Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer NovelR50758 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode19
No Download Link
581.2K
29
Rate this Novel
Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode01 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode02 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode03 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode04 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode05 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode07 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode08 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode09 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode10 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode11 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode12 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode13 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode14 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode15 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode16 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode17 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode18 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode19 (Watching)Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode20 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode21 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode22 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode24 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode25 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode26 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode27 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode28 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Last Episode Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode23 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode06
Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode19
Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode19
سب ہوٹل کی لابی میں تیار کھڑ ے تھے
سواۓ شاہ ویز اور منال کے
شاہ ویز کو بہت تیز بخار ہو چکا تھا جس کی وجہ سے وہ ساتھ نہیں جا رہا تھا ۔۔۔
منال ابھی تیار ہو کر نہیں آئ تھی
عمیر نے جلدی سے سب کو گاڑیوں میں بیٹھنے کو کہا ۔۔
ارم فواد کے ساتھ بیٹھ چکی تھی گاڑیاں ریڈ ی کھڑی تھی
منال جلدی سے روم لاک کر کے بھاگی
اچا نک پاؤں موڑ ا اور جوتا ٹوٹ گیا ۔۔
او شٹ ۔۔اس کو بھی ابھی ٹوٹنا تھا
منال جلدی سے واپس کمرے کی طرف بھاگی تا کے جوتا چینج کر لے ۔۔
فورا جلدی سے جوتا بدل کر اس نے ونڈو سے نیچے دیکھا تو گاڑیاں سٹارٹ ہو چکی تھی وہ تیزی سے کمرے سے باہر نکلی اور روم لاک کر کے تیز تیز چلنے لگی
جیسے ہی وہ پارکنگ ایریا پہنچی دونو ں گاڑیاں جا چکی تھی ۔۔
منال نے پیچھے سے آواز بھی دی اور ہاتھ ہلایا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا ۔۔۔
ما یو سی سے وہ خالی روڈ کو دیکھتے ہوے واپس پلٹ آئ
روم میں جا کر حجاب اتارا اور موبائل اٹھا کر ارم کو میسج کرنے لگی ۔۔۔
اب منال کے بور ہونے کی باری تھی وہ اکیلی اس ہوٹل میں اتنے گھنٹے کیسے گزارے گی ۔یہ سوچ سوچ کر پاگل ہونے لگی ۔۔۔
ٹی وی آن کر کے مختلف چینل دیکھتی رہیں لیکن جلد بور ہو گئی ۔۔۔۔
گھر کال ملا کر بات کرنے لگی تھوڑی دیر بات کرنے کے بعد منال لیٹ گئی اور آنکھیں بند کر لیں ۔۔
مشکل سے دو گھنٹےہی گزرے تھے کہ دروازے پر دستک ہونے لگی ۔۔
منال کی آنکھ دستک کی وجہ سے کھل گئی ۔۔
منہال نے دروازہ کھولا تو سامنے ویٹر کو کھڑے پایا ۔۔
جی فرمائیں کیا کام ہے ۔۔۔منال کچی نیند سے جاگنے کی وجہ سے تھوڑا چڑ کر بولی ۔۔
سوری میم آپ کو ڈسٹرب کیا ہے لیکن بات ہی کچھ ایسی ہے ۔۔۔۔ویٹر بولی
کیا بات ہے ۔منال بولی
آپ کے روم کے سامنے والا روم 205 وہاں میں صفائی کے لئے گئی کافی دیر دروازہ ناک کیا لیکن اندر سے کسی نے دروازہ نہیں کھولا ۔۔
تو میں نے کاؤنٹر سے دوسری چابی لے کر دروازہ کھولا تو
اندر ایک صاحب بیہوش ملے بخار بھی بہت تیز ہے انھیں
نیچے سے معلوم کرنے پر پتہ چلا ہے کہ وہ لاہور سے یہاں ٹرپ کے ساتھ آئے ہیں
باقی سب تو گاڑیوں میں جا چکے ہیں صرف آپ ہی یہاں پر موجود ہیں اس لئے آپ کے پاس مجھے سر نے بھیجا ہے کے آپ پلیز ساتھ چل کے دیکھیں ۔۔
ویٹر اپنی بات کہہ کر منال کی طرف دیکھنے لگی ۔۔
ویٹر کی بات سن کر منال سوچ میں پڑ گئی کہ کون ہو سکتا ہے ۔۔۔
کچھ سوچ کر وہ اپنے روم سے باہر نکلی اور ویٹر کو چلنے کا بولا۔۔۔۔
دونوں روم میں داخل ہو گئی
منال چلتی ہوئی بیڈ کے قریب آئیں چہرہ بازو کے نیچے ہونے کی وجہ سے دیکھ نہ پائی ۔۔۔
میں آپ دیکھیں میں تب تک ڈاکٹر کو فون کرکے آتی ہوں لڑکی ویٹر کہ کر روم سے باہر نکل گئی ۔۔
منال سوچ میں پڑ گئی کے وہ کیسے مخاطب کریں اور کیسے اسے اٹھا ے ۔۔۔
ہیلو سنو ۔۔۔
اٹھو
ہیلو میں آپ سے ہوں
منال اس کے سر کے پاس کھڑی ہو کر اسے جگانے کی کوشش کرنے لگی ۔۔
لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوا ۔۔
منال کو تفشیش ہونے لگی تو اس نے بازو سے پکڑ کر ہلانے کی کوشش کی تو منال کو ایسا لگا جیسے اس نے بھڑ کتی ہوئی بھٹی میں ہاتھ دے دیا ہو ۔۔۔
بخار کی وجہ سے وہ تپ رہا تھا ۔۔
منال نے انسانیت کے ناطے اس کی مدد کرنے کا سوچا
جیسے ہی اس کے چہرے سے بازو ہٹایا تو سامنے شاہ ویز کو دیکھ کر منال دنگ رہ گئی ۔۔۔
کل تک وہ کیسے منال کو تنگ کر رہا تھا اور آج کیسے بے سوھ پڑا تھا اسے اپنی ہوش نہیں تھی
منال نے جلدی سے پاس پڑھا پانی کا گلاس اٹھا کر اس کے منہ پر چھینٹے مارنے لگی ۔۔
پانی کے چھینٹیں منہ پر پڑھنے کی وجہ سے اس کے وجود میں حرکت ہوئی ۔۔۔۔
منال نے جلدی سی انٹرکام پر ٹھنڈا پانی اور پٹی لانے کا کہا
ویٹر فور ا ٹھنڈا برف والا پانی اور پٹی لے کر حاضر ہوا
منالپاس پڑی کرسی پر بیٹھ گئی اور ۔۔۔
جلدی سے شاہ ویز کے ماتھے پر پٹی ر کھنے لگی پانی میں بھگو بھگو کر ۔۔۔
ابھی دس منٹ ہی گزرے تھے منال کو پٹیاں رکھتے ہوئے کہ ڈاکٹر روم میں داخل ہوا مینیجر کے ساتھ ۔
اور شاویز کا چیک اپ کرنے لگا ۔۔
چیک اپ کرنے کے بعد ڈاکٹر منال سے مخاطب ہوا ۔۔
آپ نے بہت اچھا کیا جو ٹھنڈے پانی کی پٹیاں کرنے لگی ان کو بہت تیز بخار ہے ۔۔آپ ان کو ٹھنڈے پانی سے پٹیاں کرتی رہیں
انجکشن میں نے ان کو لگا دیا ہے تھوڑی دیر تک ان کو مکمل ہوش آئے گا آپ یہ دوائیاں منگوا لیں اور ان کو کھانے کے بعد فورا کھلا دیں ۔۔
ان کو نرم غذا دینی ہے جیسے دلیا کھچڑی اور سوپ وغیرہ
جی ڈاکٹر صاحب ۔۔منال بولی
اوکے ٹھیک ہے میں چلتا ہوں شام کو دوبارہ چکر لگاؤں گا انہیں دیکھنے کے لیے
لائیں میم میں دوائیاں منگوا دیتا ہوں مینیجر نے منال سے کہہ کر پرچی لے لی اور باہر نکل گیا ۔
منال دوبارہ کرسی پر بیٹھ کر شاہویز کو پٹیاں کرنے لگی
منال خاموشی سے شاہ ویز کو دیکھ رہی تھی ۔۔
توبہ کمبخت کتنا حسین لگ رہا ہے سوتے ہوے ۔۔منال نے دل اعتراف کیا ۔۔۔
منال نے گھڑی پر ٹائم دیکھاسوا بارہ ہو چکے تھے
پچھلے ایک گھنٹے سےمنال شاہ ویز کو پانی کی پٹیاں رکھ رہی تھی
منال نے شاہ ویز کے ماتھے پر ہاتھ لگا کر بخار چیک کیا بخار کی شدت پہلے سے کم ہو چکی تھی باول میں پانی بھی گرم ہو چکا تھا ۔۔
۔پانی والا باول سائیڈ پر رکھ دیا ۔۔
منال کی بیٹھ بیٹھ کر کمر اکڑ چکی تھی
منال نے کرسی کے ساتھ ٹیک لگا کر آنکھیں بند کر لی ۔۔
پانی
پانی شاہ ویز کی ہلکی سی آواز نکلی ۔۔۔۔۔
شاہ ویز کو نیند کی حالت میں کسی کا لمس محسوس ہو رہا تھا
اس ہاتھ کے لمس سے شاہ ویز کو راحت مل رہی تھی ۔۔
وہ لمس غائب ہوتا دیکھ کر شاہ ویز کی نیند ٹوٹ گئی اور پیاس کی طلب محسوس ہوئی ۔۔۔
پیاس کی شدت سے گلا خشک ہو چکا تھا ۔۔
شاہ ویز نے اپنے دا ںُین طرف ہاتھ بڑھا کر پانی اٹھانا چاہا جب اس کی نظر کرسی پر سوے وجود پر پڑی ۔۔
ایک پل کے لئے شاہ ویز حیران رہ گیا
شاہ ویز کو خوش گوار احساس چھو کر گزرا ۔۔۔
منال کے چہرے کو غور سے دیکھنے لگا شاہ ویز یہ بھی بھول چکا تھا اسے پیاس لگی گئی
منال کو اپنے پاس پا کر وہ ایسے ہی سیر ا ب ہو چکاتھا
رومان سو کر اٹھا تو دو ہو چکے تھے
نہا کر فریش ہونے کے بعد رومان باپ سے ملا
نور نے کھانا لگایا تو سب کھا نے کی میز پر چلے آے
نور نے جب سے رشتے کی بات سنی تھی اسے چپ لگ گئی تھی ۔۔۔
کھا نے کی میز پر باقی باتیں کر رہے تھے لیکن نور چپ چاپ کھانا کھا رہی تھی ۔۔
کیا بات ہے نور تم کیوں اتنی چپ ہو ۔رومان نے پوچھا
کچھ نہیں بھائی بس ایسے ہی سر میں درد ہے اس لیے ۔نور بولی
کھانا کھا کر کوئی درد کی گولی کھا کر آرام کر لو تھوڑی دیر ۔۔جی بھائی ۔۔کہ کر نور اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئی
اچا نک باہر موسم نے انگھڑائی لی دیکھتے ہی دیکھتے آسمان پر کالے بادل چھا گئے ہر طرف اند ھیرہ چھا گیا دن میں رات کا سماء نظر آنے لگا ۔۔۔۔
وہ لوگ موج مستی کر رہے تھے سارے سٹوڈنٹس بہت خوش نظر آ رہے تھے
چیئر لفٹ پر بیٹھ کر اونچائی سے نظارہ کیا گیا ۔۔
موسم کو بدلتا دیکھ کر عمیر نے سب کو چلنے کا کہا اور گاڑیوں میں بیٹھنے کو کہا ۔۔
بادل گرجنے سے منال کی ایک دم آنکھ کھل گئی
منال سیدھی ہو کر بیٹھ گئی اور شاہ ویز کو دیکھنے لگی
اگے بڑھ کر اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھا تو بخار میں کمی آ چکی تھی ۔۔۔
شاہ ویز مکمل ہوش میں تھا جان بوج کر آنکھیں بند کر کے منال کی حرکتیں نوٹ کرنے لگا
منال نے اٹھ کر ونڈو کے اگے سے پردے ہٹا ئے پورا آسمان کالے بادلوں سے ڈ ھکا ہوا تھا
منال کو ہمیشہ سے بجلی کی گرج چمک سے ڈر لگتا تھا منال نے جلدی سے دوبارہ پردے نیچے گرا دیے ۔۔
اور آیت الکرسی کا ورد کرتے ہوئے کرسی پر بیٹھ گئی
منال کی چہرے پر خوف نظر آنے لگا ۔۔۔
بجلی کی گرج چمک میں اضافہ ہورہا تھا ۔۔۔
منال نے اپنے کانوں میں انگلیاں دے لیں ۔۔۔
خوف سے کانپنے لگی ۔۔۔۔
منال کو خوف سے کانپتا دیکھ کر شاہ ویز نے فورا آنکھیں کھولی اور منال سے مخاطب ہوا ۔۔۔
ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے میں تمہارے ساتھ ہوں ۔شاہ ویز کی آواز پر منال نے چونک کر اس کی طرف دیکھا
اور سنبھل کر بیٹھ گئی ۔۔۔
شاہ ویز اٹھ کر واش روم چلا گیا فریش ہونے کے لئے ۔۔۔
منال نے انٹر کام پر شاہویز کے لیے سوپ لانے کا آرڈر کیا ۔
منال جلد سے جلد اس کمرے سے جانا چاہتی تھی کیوں کہ اب وہ مکمل ہوش میں آ چکا تھا ۔۔۔
منال کے موبائل پر ارم کی کال آنے لگی ۔۔۔۔
منال نے فون اٹھایا تو ارم نے بولا موسم کی خرابی کی وجہ سے ہم لوگ واپس آرہے ہیں ۔۔۔
اوکے ٹھیک ہے ۔۔۔۔کہ کر فون بند کر دیا
دروازہ ناک ہوا شاہ ویز باتھ روم میں تھا ۔۔۔؟؟؟منال نےاٹھ کر ڈور کھولا
ویٹر سوپ لے کر کھڑا تھا ۔۔۔۔
منال نے سوپ لے کر دروازہ بند کر دیا ۔۔۔۔
شاہ ویز باتھ روم سے نکل کر تولئیے سے ہاتھ منہ صاف کرتے ہوئے بیڈ پر آکر بیٹھ گیا ۔۔۔۔
بخار کی وجہ سے کمزوری ہو گئی تھی جس کی وجہ سے وہ کھڑا نہیں ہو پا رہا تھا ۔۔
منال خاموش کھڑی اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
شاویز جب بیٹھ گیا تو منال نے سوپ کا باول ا س کے آگے رکھا اور کہا کہ یہ پی لو اس کے بعد میڈیسن کھانی ہے ۔۔۔
شاہ ویز خاموشی سے سوپ پینے لگا کیوں کہ اسے بھوک لگی ہوئی تھی ۔۔۔
منال نے اس کی میڈیسن نکال کر پلیٹ میں رکھ دیں
اور کمرے سے باہر جانے لگی ۔۔۔
شاہ ویر نے اسے کمرے سے باہر جاتا دیکھ کر آواز دے کر روک لیا ۔۔۔
سنو منال ۔۔۔مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے کیا تم تھوڑی دیر بیٹھ کر میری بات سن سکتی ہو ۔۔شاہ ویز کہ کر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگا
باہر تیز بارش شروع ہو چکی تھی ۔۔
منال خاموشی سے پلٹ آئ اور کرسی پر دوبارہ بیٹھ گئی
منال کو بیٹھا دیکھ کر شاہ ویز بولا ۔۔۔۔
تھینکس تم نے میرا خیال رکھا ۔
منال نے ایک نظر اسے دیکھ کر نظریں جھکا لی ۔۔۔
منال میں آپ سے شادی کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔شاہ ویز نے منال کے سر پر بمب اچا نک سے پھوڑ دیا
منال نے شاک کے عالَم میں ایک دم شاہ ویز کو دیکھا ۔۔۔
ہاں منال میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔
منال جھٹکے سے اٹھی اور بولی ۔۔۔
آپ کی ہمت کیسے ہوئی مجھ سے یہ بات کرنے کی کیا سوچ کر یہ بات ہے ۔۔مجھے آپ سے شادی نہیں کرنی
دوبارہ مجھ سے ایسی کوئی بات کرنے کی ضرورت نہیں ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا ۔۔منال غصے سے کہ کر جانے لگی
شاہ ویز نے آگے بڑھ کر منال کا ہاتھ پکڑ لیا اور بولا ۔۔۔
آئ لو یو منال آئ لو یو سو مچ ۔۔۔۔
اس سے پہلے منال کچھ بولتی شاہ ویز نے منال کو خود میں بیھنچ لیا ۔۔۔
پلیز مجھے چھوڑ کے مت جانا ورنہ میں کچھ کر بیٹھوں گا خود کے ساتھ ۔۔۔۔
میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا ۔۔۔۔۔۔
منال شاہ ویز سے جھٹکے سے الگ ہوئی ۔۔اور شاہ ویز کے منہ پر زور دار تھپڑ پڑا ۔۔
تمہاری ہمت کیسے ہوئی ۔۔۔۔
منال کی آنکھوں میں شاہ ویز کے لیے بے یقینی تھی ۔۔۔
منال کو شاہ ویز کا لمس جانا پیچانا سا لگا منال اور بھی بہت کچھ اسے سخت بولنا چاہتی تھی لیکن اس کی زبان پر تالے لگ گئے ۔۔۔وہ خود سمجھ نہیں پا رہی تھی
منال منہ پر ہاتھ رکھتی جلدی سے پلٹ گئی
اس سے پہلے منال دروازہ کھول کر باہر جاتی اسے شاویز کی آواز سنائی دی ۔۔۔۔
منال تم کسی کے شک اور بے اعتباری کی سزا مجھے نہ دو ۔۔رومان کی بے وفائی کی سزاتم دوسروں کو کیسے دے سکتی ہو ۔۔
رومان کے نام پر منال کےبڑ ھتے قدم رک گئے ۔۔
اگے بہت مشکل سے ملی ہو ۔۔اب میں دوبارہ کھونا نہیں چاہتا تمہیں ۔۔۔شاہ ویز اس کے قدموں کے پاس نیچے بیٹھ گیا اور ہاتھ جوڑ کر بولا ۔۔۔
میں تم سے وعدہ کرتا ہوں تمہیں دنیا کی ہر خوشی لا کر دوں گا کبھی تم پر آ نچ نہیں آ نے دوں گا ۔۔۔بس پلیز اب دوبارہ مجھے چھوڑ کر مت جانا پہلے کی طرح
پہلے تو میں سہ گیا تھا لیکن اب میں برداشت نہیں کر پاؤں گا ۔۔۔شاہ ویز رو رہا تھا
منال شاہ ویز کی باتوں سے الجھ کر رہ گئی تھی ۔۔۔
تم کون ہو ۔۔اور رومان کو کیسے جانتے ہو منال اٹک اٹک کر بولی
میں کون ہوں کون نہیں یہ جانا تمہارے لئے اتنا ضروری نہیں ہے بس تم اتنا جان لو اس دنیا اور بھی ایک شخص ہے جو تم سے رومان سے بھی زیادہ پیار کرتا ہے ۔جسے تمہاری تکلیف سے تکلیف ہوتی ہے چوٹ تمہیں لگتی ہے درد مجھے ہوتا ہے ۔۔تم پلیز ۔
۔اس سے پہلے شاویز اپنی بات مکمل کرتا ۔۔
منال نے جھٹکے سے دروازہ کھولا اور کمرے سے باہر چلی گئی ۔۔۔۔
نور موقع دیکھ کر اماں سے بات کرنا چاہتی تھی ۔۔۔
رومان ابا کے ساتھ دادا اور دادی کی قبر پر گیا تو نور کو موقع ملا وہ فورا ماں کے پاس آئی اور بولی مجھے آپ سے بات کرنی ہے ۔۔۔
ہاں بول کیا بات ہے ۔۔۔۔رقیہ پالک کاٹتے ہوئے بولی
اماں وہ ایک ۔۔۔نور اٹک گئی
بول بھی کیا بات ہے رقیہ نے اسے ٹوکا
وہ اماں میں آپ کو کسی سے ملوانا چاہتی ہوں
آپ ایک دفعہ اس سے ملنے ۔۔۔۔
رقیہ حیرانگی سے چھری رکھتے ہوئے نور کی طرف دیکھنے لگیں اور بولی کون ہے کس سے ملوانا چاہتی ہے تو مجھے ۔۔۔
ایک لڑکا ہے ہم دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں اور ہم دونوں ایک دوسرے سے شادی کرنا چاہتے ہیں ۔۔
نور کی بات پر رقیہ کی آنکھیں حیرت سے کھلی کی کھلی رہ گئی
کیا بولا ہے تو نے ذرا پھر سے بول رقیہ غصے سے بولی ۔۔۔
اماں وہی بولا ہے جو تو نے سنا ہے میں اور ظفر ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں ۔۔تجھے میرا رشتہ ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔اگر میں شادی کروں گی تو صرف ظفر سے اس کے علاوہ میری کسی اور کے ساتھ شادی کرنے کا سوچنا بھی مت ورنہ بہت برا ہوگا ۔۔۔
نور بے خوفی سے بولی
ارے کمبخت میری آنکھوں میں د ھول جھونکتی رہی ہے اور مجھے خبر بھی نہیں ہونے دیں ۔۔۔
رقیہ نے نور کو بالوں سے پکڑ لیا ۔۔
بول کب سے چل رہا ہے تیرا چکر اس کے ساتھ ۔۔
آ لینے دے تیرے باپ اور بھائی کو
تجھے شرم نہ آئ ایسا کام کرتے ہوے ۔۔
ارے تو پیدا ہوتے ہی کیوں نہ مر گئی ۔۔اس دن کے لئے تجھے پال پوس کر جوان کیا تھا ۔۔۔
رقیہ نور کے منہ پر تھپڑ مارنے لگی اور گھسیٹ کر کمرے میں لے جا کر اندر بند کر دیا ۔۔
اور خود فیاض کو کال کر کے جلدی گھر آنے کا بولا ۔۔
منال اپنے روم میں آ گئی ۔۔
اور دروازے کے پاس نیچے ہی بیٹھ کر رونے لگی ۔۔۔
منال نہیں جانتی تھی شاہ ویز کون ہے اور وہ کیسے رومان اور اس کے بارے میں سب جانتا ہے ۔۔۔۔
میں کیا کروں اللہ مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی ۔۔رومان میری زندگی سے نکل کر بھی نہیں نکل رہا ۔۔
میں اپنی زندگی میں اب آگے بڑھنا چاہتی ہوں تھک گئی ہوں خود سے لڑتے لڑتے ۔۔۔۔
منال کو شاہ ویز کی حرکت پر غصے کے ساتھ ساتھ حیرت بھی ہوئی تھی ۔۔۔
شاہ ویز نے منال کو پرپوز کیا تھا اور اس سے محبت کرنے کا د عوا کیا تھا
اور یہ کیوں بولا کے دوبارہ مجھے کھونے سے ڈر لگ رہا ہے
منال کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا وہ کیا کرے ۔۔۔
شاہ ویز نے اسجد صاحب کا نمبر ڈائل کرنے کے بعد فون کان سے لگا لیا ۔۔
ہاں ینگ مین کیسے ہو ۔۔مزہ آ رہا ہے وہاں
اسجد صاحب نے فون اٹھانے کے بعد شاہ ویز سے سوال کیا
ڈیڈ میں بالکل ٹھیک ہوں آپ سنائیں کیسے ہیں موم کیسی ہے ۔۔
بیٹا ہم دونوں بالکل ٹھیک ہے ۔۔۔
ڈیڈ مجھے آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے ۔۔۔
ہاں بیٹا بولو سب خیریت ہے نہ ۔۔
ڈیڈ خیریت نہیں ہے اسی لئے کال کی آپ کو ۔۔۔
آپ نے مجھ سے یہاں آنے سے پہلے پوچھا تھا کہ کسی لڑکی کا چکر تو نہیں ہے جو میں مدیحہ کے لئے ہاں نہیں بول رہا ۔۔۔
ڈیڈ مجھے ہیلپ چاہیے ۔۔شاہ ویز اداسی سے بولا
ہاں بیٹا بولو کیسی ہیلپ چاہیے ۔میں تمہاری مدد ضرور کروں گا ۔کس لڑکی کا چکر ہے ۔۔۔۔کون ہے وہ جس نے میرے بیٹے کو سیدھا کر دیا ۔۔بتاؤ مجھے
ڈیڈ آپ جانتے ہیں اسے بہت اچھے سے ۔۔۔
آپ کے بیٹے کو اس سے عشق ہوگیا ہے ۔۔۔شاہ ویز بولا
ہے کون بیٹا وہ ۔۔۔مجھے بھی بتاؤ ذرا ۔۔۔
منال۔۔۔
منال وقار کی بات کر رہا ہوں آپ اسے بہت اچھے سے جانتے ہے اور پہچانتے بھی ہے ۔۔۔۔
اسجد صاحب کو جٹکا لگا سن کر ۔۔۔
وہ تمہیں کہاں مل گی ہے ۔۔۔
ڈیڈ وہ میری اکیڈمی میں ہی جاب کر رہی ہے ۔۔۔
کیا وہ بھی تمہیں پسند کرتی ہے ۔۔۔۔۔اسجد صاحب نے پوچھا
ڈیڈ یہی تو پتا نہیں چل رہا .. اس کے بعد شاویز نہیں اس سے پہلی ملاقات کے بعد اب تک کی ساری بات تفصیل سے بتا دیں ….
بیٹا آپ نے بھی تو غلط کیا ہے شروع سے تنگ کر رہے ہو تمہیں اسے سچ بتا دینا چاہیے تھا ۔۔
اس طرح وہ تم سے مزید بد گمان ہو گئی ہے ۔۔۔
ڈیڈ پلیز آپ ایک کام کریں موم کے ساتھ منال کے گھر جا کر رشتے کی بات کریں ۔۔۔ڈیڈ میں اب دوبارہ اسے کھونا نہیں چاہتا ۔۔۔
پہلے بھی میں
جاری ہے
