Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode14

Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode14

نور
اے نور تجھے سنائی نہیں دیتا کب سے بلا رہی ہوں مجال ہے جو سنی ہو میری آواز
ہر وقت مویا کان سے لگاے نا جانے کیا کرتی رہتی ہے ۔۔۔
کیا ہے اما ں ۔۔کبھی تو سکون لینے دیا کر ہر وقت تجھے کوئی نہ کوئی کام ہی یاد آیا رہتا ہے ۔۔۔۔نور بیٹھتے ہوے بولی
چل بس کر زبان نہ چلا اگے سے اٹھ جا کے چاے بنا کر لا میرے لئے ۔۔۔
کیا اماں تو ایک کپ چاےُ نہیں بنا سکتی اپنے لئے جب دیکھو مجھے ہی کام کہتی رہتی ہے مجھ سے نہیں بن رہی چائے خود جا کر بنا لو
نور دوبارہ فون کی ساتھ لگ گئی
کمبخت ماری آ لینے دے تیرے ابا کو بہت زبان چلنے لگی ہے تیری قینچی سے کاٹ دوں گی دفع ہو جا کے کام کر ہر وقت اس موبائل سے لگی رہتی ہے تو ۔۔
نور کانو ں میں اما ں کی بات کو مار رہی تھی ۔۔۔اسے اٹھتا نہ دیکھ کر رقیہ نے جوتی اٹھائی اور کھینچ کے ماری
جو سیدھی موبائل استعمال کرتے نور کے ہاتھوں پر لگی اور موبائل ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے گر گیا ۔۔۔
نور درد سے بلبلا اٹھی ۔۔اور رونے لگی
مار دیا اما ں میرے ہاتھ توڑ دیُے ابا کو آ لینے دے بتاؤں گی تیرا ۔۔۔ ساتھ ساتھ روےُ جا رہی تھی اور موبائل اٹھا کے دیکھا تو شکر کیا وہ بچ گیا تھا ٹوٹا نہیں تھا نیچے کارپٹ ہونے کی وجہ سے ۔
رقیہ نور پر غصے کرتی کمرے سے باہر نکل گئی اب وہ جو مرضی کہ لیتی اس پر اثر نہیں ہونا تھا
******************************
شام کو منال کی جب اکیڈمی سے واپسی ہوئی تو وہ اکیلی نہیں تھی ساتھ مہوش اور ارم بھی تھی
ارم سے مل کر ردا بہت خوش ہوئی ۔۔۔
ڈرائنگ روم میں ان دونو ں کو بیٹھا کر خود منال امی کو بلانے چلی گئی اور ان کے لئے شربت لینے ۔
آسیہ ڈرائنگ میں آئ تو دونو ں سے مل کر بہت خوش ہوئی
اور بیٹا کیسی ہو گھر والے کیسے ہیں ارم سے بولی۔۔
انٹی آپ کے سامنے ہوں ہٹی کٹی اور گھر والے بھی ٹھیک ہیں ۔۔
منال شربت کے چار گلاس لائی اور سب کو دینے کے بعد اپنا لے کے بیٹھ گئی اور بولی امی یہ مہوش ہیں ہمارے ساتھ ہی پڑھاتی ہے آج اسپیشل آپ سے ملنے آئ ہے ۔
اور بیٹا کیسی ہو آپ ۔۔۔آسیہ بولی
آ نٹی میں بالکل ٹھیک ہوں آپ سنائیں منال بتا رہی تھی آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں ۔کیا ہوا آپ کو ۔۔۔مہوش بولی
ہاں بیٹا بس عمر کا تقاضا ہے بی پی اوپر نیچے ہو جاتا ہے اور یہ پریشان ہو جاتی ہے منال کو پیار سے دیکھتے ہوے بولی
اللہ‎ پاک آپ کو صحت دے آمین
مہوش کے کہنے پر سب نے
آمین کہا
انٹی آج سے ٹھیک تین دن بعد اس سنڈے کو میری منگنی ہے آپ سب نے ضرور آنا ہے میں آج آپ سب کو انوائٹ کرنے کے لئے آئی ہوں
ارم بولی ۔۔۔
منال مسکرا رہی تھی وہ خوش تھی ارم فواد کو پسند کرتی تھی اور فواد بھی پسند کرتا تھا ۔۔۔۔۔فواد نے ارم کے گھر رشتہ بھیجا جسے تھوڑی سی سوچ بچار کے بعد قبول کر لیا گیا اور ہاں ہوگی ۔۔۔
ہاں ہاں بیٹا ضرور منال اور ردا دونو ں پہنچ جائے گی لیکن میں نہیں آ سکوں گی زیادہ رش والی جگہ میرا دل گھبراتا ہے ۔۔۔
لیکن یہ دونو ں آئیں گی
شکریہ آنٹی ۔۔۔آنٹی آپ سے ایک اور اجازت لینی ہے
منال دونوں کے لئے چائے بنانے چلی گئی
آنٹی اکیڈمی کی طرف سے ٹرپ جا رہا ہے مری اور سارا سٹاف اور سارے سٹوڈنٹ جا رہے ہیں لیکن منال جانے سے انکار کر رہی ہے ۔۔۔۔۔
آپ پلیز اسے سمجھائیں اور اجازت دے کہ وہ ہمارے ساتھ جائے یہ انکار کر رہی ہے آنٹی ایسا وقت دوبارہ تھوڑی آئے گا دوستوں کے ساتھ انجوائے کرنے کا آپ پلیز اجازت دے دیں وہ ہمارے ساتھ جائے ۔۔۔
ہاں آنٹی پلیز آنٹی ہم اسی لیے یہاں آئے ہیں تاکہ آپ سے اجازت لے سکے پھر منال کے پاس انکار کا کوئی جواز نہیں ہوگا پلیز آنٹی مہوش بولی ۔۔۔۔
بیٹا میری طرف سے تو اس پر کوئی پابندی نہیں ہے وہ جا سکتی ہے لیکن اس کی اپنی مرضی نہیں ہے میں کیا کر سکتی ہو اگر وہ خود ہی نہیں جانا چاہ رہی تو ۔۔۔۔
آنٹی پلیز آپ اسے خود سمجھا ےُ آپ ماں ہے آپ کی بات کو وہ نہیں ٹا ل سکتی ۔۔۔۔ارم بولی
چلو ابھی وہ آتی ہے تو تمہارے سامنے بات کر لیتی ہوں اگر وہ پھر بھی نہ مانی تو میں کچھ نہیں کر سکتی کیوں کہ وہ اپنی ضد کی پکی ہے ۔۔۔۔۔۔آسیہ خودبھی چاہ رہی تھی منال چلی جائے تھوڑا پرسکون ہو جائے گی ٹینشنوں اور فکروں سے نکل کر اپنے لئے تھوڑا سا وہ وقت گزار لے گی ۔۔۔
منال چا ےُ لے کر آئ تو ساتھ بسکٹ اور نمکو بھی تھی
لو جی چاےُ بھی آ گئی منال ٹرے ٹیبل پر رکھتے ہوئے بولی
چا ےُ بھی پی لیں گے تم بیٹھو ہمارے پاس جو بات کرنے آے تھے ہم آنٹی سے وہ ہم نے کر لی ہے آنٹی کو کوئی اعتراض نہیں ہے وہ راضی ہیں۔۔۔ارم منال کو دیکھتے ہوۓ بولی ۔۔۔
کیا مطلب کیا بات کرنے آے تھے جو امی راضی ہیں منال سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی
ٹرپ پر جانے والی بات اور کون سی ۔۔۔۔۔بس تہ ہو گیا تم جا رہی ہو ہمارے ساتھ اب انکار نہیں کرنا آنٹی راضی ہیں اور تم بھی بلا وجہ نخرے نہ دکھاؤ اب ۔۔۔تمہارے کون سا آنے جانے پر پیسے لگنے ہیں۔۔۔مہوش بولی
ہاں آنٹی سٹاف سارا فری جاتا ہے ہر بار شاہ ویز سر ان سے پیسے نہیں لیتے اپنے خرچے پر لے کر جاتے ہیں ۔۔۔ارم نے بھی حصہ لیا
لیکن میں پھر بھی نہیں جانا چاہتی تم دونو ں کیوں زور دے رہی ہو بار بار ۔۔۔۔۔اور مجھ سے جھوٹ کیوں بولا
دونو ں نے صرف منگنی پر انوائٹ کرنے جانا ہے اور کوئی بات نہیں کریں گے ٹرپ سے متعلق لیکن یہاں آ کر پھر قصہ وہی چھیڑ دیا ۔۔۔۔
کیا مطلب کیوں نہیں جانا مہوش بولی
سوری یار جھوٹ نہیں بولنا چاھتے تھے لیکن ہم دل سے چاھتے ہیں تم چلو ۔۔۔۔لیکن مجھے نہیں پتا تھا منال تم خود غرض ہو جاؤ گی ۔۔۔ٹھیک ہے اب نہیں کہیں گے نہ جاؤ مرضی ہے تمہاری ۔۔۔۔۔اٹھو مہوش چلتے ہیں اب
دیر ہو رہی ہے ارم اٹھتے ہوئے بولی
ارم ناراض ہو چکی تھی ۔۔۔آسیہ تا سف سے منال کو دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔
منال نظریں چرا گئی
آسیه بولی بیٹھ جاؤ بیٹا چا ےُ پی کر جانا ۔۔۔۔
نہیں آنٹی چائے پی لی ہے جو پینی تھی اب ہمیں اجازت دیتے آپ ۔۔۔ارم ناراض نظروں سے منال کو دیکھتےہوے بولی ۔۔
منال کو ہنسی بھی آئ لیکن کنٹرول کر گئی ۔۔۔اور بولی بیٹھ جاؤ آرام سے تم دونو ں چا ےُ پے کر جاؤ ورنہ میں نے تمہاری منگنی پر بھی نہیں آنا ۔۔۔سوچ لو
ارم مزید دکھ سے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔اور بولی بھا ڑ میں جاؤ نہ آنا ۔۔۔۔۔
کہ کر مہوش کا ہاتھ پکڑکر جانے لگی ۔۔۔۔۔۔۔
تبھی منال بولی اچھا ٹھیک ہے سوچتی ہوں میں
تم دونو ں واپس آؤ اب مزید ڈرامہ نہ کرو ۔۔۔
نہیں تم پہلے وعدہ کرو پھر واپس آیئں گے ۔۔ارم بولی
منال نے گھوری ڈالی اور دانت پیستے ہوے بولی ہاں ٹھیک ہے وعدہ کرتی ہوں ۔۔اب خوش ہو
ارم اور مہوش نے ایک دوسرے کو دیکھتے ہوے سر ہلایا اور واپس جا کے بیٹھ گئی
آسیہ مسکرارہی تھی کے ارم اور مہوش نے ہاں کروا لی تھی منال سے
****************************
شاہ ویز اپنے ڈیڈ کے ساتھ لان میں بیٹھا گپ شپ کر رہا تھا عائشہ بیگم اپنی دوست ثمرین کے ساتھ شاپنگ پر گئی تھی
یار شاہ ویز میں سوچ رہاہوں گاؤں چکر لگا آؤں تمہارے دادا دادی کی قبروں پر سے ۔۔۔۔
اور پھر ایک چکر کراچی کا بھی لگا آؤں جب سے شادی ہوئی بس دو بار ہی جا سکا ملک سے باہر ہونے کی وجہ سے
اب تو ما شاہ اللہ‎ چار بچوں کا باپ ہوں دادا اور نانا دونو ں بن چکا ہوں ۔۔۔۔۔
اوکے ڈیڈ جب بھی پروگرام بنا بتا دینا ساتھ چلیں گے
دونو ں
اوکے بیٹا ذرا اپنی ماں کو کال کر کے پوچھو کہاں پر ہے ابھی تک نہیں آئی ۔۔۔۔۔
شاہ ویز اوکے کہتا ماں کا نمبر ملانے لگا بیل جا رہی تھی تقریبا دوسری بیل پر فون اٹھا لیا گیا
ہیلو مام ڈیڈ پوچھ رہے ہیں آپ کا
آپ کب تک گھر آئیں گی وہ اداس ہو گئے ہیں آپ کے لئے شاہ ویز شرارت سے بولا ۔۔۔۔۔
اسجد صاحب بیٹے کی شرارت پر مسکرا کے رہ گئے
اوکے موم جلدی آئیے گا ہم انتظار کر رہے ہیں آپ کا
ڈیڈ آپ ایسے ہی پریشان ہو رہے تھے آپ کی وائف تھوڑی دیر تک بس پہنچ رہی ہیں ۔۔۔۔۔شاہ ویز مسلسل شرارت کے موڈ میں تھا ۔۔۔
شاویز کی شرارت سمجھتے ہوے ی اسجد صاحب بولے بیٹا ایک بار تمہاری شادی ہو جائے پھر میں پوچھوں گا تم سے
تم کیسے اپنی بیوی کے آگے پیچھے پھرو گے
۔۔۔۔ڈیڈ کی بات پر شاویزکا قہقہ بلند ہوگیا ۔۔۔
*****************
آج سنڈے تھا اور ارم کی منگنی تھی
منال صبح جلدی اٹھ گئی تھی سب سے پہلے مشین لگا لی تھی اور ساتھ ساتھ ناشتہ بنا رہی تھی ۔۔۔اور ساتھ ردا کو آواز دے کر جگا رہی تھی جو کہ اٹھنے کا نام نہیں لے رہی تھی
تنگ آ کر منال نے اس پر پانی کا گلاس الٹ دیا اور ہر بڑا کر اٹھ کر بیٹھ گئی اور بولی کیا اپی آج اتوار ہے آج کے دن تو سونے دے ۔۔۔۔۔
بس بہت سو لیا اب اٹھو ناشتہ کرو ۔۔۔۔ٹھنڈا ہو رہا ہے
منال کہ کر باہر جانے لگی
اور خبر دار اگر اب لیٹی تو اسے دوبارہ لیٹتا دیکھ کر بولی ۔۔
کیا آپی ۔۔۔
آج ارم کی منگنی پر اگر جانا ہے تو جلدی اٹھ جاؤ ورنہ گھر ہی رہو گی ۔۔۔۔۔کہ کر کمرے سے باہر نکل گئی
پیچھے ردا منگنی کا سن کر جلدی سے اٹھی اور واش روم کا رخ کیا منہ ہاتھ دھونے کے لئے ۔۔۔۔۔
************************
گڈ مارننگ موم اینڈ ڈیڈ ۔۔۔کہتا کرسی پر بیٹھ کر جوس ڈال کر پینے لگا ۔۔۔۔۔
گڈ مارننگ مائے سن
بڑ ی بات ہے آج سنڈے ہے اور تم جلدی اٹھ گئے ۔۔۔۔۔
خیریت ہے نہ ۔۔۔۔۔۔
موم کی بات پر شاہ ویز نے گھڑی دیکھی جہاں سوا نو بج ہو رہے تھے ۔۔۔۔۔
جی خیریت ہے بس ایک کام تھا جس کے لئے جلدی اٹھنا پڑا
اور دوسرا آج سٹاف کے دو ممبرز فواد اور ارم کی انگجمینٹ ہے وہاں بھی انوائٹ ہیں ہم سب ۔۔۔۔
شام کو ریڈی رہنا آپ دونو ں ۔۔۔بہت پیار سے انوائٹ کیا ہے اگر نہ گئے تو مغرور نہ سمجھ لیں کہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
تو بیٹا آپ پہلے بتا دیتے شام کو میں نے اور تمہارے ڈیڈ نے جو نئی زمین خرید نی ہے اس کے وزٹ کے لئے جانا تھا وکیل کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔آسیہ بولی
چلو ایسا کریں گے تھوڑی دیر رک کر ہم چلے جائیں گے ۔اسجد صاحب ناشتہ کرتے ہوے بولے
اوکے ڈیڈ تھینکس ۔۔۔۔۔
شاہ ویز ناشتہ کرنے لگا ۔۔۔۔
***********************
بس کرو ردا منگنی ارم کی ہو رہی ہے اور تم مہندی مجھے لگا رہی ہو تمہاری ضد کے ہاتھوں مجبور ہو کر لگوا رہی ہوں اب بس پلیز ۔۔
ردا بہت خوبصورت مہندی لگاتی تھی اور ردا کے مجبور کرنے پر منال مہندی لگوانے بیٹھ گئی ردا بہت خوبصورتی سے مہندی لگا رہی تھی ایک ہاتھ کی الٹی سائیڈ پر لگا کر اب دوسرے ہاتھ پر لگا رہی تھی ۔۔۔۔منال کو مہند ی لگانے سے چڑ سی ہو گئی تھی ۔۔۔۔۔
جب سے رومان سے تعلق ٹوٹا تھا رومان کو اس کےگورے ہاتھوں پر مہندی بہت پسند تھی جب بھی منال مہندی لگاتی وہ اس کے ہاتھ پکڑ کر ناک سے لگا لیتا اور مہندی کی خوشبو کو اپنے اندر جذب کرتا اور بولتا ۔۔۔۔۔
منال تمہارے ہاتھوں پر مہندی بہت پسند ہے مجھے ہمیشہ ان ہاتھوں پر مہندی لگاے رکھنا مجھے اچھا لگتا ہے جب تمہارے ہاتھوں کی مہک کے ساتھ مہندی کی خوشبو شامل ہو جاتی ہے اور پھر جب میں اس خوشبو کو اپنے اندر اتارتا ہوں ۔۔۔۔۔
منال کھو سی گئی تھی
ہو گئی آپی ۔۔۔۔ لگ گئی آپ کی مہندی
ردا کی آواز پر منال ہوش میں آئی اور مہندی لگے دونوں ہاتھوں کو دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔
کیا ہوا آپی مہندی پسند نہیں آئی آپ کو۔۔۔ ر دا بولی ۔۔۔۔۔
نہیں نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے مہندی بہت اچھی لگائی ہے تم نے چلو اٹھو اب تھوڑی دیر ریسٹ کر لو تھک گئی ہو گی ۔۔۔۔
منال تنہائی چاہ رہی تھی تبھی ردا کو ریسٹ کا مشورہ دیا اور اٹھا دیا ۔۔۔
ابھی دن کے دو ہوے تھے منال کھانا بنا کر رکھ چکی تھی آسیہ کھانا کھا کر تھوڑی دیر آرام کرنے کی غرض سے سو گئی تھی ۔۔۔۔
ردا اٹھ کر گئی تو منال بھی سیدھی ہو کر لیٹ گئی اور آنکھیں بند کر لیں
***********************
شام کو منال اور ردا تیار ہو رہی تھی آسیہ بیگم نے پہلے ہی ارم سے معذرت کر لی تھی وہ نہیں آ سکے گی
منال نے بھی بہت کوشش کی کہ وہ بھی ساتھ چلیں لیکن انہوں نے کہا گھر پر بھی کسی کو ہونا چاہیے میں گھر پر ہی ٹھیک ہوں
منال نے بلیک کلر کا شیفون کا فراک پہنا جس کے گلے ،گہرے بازو پر سلور کام ہوا وا تھا ساتھ بلیک کھوسہ جو اس کے گورے پاؤں پر بہت جچ رہا تھا ۔۔۔۔۔لمبے بالوں کی سادہ چٹیا بنا کر سر پر اچھے سے ڈوپٹے کو سیٹ کیا کانوں میں سلورکلر کے ٹاپس پہنے ۔۔۔۔۔
میک اپ کے نام پر صرف آنکھوں میں کاجل اور نیچرل سی لپ اسٹک لگا ےُ وہ تیار تھی ۔۔۔اور بہت خوبصورت لگ رہی تھی کالا رنگ اس کے گورے رنگ پر خوب جچتا تھا
ردا نے پنک کلر کی فراک پہن رکھی تھی ۔۔۔
ارم نے گاڑی بیجی تھی دونو ں کو لینے کے لئے گاڑی باہر آ چکی تھی جلدی سے دونو ں ماں سے اجازت لے کر باہر آ گئی ۔۔آسیہ نے دونو ں پر آیت ا لکرسی پڑھ کر دم کیا اور گاڑی میں بیٹھا کر واپس آ گئی ۔۔۔
*******************************
شاہ ویز نے بلیک کلر کا پینٹ کوٹ اور بلیک ہی شرٹ پہنی ۔۔۔۔
ڈھیڑ سارا پرفیو م لگا کر بالوں کو جیل سے اچھے سے سیٹ کیا ۔۔۔۔خود پر بھر پور نظر ڈال کر اوکے کرتا روم سے باہر نکل گیا ۔۔۔۔
_____________
عائشہ بیگم اور اسجد صاحب تیار ہو کر اب شاہ ویز کے آنے کا انتظار کر رہے تھے تاکہ کے وہ آئے اور اکٹھے نکلے
شاہ ویز کو سیڑ ھیاں اترتا دیکھ کر عائشہ کی زبان سے بے اختیار ما شا ہ اللہ نکلا۔۔۔۔
عائشہ بیگم نے اپنی نظریں فوراً شاہ ویز پر سے ہٹا لی کہیں انکی اپنی نظر نہ لگ جائے اسے ۔۔۔۔
فل بلیک ڈریسنگ میں وہ بے انتہا چارمنگ اور نظر لگ جانے کی حد تک پیارا لگ رہا تھا ۔۔۔
پاس آ کر بولا ۔۔۔
واؤ موم یو لوکنگ سو کیوٹ ۔۔۔عائشہ نے شیفون کی بلو رنگ کی ساڑھی پہن رکھی تھی جو ان کے گورے رنگ پر جچ رہی تھی ۔۔۔
اسجد صاحب شاہ ویز کے تعریف کرنے پر محبت بھری نظروں سے عائشہ کو دیکھنے لگے ۔۔جس سے عائشہ اچانک بلش کر گئی
ماں کو شرماتا دیکھ کر شاویز بولا اوئے ہوئے یہاں تو بڑے بڑے لوگ شرما رہے ہیں ۔۔
شاویز کے بولنے پر اسجد صاحب کو اپنی نظروں کا احساس ہوا تو نظریں فوراً ہٹا لیں۔۔
عائشہ بیٹے کی شرارت سمجھ گئی تھی اس لئے کان پکڑ کر بولی باز آ جاؤ تم اپنی حرکتوں سے ماں کو تنگ کرتے ہوئے تمہیں شرم نہیں آتی ۔۔۔۔
ہاہاہا شاہ ویز کا قہقہ بلند ہو گیا
سوری مجھے نہیں پتا تھا کہ میری ماں میرے یوں تعریف کرنے پر اور اپنے شوہر کی پیار بھری نظروں سے دیکھنے پر اتنا شرما جائیں گی ۔۔۔۔
شاہ ویز کی بات پر اسجد صاحب بھی ہنسنے لگے ۔۔۔
جب کے عائشہ نے کان مزید زور سے کھینچا ۔۔۔
اف موم میرا کان تو چھوڑ دیں ۔۔۔اچھا اچھا اب نہیں کرتا تنگ ۔۔۔شاہ ویز دہائی دیتے ہوے بولا
چلو کیا یاد کرو گے چھوڑ دیا کان تمہارا ۔۔عائشہ اب مسکراتے ہوے بولی اور کان چھوڑ دیا ۔۔
تینوں ہنسنے لگے ۔۔۔چلو دیر ہو رہی ہے ہمیں اب عائشہ کو احساس ہوا تو بولی
اوکے چلیں جناب ۔ شاہ ویز بولتا باہر نکل گیا اور اپنی گاڑی میں بیٹھ گیا جا کر جب کے عائشہ اور اسجد دوسری گاڑی پر ڈرائیور کے ساتھ نکلے ۔۔۔
💗💗💗💗
منگنی کا انتظام گھر کے پاس کھولے میدان میں کیا گیا تھا ۔۔
جب بھی یہاں کسی کی شادی ہوتی تو وہ یہاں پر با رات کے بیٹھنے کا انتظام کرتے
کھولا میدان ہونے کی وجہ سے جگہ بہت ہوا دار تھی ۔بس سائیڈ ز پر ٹینٹ کھڑ ے کر کے دیوار کی شکل دی گئی تھی اور نیچے کارپٹ بچھائ گئی تھی بہت خوبصورتی سے سجایا گیا تھا ہر طرف سے
ارم کے گھر کی طرف سے داخلہ رکھا گیا تھا
ارم پارلر جا رہی تھی تیار ہونے منال کو آتا دیکھ کر شکر کا سانس لیا ۔۔
منال ڈائریکٹ گھر چلی گئی تھی کیوں کہ ابھی منگنی سے شروع ہونے میں بہت ٹائم پڑا تھا منال ارم کے کہنے پر جلدی گھر سے آ گئی تھی کیوں کہ منال نے ارم کے ساتھ پالر جانا تھا ۔۔۔
اف اتنی لیٹ کیوں آئی ہو تم تمہیں پتا ہے میں تمہارا کب سے انتظار کر رہی ہوں تمہیں پتا ہے ہمیں پار لر جانا ہے اور ہمیں دیر ہو رہی ہے چلو جلدی اب ۔۔۔۔
ارم منال کا بازو پکڑ کر اسے ساتھ لئے تیز تیز چل رہی تھی ۔۔اور منال اسے دیکھ کر مسکرائی اور بولی
آرام سے چلو ۔۔ایسے ہم دونوں گر جائینگے ارم
کی بے چینی اور خوشی دیکھنے لائق تھی ۔ منال کی بات کو کانوں میں مارتے ارم بولی ۔یہ تم کیسی تیار ہوئی ہو ذرا پتا نہیں چل رہا میری منگنی پر آئ ہو ایسا لگ رہا ہے میرے چوتھے پر آئ ہو ۔۔۔
ارم کی بات پر منال کا منہ کھل گیا اور بولی ارم تم یہ کیسی باتیں کر رہی ہو
ہاں تو سہی بول رہی ہوں میں ۔۔۔بالکل پرانے زمانے کی عورتوں کی طرح تم نے چٹیا بنائی ہوئی ہے اور سر پر دوپٹہ کیا ہوا ہے ۔۔۔
دونو ں گاڑی میں بیٹھ چکی تھی پارلر گھر کے پاس دس منٹ کی ڈرائیو پر تھا ۔۔
تم جانتی ہو یار مجھے فیشن کرنا بالکل پسند نہیں ہے میرا دل نہیں کرتا ۔۔۔مجھے ایسے ہی رہنا اچھا لگتا ہے اور ویسے بھی مجھے اتنا تیار ہوکر کیا کرنا ہے ۔۔۔منال بولی
کیا مطلب اتنا تیار ہوکر کیا کرنا ہے
انسان اپنے لیے تیار ہوتا ہے اور اپنے پیاروں کے لئے ہوتا ہے اب تم میرے ساتھ ہو اور تمہیں وہی کرنا پڑے گا جیسا میں کہوں گی آئی سمجھ تمہیں ۔۔۔
لیکن ارم ۔۔۔۔منال نے کچھ بولنے کے لئے منہ کھولا تو ارم نے اسے چپ کروا دیا اور بولی بس چپ کر کے بیٹھی رہو مجھے تمہارے فضول خیالات سے کوئی دلچسپی نہیں ہے اور نہ ہی میں نے سننے ہیں ۔۔۔ارم نے کہنے کے ساتھ اسے دیکھا جو اب حیرانگی سے ارم کی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔
پارلر آ چکا تھا ارم کے ساتھ منال اتر کر پارلر میں داخل ہو گئی ۔ لیکن منال کا منہ سوجا ہوا تھا ارم کی باتوں سے ۔۔
گڈ ایوننگ میم ۔۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *