Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode15

Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode15

ایک لڑکی پاس آ کر بولی ۔۔آپ ہی ہیں ارم جن کی بوکنگ تھی
جی میں ہی ہوں اور یہ میری دوست منال ۔۔ارم بولی ۔۔
آجائیں میم ۔۔آپ بیٹھے میں میڈم کو بلا کر لاتی ہوں پینٹ شرٹ میں ملبوس وہ لڑکی بولی
وہ لڑکی اس پارلر میں کام کرتی تھی اور ارم نے اس پارلر کی اونر سے تیار ہونا تھا ۔۔۔
آجاؤ منال ارم بولتے ہوے بیٹھ گئی اور منال کو اشارے سے دوسری چیئر پر بیٹھنے کو کہا ۔۔۔
ارم منگنی تمہاری ہے تم تیار ہو میں ایسے ہی ٹھیک ہوں
دکھوں منال اگر تم چاہتی ہوں میری منگنی کا فنکشن خراب نہ ہو تو چپ کر کے بیٹھ جاؤ اور وہی کرو جیسا میں کہہ رہی ہوں ۔۔۔ورنہ میں بھی تیار نہیں ہوں گی اور بات نہیں کروں گی تم سے ۔۔ ارم ناراضگی سے بولی ۔۔
لیکن ارم ۔۔۔۔منال بےبسی سے بولی
منال کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے وہ اتنے مہنگے پارلر سے تیار ہوتی ۔۔۔
بس چپ کر کے بیٹھ جاؤ
منال خاموشی سے بیٹھ گئی
وہ لڑکی میڈم کے ساتھ واپس آئ ۔۔تو ارم نے اسے سمجایا کے منال کی لک چینج کر دو ۔۔۔۔
وہ لڑکی سمجھ گئی
منال نے بال کٹوا نے سے سختی سے منع کر دیا ۔۔۔
اس پر ارم نے بھی زیادہ زور نہ دیا ۔ ۔
ایک گھنٹے بعد دونوں ریڈی تھی
ارم پیچ کلر کی میکسی میں بہت پیاری لگ رہی تھی
واؤ منال مجھے تمہیں دیکھ کر جیلسی ہو رہی ہے تم مجھ سے بھی زیادہ پیاری لگ رہی ہو
منال کے لمبے بالوں کو نیچے سے کرل کر دیا گیا تھا جو اس کی پتلی کمر پر بہت سوٹ کر رہے تھے میک اپ سے منال کی خوبصورتی کو چار چاند لگ گئے تھے ۔۔۔ایک پل کے لئے منال خود حیران رہ گئی تھی ۔۔۔
ڈوپٹے کو شولڈر پر سیٹ کر دیا گیا تھا
منال کھو سی گئی تھی شیشے میں نظر آتے اپنے عکس کو دیکھ کر ۔۔
چلیں دیر ہو رہی ہے ۔۔ارم پیمنٹ کر کے واپس آئیں تو بولی
منال خاموشی سے ساتھ چل پڑی اور گاڑی میں بیٹھ گئی
تم ایسے ہی تیار ہونے سے گھبراتی تھیں دیکھو کتنی پیاری لگ رہی ہو ایسا لگ رہا ہے جیسے میری جگہ آج تمہاری منگنی ہو رہی ہے ارم مسکراتے ہوے بولی
ارم کی بات پر منال بولی خیر ایسی بھی اب کوئی بات نہیں ہے ۔۔۔۔
تو پھر کیسی بات ہے وہی بتا دو ارم بولی ۔۔۔
کچھ نہیں تم چپ کر کے بیٹھو تمہارا میک اپ خراب ہو جائے گا زیادہ بولنے کی وجہ سے ۔۔۔اور سارے پیسے برباد ہو جائیں گے
منال کی بات پر ارم نے اسے گھور کر دیکھا اور خاموشی سے بیٹھ گئی
منال اسے خاموش بیٹھا دیکھ کر مسکرائی اور شیشے سے باہر دیکھنے لگی ۔۔
💗💗💗💗💗💗💗💗
شاہ ویز کو آے تیس منٹ ہو چکے تھے عمیر اس کے ساتھ ہی تھا
شاہ ویز کی موم عورتوں کے پاس بیٹھی باتوں میں مشغول تھی ۔۔۔
اور اسجد صاحب کو اپنے ایک دوست مل گئے تھے برسو ں پرانے وہ انہی کے ساتھ گپ شپ میں مصروف تھے
شاہ ویز میدان کے پاس گاڑی پارک کیے عمیر سے باتوں میں مصروف تھا
ہرطرف روشنی ہی روشنی تھی ہر چیز وا ضح نظر آ رہی تھی
عمیر نے فواد کو کال کر کے پوچھا تھا کتنی دیر ہے اور آنے میں فواد نے کہا اگلے بیس منٹ میں وہ وہاں ہوں گے ۔۔
گاڑی بالکل شاہ ویز کی گاڑی کے پاس آ کر رکی ۔۔
اس کی پیچھلی سیٹ پر سے منال اتری ….
شاہ ویز غیر ارادی طور پر گاڑی کی طرف دیکھنے لگا ۔۔۔
شاہ ویز کی نظر منال پر پڑی تو پلٹنا بھول گئی ۔۔۔
عمیر کوئی بات کر رہا تھا شاہ ویز کو متوجہ نہ پا کر اس کی نظروں کے تعا قب میں دیکھنے لگا ۔۔۔
جہاں گاڑی میں سے دو لڑکیاں نکل رہی تھی ۔۔۔
ارم کو تو وہ پہچان گیا لیکن منال کو وہ پہچان نہ پایا کیوں کے جھک کر ارم کو نکالنے کی وجہ سے اس کے چہرے کے گرد بال آ گئے تھے ۔۔۔
کیا ہو گیا شاہ ویز کہاں کھو گئے ہو عمیر اس کی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجاتے ہوے بولا ۔۔
آ ہاں کہیں نہیں ۔۔۔شاہ ویز خود حیران ہوا اپنی اس حرکت پر ۔۔
ارم ہے ۔۔۔لیکن ساتھ کون ہے عمیر بولا ۔۔۔
عمیر جب سے آیا تھا اس نے منال نہیں دیکھی تھی باقی سارے سٹاف سے مل چکا تھا وہ ۔۔۔
مجھے کیا پتا ۔۔۔شاہ ویز بولا
چلو اندر چلتے ہیں شاہ ویز نے دونو ں کو اندر جاتے دیکھ کر بولا ۔۔۔۔
شاہ ویز کو اب اپنا وہاں کھڑا ہونا فضول لگا ۔۔۔اور وہ اندر آ گیا انتظام اگھٹا کیا گیا تھا مرد اور عورتوں کا
بس ایک سائیڈ پر مردوں کے لیے ٹیبلز لگائی گئی تھیں اور دوسری طرف عورتوں کے لئے لگائی گئی تھی
منال آرم کو لے کر گھر چلی گئی تھی جہاں سے تھوڑی دیر بعد ارم نے آنا تھا ۔۔۔۔
شاہ ویز اسٹیج کے پاس لگے ٹیبل پر جا کر بیٹھ گیا عمیر کے ساتھ ۔۔۔
اچھا بیٹا اب ہم چلتے ہیں گھر سے فون آیا ہے مہمان
آے ہیں اور
و کیل کا بھی فون آیا ہے اسے اچانک سے آؤٹ آف سٹی جانا پڑ گیا ہے کام کے سلسلے میں ۔۔اسجد صاحب پاس آ کر بولے
تو ڈیڈ آپ رک جائیں ایک ساتھ ہی گھر چلتے ہیں ہم لوگ ۔۔۔
نہیں بیٹا آپ روکو ابھی فنکشن شرو ع نہیں ہوا آپ کا ایسے جانا مناسب نہیں ہے ہم چلے جاتے ہیں آپ آرام سے آنا ۔۔۔
اوکے سہی ہے دھیان سے جانا شاہ ویز موم اور ڈیڈ کو گاڑی تک چھوڑنے آیا ۔۔۔
اوکے بیٹا آپ پریشان نہ ہونا ۔۔ عائشہ پیار سے بولتے ہوے گاڑی میں بیٹھ گئی ڈرائیور گاڑی آرام سے نکالتے ہوے
چلا کر چلا گیا ۔۔۔
شاہ ویز نے واپسی کے لئے قدم بڑھا ےُ ۔۔۔۔
واؤ آپی آپ تو بہت پیاری لگ رہی ہیں میں تو پہلے پہچان ہی نہیں پائی کے یہ آپ ہیں ارم آپی کا شکریہ ادا کرنا چاہیے جنہوں نے آپ کو راضی کیا اتنا پیارا تیار ہونے کے لئے اب دیکھنا آپی جو بھی آپ کو دیکھے گا آپ پر فدا ہو جائے گا میری دعا ہے میری آپی کو ایک پیارا سا پرنس چارمنگ مل جائے جو میری آپی کو بہت سی خوشیاں لا کر دے ۔۔۔ردا چہک کر بولی
اچھا بس بس فضول بولنا بند کرو ۔۔
شاہ ویز دونو ں کی باتیں سن رہا تھا چہرے وہ دیکھ نہیں پایا تھا
منال اور ردا جہاں انتظام کیا گیا تھا وہاں جا رہی تھی شاہ ویز ان کے پیچھے تھا
ویسے آپی کتنا اچھا ہو اگر آپ کو وہ شہزادہ مل جائے پیارا سا جس کے پاس بہت سارے پیسے ہوں بڑا سا گھر ہو گاڑیاں نوکر چاکر سب ہوں ۔تا کے آپی آپ کو کسی چیز کی کمی نہ آئے جیسے آپ میرے اور امی کے لئے صبح سے شام تک محنت کرتی ہیں پیسے کمانے کے لئے ۔۔ردا ایک بار پھر شروع ہو گئی تھی
تم چپ کرتی ہوں یا میں ایک لگاؤں تمہارے کانوں کے نیچے اور ہاں یہ شہزادے اور پرنس چارمنگ صرف ان لڑکیوں کو ملتے ہیں جن کی قسمت اچھی ہوتی ہے ان کو نہیں جن کی قسمت میرے جیسی ہوتی ہے آئندہ ایسی کوئی بھی فضول بات منہ سے مت نکالنا تم سمجھی ۔۔۔۔۔۔منال کہ کر تیز تیز قدموں سے اندر داخل ہو گئی
ردا ایک دم اداس ہو گئی اور روتے ہوے وہ رک کر آسمان کی طرف دیکھ کر دعا کرنے لگی اے اللہ میری آپی کو جلدی سے اس کے شہزادے سے ملا دے جو انھیں سمیت لے وہ اندر سے بہت ٹوٹ چکی ہیں وہ ظاہر نہیں کرتی لیکن میں جانتی ہوں انھیں
ڈھیر ساری خوشیاں لا کر دے ان کا پرنس انھیں ۔۔آمین
شاہ ویز نے ردا کی دعا سنی اور چپکے سے آمین کہہ کر اس کے پاس آیا اور بولا
تم فکر نہ کرو تمہاری آپی کو ضرور ایسا ہی پرنس ملے گا جو تمہاری آپی کو بہت خوش رکھے گا ۔۔
ردا نے آواز پر سر اٹھا کر دیکھا تو سامنے اجنبی لڑکے کو کھڑے پایا ۔۔۔
اور بولی آپ کون ہیں اور آپ نے چھپ کر میری دعا کیوں سنی ہے ۔۔۔
میں نے تمہاری کوئی دعا چھپ کر نہیں سنی بس میں پیچھے سے آ رہا تھا تمہاری آواز مجھ تک پہنچی اور میں نے سن لیا۔۔۔۔۔اور مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے جیسے میں نے تمہیں پہلے کہیں دیکھا ہوا ہے شاہ ویز بولا
ردا نے اس کے چہرے کی طرف غور سے دیکھا تو اسے مال میں ہوا واقعہ یاد آگیا اور ردا نے فورا اسے پہچان لیا ۔۔۔
پتا نہیں شاید کہیں دیکھا ہوگا اب میں چلتی ہوں ردا کہ کر جلدی جلدی وہاں سے نکلنے لگی
تبھی پیچھے سے شاہ ویز نے اسے آواز دے کر روک لیا اور بولا ہاں مجھے یاد آگیا ہے تم وہی لڑکی ہو نہ جس نے مال میں مجھ پر الزام لگا کر پیسے نکلوا ے تھے ۔۔۔
ردا اپنی جگہ سن سی ہو گئی اور پریشان بھی پتہ نہیں اب یہ شخص اس کے ساتھ کیا کرے گا ۔۔۔
شاہ ویز چلتا ہوا اس کے سامنے آ گیا اور بولا بولو تم وہی ہو نہ ۔۔؟؟
ردا کے گلے سے گھٹی گھٹی آواز میں جی نکلا ۔۔۔
دیکھیں میں آپ سے معافی مانگتی ہوں میں نے جان بوجھ کر آپ پر کوئی الزام نہیں لگایا تھا وہ سب اچانک آپ کے ٹکرانے کی وجہ سے ٹوٹ گیا تھا اور میرے پاس پیسے نہیں تھے جو میں وہ نقصان بھرتی اس لیے میں نے وہ نقصان آپ سے پورا کروایا تھا ۔۔۔۔ردا رونے لگی تھی
شاہ ویز نے اسے روتے دیکھا تو اسے اچھا نہیں لگا اور بولا رونا بند کرو ۔چپ کر جاؤ ۔۔۔
ردا نے گردن اٹھا کر اسے دیکھا ۔۔۔
میرے پاس ابھی پیسے نہیں ہے اور اگر میرے پاس ہوتے تو میں آپ کو ابھی دے دیتی لیکن ۔۔۔۔۔۔
کوئی بات نہیں میں نے تمہیں معاف کیا شاہ ویز نے مسکرا کر کہا ۔۔
ردا ایک دم حیران ہوئی اور بولی آپ سچ کہہ رہی ہیں
ہاں بالکل سچ کہ رہا ہوں ۔۔شاہ ویز بولا
تھینک یو بھائی ردا بے اختیار اسے بھائی کہ گئی ۔۔کیا میں آپ کو بھائی کہہ سکتی ہوں کیوں کہ میرا کوئی بھائی نہیں ہے ۔۔۔۔۔
اٹس اوکے تم مجھے بھائی کہ سکتی ہو بلکہ یہ رکھو میرا کارڈ جب بھی میری کبھی ضرورت پڑے تو مجھے کال کر لینا ۔۔۔
شکریہ بھائی کہہ کر ردا کارڈ لے کر اندر چلی گئی ۔۔
شاہ ویز ان دونوں کی باتوں سے یہ جان گیا تھا کہ وہ دونوں کسی غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والی تھی کیوں کہ جس طرح روتے ہوئے ردا نے دل سے دعا مانگی تھی شاہ ویز جان گیا تھا
موبائل پر میسج بیل بجی
شاہ ویز نے میسج دیکھا تو وہ عمیر کا تھا جو اسے اندر بلا رہا تھا ۔۔۔۔۔
💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗
لڑکے والے آ چکے تھے
سب کا بہت احترام سے استقبال کیا گیا اور بٹھایا گیا
منال کو ارم کی امی نے ارم کے پاس بھیج دیا تا کے وہ اسے اپنے ساتھ لے آے
ارم اکلوتی بہن تھی
منال اور ایک ارم کی کزن ارم کو لئے میدان میں داخل ہوئی مووی میکر اور کیمرا مین شوٹ کر رہے تھے
سب کی نظریں ان پر اٹھی ۔۔۔
منال سب کی نظروں سےپزل ہو رہی تھی کیوں کے سب انہیں ہی دیکھ رہے تھے
اسٹیج کے پاس جا کر منال نے ارم کا ہاتھ چھوڑ دیا
اور ارم کی کزن کو کہا کہ آپ ارم کو ا سٹیج پر بٹھا کر نیچے آ جائیں
شاہ ویز کی نظریں منال پر جم گئی تھی بلیک کلر میں وہ آسمان سے اتری کوئی حور لگ رہی تھی وہ بالکل اس کے سامنے کھڑی تھی گھبرائی گھبرائی سی۔۔۔ شاہ ویز کے دل نے ایک بیٹ مس کی
عمیر منال کو دیکھ چکا تھا ۔۔اور وہ منال کی خوبصورتی دیکھ کر حیران رہ گیا تھا
منال ارم کے کان میں کچھ کہہ کر واپس پلٹی اور ردا کے پاس جا کر بیٹھ گئی
شاہ ویز کی نظریں منال کا تعاقب کر رہی تھی ا سے ردا کے پاس بیٹھا اور باتیں کرتا دیکھ کر وہ سمجھ گیا کہ یہ ضرور اس کی وہی بہن ہے جو باہر اسے ڈانٹ رہی تھی ۔۔۔
فواد اور ارم اسٹیج پر بیٹھ چکے تھے ۔۔۔
مووی میکر سب کی مووی بنا رہا تھا
دوبارہ مووی بنتے دیکھ کر منال نے جلدی سے سر پر اچھے سے دوپٹہ اوڑھ لیا
منگنی کی رسم شروع کی گئی پہلے فواد نے انگوٹھی ارم کے ہاتھ میں بنائیں اور پھر ارم نے فواد کے ہاتھ میں انگوٹھی پہنائی،۔۔۔ہر طرف تالیوں کا شور گونج اٹھا
باری باری سب ا سٹیج پر جاکر مووی بنوا رہے تھے ارم نے منال کو پیغام بھجوا کر اپنے پاس بلوایا ۔۔۔۔۔
منال ردا سے گفٹ پیک لے کر ا سٹیج کی طرف چلی گئی
شاہ ویز اٹھا اور اسٹیج کی طرف بڑھ کر فواد کے پاس بیٹھ گیا
منال ا سٹیج کے پاس پہنچی تواسٹیج پر فواد کے پاس بیٹھے شخص کو دیکھ کر دنگ رہ گی ۔یہ لفنڈر یہاں کیا کر رہا ہے
کیا ہوا منال ۔۔۔۔۔
منال کو یوں کھڑا دیکھ کر ارم بولی ۔۔۔
کچھ نہیں ۔۔۔
تو آؤ نہ یہاں وہاں کیوں کھڑی ہو گئی ہو ۔۔۔۔۔
ارم بہت خوش لگ رہی تھی ۔۔۔منال انکار کر کے اس کی خوشی خراب نہیں کرنا چاہتی تھی
منال خاموشی سے ارم کے پاس بیٹھ گئی ۔۔۔
ارم یہ جو شخص فواد بھائی کے ساتھ بیٹھا ہے یہ کون ہے ۔۔۔۔منال نے ارم کے کان میں کہا
ارم نے حیرانگی سے منال کی طرف دیکھا اور بولی تم انہیں نہیں جانتی یہ کون ہے ۔۔۔
منال نے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔
یہ شاہ ویز سر ہیں ہماری اکیڈمی کے اونر ۔۔۔۔
شائد تم ابھی تک ان سے نہیں مل پائی اس لیے تم انہیں نہیں جانتی ۔۔۔۔
مجھے ا سے جاننے میں کوئی دلچسپی بھی نہیں ہے یہ ایک نمبر کا لفنڈر اور کمینہ انسان ہے ۔۔۔ منال بڑبڑا ئی
کچھ کہا تم نےمنال ارم نے اس سے پوچھا
نہیں میں نے کچھ نہیں کہا تم اپنا گفٹ پکڑو ابھی مجھے دیر ہو رہی ہے گھر جانا چاہیئے ہمیں ۔۔۔
ایسے کیسے گھر جانا ہے ابھی کھانا کھا کر جانا اور تم پریشان نہ ہو گاڑی گھر پر چھوڑ آئے گی تم دونو ں کو ۔۔۔
منال کے اترنے سے پہلے ہی شاہ ویز دونوں کو گفٹ دے کر اسٹیج سے اتر گیا ۔۔۔
اور جاکر اپنی جگہ پر عمیر کے ساتھ بیٹھ گیا ۔۔
شاہ ویز کو منال کا نام سنا سنا سا لگا تھا ۔۔۔۔
منال اسٹیج سے اتر رہی تھی جب اچا نک لائٹ بند ہو گئی ہر طرف اندھیرا ہو گیا تھا
منال کا پاؤں پھسلا اس سے پہلے وہ زمین بوس ہوتی کسی نے اسے تھام لیا ۔۔۔۔۔۔
منال کے منہ سے چیخ نکلی
💓💓💓💓💓💓
منال کی بے ساختہ چیخ نکلی ۔۔۔۔
موبائل کی ٹا رچ سے روشنیاں آ ن کی گئی
سب اپنی جگہ پر ہی بیٹھے رہیں ابھی لائٹ ان ہو جاتی ہے ۔۔۔۔۔کہیں سے آواز آئ تھی
منال کو اپنی کمر پر کسی کا ہاتھ محسوس ہوا منال نے فورا آنکھیں کھولی لیکن اندھیرا ہونے کی وجہ سے وہ دیکھ نہ پائی پرفیوم کی تیز خوشبو منال کے نتھنوں سے ٹکرائی ۔۔۔۔۔
منال نے اپنے ہاتھ کی مدد سے تھامنے والے کی شناخت کرنا چاہی ۔۔
تھامنے والے کو اپنے چہرے پر منال کا ہاتھ محسوس ہواجس سے مہندی کی خوشبو آ رہی تھی
وہ مہندی کی خوشبو کو اپنے اندر اتارنے لگا ۔۔۔
منال نے کھڑا ہونے کے لئے کوٹ کے کا لر کا سہارا لینا چاہا لیکن الٹا اس کا ہاتھ تھام لیا گیا اور سہارا دے کر کھڑا کیا گیا
کون ہے چھوڑو مجھے ۔۔۔۔۔۔۔
منال ابھی تک اس کے ہاتھ کی گرفت میں تھی
فواد نے موبائل کی ٹارچ آن کی
منال کی نظر جب اس چہرے پر پڑی ۔۔۔
منال نے جیسے ہی چیخ مارنے کے لئے منہ کھولا
شاویز نے اس کے منہ کے آگے ہاتھ رکھ کر چیخ کا گلا گھونٹ دیا ۔۔۔۔
منال کی آنکھیں حیرت اور خوف سے مزید پھیل گئی ۔۔
اپنے منہ سے اس کا ہاتھ ہٹاتے ہوئے منال بولی :
تمہاری ہمّت کیسے ہوئی مجھے ہاتھ لگانے کی چھوڑو مجھے۔۔لوفر اور کمینے انسان جب کچھ اور نہیں کرسکے تو اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر تم میرے پاس چلے آئے بدلہ لینے کے لئے دکھا دیا نا تم نےاپنا آپ ۔۔۔
منال جھٹکے سے پیچھے ہوتے ہوئے بولی ۔۔
شاہ ویز کا چہرہ حیرت اور غصے کی وجہ سے سرخ ہو گیا لیکن ضبط کرتے ہوے بولا :بکواس بند کرو اپنی اور کیا مطلب ہے تمہارا میں نے کیوں اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر تمہارے پاس آنا ہے میں تو تمہیں جانتا تک نہیں ہوں شاہ ویز دبی دبی آواز میں غصے سے بولا ۔۔۔
واؤ بہت خوب اچھا ناٹک کرتے ہو تم ویسے منال طنزیہ لہجے میں بولی
شاہ ویز نے غصے سے منال کا بازو دبوچا
منال کی سسکی کی آواز نکلی
کیا مطلب ہے تمہارا میں نے کونسا نا ٹک کیا ہے میں نے صرف تمہیں گرنے سے بچانے کے لیے تھاما تھا لیکن مجھے نہیں پتا تھا تمہارے ذہن میں اتنا گند بھرا ہوا ہو گا۔۔شاہ ویز غصے سے کہہ کر جٹھکے سے بازو چھوڑتا واپس اپنی جگہ پر جا کر بیٹھ گیا
اچا نک سے لائٹ آ گئی
منال کی آنکھوں میں درد کی وجہ سے آنسو جمع ہو گئے وہ غصے سے اسے جواب دینا چاہتی تھی لیکن اسی وقت ارم پاس آگئی اور بولی منال تمہیں لگی تو نہیں ہے تم ٹھیک ہو ۔۔
منال غصے اور نفرت سے شاہ ویز کی طرف دیکھتے ہوئے بولی :
ہاں میں ٹھیک ہوں اور جا کر اپنی جگہ پر بیٹھ گئی
ردا نے پانی کا گلاس پکڑایا
جسے لے کر وہ پینے لگی
کھانا لگ چکا تھا منال درد کی وجہ سے بیٹھی رہی ردا اپنا اور منال کا کھانا ڈال کر وہیں لے آئ ۔۔۔۔
کھانا کھانے کے فورا بعد منال نے ارم سے کہہ کر گاڑی منگوائی اور گھر روانہ ہو گئی ۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓
تم اسے بھول کیوں نہیں جاتے آخر ۔۔کب تک ایسے چلے گا تمہاری اپنی بھی کوئی زندگی ہے ۔۔تم ایسے اسے برباد نہیں کر سکتے ۔۔۔
میرے بس میں نہیں ہے اسے بھول پانا ۔۔۔
مجھے ایسا لگتا ہے جیسے
میں اس کے بغیر کچھ نہیں ہوں میری زندگی بے معنی سی ہو کر رہ گئی ہے ۔وہ روتے ہوے اپنے دل کا حال بتا رہا تھا
لیکن رومان ایسے کب تک چلے گا
تمہیں ہمت سے کام لینا ہو گا
اب پیچھے مڑ کر دیکھنے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا تم نے اپنے ہاتھوں خود کھو دیا ہے اسے ۔۔وہ سمجا تے ہوے بولی
یہی تو میرے اختیار میں نہیں ہے
میں یہ بھی نہیں جانتا وہ کہاں ہے کس حال میں ہو گی مجھ سے بہت بڑ ی غلطی ہو گئی علینا ۔۔
میں نے اپنے ہاتھوں اپنی زندگی گنوا دی
میری منال ایسی نہیں تھی میں اسے سمجھ نہیں سکا
میرا پیار اتنا کمزور نکلا
علینا کے لئے اسے اس حال میں دیکھنا مشکل ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔
علینا نے پانی کا گلاس اٹھا کر رومان کو دیا
اور بولی رومان پلیز خود کو سمبھالو
رومان نے علینا کے ہاتھ پکڑ لئے اور بے بسی بولا علینا میں اس سے معافی مانگنا چاہتا ہوں تا کے مجھے سکون مل سکے ۔۔۔۔
میں بہت بے سکون ہوں مجھے اس کی نظریں سونے نہیں دیتی رات بھر
تم حوصلہ رکھو سب ٹھیک ہو جائے گا بس ہمّت سے کام لو ۔۔میں تمہیں اس حال میں نہیں دیکھ سکتی
میری خاطر رومان خود کو سمبھال لو پلیز ۔۔۔۔
تم جانتے ہو میں تم سے کتنا پیار کرتی ہو
جس طرح تم نے منال کو کھویا ہے اس طرح میں تمہیں کھونا نہیں چاہتی اور نہ ہی مجھ میں اتنا حوصلہ ہے ۔۔علینہ روتے ہوئے رومان کے ہاتھ پکڑ کر بولی ۔۔۔
رومان بے بسی سے علینہ کی طرف دیکھنے لگا اور اپنے ہاتھ چھڑوا کر کھڑکی کے آگے کھڑا ہوگیا
علینہ خوف بھری نظروں سے رومان کی پشت کو دیکھنے لگی ۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *