Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode02

Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode02

شاہ ویز بیٹا آج آپ ٹائم نکال کر مدیحہ سے مل لینا میری ثمرین سے بات ہو گئی ہے ساری
میں نے اسے بتایا ہے کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے شاہ ویز مدیحہ کو اچھے سے جاننا چاہتا ہے ایک دوسرے کو سمھجنا چاھتے ہیں تبھی بات اگے بڑ ھ سکے گی۔۔۔۔
ناشتہ کرتے شاہ ویز سے مخاطب ہوئی ۔۔؟؟
جی موم اگر اج پوسبل ہوا تو مل لوں گا ۔۔۔ناشتہ کرتے مگن انداز میں بولا اور جو س کا گلاس اٹھا کر پینے لگا ۔۔۔۔
کیا مطلب بیٹا آج پو سبل ہوا تو آپ کو کہیں جانا ہے کیا میں نے آج کی کمٹمنٹ کی ہے مدیحہ بیٹے کو بھی آج کا کہا ہے اب یہ کیا بات ہوئی ۔۔
روہانسی ہوتے عائشہ بیگم بولی ::!!!
موم ایکچولی آج مجھے فیکٹری بھی ویزٹ کرنا ہے کام کے سلسلے میں اور اکیڈمی بھی جانا ہے آپ کو بتایا تھا ہمیں ایک میتھ کی ٹیچر کی ضرورت ہے
اسی لئے کچھ cv منگو ائ تھی اسی سلسلے میں آج کچھ کے انٹرویو کر کے سیلیکٹ کرنا ہے تب کہا موم آج اگر ٹائم ملا تو ورنہ کل ضرور مل لوں گا آپ پلز میری طرف سے معذرت کر لینا آج کے لئے ۔۔۔؟؟؟
کہتا ہوا اٹھا اور پیار سے موم کے گلے لگتا اور ان کے رخسار پر پیار کرتا گاڑی کی چابی اور لیپ ٹاپ اٹھاتا باہر کی جانب چل پڑا اللہ حافظ سی یو ان ایوننگ موم لو یو اینڈ ٹیک کیئر ۔۔؟؟؟
لو یو ٹو مائے ڈیر اینڈ ٹیک کیئر باہر تک اسے سی آف کرنے ای
اگے روز دونو ں ماں بیٹا ایک ساتھ ہی آفس جاتے تھے آج شاہ ویز کو آفس نہیں جانا تھا فیکٹری جانا تھا اس لئے انھیں تھوڑی دیر بعد آفس کے لئے نکلنا تھا دروازے سے اسے بائے کرتی وہ واپس اندر آ گئی ان کا رخ روم کی طرف تھا جہاں سب سے پہلا کام ثمرین کو کال کر کے معذرت کرنے کا تھا ،،،،،،،،،،،__،،،،،،
__________________________________
منال تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے نہ صبح سے تم چپ چپ لگ رہی ہو سب ٹھیک ہے نہ تمہاری امی کی طبیعت تو ٹھیک ہے نہ۔۔۔؟؟
ارم نے منال کو بریک ٹائم چپ بیٹھا دیکھ کر سوال کیا ۔۔؟
ارم منال کے ساتھ ہی اس سکول میں پچھلے تین سال سے جاب کر رہی تھی وہ منال کے چہرے پہ نظر آنے والی اداسی دیکھ کر پوچھے بنا نہ رہ سکیں ۔۔۔
ارم کی بات سن کر منال ہوش میں آئی اور بولی نی ایسی کوئی بات نہیں ہے بس سر میں درد ہے اس وجہ سے چپ ہوں اور ہاں امی اب ٹھیک ہے پہلے سے کافی بہتر ہے ۔۔۔
اچھا تم بتاؤ آج چھٹی کے بعد اکیڈمی جانا ہے نہ ۔۔؟؟
ہاں اچھا کیا تم نے یاد کر وا دیا آج جانا ہے مجھے امید ہے تمہیں یہ جاب مل جائے گی میں نے سر سے تمہاری بات کی تھی اور انہیں ویسے بھی ایسی ٹیچر کی ضرورت ہے جسے کچھ سمجھانے کی ضرورت نہ پڑے اسی لیے میں نے تمہارا نام لیا تھا کہ تم میرے ساتھ نوکری کرتی ہو اور تمہیں اس نوکری کی ضرورت ہے ۔۔۔؟؟
شکریہ ارم تمہارا بہت
شکریہ کی کوئی ضرورت نہیں ہے اسے تم اپنے پاس سنبھال کر رکھو بس خوش رہا کرو اور پریشان نہ رہا کرو اگر تم ایسے پریشان ہو گی تو تمہاری امی بھی تمہیں ایسے پریشان دیکھ کر ہو جائیگی
ارم کوشش تو بہت کرتی ہو پریشان نہ ہوں لیکن پریشانیاں کم ہونے کا نام نہیں لیتی آئے روز کوئی نہ کوئی پریشانی مل جاتی ہے پتا نہیں میری آزمائش کب ختم ہوگی منال۔۔۔؟؟؟
مایوسی کفر ہے منال تم ہمت اور حوصلے سے حالات کا مقابلہ کرو بہت جلد ان شاءاللہ تمہاری ساری مشکلیں آسان ہو جائیں گی تم فکر نہ کیا کرو “””
انشاءاللہ
ارم اور منال کی دوستی اسی سکول میں ہوئی تھی ارم ایک ہنس مکھ قسم کی لڑکی ہے ارم کی ہنس مکھ طبیت کے باعث ہی منال کی اس کے ساتھ دوستی ہوئی اور اس میں سب سے زیادہ ہاتھ ہی ارم کا تھا ارم کی طبیعت ہر وقت ہنسنے اور ہنسانے والی تھی ارم ایک کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھنے والی لڑکی ہے ارم صرف شوقیا نوکری کر رہی تھی بوریت سے بچنے کے لئے ۔۔۔۔
بریک بند ہونے کی بیل پر دونوں اٹھی اور کلاس روم میں چلی گئی ____________________
************************************************
منال کا تعلق ایک مڈل کلاس گھرانے سے ہے منال اپنی امی اور ایک بہن کے ساتھ رہتی ہے منال کی امی کا نام آسیہ احمد ہے منال سے بڑی مشعل ہے جو کہ شادی شدہ ہے اور تین بچوں دو بیٹے طلال اور طلحہ اور بیٹی مناہل ہےمشعل کا ہسبینڈ بینک میں مینیجر ہے وہ اپنے گھر میں بہت خوش ہے مشعل کی شادی اس کے ابو نے خود اپنے ہاتھوں سے اپنے دوست کے بیٹے سے کی تھی
منال لوگ بہت خوش حال زندگی بسر کرتے تھے انہیں کسی چیز کی کوئی کمی نہیں تھی ان کے ابو ان ہر ضرورت پوری کرتے تھے آسیہ احمد کی شادی ان کی خالہ کے بیٹے وقار احمد سے ہوئی تھی
دونوں میاں بیوی میں بلا کی محبت اور انڈرسٹینڈنگ تھی آسیہ بیگم ایک سلجھی ہوئی مخلص اور ملنساز قسم کی عورت تھی وقار احمد کی منگنی اپنی پھوپھو کی بیٹی رقیہ سے ہوئی تھی لیکن وقار احمد کو رقیہ پسند نہیں تھی رقیہ کی طبیعت میں حسد بہت زیادہ تھا اور منھ پھٹ قسم کی لڑکی تھی جس کی وجہ سے وقار احمد کو یہ رشتہ منظور نہیں تھا
وقار احمد جس طرح خود سلجھی ہوئی طبیعت کے مالک تھےاور انہیں ویسی ہی لڑکی کا ساتھ چاہیے تھا جس کی طبیعت میں ٹھہراو ہو انہیں آسیہ اپنی خالہ کی بیٹی بالکل ویسی ہی طبیعت کی نظر آئیں جیسے وہ چاہتے تھے
انہوں نے آسیہ سے شادی کا فیصلہ کرتے ہوئے اپنی منگنی ختم کرنے کا اعلان کیا
منگنی سے انکار کے بعد دونوں گھرانوں میں کشیدگی پیدا ہو گئی بول چال بند ہوگی
_____________________________________________
سرمد احمد اور ثروت بیگم کے دو بیٹے وقاص احمد اور وقار احمد اور ایک بیٹی عائشہ احمد تھی
عائشہ دونوں بھائیوں سے چھوٹی اور سب کی لاڈلی تھی
سرمد صاحب نے شروع سے ہی اپنے باپ دادا کی طرح زمین داری کی تھی سرمد صاحب کا گھرانہ زمیندار گھرا نہ تھا
اناج گھر کا ہوتا دو دھ گھر کا ہوتا !؟
ہر لحاظ سے ایک خوشحال گھرانہ تھا سرمدصاحب نے اپنے بیٹے وقار احمد کی منگنی اپنی بہن کی بیٹی روقیہ سے طےکر دی تھی روقیہ منہ پھٹ عادت کی وجہ سے وقار احمد نے ان سے رشتہ ختم کر دیا اور اپنی خالہ کی بیٹی آسیہ سے شادی کرنے کا فیصلہ کیا
جس کی وجہ سے دونوں گھرانوں میں پھوٹ پر گی سرمد صاحب کی بہن نے سرمد سے مکمل بات چیت بند کر دیں کیوں کے انہیں وقار احمد کے فیصلے سے بہت دکھ پہنچا تھا وہ ہر صورت اپنی بیٹی کا رشتہ یہاں کرنا چاہتی تھی کیوں کہ وہ ایک لالچی فطرت کی عورت تھی اور یہی عادت ان کی بیٹی میں موجود تھی
سرمدصاحب اپنے بیٹے کی اس حرکت کی وجہ سے بہن سے بہت شرمندہ تھے اس لئے انہوں نے اپنے دوسرے بیٹے وقاص احمد کے لیے روقیہ کا ہاتھ مانگ لیا
وقاص احمد کو بی رقیہ کوئی خاص پسند نہ تھی لیکن اپنے ماں باپ کی وجہ سے انہوں نے اس رشتے کے لئے حامی بھر لی
زبیدہ بیگم کی تو خواہش بر آئی تھی کیوں کہ وہ ہر حال میں اپنی بیٹی کا رشتہ بھائی کے گھر میں کرنا چاہتی تھی کیوں کہ ان کا بھائی کہیں مرا بعے زمینوں کا مالک تھا
اس لیے زبیدہ بیگم نے فوراً ہاں کر دی لیکن رقیہ اس رشتے سے خوش نہ تھی وہ دل ہی دل میں وقار احمد کو پسند کرتی تھی وہ اس رشتے پر راضی نہ تھی اس لئے اس نے اپنی ماں کو بھی کہا کہ میں وقاص سے نہیں وقار سے ہی کروں گی اس لیے آپ وقار احمد کے لیے ہی زور دے
زبیدہ بیگم بیٹی کو سمجھانے لگی کہ اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ تیری شادی وقار کی بجائے اگر وقاص سے ہو جاتی ہے تو دونوں صورتوں میں اس گھر پر راج کرے گی تیری حکومت ہو گی تیرا پلڑا بھاری ہوگا
رقیہ کی مرضی کے خلاف اس کی شادی وقاص احمد سے کر دی گئی اور وقار احمد کی شادی آسیہ کے ساتھ ہو گی رقیہ کے دل میں شروع سے ہی آسیہ کے خلاف سخت نفرت پیدا ہو گئی تھی اگر وقار احمد اس کا نہیں ہو سکا تو وہ اس کو کسی اور کا بھی نہیں ہونے دینا چاہتی تھی اس لیے وہ اس لیے وہ آسیہ کو ہمیشہ نیچا دکھانے کی کوشش کرتی ہوں اور اس پر الزامات لگاتی طرح طرح سے ذہنی ٹارچر کرتی اور تنگ کرتی آسیہ بیگم کبھی تو چپ کر کے سہ جاتی لیکن جب برداشت ختم ہو جاتی تو وہ وقار احمد سے کہتی وقار احمد کہتے تم اچھے سے جانتی ہو کہ یہ کس فطرت کی مالک ہے جان کر وہ ایسی حرکتیں کرتی ہے جس کی وجہ سے تمہیں دوسروں کی نظروں میں گرا سکے وہ تم تھوڑی برداشت سے کام لو سب ٹھیک ہو جائے گا
وقار احمد ہمیشہ تسلی دیتے اور آسیہ کو برداشت سے کام لینے کا کہتے کیوں کے ہو وہ نہیں چاہتے تھے کہ گھر میں کسی قسم کی لڑائی جھگڑے ہو وہ اچھے سے رقیہ کی فطرت سے واقف ہو چکے تھے
******************************
چھٹی کے بعد منال اور ارم اکیڈمی پہنچ گئی منال شدید گھبراہٹ کا شکار ہو رہی تھی تبھی ارم نے اسے کہا کہ تم اتنی گھبرا کیوں رہی ہو آرام سے بیٹھو کوئی پریشانی کی
بات نہیں ہے تم بیٹھو میں تمہارے لئے پانی لے کر آتی ہوں ارم منال کے لئے پانی لینے چلی گئی منال کو نوکری کی اشد ضرورت تھی کیوں کے گھر کا نظام اب چلانا مشکل ہو رہا تھا بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے اور گھر کے کرائے کی وجہ سے
ارم منال کی لئے پانی لے کر آئیں پانی پینے کے بعد منال اپنی فائل اٹھاتی اندر آفس کی طرف چلی گی جہاں منال کا انٹرویو لینا تھا ___؟؟؟
دروازہ کھٹکھٹانے کے بعد منال اجازت طلب نظروں سے سامنے بیٹھے شخص کی پشت کو دیکھنے لگی
یس کم ان __!!!
منال آ رام سے چلتی ہوئی اندر داخل ہو گئی اور سلام کیا ؟
سلام کا جواب دینے کے بعد اس نے منال کو بیٹھنے کو کہا
جی مس منال صاحبہ
______________________
منال کو بیٹھنے کا اشارہ کیا منال کی طرف اس کی پشت
تھی اس وجہ سے منال سامنے بیٹھے شخص کا چہرہ نہ دیکھ سکیں جو فون پر کسی سے بات کرنے میں مصروف تھا
منال جانچتی نظروں سے آگے پیچھے دیکھنے لگی تبھی وہ شخص منال کی طرف پلٹا __؟؟
کالے سکارف کے اندر مقید سرخ و سفید چہرہ
گرے کلر کی آنکھیں ان پےموجود پہر ا دیتی لمبی پلکیں اس کے دل نے ایک منٹ میں ہی یہ اعتراف کر لیا تھا کہ بلا شبہ وہ بہت خوبصورت لڑکی ہے
ذہانت اس کی آنکھوں سے جھلک رہی تھی ناک میں موجود چھوٹی سی نو ز پن عمیر کے لئے ایک پل کے لئے اس چہرے سے نظریں ہٹانا مشکل ہو گیا بلاشبہ وہ ایک حسین چہرہ تھا خوبصورتی کے ساتھ ساتھ اس کے چہرے پر حد سے زیادہ معصو میت تھی جو ہر دیکھنے والے کو اس کی طرف مائل کرتی تھی ۔۔۔
عمیر کی نظروں سے منال پز ل ہونے لگی تبھی عمیر ہوش میں آیا اور شرمندہ ہو گیا اپنی حرکت پر
تبھی وہ مخاطب ہوا منال سے ۔۔۔؟؟
جی مس منال کیسی ہیں آپ ۔؟
اللہ کا شکر ہے سر میں ٹھیک ہوں سر کی بات کا جواب دینے کے بعد منال چپ کر کے ٹیبل کے اوپر پڑے شیشے کے خوبصورت گلدان کو دیکھنے لگی تبھی عمیر بولا
مجھے مس ارم نے آپ کے بارے میں بتایا تھا میں نے آپ کی cv دیکھی ہے پڑھائی میں تو آپ کافی لائق لگی ہیں ہر سبجیکٹ میں +A
گریڈ ہے شرارتی انداز میں عمیر بولا
سر کی بات سن کر منال منال جی سر ہی بول پائی !!!
ارم نے آپ کو بتایا تو ہو گا ہمیں ایک ٹیچر کی اچا نک سے ضرورت پر گئی
کیا میں پوچھ سکتا ہوں آپ یہ جاب شوقیہ کرنا چاہتی ہے یا مجبوری کے تحت کیوں کے اکثر میں نے دیکھا ہے لڑکیاں شوقیہ ہی جاب کرتی ہیں عمیر سنجیدگی سے منال کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے بولا __؟؟
مس منال میں یہ سب اس لئے پوچھ رہا ہوں کیوں کہ ہماری اکیڈمی کا ایک نام ہے اس علاقے میں اچھی ساکھ کے لحاظ سے ۔۔۔۔
عمیر کی بات سنتے ہوئے منال بولی :؟
سر ہر لڑکی شوق سے باہر نہیں نکلتی وقت اور حالات کی مجبوری کی وجہ سے ہی نکلنا پڑتا ہے سر میں اپنے گھر میں واحد کمانے والی ہوں میرے ابو کی ڈیتھ ہوچکی ہے چار سال پہلے مجھ پر میری امی اور ایک چھوٹی بہن کی ذمہ داری ہے مجھے اس جاب کی ضرورت تھی ۔۔۔۔؟؟؟
منال کی بات سن کر عمیر مطمئن ہو گیا کیوں کہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ کسی ایسی لڑکی کو جاب پر رکھےجو شوق کے تحت کرنا چاہتی ہے وہ کسی مجبور کی اسی بہانے مدد کرنا چاہتا تھا تا کے حق دار کو ملے اور وہ پوری ایمانداری سے اپنا فرض نبھا ے ۔۔۔
تبھی وہ منال سے بولا __؟؟
مجھے امید ہے آپ اپنا کام ایمانداری سے کریں گی اور
سٹارٹنگ پے آپ کی دس ہزار ہو گی وہ بھی اس لئے ایک تو آپ ارم کی دوست ہیں دوسرا آپ کا تعلیمی ریکارڈ بہت شاندار ہے
کب سے رکا سانس منال نے بحال کیا وہ ایک دم پرسکون ہو گئی تھی شاید جاب نہ ملنے کی جو گبھراہٹ تھی وہ ختم ہو گئی تھی ۔۔۔مس منال آپ کل سے جوائن کر سکتی ہیں
تھینک یو سو مچ سر خوشی منال کے چہرے سے جھلکنے لگی تھی …..؟
اٹس اوکے مس منال آپ کی تعلیمی قابلیت دیکھتے ہوئے ہی آپ کو یہ جاب دی گئی ہیں آپ کی مرضی ہے اگر آپ کل سے جوائن کرنا چاہتی ہیں تو ۔۔۔۔
جی سر میں کل سے ہی جوائن کر لوں گی ۔۔؟
او سوری میں پوچھنا ہی بھول گیا آپ کیا لینا پسند کریں گی چائے یا کافی ۔۔۔
نہیں سر اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔
اب میں جاؤں سر کل پھر میں ٹائم سے پہنچ جاؤں گی تبھی ارم دروازہ ناک کرنے کے بعد اندر داخل ہوئی
جی تو سر کیسی لگی آپ کو منال اس جاب کے لئے ؟؟
تبھی عمیر بولا آپ کی طرح بہت اچھی بس یہ آپ سے زیادہ زہین لگی ہیں ارم کو چھیڑتا ہوا عمیر بولا ۔۔۔
سر عمیر کی بات پر ارم بولی سر اچھی تو ہو گی آخر دوست جو میری ہے ۔۔۔
جی ہاں ٹھیک کہا آپ نے
ٹھیک ہے سر اجازت دیں کل ملاقات ہو گی
ارم اٹھتے ہوئی بولی ساتھ ہی منال بھی چیئر سے اٹھی اور خدا حافظ کرتی باہر نکل گئی
عمیر کی نظروں نے دروازے تک منال کا پیچھا کیا ۔۔۔۔
____________________________________________،_
شاہ ویز بروقت اکیڈ می نہ جا سکا فیکٹر ی میں کام زیادہ ہونے کی کی وجہ سے اس نے عمیر کو کال کر کے بتا دیا اور انٹرویو لینے کے لئے بول دیا
شاہ ویز اور عمیر مل کے یہ اکیڈمی چلا رہے تھے کافی عرصے سے یہاں پر لڑکوں اور لڑکیوں کو ٹیوشن پڑھانے کے ساتھ ساتھ شارٹ کورسز بھی کر وا ے جاتے تھے
اور یہ اکیڈمی بہترین تعلیمی ریکارڈ کی وجہ سے علاقے میں بہت مشہور تھی
_______________________،____/////////
منال آج بہت خوش تھی کیوں کے اسکول سے ملنے والی تنخواہ سے گزارا مشکل سے ہو رہا تھا منال اس لئے سیکنڈ ٹائم بھی کوئی جاب چاہ رہی تھی جس سے گھر کے اخراجات آسانی سے پورے ہو سکے
منال ساتھ ساتھ پرائیویٹ MSC کی تیاری بھی کر رہی تھی تا کے مزید بہتر جاب مل سکے
. . . . . . . . . ________________
وقت گزرتا گیا وقت کے ساتھ اللہ نے وقاص کو بیٹا اور وقارکو بیٹی سے نوازا
رقیہ کو بیٹے کی پیدائش کی خوشی کے ساتھ اس بات کا غرور بھی ہو گیا تھا کے وہ بیٹے کی ماں بن گئی ہیں جب کے آسیہ جس سے وہ نفرت کرتی آ رہی تھی
اس کے گھر بیٹی ہوئی ہے وقار نے بیٹی کا نام مشعل رکھا تھا جب کہ وقاص احمد نے بیٹے کا نام معیز رکھا جہاں دادی اور دادا کی لاڈلی مشعل تھی وہی معیز بھی ان کی آنکھوں کا تارا تھا دونوں بچوں سے وہ بے تحاشا پیار کرتے تھے
مشعل وقاص احمد کو بھی بہت عزیز تھی لیکن رقیہ کو وہ گول مٹول پیاری سی بچی بالکل پسند نہ تھی جب بھی موقع ملتا ہے وہ اسے ڈانٹ دیتی اور کبھی کبھی تو دو ہاتھ بھی لگا دیتی
معیز کے بعد وقاص احمد کا مزید ایک بیٹا رومان اور ایک بیٹی نور مزید ہوئی
جب کہ وقار احمد کی مشعل کے بعد دو بیٹیاں منال اور چھوٹی ردا ہوئی
وقار احمد اپنی بیٹیوں سے بہت پیار کرتے تھے ان کی ہر ضرورت پوری کرتے تھے ان کے دل میں یہ بات بالکل کبھی نہیں آئی تھی کہ ان کا کوئی بیٹا نہیں ہے آسیہ کو اس بات کا دکھ تھا کے وہ بیٹے کی ماں نہیں بن سکی اس بات کا برملا وہ وقار سے اظہار کرتی رہتی لیکن وقار احمد اپنی قسمت پر شاکر تھے اور مطمئن تھے انہیں اپنی بیٹیاں بہت عزیز تھی
وہ انہیں اچھے سے اچھے تعلیمی ادارے میں تعلیم دلوا رہے تھےمشعل کے بی اے کر نے کے بعد ہی ان کے دوست نے اپنے بیٹے علی جو کہ بینک میں مینیجر تھا اس کے لیے رشتہ مانگ لیا
وقار احمد نے رشتے کے لیے ہاں کر دی اور دو مہینے بعد کی شادی کی ڈیٹ فکس کر دی یوں دونوں گھرانوں میں شادی کی تیاریاں ہونے لگیں
رقیہ کو جب پتا چلا تو اسے بہت غصہ آیا اس کی مرضی مشعل کا رشتہ اپنے بیٹے معیز جو میٹرک فیل تھا کے ساتھ کرنے کا ارادہ تھا وہ اپنی بےعزتی کا بدلہ وقار احمد سے اور آسیہ سے لینا چاہتی تھی اس لئے ان کی مرضی تھی کہ دونوں کا رشتہ ہو جائے لیکن مشعل کے یوں اچانک رشتہ طے ہونی کی وجہ سے رقیہ کو اپنا بدلہ لینا مشکل نظر انے لگا
معیز سے چھوٹا رومان جو منال کے ساتھ fsc پارٹ ون میں تھا اور نور اور ردا دونوں چھٹی کلاس میں تھی
رومان کو اپنی یہ کزن بہت پسندتھی لمبے کالے بال گوری رنگت اس پر گرے آنکھیں
وہ اور منال ایک ہی بس سے کالج اتے جاتے تھے منال کا رومان ہمیشہ خیال رکھتا نوٹس بنانے میں ہیلپ کرتا جب بھی کہیں کسی دوست کے گھر جانا ہوتا لے کے جاتا یوں ان دونوں میں دوستی مزید گہری ہوتی جا رہی تھی رومان منال کو پسند بھی بہت کرنے لگا تھا
اور کب وہ منال سے محبّت کر بیٹھا اسے پتا ہی نہیں چلا __؟؟
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *