Yaar-E-Gaar By Esha Afzal Readelle 50382 Yaar-E-Gaar (Episode 4)
No Download Link
Rate this Novel
Yaar-E-Gaar (Episode 4)
Yaar-E-Gaar By Esha Afzal
کام پڑ سکتا ہے
آدھے رشتے تو لوگ اسی لیے نبھا رہے ہیں۔
اگلی صبح مڈل کلاس طبقے میں بنے انس کے گھر پہ اپنی پوری روشنی کے ساتھ داخل ہوئی۔
آج بہت عرصے بعد وہ خود کو پر سکون محسوس کر رہا تھا ۔یہ سچ تھا کہ پولیس کے شعبہ میں جانا کبھی بھی اس کا خواب نہیں رہا تھا مگر کچھ چیزیں آپ اپنے لیے نہیں مگر اپنی فیملی اور ملک و قوم کے لیے بھی کرنا چاہتے ہیں۔
آج اس کے گھر میں بھی سکون کی فضا قائم تھی جو کم ہی دیکھنے کو ملتی تھی۔ سب بہت خوش تھے آخر کو ان کے بیٹے نے ان کا نام روشن کیا تھا جو کہ خاندان میں کوئی بھی نہیں کر پایا تھا۔
“انس آج مجھے تم پر بے حد فخر ہے۔”
وہ جو پولیس کی وردی پہنے کھڑا تھا اب مسکرا کر اپنے بابا کی جانب دیکھا۔
“شکریہ بابا”
اس کی ماں تو اس کے صدقے واری جا رہی تھی ۔ سعد بھی اس کے ساتھ ہی چپکا کھڑا تھا۔ اور اسے وردی پہنے دیکھ کر بہت پر جوش تھا۔وردی پہ موجود اس کا نام آج اس کے گھر والوں کے لیے اعزاز تھا۔
اتنی ہی دیر میں اس کے رشتہ دار اور محلے والے مبارک باد دینے کے لیے وہاں جمع ہونا شروع ہو گئے ۔
یہ وہی رشتہ دار تھے جنھوں نے کبھی برے وقت میں ان کا ساتھ نہیں دیا تھا اور اب جب ان پہ اچھا وقت آیا تو سب چاپلوسی کرنے وہاں جمع ہو گئے تھے۔
اپنے گھر کی مشکلات کو اس نے اکیلے ہی دیکھا تھا وہ بہت چھوٹا تھا جب سے اپنے گھر میں ہوتے فسادات کو دیکھتا آ رہا تھا۔
اس وقت تو کوئی اس کے ساتھ نہیں کھڑا تھا کسی نے اس معصوم کی معصومیت کو بچانے کی کوشش نہ کی تھی۔
نہ جانے لوگ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ آج کل کی ینگ جنریشن اپنے ساتھ ہوئی زیادتیوں کو معاف نہیں کرتی اور اگر کوئی دل بڑا کر کے معاف کر بھی دے تو اپنے ساتھ ہوا برا سلوک نہیں بھلاتی۔
اس کے دل میں بھی ان لوگوں کے لیے اب کوئی جگہ نہ تھی اور وہ بے جا مروت کا مظاہرہ بھی نہیں کر سکتا تھا ۔
لہٰذا ان کو ان کے حال پہ چھوڑ کہ وہ گھر سے باہر نکل آیا۔ وہ پیچھے سے اس کو پکارتے رہ گئے۔وہ جانتا تھا اب اس کے گھر والے اس کی صفائیاں دیں گے کہ وہ جلدی میں تھا اس لیے نہیں ملا وغیرہ وغیرہ مگر یہ بات وہ جانتا تھا کہ ان جیسے لوگوں کے ہونے نہ ہونے سے اب اسے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔
وہ اب گیٹ سے باہر آ گیا۔جہاں اس کا ساتھی، اس کی مشکل میں ہمیشہ اس کے ساتھ کھڑا رہنے والا ، اس کو حوصلہ دینے والا اس کا رازداں اپنی گاڑی کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑا فون استعمال کر رہا تھا۔
ہر لمحہ اس کے ساتھ رہنے والا آج اس کی خوشی کے موقع پہ کیسے پیچھے ہٹ سکتا تھا۔
وہ بھی آ کر اورہان سے لپٹ گیا۔اور فرط جذبات میں تقریبا رونے والا ہو گیا۔
“شرم کر پولیس میں جا کہ بھی رو رہا ہے۔”
اورہان کو اس کے رونے نے تپ چڑھائی جو آج اس خوشی کے موقع پہ بھی جذباتی ہونے سے باز نہیں آ رہا تھا۔
“تیرے جیسے دوست کے ہوتے ہوئے کون کمبخت روئے گا۔”
“چل شاباش ،اب تو نے اس عہدے کا حق نبھانا ہے ۔مجھے یقین ہے کہ تو کبھی غلط کام میں نہیں پڑے گا۔”
“یار یہ بہت مشکل ہے تو جانتا تو ہے ایمانداری سے اس پیشے کو نبھاتے ہوئے کتنے خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔”
“تو نے بس یہ بات اپنے دماغ میں بٹھا لینی ہے کہ تو نے عوام سے وفاداری نبھانی ہے یہ عہدہ اللہ تعالٰی نے تجھے دیا ہے اور اگر اس میں بے ایمانی ہوئی تو اللہ کو جواب دہ ہونا پڑے گا۔ جو لوگ اس عہدے میں بے ایمانی سے کام لیتے ہیں بظاہر تو ان کو سب کچھ اپنے اختیار میں نظر آتا ہے پر حقیقتا ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ ان کی آزمائش اللہ ان کو نواز کے کرتا ہے جب وہ اس آزمائش میں ناکام ہوتے ہیں تو ان کا انجام لوگوں کے لیے عبرت بنتا ہے۔
تو نے مثال بننا ہے ،لوگوں کا مسیحا ۔”
یہ کہہ کہ وہ خاموش ہو گیا۔
“بہت شکریہ تیرا یار ، ویسے تو موٹیویشنل سپیکر کیوں نہیں بن جاتا؟”
چہرے پہ سنجیدگی تھی وہ بالکل بھی شرارت کے موڈ میں نہیں تھا۔
“اگر انسان دنیا جہان کو لیکچر دینے کی بجائے کسی ایک کی زندگی کو بہتر بنانے کی کوشش کر لے اور اسے کرب سے نکال لے تو میرا نہیں خیال کہ اسے دنیا والوں کی واہ واہ کی ضرورت ہو گی۔”
“کاش سب تیرے جیسے ہو جائیں اور دنیا کی نظر میں اچھا بننے کی بجائے حقیقت میں کسی کی زندگی کو سنوارنے کی وجہ بنے۔ جیسے تو مجھے اذیت سے نکالنے والا ہے ۔”
“ایک تو یار جو تو ہر بات پہ سینٹی ہو جاتا ہے اس کا حل نکالنا پڑے گا۔ چل اب ،اس سے پہلے کہ تجھے پہلے دن ہی لیٹ پہنچنے پر اچھی خاصی سننی پڑ جائے۔ اور ہاں ماما بابا بھی تجھے مبارک باد کہہ رہے تھے اور ماما نے تو مجھے خاص تاکید کی ہے کہ آج تو اپنے گھر والوں کے ہمراہ ہماری طرف ڈنر کرے گا۔”
“انکل آنٹی کا بہت شکریہ، ٹھیک ہے میں آ جاؤں گا گھر والوں کے ساتھ ۔”
“چل پھر نکل اپنی ڈیوٹی پہ ،اللہ کی امان میں”
“اللہ حافظ “
اور انس نے اپنے فرض کی جانب پہلا قدم بڑھایا۔
__________
جب سے فاریہ کو انس اور اس کی فیملی کے آنے کا پتا چلا تھا اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ اتنی خوشی کیوں محسوس کر رہی ہے۔
وہ اس کی کامیابی پہ خوش تھی یا آج اس کو دیکھنے کی خوشی حاوی تھی ۔
کچھ لوگ خاموش رہ کر بھی لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنا جاتے ہیں۔ وہ بھی انہی میں سے تھا ۔اس کے بچپن کے حالات اس کے سامنے تھے اور وہ حیران ہوتی تھی کہ اتنے ٹاکسک ماحول میں رہ کر بھی وہ اتنی عزت کرنے والا ہے اس نے کبھی فاریہ کی طرف دوسری نظر اٹھا کر نہیں دیکھی تھی ۔ اور یہ صرف فاریہ کے ساتھ ہی نہیں ، وہ کسی بھی لڑکی کو نظر بھر کر نہیں دیکھا کرتا تھا۔
اور وہ تو نہ جانے کس خوشی فہمی کا شکار ہو چکی تھی۔
آج تو اس کا یونیورسٹی جانے کا بھی دل نہیں کر رہا تھا مگر جب مہرماہ کی کلاس یاد آئی تو فورا جانے کی تیاری پکڑی۔
———-
اورہان کو آج کنسٹرکشن سائٹ کا وزٹ کرنا تھا جو پروجیکٹ اس کو ملا تھا اس کے لیے بے حد محنت کی ضرورت تھی۔
اس وقت وہ کنسٹرکشن سائٹ پر موجود تھا اس کی کمپنی دوسری کمپنیوں سے سامان حاصل کر کے کسٹمر کے بتائے ہوئے نقشہ کے مطابق عمارتیں تیار کیا کرتی تھی اور یہ حقیقت تھی کہ عمارتیں بنانا اس کا شوق اور جنون تھا۔
لیکن ایک مقصد بھی شامل تھا کیونکہ مقصد کے بغیر تو انسان کچھ بھی نہیں۔ انسان میں اور بھیڑ بکریوں میں کیا فرق رہ جائے اگر انسان کے پاس کوئی عظیم مقصد نہ ہو ۔ ہر انسان کا شوق ہی اس کا مقصد ہو یہ ضروری نہیں ہوتا مگر شوق کو مقصد بنایا جا سکتا ہے کیونکہ شوق صرف اپنی ذات سے منسلک ہوتا ہے جبکہ مقصد دوسروں کی ذات کو نفع پہنچانے سے منسلک ہوتا ہے۔
اس نے بھی اپنے شوق کو اپنا مقصد بنا لیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسری جانب مہرماہ کلاس لے رہی تھی۔پڑھانے کے بعد سوال جواب کا مرحلہ شروع ہوا۔
“میم جیسا کہ آپ نے کہا کہ کچھ مجرم سوسائٹی کی وجہ سے بنتے ہیں ، تو کیا سوسائٹی قصوروار نہیں ہوتی؟”
چوتھی رو میں بیٹھی لڑکی نے استفسار کیا۔
“بالکل ہوتی ہے ، کوئی بھی پیدائشی مجرم نہیں ہوتا ، ہر مجرم کے پیچھے اس کے جرم کے پیچھے ایک کہانی ہوتی ہے ۔ صرف مجرم کو قصوروار نہیں ٹھرایا جا سکتا۔آپ نے نیوٹن کا تیسرا لاء تو بچپن سے پڑھ رکھا ہے کہ ہر عمل کا ردعمل ہوتا ہے مگر اتنی ہی مقدار میں نہ زیادہ نہ کم ۔ تو مجرم کے ساتھ بھی ایک عمل ہوتا ہے جس کا وہ ردعمل دیتا ہے مگر حد سے تجاوز کر کے اور غلط راستوں کے ذریعے۔
اللہ تعالٰی نے بدلہ لینے سے منع نہیں کیا مگر صرف اتنا جتنا آپ نے برداشت کیا نہ زیادہ نہ کم۔
جیسا کہ اللہ پاک قرآن میں فرماتے ہیں۔
وَاِنۡ عَاقَبۡتُمۡ فَعَاقِبُوۡا بِمِثۡلِ مَا عُوۡقِبۡتُمۡ بِهٖۚ وَلَٮِٕنۡ صَبَرۡتُمۡ لَهُوَ خَيۡرٌ لِّلصّٰبِرِيۡنَ ﴿۱۲۶﴾
“اور اگر تم سزا دو تو ایسی ہی سزا دو جیسی تمہیں تکلیف پہنچائی تھی اور اگر تم صبر کرو تو بیشک صبر والوں کو صبر سب سے اچھا۔”
کچھ لوگ شورٹ۔ ٹیمپرڈ ہوتے ہیں انہیں بہت جلد غصہ آ جاتا ہے وہ جذباتی قسم کے لوگ ہوتے ہیں انہیں اسی وقت اپنا بدلہ چاہیے ہوتا ہے اور جیسا کہ شیطان ہمارا کھلا دشمن ہے اور جب انسان غصہ میں ہوتا ہے تو شیطان اس پہ حاوی ہو جاتا ہے۔ تو اس وقت وہ انسان بھی اپنے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے اور ایکسٹریم قدم اٹھا لیتا ہے جو اسلام کے کرائیٹیریا سے تجاوز کر جاتا ہے۔ اسی لیے اللہ نے غصہ کو حرام قرار دیا ہے کیونکہ یہ انسان سے وہ کام بھی کروا جاتا ہے جو وہ کبھی ہوش و حواس میں نہ کرتا۔
لیکن اللہ نے صبر کا آپشن بھی دیا ہے ۔جو سب سے بہتر ہے۔اس کے کاموں میں ہمیشہ حکمت پوشیدہ ہوتی ہے۔
مجرم بننے کی چند وجوہات اگر ہم دیکھیں تو ہو سکتا کہ اس کے گھر کے کسی فرد کے ساتھ ظلم ہوا ہو کسی کا قتل یا کسی کی عزت کی دھجیاں اڑائی گئی ہوں یا اور بھی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں ۔ وہ انصاف لینے کے لیے گیا مگر اس کو انصاف نہ ملا ، اس نے اپنی ساری جمع پونجی خرچ کر دی کبھی اس کو دھمکیوں سے چپ کروا لیا گیا تو کبھی مخالف پارٹی کا وکیل شاطر نکلا ،یا پھر جج بک گیا۔ تو اس سب کا انجام کیا ہوتا ہے یا تو وہ شخص خاموش ہو جاتا ہے کیونکہ وہ جان جاتا ہے کہ انصاف نہیں ملے گا یا وہ انتقام لینے کا سوچتا ہے ۔ وہ ہر اس شخص کو برباد کرنا چاہتا ہے جس کی وجہ سے وہ اور اس کے گھر والے یا عزیز اذیت میں مبتلا ہوتے ہیں۔ مگر اس سب کے لیے وہ غلط راستہ چنتے ہیں اور سب سے اہم بات وہ خود کو وکٹم کہتے ہیں جنھوں نے برداشت کیا اور یہاں سے شروع ہوتا ہے انتقام کا سائیکل۔”
“میم ہم اس سب کو کیسے بہتر کر سکتے ہیں کوئی تو طریقہ ہو گا ؟”
“ہر مشکل کا حل ہوتا ہے ، ہر تکلیف کا ازالہ کیا جا سکتا ہے ہمیں اپنے فرائض ایمانداری سے سرانجام دینے ہوں گے۔ اگر ہم لوگوں کو اذیت دینا چھوڑ دیں تو کوئی تکلیف میں نہیں آئے گا ، اگر وکیل ایماندار ہوں تو وہ کبھی غلط کام کے لیے دلائل نہیں دیں گے اور جج اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے حق کے ساتھ فیصلہ کرے تو کوئی انصاف سے محروم نہیں ہوگا۔سب کو مل کر معاشرےکو بہتر بنانےکی کوشش کرنا ہو گی ہاں یہ سچ ہے کہ اکیلے انسان کے لیے یہ کرنا بہت چیلنجنگ ہوتا ہے لیکن اگر وہ یہی سوچےکہ وہ کچھ نہیں کر سکتا تو یہ اس کی بہت بڑی بھول ہے قطرہ قطرہ مل کر ہی دریا بنتا ہے ہمیں امر بالمعروف و نہی عن المنکرکا فرض نبھاناہے ۔ یعنی نیکی کا حکم دینا ہے اور برائی سے منع کرنا ہے۔ اگر ہر شخص اپنے فرائض بخوبی سرانجام دے تو یقینامعاشرے میں سدھارآئے گا اور آپ اللہ تعالٰی کے سامنے بھی سرخرو ہونگے۔”
کلاس کا ٹائم ختم ہو چکا تھا اور وہ سٹوڈنٹس کو اس بارے میں سوچنے کے لیے اہم نظریہ دے گئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گرے بنگلے میں آج ہلچل مچی ہوئی تھی۔ صوفیا بیگم کک کو کھانے کا مینیو سمجھا رہی تھیں اور ملازموں سے کہہ کہ ڈائیننگ ٹیبل کو خوبصورتی سے سجوا رہی تھیں ۔ ان کے ہر انداز سے نفاست جھلک رہی تھی۔
فاریہ گھر میں داخل ہوئی تو تیاریاں دیکھ کر خوش ہوئی ۔ بچپن سے اب تک انس کی ہر خوشی کو اورہان کے ساتھ ساتھ اس کی فیملی بھی سیلیبریٹ کیا کرتی تھی۔ جب وہ پرائز جیتتے تھے تو اورہان ، انس کو بھی اپنے ساتھ لایا کرتا تھا۔ اورہان کی خوشی ان کی خوشی تھی ۔
“اسلام علیکم ماما”
“وعلیکم السلام بیٹا ، فریش ہو جاو میں جوس بجھواتی ہوں۔”
“وہ سب تو ٹھیک ہے ماما ، ویسے کافی تیاریاں ہو رہی ہیں۔”
شرارت سے کہا گیا۔
“ہاں اور تم تو چھوٹی بچی ہو جس کو پتا نہیں کہ یہ کیوں ہو رہی ہیں۔”
“ماما اب چھوٹی ہی تو ہوں۔ ایک تو مجھے یہ سمجھ نہیں آتا جب ہم کسی معاملے میں مشورہ دیتے ہیں تو کہتے ہیں چھوٹی ہو چھوٹی بن کے رہو اور جب کسی ذمہ داری کی بات آتی ہے تو کہتے ہیں اب چھوٹی بچی نہیں ہو۔”
“یہ دو دن نہیں ہوئے تمہیں لاء کالج میں جاتے ہوئے اور باتیں دیکھو اپنی۔ رکو ذرا کونسی ذمہ داریاں ڈالی ہیں تمھارے سر میں نے؟”
صوفیا بیگم نے اس کو بھاگنے کی تیاری کرتا دیکھ استفسار کیا۔
“ماما مذاق سمجھا کریں نہ سیریس کیوں ہو رہی ہیں۔”
“ایک تو تم نے سارے مذاق میرےساتھ ہی کرنے ہوتےہیں۔ “
“اب اپنے دوستوں کے ساتھ ہی مذاق کرتے ہیں اور آپ تو میری بیسٹ فرینڈ ہیں۔”
“اچھا جاو ، اب زیادہ مکھن نہیں لگاو۔”
“ویسے سننے میں آیا ہے کہ مکھن کافی مہنگا ہو گیا ہے اور اب مجھ غریب کی جیب اتنا اجازت نہیں دیتی لیڈی۔”
وہ تو آج چہکتی پھر رہی تھی۔
“اچھا چلو جاو اب ریسٹ کرو لو شام کو مہمانوں نے بھی آنا ہے۔”
وہ اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی اور ہر ماں کی طرح انہوں نے بھی اپنی اولاد کے لیے ڈھیروں خوشیوں کی دعا کی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مہرماہ اپنے کمرے میں موجود نماز پڑھنے میں مشغول تھی۔ جب مریم اس کے پاس آئی ۔جب وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئی تو مریم نے بات شروع کی۔
“مہرو آنٹی آنا چاہ رہی ہیں”
“ہاں تو اس میں کیا مسئلہ ہے؟”
“عماد کہہ رہا تھا کہ انہوں نے جلدی مچائی ہوئی ہے۔”
“کس چیز کی جلدی آپی ، سہی طرح بتائیں وللہ ایک تو آپ ہر چیز سے پینک کر جاتی ہیں۔”
“اب ہر کوئی تمہاری طرح مضبوط اعصاب کا مالک نہیں ہوتا مہرو۔آنٹی باقاعدہ شادی کی ڈیٹ فکس کرنے کے لیے آنا چاہ رہی ہیں۔وہ بھی جلد از جلد ۔ “
“تو آپی اس میں مسئلہ کیا ہے ایک نہ ایک دن تو آپ نے جانا ہی ہے۔”
اندر سے دکھی تو وہ بھی تھی مگر اپنے جذبات کو قابو کرنا اسے بخوبی آتا تھا۔
“جب تمھاری شادی ہو گی نہ تب پوچھوں گی۔”
اپنی طرف سے مریم نے دھمکی لگائی۔ مگر اس پہ اس کا خاطر خواہ اثر نہ ہوا ۔
“شادی نہ ہو گئی آپی کوئی سی ایس ایس کا پرچہ ہو گیا ۔ نہیں سیریسلی مطلب اب ایسا بھی کونسا محاذ ہے بھئی۔”
“بات محاذ کی نہیں ہے ، عماد بھی بہت اچھے اور سلجھے ہوئے ہیں مگر اپنے ماں باپ کے گھر کو چھوڑنا آسان کام نہیں ہوتا۔ پوری عمر جن کے ساتھ گزاری ایک لمحے میں ان کو چھوڑ کہ رخصت ہونا کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔ اور ویسے بھی شادی کو بہت ذمہ داری سے نبھایا جاتا ہے ۔ آپ کی غلطیاں آپ کو اور آپ سے جڑے لوگوں کو بہت نقصان پہنچا سکتی ہیں۔”
” بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں آپ اور مجھے یقین ہے آپ ایک اچھی بیوی اور ایک اچھی بہو ثابت ہوں گی۔میری دعا ہے آپ اور عماد بھائی ماما بابا کی طرح آئیڈیل کپل ثابت ہوں۔”
“آمین مہرو۔ اب ماما بابا کو بھی بتا دیتی ہوں۔باقی جیسا بڑے طے کریں۔”
“سب بہتر ہو گا آپی فکر مند نہ ہوں۔”
مہرماہ نے اس کے ہاتھ پہ دباؤ ڈال کر یقین دہانی کروائی۔
“ان شاء اللہ “
دونوں نے بیک وقت بولا اور جس کام میں اللہ پاک کا نام شامل ہو جائے وہاں کسی ناممکن کی گنجائش باقی رہتی ہے کیا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زاویار گھر آیا تو اس کی حالت خراب تھی کیونکہ وہ اپنا ایکسیڈنٹ کروا کہ آ رہا تھا۔سب سے پہلے ماریہ بیگم نے اسے اس حالت میں دیکھا یونیفارم کچھ جگہوں سے پھٹا ، کہنیوں اور گھٹنوں پہ رگڑیں،ہاتھ پہ خون کی چند ننھی بوندیں نظر آ رہی تھیں ان کی تو جان پہ بن آئی ۔اپنی اولاد کو اس حال میں کس ماں سے دیکھا جاتا ہے ۔
“زاوی کیا ہوا تمھیں؟ یہ اتنی چوٹیں کہاں سے لگوائی؟ ایکسیڈنٹ ہوا ہے نہ تمھارا؟ اسی دن کے لیے میں نے تمھارے بابا کو کہا تھا اسے بائک مت دیں مگر تمھیں ہی شوق چڑھا تھا۔”
گو کہ وہ ٹینشن کے مارے سوال پہ سوال کر رہی تھیں۔ اور وہ معصوم بنا کھڑا تھا کیونکہ چوٹ تو کوئی خاص نہیں لگی تھی مگر اب جو پریڈ اس کی ہونی تھی وہ سوچ کہ ہی پریشان ہو گیا۔اتنی دیر میں آوازیں سن کر مہرماہ اور مریم لاوئنج میں آئیں۔زاوی کی حالت پہ پریشان تو وہ بھی ہو گئیں تھی ۔
“زاوی انجیکشن لگوا کہ آ رہے ہو یا ویسے ہی آ گئے ہو۔”
یہ بولنے والی مریم تھی ۔
“آپی اتنا بھی مسئلہ نہیں ہے آپ لوگ ایویں پریشان ہو رہے ہو۔”
“جانتے ہو ماحول میں کتنے بیکٹیریا پائے جاتے ہیں اور اگر وہ ٹیٹنس والے ہوئے تو پہلے تو انفیکشن ہوتا ہے پھر نروس سسٹم افیکٹ ہوتا ہے اور پھر مسلز۔ بعد میں تم جیسے کہتے ہیں ہمیں تو پتا ہی نہیں چلا کہ یہ کیسے ہوا۔ لاپرواہی کی بھی حد ہوتی ہے۔”
“بس کریں آپی پتا ہے ہمیں کہ آپ کو بائیولوجی بہت آتی ہے مگر آپ تو بچے کو حوصلہ دینے کی بجائے ڈرانے ہی بیٹھ گئی ہیں۔ ماما کا ہی خیال کر لیں اور ہاں آپ کو بتاتا چلوں میں انجیکشن لگوا کر آیا ہوں کیونکہ میں بھی ایف -ایس-سی پری میڈیکل کر رہا ہوں اور مجھے بھی یہ سب معلوم ہے میں آپ کو بیکٹیریا کا نام بھی بتا سکتا ہوں۔”
پہلے اپنی ماما کی طرف اشارہ کیا جو مریم کی بات سن کہ ڈر گئی تھیں پھر شرارت سے اپنی طرف اشارہ کر کے فخریہ بتایا۔
“بس بس آئے بڑے ، بابا کو آنے دو تمہاری شکایت لگاوں گی پھر دیکھتی ہوں بابا کیسے تمہیں بائک دیں گے۔”
“نہ تنگ کرو میرے بچے کو وہ بیچارا پہلے ہی زخمی ہوا پڑا ہے۔”
ساتھ ساتھ وہ اس کے زخموں کا معائنہ بھی کر رہی تھیں۔ کیونکہ ہر ماں ڈاکٹر بھی ہوتی ہے اور ان کی ڈاکٹری کو نہ تو انڈر ایسٹیمیٹ کرنا چاہیے اور نہ ہی چیلنج۔ ورنہ ان کے ہاتھوں میں آپ کی سرجری کا سامان بھی آ سکتا ہے۔
“ہاں ہاں لے جائیں اسے ،آیا بڑا ایف – ایس- سی پری میڈیکل، ہونہہ۔۔”
“ماما ویسے آپی نے آپ کو ایک بات بتانا تھی۔کیوں آپی؟”
مہرماہ نے دانتوں تلے زبان دبا کہ بمشکل ہنسی روکی۔
“مہرماہ تم شروع ہو جاو اب “
“ماما ان کی ساس محترمہ کو اپنی بہو یاد آ رہی ہیں بہت ،تو وہ کہہ رہی ہیں کہ ۔۔۔۔۔”
وہ تیزی تیزی سے بتانا شروع ہو چکی تھی۔
“رک جاو مہرو”
مریم نے اس کے منہ پہ ہاتھ رکھ کر اسے فضول بولنے سے روکا۔
“کیا کہہ رہی ہیں فہمیدہ بھابھی؟”
“ماما وہ شادی کی ڈیٹ فکس کرنے کے لیے آنا چاہ رہی ہیں۔”
“ہاں تو یہ تو بہت خوشی کی بات ہے۔”
یہ کہنے والا زاویار تھا۔
“تمہاری تو میں ہڈیاں توڑتی ہوں، بچو اب میرے ہاتھوں سے۔”
وہ زاوی کو مارنے کی غرض سے آگے بڑھی کہ ماریہ بیگم نے اسے روکا۔
“لڑکی سسرال والی ہونے والی ہو ۔ اب یہ حرکتیں چھوڑ دو۔”
“دیکھنا یاد کریں گے آپ سب مجھے ۔”
ماں باپ اور بہن بھائی کو چھوڑنے کے خیال سے ہی وہ رونے لگ گئی۔
“لو آپی ، یہ کیا بات کہہ دی آپ نے آپ کو کیا لگتا ہم آپ کو بھول جائیں گے ۔ وہ الگ بات ہے کہ مجھے بڑی خوشی ہو گی یہ جو بالکونی والا کمرہ آپ نے ہتھیا رکھا تھا اب وہ میرا ہو جائے گا۔”
وہ بہت پیار سے اسے دیکھ کہ کہہ رہا تھا اور آخر میں اپنے دل کی بات بھی کہہ ڈالی۔
“کیوں تمہیں کس خوشی میں ملے گا میرا کمرہ ہاں۔ ماما وہ کمرہ میرا ہی رہے گا ناں میں جب آیا کروں گی تو اپنے کمرے میں ہی رہا کروں گی۔”
گو کہ اپنی ماں سے تصدیق چاہی تھی۔
“ہاں میری جان وہ کمرہ تمہارا ہی رہے گا ، بیٹیاں کبھی پرائی نہیں ہوتی وہ اپنے باپ کہ گھر پہ ہمیشہ حق رکھتی ہیں اور شوہر اور بیٹے کے گھر پر بھی۔ لوگ کہتے ہیں بیٹیوں کا کوئی گھر نہیں ہوتا مگر سچ پوچھو تو بیٹیوں کے بغیر کوئی گھر نہیں ہوتا۔ادھر آو میری مریم۔”
اور مریم اپنی ماما کے گلے لگ گئی ۔ مہرماہ اور زاویار بھی ان کے ساتھ ہی چپک گئے۔دنیا والے لاکھ کہیں کہ چھوٹا بچہ زیادہ پیار لیتا ہے مگر حقیقت یہی ہوتی ہے کہ ماں باپ کو پہلا بچہ بے حد عزیز ہوتا ہے کیونکہ اس نے ہی ان کو ممتا اور باپ کی شفقت محسوس کروائی ہوتی ہے اور وہ اس احساس کو کبھی بھول نہیں پاتے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شام کے وقت انس اپنی فیملی کے ہمراہ گرے بنگلے میں داخل ہوا۔ سینٹرو کو گیراج میں پارک کیا اتنی دیر میں اورہان ان کو ریسیو کرنے دروازے تک آیا۔اور ان کو لے کر اندر داخل ہوا جہاں حیدر صاحب اور ان کی اہلیہ ان کا ویلکم کرنے کے لیے موجود تھے وہیں سائیڈ پہ وہ بھی کھڑی تھی جو اس کی موجودگی محسوس کر کے اب نروس ہو رہی تھی ۔ ایسا نہیں تھا کہ انس کے کسی رویے نے اسے یہ محسوس کروایا تھا مگر شاید محبت بہت کچھ فرض بھی کر لیتی ہے۔ اسی لیے تو جو وہ خود محسوس کرتی تھی اسے لگتا تھا وہ بھی یہی محسوس کر رہا ہے۔
حیدر صاحب تو اپنے بیٹے کے دوست کی خوشی میں آگے بڑھ کر اس کے گلے لگے۔وہ جو مطلب کے رشتے دیکھتا آیا تھا اس خلوص کا بہت احسان مند تھا۔
“برخوردار تم بالکل مجھے اورہان کی طرح عزیز ہو جیسے اس کی کامیابی نے مجھے خوشی دی تھی آج بھی میں ویسی ہی خوشی محسوس کر رہا ہوں۔”
“انکل یہ آپ کی عنایت ہے ورنہ میں نے اپنے سگے رشتوں کو بھی بے وفا پایا ہے اور اپنوں کی وجہ سے بہت تکلیف سہی ہے۔”
اس بات پہ انس کے والدین کے درمیان نظروں کا تبادلہ ہوا وہ جانتے تھے کہ وہ سچ کہہ رہا ہے۔ ان کی وجہ سے اس نے بہت کچھ برداشت کیا تھا۔ وہ جس نے اپنے ہنسنے کھیلنے کے دنوں میں بھی اذیت کاٹی تھی۔ وہ اس سے زیادہ نیگیٹو ہو سکتا تھا اگر وقت پہ اورہان نے اسے سنبھالا نہ ہوتا۔
“بات سگے یا سوتیلے کی نہیں ہوتی بیٹا، اپنے وہ ہوتے ہیں جو ہمیشہ آپ کے ساتھ کھڑے ہوں چاہے حالات جیسے بھی ہو ، وہ جو درست کام میں آپ کا ساتھ دیں اور برے کام سے آپ کو روکیں اور ہر ایک کو ہر رشتے میں پرفیکشن نہیں ملتی ، اللہ پاک نے آپ کے لیے کچھ رشتے بہت خوبصورت بنائے ہوتے ہیں جبکہ دوسروں لوگوں کے لیے وہی رشتے وبال جان بن جاتے ہیں ، مگر جو آپ کو عطا ہوا اس پہ راضی رہنا سیکھ لیں۔ بہت سے لوگ ہیں جو ان رشتوں سے بھی محروم ہوتے ہیں جن کو آپ بہت آسانی سے دھتکار دیتے ہیں ۔ لہٰذا کبھی بھی یہ مت سوچیں کہ صرف آپ نے ہی رشتوں میں کمی دیکھی ہے ۔اللہ تعالٰی نے اس دنیا میں ہمیں آزمانے کے لیے بھیجا ہے۔ہر انسان کی آزمائش مختلف ہوتی ہے بچے،اس لیے اس کو اپنی محرومی نہیں کہنا چاہیے۔”
حیدر صاحب کو سمجھاتے دیکھ آج ان کا دل چاہ رہا تھا کہ کاش انہوں نے بھی اپنے بیٹے کو کبھی ایسے تسلی دی ہوتی، اس کے درد کو سنا ہوتا،اس کی پریشانی پہ اس کو حوصلہ دیا ہوتا ۔ اپنے مسائل میں انہوں نے کبھی اپنے بیٹے پہ اتنی توجہ نہیں دی۔
“اچھا اب چلو پہلے ڈنر کرتے ہیں آج ساری ڈشز تمہاری پسند کی بنوائی ہے میں نے۔”
صوفیا بیگم کے کہنے پہ وہ دھیمی مسکان لیے آگے بڑھا ۔ ایک نظر اس کی فاریہ پہ بھی گئی جسے وہ فوری جھکا گیا اور فاریہ پھر اس کا غلط مطلب لے بیٹھی۔
خوشگوار ماحول میں کھانا کھایا گیا اور باتوں کا دور بھی چلتا رہا۔وقتا فوقتا فاریہ کی نگاہیں اس کی جانب
اٹھتی رہیں جسے وہ بھی محسوس کر رہا تھا مگر اندازہ نہیں لگا پایا۔
اس کے بعد وہ اجازت طلب کر کے گھر کو روانہ ہو گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
