Yaar-E-Gaar By Esha Afzal Readelle 50382 Yaar-E-Gaar (Episode 15)
No Download Link
Rate this Novel
Yaar-E-Gaar (Episode 15)
Yaar-E-Gaar By Esha Afzal
اورہان اور اس کے مہمان واپس اپنے اپنے گھروں کو لوٹنے کی تیاری پکڑ چکے تھے۔ اس کا تو بس نہیں چل رہا تھا کہ رخصتی کی اپیل درج کروا دے لیکن اب تو یقینا اسے اپنے ہی بابا سے مار پڑ جانی تھی اس لیے اس نے جیسے تیسے دو ماہ کا انتظار کرنا مناسب سمجھا ۔ وہ مہرماہ کو بھی اس رشتے کو سمجھنے کا موقع دینا چاہتا تھا حالانکہ جان چکا تھا کہ وہ بھی اسے پسند کرنے لگی ہے مگر وہ چاہتا تھا کہ وہ بھی اس سے محبت کرے چاہے اتنی نہ کرے جتنی وہ کرتا ہے۔ کیونکہ وہ تو محبت سے کہیں آگے بڑھ چکا تھا۔
جب وہ گھر واپس آئے تو اس کی پھوپھو بھی ان کے ساتھ گرے بنگلے میں آئی۔ جب اسے پھوپھو کے اقدام کا علم ہوا تو وہ ششدر ہو گیا تھا مگر یہ فیصلہ وہ اپنی گڑیا اور اپنے بابا پہ چھوڑنا چاہتا تھا۔ اگر ایک بار بھی فاریہ کہہ دے کہ وہ اس رشتے سے راضی نہیں تو وہ اپنی گڑیا کے لیے ہمیشہ کی طرح سٹینڈ لے گا۔ مگر فلحال یہ بات پھوپھو سے کرنا ضروری تھی۔
حیدر صاحب کو بیک وقت افسوس اور غصہ دونوں نے آن گھیرا تھا۔ جب انہوں نے کہا تھا کہ ابھی فری چھوٹی ہے اور وہ اس کو کسی رشتے میں نہیں باندھنا چاہتے تو انہوں نے پھر ان سے پوچھے بغیر اتنا بڑا قدم کیسے بڑھایا۔ گھر داخل ہوتے ہی وہ پہلے اپنے کمرے میں گئے پھر فاریہ کے علاوہ سب کو لاوئنج میں بلایا۔ آج ان کے بیٹے کا نہایت خاص دن تھا جس کو خراب کرنے میں ان کی بہن نے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔
سب لاوئنج میں جمع ہو چکے تھے اور فاریہ جو ابھی تک صدمے کی حالت میں تھی وہ بھی سائیڈ میں کھڑی ہو چکی تھی لیکن ایسی جگہ جہاں وہ کسی کو نظر نہ آئے۔
بالآخر حیدر صاحب نے بات کا آغاز کیا۔
“نگین جب میں نے ابھی رشتہ طے نہیں کیا تو تمہیں کیا ضرورت تھی کہ بھری محفل میں میری فری کا رشتہ اپنے بیٹے سے کر دیا۔”
وہ طیش میں تھے مگر پھر بھی تحمل مزاجی سے بات کر رہے تھے۔ اپنی اولاد انہیں ہر بہن بھائی سے زیادہ عزیز تھی۔ مانا کہ ان کے بھتیجے میں کوئی کمی نہیں تھی کہ اسے انکار کیا جائے مگر جب انہوں نے ابھی مناسب نہیں سمجھا تھا تو نگین پھوپھو کو بھی انتظار کرنا چاہیے تھا۔
“بھائی یہ تو کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے جو کل ہونا ہے اس کے اعلان میں کون سی برائی ہے۔”
“اگر میں وہاں کچھ نہیں بولا تو اسے میرے کمزوری نہیں سمجھو نگین ۔میں تمہاری اور اپنی بیٹی کی عزت کی وجہ سے خاموش تھا مگر تم نے میرا مان توڑ دیا۔”
“بھائی اگر آپ کو برا لگا تو میں معافی چاہتی ہوں میرا حقیقتا آپ کا دل دکھانے کا ارادہ نہیں تھا۔ میں تو خوشی کو دوبالا کرنا چاہتی تھی۔ اگر آپ کو اتنا برا لگا تو میں معافی چاہتی ہوں ۔”
معصومیت سے کہتے ہوئے انہوں نے آنسو بہانے شروع کر دیے۔
“اچھا اب رو تو نہیں تم میری چھوٹی بہن ہو بابا کے بعد میں نے تمہیں اپنے بچوں کی طرح رکھا ہے اور تم رو گی تو مجھے دکھ ہو گا۔”
اپنی بہن کو روتا دیکھ وہ رنجیدہ ہو چکے تھے ۔ آخر جو کام کرنا ہی تھا اس میں اگر انہوں نے ذرا جلدی کا مظاہرہ کر دیا تو یہ ایسی بھی کوئی غلط بات نہیں تھی ۔ وہ اپنے اکلوتے بیٹے کی شادی جلد از جلد کر کے اپنے گھر بھی رونق دیکھنا چاہتی تھی یہ ان کا حق تھا۔ ہر ماں کی طرح ان کے بھی اپنے بیٹے کو لے کر بہت سارے ارمان تھے۔ وہ تو بس ان کو پورا کرنا چاہتی تھی۔
“نگین چپ کر جاو ہم اس کا بھی کوئی حل نکالتے ہیں۔”
صوفیا بیگم نے نگین کو ساتھ لگاتے ہوئے کہا۔ اورہان کسی گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا۔ فاریہ کی ٹانگیں اب اس کا ساتھ دینا چھوڑ چکی تھی تو وہ اپنے کمرے میں واپس آ گئی۔
ابھی تک وہ نکاح کے فنکشن والا سی گرین گولڈن کے کمبینیشن کی شرٹ اور شرارہ پہنے ہوئے تھی ڈریسنگ ٹیبل کے پاس آئی اور اپنا آپ دیکھا تو اپنی آنکھوں میں صرف ایک ہی عکس نظر آیا۔ ہاں فاریہ حیدر کی آنکھوں نے صرف ایک انسان کے ہی خواب دیکھے تھے۔ وہ تو بچپن سے ہی انس مجتبٰی کی دیوانی ہو چکی تھی۔ تو کیا یہ عکس کسی کو نظر نہیں آتا ؟
“کیوں انس مجتبٰی کیا آپ کو میری آنکھوں میں اپنے لیے محبت نہیں دکھتی؟ اس چہرے پہ آپ کو دیکھ کر جو نکھار آتا ہے کیا آپ نے کبھی نہیں دیکھا؟ کیا کبھی محسوس نہیں کیا کہ فاریہ آپ کو دیکھے نہ تو اس کے دل کو چین نہیں آتا؟ میں کیسے روکوں گی اس رشتے کو آپ نے تو مجھے کوئی امید ہی نہیں دلائی۔ میں ہی بے وقوف تھی جو ایک ایسے انسان سے محبت کر بیٹھی جس کو یہ اندازہ ہی نہیں کہ کوئی اس کے لیے تڑپ رہا ہے۔”
آنسوؤں سے اس کی خوبصورت آنکھوں میں سجا کاجل پھیل چکا تھا۔
” کاش کہ مجھے تھوڑا سا بھی اشارہ دیا ہوتا آپ نے تو فاریہ حیدر مر جاتی مگر کسی کو بھی اپنے نام کے ساتھ آپ کے سوا کسی کا نام نہ جوڑنے دیتی۔ مگر اب کیا کروں میں ؟ مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا آپ کی محبت نے۔”
اس وقت وہ اپنی ہچکیاں روک رہی تھی ۔ گھٹن کا احساس بڑھتا جا رہا تھا کتنی خوش تھی وہ آج اس کو ہنستا مسکراتا دیکھ کر مگر اب وہ مسکرا نہیں پا رہی تھی۔
مڈل کلاس طبقے کے چھوٹے لیکن خوبصورت گھر میں قدم رکھا جائے تو انس گھر میں آتے ساتھ ہی اپنے کمرے میں بند ہو گیا تھا۔ وہ سب حیران تھے ان کو تو یہی لگا تھا کہ آج وہ اورہان کے ساتھ ہو گا اس کی خوشی کو سیلیبریٹ کرے گا مگر اورہان اور ان کی فیملی بھی مہرماہ کے گھر والوں سے اجازت لے کر چلی گئی ۔ اورہان بھی پریشان تھا لیکن کس وجہ سے یہ وہ نہیں جانتے تھے۔
وہ سب اپنے کمروں میں چلے گئے۔ فریش ہو کر انس کی ماما چائے بنانے کچن میں آئی اتنی دیر میں دروازہ پر بیل ہوئی۔ انہوں نے دروازہ کھولا تو ماہ رخ کو پایا۔ اپنی بھانجی کو دیکھ کر وہ بہت خوش ہوئی۔
“سرپرائز خالہ”
“خالہ قربان میری جان”
انہوں نے اسے گلے لگایا اور اس کو لیے اندر آئی ۔اس کا اور اپنی بہن کا حال احوال پوچھ کر وہ دوبارہ چائے بنانے گئی۔ وہ خالہ کے ساتھ ہی کچن میں آ گئی۔
“خالہ پولیس والے نظر نہیں آ رہے؟”
شریر مسکراہٹ سجائے پوچھا۔
“آج اس کے دوست کی شادی تھی جب سے آیا ہے کمرے میں بند ہے۔”
“ہووو یہ تو بہت خوشی کی بات ہے مگر وہ کیوں کمرے میں گھسا پڑا ہے ۔ میں ابھی اس کی خبر لیتی ہوں۔”
وہ انس کے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔ دروازہ ناک کیا تو کوئی جواب نہیں آیا لیکن وہ پھر بھی لبوں پر مسکراہٹ سجائے اندر آ گئی۔ لیکن انس کو دیکھ کر اس کی ساری مسکراہٹ دم توڑ گئی۔ کیونکہ اے ایس پی انس مجتبٰی اس وقت رو رہے تھے۔
” انس کیا ہوا ؟ رو کیوں رہے ہو؟”
وہ تو اس کو روتا دیکھ حواس باختہ ہو چکی تھی اس نے آج تک کبھی کسی مرد کو روتا نہیں دیکھا تھا۔ لیکن اس وقت اپنے سامنے وہ اپنی محبت کو روتا دیکھ رہی تھی۔
“انس ہوش میں آو۔ کیوں رو رہے ہو؟”
اسے کسی انہونی کا خدشہ ہو رہا تھا۔ اور اس بار انس نے اس کی جانب دیکھا۔ اسے تو علم بھی نہیں ہوا تھا کہ کوئی اس کے کمرے میں آ چکا ہے۔ شاید محبت کو کھو دینے کا خدشہ انسان کو سب بھلا دیتا ہے۔
“تم۔۔۔ تم یہاں کیسے آئی؟ میرا مطلب کب آئی؟”
جلدی جلدی آنسو پونچھے لیکن ماہ رخ کے دل کی دھڑکن کسی خدشہ کے تحت تیز ہو چکی تھی۔
“وہ سب چھوڑو مجھے بتاو رو کیوں رہے تھے؟”
“میں تو رو نہیں رہا تھا۔”
زبردستی چہرے پر مسکان لانے کی کوشش کی مگر ناکام ٹھہرا۔
“میں نے خود دیکھا ہے تمہیں روتے ہوئے تمہاری آنکھوں کی سرخی اس بات کی گواہ ہے۔اب تم مکر نہیں سکتے۔”
انس کی آنکھیں پھر سے اشک بار ہو رہی تھی۔
“ماہ رخ ابھی چلی جاو میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتا۔”
“میں ایک انچ بھی نہیں ہلوں گی جب تک تم مجھے وجہ نہیں بتاو گے۔”
“کیا سننا چاہتی ہو؟”
“سچ”
“کیا فائدہ جب سچ تکلیف دہ ہو۔”
وہ اذیت سے دوچار تھا۔
“ہو سکتا ہے کہ میں تمہاری تکلیف کم کر دوں ۔ ایک بار موقع تو دو۔”
“تو سنو ماہ رخ ، انس مجتبٰی اپنی بزدلی کی وجہ سے اپنی محبت ہار بیٹھا۔”
“کو۔۔۔کون۔۔کونسی محبت؟”
اٹک اٹک کر سوال کیا جیسے سب لٹ جانے کا ڈر ہو۔
“انس مجتبٰی کی پہلی اور آخری محبت فاریہ حیدر “
بلاخوف آج اپنے دل کی بات کا اقرار کیا ۔ مگر کیا بھی تو کس کے سامنے جو یہ الفاظ سن کر ڈھیر ہو گئی۔
“کو۔۔کون ہے فاریہ؟”
“میرے دوست کی بہن۔”
“کیا اس کی شادی ہو گئی؟”
بہت امید سے سوال کیا کہ شاید اس کا جواب ہاں میں ملے۔
“نہیں “
اس بات پہ وہ حیران بھی ہوئی۔
“پھر کیسے کھو دیا اس کو؟”
“اس کی منگنی طے ہو چکی ہے۔ اب میں مزید یہاں نہیں رہ سکتا میں اپنی پوسٹنگ کسی اور شہر میں کروا لوں گا ۔ ہاں۔۔۔۔ بس اب میں اس کو نہیں دیکھوں گا۔”
“اتنی جلدی ہار مان جاو گے ؟”
ٹکڑے ٹکڑے خود کو جوڑ کر نہایت ہمت سے سوال پوچھا۔
“کیا مطلب؟”
ناسمجھی سے پوچھا۔
“مطلب یہ کہ انس اگر اس لڑکی سے اتنی محبت کرتے ہو تو اسے کسی اور کی دلہن بنتا دیکھ پاو گے۔”
“میں اس کے راستے میں نہیں آوں گا۔ میں اسے دکھ نہیں دوں گا۔”
“اگر وہ بھی تم سے محبت کرتی ہوئی تو کیا کرو گے؟”
اور یہ بات تو انس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھی اگر وہ بھی اس سے محبت کرتی ہوئی تو یہ تو ان دونوں کے ساتھ زیادتی ہو گی اور اس سب کا قصوروار صرف وہ ہو گا۔
“اور اگر وہ مجھ سے محبت نہ کرتی ہوئی تو؟”
“میں نے پوچھا انس مجتبٰی اگر وہ لڑکی تمہیں تم سے زیادہ چاہتی ہوئی تو کیا کرو گے؟”
“میں اسے پوری دنیا کے سامنے اپنی محرم بناوں گا۔”
“دیٹس لائک آ گڈ بوائے “
بڑے دل سے اس کو داد دی اور اگر انس اس وقت ماہ رخ کی دلی کیفیت جان جاتا تو اس کی دریا دلی پر رشک کرتا۔ کچھ لوگ ماہ رخ جیسے بھی ہوتے ہیں جو پورے دل سے انکار کو قبول کرتے ہیں اور اپنی پسند کو ان کی پسند کے ساتھ خوش رہنے کی دعا دیتے ہیں۔ کوئی شک نہیں تھا کہ ماہ رخ ایک خوبصورت دل کی مالک تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عریش اس ہفتہ کافی مصروف تھا۔ ضروری کام کے سلسلے میں اسے شہر سے باہر جانا پڑ گیا تو جو کام وہ کرنا چاہتا تھا وہ تاخیر کا شکار ہو گیا۔
لیکن اب اس نے بات کرنا مناسب جانا۔اس نے عماد کے نمبر پر کال کی ۔ اس وقت وہ اپنے وسیع اور نفیس آفس میں آرام دہ کرسی پر ٹیک لگا کر بیٹھا تھا ۔ نظر دیوار گیر شیشے سے باہر کی دنیا کی رونق پر جما رکھی تھی۔
عماد نے کال ریسیو کی اور فورا بول پڑا۔
“واہ بھئی عریش سلطان کو آج ہماری یاد کیسے آ گئی۔”
عماد خاصا خوشگوار موڈ میں تھا۔
“اب ایسی بھی کوئی بات نہیں ہے ۔ دوست کوئی بھولنے والے ہوتے ہیں بس مصروفیات اتنی تھی کہ وقت ہی نہیں مل سکا ۔اسی لیے تمہاری کال کا بھی جواب نہیں دے پایا۔”
“مذاق کر رہا تھا یار مجھے معلوم ہے کہ تو مصروف ہوتا ہے اسے لیے تجھے تنگ نہیں کرتا۔”
“اور آج کل کیا چل رہا ہے؟”
“کچھ نہیں یار بس تمہاری بھابھی کی چھوٹی بہن کا نکاح تھا وہیں مصروف تھے۔”
اور عریش سلطان پر سکتہ طاری ہو چکا تھا۔
“کونسی بہن؟”
ایک امید کے تحت پوچھا کہ شاید وہ غلط سمجھ رہا ہے۔
“ایک ہی تو ہے اس کی لاڈلی بہن مہرماہ “
اور آسمان پورے وزن سے عریش سلطان کے سر پر گر پڑا۔ وہ جو بات عماد سے کرنا چاہتا تھا جس کے لیے اس نے فلحال اسے فون کیا تھا وہ تو کہیں دور پس منظر میں رہ گئی۔ یاد رہا تو بس اتنا کہ اب اس کے ساتھ کسی اور کا نام لگ گیا۔
تو کیا وہ قبول کر پائے گا اپنی محبت کو کسی دوسرے کا محرم دیکھنا؟ نہیں ۔۔۔۔ہرگز نہیں اس کے دل نے فورا سے نفی کی۔
اس نے تو آج تک جس چیز کی چاہت کی اس کو پا لیا تو وہ اپنی زندگی کی سب سے بڑی چاہت پر کسی دوسرے کا حق کیسے برداشت کر سکتا تھا۔
“اچھا عماد مجھے ایمرجنسی میٹنگ میں جانا ہے پھر بات ہو گی۔”
عریش کی آواز میں ایک عجیب سی بات تھی۔اور عماد نے اس بدلاو کو محسوس نہیں کیا کیونکہ اکثر اوقات اسے ہنگامی میٹنگز اٹینڈ کرنی ہوتی تھی یا اچانک کہیں جانا ہوتا تھا۔ وہ ایک سیاست دان تھا اس کی روٹین ایسی ہی تھی۔
فون بند کرنے کے بعد اس نے گہرا سانس لیا ۔ اسے اب مہرماہ سے بات کرنی تھی۔اس نے مہرماہ کے نمبر پر کال ملائی۔ جو کہ ریسیو کر لی گئی۔
“مس مہرماہ شادی مبارک ہو۔”
لہجے کو حتی الامکان نارمل اور خوشگوار بنانے کی کوشش کی اور اس میں کامیاب بھی ٹھہرا۔ کیونکہ سیاست دانوں سے بڑا یقینا کوئی اداکار نہیں ہو سکتا۔
“خیر مبارک لیکن شادی نہیں نکاح ہوا ہے اور آپ کو کیسے علم ہوا؟”
اور کنفرم ہو گیا کہ ابھی صرف نکاح ہی ہوا ہے ۔
“عماد سے بات ہو رہی تھی تو اس نے بتایا کہ بھابھی کی بہن کے نکاح میں مصروف تھا۔”
“ٹھیک ۔”
“آپ خوش ہیں اس نکاح سے؟”
سوچا کہ شاید وہ نہ بول دے اور اس کا کام آسان ہو جائے۔
“آپ کو یہ پوچھنے کا کوئی حق نہیں مسٹر عریش۔”
سپاٹ لہجے میں جواب دیا۔ اور وہ یہ کیوں بھول گیا تھا کہ وہ کوئی عام لڑکی نہیں مہرماہ سرفراز ہے۔۔۔ جو کسی کو اپنے معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دیتی۔
“سوری مس مہرماہ یقینا آپ مائنڈ کر گئی ہیں۔”
“تو کیا میں غلط کر رہی ہوں؟”
“نہیں ہرگز نہیں آپ بالکل حق بجانب ہیں۔”
“آپ نے یقینا نکاح کی مبارک باد کے لیے فون کیا تھا۔”
“جی بالکل اسی لیے کیا تھا ایک بار پھر آپ کو نکاح مبارک ہو۔”
“شکریہ “
“ویسے نام کیا ہے اس کا؟”
“کس کا؟”
جان بوجھ کر انجان بنی ۔ کیونکہ وہ ‘اس’ کہہ کر اس کو غصہ دلا گیا۔
“جس کے ساتھ آپ کا نکاح ہوا۔ میرا مطلب ناکح”
کس ضبط سے عریش نے یہ الفاظ بولے یہ صرف وہ ہی جانتا تھا۔
“اورہان حیدر عظیم “
نہایت محبت اور اپنائیت سے یہ نام مہرماہ کے لبوں سے ادا ہوا جس پر وہ خود بھی شرما بیٹھی۔
لیکن دوسری جانب موجود عریش سلطان کے لیے یہ نام نیا نہیں تھا۔ تو کیا وہ عمارتیں کھڑی کرنے والا اپنی عمارت کے نیچے اس کو دفن کر چکا ہے ۔
کیا عریش سلطان ایک منجھا ہوا سیاست دان ایک عمارتیں بنانے والے سے ہار گیا؟
“اب میں فون رکھتا ہوں مس مہرماہ “
“اللہ حافظ اور ہاں جزاک اللہ”
“آپ کے لیے کچھ بھی”
یہ کہتے ساتھ اس نے فون رکھ دیا اب وہ ایک نئی نہج پر سوچ رہا تھا۔ اور مہرماہ اس کے آخری الفاظ کا مطلب سمجھنے سے قاصر تھی۔
اتنی دیر میں مہرماہ کے فون پر بیل ہوئی۔ سکرین پر موجود نام دیکھ کر اس کے چہرے کو حسین مسکراہٹ نے آن گھیرا۔ پھر کال ریسیو کی۔
“مہرماہ “
آہ۔۔۔ آخر کیوں وہ اتنا حسین بولتا تھا کہ مہرماہ کو اپنا نام بےحد خوبصورت لگنے لگتا۔
“جی”
اس سے زیادہ وہ بول نہیں پائی۔
“مجھے یاد کیا؟”
“امم۔۔۔ کیا سننا چاہتے ہیں آپ؟”
“آپ جانتی ہیں مہرماہ “
“اس سے کیا ہو گا۔”
“یہ جان کر کہ آپ نے مجھے یاد کیا مجھے اپنے آپ کو خوش نصیب لوگوں کی لسٹ میں ڈالنے کا دل کرے گا ۔ میرے دل و دماغ پر حکومت کرنے والی میرے بارے میں سوچ رہی یہ چیز میری روح کو معطر کر دے گی۔ میرے دل کو قرار آ جائے گا۔”
“اور”
“اور یہ کہ میرا دل چاہے گا اب جلدی سے دل و جان سے پیاری اپنی ملکہ کو اپنے روبرو دیکھ لوں۔”
وہ ساحر تھا اور مہرماہ پر اپنا سحر بکھیر رہا تھا اور وہ مسحور ہوئے اس ساحر کا ایک ایک لفظ اپنے دل پر نقش کر رہی تھی۔
“میں ویڈیو کال کروں مہرماہ مجھے آپ کو اپنے سامنے دیکھے کی شدت سے خواہش ہو رہی ہے۔”
اجازت طلب کی جا رہی تھی۔ اور مہرماہ اس کو کیسے انکار کر دیتی جو اس کا محرم اس کا اپنا تھا۔
“ہوں”
یہ لفظ سنتے ہی اسے مہرماہ کی اس دن والی بچگانہ انداز میں سر ہلانے والی بات یاد آ گئی تو ایک جان دار مسکراہٹ نے اس کے عنابی ہونٹوں پر اپنا قبضہ جمایا۔
مہرماہ نے ویڈیو کال ریسیو کی۔
لیکن نگاہیں جھکا رکھی تھی۔ اورہان تو اس کو ہر بار دیکھ کر نئے سرے سے قربان ہو جاتا تھا۔
جیسا کہ آج اس کو دیکھ کر پھر قربان ہو رہا تھا۔
بالوں کی فرنچ چوٹی بنائے جو دائیں کندھے پر آگے کی جانب ڈال رکھی تھی پنک دوپٹہ بائیں شانے پر ڈالے، سیاہ بالوں کی لٹ کو کان کے پیچھے اڑستی وہ جاذب نظر لگ رہی تھی۔ سب سے زیادہ تو وہ اس پینڈنٹ کو اس کی گردن میں سجا دیکھ کر خوش ہوا تھا جو اس نے نکاح کے بعد اس کو تحفے میں دیا تھا جس پر مہرماہ کا ایم اور اورہان کا اے ڈائمنڈز سے سجے ہوئے چمک رہے تھے درمیان میں ایک سرخ رنگ کا دل تھا جو ان حروف کو جوڑے ہوئے تھا۔
“شکریہ مہرماہ “
اس پر مہرماہ نے نگاہیں اٹھا کر اس کو دیکھا جو چہرے پر دنیا جہان کی رونق اور تازگی لیے اس کو تک رہا تھا۔
“کس لیے؟”
اورہان نے آنکھوں سے پینڈنٹ کی طرف اشارہ کیا تو اس نے اپنی گردن کی طرف دیکھا۔ ساتھ ہی ایک ہاتھ کی انگلیوں کو نرمی اور محبت سے اس پر پھیرا۔
“آپ نے دیا تھا کیسے نہ پہنتی؟”
معصومیت سے کہہ کر پھر نگاہیں جھکا لیں۔
“نہ کیا کریں مہرماہ “
“آپ بھی نہ کیا کریں “
جذبات میں آکر وہ جلدی سے بول بیٹھی۔
“کیا نہ کیا کروں؟”
وہ پریشان ہو گیا کہ کیا اس نے کچھ ایسا تو نہیں کر دیا جو مہرماہ کر ناگوار گزرا۔
“آپ ناں۔۔۔”
“ہاں میں۔۔۔ کیا نہ کیا کروں؟ بتائیں ناں مہرماہ”
“دیکھا پھر وہی کر رہے ہیں”
“کیا کیا میں نے؟”
اسے تو اپنی غلطی ہی سمجھ نہیں آ رہی تھی۔
“آپ جب میرا نام لیتے ہیں تو مجھےاپنے نام سے محبت ہو جاتی ہے۔”
“تو اس میں کیا برائی ہے؟”
“مجھے صرف آپ سے محبت کرنی ہے اورہان اپنے نام سے بھی نہیں۔”
اور وہ اس کی بات اور اس کے لبوں سے اپنا نام سن کر سرشار ہو گیا۔ اس نے تو سوچا بھی نہیں تھی کہ مہرماہ اس کو اتنا پسند کرتی ہے اس کو اورہان پر اتنا اعتماد ہے اور وہ تو اس کے حق میں ذرہ برابر بھی کمی نہیں کرنا چاہتی۔
“کیوں ہو اتنی پیاری ؟ کہ میں رب کے حضور شکر ادا کر کر کے نہیں تھکتا۔ جی چاہتا ہے آپ کے ملنے پر پوری عمر سجدہ شکر سے نہ اٹھو۔”
“آپ کیوں ہے ایسے ساحر کہ آپ کی باتیں مجھے مسحور کر دیتی ہیں۔”
اور اس بات پر اسے فاریہ کی بات یاد آئی۔ تو وہ مسکرا اٹھا۔
“کیا ہوا؟”
“فاریہ کی بات یاد آئی بالکل سچ کہا تھا اس نے۔”
“کیا کہا تھا؟”
“یہی کہ آپ لاجواب کر دیتی ہیں۔”
اس خوبصورت دوپہر میں وہ دونوں ہنستے مسکراتے ایک دوسرے کو اپنی زندگی میں پا کر دل و جان سے اپنے رب کے شکر گزار تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
