Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode10

Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode10

وقار پولیس سٹیشن سے ہو کر واپس آے ۔۔
تو رومان کو دروازے پر کھڑا دیکھ کر بولے ۔۔بیٹا یہاں کیوں کھڑے ہو اندر آ جاؤ ۔۔۔
رومان تایا کو دیکھ کر بولا میں آپ کا انتظار کر رہا تھا آپ سے کچھ پوچھنا تھا مجھے
امید ہے سچ بتائیں گے آپ ۔۔۔
کیا بات کرنی ہے بیٹا آؤ اندر چل کے بات کرتے ہیں
وقار رومان کو لے کر اندر چلا گیا
اپنے کمرے میں لے کے جاتے ہوئے کچن میں کھڑی آسیہ کو بولا کہ ٹھنڈا شربت بنا کر کمرے میں دے جاؤ رومان آیا ہے
اور رومان کو لے کر کمرے میں چلے گئے
اور بولے بیٹھو بیٹا
رومقں کے چہرے پر سخت قسم کی سنجیدگی تھی وہ چپ کر کے بیٹھ گیا
ہاں بیٹا بولو کیا بات کرنی ہے سب خیریت ہے نہ ۔ وقار بولے
خیریت ہی تو نہیں ہے ۔۔۔۔اتنا بول کے ہو چپ ہوا اور تایا کے چہرے کی طرف دیکھنے لگا اور پھر بولا آپ سے میں جو بھی پوچھوں گا آپ مجھے اس کا جواب سچ سچ بتا دینا
وقار احمد کو اندر ہی اندر فکر لاحق ہو گئی کہ کہیں رومان کو منال کا پتہ تو نہیں چل گیا ۔۔ .
ہاں بیٹا تم پوچھو کیا پوچھنا چاہتے ہو ۔ .
رومان بولا آپ مجھے یہ بتائیں منال کہاں ہے ۔۔۔۔
وقار احمد کے شک پر یقین کی مور لگ چکی تھی کہ وہ ضرور منال کے بارے میں سوال جواب کرے گا ۔۔
لیکن وقار نے اپنا لہجہ نارمل رکھا اور بولا کہ وہ اپنی بہن کے گھر گی ہوئی ہے ایک دو دن تک واپس آ جائے گی تم بیٹا خیریت ہے آپ کو اس سے کوئی کام ہے ۔۔۔۔
اور رومان جو چپ کر کے تایا کی بات سن رہا تھا بولا جی مجھے کام ہے آپ ایسا کریں اس سے میری بات کروا دیں ۔
رومان کی بات پر وقار ایک دم گھبرا گئے اور بولے بیٹا ابھی وہ بزی ہے میری تھوڑی دیر پہلے بات ہوئی تھی وہمشعل کے ساتھ شاپنگ کرنے گئی ہے ۔۔۔
تایا کی بات کو سکون سے سنا ۔۔۔اور بولا کوئی بات نہیں بس میں نے تھوڑی دیر ہی بات کرنی ہے آپ میری بات کروا دیں میری تسلی ہو جائے پھر میں گھر چلا جاؤں گا ۔۔۔۔
میں ان کا زیادہ ٹائم نہیں لوں گا آپ بس نمبر ملا کر دیں ۔۔۔
وقار احمد عجیب قسم کی مصیبت میں پھنس گئے تھے وہ چاہ کر بھی کچھ نہیں کر پا رہے تھے ۔۔
اتنے میں آسیہ شربت کے دو گلاس لے کر آئیں ۔۔۔
دونوں نے ایک ایک گلاس اٹھا لیا ۔۔۔۔آسیہ دے کے جانے لگی تبھی رومان نے روک لیا اور بولا آپ کہاں جا رہی ہیں آپ یہیں بیٹھے آپ سے بھی کچھ بات کرنی ہے میں نے ۔۔۔
آسیہ بیگم وقار کی چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے بیٹھ گئی اور بولی ہاں بیٹا کیا بات کرنی ہے ۔۔۔
میں نے آپ دونوں سے پوچھا کہ منال کہاں ہے . .
لیکن آپ دونوں نے مجھ سے جھوٹ بولا ہے تایا ابو میں نے آپ سے بھی ابھی کہا کے جو بھی بات کروں گا مجھے اس کا سچ سچ جواب دینا لیکن آپ نے پھر مجھ سے جھوٹ بولا۔ .
سچ تو میں جانتا ہوں کہ منال بی بی اس وقت کہاں ہے ۔۔۔۔وقار اور آسیہ دونو ں ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے ۔۔۔لیکن منہ سے کچھ نہ بولے
ڈرتے ڈرتےآسیہ بولیں کیا مطلب ہے تمہارے کہنے کا منال اس وقت کہاں ہے ۔۔۔۔۔۔۔
ان کی بات سن کر رومان ایک دم ہنسنے لگا اور بولا یہ بات آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں کہ اس وقت وہ کہاں ہے لیکن اگر آپ پھر بھی میرے منہ سے سننا چاہتے ہیں تو میں آپ کو بتا دیتا ہوں وہ اس وقت اپنے یار کے ساتھ ہے اسی کے ساتھ جس کے ساتھ وہ پیپر دینے کے بعد چلی گئی ۔۔۔۔۔
میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ منال اس قسم کی لڑکی نکلے گی ۔۔۔۔۔
منگنی میرے ساتھ کی اور بھاگ کر کسی اور کے ساتھ چلی گئی ۔۔۔
رومان کی باتیں سن کر وقار کو غصہ آنے لگا لیکن وہ ضبط کر گئے اور بولے یہ کیا بکواس کر رہے ہو ۔
میری بیٹی ایسی ہرگز نہیں ہے اور میں یہ بات برداشت نہیں کروں گا کہ اس پر تم اتنا گھٹیا الزام لگاو ۔۔۔۔۔ورنہ
ورنہ کیا تایا جی ۔۔۔۔۔۔
رومان اس سے پہلے کے میں بھول جاؤ میرا تم سے کیا رشتہ ہے تم یہاں سے چلے جاؤ بہتری اسی میں ہے ۔۔۔۔وقار غصے سے بولے
وقار پلیز آپ آرام سے بات کریں آپ بھول رہے ہیں کہ وہ منال کا منگیتر بھی ہے ۔۔۔۔آسیہ وقار کو غصے میں دیکھ کر بولی
کون سا منگیتر تائی جی میرا آپ کی بیٹی کے ساتھ اب کوئی تعلق نہیں ہے ۔۔۔
اور ہاں تایا جی سچ ہمیشہ کڑوا ہی ہوتا ہے بیٹی کی غلطی کو الٹا نظر انداز کر رہے ہیں منہ کالا کرکے چلی گئی ہے سارے خاندان کی عزت مٹی میں ملا دی ہے اس نے ۔۔۔۔۔۔
میرا ایسی بد کردار لڑکی سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔۔۔رومان منہ سے زہر اگل رہا تھا ۔۔۔
بس رومان اس سے آگے مزید کوئی لفظ نہیں۔۔۔۔
نکل جاؤ میرے گھر سے ۔۔۔تم کیا تعلق توڑ و گے میری بیٹی سے تم اس قابل ہی نہیں ہو ۔۔۔۔دفع ہو جاؤ اور آئندہ اپنی شکل بھی مجھے مت دکھانا ۔۔۔۔
وقار احمد ڈھاڑتے ہوئے بولے ۔۔۔
وقار کی آواز سن کر سر مد صاحب فورا اپنے کمرے سے باہر نکلے اور تیز تیز قدموں سے چلتے ہوئے وقار کے کمرے کی طرف آئے جہاں سے آواز آ رہی تھی
رومان غصے سے جا چکا تھا
سر مد صاحب نے اس کو کمر سے نکلتے دیکھا اور آواز دی لیکن وہ غصے میں نکل گیا ۔۔۔
آپ پلیز وقار بیٹھ جائے ورنہ آپ کا بی پی ہائی ہو جائے گا ۔۔۔آسیہ بولی لاہور جلدی سے کچن کی طرف بھاگی پانی لینے کیوں کے وقار احمد غصےکرنے کی وجہ سے اب ہانپ رہے تھے ۔۔
سرمد صاحب تیزی سے کمرے میں داخل ہوئے اور بیٹے کو بازو سے پکڑ کر بیڈ پر بٹھایا اور آسیہ سے پانی کا گلاس لے کر اس کو پلانے لگے۔۔۔۔
اور بولے صبر کرو وقار ۔۔۔۔
حوصلے سے کام لو یہ خبر ہی ایسی ہے جس جس تک پہنچیں گی وہ ایسی ہی باتیں کریں گے تمہیں صبر سے کام لینا ہوگا اور برداشت کرنا ہوگا ۔۔۔
اباجی مجھے دکھ لوگوں کی باتوں کا نہیں ہے مجھے دکھ اس بات کا ہو رہا ہے میرے اپنوں نے ہی میری بیٹی کے کردار پر شک کیا ہے
آپ نے بھی منال پر شک کیا اسے برا بھلا کہا جب کے آپ اس کو اچھی طرح جانتے ہیں وہ کبھی ایسا کوئی کام کر ہی نہیں سکتی جس سے ہماری عزت پر کوئی حرف آئے ۔۔۔
وقار کی بات پر سر مد کو پچھتاوا ہونے لگا کیونکہ وہ بھی منال پر شک کر چکے تھے ۔۔۔۔۔۔
بیٹا میں جانتا ہوں میں نے غصے میں وہ سب کہاں اچانک یہ سب سن کر مجھے ایک جھٹکا لگا تھا اور غصے میں میرے منہ میں جو کچھ آیا میں بولتا گیا ۔۔۔۔اگر تمہیں میری کسی بات سے دکھ پہنچا ہے بیٹا تو میں تم سے معذرت کرتا ہوں ۔۔۔سرمدصاحب بولے
سرمد کو معذرت کرتا ہے دیکھ کر وقار جلدی سے بولا نہیں ابا جی آپ بڑے ہیں آپ کو معذرت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔۔
اب پتا نہیں لوگ کیسی کیسی باتیں کریں گے مجھے برداشت سے کام لینا ہوگا ۔۔۔کیوں کہ میں اپنی بیٹی سے بہت اچھی طرح واقف ہوں مجھے اس پر خود سے بھی زیادہ بھروسہ ہے ۔۔۔۔۔
اللہ‎ نے چاہا تو جلد مل جائے گی وہ ہمیں ۔۔۔۔
انشاء اللہ‎ ۔۔
وقار احمد پولیس سٹیشن تھے جب ان کے نمبر پر کسی پی سی او سے دو تین دفعہ کال آئی لیکن وہ پولیس سٹیشن ہونے کی وجہ سے کال رسیو نہیں کر سکے تھے ابھی اچانک یاد آنے پر انہوں نے فون اٹھا کر نمبر چیک کیا کہ کال کہاں سے آئی تھی اور نمبر ڈائل کر دیا ۔۔۔۔
بیل جارہی تھی تقریباً تیسری بیل پر آگے سے کال اٹھا لی گئی اور ہیلو کی آواز آئی ۔۔
وقار احمد نے سلام کیا اور پوچھنے لگے کہ تقریبا ابھی آدھا گھنٹہ پہلے مجھے اس نمبر سے کال آئی ہے ۔۔۔
اب ہم کو کیا پتا یہاں سے کس نے کال کی ہے یہاں سے بہت سے لوگ کال کرتے ہیں۔۔۔۔پی سی او شاپ کا مالک بولا ۔
پھر بھی آپ کو کچھ علم تو ہو گا آپ سوچ کے بتائیں ۔۔۔۔وقار بولے
پتا نہیں کیوں وقاراحمد کی چھٹی حس ان کو الرٹ کر رہی تھی ۔۔۔
شاپ والا بولا ۔یہاں سے ابھی ایک لڑکے نے کال کی ہے اور اس سے پہلے ایک لڑکی نے نمبرملایا تھا ۔۔۔لیکن اگے سے کسی نے فون نہیں اٹھایا تو فون رکھ کے چلی گئی ۔۔۔۔۔
وقار احمد نے پوچھا کس طرف گئی وہ لڑکی اور یہ کس جگہ کا نمبر ہے ۔۔۔
ہم کو یہ تو نہیں پتا کہاں گئی وہ لڑکی ۔۔
اور پھر جگہ کا بتا کر اس نے کال بند کر دی ۔۔۔
وقار احمد نے فورا ا ے ایس پی کو کال کی اور کال سے متعلق بتا دیا ۔۔۔اور اپنا شک ظاہر کیا ۔۔۔
اوکے وقار صاحب میں ابھی اپنے بندے بیج کر پتا کرواتا ہوں آپ فکر نہ کریں ۔۔۔
شکریہ اللہ‎ حافظ ۔۔۔
وقار احمد کو ایسا لگ رہا تھا کال منال نے کی تھی ۔۔۔وہ خود کو برا بھلا کہ رہے تھے کے کیوں کال نہیں اٹھا سکے وقت پر ۔۔۔
کاش اٹھا لیتے ۔۔۔عصر کی اذان کی آواز پر
وقار احمد اٹھے اور وضو کرنے چلے گئے ۔۔
***************************
منال کو اس عورت نے اسٹاپ پر اترنے کے بعد دوسری بس میں بیٹھا دیا تھا اور کرایہ بھی دے دیا تھا اور ڈرائیور کو اچھے سے سمجھا دیا کے اسے اس کے گھر تک چھوڑ کے آے ۔۔
اور ااپنی چادر اتار کر منال کے سر پر کروائی ۔۔۔
اور خود دوپٹہ کر لیا ۔۔۔
منال کو گلے سے لگا کر پیار کیا اور گاڑی میں بیٹھا دیا ۔۔۔۔منال خوش بھی تھی اور ڈر بھی رہی تھی آخر کو دو دن گھر سے غائب رہی تھی ۔۔۔۔
***************”******
شاہ ویز کا دل آج اکیڈمی چکر لگانے کا تھا پچھلے دو ہفتوں سے وہ اکیڈمی نہیں جا سکا تھا جس کی ایک وجہ یہ تھی کہ اس کے ڈیڈ آئے ہوئے تھے اور دوسری وجہ اب فیکٹری کا انچارج اس کی ماں نے شاہ ویز کے حوالے کردیا تھا ۔۔
کے اب فیکٹری کا سارا انتظام تم ہی سنبھالو گے
عمیر اسے کہیں بار کہہ چکا تھا کے فیکٹری کا چکر لگا لوں کیوں کے ایگزام قریب آرہے تھے بچوں کے ۔۔۔
اور وہ سب چاہتے تھے کہ پیپرز سے پہلے ان کا ٹرپ لے کر جایا جائے ۔۔۔
اس لئے عمیر چاہ رہا تھا کہ شاہ ویز اکیڈمی آئے اور سب سٹاف کے ساتھ ڈسکس کر لے ۔۔۔
منال کو اکیڈمی جوائن کئے ہوئے ڈھائی ہفتے ہو چکے تھے ۔۔۔
منال پوری محنت اور لگن کے ساتھ کام کر رہی تھی
عمیر بھی اس کی محنت اور لگن سے بہت خوش تھا ۔۔
منال کا دھیما لہجہ سب کو اس کی طرف متوجہ کر دیتا ۔۔وہ بہت کم غصے میں آتی تھی ۔۔۔۔وہ بہت کم عرصے میں سب کی فیورٹ ہو چکی تھی
منال کی ابھی تک اس اکیڈمی کے اونر سے ملاقات نہیں ہوئی تھی عمیر کے علاوہ یہاں پر تین میل اور چار فیمیل سٹاف موجود تھی
*************************
بریک میں سارا سٹاف ایک جگہ موجود تھا ۔۔بیس منٹ کے لئے سب کو فری کیا جاتا تا کے وہ سب تھوڑا فریش فیل کریں ۔۔
منال آپ بھی ٹرپ پے جاؤ گی نہ ہمارے ساتھ ۔۔ مہوش نے منال سے پوچھا ۔۔
نہیں میں نہیں جا سکتی ۔ منال بولی
اور ویسے بھی میرا دل نہیں کر رہا ۔۔میں گھر پر رہ کے ریسٹ کروں گی اور پینڈنگ کام کرنے ہیں ۔۔۔۔
یہ کیا بات ہوئی سب جائیں گے تو تمہیں بھی جانا پڑے گا ۔۔۔اور جہاں تک بات دل کی ہے اسے منا لیں گے ہم ڈونٹ وری۔۔۔۔مہوش بولی
کیوں سسٹر کیوں نہیں جانا یہ کیا وجہ ہوئی نہ جانے کی ۔۔۔۔قاسم بولا ۔۔۔منال کو وہ اپنی سسٹر مان چکا تھا باقی سٹاف سے بھی وہ عزت سے پیش آتا ۔۔۔
ایکچولی گھر میں امی اکیلی ہو جائیں گی اور ان کا بی پی بھی اکثر ہائی رہتا ۔۔ایسے میں ان کو اکیلے چھوڑ کر جانا ۔۔۔۔۔۔آپ لوگ میری بات کو سمجیں ۔۔
اور ویسے بھی میری امی مجھے اتنی دور نہیں ب
گی ۔اور اجازت بھی نہیں ملے گی ۔۔۔وہ پریشان ہو جاتی ہیں اس لئے ….
اف یار اتنے زیادہ بہانے ۔۔۔بٹ میں کچھ نہیں سنو گی میں تمہاری امی سے خود مل کر بات کروں گی اور اجازت لے کر کی دم لوں گی
ارم بھی مہوش کے ساتھ بولی ۔۔۔۔۔
ہاں بالکل میں بھی چلوں گی انٹی سے اجازت لے کر ہی آؤں گی ۔۔۔
منال بے بسی سے دونو ں کو دیکھنے لگی ۔۔۔
اور خاموشی سے پوائنٹ نوٹ کرنے لگی ۔۔۔
اکیڈمی کا سارا سٹاف بہت اچھا اور ملن ساز قسم کا تھا ۔۔۔منال کی سب سے اچھی سلام دعا ہو گئی تھی ۔
سواۓ علی نامی ٹیوٹر سے ۔۔وہ سب سے سہی طرح بات کرتا لیکن جب بھی منال کو دیکھتا تو عجیب نظروں سے دیکھتا ۔۔بات کم ہی کرتا بس سلام دعا ہوجاتی دونو ں کی ۔۔۔بات وہ کسی اور سے کرتا دیکھ منال کو رہا ہوتا ۔۔
منال سمجھ نہیں پا رہی تھی شرو ع شرو ع میں منال نے اتنا نوٹ نہ کیا لیکن ارم کے بتانے پر اس نے نوٹ کرنا شرو ع کیا ۔۔
منال کو الجھن ہوتی اس کی نظروں سے ۔۔
لیکن وہ چپ رہتی اگنور کر دیتی ۔۔۔
***************************
شاہ ویز فیکٹری سے ذرا جلدی نکل آیا تھا وہ اکیڈمی جا رہا تھا ۔۔
جب شاہ ویز کو روڈ کے پاس مدیحہ کھڑی نظر آئی ۔۔۔
مدیحہ کے پاس آ کر بولا ۔۔۔ہا ےُ کیسی ہو ۔۔۔
یہاں روڈ پر کھڑی کسی کا انتظار کر رہی ہوں۔۔کوئی پرابلم تو نہیں
شاہ ویز کو اپنے سامنے دیکھ کر مدیحہ کو خیرت ہوئی ۔۔میں ٹھیک ہوں تم سناؤ ۔ یہاں کیسے ۔۔
میں بھی بالکل ٹھیک ہوں اور میں یہاں سے گزر رہا تھا تو تم پر نظر پڑی ۔۔تو تمہارے پاس چلا آیا ۔۔۔۔
میری گاڑیمیں کچھ مسئلہ ہو گیا تھا جس کی وجہ سے وہ بند ہو گئی تھی ڈرائیور مکینک کو بلانے کے لیے گیا ہے اس لیے میں یہاں روڈ پر کھڑی ان دونوں کا انتظار کر رہی تھی
مدیحہ بولی ۔۔
If You Don’t Mind Can i Drop you…
شاہ ویز بولا ۔۔۔
اٹس اوکے بس انے والا ہے ڈرائیور میں نے کال کی ہے آ رہے ہیں دونو ں ۔۔ مدیحہ بولی
چلو جیسے تمہاری مرضی میں چلتا ہوں اگر کوئی پرابلم ہوئی تو مجھے کال کر لینا میں فوراً حاضر ہو جاؤں گا ۔۔۔شاہ ویز ہستے ہوے بولا ۔۔۔
اوکے ۔۔۔۔
شاہ ویز کہتا ہوا اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔
****************************
ردا کچن میں برتن دھو رہی تھی جب ڈور بیل ہوئی ۔۔۔منال ڈوپٹے سے ہاتھ صاف کرتی باہر نکلی اور دروازہ کھولنے چلی گئی ۔۔۔
کون ہے ۔۔!!اندر سے ردا بولی
امی نہا رہی تھی ۔۔۔
معیز ہوں ۔۔۔۔
کون معیز ۔۔معاف کیجئے میں کسی معیز کو نہیں جانتی آپ جا سکتے ہیں ۔۔۔
کوئی بڑا گھر میں ہے تو اس کو بھیجو ۔۔۔اور بولو گاؤں سے معیز آیا ہے ۔۔مجھے ضروری بات کرنی ہے ۔۔۔
ردا سوچ میں پڑ گئی ۔۔۔
کون ہے بیٹا دروازے پر آسیہ نہا کر نکلی تو ردا کو دروازے کے آگے کھڑا دے کر پوچھا ۔۔۔
امی پتا نہیں کوئی معیز نام کا بندہ ہے باہر بول رہا ہے کہ گاؤں سے آیا ہوں کوئی ضروری بات کرنی ہے ۔۔۔
آسیہ ایک دم سوچ میں پڑ گئی اور دروازے کی طرف بڑھی اور جا کر دروازہ کھول دیا ۔
ان کا شک سہی نکلا دروازے میں معیز فیاض کھڑا تھا
آسیہ ایک دم خیر ان ہوگی ۔۔۔۔
السلام علیکم تا ئی ۔۔۔معیز بولا
اندر نہیں آنے دیں گی ۔۔۔
وعلیکم سلام ۔۔ہاں کیوں نہیں آؤ اندر ۔۔۔۔
آسیہ اس کو لے کر ڈرائنگ روم میں داخل ہو گئی اور ردا سے بولی بھائی کے لئے شربت بنا کے لاؤ ۔
ردا جی امی کہتی کچن میں چلی گئی
اور آسیہ معیز کے ساتھ ڈرائنگ روم میں چلی گئی ۔۔۔
کیسے ہو بیٹا ۔۔۔سب کیسے ہیں ۔۔۔تمہاری بیوی اور بچے کیسے ہیں ۔۔
۔الحمدللہ میں ٹھیک ہوں اور بیوی بچے بھی ٹھیک ہیں
آپ سنائیں تائی جی کیسی ہیں ۔۔۔
بیٹا میں بھی ٹھیک ہوں ۔۔۔
مجھے پتا ہے آپ میری اس طرح اچانک آمد سے حیران ہوئی ہوگی بہت ۔۔۔
یقین جانے میں آپ سب سے بہت شرمندہ ہوں جو کچھ ہوا
مجھے تایا جی کی موت کا بھی بہت افسوس ہے
مجھے یہ دکھ ہمیشہ رہے گا کہ میں ان کا آخری دیدار بھی نہیں کر سکتا ۔۔۔معیز بولا
بس بیٹا کیا کر سکتا ہے انسان ۔ . آسیہ بولی
اچھا تم یہ بتاؤ تمہیں یہاں کا ایڈریس کہاں سے ملا ہے ہمارا
کچھ نہ پوچھیں تائی بہت مشکل سے ملا بہت ڈھونڈنے کے بعد میں کل ہی لاہور آیا ہوں پرسنلی آپ سب سے ملنے
کیوں کہ دو دن بعد کی میری فلائٹ ہے اور میں نے واپس چلے جانا ہے میں چاہتا تھا جانے سے پہلے آپ سے مل کر جاؤ اور معافی مانگ کر جاؤ کیوں کہ میرے دل پر بوجھ تھا ۔۔
میں خود مجبور تھا چاہ کر بھی کچھ نہیں کر سکا ۔۔ ۔۔
بس بیٹا جو کچھ قسمت میں لکھا ہو وہ ہو کر رہتا ہے ۔۔۔آسیہ بولی
ردا شربت کے دو کلاس بنا کر لائی ۔۔
تو معیز نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور پیار کیا اور بولا کہ تائی جی ردا تو ماشااللہ بہت بڑی ہو گئی ہے ۔۔۔یہ تو چھوٹی سی دو پونیوں والی ردا ہے ہی نہیں ۔۔۔۔
ردا کے لمبے بال دیکھتا ہوا بولا ۔۔۔
آسیہ پیار بھری نظروں سے ردا کو دیکھتے ہوئے بولی ہاں بیٹا تم مل بھی تو پانچ سال بعد رہے ہو ۔۔ ۔
ردا پاس ہی بیٹھ گئی امی کے ۔۔
تائی جی منال نظر نہیں آرہی کہاں ہے وہ
اس کی شادی تو نہیں کر دی آپ نے ۔۔۔۔معیز شربت پیتے ہوے بولا ۔۔۔
بیٹا وہ اکیڈمی گئی ہے بس تھوڑی دیر تک آ جائے گی ۔۔
تم بتاؤ آج روکو گے نہ میں کھانے کا انتظام کرتی ہوں ۔ . آسیہ بولی
نہیں میں واپس جاؤں گا کیونکہ میں ہوٹل میں ٹھہرا ہوا ہوں میرا سامان وہیں پر ہے ۔۔۔میں بس آپ سب سے مل کر معافی مانگنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔
بیٹا تم اس بات کے لیے معافی مانگ رہے ہو جس میں تمہارا کوئی قصور ہے ہی نہیں مجھے کیوں شرمندہ کر رہے ہو ۔۔۔آسیہ اس کی ندامت دور کرتے ہوئے بولی ۔۔
میں جانتا ہوں میرا قصور نہیں ہے لیکن میں پھر بھی شرمندہ ہوں کیوں کہ آپ سب کو جو بھی تکلیف اور اذیت پہنچی ہے وہ میرے گھر والوں کی طرف سے پہنچی ہے۔۔اور یہ بات مجھے چین سے نہیں بیٹھنے دیتی کہ منال بے قصور ہوتے ہوئے بھی
اس نے اتنی بڑی سزا کاٹی ہے ۔۔۔اتنا کچھ سہا ہے اس نے منال بالکل مجھے اپنی بہن کی طرح عزیز ہے
پتا نہیں مجھے منال معاف کر پائے گی یا نہیں ۔۔۔۔معیز بولا
بیٹا یہ تو اب اس پر ہے کہ وہ کس کس کو معاف کرتی ہے یا نہیں
میری بیٹی نے بہت دکھ سہیں ہیں رومان اور رقیہ کے بہت سے الزامات برداشت کئے ہیں اس نے ۔۔۔بہت دکھ پہنچایا ہے میری بیٹی کو ۔۔آسیہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے وہ وقت یاد کر کے ۔۔۔
میں سمجھ سکتا ہوں کاش میں اس وقت کچھ کر سکتا آپ کو پتہ ہے میں وہ سب ہونے سے دو دن پہلے ہی باہر چلا گیا تھا امی سے ناراض ہو کر ۔۔
ردا ماں کو روتا ہوا دیکھ کر بولی امی پلیزچپ کر جائیں مت روئین ۔۔آپ کی طبیعت خراب ہو جائے گی
اور منال آپی بھی آنے والی ہے آپ کو ایسے روتا دیکھ کر وہ پریشان ہو جائیں گی ۔۔۔
ردا کے کہنے پر آسیہ نے آنسو صاف کیے
اور معیز سے بولی ۔بیٹا کھانا کھا کر جانا
تم رک نہیں رہے اس لئے ۔۔۔
اور ردا سے بولی جاؤ بھائی کے لیے اچھی سی چائے بنا کر لاؤ ۔۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *