Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer NovelR50758 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode13
No Download Link
581.2K
29
Rate this Novel
Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode01 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode02 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode03 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode04 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode05 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode07 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode08 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode09 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode10 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode11 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode12 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode13 (Watching)Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode14 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode15 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode16 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode17 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode18 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode19 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode20 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode21 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode22 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode24 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode25 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode26 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode27 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode28 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Last Episode Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode23 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode06
Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode13
Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode13
اوےُ تو اتنی دیر سے کھڑا اس کے ساتھ کیا باتیں کر رہا تھا
عمیر شاہ ویز کے پاس واپس آیا جو کاؤنٹر پر کھڑا دوائیوں کے پیسے دے رہا تھا
اور وہ بھی ہنس ہنس کے ایسا لگا جیسے دونو ں جانتے ہوں ایک دوسرے کو
کچھ نہیں بس ایسے ہی ۔عمیر بات کو گول مول کر گیا
لیکن جو بھی ہے
ہے بہت بدتمیز لڑکی بات کرنے کی تمیز بالکل نہیں ہے اس میں شاہ ویز کو ایک بار پھر اس کا سوچ کر غصہ آگیا
ہاں تو جیسے تو نے اس کے ساتھ بڑا اچھا کیا ہے لڑکی ذات تھی اسی کا تھوڑا سا خیال کرلیتا تو بھی
تجھے پتا نہیں کیوں لڑکیوں سے اتنی چڑ ہے کل کو تیری شادی ہو گئی تو پھر کیا کرے گا ۔عمیر بولا
یار لازمی تو نہیں انسان شادی کرے شادی کے بغیر بھی انسان کی لائف بہت اچھے سے گزر سکتی ہے ۔شاہ ویز بولا
اور دونو ں باہر نکل آے اور گاڑی میں بیٹھ گئے ۔۔۔
اگر تو شادی نہیں کرنا چاہتا تو پھر وہ مدیحہ والا کیا چکر ہے اس کے ساتھ گھومنا پھرنا اور ٹائم سپینڈ کرنا ۔۔۔عمیر نے شاہ ویز کی طرف دیکھتے ہوے پوچھا
شاہ ویز گاڑی چلا رہا تھا ۔یار تو تو جانتا ہے وہ سراسر میری موم کی خواہش ہے کہ میں اس سے ملوں اور ٹائم سپینڈ کروں تاکہ ہم دونوں کی انڈرسٹینڈنگ ہو جائیں اور ہم ایک دوسرے کے قریب آ سکے ۔۔۔
لیکن یار ایک بات بتاؤں میں جب بھی اس سے ملا ہوں مجھے وہ کچھ عجیب سی لگی ہے ۔۔۔
کیا مطلب عجیب سی لگی عمیر بولا
کیا تجھے وہ انسان نہیں لگتی یا پھر وہ کسی اور پلانٹ کی مخلوق لگتی ہے تجھے
پتا نہیں لیکن ایسا کچھ ضرور ہے جو کہیں نہ کہیں مس ہو رہا ہے اب وہ کیا ہے یہ تو وقت آنے پر ہی پتہ چلے گا ۔۔
خیر چھوڑ ان باتوں کو تو بتا کہاں اتارو تجھے میرے گھر چلے گا یا پھر تجھے تیرے گھر ڈراپ کر دوں ۔۔۔شاہ ویز نے عمیر سے پوچھا
نہیں یار تو مجھے میرے گھر پر اتار دے میں گھر جاؤں گا تھوڑی دیر ریسٹ کروں گا اس کے بعد اکیڈمی بھی جانا ہے ۔۔
اوکے جیسے تیری مرضی ۔۔۔
****************************
ماضی
منال نے کالج جانا شرو ع کیا تو آسیہ نے شکر کا سانس لیا کیوں کہ وہ خود چاہتی تھی منال کا دھیان باپ کی موت کی طرف سے ہٹ جائے وہ اپنی زندگی میں کچھ دل چسپی لے
رومان اور وقار سے وہ زیادہ اٹیچ تھی اور دونو ں ہی اس سے بچھڑ گئے تھے اس کو سمبھلنے میں بہت وقت لگنا تھا
کالج میں بھی وہ زیادہ وقت چپ چاپ گزارا دیتی ۔۔ اپنے کام سے کام رکھتی کوئی بلاتا تو جواب دے دیتی
ہنسنا تو اس نے بالکل ہی چھوڑ دیا تھا چھوٹی چھوٹی باتوں میں اس کو اپنے بابا کی یاد آنے لگتی ۔۔۔
ابھی بھی وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئی اور سورۃ یاسین لے کر بیٹھ کر پڑھنے لگیں ۔۔
ابھی وہ سورۃ یاسین پڑھ کر فارغ ہوئی اور اپنے بابا کے لئے دعا کر رہی تھی سے آسیہ کی آواز سنائی دی جو منال کو بلا رہی تھی ۔۔
منال منال جلدی اؤ دیکھو ابو جی اٹھ نہیں رہے ۔۔
منال کی ٹانگیں کانپنے لگ پڑیں اور یا اللہ خیر کہتی اٹھی اور باہر کی طرف بھاگی ۔۔۔
سامنے بیڈ پر سرمد صاحب لیٹے ہوے تھے اور آسیہ ان کو جگانے کی کوشش کر رہی تھی لیکن ان کے جسم میں کوئی حرکت نہیں ہو رہی تھی ۔۔۔۔
منال جلدی جلدی ان کے پاس پہنچی اور ان کو جگانے کی کوشش کی لیکن وہ اٹھ نہیں پائے تو فورا ایمبولنس کو کال کر کے بلایا
اور ہسپتال لے گئے سارے راستے منال اور آسیہ دعا ںُیں مانگتی رہے وہ اتنی جلدی باپ جیسے سسر کو کھونا نہیں چاہتی تھی ان کے اپنے ماں باپ تو کافی عرصہ پہلے یہ دنیا چھوڑ کر جا چکے تھے ۔۔۔وقار کے بعد یہ واحد ان کا سہارا تھا جسے وہ کھونے سے ڈر رہی تھی ۔۔۔۔
ابھی وقار کی موت کو پانچ مہینے ہی ہوئے تھے
ہسپتال پہنچ کر سرمد صاحب کو سیدھا ایمرجنسی روم میں لے جایا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
آسیہ اور منال ڈر رہی تھی نہ جانے اب کیا ہوگا ۔۔۔
منال امریکہ کال کر رہی تھی لیکن آگے سے کوئی کال رسیو نہیں کر رہا تھا
امی میں کب سے کال کر رہی ہوں لیکن آگے سے کوئی کال نہیں اٹھا رہا ۔۔۔۔
اچھا تم ایسا کرو فیاض کو کال کرو اور اسے بتاؤ کے اباجی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے فورا آجائیں وہ ۔۔۔آسیہ بولی
لیکن امی ۔۔
منال بیٹا یہ وقت ایسا نہیں ہے کہ ہم پرانی باتیں لے کر بیٹھے رہیں فیاض ان کا بیٹا ہے اور ہمارا فرض بنتا ہےاسے ابو کی حالت کی اطلاع دی جائے ۔ ۔تم بس کال کر کے اپنا فرض پورا کر دو
جی امی کہہ کر منا ل فون لے کے ایک سائیڈ پر چلی گئی اور فیاض چاچو کو کال کرنے لگیں ۔۔۔۔
کال اٹھانے پر منال نے ساری صورتحال ان کو بتا دیں اور آنے کا کہہ دیا ۔۔۔۔
منال کال کرکے واپس آئی تو ڈاکٹر کو ایمرجنسی روم سے باہر آتے دیکھ کر ان کے پاس پہنچ گئی اور پوچھنے لگی
اب کیسے ہیں دادا جان ۔۔۔۔وہ ٹھیک تو ہو جائیں گے نہ کوئی پریشانی والی بات تو نہیں ہے نہ ۔۔۔
آپ بس دعا کریں فی الحال ہم کچھ نہیں کہہ سکتے ان کے کچھ ٹیسٹ کیے ہیں ان کی رپورٹ آنے کے بعد ہی اصل بات پتہ چل سکے گی ۔۔۔۔
کیا میں انہیں دیکھ سکتی ہوں
فی الحال انھیں کوئی نہیں دیکھ سکتا ۔کیوں کہ وہ بے ہوش ہے جب ہوش آیا تب آپ ان سے مل سکتی ہیں ۔۔۔
آپ بس دعا کریں ان کے لیے
ایکسکیوز می کہ کر ڈاکٹر چلاگیا۔۔۔۔۔
منال امی کے پاس جا کر بیٹھ گئی اور دعائیں کرنے لگیں
چا ر گھنٹے بعد
یہ چار گھنٹے بہت مشکل سے آسیہ اور منال نے ہاسپٹل گزارے تھے فیاض احمد پہنچ چکے تھے اور ڈاکٹر سے مل چکے تھے
سرمد صاحب ہوش میں آ چکے تھے اور سب کو اپنے لئے پریشان دیکھ کر ان سب کو وہ حوصلہ دینے لگے کہ آپ لوگ پریشان نہ ہوں میں ٹھیک ہوں ۔۔۔۔۔
کیسے پریشان نہ ہو ابا جان آپ نے تو ہماری جان نکال دی تھی ۔۔۔فیاض ان کے ہاتھ چومتے ہوئے بولے
بس بیٹا عمر کا تقاضہ ہے اب وہ پہلے جیسی بات کہاں جب سے وقار کی موت ہوئی ہے مجھے اپنی زندگی سے پیار ہی نہیں رہا میں تو بس وقار کی بیوی اور بچیوں کے لیے جی رہا ہوں ۔۔۔۔۔
ابو جی آپ ایسی باتیں کیوں کر رہے ہو ابھی ہمیں آپ کی بہت ضرورت ہے آسیہ آنکھوں میں آئے آنسو صاف کرتے ہوئے بولی ۔۔۔۔۔
اب کیسی طبیعت ہے بابا جی آپ کی ڈاکٹر ان کا بی پی چیک کرتی ہوئے بولا ۔
بیٹا اب پہلے سے بہتر ہو
ڈاکٹر آسیہ کو کچھ ہدایت دیتے ہوئے روم سے باہر چلے گئے اور فیاض کو اپنے ساتھ آنے کا کہا
رپورٹ آگئی تھی اور رپورٹ کے مطابق سرمد صاحب کی حالت بہت سیریس تھی ۔۔۔
فیاض ڈاکٹر کے کہنے پر ان کے روم میں چلے آے ۔
دیکھیے جو بات میں آپ کو بتانے لگا ہوں آپ کو بہت صبر
ا ور حوصلے سے سننی ہوگی ۔۔آپ کے والد صاحب کی رپورٹ آچکی ہے اور رپورٹ کے مطابق ۔۔۔
ان کے پاس زیادہ ٹائم نہیں ہے مجھے بہت افسوس ہے ہم چاہ کر بھی کچھ نہیں کر سکتے
کیا مطلب ہے آپ کا میں کچھ سمجھا نہیں فیاض بولے ۔۔۔
انھیں کینسر ہے لاسٹ اسٹیج پر ہے زیادہ سے زیادہ چھ ماہ اور کم سے کم چار ماہ تک ہی زندہ رہ پائیں گے۔۔۔۔
مجھے بہت افسوس ہے ڈاکٹر ان کے کندھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولے ۔۔اور باہر چلے گئے
فیاض احمد کے لئے اپنے پیروں پر کھڑا ہونا مشکل ہو گیا
وہ رو رہے تھے ۔۔۔
فیاض نے بھابی کو بتا دیا جس کو سن کر وہ رونے لگی اور بولی ایسے کیسے ہو سکتا ہے وہ تو بالکل ٹھیک تھے
بس بھابی اللہ کی مرضی انسان کیا کر سکتا ہے ۔۔۔
بس ہمیں یہ بات ابا جی سے چھپانی ہو گی انھیں پتا نہ چلے ۔۔۔۔۔
اور ہم سے جو ہو سکا ان کے علاج کے لئے ہم کریں گے فیاض بولے
دو دن بعد سرمد صاحب کو ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا
یہ دو دن ہسپتال میں آسیہ نے خود پر بہت ضبط کرتے ہوئے گزارے
گھر آ کر بھی آسیہ نے ان کی خدمت میں کوئی کسر نہ چھوڑی
وہ مسلسل ان کا علاج کروا رہی تھی علی سے بات کر کے انہوں نے اپنا گھر بیچنے کے لئے کہا
اس بات کا جب فیاض احمد کو علم ہوا تو انہوں نے ایسا کرنے سے انہیں منع کردیا اور کہا کے میں ہوں آپ پریشان نہ ہوں ۔۔
لیکن آسیہ نے انھیں یہ کہ کر خاموش کروا دیا کے میں وقار کا فرض ادا کررہی ہوں اگر وہ زندہ ہوتے تو خود علاج کروتے اب وہ زندہ نہیں ہے تو میرا فرض بنتا ہے آپ پلیز مجھے منع کرے ۔آسیہ روتے ہوے بولی
بھی ہمیں ابوجی کی بہت ضرورت ہے مجھے اور میری بیٹیوں کو ۔۔۔۔۔ان کا سایہ بہت ضروری ہے ہمارے لئے اگر ان کو کچھ ہو گیا تو ہمارا کیا ہو گا ۔۔۔۔
ان باتوں کے باوجود فیاض نے سمجھایا ۔لیکن وہ نہ مانی اور اپنی مرضی کر کےچھوڑی
اور گھر بیچ دیا اور ابو جی کا علاج کروانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی
اور خود ایک کرائے کے گھر میں شفٹ ہو گئے ایک سال کا انہوں نے گھر کا ایڈوانس جمع کروا دیا تھا اور باقی رقم بینک میں جمع کروا دی تھی
جس سے علاج ہو رہا تھا ۔۔۔۔
سرمد صاحب سے اصل بات چھپائی گئ کہ گھر کیوں بیچا گیا انہیں یہ کہا گیا کہ گھر کے لئے تھوڑی بہت مرمت کروانی ہے اس لیے دوسری جگہ پر کچھ عرصے کے لیے شفٹ ہوے ہیں
سرمد صاحب کا مسلسل علاج ہونے کی وجہ سے طبیعت اب بہتر ہو گئی تھی
لیکن ڈاکٹر کوئی بھی امید کی کرن نہیں دکھا رہے تھے
منال نے شروع میں ایک دو دن کی چھٹی کی اس کے بعد وہ کالج جانا شرو ع ہو گی دوبارہ کیوں کے منتھلی ٹیسٹ ہونے والے تھے ۔۔۔۔
آسیہ دن رات اپنے سسر کی خدمت میں لگی ہوئی تھی
ان کا ہر طرح سے خیال رکھتی فیاض بھی ہفتے میں ایک دن چکر لگا کر انکی حالت دیکھ جاتے
*************************
ردا اسکول جا رہی تھی وہ شروع سے ہی پڑھائی میں لائق تھی اسے کسی ٹیوشن کی ضرورت نہیں تھی
منال نے بھی محلے کے بچوں کو ٹیوشن پڑھا نا شروع کر دیا تھا اور اپنی پڑھائی کا خرچا اٹھا لیا
سرمد صاحب کی طبیعت ایک دن اچانک بگڑ گئی اور ہسپتال لے جانے کی نوبت آنے سے پہلے ہی وہ انتقال کر گئے ایک دفعہ پھر اس گھر میں قیامت آئ تھی آسیہ اور اس کی بچیاں بے سہارا ہو گئی تھی ان کے سر سے شفقت کا ہاتھ اٹھ گیا تھا
سرمد صاحب کی خواہش کے مطابق ان کو ان کے آبائی گاؤں میں دفن کیا گیا ۔۔۔۔
سرمد صاحب کے انتقال کے بعد کچھ عرصے تک فیاض احمد اپنی بھابھی اور ان کی بچیوں کی خبر گیری کے لیے آتے رھے لیکن پھر وقت کے ساتھ انہوں نے بھی آنا چھوڑ دیں
آسیہ نے منال اور ردا کی شادی کے لیے باقی پیسے بینک میں جمع رہنے دیے تاکہ آگے مشکل وقت میں ان کو کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانے پڑیں ۔۔۔۔
منال نے بی ا یس سی کے بعد کالج کو خیر آباد کہہ دیا اور ایک پرائیویٹ سکول میں نوکری کرنے لگیں ۔۔۔۔۔۔
آسیہ نے بہت سمجھایا کے پہلے اپنی پڑھائی مکمل کر لوں اس کے بعد تم نوکری کر لینا لیکن منال نے یہ کہہ کر انہیں خاموش کروا دیا کہ ابھی میرا مزید پڑھنے کو دل نہیں ہے کچھ عرصے بعد میں دوبارہ پرائیویٹ پڑھائی اسٹارٹ کر دوں گی ابھی مجھے نوکری کرنے دیں تا کے میں گھر کا نظام چلا سکوں آپ کے ساتھ مل کر
آسیہ نے لوگوں کے کپڑے سلائی کرنا شروع کر دیے تھے تاکہ گھر کا نظام چلتا رہے
*************************
ان چار سالوں میں منال کیلئےکافی جگہوں سے رشتے آئے لیکن ہر بار منال نے انکار کر دیا اور کہہ دیا کہ مجھے فلحال شادی نہیں کرنی ۔۔
آسیہ ہر بار اسے سمجھا تی لیکن وہ اپنی ضد پر قائم رہتی
ابھی بھی مشعل نے . اپنے دیور عمر کے لئے منال کے لئے بات کی تھی لیکن منال کو جب اپنی امی سے پتہ چلا تو اس نے فوراً انکار کردیا اور کہا کہ مجھے عمر بالکل نہیں پسند اور میں ویسے بھی ابھی شادی نہیں کرنا چاہتی آپ پلیز امی مجھے مجبور مت کریں ۔۔۔
**********************
عائشہ دو دن کے لیے پاکستان آئی تھیں باپ کے چالیسویں پر اور فیاض احمد کے گھر پر ہی رکی تھی وہ باپ کے انتقال پر نہ آ سکی تھی کیونکہ وہ دوسرے ملک گئی ہوئی تھی دو دن کے بعد وہ واپس چلی گئی تھی آسیہ اور اس کی بچیوں سے بھی نہیں مل سکی تھی ۔۔۔بس فون پر بات ہوئی اور افسوس کر پائی تھی ۔۔
*************************
معیز گھر آیا تھا اور اس دن وہ اپنی طرف سے معافی مانگ کر گیا تھا اور تائی کو کہہ کر گیا تھا اگر کسی چیز کی ضرورت ہو تو مجھے آپ یاد رکھنا
منال اکیڈمی سے اس دن لیٹ ہو گئی تھی جس کی بنا پرمعیز سے اس کی ملاقات نہیں ہوسکی تھی
مسیح نے موویز کی آمد کا منال کو بتایا تو مینار نے خاموشی سے سنا لیکن کوئی جواب نہیں دیا اور اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئی تھی اس دن منال نے کھانا بھی نہیں کھایا تھا اور بھوکی سو گئی تھی کیوں کہ جانے انجانے میں معیز بھائی کی آمد نے منال کے زخم پھر سے ہرے کر دیے تھے
منال کو اس رات اس بے وفا کی یاد مسلسل آتی رہی تھی اور ساری رات اس سے گلہ شکوہ میں گزر گئی تھی صبح جب منال سو کر اٹھیں تو اس کی آنکھیں سرخ تھیں آسیہ سمجھ گئی تھی کہ وہ ساری رات سو نہیں سکی لیکن پوچھنا مناسب نہ سمجھا اور چپ کر کے اپنے کام لگی رہی
*********************
منال گھر آنے کے بعد کچھ دیر ر یسٹ کرنے کے لیے اپنے کمرے میں چلی گئی
منال کا لایا سامان ردا اپنی اپنی جگہ پر رکھنے لگی
کچھ سوچ کر منال اٹھی اور امی کے کمرے میں آ گئی
آسیہ آنکھوں پر بازوں رکھے لیٹی تھی منال کو لگا وہ سو رہی ہے تو واپس پلٹنے لگی ۔۔۔۔
آہٹ کی آواز پر آسیہ نے آنکھوں سے بازو ہٹا کر دیکھا تو منال کو واپس پلٹتے ہوئے دیکھ کر آواز دے کر روک لیا اور پوچھا خیریت بیٹا کوئی کام تھا ۔۔۔۔
جی امی بس چھوٹا سا کام تھا ۔۔
آسیہ منال کو دیکھ کر اٹھ کر بیٹھ گئی اور بولی کے آجاؤ میں جاگ رہی ہو کیا بات ہے ۔
منال ان کے پاس بیٹھ گئی اور بات کا آغاز کرتے ہوئے بولی کی امی ہماری اکیڈمی کا ٹرپ جا رہا ہے سب کی مرضی ہے جانے کی اور وہ چاہتے ہیں میں بھی ساتھ جاؤ لیکن میرا دل نہیں کر رہا جانے کو ۔۔۔
لیکن بیٹا آپ کا دل کیوں نہیں کر رہا جانے کو سب خیریت ہے نہ آسیہ بولی
جی امی سب خیریت ہے بس میرا دل نہیں کر رہا اس لیے
میں آپ سے یہ کہنے آئی تھی کہ ہو سکتا ہوں آج شام کو میری اکیڈمی سے ارم اور مہوش آئیں آپ کو راضی کرنے کے لیے آپ بالکل بھی اجازت نہ دینا انہیں منا کر دینا ۔۔۔
لیکن بیٹا آپ کو اگر آپ کی دوستیں کہہ رہی ہیں تو ان کی بات مان لینی چاہیے اور چلے جانا چاہیے اچھا ہے تھوڑا خود کو ریلیکس کر لوں گی میں تو یہی کہتی ہوں تم چلی جاؤں ۔۔۔
نہیں امی بس میں نے آپ کو جو کہا ہے آپ ویسے ہی کرنا میں ابھی تھوڑی دیر آرام کرو گی منال اتنا کہ باہر نکل آئ وہ جانتی تھی اگر وہ مزید وہاں ان کے پاس بیٹھتی تو آسیہ نے اس سے اصل وجہ پوچھ لینی تھی نہ جانے کی ۔۔۔
اور مجبورا منال کو پھر اصل وجہ بتا نی پڑ جاتی . .
وہ اپنی ماں سے کیا کہتی کہ امی گھما پھیرا وہاں جاتا ہے جہاں پر انسان کے پاس رقم موجود ہو اور جہاں پر پہلے سے ہی پیٹ کاٹ کاٹ کر گزارہ کیا جا رہا ہو
وہاں پر ایسی عیاشی انسان کو نہیں کرنی چاہیے
منال یہ سوچتے ہوئے آنکھ میں آیا آنسو صاف کرتی کمرے کی طرف بڑھ گئی
_______________
“دل کا کیا ہے یہ تو تیری یاد کے سہارے جی لے گا
بات تو ان آنکھوں کی ہے جو ترستی ہیں ترے دیدار کے لئے ۔۔۔۔
پانچ سال ہونے کو آے تھے ۔۔
وہ خود حیران تھا ان پانچ سالوں میں ایک دن بھی ایسا نہیں گزرا تھا جب اس نے منال کو یاد نہ کیا ہو ۔۔۔۔۔
وہ اس کو بھول جانا چاہتا تھا ۔۔۔وہ جتنا بھولنے کی کوشش کرتا وہ اتنی شدت سے یاد آتی تھی ۔۔۔
آج بھی اس کی آنکھ منال کی شکوہ کرتی آنکھوں سے کھلی تھی
منال منہ سے کچھ نہیں بولتی تھی آنکھوں میں بےپنا ہ اجنبیت اور شکوے لئے نظر آتی
رومان بات کرنے کی کوشش کرتا تو وہ نفرت سے منہ پھیر کر چلی جاتی ۔۔۔
اور رومان آواز دیتا پیچھے جاتا جتنا پیچھے جاتا وہ اتنی تیزی سے بھاگتی ۔۔
رومان پیچھے بھاگتے بھاگتے تھک کر گر جاتا
تب وہ رک کر بس اتنا کہتی مجھے نفرت ہے تم سے شدید نفرت ۔کبھی معاف نہیں کروں گی سنا تم نے ۔۔۔۔
اتنا کہ کر وہ ہمیشہ کی طرح بھیڑ میں گم ہو جاتی ۔۔۔۔
اور وہ وہیں گر کر زور زور سے رونے لگا ۔۔۔
رومان کی آنکھ کھل چکی تھی پسینے سے ساری شرٹ گیلی تھی ۔۔اتنی ٹھنڈ میں بھی اسے پسینہ آ چکا تھا چہرے پر آنسوؤں کا گرم گرم سے سیال موجود تھا
رومان نے چہرے پر ہاتھ لگایا تو اسے علم ہوا وہ رو رہا ہے ۔۔۔
منال ۔۔۔
میں چاہ کر بھی تمہیں بھول نہیں پا رہا میں کیا کرو میں پاگل ہو جاؤں گا میرے لیئے تمہاری آنکھوں میں اپنے لیے اتنی نفرت دیکھنا برداشت نہیں ہو رہا کہاں ہو تم میں تمہیں کہاں تلاش کروں ۔۔رومان مٹھی میں بال نوچتے ہوے بولا
میں نے اپنا سب کچھ اپنے ہی ہاتھوں سے گنوا دیا ہے اپنے ہی ہاتھوں اپنی زندگی میں نے خود تباہ کر دی ۔۔۔۔رومان رو رہا تھا
مگر اب اسے اپنے آنسو خود ہی صاف کرنے تھے اور خودکو سمبھالنا تھا ۔
***********************************
منال اکیڈمی پہنچی تو وہاں سارا سٹاف بہت خوش نظر آیا
خیریت ہے سب بڑے خوش نظر آ رہے ہیں
کوئی مجھے بھی بتاؤ منال پوچھتی بیٹھ گئی ۔۔۔
ہاں ہاں کیوں نہیں مہوش بولی بات ہی ایسی ہے تم بھی سنو گی تو خوش ہو جاؤ گی ۔۔
اچھا جی تو جلدی سے سناؤں منال بیتابی سے بولی ۔۔۔۔
اپنی ارم کا رشتہ پکا ہو گیا ہے ۔۔مہوش بولی
ارے واہ ارم تم تو بہت چھپی رستم نکلی ہو تم نے بتایا بھی نہیں ۔۔۔منال بولی
ارے خالی ارم نہیں یہ فواد بھی چھپا رستم نکلا ہے ان دونوں نے ہمیں کانوں کان خبر نہیں ہونے دیں
کیا مطلب تمہارا میں سمجھی نہیں مہوش
فواد بھائی کا بھی رشتہ پکا ہوگیا ہے کیا منال بولی ۔۔۔
ہاں فواد اور ارم دونو ں کا رشتہ پکا ہو گیا اور نیکسٹ ویک دونو ں کی منگنی بھی ہے ۔۔
مہوش کی بات پر ارم نے شرما کر فواد کی طرف دیکھا جو کہ اسی کی طرف دیکھ رہا تھا ارم نے شرما کر سر جھکا لیا .
منال نے ایک نظر ارم اور دوسری نظر فواد کو دیکھا اور بولی
مبارک ہو آپ دونو ں کو۔۔۔
خیر مبارک فواد بولا
پھر ارم کے کان کے پاس ہو کر بولی تمہیں تو میں بعد میں پوچھتی ہوں چھپی رستم ۔۔۔
ارم جانتی تھی اب اس کی کلاس لگنے والی ہے اس لیے ارم پہلے سے خود کو ذہنی طور پر تیار کرنے لگی ۔۔
جاری ہے
