل میں وہ خیریت سے ہو جہاں بھی ہو
آسیہ اداس بیٹھی ہوئی تھی ۔۔۔وقار پاس آکر بیٹھ گئے اور بولے آسیہ تم پریشان نہ ہو ہمیں اپنی بیٹی پر پورا یقین ہے وہ کبھی کوئی غلط کام نہیں کر سکتی ضرور وہ کسی مصیبت میں پھنس گئی ہو گی ۔۔۔۔
اٹھو تم نفل پڑھو اور اللہ سے دعا کرو کہ وہ ہماری بیٹی کی حفاظت کرے ۔۔۔۔
میں ذرا فیاض کی طرف جا رہا ہوں کیوں کہ علاقے کا اے ایس پی حماد اس کا دوست ہے ۔۔۔۔
اب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا ہم نے اپنی کوشش کر کے دیکھ لی ۔۔۔ہر جگہ ڈھونڈ ا نہیں ملی ۔۔
کہنے کے ساتھ وہ بائیک لے کر باہر نکل گئے ۔
جاری ہے
