Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode28

Yeh Dil Tujhay Pukaray by Zara Shabeer Episode28

شاہ ویز آہستہ آہستہ چلتا ہوا
بیڈ کے قریب آیا اور منال کے پاس بیٹھ گیا
اسلام علیکم ۔۔!!!
شاہ ویز نے منال پر سلامتی بیجی
اور بولا کیسی ہو تم ۔۔۔۔
منال نے دھیرے سے شاہ ویز کے سلام کا جواب دیا اور بولی میں ٹھیک ہوں
ہوں کیسا لگا مجھے اپنے شوہر کے روپ میں دیکھنا ۔۔یقینن حیران ہوئی ہو گی بہت ۔۔۔
شاہ ویز جیب سے کیس نکالتے ہوے بولا
جی بلکل حیرانگی ہوئی مجھے ۔۔۔۔
پتا ہے منال میں تمہیں سر پرائز دینا چاہتا تھا
میں چاہتا تھا تم اس رشتے کو جانے بغیر کیا فیصلہ کرتی ہو میرے پر پو زل کا کیا جواب دیتی ہو ۔۔
۔ تم نے انکار کر دیا کے تم مجھے دھوکہ نہیں دینا چاہتی نا کبھی پیار دے سکتی ہو جس کا حق دار ہوں میں ۔۔
شاہ ویز نے کیس سے ایک لاکٹ نکالا جس پر شاہ ویز لکھا تھا
منال کے گلے میں پہنا نا چاہا تو منال پہلے ججکی
یار کھا نہیں جاؤں گا تمہیں منہ دکھائی کا گفٹ ہے
شاہ ویز کی بات پر منال نے
پھر خود ہی سر اگے کر دیا
شاہ ویز منال کی حرکت پر مسکرایا اور پیار سے
منال کے گلے میں پہنا دیا
تم جانتی ہو اس پر میں نے اپنا نام کیوں لکھوایا ہے
منال نے نفی میں سر ہلایا
تو شاہ ویز پیار سے منال کا ہاتھ پکڑ کر بولا
میں چاہتا ہوں میں ہر وقت تمہارے پاس رہوں اور تم مجھے محسوس کرو
منال میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں
اور آج سے نہیں بہت پہلے سے ۔۔شاہ ویز نے منال کو اپنے پیار کا پاگل پن ،شرو ع سے آخر تک بتا دیا ۔۔
میں صرف تمہاری خوشی کے لئے پیچھے ہٹا تھا لیکن نہیں جانتا تھا تم مجھے مل جاؤ گی
شاید یہ میرے پیار کی سچائی تھی جو مجھے تم مل گئی
اور میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کبھی تمہارا ساتھ نہیں چھوڑوں گا
میں جانتا ہوں تم مجھ سے پیار نہیں کرتی
لیکن منال
میں تم پر کوئی دباؤ نہیں ڈالوں گا
کہ تم مجھ سے پیار کرو ۔۔
میں تمہیں اتنا پیار دوں گا کہ تمہارے دل میں خود با خود میرے لئے محبت پیدا ہوجائے گی
شاہ ویز جذبات سے چور لہجے میں بولا
منال کی آنکھوں میں آنسو آ گئے
وہ نہیں جانتی تھی شاہ ویز اتنا پیار کرتا ہے اس سے سب کچھ جانتے ہوے اس کے پیار میں کوئی کمی نہیں آئ
کیا ہوا !!تم رو رہی ہو طبیعت ٹھیک ہے تمہاری شاہ ویز منال کو روتا دیکھ کر پریشان ہو گیا
کچھ نہیں ہوا ۔۔میں ٹھیک ہوں
پھر ر وئی کیوں ۔۔۔شاہ ویز بولا
میں نہیں جانتی تھی آپ مجھ سے اتنا پیار کرتے ہیں سب کچھ جانتے ہوئے بھی آپ نے مجھ سے شادی کی ہے اور میرے پاس آپ کو دینے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے ۔۔۔۔منال روتے ہوے بولی
کس نے کہا کچھ نہیں ہے تم مجھے اپنا ساتھ دو میرے لئے یہی بہت ہے منال
اس کے علاوہ مجھے کچھ نہیں چاہئے اور تم یقین رکھو میرے پیار میں کبھی کوئی کمی نہیں آئے گی میں صرف تمہارا ہوں اور تمہارا ہی رہوں گا شاہ ویز
منال کو پیار سے دیکھتا ہوا بولا
شاہ ویز کی نظروں سے منال پزل ہونے لگی تو سر کو مزید جھکا لیا
کیا ہوا !شرما گئی ہو
ویسے یار کسی نے کہا لڑکی شرماتی ہوئی بہت خوبصورت لگتی ہے اور آج یہ منظر میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے ۔ شاہ ویز مزید پاس ہوتے ہوے بولا
منال شاہ ویز کو اپنے اتنے قریب دیکھ کر بو کھہلا گئی اور سسک کر پیچھے ہونے لگی تو شاہ ویز نے اس کا ہاتھ تھام لیا اور جھٹکے سے قریب کیا ۔۔
نہیں اب اور نہیں ۔۔بڑا دور رہا ہوں منال اب تمہاری دوری بردا شت نہیں ہوتی مجھ سے
مجھے تمہیں محسوس کرنا ہے تمہارے ایک ایک نقش کو محسوس کرنا ہے ۔۔شاہ ویز منال پر جھکا بولا اور اس کے
ما تھے پر اپنے پیار کی مہر لگا دی اور منال کو کھینچ کر گلے سے لگا لیا
منال ایک دم شرم سے اپنا منہ شاہ ویز کے کشا دہ سینے میں چھپا گئی
دور کھڑکی میں کھڑا چاند دونو ں کو دیکھ کر مسکرایا اور بادلوں میں کہیں کھو گیا
💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗
ظفر مجھے تم سے بات کرنی ہے ضروری
ہاں بولو ..ظفر جو کام سے آنے کے بعد نہا کر گرم گرم چا ے پی رہا تھا
نور پاس بیٹھتے ہوے بولی ۔۔ظفرمیں اما ں سے ملنا چاہتی ہوں
مجھے ان کی بہت یاد آتی ہے میں نے بڑا دکھ دیا ہے انھیں
راتوں کو مجھے نیند نہیں آتی ۔۔پچھتا وے سے
ظفر پلیز مجھے اما ں کے پاس لے جا ۔۔روتے ہوے نور بولی
نور کا رونا ظفر سےبرداشت نا ہوا اور بولا ۔۔۔
رومت ۔۔۔تو جانتی ہے تیرا رونا برداشت نہیں ہوتا مجھ سے
تو تم پلیز ۔۔اما ں کے پاس لےجاؤ مجھے
لے جاؤں گا ابھی وہ یہاں نہیں ہیں ۔۔لاہور گئے ہیں سب تمہارے کزن کی شادی پر ۔۔۔
اور ہاں ایک اور بات ۔۔۔تمہارا بھائی رو ما ن اپنے ساتھ
دونو ں کو لے جا رہا ہے باہر ۔۔۔۔۔چا ے کا کپ رکھتے ہوے بولا
تمہیں کیسے پتا چلا ۔۔کس نے بتایا
گیا تھا وہاں ایک دوست کو ملنے اسی سے ساری معلومات لی ہے اور اسی نے بتایا ہے سب ۔۔
نور ابھی وہاں کے حالات ٹھیک نہیں ہیں تمہارا باپ بہت غصے میں ہے کچھ دن صبر کر جاؤ اس کے بعد میں خود تمہیں لے جاؤں گا ان سے ملوانے ۔۔ ظفر آرام سے بولا
نور کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور وہ ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر رونے لگی
تم نے تنخوا بھی
تمہیں کہا بھی ہے نور مت رو سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔ظفر پیار سے اسے ساتھ لگاتے ہوے بولا
اللہ کرے سب ٹھیک ہو جائیں نور بولی اور ظفر کے سینے میں منہ چھپا گئی
💗💗💗💗💗💗💗💗💗
حسب معمول منال کی آنکھ جلدی کھل گئی
نئی جگہ اور شاہ ویز کا ساتھ ہونا
منال با مشکل ہی رات کو سو پائی تھی
منال بیڈ پر لیٹی شاہ ویز کو دیکھنے لگی جو سوتے ہوے بہت معصوم لگ رہا تھا اس کے چہرے پر سکون اور اطمینان تھا
رات رخصتی سے پہلے مشعل نے منال کو سب بتا دیا تھا اور یہ بھی شاہ ویز تم سے بہت پیار کرتا ہے اور اس جیسا پیار کرنے والا کبھی نہیں ملے گا اس لیے شاہ ویز کو دل سے قبول کرنا
اور ماضی میں جو کچھ ہوا ان ساری باتوں کو بھول کر شاہ ویز کے ساتھ نئی زندگی شروع کرنا وہ بہت اچھا انسان ہے
مشعل کی باتوں نے منال کے دل سے سارے وہم نکال دیے تھے اور وہ پرسکون ہو گئی تھی
شاہ ویز کو سوتا دیکھ کر منال نے اس کے ماتھے پر آئے بالوں کو پیچھے کرنے لگی تبھی شاہ ویز نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور اپنے لبوں سے لگا لیا
شاہ ویز کی اس حرکت پر منال ایک دم گھبرا گئی اور اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے کھینچنے لگی
کیا ہوا ۔۔۔شاہ ویز نے پوچھا
منال نے شرما کر منہ جھکا لیا اور بولی میرا ہاتھ ۔۔۔
شاہ ویز منال کا یہ روپ دیکھ کر دل و جان سے اس پر فدا ہو گیا
منال تم شرما تے ہوے بہت پیاری لگ رہی ہو دل کر رہا ہے شاہ ویز منال کے بالوں کی خوشبو کو سو نگھتے ہوے بولا
منال کا دل دھڑکا اور زور سے شاہ ویز کو پرے دھکیل کر بیڈ سے اتر گئی اور واش روم میں چلی گئی
باتھ روم کے بند دروازے کے پیچھے منال کو شاہ ویز کا قہقہ سنائی دیا
💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗
ناشتے کی میز پر سب موجود تھے سواۓ منال اور شاہ ویز کے ۔۔۔
جاؤ سدرہ دیکھو اٹھے دونو ں یا نہیں ۔۔عائشہ بیٹی سے بولی
مشعل اور علی منال کا ناشتہ لے کر تھے
سدرہ شاہ ویز کے روم کی طرف بڑ ھ گئی
اور دروازہ ناک کیا
شاہ ویز باتھ روم میں تھا
منال نے جلدی سے بیڈ شیٹ سیٹ کی اور بلنکٹ تہ کر کے رکھا
تازہ پھول مرجھا چکے تھے لیکن ان میں خوشبو باقی تھی
منال نے دروازہ کھولا تو سامنے سدرہ کو مسکراتے ہوے پایا
اسلام و علیکم ۔۔منال نے سلام کیا اور دروازے سے ہٹ گئی
وعلیکم سلام ۔کیسی ہو
سدرہ مسکراتے ہوے بولی
ٹھیک ہوں ۔۔منال ریڈ کلر کی لانگ شرٹ کے ساتھ وائٹ ٹراوُذر اور مچینگ دوپٹہ لئے میک اپ کے نام پر صرف نیچرل لپ ا سٹک اور آنکھوں میں گھیرا کاجل ڈالے وہ بہت حسین لگ رہی تھی
بہت پیاری لگ رہی ہو سدرہ اس کے گال پر پیار دیتے ہوے بولی منال سدرہ کے پیار سے شرما گئی
اس کے چہرےپر ایک دم لالی پھیل گئی
اسی لمحے شاہ ویز باتھ روم سے باہر نکلا اور یہ منظر دیکھا
چلتا ہوا منال کے پاس آیا
اور سدرہ سے بولا ۔۔
اسے کس کرنے کا حق صرف میرا ہے نیکسٹ ایسا نہیں ہونا چاہیے
شاہ ویز شرارت سے بولا
جی نہیں میرا بھی پورا پورا حق ہے اس پر آفٹر آل میری پیاری بھابی ہے تم سے زیادہ میرا حق ہے اس پر ہنستے ہوے سدرہ بولی
سدرہ اس کی بات کو خاطر میں لاے بغیر بولی
کیوں منال ۔۔۔سدرہ بولی
شاہ ویز نے منال کو کمر سے پکڑا اور بولا
بتاؤ کس کی سائیڈ پر ہو میری یا سدرہ کی
منال دونو ں کے بیچ پھس گئی تھی
بولو منال میری طرف ہو نا ۔۔سدرہ بولی
منال کبھی شاہ ویز کی طرف دیکھتی اور کبھی سدرہ کی طرف
دونو ں شرو ع ہو چکے تھے
منال نے موقعے کا فائدہ اٹھایا اور جلدی سے شاہ ویز کے ہاتھ ہٹا کر دروازے کی طرف بھاگی
دونو ں ایک پل کو رکے ہوا کیا ایسے کیوں بھاگی
لیکن پھر
منال روکو
منال روکو ۔۔۔۔۔ایسے نہیں جا سکتی بتا کے جاؤ شاہ ویز اور سدرہ کی آوازیں پیچھے سے آنے لگی
منال کھل کر مسکرائی اور نیچے آ گئی
سدرہ اس کے پیچھے ہی آ گئی جب کے شاہ ویز دس منٹ بعد آیا
اوپر آوازیں کیسی تھی عائشہ بولی
تب سدرہ نے ہنستے ہوے ساری بات بتا دی کیسے منال
دونو ں کو چکمہ دے کر بھاگی میدان چھوڑ کر ۔۔۔۔
ہاں تو اور کیا کرتی ایک بولا میری طرف دوسرا بولا میری طرف ایسے میں مجھے بھاگنا پڑا ۔۔
منال کی بات پر سب ہنسنے لگے
منال سب سے ملنے کے بعد کرسی پر بیٹھ گئی اور فریش جوس پی رہی تھی جب شاہ ویز سب کو سلام کرتا ہوا منال کے ساتھ بیٹھ گیا
موڈ آف تھا منال دیکھ چکی تھی
کیا ہوا شاہ ویز بیٹا ۔۔عائشہ جان بھوج کر بولی
کچھ نہیں موم ۔۔ناشتے کے بعد مجھے کچھ کام سے جانا ہے شام کو ملا قات ہو گی
شاہ ویز ناشتہ جلدی سے ختم کر کے اٹھ گیا
اور روم کی طرف بڑھ گیا
منال نے خاموشی سے اسے جاتے دیکھا
جاؤ بیٹا شائد اس کا موڈ ٹھیک نہیں جا کے پوچھو ایسے باہر گیا تو پریشان رہو گی پیچھے عائشہ نے منال کا اداس چہرہ دیکھا اور بولی
جی پھوپھو ۔۔منال اٹھ کر روم کی طرف چلی گئی
دروازہ کلک کی آواز سے کھلا
منال اندر داخل ہو گئی سامنے صوفے پر شاہ ویز لیپ ٹاپ لئے بیٹھا تھا
منال کمرے کے درمیان آ کر کھڑی ہو گئی اور اپنی انگلیاں آپس میں مروڑ نے لگی
شاہ ویز نے ایک نظر اسے دیکھا
پھر ا سکرین پر جھک گیا
منال کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کیا کرے
منال اپنے لب کچلنے لگی تو شاہ ویز سے رہا نہیں گیا
کیوں ظلم کر رہی ہو ان پر ۔۔۔۔اگر کٹ گیا تو ان کی خوبصورتی کم ہو جائے گی اور وہ میں نہیں چاہتا
منال نے چونک کر شاہ ویز کو دیکھا
جو اسے ہی دیکھ رہا تھا
و۔و ۔۔و وہ
منال اٹک کر بولی
کیا وہ کچھ کہنا ہے ۔۔شاہ ویز بولا
جی ۔۔
تو بولو کیا کہنا ہے ۔شاہ ویز بولا
آپ مجھ سے ناراض ہیں کیا ۔منال بولی
شاہ ویز سمجھ گیا منال کو کیا فکر لا حق ہے
تبھی بولا ہاں
منال کا حیرت سے منہ کھل گیا ابھی کل شادی ہوئی اور آج ناراض ہو گیا
کیا ہوا منہ بند کرو مچھر چلا جائے گا ۔۔۔۔۔
منال نے ایک دم منہ بند کر لیا
جو کچھ اگے میرے ساتھ کیا اس پر ناراض بھی نا ہوں میں کیا ۔۔۔
وہ تو میں ۔۔۔۔۔
کیا وہ تو تم ۔۔۔۔۔۔شاہ ویز اس کی بات کاٹ کر بولا
تم نے اچھا نہیں کیا منال ۔۔میں سخت ناراض ہوں تم سے
منال کی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو کے قطرے آ گئے
منال سمجھی شاہ ویز سچ میں خفا ہو گیا ہے
کل اس کا بے تحاشا پیار دیکھ کر منال خود کو خوش قسمت تصور کرنے لگی تھی
اور آج وہ خفا ہو گیا
سوری ۔۔منال بولی
ایسے نہیں ۔۔۔ سوری سے کام نہیں چلے گا ۔۔شاہ ویز بولا
پھر کیسے ۔منال بولی
یہاں اؤ میرے پاس بیٹھو
منال نا سمجھی سے چلتی ہوئی اس کے پاس گئی اور بیٹھ گئی
شاہ ویز دیکھ چکا تھا
منال کی آنکھیں رونے کو بےتاب تھی
جی بولیں ۔۔۔
منال آنسوو ُں کا گلا دبا کر بولی
شاہ ویز نے منال کے آنسو اپنے لبو ں سے چنے
منال اپنی جگہ سن سی ہو گئی
سوری منال
تمیں رلا دیا میں نے ۔تم سے ناراض نہیں ہوں میں نا کبھی ہو سکتا ہوں ۔۔
بس تنگ کر رہا تھا
میں نہیں جانتا تھا تم رو دو گی ۔۔۔تمہارے آنسو بہت قیمتی ہیں انہیں ایسے نا بہاؤ ۔۔۔
پلیز رونا بند کرو ۔۔۔
منال حیرت سے شاہ ویز کو دیکھنے لگی جو اس کے ہاتھ پر پیار دے رہا تھا اب
کیا ہوا ۔۔پیار ہو جائے گا پھر سے ایسے مت دیکھو مجھے شاہ ویز شرارت سے بولا
منال نظریں جھکا گئی
شاہ ویز نے پیار سے اسے ساتھ لگا لیا اور ماتھے پر پیار دیا
مطمئن سی منال آنکھیں موند گئی
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
ولیمے کا فنکشن شاندار رہا
بلیک پینٹ کوٹ میں وائٹ شرٹ پہنے شاہ ویز ہر کسی کی نظروں میں تھا
منال فل پاؤں تک آتی وائٹ میکسی جس پر پرل کے ساتھ وائٹ ہی کٹ ورک کیا گیا تھا
جو منال کے گورے رنگ پر بہت جچ رہی تھی
ولیمے میں شاہ ویز کے سارے دوست آئے ہوئے تھے اور ان کی مسز بھی
سب نے دونو ں کی بہت تعریف کی تھی
رومان نے سب کے سامنے علینا کو رنگ پہنا کر شادی کا
ا علان کر دیا تھا
ایک ہفتے بعد روما ن کی واپسی تھی
رقیہ اور فیاض دونو ں اس کے ساتھ جا رہے تھے
💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗
چار دن بعد ۔۔۔۔
شاہ ویز منال کو ہنی مون کے لئے امریکہ لے کر جانا چاہ رہا تھا
لیکن منال کی خواہش تھی وہ لوگ ہنی مون کی بجاے عمرہ ادا کرنے جائیں
منال کی بہت بڑی خواہش تھی وہ اپنی زندگی کا آغاز ایسے کرے
شاہ ویز نے منال کی اس خواہش کا احترام کیا اور طے پایا عمرہ ادا کرنے
کے بعد دونوں وہیں سے امریکہ کے لئے نکل جائیں گے
امریکہ میں شاہ ویز کو ایک بز نس ڈیل کرنی تھی وہ
چاہ رہا تھا منال ساتھ جائے تو دونو ں کا ہنی مون بھی ہو جائے گا
💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗
رقیہ اور فیاض واپس کراچی آ گئے
جب کے رومان علینا کو سی آف کرنے کے لئے رک گیا
شام کے وقت رقیہ اور فیاض صحن میں بیٹھے چائے پی رہے تھے جب دروازہ کھٹکھٹایا گیا
کون
فیاض احمد بولے
جی یہ فیاض احمد صاحب کا گھر ہے ۔اجنبی آواز سنائی دی فیاض نے دروازہ کھول دیا تو سامنے نقاب کئے ایک لڑکی اور لڑکا کھڑ ے تھے
جی کون ہیں آپ اور کس لئے مجھ سے ملنا ہے آپ کو ۔۔۔فیاض احمد بولے
نور باپ کو دیکھ کر اگے بڑھی
اور بولی ابا میں نور ۔۔۔
نور نے نقاب ہٹا دیا
تو ۔۔تیری ہمت کیسے ہوئی یہاں واپس آنے کی تو ہمارے لئے مر گئی ہے واپس چلی جا یہاں سے ۔فیاض غصے سے بولے
ابا پلیز ۔میری بات سن لے
فیاض کو دروازہ بند کرتے دیکھ کر نور بولی
کوئی ابا نہیں ۔مار دیا تو نے اپنے ہاتھوں اپنے باپ کو جا چلی جا
رقیہ نور کی آواز سن کر دروازے کے پاس آ گئی
ابا پلیز ۔۔۔
نور باپ کے پاؤں پکڑ کر وہیں بیٹھ گئی اور رونے لگی
رقیہ اسے بول یہاں سے چلی جائے
یہاں اب تماشا نا لگاے دوبارہ ۔۔۔
ظفر نے نور کو ایسے روتے دیکھا تو برداشت نا ہوا تو بولا
پلیز انکل ہماری بات سن لیں ۔۔۔
فیاض نے نا گوار نظروں سے خوش شکل سے ظفر کو دیکھا اور غصے سے اندر واپس پلٹ گئے
نور ماں کے گلے لگ کر خوب رونے لگی
اما ں مجھے معاف کر دے
رقیہ نے دروازہ بند کیا اور دونو ں کو اندر لے آئ
کیوں لائی ہو اسے اندر ۔۔فیاض احمد اسے اندر دیکھ کر غصے سے بولے اور گن نکال لی
ابا پلیز ۔۔مجھے معاف کر دیں
اپنے ہاتھوں سزا دے لیں اپنے ہاتھوں مار دیں میں اف نہیں کروں گی.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *