429.8K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yaar-E-Gaar (Episode 16)

Yaar-E-Gaar By Esha Afzal

اورہان اپنے آفس میں بیٹھا ضروری فائل دیکھ رہا تھا جب ٹیبل پر موجود انٹرکام بج اٹھا۔

“سر کوئی میم ہیں اپنا نام زویا ابراہیم بتا رہی ہیں ۔وہ کہہ رہی ہیں کہ آپ کی دوست ہیں اور انہیں آپ سے ملنے دیا جائے۔”

“دوست ۔۔۔ہونہہ “زیر لب کہا۔

“آنے دو انہیں “

ریسیپشن پہ موجود زویا منتظر نظروں سے اس لڑکے کو دیکھ رہی تھی۔ اورہان کا پیغام سن کر اس لڑکے کے منہ کا ذائقہ کڑوا ہو گیا۔ اور زویا جو اس کے ایک ایک ایکسپریشن کو دیکھ رہی تھی پہچان چکی تھی کہ اجازت مل گئی ہے۔

“دیکھا ناں ، میں نے کہا تھا تم سے اب تمہاری چھٹی پکی۔”

مغرور انداز میں کہہ کر آگے بڑھی جیسے اس کے کمرے میں آتی جاتی رہی ہو۔ لیکن تھوڑا آگے جانے پر اسے یاد آیا کہ اسے تو معلوم ہی نہیں کہ اورہان کا روم کہاں ہے۔ پھر پلٹ کر واپس آئی ۔

“اگر نہیں چاہتے کہ تمہیں نوکری سے نکلواو تو مجھے اورہان کے روم تک چھوڑ کر آو۔”

اس لڑکی کی مکاری اس کے چہرے سے جھلک رہی تھی۔

“چلیں میم”

ضبط کرتا وہ اسے لیے اورہان کے کمرے کی جانب آیا ۔

“میم یہ سر اورہان کا روم ہے۔”

“ٹھیک ہے ٹھیک ہے چلو جاو اب شاباش۔”

وہ سر جھٹک کر واپس پلٹ گیا۔اور منہ ہی منہ میں اس کو مختلف القابات سے نوازتا رہا۔

زویا نے ناک کیے بغیر ہی کمرے کا دروازہ کھولا۔ آج اس کا حلیہ ذرا مختلف تھا بلیو لانگ شرٹ کے ساتھ بلیو ٹائٹس پہنے دوپٹے سے بے نیاز، سفید جوگرز پہنے وہ اک ادا اور ناز نخرے سے چلتی اندر آ رہی تھی۔

اورہان کو تو تپ چڑ چکی تھی مطلب اتنی بھی تمیز نہیں کہ کسی کے روم میں کیسے آیا جاتا ہے۔ لیکن اب وہ اس کا موڈ خراب کرنے کا ارادہ کر کے بیٹھا تھا۔

“آئیں زویا بیٹھیں۔”

زویا تو غش کھا کر گرنے والی تھی کہ اس نے اتنی اپنائیت سے اسے بیٹھنے کی آفر کی۔

وہ اس کے سامنے والی کرسی پر ٹانگ پر ٹانگ چڑھا کر بیٹھ گئی۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتی اورہان نے بولنا شروع کیا۔

“اوہ آئی گیس تو آپ مجھے نکاح کی مبارکباد دینے آئی ہیں۔”

زویا کو محسوس ہوا کہ اس نے غلط سن لیا ۔

“کیا؟”

“آپ کو یقینا مہرماہ نے بتا دیا ہو گا کہ میرا اور ان کا نکاح ہو چکا ہے۔ بائے دا وے ابھی پرسوں کی ہی بات ہے۔”

چہرے پہ تپا دینے والی مسکراہٹ سجائے ٹیبل پر دونوں ہاتھ جمائے وہ قدرے آگے ہو کر بیٹھا اس کا پیلا پڑتا چہرہ دیکھ کر محظوظ ہو رہا تھا۔

“نہیں مہرماہ نے تو مجھے نہیں بتایا۔”

شاک کے باعث اس سے یہی الفاظ ادا ہوئے۔ اور اب کہ وہ سیدھی ہو کر بیٹھ چکی تھی۔

“اوہ پھر وہ بھول گئی ہوں گی۔ کیا ہے ناں میں بہت جلدی ان سے نکاح کا خواہشمند تھا اس لیے زیادہ وقت نہیں تھا ۔ آخرکار محبت سے دور رہنا کافی مشکل کام ہے اس لیے جلد از جلد ان کو اپنا بنانا چاہتا تھا۔ تیاریوں میں انہیں وقت ہی نہیں ملا ہو گا اسی لیے وہ آپ کو انفارم کرنا بھول گئی۔”

مہرماہ کے ذکر پر لہجے میں محبت سموئے اس وقت زویا کو وہ نہایت برا لگ رہا تھا اور اس کے اڑے رنگ دیکھ کر اورہان کو اس وقت بہت مزہ آ رہا تھا۔

“میں چلتی ہوں۔”

وہ جانے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی۔

“ارے بیٹھے تو سہی آپ میری مہرماہ کی دوست ہیں ایسی چلی جائیں گی تو انہیں برا لگے گا اور مہرماہ کو کچھ برا لگے یہ تو میں برداشت نہیں کر سکتا ناں۔”

“نہیں اسے برا نہیں لگے گا۔”

افسوس اور غصے میں کہتی وہ جو پہلے ہی سیٹ سے اٹھ چکی تھی اب باہر جانے کے لیے قدم بڑھائے۔ اور لڑکھڑاتے قدموں سے رخ دروازہ کی جانب موڑا جیسے جوگرز نہیں بلکہ ہائی ہیلز پہن رکھی ہوں۔ اورہان نے سر جھٹکا اور اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔ یقینا اب وہ دوبارہ اس کے راستے میں نہیں آئے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عریش اپنے آفس میں موجود تھا جب اس نے اصغر کو بلایا۔

“اصغر، فہد کو کال کر کے بتاو کہ مجھے اس سے ملنا ہے۔”

“جی ٹھیک ہے سر “

اصغر وہیں کھڑا رہا تو عریش نے آئی برو اچکا کر اسے دیکھا۔

“کوئی کام ہے؟”

“وہ سر میری بیٹی بہت بیمار ہے اس کے علاج کے لیے رقم درکار ہے۔”

قدرے ہچکچا کر بتایا۔ چہرے پر پریشانی دکھائی دے رہی تھی۔

“کتنی رقم چاہیے؟”

“سر چار لاکھ مانگ رہے ہیں۔ “

عریش نے فوری طور پر چیک پر مطلوبہ رقم درج کی اور سائن کر کے اس کے حوالے کیا۔

“ٹھیک ہو جائے گی فکر نہیں کرو۔”

“شکریہ سر ۔ میں آپ کا یہ احسان کبھی نہیں بھول سکتا۔”

“فہد کو مجھ سے ملنے کی اطلاع دو ۔ مجھے اس سے فورا ملنا ہے۔”

“جوآپ کا حکم سر”

اس نے اپنے سر کے حکم کو پورا کرنے کی غرض سے پھرتی سے فہد کو کال ملائی۔ اصغر صرف عریش کا ڈرائیور ہی نہیں اس کا وفادار، اس کا سیکرٹری اور اس کے ہر کام میں اس کے ساتھ شریک ہوتا تھا۔ مگر یہ بات فہد اور عریش کے علاوہ کوئی نہیں جانتا تھا۔ دنیا کی نظروں میں وہ صرف عریش کا ایک معمولی سا ڈرائیور تھا۔

“فہد صاحب ، سر عریش آپ سے ابھی ملنا چاہتے ہیں۔”

وہ پرسکون سا بیڈ پر لیٹا ہوا تھا جب اسے عریش کا پیغام موصول ہوا۔

“خیریت تو ہے؟”

“یہ تو سر ہی آپ کو بتا سکتے ہیں۔ مجھے انہوں نے آپ تک ان کا پیغام پہنچانے کا کہا ہے۔”

“ٹھیک ہے میں تھوڑی دیر میں آتا ہوں۔”

یہ کہتے ہی وہ فورا اٹھا۔اس وقت سب اپنے اپنے کمروں میں آرام کر رہے تھے مگر اس کی کزن لان میں موجود تھی۔ اس کے دماغ میں ایک شرارت آئی مگر فلحال وہ عریش سے ملنے جا رہا تھا اس لیے پھر کسی وقت کے لیے سوچ کر وہ گاڑی میں آ کر بیٹھا۔ اور گاڑی گیٹ سے باہر لے گیا تو اس کی کزن نے سکون کا سانس خارج کیا۔ اسے لگا تھا کہ فہد کوئی بیہودہ حرکت کرے گا مگر اب اسے تھوڑی تسلی ہوئی۔ تو وہ اپنے کمرے کی جانب آ گئی۔

فہد ، عریش کے آفس آیا اور اس کے کمرے کی جانب بڑھا۔ کسی نے اس کو نہیں روکا کیونکہ وہ عریش کا خاص آدمی تھا۔

دروازہ ناک کر کے وہ کمرے کے اندر داخل ہوا تو عریش کو چھت کو گھورتے پایا۔

اس نے گلا کھنکھار کے متوجہ کرنا چاہا تو وہ پھر بھی چھت کو ہی گھور رہا تھا۔ اس نے ٹیبل پر دو تین بار ہاتھ مار کر ساتھ اس کو پکار کر مخاطب کیا تو وہ اپنے خیالات سے جاگا۔

“تم کب آئے؟”

بغیر چونکے عام سے لہجے میں پوچھا۔

“جب تم کسی کے خیالات میں گم تھے۔”

اس نے عریش کو چھیڑنا چاہا حالانکہ جانتا بھی تھا کہ عریش عورتوں کے بارے میں بات نہیں کرتا۔

“شٹ اپ “

“اوکے اوکے”

اس نے ہاتھ کھڑے کیے جیسے سرینڈر کیا گیا ہو۔

“کہو کیا کام تھا؟”

“کسی کو تباہ کرنا ہے۔”

ایک عزم کے ساتھ جلتے ہوئے لہجے میں کہا۔

“واو ، کون ہے وہ بدقسمت جسے عریش سلطان تباہ کرنا چاہتا ہے۔”

فہد تو یہ جان سے بہت ایکسائیٹڈ ہوا۔ آخر یہ اس کا پسندیدہ کام جو تھا۔

“بتاوں گا ابھی وقت نہیں ہے۔ بس جتنا کہوں اتنا کرو۔”

“اوکے باس “

عریش نے اسے تفصیلات سے آگاہ کیا تو فہد واپس چلا گیا۔ پیچھے اس کے دماغ میں صرف ایک ہی چیز چل رہی تھی اور وہ اپنے منہ میں ایک ہی بات بڑبڑا رہا تھا۔

“مہرماہ صرف عریش کی ہے۔”

نہ جانے قسمت میں کیا لکھا تھا اور تقدیر کیا کھیل کھیلنے جا رہی تھی۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مہرماہ نے نکاح کے لیے ایک ہفتے کی لیو لے رکھی تھی نکاح سے دو روز پہلے ہی اس نے یونیورسٹی جانا چھوڑ دیا تھا۔ آج ایک ہفتے بعد وہ یونیورسٹی گئی تو سب نے اس کو نکاح کی مبارکباد دی اور وہ سب سے مسکرا کر مل رہی تھی۔ جب وہ کلاس میں داخل ہوئی تو سب سٹوڈنٹس نے بھی اپنی پیاری اور قابل عزت ٹیچر کو مبارک باد دی جس پر اس نے خوشی سے ان کی مبارکباد قبول کی۔ مہرماہ اور فاریہ دونوں نے ہی اپنے رشتے کو واضح نہیں کیا تھا۔ کیونکہ کچھ سٹوڈنٹس کی سائیکی ہوتی ہے انہیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ اگر کوئی طالب علم کسی ٹیچر کا رشتہ دار یا جاننے والا ہے تو وہ اس کو فیور دے گا اور وہ نہیں چاہتی تھی کہ ان کے رشتے کو بنیاد بنا کر سٹوڈنٹ ان سے بد زن ہوتے۔ ایسے میں دونوں کے لیے مسائل پیدا ہو سکتے تھے۔ اس لیے اس بات کو فلحال نہ بتانا ہی مناسب سمجھا۔ فاریہ بہت خوش تھی اور اس کو یک ٹک دیکھ رہی تھی اس کی پیاری بھابھی گرین عبایا پر بلیک حجاب اوڑھے بے حد حسین لگ رہی تھی۔ فاریہ کو دیکھ کر اسے ایک نیا ہی احساس ہوا اب وہ صرف اس کی ٹیچر اور مہرو آپی نہیں بلکہ اس کی بھابھی بن چکی تھی۔ مہرماہ اور فاریہ کی نظریں ملی تو دونوں کے چہروں پہ انجانی سے خوشی چھا گئی۔

امل اپنی مہرماہ میم کی خوشی میں بہت خوش تھی۔ اس نے مہرماہ کو الگ سے مل کر مبارکباد دینے کا بھی سوچا۔ ابھی وہ فاریہ کے ساتھ بیٹھی مہرماہ کو فاریہ ہی کی طرح یک ٹک دیکھ رہی تھی۔ جس کے چہرے پہ آج معمول سے زیادہ گلابی پن تھا۔ بلش کرتی ہوئی وہ بہت معصوم دکھ رہی تھی۔

ہلکا پھلکا سا لیکچر دیا گیا اور پھر مہرماہ کلاس کو اللہ حافظ کہہ کر باہر چلی گئی۔ امل اس کے پیچھے بھاگی ۔

“مہرماہ میم”

مہرماہ رک چکی تھی۔ چہرے پر مسکراہٹ سجائے وہ اب مکمل طور پر اس کی جانب متوجہ تھی۔

“میم میں بہت خوش ہوں آپ کے لیے ۔ بہت بہت مبارک ہو۔”

چہکتی آواز میں امل نے اپنی خوشی کا اظہار کیا۔

“بہت شکریہ بیٹا “

“میم کیا میں آپ کو ہگ کر سکتی ہوں؟”

معصوم سی خواہش کا اظہار کیا۔

“وائے ناٹ بیٹا۔”

امل فورا سے پہلے مہرماہ کے گلے لگی۔ بہت عرصہ بعد کسی کے گلے لگ کر اس کے اندر سکون اتر گیا۔ جب وہ پیچھے ہٹی تو اس کی آنکھوں میں نمی چمکی تھی۔

“کیا ہوا بیٹا؟”

“کچھ نہیں میم ، مجھے آپ کا شکریہ بھی ادا کرنا تھا۔”

“شکریہ کس بات کا؟”

ناسمجھی سے امل کو دیکھ کر استفسار کیا۔

“میم اس دن کے بعد انہوں نے مجھے دوبارہ تنگ نہیں کیا۔ مجھے لگتا اب سب ٹھیک ہو گیا ہے۔”

“یہ تو بہت اچھی بات ہے امل لیکن آپ کو پھر بھی مکمل احتیاط کرنی ہے ناصرف اپنے کزن کی طرف سے بلکہ ہر نامحرم سے خود کو بچا کر رکھنا ہے۔”

“جیسا آپ کہہ رہی ہیں میں ویسے ہی کروں گی میم ۔ بس سب نارمل ہو جائے۔”

“ان شاء اللہ امل سب ٹھیک ہو جائے گا۔ آپ نے اللہ پاک سے رابطہ قائم رکھنا ہے۔ اور کبھی بھی نا امید نہیں ہونا۔”

“میم مجھے اللہ سے مانگ کر اب بہت سکون ملتا ہے۔ اب میں نے اس سے دوبارہ مانگنا شروع کر دیا ہے۔”

“اچھی بات ہے بیٹا۔ آپ اس سے مانگ کر کبھی مایوس نہیں ہونگی۔اب میری اگلی کلاس کا وقت ہے اس لیے میں چلتی ہوں آپ اپنا خیال رکھنا۔”

“میم آپ بھی اپنا بہت سارا خیال رکھا کریں۔”

اور وہ امل کی فکر اور خواہش پر کھلے دل سے مسکرائی۔

چھٹی کے وقت جب وہ باہر نکلی تو فاریہ کو اپنی گاڑی کے پاس ہی کھڑا دیکھا۔ ادھر اس وقت رش نہ ہونے کے برابر تھا۔

“فری”

“مہرو بھابھی میں بہت ایکسائیٹڈ تھی آپ کو دوبارہ دیکھنے کے لیے۔ میری بھابھی بن کر تو آپ بہت بلش کر رہی ہیں۔ “

مہرماہ نے شرم سے سر جھکا لیا۔ اورہان جو آج سپیشلی مہرماہ کو دیکھنے کے لیے ہی آیا تھا فاریہ کو پک کرنا تو ایک بہانہ تھا۔ وہ مسکراتا ہوا مطلوبہ جگہ تک آیا تو اس کو یوں شرماتا دیکھ کر ہی اس کی مسکراہٹ گہری ہوئی۔

“بھائی آ گئے۔”

فاریہ جو اورہان کو دیکھ چکی تھی اطلاع دینا مناسب جانا۔ مہرماہ نے جھٹکے سے سر اٹھا کر دیکھا تو بھوری آنکھیں اپنے دل کی سلطنت پر قبضہ کرنے والے بادشاہ پر جا ٹھہری۔ اور وہ تو اپنی ملکہ کا دیدار کرنے کے لیے اس کے روبرو کھڑا پوری شان سے اس کو دیکھ رہا تھا۔

“آپ”

شرمیلے پن کے ساتھ اس سے پوچھا یا جانے اس کو بتایا گیا۔

“جی میں”

فورا سے اورہان کا جواب آیا۔ فاریہ تو ان کو ایک دوسرے کی جانب دیکھتا پا کر بمشکل ہنسی روکے ہوئے تھی۔

“میرا مطلب آپ کب آئے۔”

“فری بیٹا آپ گاڑی میں جا کر بیٹھو۔”

“پر بھائی ابھی مجھے بھابھی سے بات کرنی تھی آپ تھوڑی دیر بعد آ جاتے۔”

اس نے منہ بسور کر جواب دیا ۔ ابھی تو وہ مہرماہ سے بات کرنے والی تھی۔

“گڑیا آپ کو تو روز بھابھی کو دیکھنا نصیب ہو گا مجھ بیچارے پر تھوڑا ترس کھاو۔”

اورہان نے معصومیت سے اپنا مدعا بیان کیا۔ فاریہ اس کی بات کو سمجھتی خاصا محظوظ ہوتی گاڑی میں جا کر بیٹھ گئی۔

“میں اس وقت آیا تھا جب آپ شرما رہی تھی۔”

وہ جی جان سے مہرماہ کی طرف متوجہ ہوا۔

“میں کب شرمائی؟”

حیرت سے اس کی جانب دیکھ کر پوچھا۔ اسے حقیقتا نہیں معلوم تھا کہ اورہان کے ذکر پر وہ شرما رہی تھی۔

دور سے دیکھنے والوں کو یہی اندازہ ہو رہا تھا کہ گویا روٹین کی کوئی بات چل رہی ہے۔ وہ دونوں فاصلے پر کھڑے تھے۔

“جب آپ بلش کر رہی تھی۔”

اس بات پر اس کے گال مزید سرخ ہو چکے تھے۔

“اورہان آپ “

قدرے ناراضی سے اس کو مخاطب کیا اور خاموش ہو گئی۔

“بات کو ادھورا تو نہ چھوڑیں مہرماہ۔”

“آپ کیا اتنے غور سے دیکھتے ہیں جو فورا پہچان جاتے ہیں۔”

“نہیں “

“پھر”

“جانتی ہیں نکاح سے پہلے کبھی آپ کو جی بھر کر نہیں دیکھ پاتا تھا مگر پھر بھی آپ کو جان جاتا تھا۔ آپ کی پسند، ناپسند کا علم ہو چکا تھا نہیں جانتا کہ کیا چیز ہے جو میرے دل کو آپ کے دل کی بات بتا دیتی ہے۔ مگر آپ کو پانے سے پہلے بھی آپ کا اورہان ہمیشہ آپ کا رہا ہے اور ہمیشہ آپ کا ہی رہے گا۔اور اب تو نکاح ہو چکا ہے اب تو آپ کو غور سے بھی دیکھ سکتا ہوں۔ کیا نہیں دیکھ سکتا؟ “

اپنے دل کا حال بتائے کر آخر میں شرارتا سوال پوچھا۔

“بالکل دیکھ سکتے ہیں۔”

جلدی جلدی میں دل کی بات زبان سے پھسل گئی تو اس نے دانتوں میں لب دبا لیے۔ اور اس بے اختیاری پر اورہان کے لبوں نے مسکراہٹ کو رکنے سے منع کر دیا۔ وہ کھلکھلا کر ہنسا تھا۔

“کسی نے آپ کو بتایا کہ آپ کی مسکراہٹ کسی کا بھی دل لوٹ سکتی ہے۔”

مہرماہ اس کو مسکراتا دیکھ وہیں تھم چکی تھی۔

“یقین جانیں مہرماہ پوری دنیا بھی کہہ دیتی کہ اورہان تمہاری مسکراہٹ پیاری ہے تو کبھی اتنا اچھا محسوس نہ ہوتا جتنا آپ کے تعریفی الفاظ پہ ہو رہا ہے۔ اور ایک بات اور مہرماہ مجھے صرف آپ کا ساتھ چاہیے کسی کے کہنے سے اورہان کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔”

دونوں باتوں میں مصروف تھے۔ اسی وقت وائٹ اوڈی میں آیا جائے تو فری جو اندر بیٹھی ان کو دیکھ رہی تھی کیونکہ آوازیں تو بہت ہلکی تھی اچانک موبائل پہ ہوتی بیل کی طرف متوجہ ہوئی۔ رنگ ٹون مختلف تھی اس لیے وہ جان چکی تھی کہ اورہان موبائل گاڑی میں ہی بھول گیا ہے۔ اس کی نظر فورا ڈیش بورڈ پر گئی جہاں اے ایس پی کالنگ لکھا آ رہا تھا۔

انس کے رینک سے تو وہ بھی واقف تھی مگر یہ نہیں جانتی تھی کہ اورہان نے انس کا نمبر کس نام سے فون میں سیو کیا ہے۔ نہ جانے کیسے بے اختیاری میں ہی وہ یس کر کے فون کان کو لگا گئی ۔ ورنہ کبھی اس نے کسی کے فون پر آتی کال ریسیو نہیں کی تھی۔ کیونکہ اس کے نزدیک یہ مینرز کے خلاف تھا۔

“کیا حال ہیں جناب کے؟”

ہنستی ہوئی آواز آئی تھی جس کو پہچاننے میں فاریہ کو ایک سیکنڈ بھی نہیں لگا تھا۔

“حال”

اس کی زبان سے فقط اتنا ہی ادا ہوا تھا۔

“فاریہ”

اس طرح پہچانے اور پکارے جانے پر فاریہ کے دل کی دھڑکن مدھم ہو گئی۔انس سیدھا ہو کر بیٹھ چکا تھا۔ کیا اسے فاریہ سے اپنے دل کا حال کہہ دینا چاہیے؟

لیکن اگر اس کی نظروں میں یہ کہہ کر میں نے اپنا مقام کھو دیا؟

“نہیں۔۔۔ میں فاریہ کی نظروں میں کبھی خود کو گرنے نہیں دے سکتا ۔ نہ جانے میں اس کے لیے کس مقام پر ہوں مگر جس پر بھی ہوں اس سے نیچے نہیں آنا چاہتا۔”

اپنے دماغ میں یہ بات سوچتے ہوئے اس نے اس موضوع پر بات نہ کرنے کو ہی ترجیح دی۔

“جی”

وہیں فاریہ اس امید میں تھی کہ شاید وہ اب کچھ بول دے۔ لیکن وہ ڈرا ہوا اس سے بات کرنے سے بھی اجتناب برت رہا تھا۔

“وہ مجھے اورہان سے بات کرنی تھی وہ کہاں پر ہے؟”

فاریہ کا دل ایک بار پھر سے ٹوٹ چکا تھا۔

“انہوں نے تو ایک بار میرا حال تک پوچھنے کی بھی زحمت نہیں کی ۔”

دل ہی دل میں سوچتے اس کی آنکھیں اشک بار ہو چکی تھی۔

میرے پاس سے جو گزرا میرا حال تک نہ پوچھا

میں کیسے مان جاوں کہ وہ دور جا کے رویا؟

“بھائی اس وقت باہر ہیں ان کا فون گاڑی میں رہ گیا تھا۔”

بمشکل خود کو رونے سے باز رکھتے جواب دیا لیکن انس کو اس کی آواز میں بھیگا پن محسوس ہوا تھا۔

“ٹھیک ہے میں بعد میں کال کر لوں گا۔”

اور انس نے بھاری دل کے ساتھ فون رکھ دیا۔

فاریہ کی آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹ کر بے مول ہوا۔ کال کٹ چکی تھی اور وہ غائب دماغی سے فون کو دیکھ رہی تھی۔

“یہ ہے تمہاری وقعت ان کی نظر میں فاریہ۔”

خود کو جواب دیتی وہ اذیت کا شکار ہو چکی تھی۔

اورہان مہرماہ کو خدا حافظ کہتا گاڑی میں آیا تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی اس کا دھیان اس وقت مہرماہ کی جانب تھا اس لیے اس کی توجہ فاریہ کی سرخ ہوتی آنکھوں پر نہ گئی۔

وہیں انس مجتبٰی آج پھر اپنی بزدلی پر خود کو کوس رہا تھا۔

“میں نے تو ایک بار بھی اس کا حال جاننے کی کوشش نہیں کی۔”

انس مجتبٰی نے اپنی بزدلی میں اس معصوم لڑکی کی ہنسی کو آنسوؤں میں تبدیل کر دیا تھا۔

تیرے پاس سے جو گزرا تو جنوں میں تھے فراز

جب دور جا کے سوچا تو زار زار روئے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔