429.8K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yaar-E-Gaar (Episode 26)

Yaar-E-Gaar By Esha Afzal

عریش کے چلے جانے کے بعد انس ،حیدر صاحب کے ہمراہ ان کے کمرے کی جانب بڑھا۔ وہ دراصل صوفیا بیگم کی حالت کا سنتے ہی دوڑا چلا آیا تھا۔ جب وہ کمرے میں داخل ہوا تو فاریہ کو بھیگی آنکھوں سے صوفیا بیگم کو دیکھتے پایا۔ ان سب کی ایسی حالت پر اس کا دل کٹ کر رہ گیا تھا۔ وہ خود بھی تو رنج کا شکار تھا۔ وہ صوفیا بیگم کے پاس آیا تو فاریہ کی نظر اس پر گئی جو اپنے دل و دماغ کی جنگ میں مبتلا اس کو بھی اذیت سے دوچار رکھتا تھا۔ وہ خاموشی سے وہاں سے اٹھ گئی۔ اور کمرے سے باہر جانے لگی جب ایک آواز نے اس کے قدم روکے۔

“کہاں جا رہی ہو فری؟”

حیدر صاحب نے لہجے کو حتی الامکان نارمل رکھتے اور لہجے کی نمی کو چھپاتے ہوئے پوچھا۔

“اپنے کمرے میں جا رہی ہو بابا۔”

نگاہیں دروازے پہ جمائے ہی جواب دیا۔ انس کو یہی محسوس ہوا جیسے وہ اس کی وجہ سے یہاں سے جا رہی ہے۔ مگر وہ صوفیا بیگم کے پاس جا کر بیٹھ گیا۔

“ٹھیک ہے بیٹا جا کر آرام کرلو۔ میں نورین کے ہاتھ چائے بجھواتا ہوں۔”

“میں خود لے لوں گی بابا۔”

یہ کہتے ہی وہ کمرے سے چلی گئی۔ انس ،صوفیا بیگم کے پاس بیٹھا حیدر صاحب سے ان کی خیریت معلوم کرنے لگا۔ ادویات کے باعث صوفیا بیگم گہری نیند میں تھیں۔ انسان کے پاس تکالیف سے بچنے کا ایک طریقہ تو اب بھی موجود تھا اور اسی طریقے کی مرہون منت وہ دنیا کی ہر اذیت سے بیگانہ ، ہوش کی وادی سے دور نیند میں تھیں ۔ انس نے ڈیوٹی پر بھی جانا تھا اس لیے وہ حیدر صاحب سے اجازت طلب کرتا واپسی کے لیے کمرے سے باہر آیا۔

ابھی وہ لاوئنج کے پاس ہی پہنچا تھا کہ اسے فاریہ ہاتھ میں پانی کا گلاس تھامے اپنے کمرے کی جانب بڑھتی دکھائی دی۔

“فاریہ”

نہ جانے کیسے لیکن وہ اسے روک بیٹھا اور فاریہ کے قدم وہیں جم گئے تھے۔ اب منظر کچھ یوں تھا کہ فاریہ کی پیٹھ انس کی جانب تھی اور وہ سامنے دیوار کو دیکھ رہی تھی۔ جبکہ انس کی نگاہ زمین پر ہی جمی ہوئی تھی۔

“آپ اورہان کے ساتھ ہوئے حادثہ کی ذمہ دار مجھے سمجھتی ہیں؟”

اسے فاریہ کا کمرے سے اٹھ کر جانا کھٹک رہا تھا۔

“آپ کو اس سے کوئی فرق پڑتا ہے؟”

بغیر مڑے سوال داغا گیا۔

“ہاں”

فورا جواب دیا۔ جس پر فاریہ نے پلٹ کر بے یقینی سے اس کو دیکھا۔ ایک لمحے کے ہزارویں حصے میں دونوں کی نگاہوں کا ملاپ ہوا تھا۔ کیا کچھ نہیں تھا ان آنکھوں میں؟ ایک کی آنکھوں میں محبت تھی اور دوسرے کی آنکھوں میں حیرت ۔ چند لمحے ہوا کی مانند ان کو بہت نرمی سے چھو کر گزرے تو انس نے نگاہیں دوبارہ زمین کی جانب مرکوز کر لیں۔

“کیوں فرق پڑتا ہے؟”

انس کی طرف دیکھتے ہوئے اس نے وجہ جاننی چاہی۔

“کیونکہ آپ اورہان کی بہن ہیں۔”

ایک مضبوط جواز پیش کیا۔

“اسی اورہان کی بہن جس کو بچانے کے لیے آپ وقت پر نہیں پہنچ سکے۔”

وہ اس کی جانب دیکھتے غصہ سے بولی۔ اور انس کے شک پر یقین کی مہر لگ چکی تھی۔ وہ سچ میں اس سے بد زن ہو چکی تھی۔

“فاریہ میرا یقین کریں۔ اگر مجھے علم ہوتا کہ اورہان مشکل میں ہے تو میں کبھی سکون سے سو نہیں رہا ہوتا۔ میں اس کی خاطر اپنی جان بھی دے سکتا تھا۔”

منت والے لہجے میں اپنی صفائی پیش کی جو سو فیصد درست بھی تھی۔ اور کہیں نہ کہیں فاریہ بھی یہ بات جانتی تھی۔

“جھوٹ، صرف جھوٹ بولنا آتا ہے آپ کو۔ آپ صرف باتیں ہی کر سکتے ہیں۔”

غصے سے بولتی وہ اپنے دل کا وبال نکال رہی تھی۔

“مجھے معاف کر دیں فاریہ”

ایک بار نگاہ اٹھا کر اس معصوم لڑکی کو دیکھا جس کے بھورے گھنگھریالے بال اسے پھر سے اورہان کی یاد دلا گئے۔

“کس چیز کی معافی؟”

آج وہ اس کو معاف کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی تھی۔ کون کونسے زخم نہیں ادھڑے تھے ۔

“ہر چیز کی معافی”

لہجے میں شرمندگی سموئے برسوں کی تھکاوٹ چہرے پہ لیے وہ اس لڑکی سے اپنی لاپرواہی اور بزدلی کی معافی مانگ رہا تھا۔

“جس دن میرے بھائی کے مجرموں کو سزا دلوائیں گے اس دن فاریہ معاف کرے گی آپ کو۔”

انگلی اٹھا کر بولتی ایک لفظ بھی سنے بغیر انس کے پچھتاوے کو مزید بڑھائے وہ وہاں سے جا چکی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انس یہاں سے سیدھا پولیس سٹیشن آیا تھا۔ صبح ایمرجنسی میں وہ اورہان کے گھر گیا تھا اور واپسی پر فاریہ کی باتیں سوچتے غائب دماغی کے باعث وہ یونیفارم بھی نہیں پہن سکا تھا۔ یہ تو جب وہ اپنے کمرے کی جانب بڑھا تو دوسرے پولیس ورکرز کو دیکھ کر اسے اپنے حلیے کا خیال آیا۔مگر اب وہ دوبارہ گھر جا کر چینج نہیں کر سکتا تھا اس لیے ایسے ہی کام نپٹانے چاہے۔

وہ تھانے اپنے کمرے میں بیٹھا کیسز سٹڈی کر رہا تھا۔اور اپنے سے نچلے عملے کو کام بتا رہا تھا۔ اسے اورہان کی بات آج بھی یاد کی تھی جو اس نے انس کی جوائننگ والے دن اس سے کہی تھی۔ اپنے کاموں سے فارغ ہو کر اس نے ایک کال ملائی۔

“میں تمہیں ایک نمبر سینڈ کر رہا ہوں اس کی کالز ہسٹری اور میسج وغیرہ کا ریکارڈ سینڈ کرو۔ “

فون کی دوسری جانب سے اثبات میں جواب آیا۔

“جلد از جلد “

ساتھ ہی کام کو وقت پر کرنے کی بھی تاکید کی۔

مثبت جواب ملتے ہی اس نے فون بند کیا اور کرسی سے ٹیک لگا کر آنکھیں موند لیں۔ ابھی اس نے آنکھیں بند ہی کیں تھیں کہ اورہان کا جھلسا ہوا جسم اس کی نگاہوں کے پار لہرایا اور اس نے ڈر کر فورا سے آنکھیں وا کر لیں۔اور ٹیبل پر موجود پانی کا گلاس اٹھا کر ایک گھونٹ میں پی گیا۔

(ہاں ناں پورے دو سیکنڈ پہلے آ گئے ہو، آئی لائک اٹ)

کیسے وہ اس کو وقت سے پہلے پہنچنے پر داد دے رہا تھا۔۔۔

“اورہان ، میرے ذہن سے تمہارا خیال ایک پل کے لیے بھی نہیں جاتا۔ تمہاری فیملی بہت تکلیف میں ہے۔ تم کتنا خوش تھے میں جانتا ہوں ۔ تم بھابھی سے کتنی محبت کرتے تھے۔ جانتے ہو فاریہ تمہاری گڑیا وہ اتنی سنجیدہ ہو چکی ہے کہ تم اس کو دیکھتے تو حیران رہ جاتے۔ آج اس کی آنکھوں میں اپنے لیے اتنی بے اعتباری دیکھی ہے کہ شرم سے ڈوب مرنے کا دل کر رہا ہے۔ میں تم جیسا نہیں ہوں اورہان۔ مجھے رشتوں کو مینج کرنا نہیں آتا۔ اگر آتا ہوتا تو شاید میرے گھر میں سکون ہوتا اور فاریہ پر میرا حق ہوتا۔ مگر میں کمزور ہوں اورہان۔ “

آہستہ آواز میں وہ آنکھوں میں اپنے یار کا چہرہ سموئے اس کو اپنے راز بتا رہا تھا۔ وہ راز جو کبھی اس کے جیتے جی وہ اس کو بتا نہیں سکا تھا۔

اتنی دیر میں موبائل کی بپ بجی۔ اس نے فون کو نگاہوں کے سامنے کیا تو اس پر اورہان کی موت والے دن کی اور دو دن قبل تک کی کالز ہسٹری اور میسجز کا ریکارڈ موجود تھا۔اس نے میسجز پڑھنے شروع کیے۔

“اگر اپنے دشمن کے بارے میں جاننا چاہتے ہو تو ابھی اس جگہ پر پہنچ جاو۔

تمہارا خیر خواہ “

انس فورا سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ اس کا مطلب کہ اورہان کو بلوایا گیا تھا۔

“مگر کون؟”

یہ سوال اس کے ذہن میں گردش کرنے لگا۔

“مسٹر اورہان بس اتنا ہی صبر ہے؟”

“تم جو کوئی بھی ہو اگر مجھے کچھ بتانا چاہتے ہو تو بتاو، ورنہ میرا وقت ضائع نہیں کرو۔ کیونکہ اگر یہ مذاق ہوا تو تمہیں اس مذاق کی سزا چکانی پڑے گی۔”

“میں تو ڈر گیا ویسے اتنا وقت لے کر کہاں جاو گے۔ تمہارے پاس اب وقت ہی تو نہیں بچا۔”

صرف چار میسجز تھے جو حادثہ سے قبل نامعلوم نمبر سے کیے گئے تھے جن میں ایک اورہان کا جواب تھا۔

انس کی کیفیت عجیب سی ہو رہی تھی۔ دکھ ، اذیت ، تکلیف، غصہ ، جنون ہر احساس گڈ مڈ ہو رہا تھا۔ اب یہ پتا لگانا تھا کہ یہ میسجز کرنے والا کون تھا؟ کیونکہ ایک بات کا علم تو ہو چکا تھا کہ یہ ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سازش تھی جس میں اورہان کو ٹارگٹ کیا گیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امل اپنی پھوپھو کے ہمراہ گھر واپس آ چکی تھی۔ اس کی پھوپھو اپنے کمرے میں چلی گئیں تھیں۔ وہ اپنے کمرے کی جانب بڑھ رہی تھی جب اپنے کزن کے کمرے کے باہر سے گزرتے ہوئے ایک آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی جس نے اسے منجمند کر چھوڑا۔

“باس آپ بے فکر رہیں سارے ثبوت مٹا دیے گئے ہیں کوئی نہیں جان سکتا کہ اورہان کے ساتھ یہ سب کس نے کروایا ہے۔”

فون کی دوسری جانب سے کچھ پوچھے جانے پر وہ دوبارہ گویا ہوا۔

“جی باس اگر انہیں علم ہو بھی گیا کہ وہ اپنی مرضی سے وہاں نہیں گیا تھا تب بھی کوئی یہ نہیں جان سکے گا کہ وہ کس کے کہنے پر وہاں گیا۔ آپ کا نام کبھی بھی نہیں آئے گا۔”

فہد ، عریش کو اپنی کارکردگی سے آگاہ کر رہا تھا۔ اور امل شہریار جو یہاں سے گزر رہی تھی اور کمرے سے آتی آواز پہ ایک لمحہ کو رکی تھی وہ یہیں جم چکی تھی۔ اس کے چودہ طبق روشن ہو چکے تھے۔ اورہان کا نام معمولی نہیں تھا بلکہ اس نے تو صرف ترکش ڈراماز میں ہی یہ نام سنا تھا۔ تو ایسا ممکن ہی نہیں تھا کہ وہ کسی اور کی بات کر رہا ہوتا۔

“ف۔۔فہ۔۔فہد بھائی ۔۔۔ یہ سب فہد بھائی نے کروایا ہے۔”

وہ شاید یقین نہ کرتی مگر ابھی تو وہ مہرماہ کے گھر سے ہو کر آئی تھی جب انہوں نے انہیں ساری تفصیل بتائی تھی۔

فہد کچھ محسوس کرتے ہوئے مڑا تو اپنے کمرے کا دروازہ کھلا پایا اور امل صرف چند لمحے پہلے وہاں سے پیچھے ہٹ کر پلر کی اوٹ میں ہوئی تھی۔

فہد قدم بہ قدم آگے بڑھ رہا تھا اور امل کا سانس حلق میں ہی اٹک چکا تھا۔

بھاری بوٹوں کی آواز اب کمرے سے باہر سنائی دے رہی تھی۔ فہد نے ایک نظر باہر دوڑائی اور کچھ نظر نہ آنے پر واپس کمرے میں چلا گیا اور دروازہ بند کر لیا کیونکہ اسے اس بات کا علم نہیں تھا کہ اس کی ماں اور کزن واپس گھر آ چکی ہیں ۔ امل نے سکھ کا سانس خارج کیا اور ایک نظر فہد کے کمرے کے بند دروازے پہ ڈال کر اپنے کمرے کی جانب بھاگی۔ بھاگنے کی وجہ سے اس کے سر پہ ٹکی چادر سرک چکی تھی۔ اور وہ چادر کو اپنے کانپتے ہاتھوں کی انگلیوں سے تھامے کمرے تک پہنچی اور دروازہ کھول کر اندر آتے ہی ٹھک سے دروازہ بند کیا۔

وہ کانپ رہی تھی۔ یہ سوچ کہ مہرماہ کے ساتھ درپیش ساری مشکلات کی وجہ اس کے اپنے گھر میں ہی موجود تھی۔

“یا اللہ! یہ کیا ہو رہا ہے۔ کیا اورہان بھائی کے ساتھ جو ہوا وہ حادثہ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سازش تھی۔ اور فہد بھائی۔۔۔ وہ اس سب میں شامل ہیں ۔ ان کا باس کون ہے؟ اور انہیں اورہان بھائی سے کیا مسئلہ تھا؟ “

اب وہ اپنی ہر خوشی اور غم کو اپنے اللہ سے شئیر کرتی تھی۔

“میں کس سے بات کروں؟ کیا کوئی میری بات پہ یقین کرے گا؟”

وہ کشمکش کا شکار تھی۔ اس کے پاس تو کوئی ثبوت بھی نہیں تھا۔

“بابا۔۔ نہیں، پھوپھو ۔۔ نہیں ،وہ بھی یقین نہیں کریں گی۔ کیا مجھے مہرو آپی کو بتانا چاہیے؟”

“لیکن کیسے بتاوں میں ان کو؟ “

اس کی بڑی بڑی آنکھیں پانی سے لبریز ہو چکی تھیں۔

فہد تو اس کی سوچ سے بھی برا نکلا تھا۔ بعض اوقات رشتے ایسے ہی اپنا آئینہ دکھاتے ہیں جن میں دیکھ کر انسان کو رشتوں سے خوف آنے لگتا ہے۔ جیسے اس وقت امل ، فہد سے خوفزدہ ہو رہی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انس نے پہلے اس نمبر پر کال ملائی جس سے اورہان کو میسجز ریسیو ہوئے تھے مگر نمبر مسلسل بند تھا۔ اسے اب اس بات کا پتا کرنا تھا کہ کون تھا جس نے اورہان کو فیکٹری میں آنے کے لیے کہا تھا۔ اس نے نمبر ٹریس کرنے کے لیے اپنے جاننے والے کو کال ملائی۔ اب اسے یہ معلوم کرنا تھا کہ حادثے کی رات یہ نمبر کس کے استعمال میں تھا۔

ڈیوٹی ٹائم ختم ہو چکا تھا۔ وہ تھانے سے باہر نکلا اور گھر کی جانب گاڑی کا رخ موڑ دیا۔ سرمئی سڑک پہ سرمئی سینٹرو نہایت دھیمی رفتار سے اپنی منزل کی جانب بڑھ رہی تھی۔ وہ بہت ساری سوچیں سوچتا گاڑی چلا رہا تھا۔ ایک سگنل پر اس کی گاڑی آ کر رک گئی۔ ہری بتی جلنے پر اس نے گاڑی کو دوبارہ دھیمی سپیڈ پر بڑھنے دیا۔ بڑھتے بڑھتے گاڑی مڈل کلاس طبقے کے بنے رہائشی گھروں کے قریب پہنچ گئی۔ اپنے گھر کے سامنے پہنچ کر اس کی نگاہ ایک گاڑی پر گئی جس سے اسے اندازہ ہو گیا کہ اس کی خالہ آئیں ہوئیں ہیں۔اس نے ہارن دیا تو سعد نے آ کر گیٹ کھولا۔ گاڑی گھر کے اندر بنے چھوٹے سے گیراج میں پارک کرنے کے بعد وہ اندر چلا آیا۔

“السلام علیکم “

اس نے سب کو سلام کیا۔ جس پر سب نے اس پر بھی سلامتی بھیجی۔ وہ خالو کے گلے ملا اور خالہ سے پیار لیا۔ اسے آج اس بات نے بھی حیران نہیں کیا تھا کہ خالو کیسے آ گئے تھے۔

“کیسے ہو بیٹا؟”

“ٹھیک “

وہ صدیوں کا تھکا ہوا معلوم ہو رہا تھا جس پر سب دکھی ہوئے۔

“انس تم آج یونیفارم کے بغیر ہی چلے گئے؟”

یہ پوچھنے والے اس کے بابا تھے۔

“بابا ذہن میں نہیں رہا۔”

مختصر جواب دیا گیا۔ جس پر سب اس کی غائب دماغی کو نوٹ کر چکے تھے۔

“بیٹا تمہارے دوست کی وفات کا علم ہوا۔ ماہ رخ بھی وہاں گئی تھی نا اپنی خالہ کے ہمراہ ۔اس نے بتایا سب بہت رنجیدہ تھے۔ بہت افسوس ہوا مجھے۔ اللہ تمہیں اور ان کے خاندان کو صبر دے۔”

اس کے خالو اس سے تعزیت کر رہے تھے۔ مگر انس اپنے خیالات میں ہی الجھا بیٹھا تھا۔ اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔

“انس فریش ہو جاو بیٹا۔ میں کھانا لگاتی ہوں۔”

انہوں نے اس کی خاموشی کا اثر زائل کرنے کے لیے کہا۔

“مجھے بھوک نہیں ہے ماما۔ میں ریسٹ کروں گا۔”

“تم صبح بھی کچھ کھا کر نہیں گئے۔”

وہ اس کے لیے پریشان ہو رہیں تھیں جو خود کو سرے سے ہی فراموش کر بیٹھا تھا۔وہ صبح بھی اس کو بار بار کہتی رہیں تھیں مگر وہ بغیر ناشتہ کے ہی چلا گیا تھا۔

“ایک دن نہ کھانے سے کچھ نہیں ہوتا۔”

جواب دے کر وہ فورا اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا۔

“انس تو مجھے کھویا کھویا محسوس ہو رہا ہے۔”

اپنے بھانجے کو اتنا سنجیدہ اور افسردہ دیکھ کر انہیں دکھ ہوا تھا۔

“بہت محبت کرتا تھا اپنے دوست سے۔ بچپن کا ساتھ تھا دونوں کا۔ اس لیے ابھی وقت لگے گا۔”

انہوں نے انہیں اورہان اور انس کی دوستی کے بارے میں آگاہ کیا۔

“اللہ بہتر کرے۔”

خالو نے دعا دی جس پر سب نے آمین کہا۔

“اچھا تو آپ بتا رہے تھے کہ ایک ماہ بعد آپ واپس دبئی جا رہے ہیں۔”

مجتبٰی صاحب نے موضوع بدلا۔

“جی، جی اور ساتھ ہی ہم آپ کو ماہ رخ کے رشتے کے حوالے سے بھی بتانے آئے ہیں۔”

اس بات پر مجتبٰی صاحب خوشگوار حیرت کا شکار ہوئے۔ انس کی ماما جو ماہ رخ کو اپنی بہو بنانا چاہتی تھیں وہ تھوڑی افسردہ بھی ہوئیں مگر اپنی بھانجی کا رشتہ اچھی جگہ پر طے ہونے کے باعث انہیں خوشی ہوئی۔ ماہ رخ کے تایا کا بیٹا ایک خوبصورت، باکردار، پڑھا لکھا اور سلجھا ہوا لڑکا تھا جس کے باعث ان کے خاندان میں سب ہی اپنی بیٹی کا رشتہ اس سے کرنا چاہتے تھے مگر انہوں نے ماہ رخ کو چنا تھا۔

“تو کیا اپنے بھتیجے سے رشتہ طے کیا ہے؟”

“جی بالکل، ماشاءاللہ بہت اچھا اور سلجھا ہوا بچہ ہے۔ اور پھر بڑے بھائی نے رشتہ مانگا تو انکار کرنے کا کوئی جواز ہی پیدا نہیں ہوا۔”

ماہ رخ کے والدین بہت خوش تھے۔

“اللہ تعالٰی ماہ رخ کے نصیب اچھے کرے۔”

“آمین۔ دو ہفتے بعد ماہ رخ کا نکاح اور رخصتی طے ہوئی ہے۔ پھر ایک ہفتہ بعد وہ لوگ ولیمہ کریں گے۔”

“بہتر۔ بہت بہت مبارک ہو آپ کو۔”

“آپ کو بھی بھائی صاحب۔ اب خالہ اور خالو کو پورے مان سے شرکت کرنی ہے۔”

تحمینہ بیگم نے ان کو بہت خلوص سے انوائٹ کیا تھا۔

“ضرور “

خوشگوار ماحول میں ماہ رخ کی شادی کی پلاننگ شروع ہو گئی تھی۔ اب ماہ رخ کے والد مجتبٰی صاحب سے بینکوئیٹ کی تفصیلات لے رہے تھے اور تحمینہ بیگم اپنی بہن کو مختلف لہنگے دکھا کر بارات کا جوڑا طے کر رہی تھیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خوبصورت اور نفیس کمرے میں داخل ہوا جائے تو کتابوں کے ڈھیر کے پاس بیٹھی ماہ رخ ایک کتاب ہاتھ میں تھامے اس کے صفحات کو اپنی مخروطی انگلیوں سے آگے پیچھے کر رہی تھی۔ اس کی سوچیں اس وقت کتاب میں موجود کرداروں کے گرد نہیں گھوم رہی تھی۔ جب انسان اپنی زندگی کے کرداروں کے بارے میں سوچتا ہے تو وہ ان تصوراتی کرداروں سے بہت دور نکل جاتا ہے جیسے اس وقت ماہ رخ نکل چکی تھی۔

اسے بچپن سے لے کر اب تک انس کے ساتھ کی ہوئی شراتیں، مذاق،روٹھنا،منانا سب یاد آ رہا تھا۔ اس نے اپنے ذہن کے پردوں پر زور ڈالا تو کہیں بھی انس کی آنکھوں میں وہ جذبات نہیں پائے جو فاریہ کو دیکھ کر اس کی آنکھوں میں ماہ رخ نے اپنی آنکھوں سے دیکھے تھے۔ اور اسی لمحے اس نے ایک گہرا سانس بھرا۔

“میں ماہ رخ ۔۔آج ،ابھی اور اسی وقت اپنی بیوقوفی کے عوض کی جانے والی اس پسندیدگی اور معصوم محبت سے دستبردار ہوتی ہوں۔ میری زندگی میں انس ہمیشہ اہمیت رکھے گا بالکل ایسے جیسے اس کی زندگی میں میری اہمیت ہے۔ ایک اچھی کزن اور دوست کی مانند۔۔۔ مگر ، مگر اب اس سب میں وہ محبت شامل نہیں ہو گی۔”

ماہ رخ کی آنکھیں خشک تھیں۔ اس نے محبت میں مات قبول کی تھی اور وہ بھی پوری شان سے۔۔۔

“ہاں ماہ رخ اب صرف اپنے محرم کے بارے میں ہی سوچے گی اور اسی سے محبت کرے گی۔”

اس نے اپنی غلطی کو مانا تھا اور اس غلطی پر توبہ بھی کر لی تھی۔

اس نے ڈپریشن لینے کی بجائے قدرت کے فیصلے کو دل سے قبول کیا تھا اور اس محبت سے آزاد ہو کر زندگی میں آگے بڑھنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔

اور اب وہ اپنے محرم کے ساتھ اپنی خوشگوار زندگی کے لیے دعاگو تھی۔

آخر میں ایک دعا اور تھی جو ماہ رخ نے مانگی تھی۔ انس اور فاریہ کی محبت کی تکمیل کی دعا۔۔۔ کیونکہ ایک بار میں ہی فاریہ کو دیکھ کر وہ اس لڑکی کے دل کا حال جان چکی تھی۔

ہاں وہی لڑکی جو دل و جان سے انس پر مر مٹی تھی مگر شاید انس ہی کی طرح بزدل تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جان سے گزر گئے مگر بھید نہیں کھلا کہ ہم

کس کی شکار گاہ تھے کس کے لئے ہدف ہوئے

(پروین شاکر)

انس اس وقت اپنے کمرے میں موجود اس سارے واقعے کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ اس کے دوست کو جان بوجھ کر وہاں بلایا گیا تھا اور پھر جو اس کے ساتھ ہوا سب سوچی سمجھی سازش تھی۔ اب کی بار اس نے سیدھا عریش کو تفتیشی کٹہرے میں کھڑا کرنے کا سوچ لیا تھا۔

لیکن ایک بات وہ بہت اچھی طرح جانتا تھا کہ عریش کبھی کوئی ثبوت نہیں چھوڑے گا۔ اور بغیر ثبوت کے نہ تو وہ اس شک کی تصدیق کر سکتا تھا اور نہ ہی اس کے خلاف کوئی کاروائی کر سکتا تھا۔ کیونکہ وہ صرف اپنی گٹ فیلنگ کے زور پہ اس کو مجرم ثابت نہیں کر سکتا تھا۔

“لیکن کوئی تو ہو گا جسے اس نے یہ کام سونپا ہو گا۔ کوئی ایسا شخص جو اورہان کے کاموں پہ نظر رکھتا ہو۔ کیونکہ وہ خود تو اتنا فارغ نہیں ہوتا۔ لیکن ایک بات مجھے کھٹک رہی ہے کہ اس روز اورہان نے خود مجھے کہا تھا کہ اسے عریش پہ شک ہے۔ مگر خود کے ساتھ اتنے واقعات ہو جانے پر بھی اس کا شک عریش پہ کیوں نہیں گیا۔”

انس اس کیس کے مشکوک فرد کا سوچ رہا تھا جب اورہان نے اسے ریسٹورنٹ بلوا کر عریش پہ شک واضح کیا تھا۔

انس کے ذہن میں جس بات نے طلاطم برپا کیا تھا وہ بھی یہی تھی کہ جو شخص کسی کی ساخت تباہ کرنے کے لیے بلڈنگ گروا سکتا ہے اس کے لیے کسی سے بدلہ لینے کے لیے بلڈنگ کو جلانا کوئی بڑی بات نہیں تھی۔

لیکن ایک کڑی سلجھ نہیں پا رہی تھی کہ اسے ولید نعمان کی ساخت برباد کر کے فائدہ تھا مگر اورہان کی زندگی سے کیا مسئلہ ہو سکتا تھا۔

اس وجہ کو ڈھونڈے بغیر وہ اورہان کے قاتل تک نہیں پہنچ سکتا تھا۔ کیونکہ دشمن کی دشمنی کی وجہ کا علم ہونا ہی اس معاملے کو حل کرنے کے لیے ضروری تھا۔

انس مجتبٰی کی پوری رات اس وجہ کو تلاش کرنے میں گزرنے والی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دو ہفتہ کا وقت صحرا میں اونٹ کی مانند تیز قدموں سے دوڑ رہا تھا۔ مہرماہ اب بھی ہر لمحہ اورہان کو سوچتی تھی۔اس نے ابھی تک یونیورسٹی جوائن نہیں کی تھی۔حیدر صاحب اور صوفیا بیگم ان دو ہفتوں میں بوڑھے دکھنے لگے تھے۔ کیونکہ ان کے فریش رہنے کی ایک وجہ اس دنیا سے رخصت ہو چکی تھی۔ فاریہ اب بالکل خاموش ہو چکی تھی۔ اس کا چہرہ ہر لمحہ سپاٹ ہوتا تھا۔ نہ وہ کسی بات پہ مسکراتی تھی اور نہ ہی واویلا کرتی تھی۔ خاموشی کا لبادہ اوڑھے بس اپنی زندگی کو گزار رہی تھی۔ انس مسلسل اس انسان کو کھوج رہا تھا جو اس سارے واقعے کے پیچھے تھا۔غرض کوئی بھی سکون کی زندگی نہیں گزار رہا تھا۔

دوسری طرف آیا جائے تو ماہ رخ کی شادی کی تیاریاں زوروشور سے جاری تھیں ۔ انس کی والدہ اپنی بہن کے ہمراہ بازاروں کے چکر کاٹ رہیں تھیں۔ ان کی لاڈلی بھانجی کی شادی تھی وہ کوئی کمی نہیں رکھنا چاہتی تھیں۔

ایک طرف غم تھا تو دوسری طرف خوشیاں۔۔۔

ایسا ہی تو ہوتا ہے خوشیاں منانے والوں کو کسی کا غم یاد نہیں رہتا اور غم منانے والوں کو کسی کی خوشیوں کی پرواہ نہیں ہوتی۔۔۔

انس ان دونوں کے درمیان الجھ کے رہ چکا تھا۔

وہ اپنے دوست کی موت کا غم مناتا، اس کے مجرموں کو تلاش کرتا یا اپنی سب سے اچھی دوست کی خوشیوں میں شرکت کرتا۔

نکاح کے روز شرکت کرنا اس کے لیے ضروری بھی تھا۔

شادی کا سارا ارینجمنٹ ایک خوبصورت بینکوئیٹ میں کیا گیا تھا۔ انس سکن کلر کا سوٹ پہنے ،آستینوں کو کلائیوں تک موڑے،کندھوں پر بھوری شال لیے، ہاتھ میں گھڑی پہنے، سیاہ سلکی بالوں کو ماتھے سے پیچھے ہٹاتا، چہرے پہ زبردستی مسکراہٹ سجائے مہمانوں کو ریسیو کر رہا تھا۔

لوگوں کے مسکراتے چہرے دیکھ کر وہ حیران ہو رہا تھا وہ دکھ میں تھا لیکن باقی کس طرح ہنس رہے تھے۔

دنیا بھی ایسی ہی ہے کوئی کسی کے غم میں شرکت نہیں کرتا۔

بارات آ چکی تھی ۔ دولہا سفید شیروانی پہنے بہت خوبرو دکھ رہا تھا۔ اس کو سٹیج پر بٹھایا گیا۔ نکاح کا مرحلہ طے ہوا۔ دولہا اور دلہن کے نکاح کے بعد اب دلہن کو سٹیج پ رلائے جانے کی باری تھی۔ قدم قدم سینچ سینچ کر رکھتی ماہ رخ بھاری سرخ لہنگے میں ایک ہاتھ میں پرس لٹکائے دوسرے ہاتھ سے لہنگا تھامے سپاٹ لائٹ میں آگے بڑھ رہی تھی۔

اس کی نگاہ کبھی جھک رہی تھی تو کبھی اٹھ رہی تھی۔ نگاہ اٹھتے ہی اس کی نگاہ شادی کے انتظامات سنھالتے انس کی جانب اٹھی تو اس نے فورا نگاہوں کا زاویہ بدل کر اسے سامنے سٹیج پر موجود اپنے محرم کی جانب کیا جو آنکھوں میں دیپ جلائے بغیر پلک جھپکے اس اپسرا کو دیکھ رہا تھا۔ ماہ رخ جب سٹیج کے پاس پہنچی تو دولہے نے آگے بڑھ کر اس ہاتھ تھاما جس پر ہوٹنگ شروع ہو گئی۔ وہ ماہ رخ کو سٹیج پر موجود صوفہ تک لے کر آیا اور اس کے بیٹھتے ہی اس کے ساتھ پوری شان سے براجمان ہو گیا۔ان کے اردگرد مہمانوں کا ہجوم ہو چکا تھا جو اس میڈ فار ایچ ادر والے کپل کو داد دینے والی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔

“مجھے اپنا بنانے کا اور میری بننے کا بہت شکریہ ماہ رخ”

اس نے ماہ رخ کی جانب دیکھتے ہوئے اس کا شکریہ ادا کیا جس پر ماہ رخ نے شرم سے نگاہیں جھکا لیں۔ ساری رسومات ہوتی رہیں لیکن انس سٹیج کے پاس بھی نہیں آیا تھا۔ اور حیرت کی بات تو یہ تھی کہ ماہ رخ نے اس چیز کو نوٹ بھی نہیں کیا تھا۔

تقریب کے اختتام کے قریب انس سٹیج پر آیا اور آ کر دونوں کو مبارکباد دی۔

“اپنی پیاری سی کزن اور دوست تمہیں سونپی ہے اس کا بہت خیال رکھنا۔ اور ہاں ایک بات اور یہ جب بھی تم سے ناراض ہو گی تو اسے کتابیں دے دینا۔ مان جائے گی اور خوش بھی ہو گی۔”

کتنا جانتا تھا نا وہ اسے مگر پھر بھی جان نہیں سکا تھا۔

“اپنی جان سے بڑھ کر خیال رکھوں گا۔ تم فکر مت کرو۔”

اس کے جواب پر انس خوش ہوا تھا اور ایک خوبصورت مسکان نے اس کے چہرے کا احاطہ کیا تھا۔

رخصتی کا وقت ہوا تو ماہ رخ کی آنکھیں نم ہو گئیں۔وہ اپنے ماما ، بابا اور خالہ کے گلے لگی ایموشنل ہو رہی تھی۔

“ماہ رخ رونا نہیں۔ دیکھو تیس ہزار کا میک اپ خراب کرو گی اور ایویں بیچارا دولہا تمہیں ادھر ہی نہ چھوڑ جائے۔”

انس نے اتنے دنوں میں پہلی بار ایسے ہلکے پھلے انداز میں مسکرا کر بات کی تھی جس پر سب نے سکون کا سانس خارج کیا تھا۔ لیکن ماہ رخ کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔

“فکر مت کرو یہ ہمیں ہر حال میں قبول ہیں۔”

یہ بولنے والا ماہ رخ کا ہمسفر تھا۔ جس پر ماہ رخ نے جھٹکے سے اسے دیکھا تھا جو اب اسی کو مسکرا کر دیکھ رہا تھا۔ نظریں ملنے پر ماہ رخ نے گڑبڑا کر نظریں جھکا لی تھیں۔

رخصتی ہو چکی تھی اور ماہ رخ اب اپنے سسرال رخصت ہو چکی تھی۔ وہ نروس ہو رہی تھی پہلے وہ کسی اور رشتے سے یہاں آتی تھی مگر اب رشتہ بدل چکا تھا۔

اس کو کمرے میں لے جا کر بٹھا دیا گیا تھا۔ وہ کمرے کا جائزہ لے رہی تھی جہاں سرخ پھولوں کی مہک نے اس کو اندر تک معطر کر دیا تھا۔ تھوڑی دیر بعد وہ اندر داخل ہوا جس کے نام کے ساتھ اب اس کا نام جڑ چکا تھا۔ وہ آہستہ آہستہ قدم بڑھاتا اس کی جانب بڑھ رہا تھا۔ اس کے دل کی دھڑکن اس کے ہر قدم پر تیز ہوتی جا رہی تھی۔ وہ اس کے پاس آ کر بیٹھا۔ اور اپنا ہاتھ آگے بڑھایا جس پر ماہ رخ نے تھوڑے وقفے سے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دے دیا۔

“جانتی ہیں ماہ رخ بچپن سے آپ کو اپنے دل میں بسایا تھا۔ لیکن کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ آپ میری قسمت میں ہو سکتی ہیں۔ آپ مجھے بہت دور محسوس ہوتی تھی۔ جب آپ چچا کے پاس دبئی گئی تھی اس وقت مجھے پہلی بار اس بات کا ادراک ہوا تھا کہ میں آپ سے محبت کرنے لگا تھا۔”

وہ اس کے چہرے کی طرف یک ٹک دیکھتا اس سے اپنے دل میں چھپے رازوں سے آشنا کروا رہا تھا۔ ماہ رخ پلک جھپکے بغیر اس کو دیکھ رہی تھی۔

“مجھے اپنا ساتھ سونپ کر آپ نے مجھے میری ہر دعا کا صلہ دے دیا ہے۔”

وہ اس کے بائیں ہاتھ کی چوتھی انگلی میں انگوٹھی پہناتا اسے اس کی اہمیت بتا رہا تھا۔ جس پر ماہ رخ نے رب کا شکر ادا کیا تھا۔ اس نے انس کی محبت کو دل سے نکالا تھا تو اس کے رب نے اسے اتنے اچھے لائف پارٹنر کا ساتھ عطا کیا تھا۔

صحیح کہتے ہیں کہ بعض اوقات آپ کسی کے دل کی دنیا تہس نہس کر چکے ہوتے ہیں اور آپ کو اس بات کا اندازہ ہی نہیں ہوتا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔