Yaar-E-Gaar By Esha Afzal Readelle 50382 Yaar-E-Gaar (Episode 3)
No Download Link
Rate this Novel
Yaar-E-Gaar (Episode 3)
Yaar-E-Gaar By Esha Afzal
اگلے دن
یہ منظر ہے لاء ڈیپارٹمنٹ کا جس میں دوسرے فلور پر موجود پہلی کلاس میں مہرماہ سرفراز ڈائس کے پاس سٹیج پہ کھڑی اپنے مخصوص حلیے میں برقع پہنے ،حجاب اوڑھے کلاس سے مخاطب ہے۔
“کریمینولوجی پڑھنے سے پہلے آپ سب کو کرائم کے بارے میں علم ہونا چاہیئے، تو آپ سب اپنے الفاظ میں بتائیں واٹ از کرائم ؟”
اس بات پر وہاں موجود سٹوڈنٹس میں سرگوشیاں شروع ہو گئی۔
“آپ سب خود سوچیں نہ کہ ایک دوسرے سے پوچھ کر بتائیں کیونکہ آپ کو خود اپنے دماغ سے سوچ کر بتانا ہے ،یہی ایک کامیاب انسان کی نشانی ہوتی ہے۔ یہ مت سوچیں کہ آپ کا جواب غلط ہو جائے گا تو آپ کو شرمندہ ہونا پڑے گا بلکہ یہ سوچ کر پر سکون ہونا ہے کہ آپ نے اپنے دماغ سے سوچا ہے نہ کہ کہی سنی بات پہ یقین کیا ہے ۔”
وہ ایسی ہی تھی ڈانٹ ڈپٹ کرنے کی بجائے پیار اور لاجک سے قائل کرنے والی ۔
“میم کرائم اس جرم کو کہتے جو غلط ہوتا ہے اور اس پر مجرم کو سزا ملتی ہے۔”
تیسری رو میں بیٹھی ایک ماڈرن لڑکی نے اس بات کا جواب دیا۔
“ویل ڈن بیٹا ، یور گڈ نیم؟”
“امل شہریار “
“تو کلاس جیسا کہ امل نے بتایا کہ جرم کرنے والے کو مجرم کہتے ہیں اور وہ اس لیے کیونکہ اس نے کوئی غلط کام کیا ہوتا ہے”
اس بات پر کلاس میں موجود سب سٹوڈنٹس نے تائید میں اثبات میں سر ہلائے۔
“لیکن آپ کو یہ کیسے معلوم ہو گا کہ یہ کام غلط ہے۔ تو اس کو ہم دو طرح سے سمجھیں گے۔
سب سے پہلے تو آپ کا ضمیر اس بات کی نشاندہی کرے گا کہ آپ غلط کر رہے ہیں۔آپ بے چینی محسوس کرتے ہیں، آپ کو خوف آتا ہے اور وہ خوف اللہ تعالٰی کا بھی ہو سکتا ہے اور سزا کا بھی۔
دوسرا’ قانون’ ، جو کہ ہر ملک میں موجود ہے جس کے بارے میں اگر بات کی جائے تو یہ اصولوں کے مجموعے کو کہتے ہیں جو کسی معاشرے کو منظم کرنے کے لیے رائج کیا جاتا ہے۔ انہی اصولوں اور قواعد و ضوابط کی بنا پر آپ یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ یہ کام درست ہے یا غلط۔ ۔ اور غلط کام کی نشاندہی پہ مجرم سزا کا حقدار ہوتا ہے۔
اب اگر اسلامک پوائنٹ آف ویو سے دیکھا جائے تو اس قانون کو شرعی حدود کہا جاتا ہے ۔
اس میں اللہ پاک کے احکامات سے تجاوز پہ شرعی سزائیں نافذ ہوتی ہیں۔ مگر چونکہ ہمارے ملک کے قانون میں شرعی سزائیں نہیں موجود لہذا مجرم کو ملکی قانون کے مطابق سزا دی جاتی ہے۔
مگر ایک اسلامی ملک ہونے کے باوجود اگر اسلامی اصول رائج نہیں ہونگے تو یہ لمحہ فکریہ ہے۔”
“میم اگر شرعی حدود کے مطابق فیصلے ہوا کریں تو کیا معاشرے میں بہتری آ سکتی ہے؟”
آخری رو میں بیٹھی ایک لڑکی نے تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر سوال کیا۔
“جی بیٹا ، جب ہم اللہ پاک کے احکامات کی پیروی کرتے ہیں تو بہتری نہ آنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ میں ایک مثال کے ذریعے اپنی بات جاری کرتی ہوں۔ اگر ایک انسان چوری کرے اور اس پہ چوری ثابت ہو جائے تو پاکستانی قانون کے مطابق چودہ سال سزا یا پھر چرائی گئی چیز کی قیمت سے دوگنی قیمت ادا کرنا ہے ۔اور یہ بات آپ بخوبی جانتے ہیں کہ نہ تو اس کو چودہ سال کی سزا ہو گی اور نہ ہی جرمانہ۔
اور اگر چوری کی سزا شرعی حدود میں دیکھی جائے تو جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد ہے:
وَ السَّارِقُ وَ السَّارِقَةُ فَاقْطَعُوْۤا اَیْدِیَهُمَا جَزَآءًۢ بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِّنَ اللّٰهِؕ-وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ(۳۸)
اور جو مرد یا عورت چور ہو تو ان کا ہاتھ کاٹو ان کے کیے کا بدلہ اللہ کی طرف سے سزا اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔
تو اگر ایک انسان کو علم ہو گا کہ اگر گواہی ثابت ہو گئی تو اس کے ہاتھ کاٹ دیے جائیں گے تو اول وہ اس جرم کی طرف راغب نہیں ہو گا اور اگر ہوا تو اس کا مطلب کہ وہ معاشرے کے مریض نفوس کی مانند ہے جن پر تربیت و نصیحت کا کوئی اثر نہیں ہوتا تو ایسے لوگوں کو سخت سزا سے ہی سمجھایا جا سکتا ہے۔ہمارا رب بہت مہربان ہے وہ کبھی ہم پر ظلم نہیں کرتا اور جو لوگ ان شرعی حدود کو ‘وحشیانہ ‘ عمل کہتے ہیں وہ اسلام دشمن ہے وہ اس معاشرے کو پھلتا پھولتا نہیں دیکھ سکتے ۔
جو لوگ جرم کرتے ہیں وہ اس جرم سے بہت ساری زندگیاں برباد کرتے ہیں ،اگر چوری کی ہی بات کر لی جائے تو وہ ان لوگوں کی جمع پونجی جو نہ جانے کتنا خون پسینہ بہا کر انہوں نے کمائی ،کسی نے بیٹی کی شادی کرنا تھی ،کسی نے اولاد کو پڑھانا تھا ، کسی نے بوڑھی ماں کا علاج کروانا تھا تو کسی نے پوری عمر اللہ تعالٰی کے گھر جانے کی خواہش رکھتے ہوئے وہ پیسے جمع کیے تھے ، جب چور ،ان سے ان کے خواب چھین لے ،ان کی خوشیاں اور سکون داو پر لگا دے تو کیا ایسا انسان ایک بڑی سزا کا مستحق نہیں؟”
سب سٹوڈنٹس پوری توجہ سے اس کی بات سن رہے تھے اور آخری بات پر اثبات میں سر ہلایا۔
“میرا اللہ بڑی حکمت والا ہے اس نے انسانوں کو تخلیق کیا ہے اور وہ ہی اس کی پروگرامنگ کو سب سے بہتر جانتا ہے۔ تو اگر اس نے چوری جیسے جرم پر ہاتھ کاٹنے کی سزا تجویز کی تو اس پر سوال اٹھانے والے ہم عام سے انسان ہوتے کون ہیں؟”
اس بات میں کلاس میں سناٹا چھا گیا ۔ا اور وہ سب اس نقطے پر سوچنا شروع ہو گئے۔
مہرماہ کلاس کا وقت ختم ہو جانے پر اب خدا حافظ کہہ کر کلاس سے باہر چلی گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسری جانب اورہان اپنے آفس میں راکنگ چئیر پر براجمان سامنے رکھے لیپ ٹاپ پہ اپنا کام کرنے میں مصروف تھا ۔ دفعتا کام روک کر ٹیبل پہ موجود فون اٹھایا اور کنٹیکٹ لسٹ کھول کر اے ایس پی کے نام سے موجود نمبر پر کال ملائی۔ دوسری بیل پہ ہی کال اٹھا لی گئی۔
“اے ایس پی ، ٹھیک 11 بجے تو مجھے اپنے آفس میں چاہئیے۔”
اور یہ کہتے ہی کال پر موجود دوسرے شخص کی بات سنے بغیر ہی کھٹاک سے فون بند کر دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مہرماہ کلاس لینے کے بعد سٹاف روم میں بیٹھی نیکسٹ لیکچر کے لیے اہم پوائنٹس دیکھ رہی تھی جب اس کے فون پہ مریم کی کال آئی۔
“مہرماہ کیا تم گھر آ سکتی ہو ابھی؟”
“کیا ہوا آپی ،سب خیریت تو ہے نہ ؟ آپ مجھے پریشان لگ رہی ہیں “
“مہرماہ، ماما کا بی پی شوٹ کر گیا ہے، بابا آفس کے کام سے راولپنڈی گئے ہیں اور زاویار بھی کالج ہے “
“آپی ماما کیسی ہیں؟ میں بس ابھی نکلتی ہوں”
مہرماہ نے پریشانی میں فورا اپنا ہینڈ بیگ اور گاڑی کی چابی اٹھائی اور میم فاطمہ کو اطلاع دے کر فورا باہر کی جانب آئی۔
وہ عجلت میں کوریڈور کا راستہ عبور کر رہی تھی کہ فاریہ جو باہر کھڑی اگلی کلاس کا انتظار کر رہی تھی اس کو پریشانی میں آگے بڑھتا دیکھ کر اس کے پاس آئی۔
“مہرو آپی سب ٹھیک ہے؟ میرا مطلب آپ مجھے پریشان لگ رہی ہیں۔”
“ماما کا بی پی شوٹ کر گیا ہے ،گھر میں بابا بھی نہیں ہیں اور آپی اکیلی سے ہینڈل نہیں ہو گا وہ پینک کر جاتی ہیں،ماما کو ہاسپٹل لے کر جانا ہو گا۔”
ساتھ ساتھ تیز قدموں سے یونیورسٹی پارکنگ ایریا کی جانب بڑھ رہی تھی۔
“مہرو آپی میں بھی آپ کے ساتھ چلتی ہوں “
“نہیں فری تمہاری کلاس ہے تم جاو شاباش، ان شاء اللہ سب ٹھیک ہو جائے گا “
“ٹھیک ہے آپی ، میں ماما کے ساتھ ملنے آوں گی ،مجھے آنٹی کی خیریت بتا دیجیے گا۔”
“او کے “
یہ کہتے وہ گاڑی زن سے بھگاتے ہوئے لے گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسی وقت اورہان کے آفس میں آیا جائے تو 11 بجنے میں صرف دو منٹ رہ گئے تھے اور اس کی نظریں وال کلاک پر ہی جمی ہوئی تھیں۔
وہیں وقت برق رفتاری سے گزر رہا تھا اور رہ گئے صرف پانچ سیکنڈ۔۔
“پانچ ۔۔
چار۔۔
تین۔۔”
اور ساتھ ہی دروازہ کھلنے کی آواز آئی اور وہ ہانپتا ہوا اندر داخل ہوا۔
“مجھے پتا ہے میں وقت پہ آ گیا ہوں”
وہیں اورہان کے چہرے پہ ایک جاندار مسکراہٹ آ گئی۔
“ہاں نہ پورے دو سیکنڈ پہلے آ گئے ہو ، آئی لائک اٹ”
“تمھاری لائک کے چکروں میں سگنل توڑ کر آ رہا ہوں ،شرم آ رہی ہے کل میری جوائیننگ ہے اور میں خود قانون توڑ رہا ہوں “
یہ کہتے ہی غٹاغت پانی کا گلاس پی گیا جو غالبا اس کے دوست نے اس کے آنے سے پہلے ہی ٹیبل پر حاضر رکھا تھا جیسے اسے پہلے ہی پتا تھا کہ آنے والے کو سب سے پہلے پانی کی ضرورت محسوس ہو گی۔
“چلو اٹھو فورا اب تم مجھے اپنی جوائیننگ کی خوشی میں ایک اچھا سا لنچ کروا رہے ہو۔”
“ہیں ہیں۔۔۔ تمہیں مجھے حفاظت کی دعائیں دینی چاہیے اور تم مجھ سے ٹریٹ لے رہے ہو۔”
“یہ لو گاڑی کی چابی ، ڈرائیو تم کرو گے۔”
اس بات پہ وہ منہ بسور کے اس کے ساتھ ہی باہر چلا آیا۔
ایسے ہی تھے وہ دونوں ،ایک دوسرے کی خوشی میں خوش ہونے والے ،ملتے ہی سارے غم بھول جانے والے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مہرماہ گھر پہنچی اور جلدی سے مریم کے ہمراہ ماریہ بیگم کو لے کر ہاسپٹل آئی اور ساتھ میں سرفراز صاحب کو بھی وقتا فوقتا خیریت سے آگاہ کر رہی تھی۔
دوائی نہ لینے کی وجہ سے بی پی شوٹ کر گیا تھا ۔ بی پی نارمل ہونے پر وہ ماریہ بیگم کے اصرار پر ڈاکٹر سے پوچھ کر ان کو گھر واپس لے آئی۔اتنی دیر میں سرفراز صاحب بھی گھر آگئے تھے ۔اور اب سب ان کی دیکھ بھال میں لگے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اورہان، انس کے ہمراہ اس وقت ایک مناسب سے ہوٹل کی چئیر پہ بیٹھا ایک ہاتھ ٹیبل پر رکھے اور دوسرے کی مٹھی بنائے کنپٹی پہ رکھے سامنے بیٹھے انس کو دیکھ کم ،گھور زیادہ رہا تھا۔
“اتنی جلدی میں یہ لنچ کرنے کے لیےبلایا؟ لوگ ناشتے سے فارغ ہوتے ہیں اس وقت اور ان جناب کو لنچ کرنا تھا “
وہ اس وقت ناراضی سے اورہان کو دیکھ رہا تھا۔
“جب تم جانتے ہو کہ میں صبح جلدی ناشتہ کرتا ہوں تو اس فضول سوال کی وجہ؟”
ساتھ میں ابرو اچکائی۔
اور وہ تو اس کے خطرناک تیور دیکھتے ہی کسی انہونی کا خدشہ محسوس کر رہا تھا۔
“مجھے گھورنے کی وجہ پوچھ سکتا ہوں؟”
“ہاں نہ پوچھو۔”
اب تو پکا دال میں کچھ کالا تھا ۔
“کیا ہوا ہے اورہان؟”
گھبراتے ہوئے سوال پوچھا جیسے کوئی چوری پکڑی جانے کا ڈر ہو۔
“کل صبح میں تمھارے گھر آیا تھا ۔”
اور یہ ہوا دھماکہ ۔۔۔۔ سچ میں اس کی چوری پکڑی گئی تھی۔
“اورہان آئی کین ایکسپلین۔”
فورا مصالحتی انداز اپنایا گیا۔
“نہیں نہیں ۔۔۔ تم ایسے ہی نیند کی گولیاں کھا کر پڑے رہنا اور تمہارے حصہ کی ڈیوٹی سر انجام دینے کے لیے یہ خادم ہے نہ ۔”
ساتھ ہی خود کی طرف اشارہ کیا۔
“آئی ایم سوری”
“سوری سے کام نہیں چلے گا اگر آئندہ میں نے تمہاری یہ حرکتیں دیکھی تو با خدا مجھ سے پٹ جائے گا تو۔ “
“تجھ سے تو مار کھانا بھی قبول ہے ، تو ہمیشہ میرے ساتھ رہا ، اچھے برے وقت کا ساتھی ہے ۔ تجھ سے تو کچھ بھی پوشیدہ نہیں، اور ویسے بھی مجھے پورا یقین ہے کہ تو مار کے بھی خود ہی مرہم لگائے گا اور ساتھ میں خود کو بھی کوسے گا “
گو کہ انس نے کھلے دل سے اظہار کیا۔
“اچھا بس کر اب زیادہ سینٹی ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔”
وہ دونوں ہی جانتے تھے کہ انس کی بات میں صرف سچائی تھی۔
دونوں دوستوں کی بے مثال یاری۔۔۔۔
ہے مختصر سی اپنی دوستی کی داستاں
اک دوست کو چاہا ہے زندگی کی طرح
___________
وہ انس کے ساتھ لنچ کر کے آفس میں آیا ۔ انس تو اپنی گاڑی لے کر چلا گیا کیونکہ اسے کل جوائیننگ سے پہلے تیاری کرنا تھی۔
اورہان نے ایک بزنس میٹنگ اٹینڈ کی اور گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔ کوئی چار بجے کے قریب وہ گھر پہنچا اور گھر پہنچنے پہ اس کو فاریہ اور صوفیا بیگم بے چین نظر آئیں۔
“کیا ہوا ماما ؟ آپ مجھے پریشان لگ رہی ہیں۔”
“اورہان ، فاریہ بتا رہی تھی کہ مہرماہ بہت عجلت میں یونیورسٹی سے گھر گئی ہے ماریہ کا بی پی شوٹ کر گیا تھا ۔ تمہیں تو یاد ہی ہو گا کہ پہلے بھی ایک بار ان کی حالت کافی بگڑ گئی تھی اور اب تو سرفراز بھائی بھی گھر پر نہیں تھے بیچاری بچی نے نہ جانے کیسے سنبھالا ہو گا۔ فاریہ نے فون کیا تھا تو معلوم ہو کہ اب وہ گھر آ گئے ہیں۔ میں نے ملنے جانا ہے اور تمھارے بابا کہہ رہے تھے کہ تمھارے ساتھ چلی جاوں۔”
پہلے تو وہ پریشان ہوا پھر اس پرنور اور پاکیزہ لڑکی کو دیکھنے کا سوچتے ہی دل عجیب سے انداز میں دھڑکنے لگا۔
“ماما میں فریش ہو کر آتا ہوں ، پھر چلتے ہیں۔”
“بھائی میں بھی جاوں گی۔”
“ٹھیک ہے بیٹا آپ بھی ریڈی ہو جاو۔”
یہ کہتے وہ اپنے روم کی جانب بڑھ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات
تری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے
سرفراز ولا کے گیٹ پر پہنچ کر وائٹ اوڈی میں بیٹھے اورہان نے ہارن دیا اور گیٹ کھل گیا ۔وہیں اس نے گیراج میں گاڑی کھڑی کی اور والدہ اور بہن کے ہمراہ اندر داخل ہوا۔
ملازم نے کمرے میں جا کر اطلاع دی تو سرفراز صاحب فورا باہر سٹنگ ایریا میں آئے ۔
“بھائی صاحب، ماریہ کیسی ہے؟”
یہ سوال پوچھنے والی صوفیا بیگم تھیں۔
“جی بہت بہتر ہے اب ، میری فری کیسی ہے؟”
“انکل میں بالکل ٹھیک ہوں۔”
“برخوردار آپ کو راستہ مل گیا میرے گھر کا؟”
“سوری انکل ، بس مصروفیات اتنی تھیں نیا نیا بزنس سنبھالا تھا تو بابا کو شکایت کا موقع نہیں دینا چاہتا تھا۔”
“مذاق کر رہا تھا آو اندر تمہاری آنٹی تمہیں دیکھ کر بہت خوش ہونگی۔”
وہ انہیں لیے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئے۔ جہاں سے ایک جانی پہچانی آواز سنتے ہی اس کے قدم تھم گئے تھے ۔
“اسلام علیکم “
مشترکہ سلام کیا گیا۔
“بیگم دیکھیں ،آپ کے بی پی نے تو معجزہ ہی کر دیا۔”
ساتھ ہی اورہان کو دیکھ رہے تھے۔
وہیں مہرماہ کی نظر اس پہ اٹھی ٹھیک اسی پل اس کی ہیزل آنکھیں اس کی لائٹ براون آنکھوں سے جا ملی۔ اور وقت وہیں تھم گیا اس نے فورا نگاہیں نیچی کر لیں ان آنکھوں کو زیادہ دیر دیکھنے کی غلطی وہ نہیں کر سکتا تھا ، اس کو لگتا تھا ان آنکھوں کو زیادہ دیر دیکھا تو تاب نہیں لا سکے گا ۔ ابھی ان آنکھوں کی چمک پہ اس کا حق نہیں تھا۔
وہیں مہرماہ پہلی بار بے چینی کا شکار ہوئی ایک عجیب سی اپنائیت محسوس ہوئی۔ ایسا تو اس کے ساتھ کبھی نہیں ہوا تھا۔
“آو بیٹا، بہت وقت کے بعد دیکھا تمھیں۔”
“جی آنٹی ، بس بزنس کی مصروفیات “
“ماریہ تم کیا اپنی میڈیسن وقت پر نہیں لیتی۔”
“لیتی ہوں بھابھی بس دو دن سے طبیعت بوجھل ہو رہی تھی ۔ اور دوائی میں بھی لا پرواہی ہو گئی ۔”
“مہرو بیٹا آپ کی یونیورسٹی کیسی جا رہی ہے ، جب مجھے فاریہ نے بتایا کہ آپ اس کی ٹیچر بھی بن گئی ہیں تو مجھے بہت اطمینان ہوا۔”
“جی آنٹی، اللہ کا کرم ہے۔”
مہرو اٹھ کر صوفیا بیگم کے پاس آئی اور انھوں نے اس کی پیشانی پہ پیار دیا، مہرو انہیں فاریہ کی طرح ہی عزیز تھی۔اور پھر وہ فاریہ کے گلے لگی۔
“بھابھی اب آپ کو میں نے کھانا کھائے بغیر جانے نہیں دینا۔”
“نہیں ماریہ پھر کبھی سہی، ہاں مہرو کے ہاتھ کی چائے ضرور پئیں گے۔”
مہرماہ چائے بنانے کے لیے کچن کی جانب بڑھ گئی اور فاریہ بھی اس کے ساتھ ہی آگے بڑھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ان کے جانے کے بعد مہرماہ اپنے کمرے میں آ گئی ۔
وہ ایک عجیب سی کشمکش کا شکار ہو گئی تھی ۔
اتنی دیر میں مریم اس کے کمرے میں آئی۔
“آپی ماما کو کسی چیز کی ضرورت تو نہیں؟”
“نہیں مہرو ماما سو رہی ہیں، تم نے بتایا نہیں کہ فاریہ تمھاری سٹوڈنٹ بن گئی ہے۔”
“ہاں آپی بس بتانا یاد نہیں رہا اور ویسے بھی آج ابھی دوسرا دن تھا اس کی کلاس لیتے ہوئے۔”
“سہی ،مہرو تم ڈسٹرب لگ رہی ہو “
وہ اس کی پریشانی بھانپ گئی تھی۔
“کوئی خاص بات نہیں “
“اچھا ٹھیک ہے ریسٹ کرو تھک گئی ہو گی،مجھے بھی عماد کی کال آ رہی تھی ماما کی خیریت پوچھ رہے تھے۔”
“”آپی آپ تھوڑے عرصے بعد رخصت ہو جائیں گی، کیونکہ اب تو آپ کے نکاح کو چھ ماہ ہو چکے ہیں۔ “
بات کرتے ہوئے وہ روہانسی ہو چکی تھی۔
“مہرو نہ خود جذباتی ہو نہ مجھے کرو، سچی میں نے رونے لگ جانا ہے۔”
“اچھا آپی نہیں ہو رہی جذباتی “
“اچھا اب میں جا کر عماد سے بات کر لوں اور ماما کی خیریت سے بھی آگاہ کر دوں”
“ٹھیک ہے آپی”
اور مریم کمرے سے باہر چلی گئی اور وہ پھر سے ایک گہری سوچ میں مبتلا ہو چکی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہیں اورہان اپنے کمرے میں موجود اپنی ڈائری کو کھول کر بیٹھا تھا ۔قلم ہاتھ میں تھامے ،اب ڈائری کے صفحات پہ اس کا قلم اپنی روشنائی پھیلا رہا تھا۔
تیری بھوری آنکھوں میں کھو جانے کا دل چاہتا ہے
کھو تو جاوں مگر پھر اپنا مقام یاد آ جاتا ہے
ابھی حق نہیں ان آنکھوں کو تکنے کا اس کو
پورے حق کے ساتھ جو تیری آنکھوں کا گھائل ہونا چاہتا ہے
(عشاء افضل )
وہ ان نگاہوں کو کبھی بھول ہی نہیں پاتا تھا مگر آج تو ان آنکھوں میں کچھ انوکھا محسوس ہوا تھا۔
۔۔۔۔۔
