Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode24

Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode24

فیاض احمد رقیہ کے منہ سے انکشاف سن کر خود کو سمبھال نہ پا ے اور دل پر ہاتھ رکھتے نیچے گر گئے
فیاض احمد کو ہارٹ اٹیک ہوا تھا وہ آئ سی یو میں تھے
رومان سخت پریشان تھا
ڈاکٹرز فل حال تسلی بخش جواب نہیں دے رہے تھے
دعا کرنے کا کہ رہے تھے
رقیہ بیگم کی حالت ایسی ہو گئی تھی
جیسے جسم میں جان ہی نہ رہی ہو
ایک طرف بیٹی عزت کا جنازہ نکال کر چلی گئی تھی
تو دوسری طرف ان کا شوہر زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا تھا ۔۔۔
آنکھوں سے لگاتار آنسو بہ رہے تھے
رومان نے اس کے بعد دوبارہ ماں سے کوئی بات نہیں کی تھی
رومان نے اپنے ایک دوست کو کال کرکے ہسپٹل آنے کا کہا ۔۔۔
رومان نور کو ڈھونڈنے جانا چاہتا تھا
ایک طرف باپ دوسری طرف بہن ۔۔۔وہ پھنس کے رہ گیا تھا
کرے تو کرے کیا .
رقیہ رومان کو غم اور غصے سے نڈ ھا ل دیکھ کر اس کے پاس جانا چاہ رہی تھی ۔۔۔
لیکن شرمندگی کی وجہ سے وہ رومان سے نظر نہیں ملا پا رہی تھی
رومان کا دوست ہوسپٹل آیا
تو رومان اسے یہاں چھوڑ کر خود نکل گیا ۔۔
💗💗💗💗💗💗💗
منال روم میں آ کر بیڈ پر بیٹھ گئی
اور شاہ ویز کے متعلق سوچنے لگی
کے وہ کیسے سامنا کرے گی اور کیا کیا کہے گی ۔۔۔
شاہ ویز کو سوچتے سوچتے منال کی سوچ رومان تک پہنچ گئی
کیوں رومان ۔۔۔
کیوں کیا ایسا تم نے ۔
پہلے درد دیا اور اب مرہم لگا نا چاہ رہے ہو
میں درد کی عا دی ہو چکی ہوں اب ۔۔
تم واپس اس لئے آے ہو میری بے بسی کا تماشا دیکھ سکو ۔۔
جو کچھ تم نے میرے ساتھ کیا اس کے بعد تم سے مجھے سخت نفرت ہو گئی ہے ۔۔۔
جب مجھے تمہاری ضرورت تھی
تب تم نے ساتھ چھوڑ دیا
اور آج جب میں تنہا جی سکتی ہوں تم واپس لوٹ آے ہو ۔۔۔
تم تو رومان میری نفرت کے بھی قابل نہیں ہو اب
محبّت تو دور کی بات ہے
منال کی آنکھوں میں آنسو تھے
وہ رونا نہیں چاہتی تھی
لیکن رو رہی تھی
اپنے کیوں اتنا دکھ دیتے ہیں
منال سے برداشت نہیں ہو رہا تھا
اسے وہ وقت یاد آ گیا تھا لوگوں کی باتیں ان کے تانے ۔۔۔
کافی دیر رونے کے بعد اس نے وضو کیا اور نماز ادا کی سجدے میں سارے دکھ ،درد بہا ڈالے ۔۔
💗💗💗💗💗💗💗
شام کو منال عمیر کے ساتھ ہوسپٹل ای
منال شرمندہ بھی تھی اور خاموش خاموش بھی۔ ۔
عمیر نے اس کی سوجی آنکھوں کا سبب پوچھا تھا
لیکن منال ٹا ل گئی تھی
منال نہیں چاہتی تھی کے اس کی حالت کا کسی کو پتہ چلے ۔۔
روم میں عمیر اور منال داخل ہوے
شاہ ویز اسجد صاحب سے باتیں کر رہا تھا
عمیر کے پیچھے منال کو داخل ہوتا دیکھ کر حیران رہ گیا
اسلام۔ علیکم ۔۔۔۔
منال اور عمیر نے آگے پیچھے سلام کیا
وعلیکم سلام ۔۔۔۔شاہ ویز اور اسجد صاحب بولے ۔۔۔
کیسی طبیعت ہے اب تمہاری عمیر بولا
ٹھیک ہوں یار ۔۔۔۔۔
منال نے ریڈ پھولوں کا بوکے شاہ ویز کی طرف بڑھایا
جسے شاہ ویز نے تھینک یو کہہ کر پکڑا ۔۔۔
اسجد صاحب نے عمیر سے اشارے سے پوچھا کہ یہ کون ہے
او انکل میں نے تو تعارف کروایا ہی نہیں ہے یہ مس منال وقار ہے ۔۔۔۔۔
اور منال یہ شاہ ویز کے ڈیڈ ہیں ۔۔
عمیر کی بات پر منال مسکرائی ۔۔۔۔
اسجد صاحب نے بیٹے کو دیکھا اور داد طلب نظروں سے مسکرائے ۔۔۔۔
شاہ ویز بھی ہلکا سا مسکرایا ۔۔۔
اچھا بیٹا تم لوگ بیٹھو باتیں کرو میں تھوڑی دیر میں آتا ہوں مجھے ایک ضروری کال کرنی ہے
اسجد صاحب کہ کر باہر نکل گئے
اور عمیر شاہ ویز کے پاس آ کر بیٹھ گیا اور آگے پیچھے کی باتیں کرنے لگا ۔۔۔
منال خاموشی سے دونوں کی گفتگو سن رہی تھی
عمیر نے شاہ ویز کو کہا کے منال تم سے بات کرنا چاہتی ہے تم دونوں باتیں کرو میں کچھ کھانے پینے کے لئے لے کر آتا ہوں ۔۔۔۔۔۔
عمیر اٹھ کر چلا گیا
شاہ ویز خاموش بیٹھی منال کو دیکھ کر بولا ۔۔۔۔
تم مجھ سے بات کرنا چاہ رہی ہو
کہو کیا بات ہے ۔۔۔
شاہ ویز کی آواز پر منال نے سر اٹھا کر اسے دیکھا اور جی میں سر ہلایا
سر میں آپ سے بہت شرمندہ ہوں اور معافی مانگنا چاہتی ہوں ۔۔۔
معافی کس بات کی مس منال ۔۔۔
آپ نے ایسا کچھ نہیں کیا جس پر آپ معافی مانگ رہی ہیں
اور دوسری بات میں آپ کا سر نہیں ہوں آپ مجھے میرے نام سے بلا سکتی ہے ۔۔۔۔
منال نے شاہ ویز کو دیکھا وہ اسی کی طرف دیکھ رہا تھا
منال نے گبھرا کر نظریں جھکا لی اور بولی
مجھے آپ سے کہنا ہے کے میں آپ سے شادی نہیں کر سکتی ۔۔ آپ پلیز اب دوبارہ میرے راستے میں مت آنا ۔۔۔
کیوں شادی نہیں کر سکتی آپ شاہ ویز تیزی سے بولا ۔۔
کیا کمی ہے مجھ میں اپنا کاروبار ہے
گھر گاڑی سب ہے اور سب سے بڑی بات منال میں تم سے پیار کرتا ہوں ۔۔
تمہیں بہت خوش رکھوں گا کسی چیز کی کمی نہیں آنے دوں گا ۔۔۔۔شاہ ویز بولا
سر میں جان چکی ہوں آپ مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں
لیکن سر میں پھر بھی آپ سے شادی نہیں کر سکتی ۔۔۔میری مجبوری ہے
کیوں منال ایسی کون سی مجبوری ہے جو آپ مجھ سے شادی کرنے سے انکار کر رہی ہے ۔شاہ ویز بولا
منال نے آنسو بھری آنکھوں سے شاہ ویز کو دیکھا اور بولی
سر میری امی نے میرا رشتہ طے کر دیا ہے اور بہت جلد شادی ہے میری ۔۔۔
میں آپ کو کسی دھوکے میں نہیں رکھنا چاہتی تھی اس لئے میں آج یہاں آپ سے بات کرنے کے لئے آئی ہوں اور معافی مانگنے کے لئے آئی ہوں ۔۔۔
۔پلیز مجھے معاف کر دینا
شاہ ویز منال کو روتا دیکھ کر اٹھ کر اس کے پاس آیا اور اس کے پاس قدموں میں نیچے بیٹھ کر اس کے دونوں ہاتھ پکڑ لیے ۔۔۔۔۔
منال اس سسچویشن کیلئے تیار نہیں تھی
منال نے شاہ ویر کی گرفت سے اپنے ہاتھ چھڑانے چاہئیں لیکن شاویز کی گرفت بہت مضبوط تھی منال کچھ نہ کر پائی۔۔۔
دیکھو منال
میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں تمہیں دکھی نہیں دیکھ سکتا پلیز تم مت رو ۔۔۔۔
شاہ ویز اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے بولا
مجھے تم ایک بات بتاؤ ۔۔۔
کیا تم بھی مجھ سے پیار کرتی ہو ۔۔۔یا نہیں
دیکھو منال سچ بولنا ۔۔۔۔
کیا تم بھی مجھ سے پیار کرتی ہو یا نہیں ۔۔
بولو منال ۔۔۔
منال کو خاموش پا کر بولا
میں آپ سے پیار نہیں کرتی ۔۔
کیوں کے میں اپنے حصّے کا پیار کر چکی ہوں
اب میرے دل میں پیار کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے ۔۔۔
پیار سوائے درد کے کچھ نہیں دیتا ۔۔۔۔
میں جانتا ہوں منال تم اپنے حصے کا پیار کر چکی ہوں
لیکن منال میں تم سے تمہارے حصے کا پیار نہیں اپنے حصے کا پیار مانگ رہا ہوں ۔۔۔
دو گی تم مجھے میرے حصے کا پیار ۔۔۔۔۔شاہ ویزآس بھری نظروں سے دیکھتا ہوا بولا
منال نے تیزی سے ہاتھ چھڑواںُیں اور کھڑی ہو گئی ۔۔۔
میرے پاس آپ کو دینے کے لئے کچھ نہیں ہے
میں خود خالی ہاتھ ہو ں
منال پلیز ایسا مت بولو ۔۔۔
میں تمہارے بغیر اب نہیں رہ سکتا ۔۔۔
کوئی کسی کے بغیر نہیں مرتا میں بھی جی رہی ہوں
آپ بھی جی لیں گے ۔۔۔
منال کہ کر باہر نکل گئی ۔۔۔
منال کی باتوں سے شاہویز کا دل بہت دکھا تھا
لیکن آنے والے وقت کا سوچ کر وہ مسکرایا اور بولا
میں خود سے وعدہ کرتا ہوں تمہارے دل میں اپنی جگہ بنا کر ہی دم لونگا ۔۔۔
عمیر کو کال کر کے شاویز نے منال کے باہر جانے کا بتا دیا ۔۔
💗💗💗💗💗💗💗💗💗
اگلے دن سب کی روانگی تھی
سب نے بہت انجوا ےُ کیا تھا سواۓ منال کے وہ اندر سے مزید دکھی ہو گئی تھی
آج سب کا جلدی سونے کا ارادہ تھا تاکہ کے سفر انجوائے کرتے ہوئے گزرے ۔۔۔
منال یار جاگ رہی ہو یا سو گئی ہو ۔۔۔ارم کی آواز آئ
جاگ رہی ہوں ۔۔۔منال بولی
مجھے تم سے کچھ کہنا ہے تمہیں میری بات کا برا مت منانا پلیز ۔۔۔
تم بولو کیا کہنا چاہ رہی ہو منال بولی ۔۔۔
منال تم سر شاہ ویز سے شادی کر لو ۔۔۔
ارم کی بات پر منال اٹھ کر بیٹھ گئی اور بولی
تم جانتی ہو ارم تم کیا کہہ رہی ہو ۔۔۔۔
میرا رشتہ ہو چکا ہے اور تم مجھے کہہ رہی ہوں میں سر شاہ ویز سے شادی کر لو ں ۔۔۔
میں ایسا کچھ نہیں کر سکتی جس سے میری ماں کو دکھ پہنچے
لیکن منال ۔۔۔۔
دیکھو ارم پلیز اس ٹا پک کو یہیں پر بند کر دو
میں جانتی ہوں وہ بہت اچھے انسان ہیں میں ان کی اچھائی کی قائل ہو چکی ہو
اگر میرا رشتہ نہیں ہو چکا ہوتا تب بھی میں ان سے شادی نہیں کر سکتی تھی
کیوں کہ وہ ایک سچے اور مخلص انسان ہے
اس لئے ان کی شادی بھی کسی مخلص انسان سے ہی ہونی چاہیے جو انہیں سچا پیار دے سکے ۔۔
مجھ سے نہیں ۔۔
کیوں کہ میرے پاس ان کو دینے کے لیے سچا پیار نہیں ہے
میں ان کو دھوکا نہیں دینا چاہتی ۔۔۔۔۔
ارم خاموشی سے منال کو سن رہی تھی
ارم مجھے کبھی کبھی سر شاہ ویز کی باتوں سے ایسا لگتا ہے کے میں انہیں بہت اچھے سے جانتی ہوں اور وہ مجھے بہت اچھے سے جانتے ہیں ۔
۔کیوں کہ جس طرح وہ گہری باتیں کرتے ہیں
میں الجھ کے رہ جاتی ہوں ۔۔۔
تمہارا وہم ہو گا منال ۔۔ارم نظرین چر ا تے ہوئے بولی
شائد ہو سکتا ہے ۔۔۔
خیر سو جاؤ اب بہت رات ہو گئی ہے منال سونے کے لئے لیٹ گئی ۔۔۔
نیند آنکھوں سے دور تھی
منال کہ دل اور دماغ میں شاہویز کی باتیں گونج رہی تھی
منانل کا دل اعتراف کا رہا تھا کہ وہ بھی شاہویز کو پسند کرنے لگا ہے لیکن منال اپنے دل کو ڈپٹ رہی تھی
کب تک سچائی سے نظریں چراوُ گی تم مان کیوں نہیں لیتی تو بھی سرشاہ ویز کو پسند کرنے لگی ہوں ۔۔۔
پیار ہو گیا ہے تمہیں ان سے ۔۔۔
منال کا دل زور زور سے گواہی دے رہا تھا
نہیں ایسا نہیں ہو سکتا ۔۔۔
تو پھر ان کو چوٹ لگی تکلیف تمہیں کیوں ہوئی
کیوں انہیں دکھ دے کر تمہاری آنکھوں میں آنسو آئے
کیوں تم ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بول نہیں پائی اور نظر چرا لی ۔۔۔۔
مان لو منال تمہیں ان سے پیار ہو گیا ہے
کب تک سچائی سے یوں بھاگو گی تم ۔۔۔۔
منال ایک دم اٹھ کر بیٹھ گئی
اور پھر دوبارہ اسے نیند نا ای
ساری رات دل اور دماغ سے جنگ کرتے گزر گئی
فجر کے وقت منال دل سے اعتراف کر چکی تھی کہ وہ بھی سر شاہ ویز کو پسند کرتی ہے
فجر کی اذان پر اٹھ کر نمازپڑھی اور د عا مانگی اور سکون سے لیٹ گئی اور آنکھیں موند لی
💗💗💗💗💗💗💗💗💗
نیند نہ پوری ہونے کی وجہ سے منال کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں
ہوٹل سے ناشتہ کرنے کے بعد وہ سب لوگ دس بجے کے قریب ہوٹل سے روانہ ہو چکے تھے
شاہ ویز اور اس کے ڈیڈ اپنی گاڑی میں واپس جا رہے تھے ڈرائیور کے ساتھ ۔۔۔
منال کے ساتھ والی سیٹ بلکل خالی تھی
منار دل ہی دل میں شاہ ویز کومس کرنے لگیں
آ دھے رستے منال سوتی آئی
اور باقی باہر کے نظارے دیکھتی آئ ۔۔
رات کے وقت منال گھر پر پہنچی
گھر پہنچ کر منال نے سکون کا سانس لیا
اور امی اور ردا سے ملنے کے بعد تھوڑی دیر باتیں کرتی رہی اور پھر سونے کے لئے چلی گئی
تھکاوٹ سے برا حال ہو رہا تھا
بستر پر لیٹنے کے بعد منال کافی دیر تک شاویز کی باتوں کو مس کرتی رہی ۔۔۔
💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗
شاہ ویز اور اس کے ڈیڈ گھر پہنچے تو عائشہ شاہ ویز کو پٹیاں لگی دیکھ کر پریشان ہو گئی اور رونے لگی اور اسجد صاحب سے بو لی
کیا ہوا ہے ا سے پٹیاں کیوں لگی ہوئی ہے ۔۔۔
عائشہ بیگم رو رہی تھی
اسجد صاحب اور شاہ ویز نے مختصر واقعہ بتایا
اور موم پلیز آپ پریشان مت ہوں میں بالکل ٹھیک ہوں اب ۔۔۔
باقی سب بھی ان کے پاس جمع ہو چکے تھے
باری باری شاہ ویز سب سے ملا ۔۔۔۔
سب کے پوچھنے پر شاہ ویز نے مختصر واقعیہ بتایا اور بولا میں اب ٹھیک ہوں ۔۔۔
زیادہ چوٹ نہیں آئی کچھ دنوں تک میں بالکل ٹھیک ہو جاؤں گا ۔۔۔
کھانا لگنے کے بعد سب نے کھانا کھایا اور اس کے شاہ ویز کو چھوڑ سب باتیں کرتے رہے ۔۔۔
شاہ ویز سونا چاہتا تھا اس لئے اٹھ کر اپنے کمرے میں آگیا
عائشہ آئ اس کے پاس لیکن تب تک وہ سو چکا تھا
شاہویز کے ماتھے پر پیار دے کر عائشہ خاموشی سے اپنے کمرے میں آگئی ۔۔۔
اسجد نے اپنی بیوی کو پریشان دیکھا تو انھیں حوصلہ دینے لگے
اور ان کو منال کی بارے میں بتانے لگے
اور بولے وہ سچ میں بہت پیاری بچی ہے بہت زیاد تی ہوئی ہے اس کے ساتھ ۔۔۔۔
سہی کہ رہے ہیں آپ عائشہ بولی ۔۔
اس کے بعد اسجد صاحب نے شاہ ویز کے پلا ن کا بتایا
لیکن یہ غلط ہو گا آپ مناکرتے اسے ۔۔۔۔۔
کیا تھا لیکن وہ الٹا مجھ سے وعدہ لے بیٹھا اور اب مجھے اس کے وعدے کا پاس رکھنا ہے ۔۔۔
عائشہ نےاپنے شوہر کو دیکھا
جو سونے کے لئے لیٹ چکے tتھے
عائشہ اٹھی اور بلب بند کر کے زیرو کا آن کیا اور خود بھی لیٹ گئی ۔۔
💗💗💗💗💗💗💗
رومان نے بہت سی جگہ نور کو تلاش کیا
لیکن وہ ا سے کہیں نا ملی
رومان سخت پریشان تھا
مایوسی سے واپس آیا ۔۔۔
فیاض احمد اب خطرے سے باہر تھے
اور روم میں شفٹ ہو چکے تھے ۔۔۔
رقیہ میں ہمت نہیں تھی وہ فیاض سے سامنا کرتی
رو رو کر برا حال کر لیا تھا اپنا
رومان کو آتا دیکھ کر رقیہ پاس آئ
کچھ پتا چلا نور کا ۔۔۔۔۔
نہیں کچھ پتہ نہیں چلا اس کا ۔۔۔
رقیہ کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا وہ کیا کریں فیاض کو وہ کیا منہ دکھائیں گی ۔۔۔
میں ذرا ابا کو دیکھ لوں ۔۔۔۔
رومان باپ کے پاس چلا آیا
فیاض احمد سو رہے تھے
رومان نے ان کے ہاتھ پکڑے اور اپنے لبوں سے لگا لئے
آنسو لگاتار بہنے لگے ۔۔۔
رومان کو سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کس کس چیز کا ماتم کریں ۔۔۔۔
کیوں کیا اماں آپ نے ایسا ۔
آپ کی ایک ضد نے ہم سب کی زندگی برباد کر کے رکھ دی ہے ۔۔۔
میں کیسے نظریں ملا پاؤں گا منال اور تایُ جان سے
میں کس منہ سے معافی مانگوں گا اب
میں نے کتنا غلط کہا منال کے بارے میں تایا جان کو
اب میں کیسے معافی مانگوں گا تایا جان سے ۔۔۔۔۔
رومان روے جا رہا تھا ۔۔
رقیہ دروازے میں کھڑی رومان کی ساری باتیں سن رہی تھی ۔۔۔
مجھے میرے کیے کی سزا مل گئی ہے
میں نےمنال کے ساتھ زیادتی کی اس کی عزت کو سب کی نظروں میں مشکوک کیا
اس کے کردار پر انگلی اٹھائی
جھوٹ بولے الزام لگاے ۔۔۔۔۔بہت برا بھلا کہا اسے
مجھے منال کی آہ لگ گئی ہے
یا اللہ‎ مجھے معاف کر دینا ۔۔
رقیہ دروازہ بند کر کے باہر آ گئی
اور بنچ پر بیٹھ کر رونے لگی
اتے جاتے کہیں لوگ انہیں روتا دیکھ رہے تھے
ایک دو عورتوں نے رک کر پوچھا بھی تھا
لیکن رقیہ مسلسل روتی رہی بولی کچھ نہ
منال مجھے معاف کر دو
آسیہ معاف کر دو مجھے ۔۔۔یہی لفظ وہ دل میں بولے جا رہی تھی
💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗
ایک ہفتے بعد
فیاض احمد گھر آ چکے تھے
رقیہ سے مکمل بول چال بند تھی
فیاض احمد رقیہ کو فورن طلاق دینا چاہ رہے تھے لیکن رومان نے انہیں ایسا کرنے سے روک دیا تھا
رقیہ نے کہیں بار بات کرنے کی کوشش کی اور معافی مانگی لیکن فیاض احمد نے صاف منا کر دیا
نور کی وجہ سے ان کی پورے محلے میں بہت بدنامی ہوگئی تھی
ہر کوئی طنز کے تیر چلا رہا تھا
نور کے سسرال والے بھی بہت باتیں سنا کر گئے تھے
رومان اور فیاض کا گھر سے باہر نکلنا مشکل ہو گیا تھا
💗💗💗💗💗💗💗💗
منال اکیڈ می جا رہی تھی
لیکن اس ایک ہفتے کے دوران اس کی دوبارہ شاہویز سے ملاقات نہیں ہوئی تھی ۔۔۔
نہ ہی شاہ ویز نے کوئی کوشش کی تھی
سورا سٹاف شاہ ویز کے گھر اس کی عیادت کرنے گیا تھا لیکن منال نے انکار کر دیا تھا جانے سے
منال صبح سکول جانے کے لئے تیار ہو رہی تھی جب اسے آسیہ نے کہا کہ بیٹا آتے ہوئے بیکری سے اچھے والے بسکٹ دو تین قسم کے لے آنا ۔۔۔۔
کیوں امی خیریت ہے نہ ۔۔۔
ہاں بیٹا خیریت ہے آج شام کو تمہارے سسرال والے آرہے ہیں اس لئے بولا ہے لے آنا ۔۔۔
اوکے امی لے آؤں گی
جیتی رہو سد ا خوش رہو ۔۔۔آسیہ دعا دیتی کمرے سے باہر نکل گئی
اس رشتے کو لے کر آسیہ اور منال میں بحث ہوئی تھی لیکن
مشعل اور آسیہ نے منال کو بہت سمجھایا
اور آخر ہاں کروا کے ہی دم لیا تھا ۔۔۔
منال نے ابھی تک لڑکے کی کوئی تصویر نہیں دیکھی تھی
مشعل نے دکھانا چاہی تھی
لیکن منال نے دیکھنے سے انکار کر دیا تھا
اور کہا ایک ہی دفعہ شادی والے دن دیکھ لوں گی
منال ناشتہ کرنے کے بعد سکول کے لیے روانہ ہوگی
💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗
پورا ایک ہفتہ عائشہ بیگم نے شاہ ویز کو اکیڈمی اور آفس جانے سے روکے رکھا اور ریسٹ کروایا
شاہ ویز کی مرضی جلد سے جلدشادی کرنے کی تھی
اسی سلسلے میں آج وہ لوگ آسیہ کی طرف آ رہے تھے
شاہ ویز کے گھر شادی کی تیاریاں شروع ہوچکی تھی
عائشہ بیگم نے آسیہ کو صاف منا کر دیا تھا جہیز لینے سے
آسیہ اٹھتے بیٹھتے اللہ کا شکر ادا کرتے نہیں تھک رہی تھی..
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *