429.8K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yaar-E-Gaar (Episode 13)

Yaar-E-Gaar By Esha Afzal

اورہان جب گھر واپس آیا تو شام کا وقت ہو چکا تھا وہ تھکا ہوا تھا مگر اب وہ مزید انتظار نہیں کر سکتا تھا ۔ اسے آج ہی اپنے والدین سے بات کرنا تھی وہ مہرماہ کو جلد از جلد اپنا بنانا چاہتا تھا۔ عریش کی نگاہیں وہ بھول نہیں پا رہا تھا۔ سب غلط ہو رہا تھا مہرماہ کو اس سے محفوظ رکھنا تھا وہ شاید مزید انتظار کر لیتا مگر اب دیری اسے مہنگی پڑ سکتی تھی۔ وہ اپنی محبت پر کسی کی بری نگاہ برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ یہی سوچیں سوچتے وہ اپنے روم گیا اور فریش ہو کر کپڑے چینج کیے اور نیچے لاوئنج میں آ گیا اس وقت حیدر صاحب صوفہ پر بیٹھے صوفیا بیگم کے ساتھ باتوں میں مشغول تھے ۔ ساتھ ہی ٹی وی بھی آن تھا جس میں اورہان عریش کے ساتھ ہی کھڑا دکھائے دے رہا تھا۔ اس کا ایک اور پراجیکٹ کامیاب ہوا تھا۔ وہ دونوں فخر سے اپنے بیٹے کو دیکھ رہے تھے کہ اورہان ان کو دیکھ کر مسکرایا اور ان کی جانب بڑھا۔

“اسلام علیکم ماما، بابا”

اپنے والدین کو سلام کیا ۔ بھورے گھنگھریالے بال گیلے ہونے کے باعث ماتھے پر چپکے ہوئے تھے۔ سادہ سی ٹی شرٹ اور ٹراوزر پہنے وہ اب پہلے کی نسبت کافی فریش دکھائی دے رہا تھا۔

“وعلیکم السلام بیٹا “

دونوں نے ایک ساتھ جواب دیا۔

اس نے اپنی ماما سے پیار لیا تو اس کے بابا صوفہ سے اٹھ کھڑے ہوئے۔ اور اس کو گلے لگا لیا۔

“برخوردار تم تو مجھ سے بھی تو ہاتھ آگے نکلے۔”

“بابا آپ سے آگے تو میں کبھی نہیں جا سکتا۔ آپ کا سکھایا ہوا تجربہ بہت کام آتا ہے۔”

“بیٹا تمہیں کامیاب دیکھ کر میں بہت خوش ہوں ۔ابھی تمہارے بابا سے بھی تمہاری ہی بات کر رہے تھے ۔ ماشاءاللہ میرا بچہ بہت ذہین اور رحمدل ہے۔”

“آپ کی دعاؤں کا صلہ ہے سب ماما”

اس نے اپنی ماما کو پاس آنے کا اشارہ کیا اور اپنے ماما بابا کے گرد بازو لپیٹ لیے۔ اتنی دیر میں فاریہ ناراضی سے وہاں آئی۔

“بھائی مجھے سب بھول گئے۔”

وہ کمر پر ہاتھ رکھے ایسے کھڑی تھی جیسی ابھی لڑنے لگ جائے گی۔

“تمہیں کیسے بھول سکتے میری گڑیا ،تم تو ہمارے گھر کی جان ہو۔ادھر آو۔”

اور فاریہ بھاگتے ہوئے آ کر ان سے لپٹ گئی۔

آئیڈیل فیملی کیسی ہوتی ہے ان کو دیکھ کر کوئی بھی با آسانی بتا سکتا تھا۔

نورین آپا کھانے کے لیے بلانے آئی تو ان کو ایسے دیکھ کر بے اختیار ہی نظر بد سے بچنے کی دعا دی۔ امیروں کی فیملیز میں انہوں نے بھی کام کیا تھا مگر کسی فیملی کو اتنا متحد ، پیار کرنے والا اور نرم مزاج نہیں پایا تھا۔

“بڑی بی بی جی کھانا لگ گیا ہے۔”

نورین آپا کی آواز پر وہ مسکراہٹ چہروں پر سجائے علیحدہ ہوئے ۔

“آج تو اورہان کی ساری پسندیدہ ڈشز بنوائی ہیں میں نے ۔”

“اور بیگم صاحبہ نے پھر سے اپنے صاحبزادے کے لیے چکن منچورئین کی خدمات سر انجام دی ہیں۔”

“اور پھر آپ جیلس ہو رہے ہیں مجھ سے؟”

“ہماری یہ مجال بیگم صاحبہ۔ آپ سے جیلس ہو کر ہم نے کہاں جانا ہے۔”

“بھائی میں نے آپ کے لیے فروٹ ٹرائفل بنایا ہے۔”

فاریہ نے چہکتے ہوئی اپنی قابلیت بیان کی۔

“واہ بھئی آج میری گڑیا نے بھی کھانا بنایا۔”

“بیٹا اس کو کھانا نہیں کہتے دنیا جہان کی سب سے آسان ریسپی بنائی ہے۔”

“بابا آپ کو تو موقع چاہیے ہوتا میری کوکنگ کے بارے مجھے تنگ کرنے کا۔”

“بیٹا تمہاری کونسی کوکنگ ہو گئی ، ہاتھ ڈال کے کہتی ہو میری کوکنگ ۔”

“بھائی دیکھیں لیں بابا مجھے تنگ کر رہے ہیں۔”

“میں تو اس لڑکی کی عقل پہ حیران ہوں باپ کی شکایت بیٹے کو لگا رہی ہے۔”

صوفیا بیگم کی بات پر سبھی کھلکھلا کر مسکرا پڑے اور فاریہ کو بھی اپنی بے وقوفی کا احساس ہوا یا شاید اسے اپنے بھائی پہ اس حد تک مان تھا کہ وہ اپنے بابا کی شکایت بھی اپنے چہیتے بھائی سے ہی کرتی تھی۔ کیونکہ اسے لگتا تھا کہ وہ ہمیشہ اپنی گڑیا کے لیے سٹینڈ لے گا پھر چاہے سب ہی اسے چھوڑ کیوں نہ دیں۔

سب خوشگوار ماحول میں کھانا کھا رہے تھے کہ اورہان نے گلا کھنکھار کر سب کو مخاطب کرنا چاہا۔اور وہ اپنی

کوشش میں کامیاب بھی ٹھہرا۔

“وہ ماما ، بابا مجھے آپ سے اپنی ایک خواہش کا اظہار کرنا ہے اور اس خواہش کو آپ ہی پورا کر سکتے ہیں۔”

وہ ہچکچا کر کہہ رہا تھا اور وہ حیران تھے کہ اورہان کیوں اتنا شرما اور ہچکچا رہا ہے۔

“بولو بیٹا ، تمہاری ہر خواہش سر آنکھوں پر۔”

” میں شادی کرنا چاہتا ہوں۔”

اور وہاں موجود سب لوگ ہی خوشگوار حیرت اور بے یقینی سے اس کو دیکھ رہے تھے۔ فاریہ کا تو منہ ہی کھلا رہ گیا تھا۔ کتنی بار اس کو شادی کا کہا مگر وہ ہمیشہ ٹال دیتا تھا اور اب وہ اپنے منہ سے کہہ رہا تھا۔

“برخوردار لڑکی ہمیں پسند کرنی ہو گی یا آپ کر چکے ہیں۔”

جان تو وہ گئے ہی تھے کہ برخوردار کسی سے محبت کر بیٹھے ہیں اسی لیے تو شادی کا خیال آیا ہے لیکن پوچھنا مناسب سمجھا۔

“جی بابا۔”

“اورہان جلدی بتاو میں تو خوشی سے بے حال ہو رہی ہوں، اب آخر میرے گھر بھی بہو آئے گی۔ کتنا انتظار تھا مجھے کہ تم خود یہ بات کہو۔”

“ماما نام جان کر آپ کو مزید خوشی ہو گی۔”

“بھائی مت ڈالیں سسپینس، ایک تو سسپینس ڈالے بغیر آپ بات نہیں کرتے۔”

“تم تو انس کی بولی بول رہی ہو۔ اسے بھی میری سسپینس کی عادت سے سخت چڑ ہے۔”

اور فاریہ تو انس کا نام سن کر ہی گڑ بڑا گئی۔ اس کی دھڑکن معمول سے ہٹ چکی تھی۔ لیکن خود کو نارمل شو کروایا۔

“بیٹا اب بتا بھی دو۔”

“مہرماہ ۔۔۔۔ مہرماہ سرفراز “

اور اب شاک لگنے کی باری سب کی تھی۔ اس کی زبان سے مہرماہ کا نام سن کر وہ سب خوشی سے جھوم اٹھے۔ صوفیا بیگم کی بھی شدید خواہش تھی کہ وہ مہرماہ کو اپنی بہو بنائیں مگر بیٹے کی رضامندی کے بغیر وہ یہ نہیں کرنا چاہتی تھی۔انہوں نے حیدر صاحب سے اس بارے میں بات بھی کی تھی مگر انہوں نے یہی جواب دیا تھا کہ ابھی وقت نہیں ہے۔ اور آج آخر وقت آ ہی گیا تھا۔ صوفیا بیگم کی خواہش اپنے بیٹے کی خواہش کے عین مطابق تھی۔ حیدر صاحب کی تو سرفراز صاحب سے دوستی رشتہ داری میں بدل جانی تھی اور فاریہ کی آئیڈیل اس کی بھابھی کے روپ میں ۔۔۔۔ وہ تو بے ہوش ہونے والی تھی۔

“تمہاری چوائس ہمیشہ سب سے منفرد اور لاجواب رہی ہے اور آج تو اس بات پہ مہر لگ گئی ہے۔ میں صبح ہی رشتہ لے کر جاوں گی اور مجھے یقین ہے وہ انکار نہیں کریں گے۔”

“کیا سچ میں ماما؟”

وہ معصوم بچوں کی طرح یقین دہانی چاہ رہا تھا۔ اپنی محبت کو پانے کے لیے وہ بہت پوزیسیو ہو رہا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اس کے گھر والے کبھی اعتراض نہیں کریں گے مگر وہ کبھی بات نہیں کر پایا لیکن جب آج مہرماہ نے اس کے پوچھنے پر اس کو یہ بتایا کہ ہاں وہ اس پر بھروسہ کرتی ہے تو اب وہ مزید انتظار نہیں کرنا چاہتا تھا۔

“ہاں تو میرا بیٹا دنیا میں اکلوتا پیس ہے اس پیس کو وہ انکار تھوڑی کریں گے۔”

جواب دینے والے اس کے بابا تھے۔

“بابا مذاق نہیں کریں ناں۔”

“بیٹا ان شاء اللہ وہ اثبات میں ہی جواب دیں گے۔”

حیدر صاحب نے اس کے کندھے پر تھپکی دے کر اس کو حوصلہ دیا۔

“ماما آپ ان کی پسند بھی پوچھیں گی۔”

“ان کون بھائی؟”

فاریہ کو تو بھائی کو تنگ کرنے کا ذریعہ اور موقع دونوں مل گئے تھے۔

“آپ کی فیورٹ میم ، وہ جن سے پڑھ کر آپ بہت خوش ہوتی ہیں۔”

وہ بھی اورہان حیدر عظیم تھا اپنے نام کی طرح اکلوتا پیس۔۔۔ بقول اس کے بابا کے

” آپ ناں بہت چالاک ہیں بھائی۔”

فاریہ نے بدمزہ ہو کر کہا۔

“گڑیا آپ تو لاء پڑھ رہی ہیں آپ کو تو مجھ سے زیادہ چالاک ہونا چاہیے۔ اور وہ آپ کا پسندیدہ سبجیکٹ کیا تھا ۔۔۔ ہاں جی کریمینولوجی، تو آپ ہوشیار بنیں۔ مجرم کو کیسے پہچانیں گی۔”

“دیکھنا مہرو آپی آپ کو لاجواب کریں گی۔”

اور اس بات پہ اسے کوئی شک نہیں تھا کہ مہرو سب کو لاجواب کر دیتی ہے مگر اس بار وہ اس کو لاجواب کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔

“وہ تو وقت ہی بتائے گا کون کس کو لاجواب کرتا ہے ۔”

زیر لب کہا کیونکہ وہ جانتا تھا جب وہ مہرماہ کو اپنے دل کا حال بتائے گا تو وہ لاجواب ہو جائے گی۔

“کیا کہا بھائی۔”

“کچھ نہیں گڑیا۔”

“نورین جلدی سے میرا بلیو جوڑا پریس کروا دیں اور حیدر صاحب کا بلیک ٹو پیس اور ملازم سے کہہ دیں صبح دس بجے سے پہلے مجھے مٹھائی کے ٹوکرے اور پھولوں کا خوبصورت گلدستہ جس شاپ سے میں لیتی ہوں وہیں سے چاہیے ۔”

“نورین آپا اس سے کہیے گا پھول سفید رنگ کے ہوں۔”

“جی ٹھیک ہے چھوٹے صاحب میں اس کو خاص کہہ کر بھیجو گی، بڑی بی بی جی میں ابھی آپ کے اور بڑے صاحب کے کپڑے تیار کرواتی ہوں۔”

“ماما مجھے بھی جانا ہے۔”

“ٹھیک ہے بیٹا تم بھی چلو۔”

فاریہ تو فورا اپنے کمرے میں بھاگی اسے ابھی بہت ساری تیاریاں کرنی تھی اس کے پیارے بھائی کی پسند اور اس کی پیاری میم وہ اس سے ملنے کے لیے بہت بے تاب ہو رہی تھی کیونکہ اب وہ اسے اپنے بھابھی کے روپ میں دیکھنے کی شدید خواہش مند تھی۔

“بابا ایک بار کال کر کے ان سے پوچھ بھی لیں۔”

“آف کورس بیٹا ، ایسے ہی تو نہیں جائیں گے۔”

اورہان کو تو آج خوشی کے مارے نیند ہی نہیں آنی تھی وہ اس کے ہر سوال کا جواب اس کو اپنا بنا کر دینا چاہتا تھا۔

وہیں مہرماہ آج والے واقعہ کے بارے میں سوچ سوچ کر ہلکان ہو رہی تھی اس نے کئی بار اس کو کال کرنے کا سوچا مگر ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ وہ اس سے کیا پوچھتی کہ اس کے پاس مہرماہ کا نمبر کہاں سے آیا؟ اس نے اسے وہاں سے جانے کے لیے کیوں کہا؟ مگر اس وقت تو وہ یہ سوچ بھی نہیں رہی تھی ۔

انہیں کیسے علم ہوا کہ مجھے ایسی تقریبات سے الرجی ہے؟ اور میں نے فورا ہی کہہ دیا کہ مجھے ان پر یقین ہے۔ اف۔۔۔۔ مہرماہ اب تم ان سے کیا پوچھو گی جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ تم ان کی بات ماننے سے انکار ہی نہیں کر سکی۔ وہ خود ہی اندازے لگانے میں مصروف تھی۔

چاکلیٹ اور ٹورٹیلا براون کمرے میں عریش سلطان اپنے بیڈ پر موجود اس کی تصویر ہاتھ میں تھامے اس سے محو گفتگو تھا اس نے فون آف کر دیا تھا اور کمرے میں کسی کو بھی آنے سے منع کر دیا تھا۔ فلحال وہ کوئی ڈسٹربنس نہیں چاہتا تھا۔اس کے بابا ضروری کام سے شہر سے باہر تھے۔ اس لیے وہ سکون سے آنکھیں تصویر پر جمائے اب اس سے شکوہ کر رہا تھا۔

“مہرماہ آپ کو اپنے روبرو دیکھنے کے لیے اتنا انتظار کیا مگر آپ اتنی جلدی کیوں آ گئی؟ ابھی تو میں نے آپ کو جی بھر کر دیکھا بھی نہیں تھا۔ آپ نظروں سے اوجھل ہوئی تو میری ساری مسکراہٹ لے گئی۔ آپ مسکراتی ہیں تو میں مسحور ہو جاتا ہوں۔ آپ روڈ بھی ہوتی ہیں تو دل کے بہت قریب محسوس ہوتی ہیں۔ آپ جب بولتی ہیں تو جی چاہتا ہے ساری آوازیں بند ہو جائیں۔ کوئی اتنا خوبصورت کیسے بول سکتا ہے؟اب تو آپ کو اپنا بنانے کا سوچ لیا ہے میں نے۔ آپ کو دیکھے بغیر اب عریش سلطان زندہ کیسے رہے گا؟

یہ رات گویا سب پر مختلف طریقے سے اپنی چادر اوڑھے ہوئے تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگر یہ کہہ دو بغیر میرے نہیں گزارہ تو میں تمہارا

یا اس پہ مبنی کوئی تأثر کوئی اشارہ تو میں تمہارا

غرور پرور انا کا مالک کچھ اس طرح کے ہیں نام میرے

مگر قسم سے جو تم نے اک نام بھی پکارا تو میں تمہارا

تم اپنی شرطوں پہ کھیل کھیلو میں جیسے چاہے لگاؤں بازی

اگر میں جیتا تو تم ہو میرے اگر میں ہارا تو میں تمہارا

یہ کس پہ تعویذ کر رہے ہو یہ کس کو پانے کے ہیں وظیفے

تمام چھوڑو بس ایک کر لو جو استخارہ تو میں تمہارا

(عامر امیر)

اسلام آباد پر جمعہ کی یہ صبح پرنور اور گناہوں سے پاک اتری۔ شبنم سبزے پہ گر کر اس کو اجلا بنا رہی تھی۔ پھولوں کی مہک دل کو قرار بخش رہی تھی۔ ہوا کے جھونکوں سے سبزہ لہلہا رہا تھا۔پرندوں کی چہچہاہٹ نے ایک ساز چھیڑ رکھا تھا۔ یہ صبح ایک نیا دن لے کر آئی تھی جس میں بہت سے لوگوں کو خوشی ملنی تھی اور بہت سو کو غم۔ آزمائش کی دنیا میں کبھی خوشی اور کبھی غم تو چلتے ہی رہتے ہیں۔ مگر خوشی پہ شکر اور غم پر صبر کرنے والے لوگ کم ہی دکھائی دیتے ہیں۔

اسی روشن صبح میں سفید اور بھورے کمرے میں آیا جائے تو اورہان فجر کی نماز کی تیاری کرتا دکھائی دے رہا تھا۔ سفید سوٹ پہنے جب وہ واش روم سے باہر نکلا تو اس کی آستین گیلی اور فولڈ تھی جس کو وہ نیچے کر رہا تھا ، بھورے بال گیلے ہونے کی وجہ سے ماتھے پر چپکے ہوئے تھے ،شلوار کو ٹخنوں سے اوپر باندھے اب وہ پرفیوم سپرے کر رہا تھا۔ وہ نماز بھی پوری تیاری سے پڑھتا تھا کہ لوگ اس کو دیکھ کر کہتے تھے کہ تم کہیں خاص جگہ جا رہے ہو؟ تو وہ ایک ہی جواب دیتا تھا کہ اگر انسانوں کے سامنے ہم تیار ہو کر جاتے ہیں تو رب کے سامنے حاضر ہونے سے پہلے بھی پوری تیاری کرنی چاہیے، رب کو صفائی پسند ہے اور ہمیں اس کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔

فجر کی نماز پڑھنے کے لیے اس نے مسجد کا رخ کیا ۔ نماز پڑھ کر فارغ ہوا تو دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے ۔ آج پھر معمول کے مطابق وہ لڑکی اس کی دعاؤں کا حصہ تھی۔ ہاں وہی لڑکی جس کو اس نے اپنے رب سے مانگا تھا۔ جس کا ساتھ اس نے اس ذات سے مانگا تھا جو ہر چیز دینے پر قادر ہے۔ جس کے دل میں اپنے لیے عزت اور محبت ڈالنے کی اس نے محبت ڈالنے والے سے التجا کی تھی۔ وہ کب اس کی دعاؤں کا حصہ بنی اسے نہیں یاد تھا مگر وہ اس کے لیے دعا مانگے بغیر کبھی نہیں اٹھتا تھا۔ اور آج تو اس کے لیے بہت خاص دن تھا۔

آج کے دن کو وہ اپنے زندگی کے بہترین دنوں میں شمار کرنا چاہتا تھا اور اس کے لیے اثبات میں جواب ضروری تھا۔ اور اس کے لیے رب کے حضور دعا ضروری تھی۔

اس نے اپنی فیملی ،ملک و قوم اور مسلمانوں کے لیے دعا مانگنے کے بعد اپنے اور مہرماہ کے لیے خیر اور بھلائی مانگی ۔اس نے رب سے اس لڑکی پر حق مانگا جو اس کی دھڑکنوں میں رچ بس گئی تھی۔

پھر وہ گھر کی جانب روانہ ہوا اور لباس تبدیل کر کے ٹریک سوٹ میں ملبوس اب وہ واک کر رہا تھا۔جب وہ گھر پہنچا تو سورج کی کرنیں ہر جگہ روشنی بکھیرتی نظر آ رہی تھی۔گھر پہنچ کر جوس پینے کے بعد وہ اپنے والدین کے کمرے کی جانب بڑھا۔ دروازہ ناک کیا تو اندر سے اجازت ملنے پر وہ اندر داخل ہوا۔

“سلام ماما بابا”

“وعلیکم السلام بیٹا، جیتے رہو ،خوش رہو ۔ جانتے ہو مجھے تو خوشی کے مارے نیند ہی نہیں آ رہی تھی۔”

یہ کہنے والی اس کی ماما تھی۔

“ویسے ایک راز کی بات بتاوں ماما۔”

ساتھ ہی اپنا چہرہ اپنی ماما کے کان کے پاس لے کر آیا۔

“بھئی باپ کو بھی شامل کر لو۔”

اس سے پہلے کہ وہ اپنا راز بتاتا اس کے بابا نے بھی اپنا کان پیش کر دیا۔اس نے دونوں کے کان کے پاس اپنا راز افشاں کیا۔

“نیند تو مجھے بھی ساری رات نہیں آئی۔”

نہایت معصومیت سے اپنے دل کا حال بیان کیا۔

“خوشی میں ایسا ہوتا ہے برخوردار۔”

اس کے بابا نے اس کو حقیقت سے آگاہ کیا۔

“پر بابا یہ خوشی والی نیند نہیں اڑی، مجھے ٹینشن ہو رہی کہ وہ کیا کہیں گے ۔”

“مثلا کس بات کی ٹینشن؟”

اس کے بابا متفکر ہو رہے تھے۔

“بابا پہلے تو میری خواہش ہے کہ وہ اس رشتے کے لیے مان جائیں مگر کیا وہ دوسری بات کے لیے بھی مان جائیں گے۔”

“اور دوسری بات کونسی ہے؟”

“وہ بابا میں اگلے جمعہ نکاح کرنا چاہتا ہوں۔”

جلدی جلدی اپنی بات کہہ کر اب ایک آنکھ بند کر کے لبوں کو دانتوں میں دبائے اپنے بابا کی طرف دیکھ رہا تھا جو ہونقوں کی طرح اب اس اکلوتے پیس کو دیکھ رہے تھے۔

“تمہارا دماغ تو نہیں چل گیا اورہان ، پہلے تمہیں شادی نہیں کرنی تھی اور اب تم میں صبر کی کمی ہو رہی ہے۔”

“بابا پلیز آپ ان سے بات کیجئے گا ، میں منگنی جیسی رسومات نہیں چاہتا اور مجھے یقین ہے وہ بھی نہیں چاہیں گی۔ اس لیے نکاح میں ہی بہتری اور پاکیزگی ہے ۔ رخصتی جب وہ چاہیں گے،مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔”

‘وہ’ کہہ کر اس کو مخاطب کیا ۔ وہ پورے حق کے ساتھ اس کا نام لینا چاہتا تھا۔

“ماما پلیز مان جائیں ناں۔”

اور وہ شش و پنج میں مبتلا تھی ایک دم سے رشتہ مانگ کر نکاح کی ڈیمانڈ کر دینا انہیں بہت آکورڈ محسوس ہو رہا تھا۔ مگر لاڈلے کی خواہش پوری کرنے کی کوشش تو وہ کر ہی سکتی تھی۔

“ٹھیک ہے بیٹا تمہارے بابا اور میں ان سے بات کریں گے بس وہ راضی ہو جائیں کیونکہ تیاریوں کا تو کوئی مسئلہ نہیں ہے اور مجھے یقین ہے ان کو بھی نہیں ہو گا۔”

“ان شاء اللہ ماما۔”

“ہر کام دھماکے سے ہی کرتا ہے پتہ نہیں کب سدھرے گا۔”

اس کے بابا بڑبڑا رہے تھے اور وہ مسکراتا ہوا دروازے کے پاس پہنچا پیچھے مڑا اور اونچی آواز میں بولا۔

“جو سدھر جائے وہ اورہان حیدر عظیم نہیں۔”

“ادھر آو ذرا اورہان کے بچے۔”

“ابھی تو اورہان کا رشتہ لینے جائیں بابا۔”

یہ کہتے ہی وہ وہاں سے رفو چکر ہو گیا ورنہ اسے حیدر صاحب سے ایک دو تو پڑ ہی جانی تھی اور وہ تو مذاق میں بھی ایسا مارتے تھے کہ بیچارہ اپنی اس حرکت کو کوستا تھا جس نے اس کو اس مذاق والی مار پڑوائی وہ سوچتا تھا کہ بابا اگر غصے میں ماریں تو یقینا مقابل کی ہڈی پسلیاں سلامت نہ رہیں۔ صد شکر کہ آج تک اسے صرف مذاق والی مار سے ہی آشنائی تھی۔

وہ ایسا ہی تھا اپنے چاہنے والوں کے ساتھ کھل کر ہنسنے مسکرانے والا، جبکہ اس کو نہ جاننے والے اسے صرف مغرور ہی کہہ سکتے تھے۔ کیونکہ وہ اپنے کام سے کام رکھتا تھا۔ بلاوجہ لوگوں سے فرینک ہونا اسے نہیں پسند تھا مگر وہ لوگوں کے ساتھ روڈ بھی نہیں ہوتا تھا۔

وہ اپنے روم کی جانب بڑھا آفس جانے کے لیے تیار ہوا، ناشتہ کیا اور ماما بابا سے پیار لیتا فری کو پیار دیتا وہ آفس روانہ ہو گیا تھا۔ حالانکہ جانتا تھا کہ آج کے دن کام کرنا اس کے لیے ممکن نہیں رہا۔ یہ سوچ کر کہ آج ایک اہم فیصلہ ہونا ہے۔۔۔۔۔ اس کی زندگی کا سب سے خوبصورت اور پاکیزہ ترین فیصلہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔