429.8K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yaar-E-Gaar (Episode 1)

Yaar-E-Gaar By Esha Afzal

When you find_no moons or stars-

to brighten the night Close your eyes_ Open your heart-

And light up the entire universe

Rafy Rohan

“آپی وہ دیکھو آسمان پہ وہ والا ستارہ سب سے زیادہ روشن ہے”، اس بات پر مریم نے آسمان پر غور کیا تو اس کو آسمان کو دیوانوں کی طرح تکتے پایا ۔

“تم سب سے منفرد ہو مہرو ،لوگ آسمان پر چاند کو دیکھتے ہیں اور تمہیں ستاروں سے ہی فرصت نہیں ملتی اور یہ جو تم ہر وقت چائے پیتی رہتی ہو نا ملک پاکستان کی آدھی چائے کی پتی تم نے ختم کر دینی ہے۔”

اس بات پر مہرماہ نے آسمان سے نظریں ہٹا کر مریم کو دیکھا اور ساتھ ہی اس کا قہقہہ اس چھت پر سنائی دیا اس کی آنکھوں کی چمک اس کی سچی اور شفاف ہنسی کی آئینہ دار تھی ،ہنسنے کے باعث اس کی آنکھیں چھوٹی ہو جاتی تھی، ،اس کو یوں ہنستے دیکھ مریم نے بے اختیار ہی مہرماہ پر نظر بد سے محفوظ رکھنے کی دعا پڑھ کر پھونکی ۔

“کیا یار آپی اب اتنی بھی چائے نہیں پیتی ہوں میں بس چار یا زیادہ سے زیادہ پانچ کپ ہی تو پیتی ہوں۔”

اور یہ کہتے ہوئے مہرماہ نے چہرے پہ اتنی معصومیت سجا لی کہ مریم نے پیار سے اس کے چہرے پہ آئی سلکی سیاہ بالوں کی لٹ کو کان کے پیچھے اڑسا۔

“چلو نیچے جلدی اس سے پہلے کہ ماما چھت پہ آ کر تمہاری چائے کا حساب کریں۔”

اور اس بات پر دونوں جان سے پیاری بہنیں مسکراتے ہوئے نیچے آ گئیں۔

اسی وقت اسلام آباد کے ایک پوش علاقے میں جایا جائے جہاں قطار در قطار وسیع و عالیشان بنگلے اس علاقے کے لوگوں کے ذوق کی ترجمانی کرتے پائے جاتے ہیں، ،انہی میں سے ایک گرے رنگ کا بنگلا اپنی خوبصورتی میں آپ ایک مثال پوری شان سے براجمان دکھائی دیگا، داخلی گیٹ پار کیا جائے تو ایک خوبصورت اور خوشنما لان دیکھائی دے گا جس میں دیکھنے والے کو پہلی ہی نظر میں وہاں کے مکینوں کی سفید رنگ کے پھولوں سے انسیت نظر آئے گی مگر کون جانے کہ یہ سفید رنگ کس کی پسند ہے ۔۔۔

اندر داخل ہوا جائے تو گرے ہی رنگ کی ٹائلوں والا ایک وسیع اور پرکشش لاوئنج جس میں مختلف ممالک سے منگوائے گئے شوپیس دیکھنے والے کی آنکھ کو خیرہ کرتے ،،وہی کچن میں صوفیا بیگم اپنے لاڈلے کے گھر آنے سے پہلے اس کا پسندیدہ چکن منچورئین بنانے میں مصروف دکھائی دے رہی ہیں جب حیدر عظیم صاحب اپنے کمرے سے باہر نکل کر کچن کی جانب آئے۔

“واہ بھئی آج صوفیا بیگم کچن میں، لگتا لاڈلے سے کوئی بات منوانی ہے۔”

اس بات پہ صوفیا بیگم نے مڑ کر اپنے شوہر کو دیکھا اورآئی برو اچکائی ۔

“تو حیدر صاحب آپ کو کیا لگتا ہے کہ میں اپنے بیٹے کی پسندیدہ ڈش صرف اس سے بات منوانے کے لیے ہی بناتی ہوں۔”

اس پر حیدر صاحب مسکرا اٹھے۔

“تو بیگم آپ مان رہی ہیں کہ آپ اپنے لاڈلے کو اس کی پسندیدہ ڈش سے اپنا گرویدہ بنا لیتی ہیں۔”

اتنی دیر میں لاوئنج میں ان کا لاڈلا بیٹا داخل ہوا۔

“چلئیے بیگم صاحبہ آپ کا لاڈلا آ گیا ہے۔”

یہ سننے کی دیر تھی صوفیا بیگم ،چکن منچورئین کک کے حوالے کر کے کچن سے باہر آگئی۔

“آگیا میرا اورہان “

اس پر اورہان کی نظر اپنی پیاری ماما پہ گئی جو اتنی عمر میں بھی بے حد حسین اور پاکیزہ دکھ رہی تھیں،صوفیا بیگم کا تعلق خیبر پختون خواہ سے تھا ان کے چہرے کی سفید رنگت اور سرخی ان کے پٹھان ہونے کا ثبوت تھی ،اوپر سے غضب ان کی ہیزل آنکھیں، ،اور خوبصورتی میں اورہان حیدرعظیم ہوبہو اپنی ماں جیسا تھا۔۔۔

اٹھی مغرورناک ،کشادہ پیشانی،سرخ و سفید رنگت کا مالک، تیکھے نین نقوش، لمبا قد ،اپنی ماں جیسی ہیزل آنکھیں جو ذہانت سے چمکتی اور بھورے گھنگھریالے بال جو زیادہ تر ماتھے پہ ہی گرے ہوئے ملتے تھے ۔۔۔

“جی میری پیاری ماما،آپ تو ایسے ایکسائیٹڈ ہو رہی ہیں جیسے میں سالوں بعد آیا ہوں”

۔”پورے ایک ہفتے بعد آ رہے ہو ،پورا ہفتہ تمہیں بہت مس کیا،اور ہاں اب انس کیسا ہے؟”۔

انس کے ذکر پروہاں موجود سب لوگوں نے کرب اور غم سے آنکھیں بند کر لیں۔ماحول کو ٹینشن فری کرنے کے لیے حیدر صاحب نے فورا گلا کھنکارا اور مسکرا کے آگے بڑھے ۔

“بھئی اب مجھے بھی اپنے بیٹے سے مل لینے دو۔برخوردار نے جب سے بزنس سنبھالا ہے تب سے گھر پہ کم ہی نظر آتا ہے”

اس پر فورا اورہان آگے بڑھ کر اپنے بابا کے گلے ملا ۔حیدر صاحب نے زور سے گلے لگایا تو اورہان بول پڑا ۔

“بابا مجھے معلوم ہے کہ آپ اب بھی ینگ مین ہیں، مجھ بیچارے پہ رحم کریں”

اس پر سب ہنس پڑے ۔

“آو بیٹا کھانا کھاو تمہاری ماما نے تمہارے لئے چکن منچورئین بنایا ہے”۔

“اچھا بابا وہ سب تو ٹھیک ہے پر میری گڑیا نظر نہیں آ رہی۔”

“ارے برخوردار وہ یونیورسٹی سے آج لیٹ آئی تھی ۔تو نماز پڑھ کر سو گئی ۔اسے تمہارے آنے کا بھی علم نہیں تھا ورنہ ابھی تمہارے سر پر منڈلا رہی ہوتی ۔”

اورسب مسکراتے ہوئے ڈائیننگ ٹیبل کی طرف بڑھ گئے۔

_____________

اگلی صبح اسلام آباد جیسے مصروف ترین اور خوبصورت،روشنیوں سے منور ،پاکستان کے دارالحکومت پر اجلی اجلی داخل ہوئی جہاں موذن اپنی دلکش آواز میں لوگوں کو فلاح کی طرف بلا رہا تھا ایسے میں سفید رنگ سے سجا ایک پرکشش اور دیکھنے والوں کی آنکھ کو خیرہ کر دینے والا سرفراز ولا اپنی پوری شان و شوکت سے کھڑا نظر آئے گا ،داخلی دروازہ اس ولا کے متضاد گہرے سیاہ رنگ کا بنا جس میں داخل ہونے پر ایک خوبصورت لان اور اس کے عین وسط میں ہلکے نیلے رنگ کا سوئمنگ پول، چند قدم عبور کرنے پر لاوئنج میں دروازہ کھلتا اور اندر پورا لاوئنج قیمتی صوفوں،سفید پردے جو شیشے کی کھڑکیوں کو ڈھانپنے نظر آئیں گے ،سیڑھیوں سے اوپر جایا جائے تو دائیں جانب ایک کمرے کا دروازہ کھولا جائے تو پورا کمرہ ہلکی روشنی میں رنگا نظر آئے گا جہاں مہرماہ وضو کرنے کے بعد اب سیاہ چادر اپنے چہرے کر گرد اوڑھ رہی ہے ،،اس کے بعد جائے نماز بچھا کر فجر کی نماز پڑھنا شروع کر دی ،،نماز پڑھ کر فارغ ہو جانے کے بعد اب مصحف کو ہاتھوں میں تھامے وہیں جائے نماز پر بیٹھ کر قرآن پاک کی تلاوت شروع کر دی۔

تلاوت قرآن پاک کرنے کے بعد اپنی عادت کے تحت لان میں چلی آئی اور پودوں اور پھولوں کو چھو کر محسوس کرنے لگی ،اتنی دیر میں سرفراز صاحب مسجد سے نماز پڑھ کر اندر آئے تو اپنی بیٹی کو حسب عادت لان میں ٹہلتے پایا تو مسکرا کر اس کے پاس آ گئے ۔

“اسلام علیکم بابا جان”

“وعلیکم السلام میری پیاری بیٹی ،آپ کو اس وقت لان میں آنا اتنا پسند کیوں ہے؟”

“وہ اس لیے بابا جان کیونکہ فجر کے وقت ماحول بہت پرنور اور گناہوں سے پاک محسوس ہوتا ہے،اور لان میں آ کر جب میں ان پودوں کو دیکھتی ہوں تو ان سے مجھے جنت یاد آجاتی ہے ،بابا جنت بھی تو ایک باغ ہے نا وہ جس کے نیچے نہریں بہتی ہونگی جیسا اللہ تعالٰی نے قرآن مجید میں فرمایا

اور جو اپنے رب کے سامنے کھڑاہونے سے ڈر گیا اُس کیلیے دو باغ ہیں۔

(سورہ۔الرحمن۔46)

جنت کے اصل معنی باغ کے ہیں۔ قرآن مجید میں کہیں تو اس پورے عالم کو جس میں نیک لوگ رکھے جائیں گے جنت کہا گیا ہے، گویا کہ وہ پورا کا پورا ایک باغ ہے اور کہیں فرمایا گیا ہے کہ ان کے لیے جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔

بابا جب روز صبح میں ان پودوں کو دیکھتی ہوں تو میں کوشش کرنے کا ارادہ کرتی ہوں تاکہ میں بھی اس جنت میں جا سکوں جسے اللہ تعالٰی نے نیکوکاروں کے لئے بنایا ہے”

“ان شاء اللہ میری پیاری بیٹی،چلو اب اندر اور بتاو یونیورسٹی کیسی جا رہی ہے؟۔اسٹوڈنٹس زیادہ تنگ تو نہیں کرتے؟”

یہ کہتے ہوئے ان کے چہرے پہ فکر مندی کے آثار تھے۔

“نہیں بابا جان ،بلکہ میں پڑھا کے پر سکون ہو جاتی ہوں،گھر رہ کر تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میں بہت ہی ناکارہ ہوں ۔”

اور یہ بات کچن میں داخل ہوتی ماریہ بیگم نے سن لی۔

“ہاں نہ گھر میں رہ کر ناکارہ تو محسوس ہونا ہی ہے جب محترمہ نے کچن میں قدم ہی نہیں دھڑنا، لاکھ مال و دولت سہی مگر کچن کا کام میں نے کبھی ملازموں کے ہاتھ نہیں دیا ،تمہیں بھی کہتی ہوں کھانا پکانا سیکھ لو ،پر مجال ہے جو یہ لڑکی قانون کی کتابوں سے باہر نکل آئے”

“کیا ہے نہ امی ،میں جب بھی روٹی بنانے کی کوشش کرتی ہوں تو نہ جانے کون کون سے ملک کے نقشے بن جاتے ہیں، اور کبھی کچی رہ جاتی ہے تو کبھی جل ہی جاتی ہے

اور آپ تو جانتی ہیں نہ کہ رزق کی بے حرمتی مجھ معصوم دل رکھنے والی سے دیکھی نہیں جاتی، بس اسی لیے میں ان سب کاموں سے دور رہتی ہوں “

آخر میں لب دانتوں تلے دبا کر مسکراہٹ روکی کیونکہ جانتی تھی کہ مقابل سے اب کیا سننے کو ملے گا۔

“میں نہ کہتی تھی اور پڑھائیں اسے قانون کی کتابیں، ہر چیز میں دلائل ڈھونڈ لیتی ہے”

“ہاں تو اچھی بات ہے نہ بیگم صاحبہ آپ کی مہرو لوگوں کی باتیں سن کر خاموش رہ کر ٹینشن لینے کی بجائے لوگوں کو جواب دیا کرے گی “

“اچھا اچھا اب آپ بیٹھیں میں جوس بنا کر لاتی ہوں ،اور مہرو ہلنا نہیں یہاں سے روز بھاگ جاتی ہو کمرے میں تاکہ جوس نہ پینا پڑے ابھی میں چائے کا کہوں گی تو محترمہ ادھر ہی سکون سے بیٹھی نظر آئے گی “

“آپ نے کہہ دیا ماما اب میں ادھر ہی ہوں”

اور اس بات پہ ماریہ بیگم اپنی اولاد کی معصومیت پہ صدقے واری جاتی کچن میں چلی گئیں۔

————-

ایسی ہی خوشگوار صبح میں وہ ہیزل آنکھوں والا ٹریک سوٹ پہنے اسلام آباد کی ہائی سوسائٹی کی سڑکوں پہ جوگنگ کرتا نظر آئے گا، اور جانے کتنے ہی لوگوں نے مڑ مڑ کر اس بادشاہوں کی سی شان والے کو دیکھا ،اس کا حسن لڑکیاں تو لڑکیاں ،مردوں کو بھی اس کی جانب دیکھنے پر مجبور کر دیتا تھا ۔

مگر اس بادشاہ کو اس سب کی پرواہ نہیں تھی کیونکہ وہ اپنے بچپن سے لوگوں کی ایسی پر شوق نگاہوں کا عادی تھا۔

جوگنگ کرتے ہوئے بھی مسلسل اس کی آنکھوں کے سامنے انس کا مرجھایا ہوا روپ تھا جو کسی صورت بھی اسے چین میں نہیں آنے دے رہا تھا ۔

اذیت ہی اذیت تھی جو اپنے دوست کی اس حالت پر اس کے رگ و پے میں سرایت کر گئی تھی، مگر وہ اپنے چہرے پہ بمشکل ہنسی لاتا گھر میں داخل ہوا کیونکہ اس کی تکلیف سے اس کے گھر والے متاثر ہوتے تھے اور وہ ان کو دکھ نہیں دے سکتا۔

حسب معمول ایک ملازم ہاتھ میں جوس کا گلاس لیے کھڑا تھا کیونکہ گھر میں سب لوگ ہی اس بات سے واقف تھے کہ اورہان حیدر کو صبح پانی سے بھی پہلے جوس چاہیے ہوتا ہے۔

جوس پی کر وہ ملازم کو ناشتہ بنانے کا کہہ کے اپنے روم میں آیا تاکہ فریش ہونے کے بعد ناشتہ کیا جا سکے۔

اورہان کے کمرے کی ہر چیز سفید اور بھورے رنگ کی تھی ،سفید بیڈ،بھورے صوفے، سفید پینٹ،ڈریسنگ ٹیبل جس پہ بے شمار پرفیومز اس کی ان سے محبت کو بیان کر رہے تھے ،وہی سائیڈ پہ بنی وارڈراب کو کھول کر اس میں سے اپنے مخصوص حلیے والا سوٹ نکالا اور فریش ہونے چلا گیا۔

جب وہ ڈائیننگ ٹیبل پر آیا تو اتنی دیر میں سب وہاں موجود تھے ،اس نے سب کو سلام کیا اور اتنی ہی دیر میں اس کی گڑیا ناشتہ چھوڑ کر بھائی کے گلے آ کر لگ گئی۔

“دیکھا میں نہ کہتا تھا کہ اگر اس کو معلوم ہوتا کہ تم واپس آ گئے ہو تو تمہارے سر پر منڈلا رہی ہوتی ۔”

“بھائی دیکھیں نہ بابا مجھے مکھی کہہ رہے ہیں کیونکہ وہی لوگوں کے اردگرد منڈلاتی ہے “

“نہیں فری بیٹا میں آپ کو مکھی نہیں بلکہ مچھر کہہ رہا ہوں۔”

اس بات پہ سب قہقہہ لگا کر ہنس پڑے۔نہایت مشکل سے اورہان نے اپنی ہنسی روکی۔

“بھائی آپ بھی”

فاریہ روہانسی ہو چکی تھی۔

“گڑیا اگر آپ کھانا ٹھیک سے نہیں کھاو گے تو کمزور ہی دکھو گے نہ ،آج تو بابا نے مچھر کہا ہے کل باہر بھی لوگ کہیں گے۔لڑکیوں کو تو مضبوط ہونا چاہیے اور مضبوط بننے کے لیے صحت افزا کھانا کھانا پڑے گا۔”

“ٹھیک ہے بھائی میں اب صحت افزا کھانا کھاوں گی۔”

حیدر صاحب اور صوفیا بیگم اپنے بیٹے کی نرم مزاجی اور قابلیت دیکھ کے رہ گئے جو جانتے تھے کہ ان کی بیٹی کو کیسے ہینڈل کرنا ہے یہ اورہان سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔سب نے ناشتہ کرنا شروع کر دیا اور اب فاریہ دودھ کا گلاس پیتی نظر آ رہی تھی۔

“بابا آپ کو معلوم ہے آج میرے من پسند سبجیکٹ کی پہلی کلاس ہے”

“ہاں اور مجھے پتا ہے میری گڑیا کو مجرم پکڑنے کا شوق ہے ،تو سبجیکٹ بھی کریمینولوجی ہی ہو گا۔”

“بھائی آپ کیسے کر لیتے ہیں یہ سب؟”

اس بات پر تو وہاں پر موجود سب لوگ ہی اس کا جواب سننے کے منتظر تھے۔

“بیٹا اس کو اللہ پاک کی طرف سے مجھ پر کرم سمجھ لو کے اپنے سے جڑے لوگوں کے بارے میں بخوبی جانتا ہوں میں، ان کی پسند،ناپسند وغیرہ ۔”

“واہ بھائی آپ تو کمال ہیں۔”

“اچھا چلو ناشتہ کرو ،آج میں تمہیں یونیورسٹی چھوڑ آوں گا “

اور سب لوگ ناشتہ کرنے میں مصروف ہو گئے۔

___________