Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer NovelR50758 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode17
No Download Link
581.2K
29
Rate this Novel
Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode01 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode02 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode03 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode04 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode05 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode07 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode08 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode09 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode10 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode11 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode12 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode13 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode14 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode15 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode16 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode17 (Watching)Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode18 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode19 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode20 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode21 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode22 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode24 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode25 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode26 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode27 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode28 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Last Episode Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode23 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode06
Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode17
Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode17
جس دن سے دیکھا ہے تم کو صنم
بے چین رهتے ہیں اس دن سے ہم
لگتا ہے ایسا خدا کی قسم تم میرے ہو
ساون ہے برسات ہوتی نہیں کھل کے کوئی بات ہوتی نہیں کیسے بتائیں تم کو صنم
تم میرے ہو تم میرے ہو ۔۔۔۔
“منال کی آنکھ کسی احساس کے تحت کھلی تھی
بس میں میوزک چل رہا تھا
منال نے ا پنے بائیں جانب دیکھا تو اپنے ساتھ بیٹھے شاہ ویز کو دیکھ کر حیران ہو گئی
شاہ ویز نے منال کو اپنی جانب دیکھتے ہوے پایا
تو مسکرانے لگا
تم یہاں پر کیا کر رہے ہو ۔
اٹھو یہاں سے ۔۔کہیں اور جا کر بیٹھو ۔۔منال غصے سے بولی
کیا مطلب کیا کر رہا ہوں
تمہیں نظر نہیں آ رہا بیٹھا ہوا ہوں
اور کیوں جا کے کہیں اور بیٹھوں میری یہی سیٹ ہے یہیں بیٹھوں گا
اگر تمہیں مسلہ ہے تم چلی جاؤ کہیں اور ۔۔
شاہ ویز آرام سے بولا ۔۔
منال نے بولنے کے لئے منہ کھولا لیکن سونگ اونچی آواز میں ہونے کی وجہ سے وہ بول نہ پائی
“شا عر جو ہوتا تو تیرے لئے
لکھتا غزل میں کوئی پیار کی
ہوتا مصور تو اپنے لئے مورت بناتا رخ یار کی
تصویر تیری بناتا میں سارے جہاں کو دکھاتا میں
پر کیا کروں کے مصور نہیں
ہے بد نصیبی کے شاعر نہیں
کیسے بتائیں یہ تم کو صنم تم میرے ہو
تم میرے ہو
“شاہ ویز منال کو ہی دیکھ رہا تھا شاہ ویز کی نظروں سے منال کو الجھن ہونے لگی۔۔
راتوں کو کروٹ بدلتے ہیں ہم شمع کی ماند جلتے ہیں ہم
تم ہی بتاؤکے ہم کیا کریں
چارو طرف دیکھتے ہیں تمہیں
اس میں خطا کیا ہماری ہے
ہر شہ میں صورت تمہاری ہے
کلیوں میں تم ہو بہاروں میں تم
اس دل میں تم ہو نظاروں میں تم
کیسے بتائیں یہ تم کو صنم
تم میرے ہو
تم میرے ہو ۔۔۔
“سونگ ختم ہونے تک منال چپ کر کے اس کی نظریں اور مسکراہٹ کو برداشت کرتی رہی ۔۔۔
جیسے ہی گانا بند ہوا
اس سے پہلے کے دوسرا پلے ہوتا منال جلدی سے بولی ۔۔
اس سیٹ پر آپ کا نام کہیں لکھا نظر نہیں آ رہا سو بہتر یہی ہے یہاں سے اٹھ جاؤ عزت سے ۔۔
شاہ ویز کو منال کو حالت مزہ دے رہی تھی تبھی بولا ۔۔
میں نے کب کہا نام لکھا ہوا ہے ۔۔
اور اب آپ ہی بتاؤ میں کہاں جاؤں گا اٹھ کر بس میں ساری سیٹس فل ہیں کہیں جگہ نظر نہیں آ رہی ۔۔۔شاہ ویز نے پوری بس پر نظر
دوڑ ا کر کہا .
ٹھیک ہے تم ہی بیٹھو میں ہی چلی جاتی ہوں یہاں سے ۔۔منال ایک دم اٹھی
شاہ ویز نے منال کا ہاتھ پکڑ کر اسے جانے سے روکا اور جٹکا دے کر دوبارہ سیٹ پر بیٹھا دیا
اور بولا ۔۔یہاں سے جانے کی کیا وجہ بتاؤ گی
اور یہاں سے اٹھ کر گئی تو سارے راستے کھڑی ہو کر جانا پڑے گا کیوں کے اور جگہ تو ہے نہیں بس میں کہاں بیٹھوں گی
کھڑا ہو کر جانا پڑے گا تمہیں پھر
اور رہی بات تو سن لو میں تو یہیں بیٹھوں گا
شاہ ویز کہ کر مزے سے آنکھیں موند گیا
بند آنکھوں میں بولا ۔۔اور پلیز اب خاموشی سے بیٹھنا میں تمہاری فضول قسم کی گفتگو سے اپنا سفر خراب نہیں کرنا چاہتا ۔۔۔
منال نے غصے سے اسے دیکھا اور منہ موڑ کر شیشے سے باہر دیکھنے لگی ۔۔
کہ تو وہ ٹھیک رہا تھا اگر اٹھ کر جاتی تو اور کہاں پر بیٹھتی ۔۔
اسی لئے خاموشی سے شاہ ویز سے ہٹ کر بیٹھ گئی
شاہ ویز نے اسے خاموشی سے بیٹھا دیکھ کر مسکرایا اور دوبارہ آنکھیں بند کر لی
بس میں اگلا سونگ لگ چکا تھا
پاس اؤ میں تمہیں دیکھ لوں قریب سے
آنکھوں کو یہ راحتیں ملتی ہیں نصیب سے
بازوُ ں میں تم مجھے بے تحاشا گھیرے ہو
کل کی فکر ہے کس کو تم ابھی تو میرے ہو
میں صرف تیرا رہوں گا تجھ سے ہے وعدہ میرا
تو مانگ لے مسکرا کے میرا پیار حق ہے تیرا
او ہمسفر او ہمنوا
دے شرط میں تیرا ہوا
منال شیشے کے ساتھ چپک کر بیٹھی ہوئی تھی لیکن گانے کے بول سن کر اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا ۔۔
ایک چور نظر ساتھ بیٹھے وجود پر ڈالی ۔
وہ مزے سے آنکھیں بند کیے ٹیک لگاے بیٹھا تھا
منال نے سکون کا سانس خارج کیا ۔۔۔
شاہ ویز بند آنکھوں کے پیچھے اس کی ہر حرکت نوٹ کر تھا اور اس کا اپنا دل بھی منال کے لئے دھڑکنے لگا تھا ۔۔
فیاض میں چاہ رہی ہوں نور کے ہاتھ پیلے کر دیں اب خیر سے سولہ سال کی ہو گئی ہے ۔۔۔
صبح ناشتہ کرتے ہوے رقیہ نے فیاض احمد سے کہا ۔۔
فیاض احمد حیرانگی سے رقیہ کو دیکھنے لگے اور بولے
پاگل ہو گئی ہو ابھی اس کی عمر ہی کتنی ہے
عمروں میں کیا رکھا ہے فیاض احمد
پڑھائی میں تو وہ چل نہ سکی
اور نہ ہی گھر کے کاموں میں حصہ لیتی ہے
ہر وقت فون کے ساتھ لگی رہتی ہے کوئی کام نہیں کرتی گھر کا
اور اگر کہ دوں کوئی کام تو
توبہ توبہ گز بھر کی زبان چلانے لگتی ہے اگے سے
ہاتھ سے نکلتی جا رہی ہے میں تو کہتی ہوں کوئی اچھا سا لڑکا دیکھ کر کر دو شادی ۔۔۔
اس سے پہلے کے مزید ہاتھوں سے نکل جائے
رقیہ راز داری سے بولی ۔۔
فیاض احمد نے غصے سے رقیہ کی طرف دیکھا
اور بولے تم ماں ہو اس پر نظر رکھنا تمہارا کام ہے
میں تو سارا دن زمینو ں پر ہوتا ہوں
پیچھے وہ کیا کرتی ہے کیا نہیں مجھے نہیں پتا
یہ سب جاننا تمہارا کام ہے رقیہ بیگم
اب اگر وہ ہاتھوں سے نکل گئی ہے تو اس میں کسی اور کا نہیں تمہارا اپنا قصور ہے
اگر شرو ع سے سختی رکھتی تو یہ نوبت نہ آتی
اور جہاں تک بات ہے رشتے کی تو تم رشتے والی سے کہ کر اسے تلاش کرنے کا کہ دو ۔۔
ناشتہ کرنے کے بعد ہاتھ دھونے کے لئے اٹھ گئے
شاہ ویز کو گھر سے گئے ابھی کچھ ہی گھنٹے ہوئے ہیں گھر کیسے خالی خالی لگنے لگ پڑا ہے
ناشتہ کرتے ہوے عائشہ بولی
ہاں سہی کہ رہی ہو تم عائشہ ۔۔اسجد صاحب بولے
عائشہ مجھے تم سے شاہ ویز سے مطلق بات کرنی ہے
جی بولیں کیا بات کرنی ہے
عائشہ میں سوچ رہا تھا کے تم شاہ ویز کی شادی اپنی دوست کی بیٹی کی بجائے اپنے بھائی کی بیٹی سے کیوں نہیں کر دیتی
تمہارے ذہن میں بھائی کی بیٹی کا خیال کیوں نہیں آیا ۔۔شاہ میر کی شادی بھی تم نے باہر کی اور آمنہ اور سدرہ (بیٹیاں ) کی بھی ہم نے باہر کی ہے
اور اب تم شاہ ویز کی بھی باہر کرنا چاہ رہی ہو ۔۔۔تمہیں اپنے بھائی کی بیٹیوں کا خیال نہیں آیا ۔۔اسجد صاحب سنجیدگی سے بولے
عائشہ سوچ میں پڑھ گئی ۔۔
کیا ہوا کچھ غلط کہہ رہا ہوں کیا
نہیں آپ ٹھیک کہ رہے ہیں میں نے اس بارے میں سوچا ہی نہیں تھا
جب سے پاکستان شفٹ ہوے ہیں میں تو امی اور ابو کی قبر پر بھی نہیں جا سکی اور نہ ہی بھائی کی طرف چکر لگا پائی ہوں ۔۔۔
میرے بھائی بھی کیا سوچتے ہوں گے میرے بارے میں کیسی بہن ہوں جس کے پاس ان کا حال تک پوچھنے کا بھی وقت نہیں ہے ۔۔۔۔عائشہ شرمندگی سے بولی
تو پھر ایسا کرتے ہیں کل چکر لگا اتے ہیں ان کی طرف بھی
اور ان کی بیٹیاں بھی دیکھ لینا جو پسند آ گئی اس کے ساتھ شاہ ویز کی شادی کر دینا ۔۔۔
صحیح کہہ رہے ہیں آپ بالکل کل چلتے ہیں ۔۔
چلو اب ناشتہ کرو آرام سے اسجد صاحب انھیں ایسے ہی بیٹھا دیکھ کر بولے ۔۔
جی میں لیتی ہوں آپ بھی لیں نا ۔۔عائشہ اسجد کے گلاس میں جوس ڈالنے لگی
دس بجے کے قریب بس ایک ہوٹل کے سامنے روکی گئی
تا کے جس جس نے ناشتہ کرنا ہے یا چائے پینی ہے وہ پی لے اور تھوڑا فریش ہو جائیں کیوں کے
سفر لمبا تھا
باری باری سب بس سے نیچے اترنے لگے
شاہ ویز بھی نیچے اتر گیا ۔۔۔
منال کا سر درد کر رہا تھا وہ بھی چاۓ پینے کے لیے نیچے اتر گئی
منال جیسے ہی بس سے اتری ٹھنڈی اور تازہ ہوا نے اس کا استقبال کیا
ارم منال کے پاس آئ اور بولی
کیسی ہو
ٹھیک ہوں تم سناوں تمہیں فواد بھائی سے فرصت مل گئی ہے جو میرا حال پوچھنے آئی ہو کے میں کیسی ہوں
منال نروٹھے پن سے بولی
ارم نے منال کا ناراض چہرہ دیکھتے ہوے
اس کے گال پر پیار دے دیا اور بولی سوری
فواد نے کہا تم سے بات کرنی ہے میرے ساتھ بیٹھنا میں اس لئے بیٹھ گئی
وہ چاھتے ہیں ہم ایک دوسرے کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت سپینڈ کریں ۔۔۔۔
اور تم تو سر شاہ ویز کے ساتھ بیٹھی ہو وہ تو اتنی اچھی نیچر کے حامل انسان ہیں
اور عورتوں کی بہت عزت کرتے ہیں ۔۔۔۔
ارم کو ا صل وجہ پتہ چل گئی تھی کہ منال ارم سے کیوں ناراض ہے
سر شاہ ویز جو منال کے ساتھ بیٹھے تھے اس لئے
بس مجھے پتہ چل چکا ہے کتنے اچھے انسان ہیں
تمہیں کوئی ضرورت نہیں ہے ان کی تعریف کرنے کی
منال کہنے کے ساتھ ہوٹل میں داخل ہو گئی
ارم منال کی بات کو نا سمجھی سے سنتے ہوئے اس کے پیچھے چل پڑی ۔۔۔۔۔
پونے گیارہ کے قریب بس دوبارہ اپنے سفر پر روانہ ہو گئی
منال نے بوریت سے بچنے کے لیے ہینڈ بیگ سے ایک کتاب نکال کر پڑھنے لگیں ۔۔۔۔
بس میں سب اپنی اپنی باتوں میں مشغول تھے
منال نے بس میں بیٹھنے سے پہلے ارم کو بولا کہ
تم میرے پاس آ کر بیٹھ جاؤ
اور فواد بھائی کو شاہ ویز سر کے ساتھ بیٹھنے کو بول دو
یار میں کہ تو دوں لیکن مجھے پتا ہے
فواد اگے سے بولیں گے
تمہیں میرے ساتھ بیٹھنے پر کیا اعتراض ہے ۔۔۔۔
میں تمہارا منگیتر ہوں کوئی غیر نہیں ۔۔۔۔۔
وہ خوامخواہ برا مان جائیں گے۔۔ ارم بولی
منال ارم کی بات کو سن کر کوئی بھی جواب دیے بغیر
بس میں سوار ہوگئی
اور اپنی سیٹ پر جا کر بیٹھ گئی
منال نے سوچ لیا تھا
وہ اب اس شخص کو منہ ہی نہیں لگائے گئی
اسی لئے کتاب پڑھنے لگی خاموشی سے ۔۔۔
شاہ ویز نے منال کو کتاب پڑھتے ہوئے دیکھا تو جان بوج کر جھک کر کتاب کے اندر جھانکنے لگا ۔۔۔۔
شاہ ویز کو کتاب پر جھکا دیکھ کر منال نے غصے سے سر اٹھایا اور بولی
کیا کر رہے ہیں آپ اپنی حد میں رہ کر بیٹھیں آپ ۔۔۔
شاہ ویز جان بوجھ کر منال کو تنگ کرنا چاہ رہا تھا
تا کے وہ کسی نا کسی بہانے اس سے بات کرے
شاہ ویز نے منال کا سارا بائیو ڈیٹا پتا کروایا تھا ۔۔۔
میں نے کیا کیا ہے میں تو چپ کر کے بیٹھا ہوا ہوں دیکھ لیں میں نے تو آپ کو ہاتھ بھی نہیں لگایا ۔۔۔شاہ ویز ہاتھ سامنے کرتے ہوے بولا ۔۔۔۔
ہاتھ نہیں لگایا تو آپ جھک کر کیا کر رہے تھے میری کتاب میں ۔۔۔۔
ایکچولی آپ جو بک پڑھ رہی ہیں وہ میرے فیورٹ شاعر کی ہے اس لیے میں پڑھنے لگا اس کی شاعری ۔۔۔۔
اچھا تو یہ لیں آپ ہی پڑھ لیں میری خیر ہے ۔
منال بک اس کی طرف بڑھاتے ہوئے بولی
نہیں اس کی ضرورت نہیں اگر آپ بک نہیں پڑھیں گی تو میں بھی نہیں پڑھوں گا ۔۔۔شاہ ویز بولا
تو ٹھیک ہے پھر آپ خاموشی سے بیٹھے
اور مجھے پڑھنے دے اور ہاں بڑی مہربانی ہوگی
آپ کی آپ اپنی حد میں رہ کر بیٹھے ورنہ مجھے کھڑے ہو کر جانا منظور ہے ۔۔۔منال غصے سے بولی
اور بک پر جھک گئی ۔۔
شاہ ویز سے رہنے نہیں ہوا تو بولا ۔۔۔۔
ویسے آپ سے ایک بات پوچھوں ۔۔۔۔
منال نے غصے بھری نظروں سے اسے دیکھا
آپ ہر وقت اتنے غصے میں کیوں رہتی ہیں ۔۔۔
میری مرضی میں جس مرضی موڈ میں رہوں آپ کون ہوتے ہیں پوچھنے والے
بہتر یہی ہے آپ اپنے کام سے کام رکھیں
اور ہاں میں اجنبی لوگوں سے اس سے بھی برے طریقے سے پیش آتی ہوں ۔۔۔۔
منال نے غصے سے کہا
خیر جان پہچان میں دیر ہی کتنی لگتی ہے اگر کوئی کرنا چاہیے تو ۔۔شاہ ویز آ ہستہ آواز میں بولا
کیا کہا آپ نے ۔۔منال نے جھکی نظروں سے ہی پوچھا لیکن کان اپنے الرٹ رکھے ہوے تھے
نہیں کچھ نہیں کہا ۔۔۔شاہ ویز نے سیٹ کے ساتھ ٹیک لگا کر آنکھیں موند لیں اور دل میں منال سے مخاطب ہوا
منال وقار بہت جلد تم مجھےجان جاؤ گی
شاہ ویز نے منال وقار کا سارا بائیو ڈیٹا پتا کروایا تھا
بہت جلد تمہیں پتا چل جائے گا کے میں کون ہوں ۔۔۔
اور میں خود سے وعدہ کرتا ہوں تمہاری ا س نفرت کو مٹا کر اس کی جگہ پیار لے آؤں گا تمہارے ہر دکھ کو خوشیوں میں بدل دوں گا
تمہارے دل میں اپنے لئے جگہ بنا لوں گا
اور مجھے اس وقت کا شدت سے انتظار رہے گا جب تم خود میرے پاس آکر اپنے پیار کا اظہار کروں گی ۔۔۔
تو تم پاکستان جا رہے ہو
علینا رومان کو پیکنگ کرتے ہوئے دیکھ کر بولی ۔۔۔
ہاں !جا رہا ہوں پلیز دعا کرنا وہ مجھے مل جائے ۔۔۔۔
رومان بیگ میں کپڑے رکھتے ہوے بولا ۔۔۔۔
ہاں کیوں نہیں جب انسان کچھ نہیں کرپاتا تب صرف دعا ہی کر سکتا ہے ۔۔۔علینا رومان کی پشت کو دیکھتے ہوئے بولی ۔۔!!!
رومان نے علینہ کے لہجے کی اداسی کو پوری شدت سے محسوس کیا ۔۔۔
خیر بتاؤ کب جانا ہے ۔۔۔لاؤ میں ہیلپ کر دوں پیکنگ میں ۔۔۔۔۔علینا اٹھ کر رومان کے پاس آ گئی ۔۔
نہیں اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے پیکنگ میں ساری کر چکا ہوں تم بیٹھو میں تمہارے لیے کافی بنا کر لاتا ہوں ۔۔۔۔۔۔
بیگ کی زپ بند کرتے ہوئے بولا ۔۔۔۔
اور کچن میں جا کر کافی بنانے کے لیے پانی گرم کرنے لگا ۔۔۔
تم نے بتایا نہیں کب پاکستان جا رہے ہو ۔۔۔علینا اس کے پیچھے کچن میں آ گئی اور کرسی پر بیٹھتے ہوے بولی ۔۔۔!!!!!
کل صبح پانچ بجے ایئر پورٹ کے لئے نکلنا ہے
رومان کافی پھینٹتے ہوے بولا ۔۔!!!
علینا رومان کی بات پر خاموشی سے اسے دیکھنے لگی
کیا ہوا چپ کیوں کر گئی ۔۔۔۔
کچھ نہیں بس یہ سوچنے لگی تھی اگر تم واپس نہ آ سکے اور تمہیں منال مل گئی تو ۔۔۔۔
علینا ادھوری بات کہہ کر چپ ہو گئی اور آنکھوں میں آئے آنسو صاف کرنے لگی ۔۔۔
رومان کافی کے دونوں مگ سےٹیبل پر رکھتے ہوئے علینہ کے سامنے والی کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا اور بولا ۔۔۔
علینا میں بہت مشکل میں ہوں میں تم سے یہی کہوں گا پلیز میری مشکلات کو اور نہ بڑھاؤ
تمھیں اداس دیکھ کر مجھے اچھا نہیں لگتا میں خود کو تمہارا گنہگار سمجھنے لگتا ہوں
رومان کی بات پر علینا نے سر اٹھا کر اسے دیکھا اور بولی ۔۔۔
تو مت جاؤ نہ تم
تم جانتے ہو میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتی
جس طرح تم اپنے پیار کے لئے تڑپ رہے ہو اسی طرح میں بھی اپنے پیار کے لیے تڑپ رہی ہوں ۔۔۔
میں تمہیں کسی اور کا ہوتے ہوئے نہیں دیکھ پا رہی مجھ سے تمہاری دوری برداشت نہیں ہو رہی
میرا دل یہ سوچ کر بیٹھا جا رہا ہے اتنے دن تم پاکستان میں گزارو گے
اور میں تمہیں دیکھ بھی نہیں پاؤگی ۔۔۔
میں کیا کروں میرے بس میں کچھ نہیں ہوں ۔ مجھ سے تمہاری دوری نہیں سہنے ہو گی ۔۔علینا روتے ہوے بولی
رومان علینا کے پیار کی شدت سے اچھی طرح واقف ہو چکا تھا ۔۔۔۔
خیر تم جاؤ خیریت سے پاکستان میں دعا کروں گی تمہارے حق میں وہی ہو جو اچھا ہے ۔
اگر میری قسمت میں تم ہوئے تو مجھے ضرور مل جاؤ گے ۔۔۔
اب میں چلتی ہوں مجھے ایک کام سے دوست کی طرف بھی جانا ہے اپنا خیال رکھنا ۔۔اور پاکستان جا کر مجھ سے ضرور رابطہ رکھنا
علینا کہ کر جلدی سے باہر نکل گئی ۔۔
علینا سے برداشت نہیں ہو رہا تھا اسے خود سے دور ہوتا دیکھ کر
وہ چاہ کر بھی اسے حاصل نہیں کر پا رہی تھی
اللہ میری مدد کر
مجھے سمجھ نہیں آ رہی میں کیا کروں
آپ تو سب جانتے ہیں میرے لئے وہ کرنا جو میرے حق میں بہتر ہو ۔۔
میں نے اپنا سارا معملہ تجھ پر چھوڑ دیا ہے اب ۔۔
علینا روتے ہوے آسمان کی طرف دیکھتے ہوے دعا کرنے لگی ۔۔
جاری ہے
