Yaar-E-Gaar By Esha Afzal Readelle 50382 Yaar-E-Gaar (Episode 18)
No Download Link
Rate this Novel
Yaar-E-Gaar (Episode 18)
Yaar-E-Gaar By Esha Afzal
اورہان اس وقت تھانے موجود تھا جس کا سرد ماحول کسی کی بھی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ پیدا کر سکتا تھا۔اس کو لاک اپ میں بند کیا گیا تھا۔ حیرت کی بات تھی پورے تھانے میں ان کے علاوہ کوئی موجود نہیں تھا۔ نہ کوئی مجرم نہ کوئی عملہ۔۔۔ صرف ایس پی اور اس کے دو آدمی ہی موجود تھے۔انس لگاتار پولیس آفیسر کو سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا مگر وہ اس کی ایک بات بھی سننے کو تیار نہیں تھا۔ حوالات میں بند اورہان ٹینشن لینے کی بجائے سوچ بچار میں مگن تھا۔ وہ اس سارے فساد کی جڑ تک پہنچنا چاہتا تھا۔
آخر بلڈنگ کیسے گر سکتی ہے جب کہ میٹیریل بھی اعلی کوالٹی کا تھا اور اسی وقت دو افراد کا اس حادثے میں جاں بحق ہو جانا اور ان کے لواحقین کا رپورٹ درج کروانا۔ سب الجھا ہوا تھا۔
اتنی دیر میں انس اس کے پاس آیا۔
“اورہان وہ میری کوئی بھی بات سننے کو تیار نہیں ہیں۔ حالانکہ ابھی تک میں نے جتنا اس جاب میں دیکھا ہے پولیس والے ایک دوسرے کی بات سنتے اور مانتے ہیں۔”
وہ افسوس کا شکار تھا۔ اپنے پیشے میں اس نے ابھی تک دوسرے پولیس آفیسرز کی ایسی بے مروتی نہیں دیکھی تھی۔ ایک دوسرے کے ساتھ تو وہ ٹھیک چلتے تھے۔ پھر چاہے عوام کا جتنا مرضی برا حال ہو جاتا ۔
“کیا تمہیں حیرت نہیں ہو رہی انس کہ جن فیملیز کے دو افراد جاں بحق ہوئے ہیں اس وقت وہ ان کا سوگ منانے کی بجائے پولیس میں رپورٹ کروائیں گے۔ میں نے شادی کے لیے تیار ہوتے وقت فون آف کیا تھا دو سے تین گھنٹے میں اتنا سب کچھ ہو جانا یقینا سوچی سمجھی سازش ہے۔ اور یہ پولیس والے کب سے اتنے غریب لوگوں کی بات سننے لگ گئے؟”
استعجاب سے طنزیہ کہا۔
“ایک اور بات بھی ہے جو مجھے پریشان کر رہی ہے۔”
“وہ کیا؟”
“کوئی ایک بھی شخص یہاں موجود نہیں ہے جس نے رپورٹ لکھوائی ہو۔ اگر اتنی جلدی یہ لوگ عمل کر رہے ہیں تو یقینا اس میں کسی بڑی پارٹی کا ہاتھ ہے۔”
انس اب کہ ذرا سنبھلا ہوا تھا اور اس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کام کرنا شروع ہو چکی تھی۔
“وہ تو ہونا ہی تھا کیونکہ یہ پراجیکٹ ولید نعمان کا تھا۔”
کندھے اچکا کر جواب دیا۔
“تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ولید نعمان کے کسی دشمن کا کام ہے۔”
“آف کورس یار میرا تو کوئی دشمن نہیں ہے تو یہ یقینا اسی کا کوئی دشمن ہے جو اس کی ساخت نہیں بننے دینا چاہتا۔”
“لیکن اس سب میں وہ تمہارا نقصان کیوں کر رہا ہے؟”
“کیونکہ جب کسی انسان کو تباہ کرنا ہوتا ہے تو اس کے ساتھ ساتھ اور بھی بہت سے لوگ تباہ ہوتے ہیں اور تباہ کرنے والے کو اس بات کا علم بھی ہوتا ہے مگر وہ طاقت کے نشے میں چور ہوتا ہے اس لیے اسے کسی کی زندگی کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔”
“ٹھیک کہہ رہے ہو ۔ تمہارا وکیل نہیں آیا ابھی تک؟”
“اس کا ایک روز قبل ہی ایکسیڈنٹ ہوا تھا اور وہ آئی سی یو میں تھا ۔ابھی کل ہی میں اس کی عیادت کر کے آیا تھا۔ “
“اوہ ۔۔ یہ تو مسئلہ ہے۔ تمہیں تو اس پر کافی بھروسہ ہے اور وہ ہی تمہارے سارے لیگل معاملات ہینڈل کرتا ہے۔ لیکن ابھی وقت نہیں ہے میڈیا تک بات پہنچنے سے پہلے میں تمہارے لیے کسی وکیل کا بندوبست کرتا ہوں۔”
“ہاں، لیکن دھیان سے وکیل قابل بھروسہ ہونا چاہیے۔”
بھرپور تاکید کی گئی۔
“ٹھیک ہے میں دیکھتا ہوں۔ میں ایک دو قابل اعتماد وکلاء کو جانتا ہوں ان سے بات کرتا ہوں۔ کیونکہ مجھ سے بالکل برداشت نہیں ہو رہا تمہارا یہاں ان سلاخوں کے پیچھے موجود ہونا۔ کاش کہ وہ تمہاری جگہ مجھے جیل میں ڈال دیتے۔”
“اوئے اب تو مار کھائے گا مجھ سے۔ تو کیوں ہونے لگا یہاں۔ تجھے ڈٹ کر اپنی ڈیوٹی کرنی ہے۔ تجھے مجرموں کو ڈالنا ہے ان سلاخوں کے پیچھے۔”
“مجھے ایک بار پتا چل جائے کون تجھے اس مقام تک لایا ہے کہ تیری خوشی کے دن کو برباد کر دیا۔ وعدہ ہے تجھ سے اس انسان کو چھوڑوں گا نہیں۔”
وہ غصے میں تھا۔ اس وقت اگر اسے اس انسان کا علم ہو جاتا تو وہ اسے صحیح سبق سکھاتا۔
اتنی دیر میں انس اپنے فون کی طرف متوجہ ہوا تاکہ کسی وکیل کو ہائیر کرنے کے لیے رابطہ کر سکے مگر وہاں ڈھیر ساری کالز دیکھ کر اسے یاد آیا کہ پیچھے سب پریشان ہو رہے ہوں گے۔ اتنی دیر میں پھر سے حیدر صاحب کی کال موصول ہوئی۔
“جی انکل میں اورہان کے ساتھ ہی ہوں۔ جی ،جی میں کوشش کر رہا ہوں وہ جلد از جلد باہر آ جائے گا۔ یہ لیں انکل، اورہان سے بات کریں۔”
وہ جو بغور انس کی بات سن رہا تھا اس کے فون بڑھانے اور فون کی جانب اشارہ کرنے پر فون تھام کر حیدر صاحب سے بات شروع کی جو کہ بات کم اور تسلی زیادہ تھی۔
“بابا آپ پریشان نہیں ہوں۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ بابا آپ نے سرفراز انکل کو بھی تسلی دینی ہے۔ بابا پلیز مجھے مہرماہ کے بارے میں بتائیں وہ ٹھیک تو ہیں ۔”
“بیٹا سب ٹھیک ہے ۔ میں ابھی تھانے آ رہا ہوں۔”
دونوں باپ بیٹا ایک دوسرے کو حوصلہ دے رہے تھے حالانکہ دونوں ہی اس بات سے آگاہ تھے کہ کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے۔
“بابا آپ آ جائیں گے تو پیچھے ماما اور گڑیا کو کون سنبھالے گا۔ آپ جانتے ہیں وہ رو رہی ہوں گی۔ انس میرے ساتھ ہے، ہم حل نکال لیں گے۔”
“لیکن۔۔۔”
“نہیں بابا پلیز نہیں “
منت بھرے لہجے میں کہا۔
“بہت ضدی ہو تم۔”
“شکریہ بابا۔ اب میں فون رکھتا ہوں۔ آپ اپنی فارم میں آ جائیں ناں اور کسی کو پریشان نہیں ہونے دینا آپ نے مائی فادر۔”
مسکراتے ہوئے ڈھیٹ پن کا مظاہرہ کیا۔ کال کٹ کی تو اس کے چہرے سے ساری مسکراہٹ غائب ہو گئی۔ وہ ان کو پرسکون کرنے کے لیے مسکرا کر بات کر رہا تھا۔ لیکن اب وقت سوچنے کا تھا۔
انس کے اے ایس پی ہونے کی وجہ سے اسے اورہان سے ملنے کی اجازت تھی۔ انس اب وکیل کا انتظام کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ تاکہ جلد از جلد اورہان کی ضمانت کروا سکے کیونکہ اگر یہ کیس میڈیا تک گیا تو اورہان کی ساخت خراب ہو جانی تھی اور اسے یہ ہونے سے روکنا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مہمان جا چکے تھے اور حیرت کی بات تو یہ تھی کہ نگین پھوپھو بھی چلی گئی تھی۔ حالانکہ اس وقت انہیں اپنے بھائی کے ساتھ ہونا چاہیے تھا ، ان کا حوصلہ بننا چاہئے تھا۔ لیکن اس وقت حیدر صاحب اس چیز پر غور نہیں کر سکے۔
اس وقت وہ سرفراز صاحب کے لاوئنج میں بیٹھے ہوئے تھے۔ صوفیا بیگم کی تو طبیعت بگڑ جانے کے باعث انہیں نیند کی دوا دے دی گئی تھی اور اس وقت وہ سو رہی تھی ۔ فاریہ بھی ان کے ساتھ ہی تھی اور رو رو کر اس نے بھی اپنا برا حال کر لیا ہوا تھا۔ مریم آپی اس کو سنبھال رہی تھی ۔
“فری میری جان تم ایسے روؤں گی تو تمہارے بابا پریشان ہو جائیں گے۔”
“میرے بھائی کبھی ایسا نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کچھ نہیں کیا۔”
وہ اپنے بھائی کے حق میں گواہی دے رہی تھی کہ کوئی اس کے بھائی کو غلط نہ سمجھ لے۔
“ہم جانتے ہیں فری کہ اورہان بے قصور ہے۔ آپ تو جانتی ہیں بڑے معاملات میں یہ سب ہو جاتا ہے۔”
“وہ برے نہیں ہیں آپی۔ وہ تو ایک جانور تک کی جان بھی نہیں لے سکتے۔ وہ پولیس آفیسر کہہ رہا تھا کہ بھائی کی وجہ سے دو لوگ جاں بحق ہو گئے۔”
اس کے آنسو بے قابو ہو رہے تھے۔
“کچھ نہیں ہوا اورہان کی وجہ سے۔ ہمت کرو فاریہ تمہارے اس رویے سے آنٹی انکل پریشان ہوں گے۔ دیکھو آنٹی بہت مشکل سے سوئی ہیں اب تم یوں روؤں گی تو وہ جاگ جائیں گی۔”
فاریہ کی ہی ضد تھی کہ وہ اپنی ماما کے پاس ہی رہے گی ورنہ مریم کب کی اس کو اپنے کمرے میں لے جاتی اور اب وہ رو رو کر اپنا بھی برا حال کر رہی تھی۔
“اچھا آپی اب میں نہیں روؤں گی۔ میں آپ کے کمرے میں چلی جاوں؟”
“میری جان آپ جہاں جانا چاہتی ہو چلی جاو۔ میں آپ کے لیے کھانے کو کچھ لے کر آتی ہوں۔”
مریم اس کے لیے کھانا لینے چلی گئی۔ اس نے ایک نظر سوئی ہوئی اپنی ماما پر ڈالی اور پھر وہاں سائیڈ ٹیبل پر موجود اورہان کا فون اٹھایا اور مریم کے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔ لاوئنج میں موجود حیدر صاحب کی نظر جب اس پر گئی تو ان کو مزید دکھ نے آن گھیرا۔ وہ بھائی جو اپنی گڑیا کی آنکھ میں ایک آنسو نہیں آنے دیتا تھا آج اسی گڑیا کی آنکھیں اشک بار تھی۔
وہ کمرے میں آئی اور بالکونی والی سائیڈ پر چلی گئی۔ ہاتھ میں پکڑا فون آن کیا ۔ پاسورڈ اسے معلوم تھا ابھی کل ہی تو اس نے بھائی سے شرارتا پوچھا تھا۔
“بھائی ویسے میں نے سنا ہے کہ لوگ اپنی بیٹر ہاف کے نام کا پاسورڈ لگاتے ہیں۔ آپ نے بھی کیا مہرماہ بھابھی کے نام کا پاسورڈ رکھا ہے؟”
“نہیں گڑیا۔”
وہ مسکرا رہا تھا۔
“ہائے ۔۔۔ میں بتاو گی بھابھی کو کہ بھائی آپ سے محبت نہیں کرتے۔”
اسے شدید افسوس ہوا تھا۔
“خدا کا خوف کرو گڑیا۔ میں نے انہی سے منسلک پاسورڈ رکھا ہے۔”
“وہ کیا؟”
“میں کیوں بتاؤں۔ پاسورڈ تھوڑی نہ کسی کو بتاتے ہیں۔”
“کیا آپ مہرماہ بھابھی کو بھی نہیں بتائیں گے۔”
“نہیں “
“بھائی آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں۔”
“وہ خود جان جائیں گی گڑیا۔”
“واہ بھئی ۔۔۔ یہ ہوئی نہ محبت۔ اچھا مجھے تو بتا دیں۔”
“آپ نے جان کر کیا کرنا ہے؟”
“مجھے ٹیمپل رن کھیلنی ہے بھائی۔”
اس کے اپنے فون میں بھی یہی گیم موجود تھی مگر اسے اورہان کے فون پر ہی گیم کھیلنی ہوتی تھی۔
“وہ تو آپ کے فون میں بھی ہے؟”
“پر آپ کو تو پتا ہے کہ مجھے آپ کے فون میں کھیلنے کا زیادہ مزہ آتا ہے۔ اگر آپ کہیں بزی ہوئے تو کم از کم مجھے آپ کا انتظار تو نہیں کرنا پڑے گا کہ آپ مجھے لاک کھول کر دیں گے تو ہی میں کھیلو گی۔”
ساتھ ساتھ وہ اس کو پورے لاجک سے سمجھا بھی رہی تھی۔
“پر میں پھر بھی آپ کو پاسورڈ نہیں بتاوں گا۔”
وہ سنجیدہ ہو چکا تھا اور فاریہ تو رونے والی ہو چکی تھی۔ وہ اٹھ کے جانے ہی والی تھی کہ اورہان نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کو اپنے سامنے بٹھایا۔
“بھائی اپنی گڑیا کو کبھی انکار کر سکتے ہیں کیا؟ اور آپ کی آنکھوں میں آنسو کیوں آ رہے ہیں۔ آئیندہ نہیں دیکھوں میں یہ آنسو۔ میری گڑیا بہت بہادر ہے اور بہادر لوگ کیا چھوٹی چھوٹی بات پر رونا شروع کر دیتے ہیں۔آپ تو بھائی کی جان ہیں میری گڑیا۔”
وہ اپنے بھائی کے کندھے کے ساتھ لگ کر بیٹھ چکی تھی۔ اور وہ اس کے بھورے گھنگھریالے بال سہلا رہا تھا۔
“پھر پاسورڈ بھائی؟”
سارا رونا دھونا بھول کر وہ پھر معصومیت سے بھائی سے پاسورڈ کا کہہ رہی تھی۔
“ملکہ ۔۔”
“واو بھائی۔آپ بھابھی کو ملکہ کہتے ہیں۔”
“نہیں تو”
“پھر آپ نے کیوں کہا کہ بھابھی پاسورڈ پہچان جائیں گی ۔”
“بیٹا جی وہ کیا کہتے ہیں کہ دل کو دل سے راہ ہوتی ہے۔”
اس نے مسکراہٹ دباتے ہوئے مہرماہ کے ہی الفاظ اس کے سامنے دہرائے۔ ساتھ ہی خیالوں میں اس کا چہرہ نظر آیا جو کل اس کے گھر اس کی ہمسفر اور شریک حیات بن کر آنے والی تھی۔
” اوہ بھائی ، آپ جانیں اور بھابھی جانیں۔ خیر اب میں گیم کھیل لوں۔”
یہ کہتے ہی وہ اس کا فون پکڑ کر بھاگ اٹھی۔
“گڑیا دھیان سے گر نہیں جانا۔”
وہ فکر مند ہوا تھا۔
“آپ کے ہوتے ہوئے آپ کی گڑیا نہیں گر سکتی بھائی۔”
اورہان اس کے جواب پر بہت خوش ہوا۔ وہ ہمیشہ اپنی بہن کے لیے ایک بہت اچھا بھائی ثابت ہوا تھا۔ فاریہ کا محفوظ اور مضبوط سہارا اس کا پیارا بھائی۔۔۔
منظر غائب ہو چکا تھا اور اس نے یاد آ جانے پر فورا آنکھوں سے آنسو پونچھے۔ اس کے بھائی نے اس کو رونے سے منع کیا تھا۔ کچھ دیر سوچنے کے بعد آخر کار کر اس نے ایک نمبر پر کال ملائی۔ کال جا رہی تھی اور فورا ہی ریسیو بھی کر لی گئی۔
“بھائی “
انس جو ابھی ایک دو وکلاء سے کیس کی بابت استفسار کر کے فارغ ہوا تھا اورہان کے نمبر سے آتی کال فورا ریسیو کی۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ اس وقت اورہان کا فون کس کے پاس ہے۔
“فاریہ آپ؟”
“میری بھائی سے بات کروا دیں پلیز۔”
“ابھی بات نہیں ہو سکتی میں اس وقت تھانے میں نہیں ہوں۔”
“کیوں نہیں ہیں آپ تھانے میں؟ آپ بھائی کو اکیلا کیسے چھوڑ سکتے ہیں۔ وہ اس وقت سلاخوں کے پیچھے ہوں گے۔ آپ تو پولیس میں ہیں ناں کیا اپنے دوست کے لیے اتنا بھی نہیں کر سکتے۔ بھائی نے تو آپ کو کبھی تنہا نہیں چھوڑا آپ انہیں کیسے چھوڑ آئے؟”
وہ روتی آواز میں غصے سے اس کو کہہ رہی تھی یا شاید وضاحت طلب کر رہی تھی۔
“دیکھیں فاریہ آپ پہلے پر سکون ہو جائیں۔”
اس کی آواز میں گھلی نمی وہ فورا پہچان چکا تھا اور اس کا دل کٹ کر رہ گیا تھا۔
“کیسے ہو جاوں میں پرسکون؟ میرا بھائی جیل میں ہے اس کی شادی والے دن اس کو پولیس لے کر چلی گئی۔ ماما کی طبیعت بگڑ گئی ہے ۔ بابا پریشان حال بیٹھے ہوئے ہیں۔ مہرماہ آپی نے کسی سے بھی ملنے سے انکار کر دیا ہے۔ سب برباد ہو گیا ہے اور آپ کہہ رہے ہیں کہ فاریہ پرسکون ہو جائیں۔”
انس مجتبٰی کو شدت سے اس لڑکی کے آنسو اذیت دے رہے تھے۔
“دیکھیں فاریہ آپ تو حوصلہ کریں اگر آپ ایسے کریں گی تو اورہان کو اچھا نہیں لگے گا۔ آپ کے بابا پہلے ہی بہت پریشان ہیں آپ مزید ان کی پریشانی میں اضافے کا سبب تو نہیں بننا چاہیں گی ناں؟”
“میں کب ان کو پریشان کر رہی ہوں۔ میں تو خود پریشان ہوں۔ آپ بس میری بھائی سے بات کروا دیں۔ وہ کیسے ہیں؟ انکی تو خوشی کا دن تھا۔ آج وہ بہت خوش تھے۔ لیکن ایک جھٹکے میں ساری خوشیاں دم توڑ گئی۔”
اپنی صفائی دیتی ، بھائی سے بات کرنے کے لیے بے صبری دکھاتی اور آخر میں افسوس سے کہتی فاریہ اس نے آج پہلی بار سنی تھی۔ وہ تو ہمیشہ شوخ چنچل رہتی تھی۔ اپنے بھائی اور پوری فیملی کی جان جو کب سے اس کی بھی جان بن چکی تھی آج یوں تکلیف میں تھی اور انس کچھ نہیں کر سکتا تھا سوائے دلاسہ دینے کے۔
“ٹھیک ہے میں تھانے جا کر آپ کی بات کروا دوں گا۔ مگر آپ کو ایک وعدہ کرنا ہو گا۔”
“وہ کیا؟”
” اب آپ روئیں گی نہیں۔”
“میں وعدہ نہیں کر سکتی۔”
نہایت صاف گوئی کا مظاہرہ کیا۔
“پھر میں آپ کی بات بھی نہیں کرواوں گا۔”
نرم لہجے میں دھمکی دی گئی۔
“کیوں؟”
اس کیوں کا جواب تو فلحال انس مجتبٰی دے نہیں سکتا تھا۔ وہ کیسے کہہ دیتا کہ یہ آنسو اسے اذیت دے رہے ہیں۔
“کیونکہ اورہان آپ کے آنسوؤں سے مزید پریشان ہو جائے گا۔”
بروقت کہا گیا اور نتائج سے بھی آگاہ کیا۔ وہ کیا کرتا فاریہ اپنے بھائی کی جان تھی تو اس کی محبت۔ دونوں ہی اس کے آنسو نہیں دیکھ سکتے تھے۔
“ٹھیک ہے میں کوشش کروں گی۔”
آنسو پونچھے ہوئے جواب دیا جس پر انس نے سکھ کا سانس لیا۔
“مجھے آپ سے یہی امید تھی۔ میں تھانے پہنچ کر آپ کی بات کروا دوں گا۔”
فاریہ پہلے کی نسبت اب پرسکون تھی۔ بغیر کوئی جواب دیے اس نے کال کاٹ دی۔ اور انس نے اورہان کو تفصیلات سے آگاہ کرنے کے لیے گاڑی کا رخ تھانے کی جانب موڑا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ تھانے واپس آیا تو اورہان لاک اپ میں کھڑا ہی ملا۔
“اورہان وکیل کا انتظام ہو تو جائے گا۔ مگر اس میں بھی ایک مسئلہ ہے۔”
“وہ ابھی میری ضمانت نہیں کروا سکتا۔ رائٹ؟”
“تمہیں کیسے پتا چلا؟”
“میں جانتا تھا اسی لیے میں کسی پر بھروسہ نہیں کرتا۔”
“آج جمعہ ہے اور اگر تاخیر ہوئی تو اتوار آ جائے گا اور سوموار سے پہلے تمہاری ضمانت نہیں ہو گی۔”
وہ اپنے دوست کے لیے بہت فکرمند تھا۔
“مجھے کوئی فکر نہیں ہے بس تم میرے گھر والوں کو سنبھال لینا۔ انس ان کا خیال رکھنا جب تک میں واپس نہیں آ جاتا ان کو حوصلہ دینا۔”
“اورہان میں نے تمہاری اور اپنی فیملی میں کبھی فرق نہیں کیا۔”
“جانتا ہوں یار اسی لیے تو تجھ پر بھروسہ ہے کہ تو کبھی کسی برے حال میں بھی مجھ سے اور میری فیملی سے دستبردار نہیں ہو گا۔”
“آزما کر دیکھ لینا۔”
پورے عزم سے یقین دہانی کروائی۔
“یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ آزمائش کے وقت میں ہی نہ رہوں۔”
نہ جانے وہ یہ باتیں کیوں کر رہا تھا۔
“اب تو مار کھانے والی بات کر رہا ہے۔ ایک بار باہر نکل ذرا ساری پولیس ٹریننگ تجھ پر نکالوں گا۔”
اس بات پر اورہان گردن پیچھے پھینک کر کھلے دل سے ہنسا۔
“اور تجھے کیوں لگتا ہے کہ میں چپ چاپ تیری مار کھاوں گا۔”
“پھر کیا کرے گا؟”
ابرو اچکا کر سوال کیا۔
“اپنی ساری زندگی جتنی بار بھی تجھے مارنے پیٹنے کا کہا تھا اور پختہ ارادہ بھی کیا تھا اس پر عمل کر کے دکھاوں گا۔”
وہ مسکرا کر کہہ رہا تھا اور انس اس کی بات سن کر اس سے بھی زیادہ مسکرایا۔
“جانتا ہوں مجھے کبھی نہیں مار سکے گا۔”
“اوہو ۔۔۔اتنا اعتماد “
اورہان خاصا محظوظ ہو رہا تھا۔
“ہاں ناں۔”
تھانے میں موجود ایس پی ان دونوں کو حیرت سے دیکھ رہا تھا جو اتنی سیریس کنڈیشن میں بھی ہنسی مزاح کر رہے تھے۔ اسے ان دونوں کی دماغی حالت پر شبہ ہو رہا تھا۔
“سر کہیں صدمے سے پاگل ہی تو نہیں ہو گئے۔”
ایس پی کے ایک آدمی نے اس سے سوال کیا۔
“صدمے سے چاہے نہ ہوں بدنامی سے ضرور ہو جائیں گے۔”
ایک نظر اورہان کو دیکھا اور پھر سے اپنے کام کی جانب متوجہ ہو گیا۔ یقینا کسی بڑی سازش کو ترتیب دیا جانا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
