Yaar-E-Gaar By Esha Afzal Readelle 50382 Yaar-E-Gaar (Episode 22)
No Download Link
Rate this Novel
Yaar-E-Gaar (Episode 22)
Yaar-E-Gaar By Esha Afzal
سیاہ دھواں چار سو پھیلا ہوا تھا جس نے آس پاس کے سارے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا۔ آگ کی لپٹیں اب قدرے کم ہو چکی تھی مگر دھواں اس حد تک بڑھ چکا تھا کہ آگ کے ساتھ ساتھ دھواں بھی جان لیوا ثابت ہو رہا تھا۔ فیکٹری کے باہر موجود لوگ بھی کھانس رہے تھے تو اندر کیا حالت ہو رہی ہو گی یہ سوچ ہی اورہان کی فیملی کے لیے جان لیوا تھی۔ وہ دعا کر رہے تھے کہ کاش اورہان اندر موجود نہ ہو۔
انسان بھی کتنا خودغرض ہے ناں جب بات اپنے چاہنے والے پہ آ جائے تو وہ کسی دوسرے کی پرواہ بھی نہیں کرتا۔ کسی کی زندگی کی وہ چاہ بھی نہیں رہتی ۔بس اپنا محفوظ ہو، یہ اہم ہوتا ہے۔ جیسے اس وقت وہ بس یہ چاہتے تھے کہ اورہان اندر نہ ہو، باقی کوئی بھی ہوتا تو انہیں فرق ضرور پڑتا مگر وہ تکلیف، وہ شدت کبھی محسوس نہ ہوتی۔
صوفیا بیگم کی حالت ٹھیک نہیں تھی۔ایک کے بعد ایک غم نے انہیں بے حال کر چھوڑا تھا۔ وہ جو ہر وقت ہنستی مسکراتی رہتی تھی اس وقت رو رو کر نڈھال ہو چکی تھی۔ زاوی جو گھر ریسٹ کرنے کے لیے رکا تھا ، خبر ملنے پر فورا گرے بنگلے چلا آیا تھا ۔صوفیا بیگم کی طبیعت کا سن کر وہ ڈاکٹر کو بھی اپنے ساتھ ہی لے آیا تھا۔ ڈاکٹر نے ان کو اینٹی ڈپریسنٹ دے دیا تھا۔ مگر جب جوان بیٹے کی زندگی کی بات ہو تو کوئی بھی ماں پرسکون نہیں ہو سکتی وہ بھی تو ایک ماں ہی تھی جو اس وقت اپنے بیٹے کے لاپتہ ہونے پر پریشان تھی۔ جن کو یہ تک علم نہیں تھا کہ ان کا بیٹا زندہ ہے بھی یا نہیں ۔اور وہ اس کی زندگی کے لیے دعاگو تھی۔
مہرماہ اس وقت اورہان کے کمرے میں موجود تھی۔ وہ کمرہ جہاں اسے پورے حق اور شان سے آنا تھا ۔وہی بھورا اور سفید کمرہ جس کی ہر اک شے سے اس کی مہک آتی تھی۔ مگر شاید تقدیر کو ابھی یہ منظور ہی نہیں تھا کیا معلوم منظور ہونا بھی تھا یا نہیں ۔ اس کے کمرے میں پھیلی پرفیوم کی بھینی بھینی خوشبو اسے یہ احساس دلا رہی تھی جیسے ابھی وہ یہاں سے ہو کر گزرا ہو۔ اس کے کمرے میں اس کی یا کسی کی بھی کوئی تصویر موجود نہیں تھی شاید اسی لیے کیونکہ وہ نماز کا پابند تھا۔
اس نے فاریہ کی بتائی ہوئی جگہ سے جائے نماز نکالا اور زمین پر بچھا لیا۔ وہ باوضو تھی تو اس نے قبلہ رو ہو کر حاجت کے نفل پڑھنے شروع کر دیے۔ اسے ام ہانی نے بتایا تھا کہ اللہ پاک کے پاس سچے دل سے حاجت لے کر جاو تو وہ کبھی رد نہیں کرتا، وہ دھتکارتا نہیں ہے۔ وہ بہت پیار سے اپنے بندے کے دل میں سکون اتارتا ہے جس سے وہ اپنا ہر غم بھول جاتا ہے۔ وہ بھی اپنے رب کے سامنے اپنے محرم کی سلامتی کی حاجت لے کر حاضر تھی۔ بار بار اس کی آنکھیں دھندلا رہی تھی جن کو وہ بار بار پونچھ بھئ رہی تھی۔ مگر آنسو تھے کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔ سجدے میں جا کر اس رب کی پاکی اور کبریائی بیان کرتے ہوئے اس کی سسکی نکلی تھی۔ وہ زمین سے ماتھا اور ناک ٹکائے اپنے پاک پروردگار کی بڑائی اور بزرگی بیان رہی تھی۔ دل میں ایک امید زندہ تھی جس کے نہ بجھنے کی دعا اس کے لبوں پہ رواں دواں تھی۔
آہستگی سے پہلے دائیں جانب سلام پھیرا پھر بائیں جانب سلام پھیر کر جب دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو اپنی ہتھیلی پر مہندی سے لکھا اس کا نام جو اب پہلے کی نسبت ہلکا ہو چکا تھا اسے دیکھ کر بے اختیار دوسرے ہاتھ کی انگلیوں کی پوروں سے اس نام کو بہت پیار اور عزت سے چھوا اور زور سے مٹھی کو بند کر کے اپنے دل کی سست ہوتی دھڑکنوں سے جا ملایا۔ جیسے کبھی اس نام کو اپنی ہتھیلی سے الگ نہ ہونے دینا چاہتی ہو۔ جیسے اس نام والے کو دنیا جہان کی دعائیں دے ڈالی ہو۔
آنسو آنکھوں سے رواں دواں تھے۔ اور اس کی زبان پہ صرف ایک ہی دعا تھی کہ اس کا محرم صحیح سلامت ہو۔ اسے کوئی آنچ نہ آئی ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے اندھیرے میں شدید دھوئیں کے مرغلوں میں ڈھکی فیکٹری کے آس پاس بھگڈر مچی ہوئی تھی۔ انس چیخ چیخ کر نڈھال ہو چکا تھا۔ مگر نہ اسے اندر جانے دیا گیا تھا اور نہ ہی اندر سے کسی کو باہر نکالا گیا تھا۔ جب بھی وہ اندر جانے کی کوشش کرتا تو مزید دو لوگ آ کر اس کو پکڑ کر پیچھے کر دیتے۔ اس نے ایک دو لوگوں کو دھکے بھی دیے ، غصے میں ایک دو پر وار بھی کیا۔ مگر پھر بھی اسے اندر جانے نہیں دیا گیا۔
فائر بریگیڈ آگ بجھانے میں مصروف تھی اور ریسکیو ٹیم کے کچھ افراد اندر کا جائزہ لے رہے تھے۔ انس کی نظریں فیکٹری کی جانب ہی مرکوز تھی جب ریسکیو والے ایک سٹریچر لے کر باہر نکلے جس پر کوئی جھلسا ہوا انسان موجود تھا۔
وہ دیوانہ وار بھاگتا اس تک آیا۔ دل ہی دل میں اس شخص کے اورہان ہونے کی نفی کر رہا تھا۔
“یہ ۔۔۔ یہ ز۔۔زندہ ہے؟”
لڑکھڑاتی زبان سے بمشکل پوچھا۔
“نہیں “
یہ شخص جو کوئی بھی تھا اتنی بری طرح جھلسا تھا کہ اس کی پہچان بھی ممکن نہیں رہی تھی۔ ریسکیو کی ٹیم نے اس کو پیچھے ہونے کا اشارہ کرتے ہوئے سٹریچر کو آگے کی جانب دھکیلا ۔انس پیچھے ہٹنے ہی لگا تھا جب سفید کپڑے سے ڈھانپے گئے اس وجود کا بایاں ہاتھ جھٹکا لگنے کے باعث کپڑے سے نکل کر نیچے لٹک گیا۔ بے اختیاری میں انس نے اس ہاتھ کی جانب دیکھا اور اسی لمحے اسے لگا اب اس کی سانس نہیں چلے گی۔
کچھ دن پرانا منظر اس کی نگاہوں کے پار لہرایا۔
“یہ انگوٹھی میری طرف سے تیری شادی کا تحفہ۔”
انس ایک خوبصورت لیکن سادہ سی انگوٹھی اورہان کو دے رہا تھا ۔
“اپنے ہاتھ سے پہنا۔”
“واہ بھئی میں تیری بیوی ہوں جو تجھے اپنے ہاتھ سے انگوٹھی پہناوں۔”
“لگتا تیرا دماغ چل گیا ہے۔ لڑکا ، لڑکی کو انگوٹھی پہناتا ہے نہ کہ لڑکی، لڑکے کو۔”
“لو بھئی منگنی پہ تو عورت بھی انگوٹھی پہناتی ہے۔”
“میرے بھائی وہ عورت ہوتی ہے ، بیوی نہیں۔”
“تیرے پاس لاجک کی کمی نہیں ہے۔”
وہ ہمیشہ کی طرح اس سے متاثر ہوا تھا۔
“بس کبھی غرور نہیں کیا۔”
فرضی کالر جھٹکتے ہوئے جواب دیا۔
“اچھا چل لا دے ہاتھ ، انگوٹھی پہناوں۔ ویسے تجھے پتا ہے یہ بہت خاص انگوٹھی ہے۔”
“تو نے دی ہے تو خاص ہی ہے۔”
وہ انگوٹھی کو غور سے دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
“چل مکھن بعد میں لگانا۔ ابھی اس کی خصوصیت سن۔”
“جی ، جی فرمائیے۔ بندہ آپ کے الفاظ کا منتظر ہے۔”
وہ پوری طرح اس کی جانب متوجہ ہوا جیسے وہ کوئی بڑی تکنیکی بات بتانے لگا ہو۔ جس پر انس نے اس کو گھور کر دیکھا اور وہ اس کی گھوری کو نظر انداز کر گیا۔
“یہ فائر ریزیسٹنٹ انگوٹھی ہے۔”
“دیٹ ساونڈز کول۔”
اور انس نے اورہان کی انگلی میں انگوٹھی پہنا دی تھی۔ دوستی کی ایک نشانی۔۔۔۔
منظر ختم ہو چکا تھا اور اب تو یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے ایسا کوئی منظر دوبارہ جنم نہیں لے سکے گا۔
جھلسی ہوئی باڈی کے بائیں ہاتھ کی انگلی میں وہی انگوٹھی موجود تھی۔ تو کیا صرف دوستی کی نشانی ہی رہ جائے گی؟ کیا انس اپنا دوست کھو چکا تھا؟
“اورہان، اورہان ۔۔۔ میرے بھائی اٹھ جا۔ مجھے معلوم ہے یہ تو نہیں ہے۔ میرا اورہان نہیں ہو سکتا یہ۔۔”
وہ چیخ رہا تھا خود ہی اقرار کر رہا تھا اور خود ہی انکار۔
حیدر صاحب اور سرفراز صاحب بھی بھاگتے ہوئے انس کے پاس آئے جو اس وقت اپنے حواس میں نہیں لگ رہا تھا۔
“انس تم ایسے کیوں رو رہے ہو۔ بولو، بتاو مجھے۔”
حیدر صاحب کا دل بیٹھا جا رہا تھا۔
“یہ۔۔یہ۔۔۔اورہان نہیں ہو سکتا ناں۔ “
ڈیڈ باڈی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے وہ حیدر صاحب سے استفسار کر رہا تھا۔
“ہاں یہ اورہان نہیں ہے۔”
حیدر صاحب نے انس سے زیادہ خود کو تسلی دی۔
“پھر یہ انگوٹھی۔۔ اس نے یہ انگوٹھی کیوں پہنی ہے۔”
انس نے اس ڈیڈ باڈی کے ہاتھ کو اونچا کر کے دکھایا۔ اور اس کی حالت کے پیش نظر ریسکیو والے بھی خاموش تھے۔
“کیا مطلب ہے تمہارا؟”
“یہ انگوٹھی تو میں نے اورہان کو دی تھی۔ یہ اس کے ہاتھ میں کیا کر رہی ہے؟”
اس کا بس نہیں چل رہا تھا وہ اس انگوٹھی کو نکال لیتا اور کہہ دیتا کہ یہ اورہان نہیں ہے۔ انس کی بات پہ حیدر صاحب زمین بوس ہوئے تھے۔ جن کو بے ہوش ہوتا دیکھ کر انس ہوش میں آیا۔
ریسکیو ٹیم وہاں موجود تھی انہوں نے فورا حیدر صاحب کو ٹریٹمنٹ دیا۔ تقریبا آدھے گھنٹے بعد انہیں ہوش آیا تھا۔ ہوش میں آتے ہی انہوں نے اورہان کا پوچھنا شروع کر دیا تھا، انہیں اپنے بیٹا چاہیے تھا۔ باڈی کو ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے لے جایا جا رہا تھا۔کیونکہ فلحال کچھ بھی کہنا قبل از وقت تھا۔ یہ خبر ملتے ہی سب مزید نڈھال ہو چکے تھے۔ مگر پھر بھی ایک امید ابھی بھی قائم تھی۔ گھر میں سب بے چینی سے اچھی خبر کے منتظر تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عریش سلطان راکنگ چئیر پر بیٹھا آج والے واقعہ کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ اس کو اب اپنی منزل بہت آسان دکھائی دے رہی تھی۔ بس کچھ ہی دنوں میں مہرماہ، اورہان کو بھول کر اپنی روٹین میں واپس آ جائے گی اور پھر وہ اس سے شادی کر لے گا۔
مگر اس سب میں اورہان کے ساتھ جو ہوا اس پر اسے افسوس تھا۔ عریش کے نزدیک اورہان ایک بہت اچھا انسان تھا مگر اب وہ اس کا رقیب بن چکا تھا اور اپنی کہانی میں اسے وہ تیسرا محسوس ہوا۔ کسی تیسرے کی موجودگی اس کو بری طرح چبھی تھی۔ اور اس کانٹے کو صاف کرنا اب اس کے لیے بے حد اہم تھا۔
“میں نے کبھی یہ سوچا بھی نہیں تھا اورہان کہ تمہیں مروانا میرے لیے اتنا ضروری ہو جائے گا۔ کاش کہ تم ہمارے درمیان نہیں آتے۔ میں نے تمہیں بتایا بھی تھا کہ عریش کبھی اپنی خواہش سے پیچھے نہیں ہٹتا۔ مجھے افسوس ہے کہ تم جیسے اچھے اور رحم دل انسان کو اتنی بری موت ملی۔ مگر تم نے میرے لیے کوئی راستہ ہی نہیں چھوڑا تھا۔ مہرماہ کے دل میں تم نے کیسے اتنی جگہ بنا لی کہ وہ تم سے اتنی محبت کرنے لگی۔ مگر کوئی بات نہیں، بھول جائیں گی وہ تمہیں، میں انہیں اتنی خوشیاں دوں گا کہ وہ ہر غم بھول جائیں گی۔”
خود سے مخاطب عریش اس لڑکی کو خوشیاں دینے کی بات کر رہا تھا جس کی خوشیاں وہ خود چھین رہا تھا۔ اس لڑکی کے بارے میں یہ گمان کر رہا تھا کہ وہ اورہان کو بھول جائے گی جسے اورہان تو کیا اس سے جڑی ہر ایک چیز سے بھی محبت تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیدر صاحب اور سرفراز صاحب گھر آ چکے تھے اور انس ریسکیو ٹیم کے ہمراہ ہسپتال چلا گیا تھا۔ فیکٹری سے صرف ایک ہی ڈیڈ باڈی ملی تھی جو صاف صاف اس بات کی نشاندہی کر رہی تھی کہ یہ اورہان ہی ہے کیونکہ اس جگہ پر اس کی گاڑی کا ہونا اور اس کا نہ ہونا ایک معمہ تھا جس کو حل کرنے کے لیے ڈے این ٹیسٹ کی رپورٹ بہت اہم تھی۔ مگر ابھی کوئی بھی یہ بات ماننے کو تیار نہ تھا کہ وہ ڈیڈ باڈی اورہان کی ہو سکتی ہے۔
کسی اپنے کو اس حالت میں دیکھنے کی سکت کسی میں بھی موجود نہیں ہوتی۔
انس اب بھی بار بار اورہان کے نمبر پر کال کر رہا تھا جو ابھی تک بند جا رہا تھا۔ دل میں ایک موہوم سی امید قائم تھی کہ اس کے فون کی بیٹری ڈیڈ ہو گئی ہو گی اسی لیے اس سے رابطہ نہیں ہو رہا۔ اور کچھ ہی دیر میں جب وہ کال ملائے گا تو فون کی دوسری جانب سے اورہان کی مسکراتی آواز آئے گی۔
وہ ہسپتال کے کوریڈورمیں چکر کاٹ رہا تھا۔ پریشانی کے باعث اس کا سانس پھول رہا تھا۔ آنکھوں کے سرخ ڈورے جو سونے کے باعث تھوڑے مندمل ہوئے تھے وہ پھر نظر آنا شروع ہو گئے تھے۔ سوجی آنکھوں کو بمشکل کھولے وہ ایک اچھی خبر کے انتظار میں تھا۔ اتنی دیر میں ہسپتال کی ایک نرس اس کے پاس آئی۔
“سر ڈے این اے ٹیسٹ کی رپورٹ دو دن بعد ملے گی۔ “
“آپ جلدی کیوں نہیں کر سکتے۔”
“سر یہ بائیولوجیکل ٹیسٹ ہے۔ اور اس میں کم از کم اتنا وقت تو لگتا ہی ہے۔ آپ گھر چلے جائیں، جب رپورٹ آ جائے گی آپ کو انفارم کر دیا جائے گا۔ آپ یہاں اپنا نمبر نوٹ کروا دیں۔”
ساتھ ہی اس نے ایک فارم اس کے سامنے کیا۔ وہ کافی دیر سے اس کو بے چینی سے ٹہلتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔ اور ایک کیس کے سلسلے میں وہ باوردی یہاں آیا تھا اس لیے وہاں ہسپتال کے عملے کو اس کے اے ایس پی ہونے کا بھی علم تھا۔ آخر تھک ہار کر انس نے فارم پہ دستخط کیے اور اپنا نمبر نوٹ کروا دیا۔ اور تاکید کرتا قدم باہر کی جانب بڑھا دیے۔
انس ہسپتال سے باہر آیا تو فجر کی اذانیں سنائی دیں ۔اس نے نماز پڑھنے کی غرض سے مسجد کا رخ کیا۔
قریب ہی مسجد میں پہنچ کر اس نے وضو کیا اور باجماعت نماز ادا کی۔ پوری نماز میں اس کا دھیان بھٹک بھٹک کر اورہان کی طرف جا رہا تھا۔ وہ چاہ کر بھی اس کے خیال سے فرار حاصل نہیں کر پا رہا تھا۔
دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو آنکھوں سے اشک رواں ہو گئے جن کو پونچھنے کی بھی کوشش نہیں کی۔ زیادہ تر نمازی جا چکے تھے اور کچھ امام صاحب سے مصافحہ کر رہے تھے۔ کسی نے اس کے آنسوؤں پر توجہ نہیں دی تھی۔ مگر امام صاحب کافی دیر سے اس جواں مرد کو روتا دیکھ رہے تھے۔ جب سب نمازی چلے گئے تو وہ اس کے پاس آئے۔
“السلام علیکم بیٹا “
امام صاحب بزرگ تھے ان کے چہرے پہ سجی سنت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو بے حد پاکیزہ اور خوبصورت بنا رہی تھی۔ وہ انس کے پاس آ کر بیٹھ گئے تو انس نے دعا والے ہاتھوں کو چہرے پر پھیر کر ان کے سلام کا جواب دیا۔ مگر نگاہ ان کی جانب نہیں کی تھی۔
“بیٹا آپ کو کبھی دیکھا نہیں یہاں، معلوم ہوتا ہے آپ یہاں مسافر ہو۔”
“جی امام صاحب، میں پاس والے ہسپتال میں آیا تھا تو یہی مسجد قریب تھی اس لیے میں یہاں نماز پڑھنے چلا آیا۔”
وہ نظر جھکا کر بات کر رہا تھا۔
“بہت اچھی بات ہے بیٹا۔ آج کل کے جوان مساجد میں کم ہی نظر آتے ہیں۔ اور اس طرح اللہ تعالٰی سے دعا مانگنے والے بھی میں نے بہت کم ہی دیکھے ہیں حالانکہ چالیس سال سے امامت کروا رہا ہوں۔”
اس بات پر انس نے آنسوؤں سے تر چہرہ اٹھایا ۔امام صاحب کے چہرے پر جب اس کی نگاہ پڑی تو وہ مبہوت رہ گیا۔ وہ اتنے جاذب نظر اور پاکیزہ دکھ رہے تھے ۔اس نے کسی بزرگ کو اتنا خوبصورت اور حسین نہیں پایا تھا۔ یہ ان کی دین کی لگن اور دین کی راہ میں خود کو وقف کر دینے کا ہی کمال تھا کہ ہر دیکھنے والی آنکھ ان کو دیکھ کر ہٹنا بھول جاتی۔ انس اب بھی خاموشی اختیار کیے ہوئے تھا کہ امام صاحب نے بات جاری کی۔
“بیٹا کیا کوئی اپنا ہسپتال میں ہے؟”
وہ اس کی بات سے یہی اندازہ لگا پائے۔
“کاش کہ ایسا نہ ہو۔”
“کیا مطلب ہے بیٹا؟”
وہ اس کی بات پہ حیران ہوئے تھے۔
“آپ دعا کریں ناں امام صاحب کہ وہ اورہان نہ ہو۔آپ تو بہت نیک ہیں آپ کی دعا تو ضرور قبول ہو گی۔”
“آمین بیٹا ، اللہ پاک آپ کی دلی مراد پوری کرے۔ مگر آپ نے یہ کیوں کہا کہ آپ کی دعا ضرور قبول ہو گی؟”
“کیونکہ آپ تو اللہ کے بہت قریب رہتے ہیں ناں۔”
“بیٹا ہم اللہ کے قریب کب جاتے ہیں اللہ ہمارے قریب ہوتا ہے۔ وہ ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔ وہ کبھی ہم سے دور نہیں ہوتا، یہ ہم ہی ہوتے ہیں جو اس سے فاصلہ پہ آ جاتے ہیں۔اور آپ سے کس نے کہہ دیا کہ نیک لوگوں کی ہر دعا قبول ہو جاتی ہے؟”
“میں نے تو یہی سنا ہے کہ نیک اور اچھے لوگوں کی اللہ سنتا ہے۔”
“آپ نے ٹھیک سنا ہے بیٹا مگر میں ایک بات کا اضافہ کرتا چلوں۔ اللہ اچھے اور برے ہر ایک کی ہی سنتا ہے۔ بس شدت ہونی چاہیے اور پورے یقین سے دعا مانگنی ہے۔ یقین ڈگمگا گیا تو دعا قبول ہو بھی گئی تو سکون نصیب نہیں ہوتا۔ سکون کے لیے اللہ پر کامل یقین ضروری ہے۔”
انس پوری توجہ سے ان کی بات سن رہا تھا اور اتنی دیر کے لیے اس کے ذہن سے ہر چیز مفقود ہو گئی تھی۔ وہ رب کی بڑائی کو جان رہا تھا اور رب کو جاننے کے سفر میں انسان ایسے ہی ہر چیز کو بھول جاتا ہے۔ اس کے دل میں سکون اتر رہا تھا اور اس وقت اس نے محسوس کیا کہ وہ کتنے دنوں سے بے سکون تھا۔
“بہت شکریہ امام صاحب “
اس نے کھلے دل سے ان کا شکریہ ادا کیا۔
” بیٹا صرف اللہ سے مانگنا ہمیشہ، وہی سب دینے پر قادر ہے۔ اس کے سوا کسی سے نہیں مانگنا۔ بیٹا تمہیں حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا یاد ہے جب انہوں نے کہا تھا کہ “اے میرے رب میں کبھی بھی تجھ سے دعا کر کے محروم نہیں رہا۔ “
سورہ مریم :آیت نمبر4
انس نے آہستگی سے سر اثبات میں ہلایا۔
“تو بس پھر اللہ سے پورے یقین سے دعا مانگنا ، وہ بہتر کرے گا۔ ہو سکتا ہے بظاہر تمہیں وہ چیز پسند نہ آئے ، قابل قبول نہ ہو۔ مگر اس کے ہر کام میں مصلحت ہوتی ہے۔ کچھ بھی ہو جائے اس سے بدظن نہیں ہونا۔”
انہوں نے آسمان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
“ان شاء اللہ امام صاحب، میں کوشش کروں گا۔ اللہ آپ کو خوش رکھے۔”
“چلو بیٹا اب میں چلتا ہوں۔ قرآن پاک پڑھنے کے لیے بچے آتے ہی ہوں گے۔”
امام صاحب وہاں سے بچوں کو پڑھانے کے لیے مسجد کی دوسری جانب چلے گئے اور انس بھی وہاں سے اٹھ کر باہر چلا آیا۔ اب اسے گرے بنگلے جا کر انہیں سارے معاملے سے آگاہ کرنا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گرے بنگلے میں آیا جائے تو اس وقت فاریہ اور مہرماہ ، فاریہ کے کمرے میں فجر کی نماز ادا کر رہی تھی ۔ حیدر صاحب اور سرفراز صاحب مسجد میں نماز پڑھ کر گھر کو آ چکے تھے۔ ماریہ بیگم اور صوفیا بیگم بھی نماز سے فارغ ہو کر اب اورہان کی زندگی کی دعائیں مانگ رہی تھی۔ ان کی فیملیز کسی بھی کنڈیشن میں نماز نہیں چھوڑتی تھی۔
انس کی گاڑی گرے بنگلے کے گیراج میں آ کر رکی اور وہ اندر کی جانب آیا۔اس کے آتے ہی سب لاوئنج میں جمع ہو چکے تھے۔ سب ہی پر امید نگاہوں سے اس کو دیکھ رہے تھے جس کا چہرہ تھکا ہوا تھا۔
“انکل وہ کہہ رہے ہیں کہ ٹیسٹ رپورٹ آنے میں کم از کم دو دن لگ جائیں گے۔”
حیدر صاحب تو ڈھے گئے تھے۔
“انکل آج میں اپنی ٹیم کے ساتھ اس کی تلاش میں نکلوں گا مجھے یقین ہے وہ ٹھیک ہو گا۔”
وہ ان کو حوصلہ دینے کی کوشش کر رہا تھا یا شاید پھر سے ایک امید جگا رہا تھا جو ابھی تک موجود تھی۔
“انس تم اسے ڈھونڈ لاو گے ناں؟”
صوفیا بیگم سوجی آنکھوں سے اس کو دیکھتے ہوئے اس کا ہاتھ تھام کر پوچھ رہی تھی۔ اورہان اور انس میں انہوں نے کبھی فرق نہیں کیا تھا۔ اور انس اس کے لیے ان کا جتنا بھی احسان مند ہوتا وہ کم تھا۔
“آنٹی وہ ٹھیک ہو گا۔ اور میں اسے تلاش کرنے کی پوری کوشش کروں گا۔”
“نہیں تم مجھ سے وعدہ کرو۔ تم اورہان کو بالکل ہنستا مسکراتا گھر لاوں گے۔”
وہ ایک امید سے اس کا ہاتھ تھام کر کھڑی تھی مگر ان کی اس بات پر انس کے دل کو کچھ ہوا تھا۔ اگر وہ ان کی امید پر پورا نہ اتر سکا تو وہ کیسے سامنا کرے گا۔ ماریہ بیگم، انس کے تاثرات دیکھ رہی تھی۔ اس لیے فورا آگے بڑھ کر صوفیا بیگم کو تھاما۔
“آ جاو صوفیا ، بچہ پہلے ہی بہت پریشان ہے۔”
انس کی ظاہری کیفیت سے ہی اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ وہ اس وقت کتنے برے حال میں تھا۔ انس نے ایک نگاہ سب پر ڈالی تو فاریہ کی حالت دیکھ کر اسے مزید افسوس ہوا۔ کتنے لوگ اس ایک جان سے جڑے تھے۔ انس نے اپنی نگاہوں کو فورا پھیرا ورنہ ان سب کو اس حالت میں دیکھ کر اس کے دل کا بوجھ بڑھتا جا رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
