429.8K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yaar-E-Gaar (Episode 8)

Yaar-E-Gaar By Esha Afzal

امل گھر آئی تو اپنی پھوپھو سے اس کا سامنا ہوا۔ جینز پہ لانگ کرتا پہنے گلے میں دوپٹہ ڈالے وہ یونیورسٹی سے واپس آئی تھی۔اگر اس کی ماں زندہ ہوتی تو یقینا اس کو دین کی طرف لگاتی مگر ماں کی ناگہانی موت کے بعد پھوپھو نے کبھی دین میں اس کی راہنمائی نہیں کی تھی اس کی ماں ایک دین دار، پڑھی لکھی، سلجھی ہوئی اور باوقار خاتون تھی مگر امل ابھی صرف بارہ سال کی تھی جب اس کی والدہ اس دنیا فانی سے رخصت ہو گئی۔ بہت عرصہ وہ اس ٹراما سے گزری تھی اپنی ماں سے وہ بہت زیادہ اٹیچ تھی ، اس کی ماں اکلوتی بیٹی تھی اسی لیے ننھیال کے نام پہ اس کے پاس کوئی خاص رشتے نہ تھے اور ددھیال میں ایک پھوپھو اور ایک چچا ہی تھے ۔ وہ پہلے نمازیں پڑھا کرتی تھی ، اس کی ماں خود اس کو قرآن پڑھایا کرتی تھی مگر ماں کی موت نے اسے دین سے متنفر کر دیا تھا اور کسی نے اس کو واپس دین کی طرف لانے کی کوشش بھی نہیں کی تھی اس کے والد ایک کاروباری آدمی تھے۔ وہ تو کاروبار میں مصروف ہو گئے تھے مگر کوئی اس کے دل کی کیفیت کبھی سمجھ نہیں پایا۔

وہ دین سے دور ہوتی گئی ، نمازیں چھوٹ گئیں، اللہ پاک سے امید لگانی چھوڑ دی اس نے ، اس وقت اس کو کسی نے سہی سے نہیں سنبھالا تھا جس کا خلا آج بھی اس کے اندر باقی تھا۔

اس کی پھوپھو نے باقی سب کی نسبت اس پہ توجہ دی تھی اور اس کے لیے یہی بہت تھا کہ کوئی تو ہے جس کو اس کا خیال بھی ہے ۔ چچا سے کسی بنا پر اس کے بابا کی لڑائی تھی لہٰذا اسے رشتوں کے نام پہ بس پھوپھو ہی ملی تھی۔

ایسا نہیں تھا کہ اس کی پھوپھو اس سے محبت نہیں کرتی تھی مگر جو بات اس کو پریشان کر رہی تھی اسے پھوپھو سے شئیر کر کے وہ ان کو ہرٹ نہیں کرنا چاہتی تھی۔ اسی لیے اس نے یہ مسئلہ مہرماہ سے ڈسکس کرنے کا سوچا ۔ اسے یقین تھا کہ مہرماہ اسے بہتر سمجھے گی اور صحیح مشورہ بھی دے گی۔

“آ گئی میری جان “

انہوں نے اسے اندر داخل ہوتے دیکھ کہا۔

“جی پھوپھو “

اس نے مسکراتے ہوئے اپنی بانہیں پھوپھو کے گرد پھیلائی۔

پھوپھو بیوہ ہو چکی تھیں اسی لیے وہ اپنے بیٹے کے ساتھ شہریار صاحب کے گھر ہی شفٹ ہو گئیں تھی۔

“کتنی کمزور ہوتی جا رہی ہو امل، کیوں خیال نہیں رکھتی اپنا۔”

“ایسی بات نہیں ہے پھوپھو ، آج کل کی لڑکیاں سمارٹ ہی اچھی لگتی ہیں ۔”

وہ جو میک اپ سے خود کو فریش ظاہر کرواتی تھی پھوپھو کے پہچان لینے پر گھبراہٹ کے مارے فورا بولی۔

“سمارٹ اور کمزور ہونے میں فرق ہوتا ہے میری جان ، کوئی بھی پہلی نظر میں دیکھ کے ہی بتا سکتا ہے کہ تم سمارٹ نہیں بلکہ کمزور ہو۔”

یہی تو مسئلہ تھا کہ کوئی کیوں اس پہ توجہ کرے گا ۔ وہ بلاشبہ خوبصورت تھی بڑی بڑی آنکھیں ، کھڑی ناک ، لئیرڈ بال جو بہت سٹائلش انداز میں اس کے کندھوں تک آتے تھے، گندمی رنگت جو چمکتی تھی مگر اب ماند پڑ چکی تھی۔ شاید اس کی قسمت میں رشتوں کی کمی تھی اور وہ ہر وقت اسی بارے میں سوچتی رہتی تھی ۔ اس کی صحت دن بہ دن گرتی جا رہی تھی اس کے بابا اس سے بہت محبت کرتے تھے مگر انہوں نے اس کی ماں کی وفات کے بعد خود کو کاروبار میں اتنا مصروف کر لیا تھا کہ اس نے ماں کے رشتے کو تو کھو ہی دیا تھا ساتھ ساتھ باپ کے رشتے میں بھی وہ بات نہیں رہ گئی تھی۔

“پھوپھو آپ ویسے ہی ٹینشن لے رہی ہیں ایسی ویسی کوئی بات نہیں ہے۔ میں بالکل فٹ ہوں ۔ کہتی ہیں تو دو چار قلابازیاں لگا کر دکھاوں؟”

ہلکے پھلکے انداز میں کہا گیا۔

“ہاں ہاں اب لڑکی ہو کر یہ حرکتیں کرو گی؟”

“لو پھوپھو میں کونسا لوگوں کے سامنے کہہ رہی ہوں میں تو آپ کے سامنے قلابازیاں لگانے کی بات کر رہی ہوں۔”

“اچھا میں مان لیتی ہوں مگر تم بھی میری بات مانو ۔”

“کہیں کیا حکم ہے؟”

اور اس سے اس طرح کہنے پر پھوپھو تو اس کے صدقے واری جا رہی تھی۔

“میں دودھ کا گلاس بجھوا رہی ہوں اور تم پیو گی ۔”

“ٹھیک ہے پر تھوڑا سا ،پورا گلاس نہیں۔”

اور اب پھوپھو حیران نگاہوں سے اس کو دیکھ رہی تھی اسے بالکل بھی دودھ پسند نہیں تھا مگر صرف اپنی پھوپھو کا دل رکھنے کے لیے وہ یہ بھی پینے کے لیے تیار تھی۔

“پھوپھو قربان ہو جائےتم پہ میری جان، اللہ تمہیں ہر بری نظر سے بچائے۔”

اب وہ ان کو کیا بتاتی کہ بری نظر ہی اس کو کھا رہی ہے۔

“اچھا پھوپھو میں اب چینج کر لوں۔”

“ٹھیک ہے بچے جاو۔ خوش رہو ہمیشہ۔”

اور وہ بری نظر کے بارے میں سوچتے ہوئے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عریش آج اورہان سے ملنے اور اپنے پراجیکٹ کے بارے میں ڈسکشن کرنے کے لیے کنسٹرکشن سائٹ پہ چلا آیا تھا۔ وہ اطلاع دیے بغیر آیا تھا یہ اس کی عادت تھی کیونکہ اس کا ماننا تھا کہ اطلاع دے کر جاو گے تو آپ کو تقریبا ہر شے پرفیکٹ دکھائی جائے گی جو حقیقتا نہیں ہوتی ۔ اس لیے وہ زیادہ تر اچانک ہی آتا تھا۔اب بھی وہ سیکیورٹی کے ساتھ داخل ہوا تو اورہان جو ایاز سے کام کے متعلق بات کر رہا تھا اس کو یہاں موجود پا کر حیران ہوا تھا۔

“مسٹر عریش!آپ اچانک۔”

“ہاں بھئی میں تو ایسا ہی ہوں عادت ڈال لو۔”

اس نے کندھے اچکاتے ہوئے جواب دیا۔

“ویلکم آئیں، میں آپ کو فیکٹری کا اندرونی حصہ دکھاتا ہوں۔”

وہ عریش کو لیے فیکٹری کے اندر بڑھ گیا۔ مگر جاتے جاتے ایاز کو اشارہ کرنا نہیں بھولا تھا جو اس کے اشارے کا مطلب سمجھتے فورا باہر کی جانب لپکا کیونکہ اورہان کو اپنے کام میں دیری ہرگز منظور نہیں تھی۔

“ویل ڈن مسٹر اورہان ، بالکل میری سوچ کے عین مطابق بن رہا ہے ۔ اس بلڈنگ کا نقشہ سچ میں کمال تھا میں حیران ہوں اتنے ٹیلنٹڈ لوگ بھی پاکستان میں موجود ہیں۔”

“یہ آپ کا وہم ہے مسٹر عریش کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی ہے یہاں بےشمار صلاحیتوں سے بھر پور لوگ موجود ہیں مگر یا تو ان کو مواقع میسر نہیں آتے یا وہ مواقع سے فائدہ نہیں اٹھا پاتے ۔ یہاں بہت سے لوگ مجبور ہوتے ہیں ، ذمہ داریوں کے بوجھ کی وجہ سے وہ اپنے خوابوں کی تکمیل نہیں کر پاتے ۔”

“میں متفق ہوں آپ کی بات سے مگر کیا آپ کا نہیں خیال کہ اگر انسان کرنے کی ٹھانے تو کر ہی جاتا ہے بس پانے کا جنون ہونا چاہیے۔”

وہ پورے وثوق سے کہہ رہا تھا۔

“آپ اور مجھ جیسے لوگ یہ کہہ بھی دیں کیونکہ آسائشوں میں آنکھیں کھولنے والے کو یہی لگتا ہے کہ ہر چیز پہ اس کا حق ہے وہ جس پہ بھی نگاہ ڈالے وہ اسی کو ملنی چاہیے مگر بعض اوقات آپ جتنی بھی کوشش کر لیں وہ چیز آپ کی نہیں ہو پاتی کیونکہ وہ آپ کی ہوتی ہی نہیں ہے۔”

وہ اطمینان سے جواب دے رہا تھا۔

“مگر میرا ماننا ہے کہ جو چیز آپ کو اچھی لگتی ہے اس کو حاصل کرنے کی پوری کوشش کرنی چاہیے پھر چاہے کچھ بھی کرنا پڑے۔”

آخری الفاظ کہتے ہوئے اس کی آنکھوں میں کچھ چمکا تھا جو اورہان کی آنکھوں سے پوشیدہ نہیں رہ سکا۔

“ہر ایک کی اپنی منطق ہوتی ہے خیر میں اس بارے میں کچھ نہیں کہنا چاہتا۔”

وہ اب عریش کو فیکٹری کے متعلق تفصیلات سے آگاہ کر رہا تھا۔

“ویسے میں نے جب آپ سے مشورہ کیا کہ کونسا رنگ بہتر رہے گا تو آپ نے سفید رنگ کا انتخاب ہی کیوں کیا۔ کوئی خاص وجہ؟”

آہ! یہ کیا پوچھ بیٹھا تھا وہ۔ اس کی یاداشت کے پار سفید رنگ کا دوپٹہ سر پہ اوڑھے ایک چہرہ لہرایا۔معصوم اور پاکیزہ۔۔۔۔

“کیونکہ سفید ایک نہایت پاکیزہ اور معصومیت سے بھرپور رنگ ہے ،یہ اپنے آپ میں ایک سکینت اختیار کیے ہوئے ہے،اسے بزرگی کی علامت سمجھا جاتا ہے ، یہ رنگ آپ کو امید دلاتا ہے ،یہ رنگ خوبصورتی کی علامت ہے مگر اس رنگ کا ایک بہت بڑا نقصان بھی ہے۔”

وہ خاموش ہو چکا تھا۔

“وہ کیا؟”

وہ اس کا جواب جاننا چاہتا تھا۔

“اس پہ ہلکا سا داغ بھی لگ جائے تو یہ اپنی اہمیت کھو بیٹھتا ہے۔”

نہ جانے وہ کیا سمجھانا چاہتا تھا ۔

“آپ تو بہت گہری باتیں کرتے ہیں۔”

وہ اس کے گہرے مشاہدے سے کافی متاثر ہوا تھا۔

“میرا نہیں خیال۔”

“خیر آپ کے ساتھ کام کر کے مجھے بہت اچھا لگا رہا ہے۔”

“کرم نوازی ہے آپ کی۔”

وہ فیکٹری کا جائزہ لے کر واپس چلا گیا پیچھے اورہان ہاں یا ناں کی کشمکش میں مبتلا ہو چکا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فاریہ کو جب رشتے کی بابت علم ہوا تو اس کو لگا کہ وہ کبھی اپنی محبت نہیں پا سکے گی وہ جانتی تھی کہ پھوپھو کو انکار بہت مشکل کام ہے اور وہ کیا کہہ کر انکار کرے گی ۔ انس نے تو کبھی اسے کوئی امید نہیں دلائی ، ہاں وہ اس کی جھکی نظروں کو رضامندی سمجھتی رہی تھی مگر اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں تھا کہ اس کے باقاعدہ اظہار کے بغیر ہی وہ امید باندھ لے۔

جب دل زیادہ گھبرانے لگا تو فورا وضو کیا اور جائے نماز بچھا کر نوافل ادا کیے ۔ نماز تو وہ پڑھتی ہی تھی لیکن اگر دل گھبراہٹ کا شکار ہوتا یا کوئی حاجت ہوتی تو وہ نوافل ضرور پڑھا کرتی تھی۔ نوافل پڑھ کر فارغ ہوئی تو وہیں جائے نماز پہ بیٹھی انگلی سے لکیریں کھینچنی شروع کر دی۔ ساتھ میں وہ اپنے اللہ سے بھی مخاطب تھی۔

“میرے پیارے اللہ جی! آپ تو جانتے ہیں نا میں نے جان بوجھ کر کچھ نہیں کیا یہ تو بے اختیاری میں ہی ہو گیا ہے۔ میں نے تو کبھی ان کے بارے میں ایسا نہیں سوچا تھا مگر نہ جانے یہ سب کیسے ہو گیا۔ یا اللہ! میرے لیے آسانیاں پیدا فرما ۔ مجھے اس تکلیف سے نجات دے جو ان کو کھونے کا سوچ کر میرے اندر جنم لے رہی ہے۔جب تک رشتے کی بات نہیں تھی میں پرسکون تھی مجھے محسوس ہوتا تھا کہ ایک نہ ایک دن وہ ضرور میرا رشتہ مانگیں گے۔ مجھے خود علم نہیں کہ یہ امید میرے اندر کہاں سے جاگی حالانکہ انہوں نے کبھی مجھ سے اظہار نہیں کیا۔مگر میں نے نہ جانے کیوں لیکن اپنی زندگی کو ان ہی کے ساتھ سوچنا شروع کر دیا۔ مجھے معلوم ہے کہ یہ میری غلطی ہے میں ایک نامحرم کے خواب بن رہی ہوں لیکن میں کیا کروں میں بےبس ہوں۔”

اس کی خوبصورت آنکھوں سے اشک اپنا راستہ بنا کر نکلتےہی جا رہے تھے۔ رونا آپ کو سکون بھی دلاتا ہے اور آپ کو بے عزت بھی کرواتا ہے۔ اگر آنسو اللہ پاک کے سامنے بہائے جائیں تو آپ اپنے اندر سکون اترتا محسوس کرتے ہیں اور اللہ کے سامنے رونے میں کوئی شرم نہیں ،بلکہ یہ آپ کو بہادر بناتا ہے۔ لیکن اگر یہی آنسو لوگوں کے سامنے بہائے جائیں تو آپ اپنی ہی عزت خراب کرتے ہیں ،آپ لوگوں کو خود کا مذاق بنانے کا موقع دیتے ہیں اور یہ آپ کو کمزور بناتا ہے۔اس لیے اگر رونے کا دل چاہے تو صرف اللہ ہی کی ذات کے آگے اپنے اشک بہائیں اسی سے اپنی حاجت بیان کریں کیونکہ وہ ہی ان کی قیمت جانتا ہے۔ اور آپ کی ہر مشکل کو آسانی میں بدلنے والی ذات بھی صرف اسی کی ہے۔

اس وقت اس کا رونا اس کو سکون دلا رہا تھا کیونکہ وہ اپنے اللہ سے مخاطب تھی۔ اسی طرح وہ جائے نماز پر لیٹ چکی تھی اور سکون مل جانے پر اس کی آنکھ لگ گئی۔

صوفیا بیگم اس کو دوپہر کے کھانے پہ بلانے آئیں تو اس کو جائے نماز پر سوتے پایا۔ وہ مسکرا کر آگے آئیں اور اس کے پاس زمین پر ہی بیٹھ گئیں وہ سوتے ہوئے سر پہ حجاب اوڑھے جو اب ڈھیلا ہو چکا تھا اتنی معصوم لگ رہی تھی کہ ان کا تو اپنی دختر کو جگانے کا ارادہ ہی بدل گیا۔ انکوں نے بیڈ سے ایک تکیہ اٹھا کر اس کے سر کے نیچے رکھا کیونکہ وہ بازو اپنے سر کے نیچے لیے سو رہی تھی اور وہ جانتی تھی اگر ابھی بازو اس کے سر کے نیچے سے نہیں نکالا تو تھوڑی دیر بعد اس نے بھاگتی ہوئی ان کے پاس آ کر کہنا ہے ماما میرا بازو، ماما اس پہ چیونٹیاں چل رہی ہیں، کچھ کریں ناں، مجھے الجھن ہو رہی ہے،ماما یہ اور ماما وہ۔۔۔۔

فاریہ اور اس کی بچکانہ حرکتیں۔

اور کیا اب وہ اتنی بڑی ہو گئی ہے کہ اس کو خود سے دور کر دیا جائے؟ کیا وہ اس قابل ہو گئی ہے کہ اپنا گھر سنبھال سکے؟

“نہیں میری گڑیا ابھی چھوٹی ہے یہ تو خود کو ہی نہیں سنبھال پاتی ،ذمہ داریاں کیسے نبھائے گی؟”

خود ہی اپنی بات کی نفی کی۔اور اس کے کمرے سے چلی گئیں۔

وہیں ڈیوٹی پر موجود انس اتنے مسائل کو لے کر فکر مند تھا۔ فاریہ کی شادی کی بات نے اسے توڑ کر رکھ دیا تھا کیا وہ اس قابل ہو پائے گا کہ اس نازک لڑکی کو اپنا ہمسفر بنا سکے؟ اگر اورہان کے بابا نے اپنی بہن کو ہاں کہہ دیا تو وہ کیا کر لے گا ؟کیا اس کے پاس کوئی راستہ، کوئی آپشن ہے؟۔۔۔ نہیں ،یقینا نہیں

کیا اسے اورہان سے اس بارے میں بات کرنی چاہیے وہ اس کا دوست ہے اس کا یار غار وہ تو اس کو سمجھے گا ۔

مگر وہ ایک بھائی بھی تو ہے۔ کیا وہ اپنے دوست کے منہ سے اپنی بہن کے متعلق کوئی بات برداشت کرے گا؟ وہ اورہان کو نہیں کھونا چاہتا تھا پھر چاہے اس کے لیے اسے اپنی محبت دل میں ہی دفنانی کیوں نہ پڑے۔

اور وہ اب بے چینی کا شکار ہو چکا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک نمبر سے کال ریسیو کرنے کے بعد کان سے فون لگایا گیا ۔ کال پر موجود دوسرے انسان سے ایک پیغام موصول ہوا اور فون بند کر دیا گیا۔

وہیں ایک کال کی گئی جس پہ حکم صادر کیا گیا اور مثبت جواب ملنے پر اس نے سکون سے آنکھیں موند لیں۔ ہاں یہ کام آسان نہ تھا مگر وہ کیا کہتے ہیں ناں محبت اور جنگ میں سب جائز ہوتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مہرماہ یونیورسٹی گئی تو امل آج اس کو دیکھ کر موقع کی تلاش میں تھی وہ اس سے بات کرنا چاہتی تھی۔ کلاس لینے کے بعد جب وہ باہر کی جانب گئی تو وہ فورا اس کے پیچھے لپکی۔

“میم مجھے آپ سے بات کرنی ہے۔”

“جی کہیں۔”

وہ کشمکش کا شکار ہو چکی تھی کہ کیسے شروع کرے اور یہ بات راستے میں کرنے والی تو نہیں تھی۔ مہرماہ کو محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ پڑھائی کے علاوہ کوئی اور بات کرنا چاہتی ہے تو اس کی مشکل آسان کر دی۔

“امل شہریار یہی نام ہے نا آپ کا؟”

نام یاد رکھنے کے معاملے میں مہرماہ کی یاداشت کافی اچھی تھی۔

“یس میم۔”

“آئیں میرے ساتھ امل۔”

وہ اس کو لیے اپنے آفس کی جانب بڑھ گئی۔اور وہ اس کے پیچھے چل دی۔ آفس پہنچنے پر اس نے امل کو صوفہ پر بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود بھی اس کے ساتھ ہی بیٹھ گئی۔

“بتائیں امل کیا بات آپ کو پریشان کر رہی ہے؟”

امل کے چہرے پہ رقم پریشانی بھانپتے ہوئے اس نے استفسار کیا۔

“میم میں آپ سے پرسنل اشو ڈسکس کرنا چاہتی ہوں ۔آپ سب کو بہتر گائیڈ کرتی ہیں اسی لیے آپ سے شئیر کرنا چاہتی ہوں۔”

“جی امل میں کوشش کروں گی کہ آپ کی مدد کر سکوں۔”

حوصلہ افزائی کے لیے اس کے ہاتھوں پہ ہاتھ بھی رکھا۔

“میم میری ماما جب میں بہت چھوٹی تھی تو ان کا انتقال ہو گیا تھا ،میرے بابا نے دوسری شادی نہیں کی مجھے ہمیشہ رشتوں کی کمی رہی ہے ۔بابا کے علاوہ صرف ایک پھوپھو نے ہی مجھے پیار دیا ہے ان کے شوہر کی ڈیتھ کے بعد وہ ہمارے گھر شفٹ ہو گئی۔ ان کا ایک ہی بیٹا ہے ،بابا نے ہمیشہ ان پہ ہاتھ رکھا تھا ۔میں بھی ان سے اٹیچ تھی مگر ایک دن کچھ ایسا ہوا جو ایک لڑکی ہونے کے ناطے مجھے بہت برا لگا۔”

ساتھ ہی کچھ ماہ پرانے ایک منظر نے اس کو وقت میں پیچھے کی جانب دھکیلا ۔

“بھائی آپ آج مجھے آئسکریم لا دیں گے؟”

استفسار اور منت کی بجائے ایک لاڈ تھا۔وہی مان جو ایک بہن کو اپنے بھائی پہ ہوتا ہے کہ اسے انکار سننے کو نہیں ملے گا۔

“کتنی بار کہا ہے بھائی تو مت بولا کرو امل۔”

وہ چڑگیا تھا اتنی بار کہنے کے بعد بھی وہ اس کو بھائی ہی بولتی تھی۔

“پھر کیا کہہ کر پکارا کروں؟”

معصومیت سے سوال کیا گیا۔ اور اس نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فورا اپنی طرف سے بازی کھیلی۔

“تم مجھے میرے نام سے پکارا کرو ڈئیر۔”

ساتھ ہی اس کا ہاتھ بھی پکڑ لیا۔ امل کو اچھا محسوس نہیں ہو رہا تھا وہ اس کو اپنا بھائی مانتی تھی پھر بھی ایک لڑکی ہونے کی حیثیت سے وہ اپنے اوپر اٹھنے والی نگاہ کو بخوبی پہچان رہی تھی۔ مگر اپنا وہم سمجھ کر اس نے نظر انداز کیا۔

“مگر کیوں ،آپ مجھ سے بڑے ہیں اور بڑوں کو تو عزت سے بلاتے ہیں۔”

ساتھ ہی اس کا ہاتھ پرے کیا۔

“تم مجھے میرا نام لے کر بلاو گی تو مجھے زیادہ اچھا لگے گا۔”

وہ لاکھ ماڈرن سہی مگر ان حالات کا سامنا پہلی بار کر رہی تھی۔ پہلے بھی اس کی نظریں امل کو ڈسٹرب کرتی تھی مگر اب یہ الفاظ ، پھوپھو اور بابا کی غیر موجودگی میں اس کا ہاتھ تھامنا یہ سب خطرے کی گھنٹی بجا رہی تھی۔

“لیکن ۔۔”

وہ ابھی بول ہی رہی تھی کہ اس نے اس کی بات ٹوکی۔

“لیکن ویکن کچھ نہیں امل آئیندہ مجھے بھائی بلایا تو اچھا نہیں ہو گا ، مجھے غصہ مت دلاو، میں تمہارا بھائی نہیں ہوں۔ سمجھ آئی؟”

غصے سے اس کی طرف بڑھا تو وہ فورا بولی۔

“جی ،جی آ گئی سمجھ ۔”

“گڈ گرل ، مجھے یقین تھا کہ تم جلد ہی سمجھ جاو گی۔”

وہ استہزائیہ مسکراتے ہوئے باہر کی جانب بڑھ گیا۔ پیچھے وہ آج اس کا یہ روپ دیکھ کر ڈر گئی تھی۔ آج اسے پھر شدت سے اپنی ماں یاد آئی تھی وہ ہوتی تو وہ ان سے اپنا مسئلہ بیان کرتی۔

منظر فضا میں تحلیل ہو چکا تھا۔

“اس نے بالکل درست کہا تھا امل۔”

مہرماہ کے اس جواب پر امل نے حیرت سے اس کی جانب دیکھا ۔ اسے مہرماہ سے یہ امید نہیں تھی کہ وہ اس کا ساتھ دینے کی بجائے اس لڑکے کی بات کو سچا کہے گی۔

“لیکن میم ، وہ میرے بھائی ہی ہیں۔ میں شروع سے ہی ان کو بھائی کہتی تھی۔”

“تو کیا بھائی کہہ دینے سے کوئی بھی بھائی بن جاتا ہے؟”

“نہیں میم مگر۔۔۔”

“امل دیکھو وہ آپ کا کزن ہے ، سب نے آپ کو یہی کہا ہو گا کہ وہ آپ کا بھائی ہے مگر حقیقت یہی ہے کہ وہ نہ آپ کا بھائی تھا اور نہ ہی کبھی بن سکے گا ۔ جو رشتے اللہ نے جیسے بنائے ہیں وہ ویسے ہی رہتے ہیں آپ کے یا میرے کہہ دینے سے ان میں بدلاو نہیں آتا۔ وہ آپ کے لیے نامحرم ہے ۔ نامحرم سمجھتی ہو؟”

اس کے چہرے پہ سوال دیکھ کر پوچھا۔

“نہیں میم۔”

“محرم کا لغوی معنی حرام کیا گیا ہے یعنی وہ رشتہ جن سے نکاح جائز نہیں جن میں باپ، بھائی ، چچا، ماموں، شوہر، سسر، بیٹا، پوتا، نواسہ، شوہر کابیٹا،داماد،بھتیجا،بھانجا، مسلمان عورتیں،کافر باندی،ایسے افراد جن کو عورتوں کے بارے میں کوئی علم نہیں۔ ( مثلاً: چھوٹے بچے جن کو ابھی یہ سمجھ نہیں کہ عورت کیا ہے ، جسے مرد اور عورت میں فرق ہی نہ معلوم ہو) آتے ہیں، باقی سب نامحرم ہوتے ہیں اور نامحرم سے نکاح جائز ہوتا ہے اور اس سے پردہ کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ لہذا ان سے آپ کا ایسا رشتہ نہیں ہوتا کہ آپ ان کے ساتھ محفوظ ہوں ۔اب بتاو وہ آپ کے لیے کیسے ایک مفید اور محفوظ رشتہ ہے؟”

“میم لیکن میں تو ان کو اپنا بھائی ہی سمجھتی تھی میں اکیلی تھی مجھے بھائی کی بہت کمی محسوس ہوتی تھی اسی لیے میں نے سوچا کہ وہ بھی میرے ہی بھائی ہیں۔”

“آپ ایسا سوچتی ہیں اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ دوسرا بھی یہی سوچے گا ،آپ ان کو بھائی سمجھتی رہی لیکن اس کے لیے آپ ایک کزن ہی رہی۔”

“میم اب میں کیا کروں ؟اس دن کے بعد انہوں نے میرے ساتھ بدتمیزی بھی کی تھی۔”

“اور آپ نے جواباً کیا کیا؟”

وہ اس کو پرکھنا چاہ رہی تھی۔

“میں نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی مگر وہ نہیں سمجھ رہے۔”

“تو اس کا مطلب ہے کہ وہ شرافت کی زبان نہیں سمجھے گا تو اس کو اسی کے طریقے میں سمجھائیں گے۔امل یہ ہراسمنٹ ہے جو شاید ہر گھر کی ہی لڑکی ہی برداشت کر رہی ہے کوئی اپنے رشتے داروں کی طرف سے تو کوئی باہر والے لوگوں کی طرف سے اور اس کو بڑھاوا آپ کا ڈر دیتا ہے۔ آپ جتنا ڈریں گے مقابل اتنا ہی آپ کا استعمال کرے گا ۔ اگر آپ پہلی ہی بار ان کو بہادر بن کر دکھا دیں تو ان کی مجال نہیں ہو گی کہ وہ دوبارہ آپ کو ہراس کریں۔ کسی اپنے کو اعتماد میں لیں اسے سارے حالات سے آگاہ کریں تاکہ آپ استعمال نہ ہو سکیں۔ کیا آپ اپنے بابا سے بھی یہ بات شئیر نہیں کر سکتی؟”

“میرے بابا مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں اور مجھے معلوم ہیں کہ وہ میرے لیے سٹینڈ لیں گے مگر میرے اور ان کے درمیان ایک ایسا فاصلہ ہے جسے میں چاہ کر بھی عبور نہیں کر پاتی اور میں نہیں چاہتی کہ وہ میری وجہ سے پریشان ہوں۔”

“لیکن امل اپنے اسی لیے تو ہوتے ہیں تاکہ آپ کو سرد و گرم سے محفوظ رکھ سکیں اور وہ تو آپ کے بابا ہیں ان کو تو اس بات کا حق بھی ہے کہ وہ آپ کی پریشانیاں دور کریں وہ حق رکھتے ہیں کہ آپ کی زندگی کے بارے میں ان کو علم ہو۔”

“لیکن اگر آپ کو لگے کہ آپ کسی کو بھی اپنے لیے آواز اٹھانے کا نہیں کہہ سکتے تو کیا کیا جائے؟”

امل نے بات بدلی تو مہرماہ بھی خاموش ہو گئی وہ اس پر زور زبردستی نہیں کر سکتی تھی۔

“سمپل، اپنے لیے اکیلے لڑیں لیکن ہمت نہیں ہارنی۔ جس نے آپ کو استعمال کرنے کی کوشش کی اسے یہ دکھا دیں کہ آپ اس کو کامیاب نہیں ہونے دیں گی۔”

“لیکن اگر اکیلے لڑنے کی ہمت نہ ہو تو کیا کیا جائے؟”

“تو ہمت پیدا کرنے کے لیے اللہ پاک سے دعا کی جائے اور پھر یہ سوچ کر کھڑے ہوں کہ اگر آپ ہارے تو ہر وہ لڑکی ہار جائے گی جو ہراسمنٹ برداشت کرتی ہے مگر اس انسان یا اپنوں کی وجہ سے سٹینڈ نہیں لے پاتی۔ آپ نے ان کے لیے بھی امید بننا ہے ۔ “

“میں کوشش کروں گی میم۔”

“میں دعا کروں گی کہ آپ اس معاملے کو اکیلے ہینڈل کر سکے۔ جب بھی میری ضرورت محسوس ہوئی بلا جھجھک میرے پاس آ جانا۔”

“شکریہ میم ،میں نے آپ کا کافی ٹائم برباد کر دیا۔”

وہ شرمندہ تھی اس کی بڑی بڑی آنکھیں نمی کے باعث چمک رہی تھی۔

“مجھے بے حد خوشی ہوئی کہ آپ نے مجھے اس قابل سمجھا کہ مجھ سے اپنا مسئلہ شئیر کیا ۔ خوش رہیں اور اپنی آنکھوں کی نمی کو لوگوں پر عیاں مت ہونے دیں۔”

اس کی کلاس کا ٹائم تھا وہ جا چکی تھی مگر امل تو ادھر ہی منجمند ہو گئی تھی۔ کیا وہ اس کی آنکھوں کو بھی پڑھ چکی تھی۔ اس کے دل میں مہرماہ کے لیے مزید عزت کا اضافہ ہوا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔