Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer NovelR50758 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode25
No Download Link
581.2K
29
Rate this Novel
Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode01 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode02 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode03 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode04 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode05 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode07 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode08 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode09 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode10 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode11 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode12 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode13 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode14 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode15 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode16 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode17 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode18 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode19 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode20 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode21 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode22 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode24 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode25 (Watching)Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode26 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode27 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode28 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Last Episode Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode23 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode06
Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode25
Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode25
اس ایک ہفتے کے دوران رومان نے کوئی رابطہ نہیں کیا تھا منال سے
شاہ ویز نے لاہور انے کے بعد رومان سے رابطہ کیا اور ملنے کو کہا
آج رومان لاہور آ رہا تھا
شاہ ویز سے ملنے
فیاض احمد کی حا لت کا سن کر عائشہ اسجد اور باقی سب گئے تھے ان سے ملنے
نور کی اس حرکت کا ان سب کو بہت دکھ ہوا تھا
رقیہ نے اپنا جرم عائشہ کے سامنے قبول کیا تھا اور اس سے بھی معافی مانگی تھی
بھابی آپ کو مجھ سے نہیں معافی مانگنی چاہیے بلکہ آسیہ اور منال سے مانگنی چاہیے ۔۔۔
آپ نے ان کے ساتھ بہت ہی غلط کیا ہے
اس بچی کی زندگی آپ نے برباد کر دی ہے
عائشہ کو بہت دکھ پہنچا تھا
تبھی انہوں نے سب کے سامنے منال اور شاہویز کے رشتے کی بات کر ڈالی ۔۔۔
منال اور شاہ ویز کی شادی کا سن کر رومان کو دکھ ہوا لیکن خوشی بھی ہوئی ۔۔
آج رومان لاہور آ رہا تھا ۔۔۔
شاہ ویز سے ملنے
شام کو شاہ ویز اور اسجد صاحب کو چھوڑ کر باقی سب آے تھے
منال اسکول سے واپسی پر ریڈ ی میڈ آئٹمز لے آئ تھی
آسیہ آج تو ہم شادی کی تاریخ طے کرنے آئے ہیں اب ہم سے انتظار نہیں ہوتا اور
اس لئے ہم جلد سے جلد اپنی بیٹی کو اپنے گھر لے کر جانا چاہتے ہیں
عائشہ بولی
کیوں نہیں اب یہ آپ کی بیٹی ہے جب دل کرے آ کر لے جائیں ۔۔۔۔
تو ٹھیک ہے اگلے ما ہ کی دس تاریخ کو ہم برات لے کر آجائیں گے ۔۔عائشہ خوش ہوتے ہوے بولی
آج تاریخ ہے پچیس مطلب آج سے پندرہ دن بعد منال بھابی ہمارے گھر ہوں گی ۔۔سدرہ بولی
جیسے آپ کی مرضی عائشہ مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے
منال ان سب میں خاموشی سے سر جھکائے بیٹھی تھی
منال کے ساتھ سدرہ اور آمنہ مذاق کر رہی تھی اور عمارہ (شاہ میر )کی بیوی ۔۔۔
منال مسکرا کر سب کے مذاق برداشت کر رہی تھی ۔۔۔
مزید ایک گھنٹہ بیٹھنے کے بعد وہ سب چلے گئے
منال اپنے کمرے میں آ کر کافی دیر سے روکے آنسو بہاتی
رہی اور روتے روتے سو گئی ۔۔۔
شاہ ویز اور رومان ہوٹل میں آمنے سامنے بیٹھے ہوئے تھے
شاہویز منتظر نظر سے رومان کی طرف دیکھ رہا تھا اور اس کے بولنے کا انتظار کر رہا تھا ۔۔۔
____________
گھر میں منال کی شادی کی تیاریاں شروع ہو چکی تھی
مشعل بھی آ چکی تھی
سب بہت خوش تھے سوائے منال کے ۔۔
منال کے اندر عجیب سی بے چینی تھی
جسے وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی
مشعل نے کئی بار اس سے پوچھنے کی کوشش کی لیکن ہر بار منال نے اسے ٹال دیا
آج آخری دن منال اسکول جا رہی تھی اپنا استعفیٰ دینے کے لیے ۔۔۔
ناشتہ کر کے منال اور ردا چلی گئیں ۔۔۔
مشعل نے جلدی سے سارا کام ختم کیا اور مشین لے کے بیٹھ گئی کپڑے سلائی کرنے کے لئے ۔۔۔
مشعل بیٹا دروازہ بند کر لو میں ذرا دکان پر جا رہی ہوں
آسیہ دکان سے سبزی لینے کے لئے گھر سے باہر نکل گئی ۔۔۔
مشعل نے اٹھ کر دروازہ بند کیا
اور دوبارہ آ کر سلائی کرنے لگی ۔ .
ابھی سلائی کرتے دس منٹ ہی گزرے تھے دروازے پر دستک ہوئی
مشعل نے دروازہ کھولا تو سامنے رقیہ ،فیاض احمد کھڑ ے تھے
مشعل حیران ہو کر رہ گئی
کیسی ہو بیٹا
فیاض احمد نے مشعل کے سر پر ہاتھ رکها اور پوچھا ۔۔
رقیہ سامنے شرمندگی سے نظریں جھکاے کھڑی تھی
میں ٹھیک ہوں آپ کیسے ہیں
آے اندر آ جائیں ۔۔مشعل سائیڈ پر ہوتے ہوے بولی
دونو ں اندر داخل ہو گئے
اور مشعل دونو ں کو لے کے ڈرائنگ روم کی طرف بڑھ گئی
میں جانتا ہوں میں نے منال کے ساتھ غلط کیا ہے
اور یقین کرو میں آج تک سکون سے نہیں سویا ہر پل مجھے میرا ضمیر چین نہیں لینے دیتا اور جب سے مجھے پتا چلا ہے یہ سب میری امی نے کروایا ۔۔
میں خود سے نظریں ملانے کے لائق نہیں رہا رومان شرمندگی سے بول رہا تھا
شاہ ویز خود پر ضبط کیے بیٹھا تھا
میں منال سے مل کر معافی مانگنا چاہتا ہوں
کس کس چیز کی معافی مانگو گے تم رومان
تم جانتے ہو اس پر کیا گزری ہے ۔۔۔
کیسے اس نے سب کی نظروں اور باتوں کا سامنا کیا ہے
انہیں وہ محلہ چھوڑنا پڑا ۔۔
مامی نے منال کی زندگی تباہ کر دی ہے رومان اس کے کردار پر لگا داغ ۔۔۔
ایک لڑکی سب بھول سکتی ہے لیکن جب بات کردار پر آتی ہے تو وہ کبھی نہیں بھولتی ۔۔
شاہ ویز ٹھہر ٹھہر کر بول رہا تھا
میں جانتا ہوں شاہ ویز
مجھے خوشی ہے اس کی شادی تم سے ہو رہی ہے تم اسے بہت خوش رکھو گے
وہ خوشیوں کو بہت ترسی ہے ۔۔ شاہ ویز میں بس اس سے معافی مانگنا چاہتا ہوں
میں واپس لوٹ جاؤں گا تم دونو ں کی زندگی میں واپس نہیں آؤں گا پھر ۔۔
تم پلیز کسی طرح مجھے اس سے ملوا دو
وہ مجھ سے ملنا تو دور بات بھی نہیں کر رہی
پلیز شاہ ویز
رومان رو رہا تھا
اس کے اندر درد تھا وہ آج مجبور تھا کچھ کر نہیں پا رہا تھا اپنے پیار کو کسی اور کا ہوتا دیکھ کر اس سے برداشت کرنا مشکل ہو رہا تھا
لیکن وہ یہ بھی جانتا تھا
اب کچھ بھی کر لے وہ کبھی منال کا دل نہیں جیت پاے گا نہ واپس اس کے دل میں جگہ بنا سکے گا
وہ اب کبھی اس کی نہیں ہو سکے گی جو مرضی کر لے وہ ۔۔۔
اوکے تم پریشان مت ہو میں کچھ کرتا ہوں شاہ ویز بولا
رومان نے سر ہلایا اور آنکھیں صاف کی
میں تمہارا یہ احسان ساری زندگی نہیں بھولوں گا رومان بولا ۔۔۔۔
اچھا چلو اب گھر جا کے باقی باتیں کرتے ہیں اور حل سوچتے ہیں کچھ ۔۔۔
شاہ ویز اٹھتے ہوے بولا
رومان بھی اٹھ کر اس کے ساتھ جانے کے لئے کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔
رومان سمجھ گیا تھا
منال اب اس کی نہیں ہو سکتی ۔۔۔۔
شاہ ویز کی آنکھوں میں وہ منال کے لئے پیار اور عزت دیکھ چکا تھا
رومان نہیں چاہتا تھا
اب دوبارہ منال کی خوشیاں برباد ہوں
اس لئے خاموشی سے اپنے دل کی خوائش کو دل میں دفن کر دیا ۔۔۔
منال نے اسکول میں سب کو اپنی شادی کا بتایا
سب نے مبارک باد دی
سب خوش بھی ہوے اور اداس بھی ۔۔۔
کیوں کے منال اسکول چھوڑ کے جا رہی تھی
آسیہ گھر واپس آئ تو دروازہ کھلا دیکھ کر بولی
مشعل بیٹا کہاں ہو ۔۔
کہا بھی تھا دروازہ بند کر لیتی ۔۔۔۔
بولتے ہوے آسیہ سبزی ٹیبل پر رکھتے ہوے بولی ۔۔۔۔
مشعل ما ں کی آواز پر ڈرائنگ روم سے باہر آئ
کوئی آیا ہے بیٹا کیا ۔۔۔۔
کون آیا ہے ۔۔۔
آسیہ چیئر پر بیٹھتے ہوے بولی ۔۔۔
جی امی ۔۔۔۔
فیاض چاچو اور چچی آئ ہیں
پانی کا گلاس دیتے ہوے بولی ۔۔۔۔
آسیہ کی آنکھیں حیرت سے کھلی رہ گئی کیا رقیہ آئ ہے
پانی کا گلاس رکھتے ہوے بولی اور کھڑی ہو گئی ۔۔۔
جی امی
وہ بہت شرمندہ ہیں آپ پلیز آرام سے بات کرنا ۔۔۔
ہوں میں دیکھ لیتی ہوں تم نے پانی و غیرہ پوچھا ۔۔۔
جی امی کولڈ ڈرنک سرو کی ہے ۔۔۔
ٹھیک ہے تم چا ےُ بناؤ میں اندر جا رہی ہوں ۔۔۔
رقیہ حیران اور پریشان تھی
آج اتنے سالوں بعد دونو ں کا سامنا ہو رہا تھا ۔۔
آسیہ چہرے پر سنجید گی طاری کرتے اندر داخل ہو گئی ۔۔۔
اسلام علیکم ۔۔
فیاض احمد اور رقیہ آسیہ کو کمرے میں داخل ہوتا دیکھ کر کھڑ ے ہو گئے اور سلام کیا
وعلیکم اسلام ۔۔۔
بیٹھیں آسیہ آرام سے بولی اور خود بھی ایک صوفے پر بیٹھ گئی
اور بھائی صاحب کیسے ہیں
رقیہ تم کیسی ہو ۔۔۔
فیاض اور رقیہ بیٹھ چکے تھے
بھابی ہم دونو ں ٹھیک ہیں ۔۔فیاض احمد بولے
بہت خوشی ہوئی آپ دونو ں کو اپنے گھر دیکھ کر ۔۔آسیہ سنجیدگی سے بولی
بہت شکریہ بھابی
یہ تو آپ کا بڑا پن ہے جو آپ اتنا کچھ ہونے کے باوجود ہم سے ناراض نہیں ہوئی ۔۔۔۔۔۔
بھائی صاحب اپنو ں سے کون ناراض رہ سکتا ہے آسیہ بولی
سہی کہا بھابی اپنو ں سے ناراض نہیں رہ سکتا کوئی لیکن اگر وہی اپنے دکھ اور درد کا سبب بن جاںُیں تو معاف کرنا تو دور شکل تک نہیں دیکھتے لوگ سب رشتے ختم کر دیتے ہیں لوگ ۔۔۔۔
لیکن آپ نے ایسا کچھ نہیں کیا
میں بے حد مشکور ہوں آپ کا ۔۔۔فیاض شرمندگی سے بولے
اب آپ مجھے ایسی باتیں کر کے شرمندہ نہ کریں اللہ بھی معاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے بھائی صاحب ۔
بھابھی آپ کیوں چپ چپ ہیں ۔۔۔
بھول جائیں سب جو ہوا میں بھی بھول چکی ہوں سب ۔۔۔
میری بیٹی کے مقدر آپ کے گھر نہیں لکھے تھے ۔۔۔۔
آسیہ چہرے پر مسکراہٹ لاتے ہوے بولی ۔۔۔
رقیہ نے چور نظروں سے فیاض کی طرف دیکھا جہاں بلا کی سنجیدگی نظر آ رہی تھی ۔۔
آسیہ میں تم سے بہت شرمندہ ہوں ۔۔
میں جانتی ہوں میرا جرم قابل معافی نہیں ہے
لیکن پھر بھی تم سے معافی مانگتی ہوں ۔۔۔پلیز معاف کر دینا ۔۔۔
کیا مطلب بھابی میں سمجھی نہیں کس بات کی معافی مانگ رہی ہیں آپ مجھ سے اب ۔۔
میں نے پہلے بھی کہا میں معاف کر چکی ہوں سب کو پلیز آپ بھی سب بھول جائیں پرانی باتیں ۔۔۔۔آسیہ بولی
آسیہ تم جانتی ہو منال کڈنیپ ہوئی تھی
جی بھابی میں اس تلخ حقیقت کو کیسے بھول سکتی ہوں جس نے میری بیٹی کی خوشیاں ختم کر ڈالی اور اسے جیتے جی مار ڈالا ۔۔
کاش اس مجرم کا پتا چل پاتا کون تھا اپنے ہاتھوں اسے سزا دیتی میں بھابی ۔۔۔
آسیہ وہ وقت یاد کر کے رونے لگی
آسیہ اگر میں کہوں اس مجرم کو میں جانتا ہوں اور وہ اس وقت تمہارے سامنے بیٹھا ہے تو ۔۔۔۔فیاض احمد بولے
کیا مطلب بھائی صاحب میں سمجھی نہیں ۔۔آسیہ نے نا سمجھی سے دیکھا
ہاں آسیہ تمہارا اور تمہاری بیٹی کا مجرم کوئی اور نہیں بلکے یہ ہے ۔۔فیاض نے رقیہ کی طرف اشارہ کیا ۔۔۔
آسیہ کی آنکھیں خیرت کے باعث پھٹی کی پھٹی رہ گئی
خیریت سے وہ کبھی فیاض کی طرف دیکھتی اور کبھی رقیہ کی طرف دیکھتی ۔۔۔۔
آسیہ شدت غم سےکھڑی ہوئی ۔۔۔
اور رقیہ کے پاس گئی ۔۔۔
رقیہ کیوں کیا ایسا ۔۔۔
کیا قصور تھا میری بچی کا ۔۔
تم نے اسے برباد کر دیا جواب دو مجھے ۔۔۔۔غم اور غصے سے آسیہ سے بولنا مشکل ہو رہا تھا ۔۔۔
پلیز مجھے معاف کر دو رقیہ آسیہ کے قدموں میں بیٹھ گئی اور ہاتھ جوڑ دئے ۔
جٹکا کھا کر آسیہ پیچھے ہوئی
معافی
تم نے میری بچی کی زندگی تباہ کر دی ۔۔
اسے جیتے جی کہیں کا نہیں چھوڑا تھا
تمہاری وجہ سے ہم گھر سے در بدر ہوے ۔۔اور تم معافی مانگ رہی ہو اتنا سب کرنے کے بعد ۔۔۔
آسیہ کا بس نہیں چل رہا تھا کچھ کر ڈالے
مشعل ما ں کی آواز سن کر اندر آئ۔۔۔
فیاض سر جھکاے بیٹھے تھے ۔۔۔
رقیہ زمین پر بیٹھی رو رہی تھی ۔۔
اپنی ما ں کو غصے میں دیکھ کر مشعل پریشان ہو گئی
تم جو چاہیے مجھے سزا دے دو لیکن پلیز مجھے معاف کر دو ۔۔۔
مجھے میرے کیے کی سزا مل چکی ہے ۔۔
میں نے تمہاری بیٹی کی زندگی تباہ کی تھی ۔۔۔
میری خود کی بیٹی گھر چھوڑ کر بھاگ گئی ہے ۔۔۔
رقیہ روتے ہوے بولی
مشعل نے نا سمجھی سے چچی کو دیکھا
اور پوچھا کیا ہوا آپ ایسے کیوں بیٹھی ہیں ۔۔۔
اور نور کدھر گئی ہے ۔۔
رقیہ نے مشعل کو دیکھا اور روتے ہوے اپنے سارے جرم قبول کرنے لگی ۔۔
کیسے انہوں نے نفرت اور بدلے میں آسیہ کے ساتھ نا انصافیاں کی اور منال کو کڈنیپ کروایا اور رشتہ ختم کیا ساری باتیں بتا تی گئی ۔۔۔
مشعل ان کی باتیں جوں جوں سن رہی تھی دکھ سے روتی جا رہی تھی
آسیہ جبر سے سب سنتی جا رہی تھی ۔۔
پلیز بیٹا معاف کر دو میں بہت شرمندہ ہوں مجھے جو چاہیے سزا دے لو ۔۔۔
آسیہ نے دکھ سے رقیہ کو دیکھا
اور اٹھ کر اس کے پاس گئی اور اسے نیچے سے اٹھایا اور صوفے پر بٹھایا
رقیہ جوکچھ تم نے کیا ہے وہ معافی لائق نہیں ہے لیکن پھر بھی میں سوچوں گی اس بارے میں
کہ کر آسیہ باہر نکل آئ ۔۔۔
فیاض نے دکھ سے بیوی کو دیکھا اور کھڑ ے ہو گئے
رقیہ مردہ قدمو ں سے اٹھی اور فیاض کے پیچھے باہر نکل گئی ۔۔
فیاض نے رقیہ کو اس صورت میں معاف کرنے کا کہا تھا کہ اگر آسیہ نے معاف کر دیا تو وہ بھی اسے معاف کر دیں گے
فیاض احمد اور رقیہ کے جانے کے بعد
مشعل ما ں کے پاس گئی ۔۔
آسیہ بیڈ پر بیٹھی رو رہی تھی ۔۔
مشعل ماں کے گلے لگ کر رونے لگی
شاہ ویز رومان کو گھر لے آیا تھا
فیاض اور رقیہ اگے بیٹھے ہوے تھے
اور عائشہ اور اسجد سے ساری بات کر چکے تھے
رقیہ بہت شرمندہ نظر آ رہی تھی
میں کیا کروں عائشہ ۔۔
رقیہ کی اس حرکت نے مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا اور رہی سہی کسر نور نے پوری کر دی ہے
سارا محلہ باتیں کر رہا ہے
نور کے سسرال والے بھی بہت بےعزتی کر کے گئے ہیں ۔
آپ بھائی پریشان نہ ہوں اللہ سب ٹھیک کرے گا ۔۔عائشہ بولی
کل میں آپ دونوں کے ساتھ دوبارہ آسیہ بھابھی کی طرف جاؤنگی اور بات کروگی
میں جانتی ہوں ان کے لیے معاف کرنا بہت مشکل ہے
منال نے بہت کچھ سہا ہے اور برداشت کیا ہے ۔
آپ کو آسیہ کے ساتھ ساتھ منال سے بھی معافی مانگنی چاہیے ۔۔۔
میں سب سے معافی مانگنے کو تیار ہوں عائشہ اور مجھے جو چاہے سزا دے لیں مجھے منظور ہوگا ۔۔۔
رقیہ بولی
عائشہ نے ایک نظر اسجد کو دیکھا اور پھر رقیہ کو ۔۔
دکھ سے سر ہلا دیا
عائشہ کو خود بہت غصہ تھا رقیہ پر ۔۔اس کا انہوں نے کھل کر اظہار بھی کیا تھا بہت برا بھلا بولا تھا
لیکن کب تک ناراض رہتی ۔۔
اس میں بھائی کا تو کوئی قصور نہیں تھا جو اسے سزا دیتی
شام کو منال گھر واپس آئ تو گھر میں بہت خاموشی تھی
آسیہ کی آنکھیں سوجی ہوئی تھی رونے کی وجہ
کیا ہوا امی ۔۔
آپ روئی ہیں ۔۔۔منال نے پریشانی سے پوچھا
منال کو دیکھتے ہی آسیہ نے اسے خود سے لگایا اور بولی
میں ساری زندگی رشتوں کا پاس کرتی آئ ہوں میں نے کبھی کسی رشتےپر آنچ نہیں آنے دی۔۔
بہت مان اور بھروسہ تھا مجھے اپنے رشتوں پر
لیکن آج مجھے انہیں ر شتوں نے منہ کے بل گرا دیا ہے
کیا ہوا امی آپ ایسا کیوں کہہ رہی ہیں ۔۔۔
منال نے نا سمجھی سے پہلے آسیہ اور پھر مشعل کو دیکھا
مشعل منال کے پاس آئ اور بولی
آج فیاض چچا اور ان کی بیوی آے تھے
اس کے بعد مشعل نے
پلیز منال ۔۔۔
دیکھو منال میں بہت شرمندہ ہوں
پلیز ایک بار مجھے سے بات کر لو ۔۔
منال اکیڈمی سے نکل رہی تھی جب رومان نے اس کے راستے میں آیا
شاہ ویز ہی رومان کو لے کر آیا تھا
تا کے وہ منال سے بات کر سکے
شاہ ویز چاہتا تھا جو بھی بات ہو دونو ں کی اس کے سامنے ہو
شاہ ویز کو ڈر تھا منال دوبارہ سے کہیں رومان کا ہاتھ نا تھام لے
لیکن مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی ہٹو راستے سے ۔منال بولی
پلیز منال صرف ایک بار ۔۔۔۔
اکیڈمی خالی ہو چکی تھی
صرف شاہ ویز منال اور رومان وہاں موجود تھے
ارم سٹاف روم میں موجود تھی
پلیز منال ۔۔۔
منال اپنے سامنے رومان کو اتنے سالوں بعد دیکھ کر حیران رہ گئی.
جاری ہے
