Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer NovelR50758 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode26
No Download Link
581.2K
29
Rate this Novel
Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode01 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode02 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode03 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode04 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode05 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode07 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode08 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode09 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode10 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode11 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode12 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode13 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode14 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode15 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode16 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode17 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode18 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode19 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode20 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode21 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode22 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode24 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode25 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode26 (Watching)Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode27 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode28 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Last Episode Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode23 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode06
Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode26
Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode26
جہاں منال حیران ہوئی وہیں رومان اپنے سامنے منال کو دیکھ کر بے خود سا ہو گیا
منال پہلے سے کہیں زیادہ نکھر گئی تھی چہرے پر آج بھی معصومیت کا راج تھا وقت کے ساتھ ساتھ وہ اور زیادہخوبصورت ہو گئی تھی وہیں رومان بھی
ان چند سالوں میں پہلے سے زیادہ گریس فل ہو گیا تھا
چہرے پر عجیب سی سنجید گی تھی
منال کچھ پل کے لئے کھو سی گئی ۔۔۔
پلیز منال صرف ایک بار میری بات سن لو ۔۔رومان عاجزی سے بولا
منال رومان کی بات سے ہوش میں واپس آئ اور رومان کو اجنبی نظروں سے دیکھنے لگی
پلیز منال ۔۔۔
منال واپس اندر چلی گئی
ایک دم سے رومان نے گہرا سانس لیا اور منال کے پیچھے اندر داخل ہو گیا ۔۔
منال اس سے بات نہیں کرنا چاہتی تھی نا ملنا چاہتی تھی
لیکن کچھ ایسا تھا جس نے منال کو ملنے پر مجبور کر دیا تھا ۔۔۔
منال اسے لے کر اسٹاف روم میں آ گئی
ارم کو باہر جانے کا اشارہ کیا تو ارم کچھ پوچھتے پوچھتے رک گئی اور ایک نظر دونو ں کو دیکھ کر باہر چلی گئی
ارم کے جانے کے بعد منال نے دروازے کے پاس کھڑ ے رومان کو دیکھا ۔۔۔
تھینکس منال ۔۔۔
میری بات کا ما ن رکھا رومان بولتا ہوا اگے آیا اور ایک چیئر پر بیٹھ گیا
مجھے سمجھ نہیں آ رہی میں کیسے معافی مانگوں
اور کس کس بات کی مانگوں
منال جو کچھ ہوا وہ نہیں ہونا چاہیے تھا
تم جانتی ہو میں تم سے کتنا پیار کرتا ہوں اور جب اچا نک سے تم غائب ہوئی
مجھ سے چھپایا گیا سچائی کو ۔۔۔۔
منال خاموشی سے اسے سن رہی تھی
رومان آ ئستہ آئستہ سب بیان کرتا جا رہا تھا
اتنے سالوں میں اس پر کیا گزری
اپنی تڑپ ۔تنہائی ،منال کا خواب میں آ کر شکوہ بھری نظروں سے دیکھنا
رومان کی ساری باتیں منال نے خاموشی سے سنیں
منال میں تم سے بہت شرمندہ ہوں
جب سے مجھے پتہ چلا ہے ان سب کے پیچھے میری اپنی ماں کا ہاتھ ہے میں خود سے نظر ملانے کے قابل نہیں رہا
رومان نے دل پر پتھر رکھ کر اپنی ماں کا جرم منال کے سامنے پیش کیا
میں جانتی ہوں میرا گنہگار کون تھا
اور یہ سب اس نے کیوں کیا تھا
منال بولی
رومان کومنال کی بات سن کر جھٹکا لگا
منال بتانا نہیں چاہتی تھی لیکن اس نے رومان کو سب آہستہ آہستہ بتانا شروع کیا کیسے اسے پتہ چلا کہ ان سب کے پیچھے اس کی ماں کا ہاتھ ہے
میں چاہتی تو اسی وقت سب کو بتا سکتی تھی کہ میرا گنہگار کون ہے
میری جس طرح بدنامی تمہاری ماں نے کی ہے
ہمیں ہمارے اپنے گھر سےہی بے دخل ہونا پڑا ۔۔۔
میں کبھی تمہاری ما ں کو معاف نہیں کروں گی ۔۔۔
اور رہی بات تمہاری تو تم نے میرا ما ن ،بھروسہ سب توڑ ڈالا ۔۔۔
جس وقت مجھے تمہاری سب سے زیادہ ضرورت تھی تم نے میرا ساتھ چھوڑ دیا رومان ۔۔۔۔۔
منال رومان کو دیکھتے ہوے بول رہی تھی منال کی آنکھوں میں دکھ درد سب تھا ۔۔۔
تم جانتے ہو تم سے جتنی شدت سے پیار کیا تھا
اتنی شدت سے نفرت نہیں کر پائی ۔۔۔
منال گہرا سانس لینے کو رکی
شاہ ویز اپنے روم سے سٹاف روم کا سارا منظر دیکھ رہا تھا
منال میں جانتا ہوں تم پر کیا گزری ہو گی
لیکن منال ۔۔میں حقیقت نہیں جانتا تھا مجھے وہی کچھ پتا چلا جو کہانی بنائی گئی تھی ۔۔
میرا دل نہیں مان رہا تھا لیکن ایسا کوئی ثبوت نہیں مل رہا تھا جس سے پتا چل سکتا تم بے قصور ہو ۔۔۔
منال نے ایک نظر رومان کو دیکھا
منال میں تم سے معافی مانگنے آیا ہوں ۔۔۔
پلیز مجھے معاف کر دو ایک دم رومان منال کے قدموں میں بیٹھ گیا
منال میں بہت تڑپا ہوں ۔۔
میں ایک دن چین سے نہیں گزار سکا ۔۔
پلیز منال ۔۔۔
رومان رو رہا تھا
منال اسے قدموں میں بیٹھا دیکھ کر ایک دم پیچھے ہوئی ۔۔
رومان کا رونا منال کو اچھا نہیں لگا ۔۔
رومان جاؤ میں نے تمہیں معاف کیا منال ایک دم بولی
رومان نے ایک دم سر اٹھا یا اور منال کو دیکھا
ہاں میں نے تمہیں معاف کیا
منال کو اپنا آپ ایک دم بہت ہلکا ہلکا محسوس ہونے لگا
رومان آج بھی بہت پیار کرتا تھا منال سے اسے اپنی لائف میں دوبارہ شامل کرنا چاہتا تھا ۔۔۔
لیکن وہ جانتا تھا منال کبھی واپس نہیں آے گی اس کی زندگی میں ۔۔۔
رومان کے لئے یہی بہت تھا
منال نے معاف کر دیا تھا اسے ۔۔۔
تھینکس منال ۔۔تمہارا یہ احسان کبھی نہیں بھولوں گا میں ۔۔
منال نے ایک نظر اسے دیکھا اور ہینڈ بیگ لے کر باہر جانے لگی ۔۔
تبھی دروازے کے پاس رک کر کہا ۔۔
میری شادی پر ضرور آنا مجھے خوشی ہو گی
کہ کر رکی نہیں
پیچھے رومان نے اپنے آنسو صاف کیے اور باہر نکل گیا ۔۔۔
شادی میں پانچ دن رہ گئے تھے
منال مایو ں بیٹھ چکی تھی
شادی کی ساری تیاریاں مکمل ہو چکی تھی
رقیہ لگاتار آسیہ کے گھر کے چکر لگاتی رہی اور معافی مانگتی رہی
منال کے کہنے پر آسیہ نے سب کو معاف کر دیا اور شادی میں دعوت دے دی
رومان نے علینا کو میسج کیا اور کہا شادی ہو رہی ہے آ سکتی ہو تو آ جاؤ ۔۔۔
علینا نے میسج پڑھا تو بے چین ہو گئی
وہ فورن سے پہلے پاکستان جا کر رومان کی شادی روکنا چاہتی تھی
علینا نے رابطہ کرنا چاہا رومان سے لیکن وہ علینا کی کالز رسیو نہیں کر رہا تھا
علینا نے ارجنٹ اپنی سیٹ بک کروائی اور پاکستان روانہ ہو گئی اپنی فیملی سے اجازت لے کر ۔۔ .
نور نے اور ظفر نے نکاح کر لیا تھا
نور کی قسمت نے ساتھ دیا
اور تھوڑی بہت بحث اور فساد کے بعد اسے قبول کر لیا گیا
ظفر اور نور ایک دوسرے سے بہت پیار کرتے تھے
ظفر ایف اے پاس ایک فیکٹری میں ملازم تھا
دو شادی شدہ بہنو ں کا اکلوتا بھائی تھا
باپ سر پر تھا نہیں ایک ما ں ہی تھی جو زیادہ وقت نماز اور وظیفوں میں مصروف رہتی ۔۔۔
نور نے اپنی خدمت سے ساس کا دل جیت لیا تھا لیکن اس کے اندر ملال تھا اپنی ماں کو دکھ دینے کا
وہ ماں اور باپ دونو ں سے مل کر معافی مانگنا چاہتی تھی روز رات کو وہ رو کے سوتی اور اپنے اللہ سے معافی مانگتی ۔۔۔
شاہ ویز اور منال کی آج مہندی تھی ساتھ ہی نکاح بھی ۔۔
شاہ ویز بہت خوش تھا
مہندی اکھٹی کرنی تھی اس لئے نکاح کی رسم آج ادا کرنی پڑی ساتھ ہی
شاہ پلیس میں ہر طرف گیما گیمی تھی سب خوش نظر آ رہے تھے
شام کے چار بج چکے تھے
مہمان آنا شرو ع ہو چکے تھے
عائشہ کی خوشی کا کوئی ٹھکا نہ نہیں تھا
سب آپس میں راضی ہو گئے تھے
رومان ایئر پورٹ علینا کو پک کرنے گیا تھا
رقیہ نے سب کے سامنے فیاض ،آسیہ ،منال اور رومان سے معافی مانگی تھی
رومان نے فیاض احمد سے علینا کے متعلق بات کر لی تھی اور وہ راضی بھی ہو گئے تھے
رومان اب واپس اکیلے نہیں جانا چاہتا تھا
اپنے ما ں اور باپ دونو ں کو اپنے ساتھ لے کر جانا چاہتا تھا کیوں کے نور کی وجہ سے بہت بدنامی ہو چکی تھی ان کی
رقیہ کو چپ سی لگ گئی تھی
پچھتاوے الگ تھے ۔۔۔
فیاض صرف ضرورت کے تحت بلاتے ۔۔۔۔
ارے رقیہ تیار نہیں ہوئی ابھی تک دیکھو کیا ٹائم ہو گیا ہے
رقیہ جو چہل پہل دیکھنے میں مگن تھی
عائشہ کی آواز پر چونک اٹھی
کیا ہوا رقیہ طبیعت تو ٹھیک ہے نہ ۔۔۔عائشہ فکر مندی سے بولی
جی میں ٹھیک ہوں بس ایسے ہی بیٹھے بیٹھے خیال کہیں اور چلا گیا تھا ۔۔۔
میں تیار ہو کے آتی ہوں
میری مانو تو رقیہ اب رومان کی شادی کر دو تم گھر میں خوشیاں آ جاںُیں گی
ہوں سوچتی ہوں کچھ
میں نے اپنے ہاتھوں سے ساری خو شیاں برباد کر دی ہیں اپنے بچوں کی ۔۔رقیہ کہ کر رکی نہیں ۔۔۔
عائشہ نے دکھ سے رقیہ کی پشت کو دیکھا
ڈارک براؤن شلوار قمیض پہنے
لائٹ براؤن اور گولڈن کلر میں کنٹراس پٹکا گلے میں ڈالے
ُ وہ بے تحاشا پیارا لگ رہا تھا
عائشہ بیگم بیٹے کو تیار دیکھ کر بے ساختہ ما شاہ اللہ بول اٹھی
فورن اس کی نظر اتا ری اور ماتھا چوما
گاڑیاں تیار کھڑ ی تھی
رومان علینا کو لے کر آ چکا تھا اور سب سے ملوانے کے بعد اسے گیسٹ روم میں بیجا تیار ہونے کے لئے
اور خود اپنے روم میں آ کر تیار ہونے لگا
منال کا مہندی کا جوڑا اور باقی ساری چیزیں سسرال سے ایک دن پہلے ہی آ چکی تھی
منال کی بوکنگ شہر کے مشہور پارلر میں کروائی گئی تھی
منال چار بجے کی پارلر تیار ہونے کے لئے جا چکی تھی
جب کے مشعل اور ردا نے گھر ہی تیار ہونا تھا محلے کے پارلر سے ۔۔
آسیہ خوش تھی بیٹی عزت سے اپنے گھر کی ہو رہی تھی
آسیہ نے انگوری رنگ کا سوٹ جس پر کڑھائی ہوئی تھی پہن رکھا تھا
ردا نے یلو شرا رے پر شاکنگ پنک کلر کی شرٹ پہن رکھی تھی اور ساتھ مچنگ دوپٹہ اور جیو لری پہنی ہوئی تھی
مشعل نے گرے لانگ فراک جس پر سلور کام بہت نفاست سے کیا گیا تھا پہن رکھا تھا
مہمان آ چکے تھے اور تھوڑی دیر تک لڑکے والے بھی پہنچنے والے تھے
شام کے سا ڑ ھے چھ بج چکے تھے
مہندی کا فنکشن ہوٹل میں رکھا گیا تھا سب ہوٹل روانہ ہو چکے تھے
مشعل اور علی ہوٹل کی بجاے پارلر روانہ ہو گئے
علی بالکل بھائیوں کی طرح سارے فرض ادا کر رہا تھا اور انتظامات دیکھ رہا تھا
منال کو پار لر سے پک کر نے کے بعد مشعل اور علی ہوٹل کی طرف روانہ ہو گئے
منال نے گرین لہنگے جس پر گولڈن اور گرین رنگ میں کڑھائی کے ساتھ موتیوں کا کٹ ورک کیا گیا تھا
گولڈن شارٹ شرٹ پہن رکھی تھی نفاست سے کیا گیا میک اپ اور لمبے بالوں کی کجھوری چوٹیا بنائی گئی تھی میچنگ ہلکی پھلکی جیو لری کے ساتھ سر پر دوپٹہ کیے
وہ ہر کسی کو حیران کر رہی تھی
حد سے زیادہ پیاری لگ رہی تھی
لڑکے والے آ چکے تھے
ڈھول دھماکہ کے ساتھ لڑکے والے آے تھے
تازہ پھولوں کی پتیوں کے ساتھ ان کا استقبال کیا گیا
شاہ ویز کے دوستوں نے خوب ڈ انس کیا اور لوڈ ھی ڈالی گئی
آدھا گھنٹہ یہی سب کچھ ہوتا ہے رہا اس کے بعد شاہ ویز کو ا سٹیج پر بٹھایا گیا
جب سارے مہمان سیٹوں پر بیٹھ گئے تب نکاح کی رسم ادا کرنے کے لئے مولوی صاحب کو برائیڈل روم میں لایا گیا
منال بے حد نر وس اور گبھرائی ہوئی لگ رہی تھی
نکاح شرو ع کیا گیا
منال وقار احمد آپ کا نکاح شاہ ویز اسجد ولد اسجد سے کیاجاتا ہے آپ کو قبول ہے
شاہ ویز کے نام پر منال چونکی
اور سر اٹھا کر مشعل اور علی کو دیکھا
کیا ہوا علی بولا
منال نے نفی میں سر ہلایا
مولوی نے دوبارہ منال سے پوچھا
منال نے سر جٹھکا اور تین بار قبول ہے کہا
مولوی نے نکاح نامے پر منال کے سائن لئے اور باہر چلا گیا
منال شاہ ویز کے نام پر اٹکی ہوئی تھی
کہیں یہ سر شاہ ویز
نہیں نہیں ایسے کیسے ہو سکتا ہے وہ کیسے ہو سکتے ہیں
دنیا میں بہت سے لوگوں کے ایک جیسے نام ہوتے ہیں
منال نے خود کو تسلی دی
اف کاش تصویر دیکھ لیتی ۔۔منال کو رہ رہ کر خود پر غصہ آ رہا تھا
نکاح ہو چکا تھا
مبارک باد کا سلسلہ شرو ع ہوا
کھانا کھل چکا تھا
کھا نے کے بعد دونو ں کو ساتھ بیٹھا نا تھا
بہت پیاری لگ رہی ہو
رومان علینا کے کان میں بولا
علینا کے لبو ں پر مسکراہٹ آ گئی
اس کی د عاںُیں رنگ لے آئ تھی وہ بہت خوش تھی
کیوں کے رومان اب مکمل اس کا تھا ۔۔۔۔۔
منال کا سوچ سوچ کا دماغ پھٹ رہا تھا
آخر تھک ہار کر ایک جگہ بیٹھ گئی
مشعل اور ارم دونو ں اس کی حالت پر اندر ہی اندر محفوظ ہو رہی تھی لیکن ظاہر نہ کیا
مشعل ارم اور منال نے کھانا اندر ہی کھایا
باہر سے آرڈر آیا کے منال کو لایا جائے تا کے رسم شرو ع کی جائے ۔۔۔
منال نے خود کو تسلی دی کے چلو ابھی چہرہ دیکھ لیا جائے گا رسم کے دوران ۔۔
پھر پتا چل جائے گا یہ شاہ ویز آخر ہے کون ۔۔۔۔
چلو ارم اٹھو منال کو ایک طرف سے تم پکڑو
مشعل اٹھتے ہوے بولی
منال آرام سے کھڑی ہو گئی
ارم نے آرام سے اس کا بازو پکڑا
مہندی سوکھ چکی تھی لیکن منال نے دھوئی نہیں تھی ۔۔کہیں کہیں جگہ سے اتر رہی تھی مہندی ۔۔
مہندی کا خوب رنگ آیا تھا
منال کو لے کر دونو ں باہر آ گئی باقی لڑکیوں نے دوپٹے کا سایہ کیا ہوا تھا منال کے اوپر
شاہ ویز اسٹیج پر موجود تھا
اس کی نظر جب منال پر پڑی تو پلٹنا بھول گئی
وہ حد سے زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی
اس سے پہلے منال کی نظر شاہ ویز پر پڑتی
مشعل جلدی سے اگے آ گئی اور منال کا گونگھٹ نکال دیا جان بھوج کر ۔۔
آپی یہ کیا ہے اب ۔۔منال تلملا کر بولی
مشعل کو ہنسی آئ لیکن روکتے ہوے بولی
رسم ہے کرنا پڑے گا ۔۔۔
لیکن آپی آپ کی دفع ایسی کوئی رسم نہیں تھی تھی میری دفع کیسے نکل آئ اب ۔منال خفگی سے بولی
بس نکل ای زیادہ بولو مت ۔۔چپ رہو مشعل ڈانٹتے ہوے بولی
مشعل یہ سب شاہ ویز کے کہنے پر کر رہی تھی شاہ ویز نے مشعل کو اعتماد میں لے کر سب بتا دیا تھا اور منال کو سرپرائز دینے کا کہا تھا بارات والے دن
منال مشعل کی ڈانٹ سے ناراض ہو گئی اور چپ کر گئی لیکن دل ہی دل میں خوب غصہ ہوئی ۔۔
مشعل اور ارم منال کو اسٹیج تک لے آئ شاہ ویز اٹھ کر منال کے پاس آیا اور ہاتھ بڑھا دیا تا کے اسے پکڑ کر منال اوپر اسٹیج پر چڑ ھ سکے
شاہ ویز کے اس ا سٹائل پر اس کے دوستوں نے سٹیا ں ماری
منال دیکھ نہیں پا رہی تھی سامنے صرف شاہ ویز کا ہاتھ نظر آیا جسے مشعل کے کہنے پر ججکتے ہوے تھام لیا اور اوپر چڑ ھ گئی
منال کا ہاتھ تھام کر شاہ ویز اسٹیج پر رکھے جھولے تک لایا اور مشعل کی مدد سے منال بیٹھ گئی
آپی اب تو اسے اٹھا دیں مجھے الجھن ہو رہی ہے منال بولی
چپ کرو اٹھا دیتے ہیں ۔
ابھی آرام سے بیٹھو مشعل ڈپٹ کر بولی
شاہ ویز منال کے پاس بیٹھ چکا تھا
شاہ ویز کے بیٹھنے کے بعد مشعل نے گونگھٹ اٹھا دیا اور بولی سیدھی بیٹھی رہنا اگے پیچھے نا دیکھنا ورنہ لوگ باتیں کریں گے
لڑکی بولڈ ہے شرم حیا نہیں کیسے اگے پیچھے دیکھ رہی ہے ۔
۔مشعل جان بھوج کر بولی
اور شاہ ویز کو آنکھ سے اشارہ کیا
جسے شاہ ویز نے ہاتھ سے سراہا اور سر ہلا دیا
منال کو مشعل پر خوب غصہ آیا
آپ کو تو میں بعد میں پوچھوں گی آپی
منال خفگی سے منہ پھلا کر بولی
اچھا اچھا دیکھ لینا ابھی تو سامنے دیکھو ۔۔
مشعل اثر لئے بغیر بولی اور اسٹیج سے اتر گئی
اب اسٹیج پر صرف منال اور شاہ ویز تھے مووی بن رہی تھی دونو ں کی ساتھ ساتھ فوٹو گرافر تصویریں لینے میں مصروف تھا
منال کو اپنے پاس جانی پہچانی پرفوم کی خوشبو آئ
تو سر اٹھا کر دیکھنا چاہا
لیکن جیسے ہی سامنے نظر پڑھی
مشعل نے آنکھوں سے گھور ہ اور منا کیا دیکھنے سے ۔۔
منال نے غصے سے سر جھکا لیا
آسیہ رسم ادا کرنے اسٹیج پر آئ
اور بیٹی کو گلے لگا کر خوب د عاںُیں دی
اس کے بعد باری باری سب نے رسم ادا کی
اور دونو ں کو تیل اور مہندی لگائی
ساتھ مٹھائی سے منہ میٹھا کروایا ۔۔۔
شاہ ویز کے دوستو ں نے اسے خوب تنگ کیا
اور شغل میلا لگایا ۔۔
منال کا دل کھٹا پڑھ چکا تھا چپ چاپ بیٹھی رہی
اور جب کوئی ہنسی مذاق کرتا تو منال مسکرا دیتی ۔۔۔
منال کی پھوپھو اور نندوں نے رسم کے دوران منال سے اداسی کی وجہ پوچھی
لیکن وہ تھکاوٹ کا بہانہ کر گئی اب انہیں کیا بتاتی
دولہا دیکھنا تھا بٹ آپی نے دیکھنے نہیں دیا ۔۔
اس لئے موڈ آف ہے
اسی طرح مہندی کا فنکشن چلتا رہا
سب نے رسم ادا کی اس کے بعد ڈانس کا پروگرام رکھا گیا تھا
شاہ ویز کے کزنو ں اور دوستوں نے خوب دھوم مچائی ۔۔
شاہ ویز اسٹیج سے اتر کر نیچے چلا گیا
کیوں کے رسم ادا ہو چکی تھی
اور اسے ڈر تھا کہیں منال اس کا چہرہ نہ دیکھ لے اس لئے جیسے ہی رسم ختم ہوئی
شاہ ویز اتر کر نیچے آگیا
اور آرام سے ایک سائیڈ پر بیٹھ گیا
جہاں منال کی نظر اس تک نہیں پہنچ سکتی تھی
لیکن وہ منال کو دیکھ سکتا تھا ۔۔۔
رات کے بارہ بجے تک فنکشن چلتا رہا
اس کے بعد لڑکے والے اجازت لے کر رخصت ہو گئے اور لڑکی والے اپنے گھر آ گئے.
جاری ہے
