Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode09

Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode09

سرمد صاحب کے کہنے پر آسیہ نے وقار کو فون کیا اور گھر جلدی آنے کو کہا
وقار گھر آئے تو آگے اپنے باپ کو غصے میں دیکھ کر آسیہ کی طرف دیکھنے لگے اور پوچھا ابا جی خیریت ہے آپ اتنے غصے میں کیوں لگ رہے ہیں ۔۔۔۔۔
سرمد نے غصے سے وقار کی طرف دیکھا اور بولے ۔۔ .
تمھاری بیٹی ہماری عزت کا جنازہ نکال کر چلی گئی ہے ۔۔
اور تم مجھ سے پوچھ رہے ہو کہ میں غصے میں کیوں ہو ۔۔۔۔۔۔
وقار نے ایک نظر اپنی بیوی کو دیکھا اور بولے ابا جی آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے ایسی کوئی بات نہیں ہے ہماری منال کبھی ہماری عزت کے ساتھ نہیں کھیل سکتی ۔ .
ابا جی بھروسہ ہے مجھے اپنی بیٹی پر …
بھروسے کی بات تو تم مت کرو میاں تمہارے بھروسے کو مٹی میں ملا کر چلی گئی ہے اب کیا منہ دکھاو گے اپنی برادری میں تم ۔۔۔۔
کس کس سے چھپاؤ گے تم کب تک جھوٹ بولو گے تم
سرمد صاحب غصے میں بولتے رہے ۔۔۔
اباجی مجھے لوگوں کی پرواہ نہیں ہے میں جانتا ہوں میری بیٹی کبھی کوئی غلط کام نہیں کر سکتی مجھے خود سے زیادہ اپنی بیٹی پر بھروسہ اور یقین ہے ۔۔۔۔۔وقار بولے
سرمد صاحب کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے وقار چلتا ہوا ان کے پاس آیا اور گھٹنے کے پاس بیٹھ گیا اور بولے ۔۔۔۔۔۔
ابا جی آپ منال کو اچھی طرح جانتے ہیں میں منال کی تربیت آپ نے خود کی ہے پھر آپ کیسے سوچ سکتے ہیں وہ کوئی غلط کام کر سکتی ہے ۔۔۔۔۔۔وقار ان کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے بولا ۔۔
میری بات سنو وقار آنکھوں دیکھی مکھی کوئی نہیں نگلتا اور تم مجھے سچ سامنے ہوتے ہوئے آنکھیں بند کرنے کا کہہ رہے ہو ۔۔۔۔
تم بتاؤ کہاں گئی منال
کل کی وہ واپس گھر نہیں آئ اس کا کیا مطلب نکلتا ہے ۔۔۔ سرمد صاحب نے وقار سے سوال کیا
ان کے سوال کرنے پر وقار چپ رہا کچھ نہ بو ل پائے کیوں کے وہ خود نہیں جانتے تھے کہ منال کہاں ہے
نہیں ہے تمہارے پاس جواب کیوں کے تم خود نہیں جانتے وہ کہاں گئی ہے
ہو سکتا ہے منال کسی مصیبت میں ہو۔۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس کا کہیں کوئی ایکسیڈنٹ تو نہیں ہوگیا یا پھر کڈنیپ بھی تو ہو سکتی ہے نہ ۔۔۔ورنہ منال اتنی لاپروا کبھی نہیں ہے یہ بات آپ اچھی طرح جانتے ہیں ۔۔۔۔
یار اگر منال کا ایکسیڈنٹ ہوا ہوتا یا کڈنیپ ہوئی ہوتی تو لازمی ہمیں کال آتی تم یہ بھی تو دیکھو کہ نہ کوئی کال آئی ہے نہ کوئی خبر آئی ہے اس کا کیا مطلب نکلتا ہے ۔۔۔
سرمد بولے ۔۔۔!!!!
ابا جی آپ دعا کریں ۔۔۔وقار بولے
بیٹادعا تو میں کروں گا ۔۔لیکن اگر بات فیاض تک پہنچ گئی وہ منال کا سسرال ہے
ابا جی فیاض سے بات کی ہے میں نے اس سے کچھ نہیں چھپایا کل ہی بات کر کے پولیس میں رپورٹ لکھوا آیا ہوں ۔۔۔
کیاکہا پولیس نے تلاش شرو ع کی ۔۔۔۔سرمد صاحب بولے
ابا جی انہوں نے تلاش شرو ع کر دی ہے اپنی ہسپتال میں بھی ٹیم بیجھی ۔۔جلد خبر مل جائے گی آپ بس منال پر بھروسہ رکھیں کبھی وہ غلط کام نہیں کر سکتی ۔۔۔
یار میں بھی منال کو اچھی طرح جانتا ہوں وہ کبھی کوئی غلط کام نہیں کر سکتی بس مجھے اس بات کا غصہ ایک دم سے آگیا کہ کل سے منال گھر سے غائب ہے اور تم لوگوں نے یہ بات مجھ سے چھپائی ہے ۔۔۔
اور میں نے اپنے ان ہاتھوں سے اس کی تربیت کی ہے بس ایک دم مجھے عزت کا خیال آیا اس عمر میں بدنامی برداشت نہیں کر سکتا اب میں ۔۔۔۔
اور وہ بھی اپنی پیاری پوتی کی وجہ سے
مجھے یہ بتاؤ فیاض کا کیا ریکشن تھا اس نے کیا کہا ہے تم سے اور ابھی تھوڑی دیر پہلے رومان بھی آیا تھا پھر منال کا پوچھا اس نے آسیہ سے
تب بھی اس نے اس کو سچ نہیں بتایا بلکہ پردہ ڈال دیا کہ وہ علی اور مشعل کے پاس لاہور گئی ہوئی ہے ۔۔۔۔
تبھی آسیہ بولی ابا جی ہم مجبور ہیں ہم ان کو سچ بتا کر منال سے بدگمان نہیں کرنا چاہتی اللہ نے چاہا تو ہماری منال بہت جلد واپس مل جائے گی ۔۔۔
انشاء اللہ آسیہ کی بات پر وقار اور سرمد دونوں نے کہا ۔۔
وقار بولے __ابا جی!! فیاض سے میں نے کہا ہے اس بات کا ذکر ر قیہ سے مت کرنا ورنہ وہ پورے خاندان میں میری بیٹی کو بد نام کر دی گئی ۔۔۔۔
چلو تم ایسا کرنا وقاص کو ابھی کال کر کے بولو کہ تمہیں اباجی بلا رہے ہیں ۔۔۔سرمد بولے
جی ابا جی میں کرتا ہوں کہ کر وقار اٹھ کھڑے ہوئے اور بولے آ سیہ میری بات سنو آکر ۔۔۔۔۔۔۔
وقار کہ کر کمرے سے باہر نکل گئے اور آسیہ ان کے پیچھے نکل گئی
آسیہ میں نے تمہیں منع کیا تھا ابا جی سے کسی بات کا ذکر مت کرنا تو تم نے میرے منع کرنے کے باوجود ان سے کیوں بات کی
وقار میں ابا جی سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتی تھی رومان آیا اس نے مجھ سے منال کے بارے میں پوچھا تو میں نے وہی بتایا جو آپ کو اباجی نے بتایا ہے لیکن ابا جی کو پتہ نہیں کیا ہوا انھوں نے مجھے دوبارہ اپنے پاس بلایا اور پوچھا کہ منال کدھر ہے ۔۔۔۔۔
مجبوراً مجھے انہیں سچ بتانا پڑا ۔۔۔ .
اچھا اگر اب تم نے اباجی کو بتا ہی دیا ہے تو میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتا ہوں کسی اور کے آگے مت ذکر کر دینا ورنہ ہماری اپنی بیٹی بد نام ہو گئی ۔۔وقار احمد خفکی سے بولے
اچھا یہ بتاؤ رومان اپنی بائیک ادھر ہی چھوڑ کر چلا گیا ہے کیا باہر اس کی بائیک کھڑی ہے لیکن وہ خود موجود نہیں ہے ۔۔۔۔
پتا نہیں شائد کسی کام سے چلا گیا ہو آ کے لے جائے گا ۔۔۔۔آسیہ بولی
اچھا تم ایسا کرو چائے کا کپ بنا دو میں تب تک اس کی بائیک اندر کھڑی کر دوں جب آیا تو وہ اندر سے ہی لے کر چلا جائے گا ۔۔۔کہ کر باہر نکل گئے
اور آسیہ چائے بنانے چلی گئی
*******************************
منال کو جب ہوش آیا تو اس کے کانوں میں کچھ آوازیں پڑھیں ۔۔۔وہ ذہن پر زور دینے لگیں کہ وہ کہاں ہے آگے پیچھے دیکھنے لگی
خود کو ایک انجان کمرے میں موجود پاکر منال کے رونگھٹے کھڑے ہو گئے ۔۔۔
اور منال کو سب یاد آگیا کہ وہ تو گاڑی میں موجود تھی اب وہ کیسے یہاں پر آگئی ہے
دروازے کے پار سے آوازیں آ رہی تھیں
منال جلدی سے اٹھی اور دروازے کے پاس آ کر کان لگا کر کھڑی ہو گئی
آواز مقصود کی تھی وہ بول رہا تھا کہ میں نے تمہارا کام کر دیا ہے اب میرے پیسے میرے حوالے کرو مجھے اپنے گھر جانا ہے میری ماں کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ..۔۔۔
منال سننے کی کوشش کر رہی تھی آواز کبھی اونچی ہو جاتی کبھی آہستہ ہو جاتی ۔۔۔۔۔۔
منال کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے
منال چلتی ہوئی بیڈ پر آ کر بیٹھ گئی کیوں کہ اس میں مزید کھڑا ہونے کی ہمت نہیں تھی سر اس کا چکر ا رہا تھا
یا اللہ میں کس مصیبت میں پھنس گئی ہو میری مدد کر مجھے یہاں سے نکلنے کا کوئی رستہ دکھا دے ۔۔۔
*****************************
کیوں کیا تم نے میرے ساتھ ایسا منال کیا قصور تھا میرا اتنا بڑا فریب دیا
میں نہیں جانتا تھا معصوم چہرے کے پیچھے اتنا فریب ہو گا ۔۔۔میری فیلنگز کے ساتھ تم کھیلتی رہی ہو اس کے لئے میں تمہیں ساری زندگی معاف نہیں کروں گا
رومان تایا کے گھر سے پیدل ہی نکل آیا اور چلتا ہوا بہت دور نکل آیا ۔۔۔
رومان رو رہا تھا ۔
*************************
رومان رو رہا تھا
اس سے برداشت نہیں ہو رہا تھا جسے اس نے اتنا چاہا وہ ایسا کر گئی اس کے ساتھ
اس کو لگ رہا تھا شدت غم سے دل پھٹ جائے گا ۔۔۔
مجھے نفرت ہو گئی تم سے ۔۔۔تمہارے نام سے
میرے پیار کا یہ صلہ دیا تم نے ۔۔
ارے اگر ایسا ہی کرنا تھا تو کیوں اپنایا میرا پیار ۔۔
میرے ساتھ کھیل کھیلا
میں آج ہی تم سے ہر تعلق ختم کرتا ہوں
میرے لئے تم مر گئی ہو ہمیشہ کے لئے ۔۔
رومان شدت جذبات سے بولتا ہوا کھڑا ہوا ۔۔۔
اور اٹھ کر تایا کے گھر کی طرف چلا گیا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منال بیڈ پر بیٹھ کر رو رہی تھی
جب کمرے کا دروازہ کھول کر کوئی اندر داخل ہوا ۔۔۔۔اور چلتا ہوا منال کے پاس آ کے رک گیا ۔۔۔۔
پیس بہت عمدہ ہے تم بےفکر رہو یہ اب کہیں نہیں جائے گی میرے پاس ہی رہے گی …اس سے میں لاکھوں روپے کما سکتا ہوں ہاہاہا
بہت شا طر دماغ ہے تمہارا ۔۔۔
بغور منال کو دیکھتے ہوئے بولا ۔۔ ۔
منال اپنے سامنے اجنبی شخص کو کھڑا دیکھ کر گھبرا گئی اور فورا اٹھ کر کھڑی ہو گئی اور بولی تم کون ہو ۔۔۔
کس لیے مجھے پکڑا ہے ۔۔۔۔
پہلے کا تو پتہ نہیں لیکن اب تمہیں دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے تم سے پیار ہو گیا ہے ۔۔۔
اب تم میرے پاس رہو گی ۔۔
اور جہاں تک رہی بات کے میں کون ہوں تو یہ تمہارے لئے جاننا ضروری نہیں ہے ۔۔۔
بس اتنا سمجھ لو اب سب کچھ تمہارا میں ہی میں ہوں گا ۔۔۔منال کے نزدیک ہوتے ہوے بولا
منال اسے قریب ہوتا دیکھ کر پیچھے ہونے لگی
وہ منال کو پیچھے ہوتا دیکھ کر مزید آگے ہونے لگا ۔۔۔نظریں منال کے چہرے پر جما رکھی تھی ۔۔۔ہوس زدہ نظروں سے دیکھ رہا ہے تھا
شراب کے نشے میں چور تھا
منال کے پیچھے دیوار تھی
منال کے نزدیک پہنچ چکا تھا ۔۔منال کو اس کے وجود سے عجیب گندی سی بد بو آئ
بات کرنے کے لئے جب منہ کھولا بو کے ہولے آتے باہر ۔۔۔
سانولے رنگ کا ہٹا کٹا مرد تھا چہرے پر مونچھ تھی ۔۔
منال نے منہ دوسری پھیر لیا اور دونو ں ہاتھوں سے زور لگاتے ہوئے اس کو دھکا دیا ۔۔
وہ اس حملے کے لئے تیار نہ تھا
نشے کی وجہ سے بہک چکا تھا دھکا
ایک دم پیچھے ہٹ گیا اور سر کو جھٹک کر آگے پیچھے کرنے لگا
منال موقعے کا فائدہ اٹھا کر دروازے کی طرف بھاگی ۔۔۔
منال کو بھاگتے دیکھ کر ہنسا اور لڑ کھڑاتے ہوے اس کے پیچھے بڑھا
منال جلدی سے دروازہ کھول کر باہر نکل گئی اور صوفے کے پیچھے چھپ کر بیٹھ گئی ..
اور آیت الکرسی کا ورد کرنے لگی ۔۔۔۔منال کی ٹانگیں کانپ رہی تھی ڈر اور خوف سے
اس کی عزت خطر ے میں تھی . ۔
نشے سے چور وہ باہر نکلا اور بولا ۔۔۔۔کہاں چھپی ہو باہر آ جاؤ شاباش ۔۔۔۔دیکھو میرا موڈ خراب نہ کرو ورنہ کسی قابل نہیں چھوڑوں گا ۔۔۔۔
نشہ اپنا اثر کر چکا تھا
وہ منال کو اگے پیچھے دیکھ رہا تھا ۔۔
۔منال مزید نیچے ہو کر بیٹھ گئی
منال کو ڈر تھا وہ کسی بھی وقت اس تک پہچ سکتا تھا ۔۔۔
چلتا ہوا ایک دم وہ صوفے پر منہ کے بل گرا
اور اسی صوفے کے پیچھے منال بیٹھی تھی
منال نے منہ کے اگے ہاتھ رکھ کے چیخ کا گلا دبایا ۔۔۔۔
کہاں چھپی ہو ۔۔۔!شاباس آ جاؤ اب
شراب کی بوتل ٹیبل سے اٹھا کر منہ کو لگاتے ہوئے بولا ۔۔۔۔۔
اچھا تو میرے ساتھ چھپن چھپائی کھیل رہی ہو
ٹھیک ہے اگر تم باہر نہیں آتی تو میں خود تمہیں ڈھونڈ لیتا ہوں ۔۔۔۔
منال کو اپنی جان ٹانگوں سے نکلتے محسوس ہوئی ۔۔۔
وہ اٹھا ساتھ ہی اس کے نمبر پر کال آ گئی
بے وقت کال کرنے والے کو ایک موٹی سی گالی نکالتے کال کاٹ دی ۔۔۔ ۔
اور کھڑا ہو کر پردوں کے پیچھے دیکھنے لگا کال دوبارہ آنے لگی ۔۔۔ .
اس بار نمبر دیکھا تو منہ کا ذائقہ بدل گیا اور غصے سے کال اٹھا لی ۔۔۔۔۔
اور بولنا کہ تمہیں اب کیا کام پڑھ گیا ہے جو تم نے دوبارہ کال کی ہے
میں نے تمہیں صرف اس لیے کال کی ہے
خبردار کرنے کے اس لڑکی کے گھر والے اس کو ڈھونڈ رہے ہیں اور خبر پولیس تک پہنچا دی ہے تم محتاط ہو کر رہ رہنا ۔۔۔
اور کسی قیمت پر بھی وہ لڑکی ان تک نہیں پہنچ نہیں چاہیے
تم فورا سے پہلے اپنا کام ختم کر کے اس لڑکی کو وہاں پہنچا دو جہاں کوئی اس لڑکی کو نہ جانتا ہوں ۔۔۔۔
منال ساری باتیں سن رہی تھی کیوں کہ غلطی سے ہاتھ لگنے کی وجہ سے کال کا سپیکر اوپن ہو گیا تھا
کام تو میں اپنا تب ہی ختم کر پاؤں گا جب وہ لڑکی میرے ہاتھ آئے گی ۔۔۔۔
کیا مطلب کہاں گئی وہ لڑکی ۔۔۔۔
مجھے چکمہ دے کر کہیں چھپ گئی ہے ۔۔۔اور میں اسی کو ڈھونڈ رہا ہوں میرے ساتھ چھپن چھپائی کا کھیل کھیل رہی ہے ۔۔۔۔
منال کی آنکھیں حیرت کے باعث کھلی کی کھلی رہ گئی تھی ۔۔وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ زندگی نے یہ موڑ بھی دکھانا تھا ۔۔۔
منال سانس روکے سب سن رہی تھی ۔۔
تم اسے جلدی سے ڈھونڈو اور ابھی کے ابھی یہاں سے لے کر نکل کر کسی دوسری جگہ پر لے جاؤ کیوں کہ یہاں پر رہنا بھی تم لوگوں کیلئے خطرہ سی خالی نہیں ہے ۔۔۔۔اور میں نہیں چاہتی کہ میرا کوئی پول کھلے اور یہ لڑکی دوبارہ سے یہاں واپس آئے
تم اس کی زندگی جہنم سے بھی بدتر بنا دو جیسے چاہیے سلوک کرو ۔۔لہجے میں نفرت ہی نفرت تھی
تم بےفکر رہو میں کسی کے ہاتھ نہیں آنے والا نہ ہی یہ آے گی ۔۔۔
۔کہنے کے ساتھ فون بند کر دیا
فون کو صوفے پر پٹک کر وہ صوفے کے پیچھے انے لگا ۔۔
کیوں کے اسے شک سا ہوا پیچھے کوئی ہے کسی کی سسکی کی آواز سنی ۔۔۔
وہ آرام سے چلتا ہوا منال کے پاس آ گیا اور چپ کر کے اس کے پاس بیٹھ گیا ۔۔۔
منال نے اپنے گھٹنے پر سر رکھا ہوا تھا ۔۔۔۔
منال کو بالوں سے پکڑ کر جٹکا دیتا بولا ۔۔۔۔اچھا تو یہاں بیٹھی ہو مجھ سے چھپ کے
بہت تنگ کیا مجھے ۔۔۔
منال کے منہ سے چیخ نکل گئی ۔۔۔اور وہ خوف سے کانپنے
لگی ۔۔۔
منال کو بالوں سے پکڑکر کھڑا کیا ۔۔۔۔
منال نے اس کے اگے ہاتھ جوڑ ے ۔۔پلیز چھوڑ دو یہ ظلم نہ کرو ۔۔کیا بگاڑا ہے میں نے تمہارا ۔۔۔
منال کے رونے کا کوئی اثر نہ ہوا اس پر حیوانیت طاری ہو چکی تھی وہ منال کو گھسیٹتا ہوا کمرے کی جانب بڑ ھنے لگا ۔۔۔
منال نے اپنے دانت اس کے بازو پر گاڑ دیے ۔۔۔وہ اس حملے کے لئے تیار نہ تھا
ایک دم اس کی گرفت کمزور ہوئی ۔۔
دانت اتنے زور سے گاڑ ے منال نے
کے خون رسنے لگا بازو سے ۔۔۔۔۔۔ منال کو موٹی سی گالی دی اس نے ۔۔۔۔
منال بھاگ کر پیچھے ہوئی اور ٹیبل پر پڑا شیشے کا گلدان
اٹھا لیا اور بولی خبر دار جو قریب آے ورنہ مار دوں گی ۔۔۔
دور ھٹو ۔۔۔منال کے ہاتھوں میں گلدان دیکھ کر بولا ۔۔۔اس کو پھینک دو شاباش نیچے ۔۔۔۔
اور ایک دم اگے بڑا ۔۔۔
منال پیچھے ہوئی اور اس کا دھیان چکانے کے لئے ٹیبل پر گلاس ہاتھ مار کر نیچے گرا دیا
اس کا دھیان جیسے ھی نیچے گرے گلاس کی طرف ہوا منال نے پورا زور لگاتے ہوئے شیشے کا گلدان اس کے سر پر دے مارا ۔۔۔
شیشے کا گلدان سر پر لگنے سے سر سے خون کا فوارہ سا نکلنے لگا اور خون تیزی سے بہنے لگا وہ وہیں بیٹھ گیا اور سر پر ہاتھ رکھ لیا ۔۔۔۔
منال نے اس کا خون دیکھا تو تیزی سے پیچھے ہٹی ۔۔۔اور باہر کے دروازے کی طرف بھاگی ۔۔۔۔
وہ جلد سے جلد یہاں سے نکل جانا چاہتی تھی اس سے پہلے کے وہ دوبارہ اسے پکڑ لیتا
منال نے جلدی سے دروازے کا لاک اوپن کیا اور باہر نکل گئی منال کو باہر نکلتے ہوئے وہ دیکھ چکا تھا اٹھنا چاہا اس نے لیکن چکر آنے کی وجہ سے وہ دوبارہ وہیں پر بیٹھ گیا سر سے خون تیزی سے نکل رہا تھا صوفے پر پڑی اپنی شرٹ اٹھا کر اس نے خون والی جگہ پر رکھ کر دبایا تا کہ خون نکلنا بند ہو اور موبائل اٹھا کر کال کرنے لگا ۔۔۔
منال جلدی سے لفٹ کے اندر چلی گئیں اور لفٹ کا بٹن پریس کر دیا
منال نے سیڑھیوں سے جانے کا ارادہ نہیں کیا تھا کیونکہ وہ ڈر رہی تھی اگر وہ دوبارہ اس کے پیچھے آیا تو وہ پکڑی نہ جائے ۔۔۔
منال جلد سے جلد یہاں سے نکلنا چاہتی تھی ۔۔۔
لفٹ میں اور بھی عورتیں اور مرد موجود تھے وہ سب بڑی عجیب نظروں سے منال کو دیکھ رہے تھے منال آنسو ضبط کرتی سر جھکائے کھڑی رہی اور جیسے ہی لفٹ رکی تو سب سے پہلے باہر نکلیں اور بھاگ کر باہر آ گئی روڈ پر ۔۔
وہ تیز تیز بھاگ رہی تھی وہ نہیں جانتی تھی وہ کس جگہ پر ہے بس وہ بھاگے جا رہی تھی پاؤں پر بہت سےپتھر چھ رہے تھے جوتے وہیں رہ گئے تھے ۔۔۔۔دوپٹہ بھی بھاگنے کی وجہ سے کہیں گر گیا تھا
راستے میں بھاگتے ہوئے اسے ا یک پی سی او شاپ نظر آئی ۔۔۔وہ شاپ کے پاس آئیں اور اجازت لے کر کال کرنے لگیں بیل جارہی تھی لیکن آگے سے کوئی کال رسیو نہیں کر رہا تھا ۔۔۔
منال ڈر بھی رہی تھی اور بار بار اپنے پیچھے بھی دیکھ رہی تھی
دو تین بار جب کال کرنے پر کسی نے کالا ریسیو نہ کی تو وہ رسیور رکھ کر دوبارہ سے بھاگنے لگیں ۔۔۔۔
دور سے منال کو ایک بس آتی ہوئی نظر آئیں منال نے بس کواشارہ کیا
اور بس رکنے پر اس میں چڑ گئی اور سیٹ پر بیٹھ گئی ۔۔۔۔بس میں زیادہ سواریاں نہیں تھی ۔۔۔۔سیٹ پر بیٹھ کر کب سے رکے آنسو گرنے لگے ۔۔۔ساتھ بیٹھی عورت بڑی عجیب نظروں سے دیکھ رہی تھی اسے روتا دیکھ کر بولی کیا بات ہے بیٹا ۔۔۔کہاں جانا ہے ۔۔رو کیوں رہی ہو ۔۔
منال نے اس عورت کے پوچھنے پر آنسو صاف کیے ۔۔۔
اور بولی انٹی مجھے گھر جانا ہے اپنے ۔۔۔
کرا ے والا پاس آ کر کرایہ مانگنے لگا ۔۔۔جب منال کے پاس آیا تو منال کے ہاتھ خالی تھے وہ بولی پیسے نہیں ہے پاس ۔۔۔
جس پر کنڈ کٹر بولا ۔۔۔۔۔پاس پیسے نہیں اور بیٹھنے کا شوق ہے اترو نیچے ۔۔۔۔
منال نے منتیں کی ۔۔
لیکن اثر نہ ہوا اور منال کو بازو سے پکڑ کر نیچے اتارنے لگا ۔۔۔۔منال منتیں کر رہی تھی ۔۔۔سب لوگ منال کو دیکھنے لگے تھے ۔۔۔۔
تبھی وہی عورت بولی چھوڑو اس کا بازو ۔۔۔اور یہ لو کرایا اور جہاں اس نے جانا ہے وہاں اتار دینا اسے ۔۔۔۔
اس نے کرایہ لے کر بیٹھنے دیا اور اگے بڑ ھ گیا ۔۔۔
منال سیٹ پر بیٹھ کر اس عورت کا شکریہ ادا کرنے لگی
کوئی بات نہیں بیٹا آپ بتاؤ کہاں جانا ہے وہیں یہ آپ کو اتار دیں گے ۔۔۔
منال نے اپنے اسٹاپ کا بتایا ۔۔تبھی وہ عورت بولی وہ اسٹاپ تو یہاں سے کافی دور ہے دوسری بس میں جانا پڑے گا
تم ایسا کرو میرے ساتھ اتر جانا میں تمہیں وہاں سے بیٹھا دوں گی دوسری بس میں ۔۔۔
*******************************
تمہیں کہا تھا اس کو بھاگنے نہیں دینا ۔۔۔اتنی سی لڑکی نہیں سمبھال سکے ۔۔۔اور باتیں اتنی بڑی بڑی کر رہے تھے ۔۔۔اب اگر وہ واپس آ گئی تو میرا سارا پلان خراب ہو جائے گا ۔۔۔۔
وہ میرے سر میں مار کر بھاگی ہے ۔۔۔۔خون نکل رہا ہے ۔۔
ہاں تو مرد ہو اتنا سی تکلیف برداشت نہیں کر پاے اور hہاتھ سے جانے دیا اسے
جاؤ جا کر ڈھونڈو اسے اور اب سیدھی ٹانگیں توڑ دینا اس کی پھر نہیں بھاگ سکے گی وہ ۔۔۔مل جائے تو کال کر دینا
میرے لئے فکر بڑھا دی ہے مزید ۔۔جا کے تلاش کرو اپنے بندوں کو کہو ۔۔شام سے پہلے مل جانی چاہیے ۔۔۔۔کہ کر فون بند کر دیا ۔۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *