Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer NovelR50758 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode03
No Download Link
581.2K
29
Rate this Novel
Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode01 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode02 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode03 (Watching)Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode04 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode05 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode07 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode08 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode09 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode10 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode11 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode12 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode13 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode14 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode15 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode16 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode17 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode18 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode19 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode20 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode21 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode22 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode24 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode25 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode26 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode27 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode28 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Last Episode Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode23 Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode06
Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode03
Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode03
منال گھر میں داخل ہوئی تو گھر پر امی کو موجود نہ پا کر ردا سے پوچھا کہ امی کہاں پر ہیں ۔۔
منال کے پوچنھے پر ردا نے بتایا کے انٹی زبیدہ کے گھر گئی ہیں ان کی طبیعت خراب تھی ان کا حال احوال پوچھنے گئی ہیں ۔۔۔
سہی
تم بتاؤ کیا کر رہی تھی ۔۔۔
منال نے ردا سے پوچھا
کچھ نہیں آپی کل ٹیسٹ ہے اس کی تیاری کر رہی تھی آپ بتائیں کھانا لاؤں
نہیں مجھے بھوک نہیں ہے میں بس چائے پیو گی تم جاؤ ٹیسٹ کی تیاری کرو میں چائے بنا لیتی ہوں
اوکے آپی ۔
منال اٹھی اور نہانے کے بعد نماز ادا کی اور چاے بنانے کچن میں چلی گئی ۔۔تبھی دروازے پر دستک ہوئی
چآے دم پر دے کر وہ باہر آئیں دروازہ کھولنے۔۔۔
دروازے پر مالک مکان انور کو دیکھ کر منال پریشان ہو گی کیوں کہ منال کو تنخواہ ملنے میں ابھی پورا ایک ہفتہ باقی تھا
منہ میں پان ڈالے سر میں ڈھیر سارا تیل لگائےوہ علیحدہ بات ہے سر میں بال نہ ہونے کے برابر تھے
منال کو دیکھ کر انور بے خود گی سے دیکھتا ہوا بولا
تمہاری امی کدھر ہے ان کو بولو انور آیا ہے کرایہ لینے منال کو سر سے پاؤں تک دیکھتا ہوا بولا ۔۔
انور کی نظروں سے منال کو پہلے بھی بہت غصہ آتا تھا
تبھی غصے سے دروازہ بند کرتے ہوئے بولی امی گھر نہیں ہے اور کرایا دینے میں ابھی پورے 8 دن باقی ہیں کرایہ اسی تاریخ کو ملے گا جس پر پہلے دیتے ہیں ۔۔۔
منال کہتے ہوئے دروازہ بند کرنے لگی تبھی انور نے دروازے میں ہاتھ دے کر دروازہ بند کرنے سے روک دیا اور بولا ۔۔۔
ارے سوہنیو اتنا غصہ کیوں کر رہے ہو اتنا غصہ صحت کے لئے ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔
چلو کیا ہوا اگر امی گھر نہیں بندہ اندر بیٹھا کر چاے پانی ہی پوچھ لیتا ہے انور خباثت سے ہستا ہوا بولا ۔۔۔
منال اندر ہی اندر غصہ سے بے قابو ہو رہی تھی اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ سامنے کھڑے شخص کے سر پر کوئی چیز دے مار ے
تمہیں کرایہ تمہارے گھر پر مل جائے گا دوبارہ یہاں آنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے تمہیں اب یہاں سے جا سکتے ہو تم ۔۔۔۔
ارے کون کمبخت کرایہ لینا چاہتا ہے تم جیسی حسین اور خوبصورت لڑکی سے میرا بس چلے تو میں یہ گھر ہی تمہارے نام کر دو ۔۔
بس ایک بار تم مجھ سے شادی کے لئے راضی ہو جاؤ انور بولا ۔۔۔
انور کی بات سن کر منال غصہ سے پاگل ہوتے ھوے بولی دفع ہو جاؤ یہاں سے اور خبردار آج کے بعد تم یہاں آئے ورنہ اچھا نہیں ہو گا ۔۔۔
غصے سے دروازہ زور سے بند کرتی ہوئی منال اندر آ گئی اور تخت پر بیٹھ کر لمبے لمبے سانس لینے لگی اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ انور کو زندہ زمین میں گاڑ دے ۔۔۔
تبھی ردا باہر آئی اور بہن کو یوں بیٹھے دیکھ کر بولیں کیا بات ہے آپی کیا ہوا ہے باہر کون آیا تھا آپ کس سے اتنی اونچی آواز میں بات کر رہی تھی ۔۔
ردا کو سوال کرتے دیکھ کر بولی مالک مکان آیا تھا کرایہ لینے اسی کے ساتھ بات کر رہی تھی تم جاؤ کچن میں چائے دم پر دی تھی وہ کپ میں ڈال کر مجھے میرے کمرے میں دے جاؤ ساتھ پانی کا گلاس بھی لے آنا منال ردا کو کہتی اٹھ کر کمرے میں چلی گئی ۔۔۔۔۔
_______________________________
گھر انے کے بعد شاہ ویز فریش ہونے کے بعد تھوڑی دیر کے لئے ریسٹ کی نیت سے بیڈ پر لیٹ گیا اس کا ارادہ سونے کا تھا کیوں کے آج کام کی وجہ سے وہ کافی تھک گیا تھا ۔۔
تبھی عمیر کی شاہ ویز کو کال انے لگی جس کو شاہ ویز نے بے دلی سے اٹھایا اور ہیلو کہا ۔۔۔
کیسے ہو کہاں پر ہو !شاہ ویز کی آواز سنتے ہوے عمیر بولا ؟
میں ٹھیک ہوں اور ابھی گھر آیا ہوں بہت تھک گیا ہوں تو فریش ہونے کے بعد سونے کا ارادہ تھا جیسے ہی لیٹا ساتھ ہی تیری کال آ گئی
او سوری یار میں نے تجھے ڈسٹرب کر دیا تو ریسٹ کر پھر بات ہو گی ۔۔عمیر آرام سے بولا
تبھی شاویز بولا کہ خیریت تھی۔۔۔۔
ہاں خیریت تھی بس تجھے بتانا تھا کے مس منال نام کی ایک لڑکی ہے جسے میں نے جاب پر رکھ لیا ہے ۔۔۔تو بھی ایک بار یم مل لینا ان سے تا کے شک کی کوئی گنجائش نہ رہے اور تو بھی مطمئن ہو جائے گا ۔۔۔عمیر نے شاہ ویز کو کہا
ا و ہاں یاد آ گیا اچھا کیا باقی میں مل کے دیکھ لوں گا ابھی فون رکھتا ہوں بہت نیند آ رہی ہے ۔۔۔اللہ حافظ
ساتھ ہی شاہ ویز نے سیل بند کر دیا اور نیند کی وادی میں کھو گیا ۔۔
***************************
ماضی
وقاص احمد نے رقیہ کے کہنے پر وقار احمد سے مشعل کا رشتہ معیز کے لیے مانگا
وقاص کی بات پر وقار پریشان ہو گئے اور بولے یار تو نے پہلے کبھی ذکر نہیں کیا اس بات کا نہ اظہار کیا میں نے تو مشعل کا رشتہ اپنے دوست کے بیٹے علی سے کر دیا ہے تجھے پتا بھی ہے اس بات کا اب جب شادی کی تیاریا ں ہورہی ہیں ایسے میں تم نے مجھے الجھن میں ڈال دیا ہے ایسی بات کر کے وقار احمد پریشان ہوتے ہوے بولے
ایک طرف بھائی تھا تو دوسری طرف دوستی کے ساتھ اب عزت کا بھی سوال تھا انکار کی صورت دوستی بھی ٹوٹ سکتی تھی
وقاص احمد بالکل بھی اپنے بھائی کو پریشان نہیں کرنا چاھتے تھے لیکن بیوی کی وجہ سے مجبور ہو گئے تھے
تبھی وقار نے کہا میں سوچ کر جواب دوں گا اور گھر کی طرف چلے گئے
گھر پہنچنےکے بعد وقار احمد چپ چپ تھے تبھی ان کے والد جو اب بو ڑھے ہو چکے تھے ثروت بیگم کے انتقال کو دو سال ہو چکے تھے سرمد احمد وقاص کی بجاے وقار کے ساتھ رہتے تھے وقاص کی شادی کے کچھ عرصے بعد ہی سرمد اور ثروت بیگم کو رقیہ کی فطرت کا پتا چل گیا تھا اور وہ اپنے بیٹے وقاص سے شرمندہ بھی تھے غلط فیصلے کی وجہ سے
رقیہ اور وقاص کے مزاج میں بھی زمین آسمان کا فرق تھا لیکن ہمیشہ وقاص نے رقیہ کی باتوں پر صبر سے کام لیا اور در گزر سے کام لیتے
عائشہ اپنی شادی کے بعد ہسبنڈ کے ساتھ امریکہ شفٹ ہو گئی تھی شادی کے بعد وہ صرف تین بار پاکستان ای تھی اپنی ماں کے انتقال پر بھی نہ آ پائی تھی عائشہ کے دو بیٹے اور دو ہی بیٹیاں تھی ۔۔۔
_________________________،،
سرمد احمد کے پوچھنے پر وقار نے انھیں ساری بات بتا دی سرمد صاحب حیران تو ہوے ساتھ ہی بولے
بیٹا بھائی اپنی جگہ اور دوستی اپنی جگہ
تم دونو ں رشتے رکھنا چاھتے ہو دونو ں میں سے کسی ایک کو بھی نہیں چھوڑنا چاھتے ۔۔۔
جی ابا جی ۔۔۔وقار اداسی سے بولے
تم ایک کام کرو وقاص کو شام کو بلا کر لانا مجھے اس سے ضروری بات کرنی ہے ۔۔۔میں بات کرتا ہوں اس سے تم پریشان نہ ہو اب جاؤ جا کے ریسٹ کرو میں بھی تھوڑی دیر ریسٹ کروں گا اب
سرمد کی بات پر وقار جی ابا جی کہتے اٹھے اور اپنے کمرے میں آ گئے ____
********************************************
چاے پینے کے بعد منال سر درد کی گولی کھا کر لیٹ گئی وہ سونا چاہتی تھی لیکن آنکھوں سے نیند دور تھی آج دوسری بار ایسا ہوا تھا انور نے اسے شادی کے لئے کہا تھا اور بدتمیزی کی تھی انور کی آنکھوں سے منال کو ہمیشہ وحشت ہوتی تھی عجیب طرح سے دیکھنے کی عادت تھی اس کی سر سے پاؤں تک گھور کے دیکھتا جیسے سامنے والے بندے کو کچا کھا جائے گا
منال کی آنکھوں میں آنسو تھے وہ رونا نہیں چاہتی تھی لیکن آنسو آنکھوں سے باہر انے کو تیار بیٹھے تھے ۔۔
بے اختیار منال کو اپنے بابا کی اور رومان کی یاد انے لگی بابا اور رومان دونو ں ہمیشہ منال کو پروٹیکٹ کرتے تھے اور خیال رکھتےتھے
لیکن سچ کہا ہے کسی نے وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا اپنو ں کو بدلتے دیر نہیں لگتیوقت کے ساتھ اصل چہرے سامنے آ جاتے ہیں جس طرح منال کے سامنے اس کے اپنو ں کے چہرے آے _!!!؟؟؟
___________________________
شام کے وقت وقار نے وقاص کو کال کر کے گھر بلا لیا ۔۔
ڈرائنگ روم میں اس وقت سرمد صاحب ،وقار اور وقاص موجود تھے
آسیہ ای اورچاے دے کر باہر چلی گئی
سرمد صاحب نے سارا دن سوچنے کے بعد ایک فیصلہ کیا تھا اسی فیصلے سے متعلق بات کرنے کے لئے وقاص کو بلا یا گیا
سرمد صاحب وقاص سے مخاطب ہوتے ہوے بولے :مجھے ذیادہ خوشی اس وقت ہوتی اگر تم مشعل کا رشتہ پہلے مانگ لیتے اگر ۔۔۔۔ابھی مشعل کا رشتہ پکا ہو چکا ہے شادی کی تیاری ہو رہی ہے ایسے اس موقع پر تم نے یہ بات چھیڑ دی ہے اگر ہم وہاں رشتے سے جواب دیتے ہیں تو اس سے وقار کی بچپن کی دوستی ختم ہو جائے گی اور سب سے بڑی بات لوگ مشعل کے کردار کے بارے میں بات کریں گے شادی قریب تھی رشتہ کیوں ختم ہو گیا ۔۔۔
لوگوں کو باتیں بنانے کا موقع مل جائے گا اس لئے اس بات کو یہیں ختم کر دو
اگر تم سچ میں بھائی سے اپنا رشتہ اور مضبوط کرنا چاہتے ہو تو منال کا رشتہ رومان کے لئے کر لو
ابا جی کی بات سن کر وقاص احمد نے وقار کی طرف دیکھا جو خاموشی سے باپ کی جانب دیکھ رہے تھے کے وہ کیا کہ رہے ہیں
لیکن خاموشی سے سن ساری بات سن رہے تھے
تبھی وقاص بولے مجھے منال بھی نور کی طرح عزیز ہے ابا جی میں آپ کی بات سے انکار نہیں کر سکتامجھے تو کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن میں ایک بار rرومان اور رقیہ سے پوچھ لوں ۔۔۔۔
تبھی سرمد صاحب وقار احمد کی طرف دیکھتے ہوے بولے وقار تمہیں تو کوئی اعتراض نہیں ہے نہ ۔۔۔۔
وقار جو خاموش بیٹھے تھے بولے ابا جی مجھے تو کوئی اعتراض نہیں ہے رومان مجھے بہت عزیز ہے بالکل بیٹوں کی طرح
بس ابا جی ابھی منال بہت چھوٹی ہے اور پڑھ رہی ہے رومان بھی پڑھ رہا ہے
وقار کی بات پر سرمدبولے وہ سب ٹھیک ہے ابھی شادی کی کوئی بات نہیں کر رہا صرف رشتہ پکا کر دیں گے
تم دونو ں منال اور رومان کی مرضی پوچھ لینا تا کے دونو ں کی مرضی کے بغیرکوئی فیصلہ نہ ہو ____؟؟
*****************************
گھر آ نے کے بعد وقاص ابھی بیٹھے ہی تھے کے رقیہ پاس چلی آ ی اور پانی کا گلاس دیا اور بولی کیا بات ہوئی ہے ماننے وہ لوگ مشعل کے لئے یا نہیں ۔۔۔
وقاص احمد پانی پی رہے تھے اسی دوران بولے صبر کر جاؤ ابھی آیا ہوں کہیں نہیں جاتا ۔۔۔
بتا دیتا ہوں کیا کہا تم معیز اور رومان کو بلا کر لاؤ مجھے ان سے ضروری بات کرنی ہے ۔۔۔۔
ان سے آپ بعد میں ضروری بات کر لینا پہلے مجھے بتائیں وہاں کیا بات ہوئی ہے کہا بھی تھا مجھے ساتھ لے جاتے میں خود بات کرتی ان سے ۔۔۔رقیہ خفگی سے بولی ۔۔۔
وقاص احمد تبھی بولے ہاں تجھے لے جاتا آج تک تو کون سا ان سے سیدھی چلی ہے کسی معا ملے میں ہمیشہ تم نے بے وجہ کی نفرت کی ہے انا کا مسلہ بناے رکھا تم نے اپنے ہاتھوں خود ہی رشتے ختم کرتی رہی ہو ۔۔۔
رقیہ کو وقاص کی باتوں سے آگ لگ گئی وہ کرارا جواب دینا چاہتی تھی لیکن چپ کر گئی اور اٹھ کر معیز اور رومان کو بلا نے چلی گئی ************************************
منال شام کو سو کر اٹھی عصر کی نماز ادا کر کے باہر آئ تو صحن میں امی کو سبزی کاٹتے ہوا پایا وہ چلتی ہوئی ان کے پاس آ گئی اور ان کے پاس بیٹھ کے پالک کے پتے اٹھا اٹھا کر جمع کرنے لگی اور بولی ۔۔۔
کیسی طبیعت تھی خالہ زبیدہ کی ۔۔۔
اب ٹھیک ہے لیکن بیماری کی وجہ سے کمزور بہت ہو گئی ہے بیچاری اور بہو کو پروا نہیں آے روز میکے رہنے چلی جاتی ہے بیمار ساس کو چھوڑ کرساتھ فراز (زبیدہ کا بیٹا )کو بھی لے جاتی ہے آسیہ پالک کاٹتے ہوے بولی ۔۔
منال بولی جب ان کے بیٹے کو خود احساس نہیں ماں کا بہو کیسے کرے گی
ہاں کہ تو تم سہی رہی ہو خیر چھوڑو مجھے بتاؤ کیا بنا جاب کا آج جانا تھا آسیہ کو یاد آیا تو پوچھا ۔۔۔
جی امی گئی تھی جاب مل گئی ہے کل سے جانا ہے ۔۔۔
چلو شکر ہے کچھ فکر تو کم ہو گی اب آسیہ سبزی تیار کرنے کے بعد باقی گند ڈسٹ بن میں پھینکنے چلی گئی اور ہاتھ دھونے ۔۔۔
جی امی اب حالات بہتر ہو جائیں گے ۔۔۔
اب آپ آرام سے بیٹھ جائیں میں سبزی اندر رکھ کے آتی ہوں اور چاے بنا کر لاتی ہوں
دونو ں مل کر پیتے ہیں ۔۔۔۔
************************************
شاہ ویز دو گھنٹے سونے کے بعد خود کو بہت فریش فیل کر رہا تھا اٹھ کے شاور لینے کے بعد بلو جینس پر گرے کلر کی ٹی شرٹ پہنے
بالوں کو جیل سے سیٹ کرنے کے بعد خود پر پرفیوم ا سپرے کرنے کے بعد اور بازو پر واچ پہن کر ایک نظر شیشے میں نظر آنے والے عکس پر ڈالتا اور مطمئن تھا
شا ویز بے تحاشا گوری رنگت، پے سبز رنگ کی آنکھیں آئیڈیل قد اور براؤن سلکی بالوں کے ساتھ ایک زبردست پر سنیلٹی کا مالک تھا خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ وہ زہین بھی بہت تھا
ایک نظر دیکھنے کے بعد دوسری نظر خود با خود اٹھ جاتی شاہ ویز پر نرم مزاج کا مالک غصہ کم ہی آتا لیکن جب آتا تو اگلے بندے پنا ہ مانگنے لگتا ۔۔۔
حال ہی میں امریکہ سے MBA کی ڈگری لے کر لوٹا تھا اور پاکستان میں اپنی ماما کے business کو جوائن کیا تھا ۔۔۔
شاہ ویز لڑکیوں سے دور ہی رہتا تھا اس کی نظر میں لڑکیاں بہت نازک تھی وہ نہیں چاہتا تھا کوئی لڑکی اس کی طرف سے دل میں کوئی آس لگا بیٹھے اور بعد میں اس کا دل ٹوٹ جائے وہ پہلے ہی احتیاط کرتا تھا
#########################
شاہ ویز تیار ہو کر روم سے باہر آیا اور سیڑھیاں اتر کر نیچے آیا ڈرائنگ روم سے باتوں کی آواز آرہی تھی وہ سیدھا ڈرائنگ روم میں آ گیا جہاں ماما کے ساتھ ثمرین انٹی اور ان کی بیٹی مدیحہ آے ہوے تھے
وہ سلام کرتا ہوا اندر داخل ہوا تبھی ماما بولی اٹھ گیا میرا بیٹا ۔۔۔
جی ماما بس ابھی اٹھا ہوں تبھی ماں نے شاہ ویز کو ثمرین اور مدیحہ سے معتا رف کروایا ۔۔۔
شاہ ویز آپ تو نہیں آئے ہم سے ملنے ہم نے سوچا کہ ہم ہی آپ سے مل آتے ہیں
بہت شکریہ آنٹی آپ کا کہ آپ ہمارے گھر آئے بس انٹی کام مصروفیات کی وجہ سے میں نہیں آ سکتا ورنہ میں ضرور آتا ۔۔۔اور سنائیں کیسی ہیں آپ اور کیا مصروفیات ہے آج کل کی آپ کی ۔۔ ثمرین سے پوچتھے ہوے بولا ۔۔۔
میں بالکل ٹھیک ہوں آپ سنائیں بیٹا کیسے ہیں ۔۔
اللہ کا شکر ہے میں بھی بالکل فٹ ہوں ہ شاہ ویز بولا ۔۔۔!!
اور مدیحہ سے مخاطب ہوا کیا کرتی ہیں آپ کیا اسٹڈی کر رہی ہیں ۔۔۔مدیحہ بلیک جینس پے ریڈ کلر کا ٹاپ پہنے
شو لڈ ر کٹ بال لائٹ سا میک اپ کیے بہت پیاری لگ رہی تھی شاہ ویز کی نظر مدیحہ پر پڑی تو اسے بڑھے غور سے خود کو دیکھتے پا کر وہ اندر ہی اندر خفگی کا شکار ہوا لیکن ضبط کر گیا
مدیحہ چپ بیٹھی سامنے بیٹھے شاہ ویز کو دیکھنے میں مگن تھی بہت سے لڑکوں سے اس کی دوستی رہ چکی تھی اور اب بھی تھی لیکن شاہ ویز کو ایک نظر دیکھنے کے بعد مدیحہ کے لئے نظر ہٹا نا مشکل ہو رہا تھا بلا کیخوبصورتی اور کشش تھی شاہ ویز میں ۔۔
شاہ ویز کے مخاطب کرنے پر بھی وہ ہوش میں نہ آئ
عائشہ اور ثمرین نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور مسکرا دی دونو ں
تھی ثمرین نے مدیحہ کو کہنی ماری ہلکی سی اور بولی مدیحہ بیٹا شاہ ویز آپ سے کچھ پوچھ رہا ہے آپ کدھر کھوئی ہوئی ہو ۔۔۔
ماما کی بات پر مدیحہ شرمندہ ہو گئی اور سوری بول دیا ۔۔۔
تبھی عائشہ بولی کوئی بات نہیں بیٹا آپ ایسا کرو شاہ ویز مدیحہ کو لے جاؤ گھر دکھاؤ اور گپ شپ کرو دونو ں ۔۔
ماں کی بات پر شاہ ویز خاموشی سے کھڑا ہو گیا اور مدیحہ کو ساتھ لے کر گھر دکھانے لگا ۔۔۔
تبھی مدیحہ بولی !آپ کا نام آپ کی طرح بہت پیارا ہے مسکرا تی ہوئی مدیحہ شاہ ویز کو دیکھتے ہوئے بولی ۔۔۔
شاہ ویز مدیحہ کی بات پر مسکراتے ہوے تھینکس بولا ۔۔اور پوچھنے لگا کیسا لگا آپ کو ہمارا گھر ۔۔
بہت خوبصورت ہے آپ کی طرح اور کھلکھلا کر ہنس پڑی ۔۔۔
شاہ ویز بھی اس کی بات پر ہنس پڑا اور اس سے اس کی اسٹڈی کے بارے میں پوچھنے لگا کے وہ کیا پڑھ رہی ہے ۔۔۔
شاہ ویز کے بتانے پر وہ بولی اس نے فیشن ڈیزائننگ کی اسٹڈی کی ہے اور اب اپنی بو تیک چلا رہی ہوں
۔شاہ ویز امپریس ہوا ۔۔۔۔۔اور اس سے مزید اس کی ایکٹیویٹی کے بارے میں پوچھنے لگا ۔۔۔
مدیحہ اپنے بارے میں بتاتی رہی بچپن کی شرار تیں بتا کر ہستی اور ہنساتی رہی ۔۔۔۔
شاہ ویز کو بھی ہنس مکھ سی یہ لڑکی پسند آئ ۔۔۔
مدیحہ نے شاہ ویز کو دوستی کی آ فر کی جسے شاہ ویز نے اس کی اچھی نیچر کی وجہ سے قبول کر لی ۔
شاہ ویز مدیحہ کو امریکہ میں گزارے وقت کی یادیں اور شرا ر تیں بتا بتا کر ہنسا رہا تھا جب صغرا آئ دونو ں کو
بلا نے آئ کے چاے تیار ہے آپ دونو ں کو عائشہ میڈم بلا رہی ہیں چاے پے ۔۔۔۔۔
صغرا کی بات پے دونو ں اٹھ کر نیچے ڈرائنگ روم میں آ گئے ۔۔۔
******************************
مدیحہ اور ثمرین کے جانے کے بعد عائشہ نے شاویز سے مدیحہ کے بارے میں پوچھا کہ وہ تمہیں کیسی لگی ہے
شاویز بولا اچھی لڑکی ہے باقی میں اتنی جلدی کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا مجھے تھوڑا وقت چاہیے تا کے میں اچھی طرح اسے جان سکوں ۔۔۔۔۔
کوئی مسئلہ نہیں ہے تم دونوں ملو
گھومو پھرو ایک دوسرے کے ساتھ ٹائم گزارو ایک دوسرے کو اچھی طرح سمجھ لو ۔۔۔۔۔۔عائشہ پیار سے بیٹے سے بولی ۔۔۔
اوکے موم صحیح ہے آپ بتائیں ڈیڈی کا فون آیا تھا
ہاں آیا تھا ٹھیک ہیں وہ لوگ تیاری کر رہے ہیں آنے کی ۔
کیا کہہ رہے کب تک آ جائیں گے وہ سب لوگ پاکستان شاہ ویز بولا ۔۔:::
اگلے ہفتے کا بولا ہے آنے کا ۔۔۔۔
ٹھیک ہے موم میں تھوڑی دیر کے لئے ولی کی طرف جا رہا ہوں مجھے کچھ کام ہے اس سے ان شاء اللہ آپ سے رات کو ملاقات ہو گی اپنا خیال رکھنا
اوکے بیٹا آپ بھی خیال سے جانا اللہ حافظ ۔۔۔
****************************
رات کا کھانا تیار کرنے کے بعد منال کچن سمیٹ کر وہ چھت پر آ گئی چھت پر ہلکی ہلکی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی
منال آسمان پر دیکھنے لگی جہاں ستارے چمک رہے تھے منال کو یہ منظر بہت پیارا لگا ۔۔۔
وہ واک کرنے لگی اور ساتھ ساتھ آس پاس کے گھروں میں بھی جا نکنے لگی کہیں اسے بچے اپنی مستیا ں کرتے نظر اے اور کہیں پے برتنںو ں کے گرنے کی آوازیں آئیں
ہر گھر میں اپنا شور تھا منال سر جھٹکتی آرام سے کرسی پر آ کر بیٹھ گئی ۔۔۔۔
منال کا دل اداس تھا اس نے اپنی اداسی امی پر ظاہر نہیں کی تھی آج میں منال کو اپنے بابا کی بہت یاد آ رہی تھی
ساتھ ساتھ منال کو رومان کی یاد بھی بہت آرہی تھی وہ سوچنے لگی کہاں ہو گا اب وہ کیا اب بھی وہ منال کو یاد کرتا ہو گا
منال چاہنے کے باوجود اسے بھول نہیں پا رہی تھی حالانکہ جو کچھ رومان نے اس کے ساتھ کیا تھا وہ یاد کرنے کے لائق نہیں تھا ۔۔۔۔
لیکن وہ دل کے ہاتھوں مجبور تھی ایک آنسو کا قطرہ آنکھ سے باہر نکلا وہ مزید اس بے وفا انسان کو یاد نہیں کرنا چاہتی تھی وہ چاہتی تھی وہ اسے بھول جائےجس طرح وہ اسے بھول گیا ۔۔۔۔
وہ اور مزید نہ جانے کتنی دیر یادوں کی دنیا میں بیٹھی رہتی مسجد سے عشاء کی اذان کی آواز آنے لگی وہ آنسو صاف کرتی سر پر دوپٹہ سہی کرتی اذان سننے لگی اور جواب دینے لگی
اذان ختم ہوئی تو وہ نیچے آگئی اور وضو کر کے نماز ادا کرنے لگی
ان گھر کی رو ٹین تھی نماز پڑھنے کے بعد سب کھانا کھاتے پھر منال اور ردا واک کرتی اور امی بیٹھ کے وظائف پڑھتی رہتی تقریبا ساڑ ے دس تک سب سونے کے لئے لیٹ جاتے کیوں کے صبح جلدی اٹھنا ہوتا سب کو اس لئے.
جاری ہے
