Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer NovelR50758 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode06
No Download Link
581.2K
29
Rate this Novel
Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode01 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode02 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode03 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode04 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode05 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode07 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode08 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode09 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode10 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode11 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode12 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode13 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode14 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode15 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode16 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode17 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode18 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode19 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode20 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode21 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode22 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode24 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode25 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode26 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode27 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode28 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Last Episode Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode23 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode06 (Watching)
Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode06
Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode06
شاہ ویز مدیحہ کے ساتھ شاپنگ سینٹر آیا
کالا رنگ شاہ ویز پر بہت جچ رہا تھا ایک پل کے لئے مدیحہ کو اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوا ۔۔۔
بلاشبہ وہ ایک مکمل شخص تھا ۔۔۔۔۔۔
مدیحہ نے شاہ ویز کی بے ساختہ تعریف کی کے آج وہ بہت ہینڈسم لگ رہا ہے ۔۔۔۔
مدیحہ خود پنک پینٹ پر پرپل ٹی شرٹ میں ملبوس
تھی فل میک اپ کے ساتھ شولڈر کٹ بالوں کو کھلا چھوڑ رکھا تھا ۔۔۔۔
ایک پل کی لئے شاہ ویز کو مدیحہ کا میک اپ دیکھ کر بہت الجھن ہوئی کیوں کی وہ بہت اوور لگ رہی تھی ہر کوئی رک کر دونو ں کو دیکھتا اور پھر چل پڑتا ۔۔۔۔
لیکن پھر یہ سوچ کر چپ ہو گیا کہ مجھے کیا ۔۔۔۔
مدیحہ ایک کپڑوں والی شاپ میں شاہ ویز کو لے گئی ۔۔۔۔مدیحہ ڈریس چیک کر رہی تھی ساتھ ساتھ شاہ ویز کی را ے بھی مانگ رہی تھی کے آئیڈیا دو کیسے ڈریس لوں ۔۔۔
شاہ ویز کو سخت بوریت ہوئی تو موبائل نکال کر گیم کھیلنے لگا ۔۔۔
مدیحہ کے مشورہ مانگنے پر وہ اس کی طرف متوجہ ہوا اور بولا ویسے تو مجھے لیڈیز کی شاپنگ کا کوئی تجربہ نہیں ہے اگر تم پھر بھی میری رائے مانگ رہی ہوں تو میں کہوں گا کہ نہ مانگو کیوں کہ مجھے بالکل بھی اندازہ نہیں ہے کہ کون سا کلر کس لڑکی پرسوٹ کرتا ہے ۔۔۔۔
مدیحہ نے ہار نہیں مانی اور بولی ؟؟میں نے ہر لڑکی کی بات نہیں کی میں نے اپنی بات کی ہے کہ مجھ پر یہ کلر کیسا لگے گا کیا بتاؤ ۔۔۔۔۔
شاہ ویز دل سوچنے لگا مجھ سے پہلے بھی تو یہ اپنی شاپنگ خود کرتی ہو گی پھر کس سے پوچھتی ہو گی بتاؤ کیسا لگا یہ رنگ مجھ پر ۔۔۔۔۔۔
مجبورا شاہ ویز اسے بتاتا رہا یہ نہیں وہ لو وہ زیادہ اچھا ہے ۔۔۔جو الٹا سیدھا نظرآیا ۔۔
مدیحہ کبھی خوش اور کبھی حیران ہو جاتی ۔۔۔۔
تین گھنٹے کے بعد بلا آخر مدیحہ کی شاپنگ کمپلیٹ ہوئی اور بولی مجھے بہت بھوک لگ رہی ہےآؤ کسی ریسٹورنٹ جا کر کھا پیلیتے ہیں ۔۔
تھک تو شاہ ویز بھی گیا تھا کیوں کہ اس کا یہ پہلا تجربہ تھا کسی لڑکی کے ساتھ یو ں شاپنگ کرنے کا ۔۔۔۔
اور وہ دل میں سوچ رہا تھا توبہ توبہ اتنے نخرے ہوتے ہیں لڑکیوں کے کوئی چیز انہیں ایک مرتبہ پسند نہیں آتی
شاہ ویز اسے لئے شاپنگ سینٹر میں ہی بنے کیفے میں لے آیا اور بولا کیا کھانا ہے مینو کارڈ سامنے رکھے ہوے تھے ۔۔
مدیحہ کارڈ اٹھا کر دیکھنے لگی اور آرڈر نوٹ کر وا دیا شاہ ویز نے صرف اورینج جوس کا آرڈر دیا اپنا کیوں کے اسے بھوک نہیں تھی ۔۔۔۔
۔۔آرڈر دینے کے بعد مدیحہ بولی اج تم عجیب بی ہیو کر رہے ہو خریت ہے سب ۔۔۔۔
ہاں سب خریت ہے بس یار مجھے لڑکیوں کی شاپنگ کا کوئی تجربہ نہیں ہے اس لیے آج تھک گیا ہوں تھوڑا ۔۔۔
شاہ ویز ٹیبل پر رکھے فریش پھولوں کے ساتھ کھیلتا ہوا بولا ۔۔۔
مدیحہ ہوں کر کے رہ گئی اور بولی عادت ڈال لیں کل کو اگر کرنی پڑگئی تو کیا کریں گے ۔۔۔۔
اس لئے پہلے سے عادت ہونی چاہیے ۔۔ویٹر ان کا آرڈر سرو کرنے لگا ۔۔۔۔
اس کے جانے کے بعد مدیحہ بولی !
آپ کی اور میری ماما کی خواہش ہے کہ ہم دونوں کی شادی ہو جائے وہ اپنی دوستی کو رشتے داری میں بدلنا چاہتی ہیں ۔۔۔
شاہ ویز میں آپ کی بارے میں کچھ زیادہ نہیں جانتی آپ کی پسند نا پسند کا مجھے علم نہیں ہے جس طرح مجھے آپ کی کسی چیز کا نہیں پتا ویسے ہی آپ بھی میرے بارے میں کچھ نہیں جانتے ۔۔۔۔۔۔
اس لئے ہم دونوں کی ماؤں کا خیال ہے کہ ہم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ٹائم سپینڈ کریں ۔۔
ایک دوسرے کی پسند نہ پسند کو جانے ۔۔۔
مدیحہ برگر کھاتے ہوئے بولی ۔۔۔۔
جی بالکل میں جانتا ہوں لیکن میں آپ کو سچ بتاؤ ابھی میرا کوئی ارادہ نہیں ہے شادی کرنے کا میں ابھی اپنی لائف کو انجوائے کرنا چاہتا ہوں ۔۔شاہ ویز جوس پیتے ہوئے بولا
نو پرابلم میں بھی ابھی شادی نہیں کرنا چاہتی ۔۔۔۔بس ماما کی وجہ سے مجبور ہو گئی ہو ۔۔۔۔۔
مدیحہ اپنا بر گر ختم کرتے ہوئے بولی ۔۔۔۔
تھینک یو سو مچ آپ نے اپنا ٹائم میرے ساتھ سپینڈ کیا ۔۔۔
مجھے اچھا لگا ہے اب میں چلتی ہوں مجھے اپنی ایک دوست کی طرف بھی جانا ہے آپ سے پھر ملاقات ہو گئ اپنا خیال رکھنا اللہ حافظ ۔۔۔۔۔
مدیحہ کے ساتھ شاہ ویز بھی کھڑا ہو گیا اور پارکنگ میں کھڑی اپنی کار کی طرف آ گیا ۔۔۔
مدیحہ کو اس نے آفر کی کے وہ اسے اس کی دوست کی طرف ڈراپ کر دیتا ہے لیکن مدیحہ نے انکار کر دیا اور بولی۔۔۔۔!!!!
آگے اس کی وجہ سے آپ کا بہت ٹائم ویسٹ ہوا ہے میں خود چلی جاؤں گی ۔۔۔۔
اوکےاز یو وش ۔۔۔۔
شاہ ویز اپنی گاڑی میں آ کر بیٹھ گیا اور گاڑی سٹارٹ کر لیں ۔۔اسی لمحے ۔شاہ ویز کے فون پر ماما کی کال آئی وہ پوچھنے لگی کے ہو گئی ہے شاپنگ ۔۔۔۔
شاہ ویز موم سے بات کرنے لگا ۔۔۔۔۔۔
مدیحہ پارکنگ میں آ کر کھڑی ہو گئی اور بیگ سے موبائل نکال کر ان کی ساتھ لگائیں لیا تھوڑی دیر تک بات کرنے کے بعد مدیحہ نے فون بند کر دیا۔۔۔
شاہ ویز مدیحہ کو ہی دیکھ رہا تھا اور بات موم سے کر رہا تھا ۔۔۔
تب ہی اس کی نظر مدیحہ کے پاس آ کر روکتی گاڑی پر پڑی جس کی فرنٹ سیٹ پر ایک لڑکا بیٹھا ہوا تھا مدیحہ نے شاپنگ بیگ پچھلی سیٹ پر رکھ کر خود فرنٹ سیٹ پر اس لڑکے کے ساتھ بیٹھ کر چلی گئی ۔۔۔۔
شاہ ویز نے دیکھ کر سر جٹکا اور فون بند کر کے گاڑی سٹارٹ کرنے لگا گھر جانے کے لئے ۔۔۔۔
*************************
ماضی
آج مشعل کی شادی تھی بارات کا انتظام ہوٹل میں کیا گیا تھا صبح سے گھر میں افراتفری کا عالم تھا ۔۔۔۔
صبح ناشتے سے فارغ ہونے کے بعد منال مشی کو لے کر بیوٹی پارلر روانہ ہو گئی تھی ۔۔۔۔بابا ان دونو ں کو چھوڑنے گئے تھے
باقی سب کی چیزیں منا ل نے رات کو مہندی سے فارغ ہونے کے بعد ہی سیٹ کر کے رکھ دی تھی ۔۔۔۔ایک بجے برات نے ہوٹل پہنچ جانا تھا مشعل ریڈ کلر کے لہنگے جس پر ڈل گولڈن کلر کا کام کیا گیا تھا ۔۔ مشعل دلہن بن کر بہت پیاری لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔
منال بلو لہنگے پر گولڈن کام کیا گیا تھا ساتھ گولڈن شرٹ جس کے بازو اور گھیر ے پر بلو کام کیا گیا تھا ساتھ بلو دوپٹہ جس کی کناری پر گولڈن کام تھا میچنگ جیولری میں بالوں کو اسٹریٹ کیے ۔۔۔۔۔منال بہت خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔۔
پالر سے ان دونوں کو پک کرنے سے رومان آیا تھا آج رومان نیوی بلو کلر کی شلوارقمیض میں تھا جس کے گلے پر کڑھائی ہوئی وی تھی ۔۔۔۔۔مشعل اور منال پارلر سے باہر آئیں تو رومان گاڑی کے ساتھ ٹیک لگا کر دونوں کا ویٹ کر رہا تھا ۔۔۔۔۔مشعل گونگھٹ میں تھی
منال پر نظر پڑی تو رومان کو اپنی نظریں ہٹانامشکل ہو گیا رومان پر نظر جب منال کی پڑی تو اسے اپنی طرف دیکھتا پا کر منال شرما گئی اور سر کو جھکا لیا ۔۔۔۔
رومان نےگاڑی کی پچھلی سیٹ کا دروازہ کھولنا اور مشعل کو بیٹھنے میں مدد دی ۔۔۔۔
رومان چلا گاڑی رہا تھا لیکن اس کی نظریں بار بار پیچھے بیٹھی منال پر جا رہی تھی سامنے لگے شیشے سے وہ پیچھے بیٹھی منال کو مکمل نظروں کے گھیرے میں لیے ہوئے تھا ۔۔۔۔۔
منار کا دل دھک دھک کرنے لگا ہوا تھا
_______________
منال کا دل دھک دھک کرنے لگا ۔۔۔
کیوں کے آج سے پہلے اس نے کبھی رومان کی نظروں میں اتنا پیار نہ دیکھا تھا اپنے لئے ۔۔۔
منال کو خود پر ناز ہونے لگا ۔۔۔۔۔
مشعل جو کب سے بیٹھی دیکھ رہی تھی رومان کو اور اب منال کا شرمانا ۔۔۔۔۔۔
شادی میری ہے شرمانا مجھے چاہیے لیکن یہاں تم دونو ں شرما رہے ہو ۔۔۔۔مشعل تنگ کرتے ہوے بولی ۔۔۔۔
مشعل کی بات پر منال کے ساتھ رومان بھی شرمندہ ہو گیا ۔۔۔
اور بولا آپ اس لئے نہیں شرما سکتی ابھی کیوں کے ابھی علی بھائی نہیں پاس ۔۔۔جب وہ ہوے تو آپ نے بھی شرمانا ہے ۔۔۔۔
رومی کی بات پر مشعل ہنس دی اور بولی اچھا بس بس ۔۔۔۔۔اب دھیان سے گاڑی چلاؤ
اوکے جناب جیسے آپ کا حکم ۔۔۔۔
پانچ منٹ بعد گاڑی ہوٹل کے باہر رکی بارات آنے والی تھی ۔۔۔منال جلدی سے گاڑی سے باہر نکلی اور مشعل کی دوست کی ہیلپ سے اسے برائیڈل روم میں چھوڑ آئ اور خود آ کے بارات کے استقبال کے لئے تیاری کرنے لگیں تازہ پھول پلیٹوں میں ڈال کر پلٹیں سیٹ کی ۔۔۔۔۔۔ہال میں موجود لڑکیوں اور بچیوں کو پھولوں کی پلیٹیں دے کر برات کے استقبال کے لیے کھڑا کیا ۔۔۔۔۔ بارات آ چکی تھی
ڈھول اور بینڈ با جے کے ساتھ بارات آئ تھی ۔۔۔ پھولوں کی پتیوں سے بارات کا استقبال کیا گیا ۔۔۔
بارات کا راستہ روکا گیا اور منال نے پیسے لے کر بارات کو اندر داخل ہونے دیا ۔۔۔۔
مرد اور عورتوں کا علیحدہ علیحدہ انتظام کیا گیا تھا
علی نے گولڈن کلر کی شیروانی پہن رکھی تھی ۔۔۔۔۔ہر طرف گہما گہمی کا عالم تھا ہر کوئی خوش تھا
رقیہ بیگم ایک طرف منہ پھلائے بیٹھی تھی
بہت سی جاننے والی عورتیں ان کو رومان اور منال کی منگنی کی مبارکباد دے رہے تھے ۔۔۔۔
جسے بے دلی سے وصول کر رہی تھی ۔۔۔۔۔
کھانا کھلا تو سب کھانے پر ٹوٹ پڑے منال نے مشعل کے ساتھ ہی کھانا کھایا ۔۔۔
۔آسیہ خوش بھی تھی اور اداس بھی تھی ۔۔بار بار آنکھوں میں آنے والا پانی وہ سب سے چھپا کر صاف کر رہی تھی
کھانا کھانے کے بعد مشل کو ا سٹیج پر لایا گیا ۔۔۔۔
اور رسم کے مطابق منال اسٹیج پر بیٹھ گئی اور علی کو بیٹھنے کی جگہ نہ دیں اور بولی اگر آپ کو جگہ چاہیے تو پہلے یہاں پیسے رکھیں ہاتھ آگے کرتے ہوئے بولی ۔۔۔۔۔
علی نے جیب سے پانچ روپے کا سکہ نکال کر منال کے ہاتھ پر رکھا اور بولا مانگنے والے کو پانچ یا دس روپے دیئے جاتے ہیں اس سے زیادہ نہیں ۔۔۔۔
علی کی بات پر سب ہنسنے لگے
منال بولی کوئی نہیں جی اگر آپ کو میری آپی چاہیے تو پہلے میرا لاگ دیں تبھی بیٹھنے دوں گی ۔۔۔۔منال مزید پھیل کر بیٹھ گئی
علی نے تھوڑی دیر اور منال کو تنگ کیا پھر سب کے کہنے پر منال کو لاگ دے کر اپنی جان چھڑوائی ۔۔۔۔۔۔
منال ہنستے ہوے اسٹیج سے اتر گئی ۔۔۔
علی کو مشعل کے برابر بٹھایا گیا اور ان دونوں کا منہ میٹھا کروایا گیا سب نے باری باری سلامی دی اور پھر فوٹو سیشن کافی دیر تک چلتا رہا ۔۔۔۔
رخصتی کا وقت قریب آیا مشعل ماں اور بابا کے گلے لگ کر بہت روئی ۔۔۔۔
جب منال کے گلے لگی تو بولی امی اور بابا کا خیال رکھنا ۔۔۔۔منال خود بہت روی تھی ۔۔ردا بھی رو رہی تھی
مشل کے سسرال والوں نے آسیہ اور وقار کو دلاسہ دیا اور بولے آپ دونوں پریشان مت ہونا مشعل اب ہماری بیٹی ہے آپ کو ہماری طرف سے کبھی کوئی شکایت نہیں ہوگی ۔۔
وقار احمد کے گلے ان کا دوست اور علی لگے اور اجازت لے کر رخصت ہوگئے
*******************************
مشعل کی رخصتی کے بعد سارے مہمان اپنے اپنے گھر جانے لگے وقار احمد بھی اپنی فیملی کے ساتھ گھر روانہ ہو گئے ۔۔۔
گھر ایکدم مشعل کے بغیر سونا سونا ہوگیا تھا
سب بہت تھک گئے تھے اس لئے سب نے جلدی جلدی کپڑے چینج کیے اور لیٹ گئے
منال جانتی تھی کہ ابو بہت تھک گئے ہیں اس لیے کپڑے چینج کرنے کے بعد کچن میں گئی اور چائے بنانے لگی
چاچو کی فیملی وہیں سے اپنے گھر چلی گئی تھی جب کے رومان ان کے ساتھ ہی آیا تھا ۔۔۔۔
منال چائے بنانے کے بعد بابا اور امی کو ان کے کمرے میں دے آئیں جہاں پر امی بیٹھی رو رہی تھی اور بابا ان کو سمجھا رہے تھے
منال دروازہ ناک کر کے اندر چلی گئی ۔۔۔۔
بابا نے منال کے ہاتھوں میں چائے دیکھیں تو بولے تھینک یو سو مچ بیٹا چائے کی بہت طلب ہو رہی تھی ۔۔۔۔
ملال بولی مجھے پتا تھا میرے بابا کو چائے کی طلب ہو رہی ہو گی آپ تھک گئے ہیں بہت
میں اس لیے بنا کر لائی ہوں ایک کپ امی اور دوسرا بابا کو دیتے ہوئے بولی ۔۔۔۔۔
منال کو دیکھ کر آسیہ نے اپنے آنسو صاف کر لیے کیوں کہ وہ نہیں چاہتی تھی کے ان کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر دوبارہ سے رونے لگ جائے گی اگے بہت مشکل سے چپ ہوئی تھی ۔۔۔
آپ دونو ں چائے پیئیں میں تھوڑی دیر ریسٹ کروں گی تھک گئی ہوں ۔۔۔
اوکے بیٹا جاؤ آسیہ بولی
ردا کہاں ہے ۔۔۔
امی وہ سو چکی ہے بہت رو رہی تھی روتے روتے سو گئی ۔۔۔۔
اوکے بیٹا آپ بھی ریسٹ کر لو وقار احمد بولے ۔۔
منال اپنا اور رومان کا چاۓ کا کپ لے کر باہر آئ کچن سے ۔۔۔اور رومان کو آگے پیچھے دیکھنے لگی ۔۔
رومان اسے صحن میں لگے جھولے پر بیٹھا نظر آیا وہ وہیں چلی آئ …..
اور چاے کا کپ اسے پکڑتے ہوے اس کے پاس بیٹھ گئی ۔۔اور بولی کیا سوچ رہے ہو ۔۔۔۔
کچھ پریشان لگ رہے ہو ۔۔۔منال چاے پیتے ہوے بولی ۔۔۔
کچھ نہیں یار کیا سوچنا ہے بس تھوڑی سی پریشانی والی بات ہے ۔۔۔۔۔رومان بولا
تم مجھ سے شیر کر سکتے ہو ۔منال آرام سے بولی
منا ل معیز بھائی صباء سے شادی کرنا چاھتے ہیں ۔۔۔لیکن ماما نہیں مان رہی ۔۔۔۔وہ کہتی ہیں میں اپنی مرضی سے شادی کرواؤں گی ۔۔۔۔
اور معیز بھائی کہتے ہیں وہ اگر شادی کریں گے تو صباء سے ورنہ نہیں کریں گے ۔۔۔۔
اسی وجہ سے پریشان ہوں گھر کا ماحول بہت ٹینس ہے سکوں نہیں ہے اسی لئے یہاں چلا آیا ۔۔۔۔
منال بھی سن کر ٹینس ہوئی اور بولی ۔۔۔تم پریشان نہ ہو سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔۔
منال دلاسہ دیتے ہوے بولی ۔۔۔۔
اللہ کرے سب ٹھیک ہو جائے ۔۔۔۔۔۔۔رومی بولا
اچھا اب جلدی سے چاے پیو اور مجھے تصویریں دکھاؤ جو آج بنائی ۔۔۔۔
وہ رومی کا موڈ ٹھیک کرنا چاہتی تھی ۔۔۔۔جس میں کامیاب بھی ہو گئی اس کا دھیان بھٹ بھی گیا ۔۔
چآے پینے کے بعد اسے موبائل میں کل کی اور آج کی تصویریں دکھانے لگا ۔۔۔
فیملی کی تصویر وں کے ساتھ ساتھ رومی نے اپنی اور منال کی بھی بہت سی پکس بنائی تھی ۔۔۔۔دونو ں ایک ساتھ بہت پیارے لگ رہے تھی ۔۔۔منال پکس دیکھ کر خوش ہو گئی ۔۔۔۔
اور دونو ں کافی دیر بیٹھ کے ایک دوسرے کے ساتھ باتیں کرتے رہے ۔۔۔۔
************************************#** ****
ولیمہ کا فنکشن بھی دھوم دام سے کیا گیا ولیمہ کے بعد دعوت کا سلسلہ چلتا رہا ۔۔۔۔۔مشعل اور علی ایک دوسرے کے ساتھ بہت خوش تھے ۔۔۔
شادی کے ایک ماہ بعد دونو ں ہنی مون کے لئے مری چلے گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دو ماہ بعد
اج منال کا اور رومان کا رزلٹ آنا تھا ۔۔۔۔
چھٹیاں فٹا فٹ گزر گئی پتا بھی نہیں چلا ۔۔۔۔مشی کی شادی کے بعد گھر کی ذمہ داری منال پر آ گئی تھی وہ امی کی ہر کام میں ہیلپ کرتی ۔۔۔۔۔۔
اس دوران رومان ایک دن چھوڑ کر چکر لگاتا منال کے گھر ۔۔
دونوں ایک دوسرے کے قریب کے قریب آ گئے تھے منال پہلے بھی رومی کو پسند کرتی تھی ۔۔۔
اب پسند کی جگہ پیار نے لے لی تھی ۔۔۔۔
رومان نے بہت سے وعدے منال سے کر رکھے تھے ۔۔۔۔
وہ ہر روز اپنے پیار کا اظہار نئے انداز میں منال سے کرتا ۔۔۔۔۔۔
رومان یہ بات جان چکا تھا کے اس پیار کے سفر میں اکیلا نہیں منال اس کے ساتھ ہے
منال صبح سے گھر کے کاموں میں مصروف تھی ردا اسکول گئی ہوئی تھی ۔۔۔
جب رومان آیا ساتھ میں مٹھائی کا ڈبہ بھی لایا تھا ۔۔۔۔
اسی نے آ کے اطلا ع دی منال فرسٹ ڈویژن میں پاس ہوئی تھی اور وہ خود بھی بہت اچھے نمبروں میں پاس ہوا تھا ۔۔ مٹھائی سے سب کا منہ میٹھا کروایا گیا ۔۔۔۔۔۔
جب رقیہ کو خبر ملی رومان سے منال کی تو وہ خوش ہونے کی جگہ مزید جل گئی ۔۔۔۔
وہ آے دن ترکیب سوچتی رہتی رشتہ ختم کرنے کی ۔۔۔۔۔
سرمدصاحب کو منال کی کامیابی سے بہت خوشی ملی تھی ۔
گھر میں سارے خوش تھے ۔۔۔کچھ دن بعد نیو کلاس سٹارٹ ہو جانی تھی ۔۔۔۔
منال کا کالج سٹارٹ ہوا تو وہ زیادہ مصروف ہو گی
اسٹڈی کے ساتھ ساتھ گھر بھی دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔رومان بھی اب کم چکر لگاتا پڑھائی کی وجہ سے لیکن فون وہ ایک دن چھوڑ کر کرتا ۔۔۔۔۔۔۔
کچھ عرصہ زندگی اسی رو ٹین میں چلتی رہی ۔۔۔
منال ایف ایس سی پارٹ ٹو میں تھی پیپر ہونے والے تھے ۔۔۔۔آج کالج میں لاسٹ پیپر تھا سب کو ڈیٹ شیٹ دی جانی تھی ۔۔۔۔
منال صبح کالج آئ بہت سی فرینڈز اداس تھی منال بھی اداس تھی ساری ٹیچرز سے ملی اور دوستوں سے ملی ان میں سے کچھ نے چھوڑ دینا تھا کچھ کی شادی فکس ہو گئی تھی ۔۔۔۔
چھٹی کے وقت سب دو ستیں ایک دوسرے سے ملنے کے بعد ایک دوسرے کو موبائل نمبر دیتے ہوے گھروں کو جانے لگی ۔۔۔۔
منال بھی اپنے اسٹاپ پر آ کر گاڑی کا ویٹ کرنے لگی ۔۔۔۔
موسم خراب ہونے کے چانس لگ رہے تھے ۔۔۔۔
بیس منٹ گزر چکے تھے لیکن گاڑی ابھی تک نہیں آئ تھی ۔۔۔منال کو فکر ہونے لگی ۔۔۔۔اسٹاپ پر منال کے علاوہ ایک عورت اور ایک آدمی موجود تھا اپس میں باتیں کر رہے تھے ۔۔۔۔۔۔
ایک پرائیویٹ گاڑی پاس آ کر رکی تو وہ دونو ں اس پے سوار ہو گئے ۔۔۔۔۔۔۔
اب منال اکیلی رہ گئی تھی منال پریشانی سے گاڑی کا ویٹ کر رہی تھی ۔۔
کچھ شاپس اوپن تھی ۔۔۔۔
اچآنک موسم ایک خوف ناک منظر پیش کرنے لگا طوفان اور آندھی سے ہر طرف مٹی ہی مٹی ارنے لگی ۔۔خوف ناک قسم کی آوازیں ماحول کا حصہ بن گئی ۔منال جو بینچ پر بیٹھی گاڑی کا انتظار کر رہی تھی ۔۔۔۔اس کی چیخ نکل گئی ۔۔۔۔وہ خوف سے کانپ رہی تھی ۔۔۔۔۔اور زبان سےورد جاری تھا
تبھی دو موٹر سائیکل منال کے پاس آ کر رک گئے ۔۔
موٹر سائیکل پر تین لڑکے بیٹھے تھے ۔۔۔۔وہ کسی لڑکی کی چیخ کی آواز سن کر رکے تھے
ہلکی ہلکی بارش سٹارٹ ہو چکی تھی ۔۔۔
منال کو دیکھ کر وہ لڑکے بولے کہاں جانا ہے ہم چھوڑ آتے ہیں ۔۔۔۔۔۔
منال جو کچھ دیر پہلے پریشان تھی اب تھوڑی بتر ہو چکی تھی ۔۔۔۔
منال بو لی نہیں میں چلی جاؤں گی شکریہ ۔۔۔۔۔
ارے اس میں شکریہ کی کیا بات ہے اب اتنی پیاری لڑکی کو یوں چھوڑ کر جانا اچھی بات تو نہیں ۔۔۔۔کیوں دوستوں میں نے ٹھیک کہا نہ ۔۔۔
جاری ہے
