Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer NovelR50758 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode12
No Download Link
581.2K
29
Rate this Novel
Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode01 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode02 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode03 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode04 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode05 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode07 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode08 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode09 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode10 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode11 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode12 (Watching)Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode13 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode14 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode15 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode16 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode17 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode18 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode19 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode20 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode21 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode22 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode24 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode25 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode26 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode27 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode28 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Last Episode Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode23 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode06
Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode12
Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode12
مشعل پریگنٹ تھی اور اس کی ڈیلیوری کے دن قریب آرہے تھے جس کی بنا پر مشعل دو ہفتے رہ کر واپس اپنے سسرال چلی گئی تھی ۔۔۔۔
آسیہ نے گھر سے نکلنا چھوڑ دیا تھا کیوں کہ جب بھی وہ گھر سے کسی کام کے لئے نکلتی محلے کے لوگ ان کو دیکھ کر ان کی بیٹی کی باتیں کرتے تھے جس کو وہ برداشت نہ کر پاتی ۔۔۔۔
سرمد صاحب جب بھی مسجد نماز کے لیے جاتے محلے کے مرد ان کو دیکھ کر سرگوشیاں کرنے لگتے
وقار احمد کا بھی یہی حال تھا ۔۔۔
ردا سے اس کی دوستیں پوچھتی کہ تمہاری بہن گھر سے بھاگ گئی تھی اب واپس کیوں آ گئی ہے
فیاض احمد ایک دفعہ آئے تھے اور اپنی بیوی اور بیٹے کی طرف سے معافی مانگ کر گئے تھے ۔۔۔۔
منال سے فی الحال یہ بات چھپائی گئی تھی کہ رومان نے یہ رشتہ ختم کر دیا ہے .
فیاض احمد آے اور انہوں نے منال کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولے کے بیٹا مجھے معاف کر دو ۔۔۔رومان اور آسیہ نے تم سے رشتہ ختم کر دیا ہے میں چاہ کر بھی کچھ نہیں کر سکتا
منال کو امید نہیں تھی کہ رو مان ایسا کچھ کرے گا اس کے دل میں ڈر ضرور تھا لیکن اسے پورا یقین تھا
کیوں کہ رومان سب سے زیادہ اس سے پیار کرتا تھا
رومان نے قسم کھائی تھی اس کے ساتھ جینے مرنے کی اب وہ ایسے کیسے کر سکتا تھا
اس کی کوئی بھی بات سنے بغیر اس نے اتنا بڑا فیصلہ کیسے کر لیا تھا ۔۔
فیاض احمد چلے چلے گئے تو آسیہ نے انہیں رومان کے سارے الزمات اور رقیہ کی بکواس بتا دیں
وہ بتانا تو نہیں چاہتی تھی لیکن اب مجبور ہو گئی تھی
نہیں امی رومان ایسے کیسے کر سکتا ہےاتنے گھٹیا الزام وہ مجھ پر کیسے لگا سکتا ہے کیا وہ مجھے نہیں جانتا تھا ۔۔۔منال فرش پر بیٹھ کر زور زور سے رونے لگی
آسیہ کے لیے منال کو سنبھالنا مشکل ہو گیا تھا
امی وہ میری بات سنیں بغیر مجھ پر اتنے گھٹیا الزام کیسے لگا سکتا ہے ۔۔
بس بیٹا چپ کر جاؤ یہی سمجھ لو وہ تمہارے قابل تھا ہی نہیں ۔۔۔
امی وہ تو مجھ سے اتنا پیار کرتا تھا ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھائیں تھی وہ میرے ساتھ ایسے کیسے کر سکتا ہے
منال سے برداشت نہیں ہو رہا تھا
شام کو وقار احمد گھر آئے تو منال کی حالت دیکھ کر وہ پریشان ہوں گے اور آسیہ سے پوچھا کے منال کو کیا ہوا ہے اس کی طبیعت تو ٹھیک ہے نہ ۔۔۔۔
ان کے پوچھنے پر آسیہ نے انہیں سب بتا دیاجسے سن کر وقار احمد چپ ہو گئے۔۔۔
اور اٹھ کر منال کے پاس جا کر بیٹھ گئے اور اسے سمجھانے لگے
بیٹا جو ہونا تھا وہ ہو گیا اب ایسے بیٹھ کے رونے کا کوئی فائدہ نہیں
رومان تم سے سچا پیار کرتا ہی نہیں تھا اگر وہ تم سے پیار کرتا ہوتا تو یوں تمہارے کر دار پر شک نہ کرتا ۔۔۔۔
تمہیں بھی اس کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے
میں مانتا ہوں بیٹا یہ سب تمہارے لیے آسان نہیں ہیں لیکن تمہیں ہمت اور حوصلے سے کام لینا ہوگا
وعدہ کرو تم مجھ سے کہ ہمت سے کام لوں گی ۔
وقار منال کے آگے ہاتھ کرتے ہوئے بولے
منال نے روتے ہوئے ان کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیا اور ان کے کندھے سر رکھ کر رونے لگی
وقار احمد نے اس کو چپ نہیں کروایا بلکہ رونے دیا وہ چاہتے تھے کہ وہ جی بھر کے رو کے اپنے اندر کا سارا غبار باہر نکال دے تاکہ وہ پرسکون ہو جائے پھر ۔۔۔۔۔
منال روتے روتے انہی کے کندھے پر سر رکھے سو گئی تو وقار احمد نے اس کا سر اٹھا کر تکیے پر رکھا اور بیڈ پر لٹا کر خود باہر آ گئے
****************************
آسیہ کچن میں رات کے لئے مٹر قیمہ بنا رہی تھی
وقار احمد ان کے پاس کچن میں آ گئے اور بولے آسیہ مجھے تم سے بات کرنی ہے۔۔۔
جی وقار بولیں سن رہی ہوں میں ۔۔
آسیہ میں چاہتا ہوں کہ ہم لوگ یہاں سے شفٹ ہو جائیں کیوں کے اب مجھ سے لوگوں کی نظریں اور باتیں برداشت نہیں ہوتی جب وہ منال کے بارے میں الٹی سیدھی باتیں کرتے ہیں ۔۔۔۔
میں نہیں چاہتا منال لوگوں کی باتوں کی وجہ سے ڈپریشن کا شکار ہو جائے ۔۔۔۔۔
لیکن وقار ہم کہاں جائیں گے آسیہ بولی
اس کی تم فکر نہ کرو میں دو ہفتوں سے اسی کام میں لگا ہوا تھا اور فائنلی آج مجھے اپنی پسند کا گھر مل گیا ہے ۔۔
میں نے علی سے کہہ رکھا تھا گھر ڈھونڈنے کا
کل میں جا کے گھر دیکھ آؤں گا اس کے بعد سب فائنل کر کے ہم لوگ لاہور شفٹ ہو جائیں گے
لیکن وقار ابو جی سے پوچھا ہے آپ نے کیا وہ راضی ہے
ہاں ابو جی سے پوچھا تھا اورانہی کے مشورے سے میں یہ کام کر رہا ہوں ۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے وقار جیسے آپ کی مرضی میں بھی کبھی نہیں جاؤں گی کہ منال ڈیپریشن کا شکار ہو ۔۔۔
ٹھیک ہے تم پھر ایسا کرنا میرے کپڑے رات کو تیار کر دینا مجھے صبح صبح نکلنا ہے لاہور کے لیے اور ہاں تم پیکنگ شروع کر دو ۔۔۔
میں ابا جی کو بتا کر آتا ہوں ۔۔۔۔
ٹھیک ہے آسیہ بولی
**************************
اگلے دن وقار احمد لاہور جا کر گھر دیکھ آئے تھے گھر انہیں بہت پسند آیا تھا
دو منزلہ گھر تھا اور وہاں سوئی گیس پانی اور بجلی کا انتظام موجود تھا
وقار احمد نے اپنےحصے کی زمینو ں میں سے کچھ حصہ بیچ کر گھر لے لیا اور باقی کا حصہ اپنی تینوں بیٹیوں کے نام برابر تقسیم کردیا اور اپنی تینو ں بیھنسیس وقار احمد نے دوست کے حوالے کی
ان کے دوست کا اپنا ڈیری فارم تھا ۔۔اس نے کہا کے دودھ بیچ کر جو بھی پیسہ ملے گا مہینے کےمہینے تمہیں پہنچ جایا کریں گے
وقار احمد نے ایک ہفتے کے اندر اندر ساری پیکنگ کی اور لاہور شفٹ ہوگئے
اس طرح ان کے آبائی گھر کو تالا لگ گیا اور خالی گھر کی چابی وہ ہمساۓ کے ایک گھر میں دے آئے جس گھر میں ان کا زیادہ آنا جانا تھا تاکہ وہ پیچھے سے ان کے گھر کا خیال رکھ سکے اور پودوں وغیرہ کو پانی دے سکے ۔۔۔
***************************
لاہور شفٹ ہونے کے بعد منال کو چپ لگ گئی تھی ۔۔وہ کسی سے زیادہ بات چیت نہ کرتی تھی
مشعل کے گھر بیٹا ہوا تھا جو کے بہت پیارا تھا
وقار احمد نے لاہور شفٹ ہونے کے بعد یہاں ایک فیکٹریوں میں نوکری شروع کر دی تھی
وقت کا کام تھا گزرنا اور یوں ہی وقت گزرتا گیا
منال کا رزلٹ آیا تووہ فرسٹ ڈویژن سے پاس ہوئی
سارے بہت خوش تھے منال کا دل آگے پڑھنے کو نہیں تھا لیکن وقاراحمد کے مجبور کرنے پر آگے داخلہ لے لیا
اور کالج جانا شروع کر دیا
منال کو رہ رہ کر خود پر لگے الزامات نہیں بولتے تھے وہ جب بھی اکیلی بیٹھی ہوتی تو رونے لگتی رومان کی بے وفائی یاد آتی تو دل کٹ کے رہ جاتا
پڑھائی کی طرف منال کا دل تھوڑا بہت لگ کر سنبھل گیا تھا
اب سب کے ساتھ بیٹھ کر تھوڑا بہت ہنسی مذاق کر لیتی
مشعل ہفتے میں ایک دن ان کے گھر ضرور چکر لگا لیتی مشعل کے آنے سے ان کے گھر میں رونق دوبالا ہو جاتی ۔
**************************
مشعل کے پیپرز ہو رہے تھے دل و جان سے تیاری کر رہی تھی ۔۔۔۔ منال اب سمبھل گئی تھی خود میں ہمت لے آئ تھی اور صبر
اور سب سے بڑ ی بات وہ نماز ٹائم سے پڑھتی اب حجاب لینے کے ساتھ ساتھ نقاب بھی شرو ع کر دیا تھا
مشعل آخری پیپر دے کر گھر آئ ۔۔ تو گھر کے دروازے کے اگے لوگ کھڑ ے دیکھ کر پریشان ہو گئی اور جلدی سے ہجوم ہٹا تی اندر داخل ہوئی
اندر سے رونے کی آواز آ رہی تھی
منال سمجھ نہیں پائی اس کے دل میں خطرے کی گھنٹیاں بجنا شروع ہوگئی تھی اور وہ دعا کرتی یا اللہ خیر
اس کے کانو ں میں آواز پڑی کے اچھےانسان تھے ۔۔۔
اپنوں سے بڑھ کر ہمسایوں کا خیال رکھتے تھے ان کے دکھ سکھ میں شریک ھوتے تھے ،۔
حال میں عورتوں کا ہجوم تھا اور رونے کی آواز آ رہی تھی وہ عورتوں میں سے ہو کر آگے بڑھیں اور چا ر پائی پر لیٹے وجود کو دیکھ کر منال کی چیخ نکل گئی ۔۔۔۔۔
وقار احمد کا وجود ساکت پڑا تھا
منال بھاگتی پاس آئی اور وقار احمد کے وجود کو ہلانے لگی ۔۔لیکن وہاں کوئی حرکت نہ ہوئی . ۔
منال رو رہی تھی اور کہہ رہی تھی نہیں ایسا نہیں ہو سکتا میرے بابا مجھے چھوڑ کے نہیں جا سکتے
بابا آپ اپنی منال کو ایسے کیسے چھوڑ کر جا سکتے ہیں پلیز اٹھ جاںُیں
آپ کی منال آپ کے بغیر مر جائے گی امی بابا کیوں نہیں اٹھ رکھے منال کو روتا دیکھ کر باقی سب بھی رونے لگے
منال تڑپ رہی تھی منال کو بار بار غشی کے دورے پڑنے لگے
منال ہوش کی دنیا سے بیگانہ ہو گی اس کے حواس جاتے رہے ۔۔۔۔
وقار احمد کی ڈیتھ صبح فیکٹری جاتے ایکسیڈنٹ سے ہوئی تھی
فیاض احمد تک اطلاع پہنچ چکی تھی اور وہ بھائی کے جنازے میں شرکت کرنے کے لیے آ گئے تھے امریکہ میں مقیم ان کی بہن عائشہ کو بھی اطلاع پہنچا دی گئی تھی
مغرب کی نماز کے بعد ان کا جنازہ رکھا گیا تھا
سرمد اپنے بیٹے کی موت کے غم سے نڈھال تھے
مشعل کیلئے اپنی ماں اور منال کو سنبھالنا مشکل ہو رہا تھا
کیوں کہ منال کو بار بار غشی کے دورے پر گئے تھے اور جب ہوش آتا تو چیخ چیخ کر رونا شروع کر دیتی
علی نے ڈاکٹر کو بلاکر منال کو نیند کا انجکشن لگوا دیا تاکہ وہ تھوڑی دیر ریسٹ کرے اور اس کو ذہنی سکون مل سکے
***************************
رومان کوماں کے ذریعے وقار احمد کے انتقال کی خبر پہنچی ۔۔
رومان اس حادثے کے بعد لندن شفٹ ہو گیا تھا
معیز پہلے ہی لندن چلا گیا تھا کیوں کہ اس کی ماں اس کی شادی صبا سے نہیں کرنا چاہتی تھی اس لئے معیز جانے سے پہلے صباء سے نکاح کر کے چپ کر کے چلا گیا تھا بغیر اطلاع دیے گھر ۔۔
لندن پہنچ کر معیز نے ماں کو فون کیا اور ان کو بتا دیا کہ میں صبا سے نکاح کر آیا ہوں اور بہت جلد میں اس کو اپنے پاس بلا لوں گا
فیاض احمد بھائی کا جنازہ پڑھ کر واپس آگئے تھے تب سے وہ چپ چپ تھے اور غم سے نڈھال تھے
باپ کے گلے لگ کر وہ بہت روئے تھے اور تڑپے تھے
بس بیٹا کیا ہوسکتا ہے جانے والا چلا گیا میرے کندھوں پر اتنی بڑی ذمہ داری چھوڑ گیا میں اس کی ذمہ داری کیسے نبھاوُں گا ۔۔۔
ابو آپ اکیلے نہیں ہیں میرے سے جو کچھ ہو سکا وہ میں کروں گا میں رکنا چاہتا ہوں لیکن مجھے میں ہمت پیدا نہیں ہو رہی میں کس منہ سے یہاں رکو ۔۔۔۔
فیاض احمد سب سے مل کر واپس چلے گئے تھے ۔۔۔
***************************
منال کی آنکھ اگلی صبح کھلی تو سب ختم ہو چکا تھا پہلے تو وہ سمجھ ہی نہ پائیں لیکن آہستہ آہستہ جب ذہن بیدار ہونا شروع ہوا تو اس کو سب یاد آتا گیا
منال تیزی سے اٹھتی ہوئی باہر کی طرف بھاگی
ہا ل میں بالکل سناٹا تھا
آسیہ احمد صوفے پر بالکل چپ بیٹھی تھی
منال بابا بابا کرتی ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں جھانک رہی تھیں اور انہیں آوازیں دی رہی تھی ۔۔
اگے سے کوئی جواب نہ پا کر منال رونا شروع ہوگئی
بابا کہاں چلے گئے ہیں آپ پلیز واپس آجائیں
آپ کی منال آپ کو بلا رہی ہے
منال کو یوں روتا دیکھ کر آسیہ اس کی طرف بھاگی
اور اسے ساتھ لگاتے ہوئے خود بھی رونے لگی
سرمد صاحب کمرے میں بیٹھے دونوں کو دیکھ رہے تھے اور وہ خود اندر آنسو بہا رہے تھے
امی بابا کو کہے واپس آئے وہ ایسے کیسے ہمیں چھوڑ کر جا سکتے ہیں ۔۔۔۔
وقت کا کام تھا گزرنا اور یوں تین مہینے گزر گے منال کو باپ کی موت کا گہرا صدمہ پہنچا تھا خود پر اس نے چپ سادھ لی تھی کوئی بلاتا تو جواب دے دیتی خود سے بات کرنا اس نے چھوڑ دیا تھا
ہنسنا مسکرانا کیا ہوتا ہے وہ تو منال بھول ہی چکی تھی
سب منال کی دلجوئی میں لگے رہتے
سرمد صاحب پاس بٹھا کر حوصلہ دیتے رہتے اور سمجا تے لیکن منال کو چاہ کر بھی صبر نہیں آرہا تھا
منال کا رزلٹ آیا تو ہمیشہ کی طرح اس نے ٹاپ کیا تھا
وہ آگے نہیں پڑھنا چاہتی تھی دل ہار چکی تھی لیکن صرف دادا جی کے سمجھانے پر منال نے آگے پڑھنے کا ارادہ کر لیا
وہ چاہتے تھے منال پڑھ لکھ کر کسسی مقام پر پہنچ جائے اور اپنے باپ کا نام روشن کریں
___________________
اگلے دن اسکول سے چھٹی کے بعد منال نے مارکیٹ جانا تھا گھر کا کچھ سا ما ن لانے کے لئے ۔۔۔
جیسے ہی چھٹی کی بیل بجی منال جلدی سے سٹاف روم چلی گئی اور اپنا برقع پہنا اور نقاب کرتی اسکول سے نکل آئ ۔۔۔
گرمی کا زور آج تھوڑا کم تھا ۔۔۔۔۔
منال سب سے پہلے سپر اسٹور گئی اور کچھ دالیں اور مرچ مسالا وغیرہ لیا
اب اس کا رخ سبزی منڈی کی طرف تھا دو دن کی سبزی اور فروٹ لیا کچھ
منال تھک چکی تھی چل چل کے اب اس کا رخ میڈیکل اسٹور پر تھا
جہاں سے امی کی دوائی لینی تھی منال کی ۔۔۔۔
منال نے ایک رکشہ روکا اور اس میں بیٹھ گئی اور اسے کہا راستے میں جو میڈیکل اسٹور آے گا وہاں رکنا مجھے دوائی لینی ہے ۔۔اچھا باجی کہ کر اس نے رکشہ سٹار ٹ کر لیا ۔۔۔۔۔۔۔
منال بیگ سے دوایوں کے پیسے الگ کرنے لگی پیسے زیادہ نہ تھے ۔۔۔بمشکل پندرہ دن کی دوائی ہی مل سکتی تھی ۔۔۔۔منال نے بےبسی سے آنکھوں میں آیا پانی صاف کیا ۔۔
رکشہ میڈیکل سٹور کے سامنے رکا تو منال اتر کر دوائی لینے کے لئے اندر چلی گئی ۔۔۔
منال دوائی لے کر مڑی تو اندر داخل ہوتے شخص سے ٹکرا گئی اور ہاتھوں میں موجود دوائی والا شاپر منال کے ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے گر گیا
گرنے سے اس میں موجود سیرپ کی دونو ں بوتلیں ٹوٹ گئی جو کے مہنگی تھی ۔۔۔
منال نے ایک نظر دکھ سے نیچے دیکھی اور دوسری نظر سامنے موجود پینٹ شرٹ میں ملبوس مہنگی پرفیو م لگاے۔۔
آنکھوں میں سن گلاسز لگاے ۔۔۔
منال کو زہر لگا ۔۔۔
آپ دیکھ کر نہیں چل سکتے آپ کی غلطی کی وجہ سے میری دوائیاں ٹوٹ گئی ہے ۔۔۔۔منال غصے سے اسے دیکھتے ہوئے بولی
او ہیلو میڈم میری غلطی نہیں غلطی آپ کی ہے آپ کو دیکھ کر چلنا چاہیے تھا
کمال ہے غلطی بھی آپ کی ہے اور الزام بھی دوسروں پر لگا رہی ہے ۔۔۔
اور ہاں آپ جیسی لڑکیوں کو خود ہی شوق ہوتا ہے دوسروں سے ٹکرانے کا اور پھر بات کرنے کے بہانے ڈھونڈ نے کا ۔۔۔۔آخری بات کہ کر وہ منال کو تپا گیا اور آگے بڑھ گیا ۔۔۔۔
اوئے مسٹر زبان سنبھال کر بات کرو آپ جیسی لڑکیوں سے کیا مراد ہے تمہاری ۔۔۔
انفیکٹ تم جیسے لڑکوں کو شوق ہوتا ہے لڑکیوں سے ٹکرانے کا اور بات کرنے کے بہانے ڈھونڈ نے کا ۔۔۔۔بہت اچھے سے جانتی ہوں تم جیسے تھرڈ کلاس ٹائپ لڑکوں کو ۔۔
منال کو دوا ںُیا ں ٹوٹنے کا اتنا دکھ تھا جو منہ میں آیا بول دیا
شاہ ویز سخت جواب دینا چاہتا تھا لیکن کچھ سوچ کے مسکرایا اور چپ ہو گیا
سب لوگ انھیں دیکھ رہے تھے
شاہ ویز نے والٹ نکال کر اس میں سے ہزار ہزار کے پانچ نوٹ نکال کر منال کے منہ پر ما رے اور بولا ۔۔یہ پکڑو
میں جانتا ہوں سارا ڈرامہ تم نے پیسوں کے لئے کیا ہے اب
یہ پکڑو اور جاؤ جان چھوڑو میری ۔
منال کو پہلے تو کچھ سمجھ نہیں آئی کے وہ کیا بول رہا ہے
پیسے دے کر وہ اگے بڑھ گیا
منال نے اسے جاتے دیکھا اور غصے میں پیسے اٹھاتے اس کے پاس پہنچ گئی اور بولی
منال کو یاد آ گیا تھا یہ وہی شخص تھا جو کچھ دن پہلے منال سے مال میں ٹکرایا تھا اور تب بھی بدتمیزی سے اس نے بات کی تھی منال آج حساب برابر کرنا چاہتی تھی
روکو پیچھے سےآواز دے کر بولی :اپنی خیرات لے کر جاؤ مجھے تمہاری خیرات کی کوئی ضرورت نہیں ہے
اور یہ وہاں پر دو جہاں ان کی ضرورت ہے ۔
میں تمہاری پیسوں پر تھوکتی بھی نہیں ہوں
اور تم کیا سمجھتے ہو پیسہ سے تم سب خرید سکتے ہو تو یہ تمہاری سب سے بڑی بھول ہے اور تم جیسے ہی آوارہ لڑکے ہوتے ہیں جو باپ کی دولت پر عیش کرتے ہیں اور اسی بات کا وہ خود پر گھمنڈ کرتے ہیں اور بہتر یہی ہے کہ آ ںُندہ زندگی میں تم مجھ سے دوبارہ نہ ٹکراؤ تو ہی بہتر ہے
اور پیسے اس کے منہ پر پھینک کر واپس پلٹ آئ
منال عمیر کو دیکھ نہیں پائی تھی وہ نیچے بیٹھیشاپر اٹھا رہی تھی اس میں موجود گولیوں کے پتے نکال رہی تھی سیرپ تو ٹوٹ چکے تھے اور شاپر میں شیشے ہی شیشے بکھر چکے تھے منال اختیاط سے گولیاں نکال رہی تھی
شاہ ویز اپنی موم کی میڈ یسن لینے آیا تھا عمیر ساتھ تھا
عمیر نے شاہ ویز کی ساری گفتگو سن لی تھی
وہ شاہ ویز کو مزید بولنے سے روک کر سیدھا کاؤنٹر پر چلا گیا اور پیسے دے کر بولا ان کا نقصان جو ہوا ہے وہ پورا کر دیں ۔۔۔
منال اٹھی اور باہر جانے لگی ۔۔۔
ایکسکیوزمی میم ۔۔۔۔یہ آپ کی میڈ یسن
منال کو پیچھے سے آواز ۔۔۔
منال نا سمجھی سے پیچھے مڑھی ۔۔۔اور بولی میری دوائی تو ٹوٹ گئی ہے ۔۔۔
میم میں جانتا ہوں ان میڈ یسن کی قیمت وہ صاحب دے چکے ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ یہ میڈیسن آپ تک پہنچا دیں
منال کو وہ شا پر پکڑا کر واپس چلا گیا منال نے نہ سمجی سے پہلے شاپر کو اور پھر آگے پیچھے دیکھا ۔۔۔۔۔
منال کو تھوڑی دور عمیر کھڑا نظر آیا جو اسے ہی دیکھ کر مسکرا رہا تھا اور ہاتھ کے اشارے سے بتایا کہ دوائی کے پیسے میں نے دیے ہیں رکھ لو ۔۔۔
منال عمیر کے پاس آئ اور بولی :سر اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے آپ پلیز انہیں واپس کر دے
کیوں ضرورت نہیں آپ کو ضرورت تھی تبھی لی تھی آپ نے
جو اس شخص کی غلطی کی وجہ سے ٹوٹ گئی ہے بجائے اس کے کہ وہ اپنی غلطی مانے الٹا وہ باتیں سنا رہا ہے آپ کو پلیز رکھ لیں آپ ۔۔۔عمیر بولا
لیکن سر میں ایسے کیسے لے سکتی ہوں پھر آپ کو مجھ سے ان کی پے منٹ لینی ہو گی ۔۔منال بیگ سے بجلی کے بل کے پیسے جو رکھے ہوے تھے نکالنے لگی ۔۔مس منال کوئی بات نہیں آپ مجھے بعد میں پیسے دے دینا ابھی آپ گھر جائیں
لیکن سر
ٹھیک ہے سر شکریہ لیکن کل آپ کو مجھ سے پیسے واپس لینے ہوں گے
اوکے کل کی کل دیکھی جائے گی آپ ابھی گھر جائیں ۔۔۔
منال باہر نکل آئ اور باہر انتظار میں کھڑے رکشے میں آ کر بیٹھ گئی اور گھر کا ایڈریس سمجھانے لگی.
جاری ہے
