429.8K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yaar-E-Gaar (Episode 29) 2nd Last Episode

Yaar-E-Gaar By Esha Afzal

وقت نے تقدیر کے ہاتھوں اپنا کام مکمل کرتے ہوئے تمام راز آشکار کیے تھے جس کی بدولت بازی پلٹی جا چکی تھی۔ جن کو لگا تھا کہ ان کی حقیقت پس پردہ رہے گی وہ غلط ثابت ہوئے تھے کیونکہ حق پردے چاک کرتا دنیا کے سامنے رونما ہو چکا تھا۔ کیا کبھی کوئی حق کو باطل سے مٹا پایا ہے؟ زندگیاں تبدیلی کے مراحل طے کرتی گزرتی جا رہیں تھیں ۔ ہمیشہ کی طرح کہیں خوشی تھی تو کہیں غم۔

سرفراز صاحب کے لاوئنج میں بیٹھے سلطان بیگ نے ایک کال ریسیو کی تھی۔ مقابل کی بات سنتے ایک پل میں ان کے چہرے کا رنگ فق ہوا تھا جس کو سرفراز صاحب اور عماد نے بخوبی نوٹ کیا تھا مگر خاموشی کا لبادہ اوڑھے رکھا۔ وہ فورا سے اٹھ کھڑے ہوئے اور معذرت کرتے وہاں سے چلے گئے تھے۔ پیچھے عماد اور سرفراز صاحب حیرت سے ان کو جاتا دیکھتے رہ گئے۔

مہرماہ کی گاڑی میں موجود اورہان نے مہرماہ کو ایک پیغام دیا تھا جس کو سمجھتے اس نے اثبات میں سر ہلا دیا تھا۔ اورہان نے ایک ہسپتال کے سامنے گاڑی روکتے ہوئے ایک نظر اٹھا کر مہرماہ کی جانب دیکھا تھا جسے آج یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے زندگی میں موجود ہر کسک کا ازالہ ہو چکا تھا۔ محبت کی چاشنی سموئے ہیزل آنکھوں نے لائٹ براون آنکھوں میں جھانکا تھا۔ کتنا تڑپا تھا وہ ان آنکھوں میں آنسو دیکھ کر۔ لیکن اب اس نے خود سے عہد کیا تھا وہ اس کی آنکھوں میں آنسو نہیں آنے دے گا۔ وہ دونوں گاڑی سے باہر آئے تھے۔ مہرماہ نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی تھی اور اورہان نے ہسپتال کے اندر کی جانب قدم بڑھا دیے تھے۔

ہسپتال کے کوریڈور سے گزرتے ہوئے وہ ایک کمرے کے باہر آ کر رکا تھا۔ اردگرد ایک نظر دوڑا کر اس نے دروازے کے ناب کو گھمایا تھا۔ ہسپتال کے اس کمرے کے اندر نگاہ دوڑائی جائے تو انس ہسپتال کے بیڈ پہ آنکھیں موندے لیٹا تھا یا شاید سو رہا تھا۔ اس وقت کمرے میں اس کے علاوہ کوئی موجود نہیں تھا۔ انس نے منت کر کے اپنی امی کو گھر بھیج دیا تھا اور اس کے بابا ان کو گھر ڈراپ کرنے گئے ہوئے تھے۔ وہ آہستگی سے دروازہ کھولتے اندر داخل ہوا تھا ایک نظر سوتے ہوئے انس پہ ڈال کر وہ صوفے پہ جا کر بیٹھ گیا تھا۔ دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی کو کنپٹی پہ رکھے باقی انگلیوں کو مٹھی کی صورت بند کیے وہ افسوس سے اس کو دیکھ رہا تھا۔ اس کے دوست نے بہت تکلیف اٹھائی تھی اور وہ جو اس کی ہر تکلیف کو اپنے سر لے لیا کرتا تھا وہ ہی اس کی تکالیف کا باعث بنا تھا۔ انس جو کچی نیند میں تھا کسی کی موجودگی محسوس کرتے ہوئے اس نے آہستگی سے آنکھیں کھولیں تو نگاہ کمرے کی چھت پہ جا ٹھہری جس پر اس نے سر کو تھوڑی سی حرکت دیتے ہوئے دائیں جانب دیکھا تھا مگر وہاں صوفہ پہ موجود وجود پہ نگاہ پڑتے ہی اس کی نگاہیں تھم سی گئی تھیں ۔ یوں محسوس ہوا جیسے آنکھوں کو ان کی مطلوبہ منزل مل چکی تھی۔ اسے لگا وہ بیہوشی میں یہ سب دیکھ رہا ہے۔ اورہان ابھی تک اسی طرح اس کو دیکھ رہا تھا۔ اور اس کے تاثرات سے قدرے محظوظ بھی ہو رہا تھا۔ انس نے کئی بار آنکھیں جھپکا کر یہ منظر دیکھا تھا مگر اورہان کو اپنے سامنے ہی پایا۔

“خواب نہیں دیکھ رہے۔”

بہت مزے سے بولا گیا تھا۔اس کی آواز سنتے وہ جھٹکے سے اٹھا تھا ساتھ ہی درد کی ٹیسیں اس کے رگ و پے میں سرایت کرنا شروع ہو گئیں تھیں۔

“ت۔۔ تم اورہان”

اسے اس وقت درد بھی محسوس نہیں ہو رہا تھا جو منظر وہ دیکھ رہا تھا اس کا دل چاہ رہا تھا وہ حقیقت ہو۔

“ہاں بھئی میں اورہان “

خود کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بولا۔

اس سے پہلے کہ انس مزید کچھ پوچھتا کمرے کا دروازہ کھلا تھا اور ایک ڈاکٹر اندر آتا دکھائ دیا۔

“واو واٹ آ سرپرائز اورہان”

اس پہ اورہان کھڑے ہو کر اس ڈاکٹر سے گلے ملا تھا۔

“تم بتاو ڈیوٹی کیسی جا رہی ہے؟”

“ویل۔۔۔ ڈیوٹی تو بہت کمال جا رہی ہے۔ تم اس دن کے بعد آئے ہی نہیں؟”

” وہ مصروف تھا جلد ہی تمہیں اپنی شادی پہ بلواوں گا۔”

“انتظار رہے گا۔ اور انس صاحب آپ کا کیا حال ہے؟ زیادہ درد تو نہیں ہو رہا؟ “

وہ اب انس سے پوچھ رہا تھا جو ہونقوں کی طرح ان دونوں کی باہمی گفت و شنید کو بغور سن رہا تھا۔ اس کے چہرے کے تاثرات اس وقت صاف ظاہر کر رہے تھے کہ اسے کتنا بڑا جھٹکا لگا تھا۔

“آپ۔۔ آپ نے کہا تھا وہ ڈیڈ باڈی اورہان کی ہے۔”

بمشکل حلق سے آواز نکالتے اس نے ڈاکٹر سے استفسار کیا تھا۔

“ہاں کہا تو میں نے ہی تھا۔ بس اس نے پہلی بار کچھ کرنے کے لیے کہا تو کیسے ٹال سکتا تھا۔اور یہ تو جانتا ہے کہ مجھے ایکٹنگ کا شروع سے ہی بہت شوق رہا ہے۔ سکول میں بھی بہانے بازی اور اداکاری میں کوئی میرا ثانی نہیں تھا۔”

وہ اورہان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بولا پھر اپنے منہ سے اپنی تعریف کرتے ہوئے فرضی کالر جھٹکا تھا۔

” تو آپ نے جھوٹ بولا تھا۔”

“اونہوں۔۔۔ اس کو جھوٹ نہیں اداکاری کہتے ہیں۔”

وہ اس کا زخم دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا۔

“ٹھیک ہوں میں”

وہ ناراض ہوتے ہوئے بولا تھا جس پہ اورہان نے ڈاکٹر کو اشارہ کیا تو وہ اس سے ہاتھ ملاتا کمرے سے چلتا بنا۔اورہان بیڈ کے پاس آیا تھا اور اس سے پہلے کہ وہ اس کے زخم کو غور سے دیکھتا ایک زوردار مکہ اس کے منہ پہ آ کر لگا تھا۔ وہ جو یہ سوچ رہا تھا کہ وہ بہت محبت سے اس کے گلے لگتا رونا شروع کر دے گا اس سے اس مکے کی امید اورہان کو تو ہرگز نہیں تھی۔ وہ حیرت سے انس کو دیکھ رہا تھا جو مکہ تو مار چکا تھا مگر اب درد سے آہ آہ کر رہا تھا۔

“انس مجتبٰی، تم نے میرے معصوم چہرے پہ مکہ دے مارا۔”

اس وقت انس کو وہ معصوم تو ہرگز نہیں لگ رہا تھا۔

“تمہیں کیا امید تھی کہ تمہارے گلے میں پھولوں کے ہار ڈالوں گا۔ اتنا بڑا دھوکہ اور مجھ سے بھی چھپایا۔”

“خیر امید تو پھولوں کی بھی نہیں تھی بٹ آئی ایم ایمپریسڈ۔”

انس کے اس عمل پہ اس کی تعریف کی گئی۔ اس تعریف پہ انس مزید آگ بگولا ہوتے ہوئے دوبارہ ایک مکہ اس کے معصوم چہرے پہ جڑنے کی غرض سے بیڈ سے اٹھنے ہی لگا تھا کہ اورہان فورا پیچھے ہٹا تھا۔

“او بھائی پہلے میری بات سن لے پھر مار دینا۔ اور ہاں لگ گیا ہے مجھے پتا کہ تو نے جم کے پولیس ٹریننگ کی ہے۔”

انس دوبارہ بیڈ پہ ٹیک لگا کر بیٹھا تھا۔

” چل اٹھ اب۔ صرف دو گولیاں لگی ہیں اور بستر کا ہو کر رہ گیا ہے۔”

اورہان کی صرف دو گولیوں والی بات پہ انس نے اسے کھا جانے والی نظروں سے گھورا تھا۔

“بس گھورنا بند کر۔ کچھ نہیں ہوا زیادہ وقت نہیں ہے چل اٹھ جلدی شاباش”

وہ اسے بستر سے اٹھانے کے لیے آگے بڑھا جب انس نے اسے دور رہنے کا اشارہ کیا تھا۔

” میں کیوں مانوں تمہاری بات؟”

“کیوں نہیں مانے گا؟”

آئی برو اچکا کر پوچھا۔

“تم نے مجھ سے جھوٹ بولا۔”

“اچھا کونسا جھوٹ؟”

اس بات پہ انس سوچنے لگا مگر اورہان کا کوئی بھی جھوٹ اس کے دماغ میں نہیں آ رہا تھا۔ اس نے تو نہیں کہا تھا کہ میں مر گیا ہوں۔

“یہی کہ میں مر گیا ہوں؟”

اورہان نے کافی ہلکے پھلکے لہجے میں پوچھا جس پر وہ درد کی پرواہ کیے بغیر فورا اٹھا تھا اور اس سے پہلے کہ ایک گھونسا اس کے منہ کی زینت بنتا اورہان نے اپنا چہرہ اس سے دور کیا تھا۔

“آئیندہ ایسا بولے تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا۔”

انس ایموشنل سا ہوتا اس سے کہہ رہا تھا۔

“تو واپس اپنی ٹون میں آ ہی گئے۔”

وہ جانتا تھا کہ دو منٹ کے غصے کے بعد وہ دوبارہ سینٹی ہو جائے گا۔

“اب تم ہمیں چھوڑ کر نہیں جاو گے۔”

وہ جھٹکے سے اورہان کے گلے لگا تھا اور پورے رعب سے اس کو حکم دے رہا تھا۔

“اچھا یار کہیں نہیں جاتا۔ پہلے تیری بینڈیج تبدیل کروا لیں پھر چلتے ہیں ۔”

“کہاں جانا ہے؟”

“میری شادی پر؟”

“تم نے شادی کی تیاریاں بھی کر لیں؟”

وہ ہکا بکا اورہان کی جانب دیکھ رہا تھا۔

“اپنے دماغ پہ زیادہ زور نہ ڈال۔ میں ڈاکٹر کو بلا کر لاتا ہوں۔ وہ تمہاری بینڈیج چینج کر دے گا اور پین کلر بھی دے دے گا پھر گھر چلتے ہیں۔”

اب کہ انس خاموش رہا تھا مگر ایک سوال بار بار اس کو تنگ کر رہا تھا۔

“مگر تم اتنے ہفتے کہاں تھے؟ اور وہ سب کچھ۔۔۔؟”

“سب سوالات کے جواب دوں گا۔ انتظار کرو۔”

اب کی بار انس نے خاموش رہنا ہی مناسب سمجھا وہ جانتا تھا اورہان کی غیر موجودگی اور اس ساری پلاننگ کے پیچھے کوئی وجہ تو ضرور ہو گی۔ کیونکہ وہ خود اس بات تک پہنچ چکا تھا کہ اورہان کو کسی سازش کا حصہ بنایا گیا ہے۔اب انتظار تھا تو اس بات کا کہ آخر وہ یہ سب کرنے پہ کیوں مجبور ہوا تھا؟ اور یہ کہانی اب گرے بنگلے جا کر ہی عیاں ہونی تھی۔ انس نے دل سے اپنے رب کا شکر ادا کیا تھا جس نے اس کے دوست کو صحیح سلامت اس کے سامنے لا کر کھڑا کر دیا تھا۔ تو یار غار کا سفر اختتام کو نہیں پہنچا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ انس کو لیے گرے بنگلے کی جانب رواں دواں تھا۔ مہرماہ نے گھر جاتے ہی اپنی فیملی کو گرے بنگلے جانے کے لیے قائل کیا تھا۔ وہ سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ جس حال میں مہرماہ یہاں سے گئی تھی واپسی پہ اس کی حالت یکسر مختلف تھی۔ وہ اداسی میں گھری ہوئی لڑکی اچانک اتنی پرجوش کیسے ہو گئی تھی۔ انہیں کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ مگر اس کے اصرار پہ وہ اس کے ساتھ گرے بنگلے جانے کے لیے روانہ ہو چکے تھے۔

سفر خاموشی میں طے رہا تھا۔ پورا راستہ انس کی نظریں اس کے وجیہہ چہرے پہ مرکوز رہیں تھیں جو سیاہ ہڈی اور سیاہ جینز میں ملبوس، ماتھے پہ بھورے گھنگھریالے بال پھیلائے بے نیازی سے سڑک پہ نگاہیں جمائے گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا۔دوسری جانب مہرماہ ڈرائیونگ سیٹ پہ براجمان اپنی فیملی کے ہمراہ گرے بنگلے کو جانے والے راستے پہ گاڑی دوڑا رہی تھی۔ سرفراز صاحب، ماریہ بیگم اور زاویار پریشانی میں اس کو دیکھ رہے تھے جو اس سب سے بے خبر لبوں پہ دھیمی مسکان سجائے، روڈ پہ نظریں جمائے اس منزل کی جانب جا رہی تھی جہاں ان کی تکالیف کا اختتام ہونا تھا۔

پہلے مہرماہ کی گاڑی نے گرے بنگلے کا مرکزی گیٹ پار کیا تھا۔ گاڑی پارک کرتی وہ اپنی فیملی کے ہمراہ اندر کی جانب بڑھی تھی۔ جہاں ان کی اچانک آمد پہ حیدر صاحب حیران ہوئے تھے مگر ان کی خوشی ان کی حیرانی پہ بھاری تھی۔ انہوں نے آگے بڑھ کر ان کا استقبال کیا تھا۔ سب لاوئنج میں ہی جمع تھے ۔ صوفیا بیگم ، ماریہ بیگم کے ساتھ بیٹھی باتوں میں مشغول تھیں۔ حیدر صاحب اور سرفراز صاحب ایک ہی صوفہ پہ براجمان ایک دوسرے سے کچھ کہتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔ فاریہ ، مہرماہ کا ہاتھ تھامے بیٹھی اس کو کچھ بتا رہی تھی۔ ان سب کی گفتگو کا موضوع اور مرکز صرف ایک ہی تھا۔ اورہان ۔۔۔ اورہان حیدر عظیم

“اگر آج اورہان بھائی بھی ہوتے تو سب مکمل ہوتا۔”

اچانک زاویار نے ایک اونچی سرگوشی کی تھی جس کو سب نے سنا تھا۔ دروازے پہ موجود اورہان کے قدم ایک لمحے کے لیے تھمے تھے۔ انس نے اس کے چہرے کے تاثرات دیکھے تھے جس پہ صرف اذیت رقم تھی۔ ایک زندگی کتنی زندگیوں کی خوشیوں کی وجہ ہوتی ہے اور ایک زندگی کا دکھ کتنی زندگیوں کے لیے روگ بن جاتا ہے۔ اچانک مہرماہ نے دروازے کی جانب دیکھا تو فورا اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ اس کو کھڑے ہوتا دیکھ سب کی نگاہوں نے اس کی نگاہوں کا پیچھا کیا تھا۔ اور سب کی نگاہیں اس منظر پہ آ کر تھم چکی تھیں۔ وہ جو سب کا موضوع سخن بنا ان کی ہر بات میں شامل تھا وہ ان کے سامنے کھڑا تھا۔ سب سے پہلے فاریہ کھڑی ہوئی تھی۔ بے یقینی میں آگے بڑھتی اپنے بھائی کی گڑیا اس کے بالکل سامنے جا کر کھڑی ہو گئی تھی۔ انس بالکل اورہان کے برابر میں کھڑا تھا۔ وہ بہت خوش تھا صرف اپنے لیے نہیں اس لڑکی کے لیے بھی جس کے آنسو اس کے جسم میں سوئیاں چبھوتے چھید کر جاتے تھے۔ وہ جانتا تھا کہ اب ان سب کے دکھ ختم ہو گئے ہیں۔

“بھائی”

اس نے بمشکل اپنے حلق سے یہ الفاظ نکالے تھے۔

“بھائی کی گڑیا “

صرف یہ سننا تھا اور فاریہ اپنے بھائی سے لپٹ چکی تھی۔

“بھائی ۔۔بھائی۔۔”

وہ روتی جا رہی تھی اور زبان پہ صرف یہ ہی الفاظ تھے۔

“چپ کر جاو گڑیا ۔ میں نے کتنی بار سمجھایا آپ نے مضبوط بننا ہے۔ آپ تو میری بہن ہو میری بہن اتنی کمزور نہیں ہو سکتی۔”

ہمیشہ کی طرح اس کی پیٹھ سہلاتے وہ اسے نرم آغوش میں لیے کھڑا تھا۔ اپنے بھائی کے گلے سے لگی اس کی گڑیا نے اپنا چہرہ اس کے روبرو کیا تھا جو اس وقت محبت بھری نگاہیں اپنی ماما پہ جمائے کھڑا تھا۔ فاریہ پیچھے ہٹی تو وہ آگے بڑھا تھا۔ جوں جوں وہ آگے بڑھ رہا تھا صوفیا بیگم کو یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے زندگی نے ان کی جانب قدم بڑھا دیے ہوں۔ وہ ان کے پاس ۔۔۔بالکل پاس آ کر جھک رہا تھا گھٹنوں کے بل زمین پہ بیٹھتا اپنا مضبوط ہاتھ آگے بڑھا کر ان کے ہاتھ تھام رہا تھا جو مسلسل کانپ رہے تھے مگر اس کے ہاتھوں کا لمس پاتے ہی ان کی کپکپاہٹ ختم ہو چکی تھی۔ ان کی آنکھوں سے نکلتے آنسو اس کے ہاتھ پہ آ کر گرے تھے۔

“مجھے معاف کر دیں ماما۔ میری وجہ سے آپ کی آنکھوں میں آنسو آئے۔ میں ایک اچھا بیٹا ثابت نہیں ہو سکا۔”

وہ اذیت کی انتہا پہ تھا۔

“اورہان ، میرا بیٹا۔۔۔”

ان کی آواز بھی کپکپا رہی تھی۔وہ اپنے ہاتھ اس کے ہاتھوں سے نکالتی اس کے چہرے پہ پھیر رہیں تھیں۔ اپنے لاڈلے کو محسوس کرتے وہ بے اختیار روئیں تھیں۔ اورہان نیچے سے اٹھا تھا اور صوفہ پہ بیٹھتا ان کے گرد اپنے کسرتی بازو جماتا ان کو اپنی موجودگی کا احساس دلا رہا تھا۔ اس کی نگاہوں کا مفہوم سمجھتے حیدر صاحب صوفہ سے اٹھتے اس کے پاس آ کر اس سے لپٹے تھے۔ ایک بازو اپنی ماما کے گرد پھیلائے ، ایک سے اپنے بابا کو سہارا دیتے وہ ان کا لاڈلا، ان کا فخر،ان کا مان۔۔۔ واپس آ چکا تھا۔ فاریہ تیز قدموں سے صوفہ کے پاس آتی اپنی ماما کے پاس بیٹھتی اس فیملی کو مکمل کر گئی تھی۔ اورہان نے بازو لمبا کرتے اس کے گرد بھی پھیلایا تھا۔ آخر ان کو ان کی خوشیاں لوٹا دی گئیں تھیں۔ اس فیملی کو دوبارہ مکمل ہوتا دیکھ وہاں موجود سب لوگوں نے دل و جان سے رب کا شکر ادا کیا تھا۔ کون کہتا ہے کہ مشکلات ہمیشہ کے لیے ہوتی ہیں۔ یہ تو انسان کو اپنے اور پرائے کی پہچان کروانے آتی ہیں۔ جیسے ان پہ آئیں تھیں اور وہ جان چکے تھے کہ کون ہے جو ان کے ہر دکھ اور تکلیف میں ان کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ کیونکہ جو لوگ مشکلات میں تنہا چھوڑ جائیں وہ کبھی آپ کے اپنے نہیں ہوتے۔

مہرماہ اپنی ماما کے گرد بازو پھیلائے روتی مسکراتی ،آنکھوں میں نمی لیے ان کو خوشیوں کی دعا دے رہی تھی۔ اورہان نے سامنے دیکھا تو انس کو دروازے کے پاس ہی ایستادہ پایا۔

“اے ایس پی ادھر ہی کھڑا ہے۔ تجھے دو گولیاں لگی ہیں۔ ادھر آ کر بیٹھ “

دو پہ خاصا زور ڈالتے ہوئے وہ انس کو زچ کر رہا تھا۔

“بیٹا آپ کی تو طبیعت ہی ٹھیک نہیں تھی۔ ڈاکٹرز نے اتنی جلدی چھٹی کیسے دے دی۔”

اورہان کے مخاطب کرنے پہ سب انس کی جانب متوجہ ہوئے تھے۔

“سب آپ کے بیٹے کی کرم نوازی ہے انکل۔”

سب نے حیرت سے اورہان کو دیکھا تھا جس پر اس کے عنابی لبوں نے مسکرا کر چہرے کو مزید خوبصورتی اور رعنائی عطا کی تھی۔

“بابا اگر دو گولیوں پہ یہ دو ہفتے بستر سے لگا رہے گا تو کر لی اس نے ڈیوٹی۔”

اب کی بار فاریہ نے بھی انس کو دیکھا جو یوں تھا جیسے بہت تھکن کے بعد راحت مل جاتی ہے۔ اس کے بازو اور پاؤں کے ساتھ ساتھ سر پر بھی بینڈیج کی ہوئی تھی۔ چند دنوں میں ہی اس کی آنکھوں کے گرد سیاہ ہلکے واضح ہو گئے تھے۔ رات رات بھر جاگ کر اپنے دوست کی موت کا پتا لگاتے، دن بھر اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتے،اپنی اور اورہان کی فیملی کو وقت دیتے وہ خود کو سرے سے ہی فراموش کر بیٹھا تھا۔

اورہان نے اسے اشارہ کیا تھا جس پر وہ سامنے والے صوفہ پہ براجمان ہوا تھا۔ اب اورہان ،سرفراز صاحب سے گلے مل رہا تھا۔ اس کے بعد ماریہ بیگم نے اس کی پیشانی چومی پھر زاویار اس سے لپٹ کر کھڑا تھا۔ جبکہ اس کی نظریں مہرماہ پہ ٹکی تھیں جو اپنے چہرے پہ مسکراہٹ سجائے محو اس کو دیکھ رہی تھی۔سب ایک دم ہی چہک اٹھے تھے۔ ان کے چہروں پہ چھایا مرجھایا پن غائب ہو چکا تھا۔ زندگی نے اپنی خوبصورتی پھر سے ان پر آشکار کر دی تھی۔ ایک بار پھر گرے بنگلے میں رونق لوٹ آئی تھی۔

“مگر یہ سب کیا تھا؟ ڈاکٹر نے ہمیں بتایا تھا کہ خدانخواستہ وہ ڈیڈ باڈی تمہاری تھی؟”

حیدر صاحب نے اورہان سے پوچھا تھا۔ جس پر انس نے اسے گھوری سے نوازا تھا۔

“میں بتاتا ہوں انکل وہ ڈاکٹر اس معصوم کا دوست تھا۔ اس نے اورہان کے ہی کہنے پہ جھوٹ۔۔۔ اوہ سوری اداکاری کی تھی۔”

اپنے دوست کے لائق پن کی تعریف کرتے اس نے معصوم اور اداکاری پہ زور دیتے ہوئے ڈاکٹر والی بات کلئیر کی تھی۔

“بھائی”

فاریہ نے تعجب سے اپنے بھائی کو پکارا تھا۔

“جی بھائی کی گڑیا۔”

“آپ جانتے بھی ہیں کہ ہم پہ کیا گزری تھی۔ آپ نے ان سے جھوٹ بولنے کو کیوں کہا؟”

“جھوٹ نہیں اداکاری کہیں۔”

انس نے ٹہوکا دیا تھا جس پہ وہ کھل کے مسکرایا تھا۔ اور فاریہ جو اپنے بھائی کو دیکھتے ہی سب بھول چکی تھی اب کہ نگاہ اس پہ پڑی تو آنکھوں نے پوری عمر اس کو یوں ہی مسکراتے ہوئے تکنے کی خواہش کی تھی۔ کتنے دنوں بعد دیکھا تھا اس کو وہ بھی اس طرح کہ وہ پٹیوں میں جکڑا ہوا تھا۔ مگر اس کے چہرے پہ اتنا سکون تھا کہ بے اختیار اس کی نگاہیں اپنے بھائی کی جانب گئیں جس کی واپسی سب میں زندگی لے آئی تھی۔

“یار تم تو میرے دوست کے پیچھے ہی پڑ گئے ہو۔”

وہ برا مانتے ہوئے بولا تھا۔

” فکر نہیں کرو اب تمہارے پیچھے پڑوں گا۔”

“کیوں نہیں ضرور۔ بندہ حاضر ہے۔”

خود کی جانب اشارہ کرتے نہایت دریا دلی سے آفر کی گئی۔

“اب تم ہمیں پوری کہانی بتاو گے۔ میں جانتا ہوں کہ تم نے یہ سب کسی پلان کے تحت کیا ہے۔”

انس نے اس کو سب تفصیل سے بتانے کے لیے کہا۔

“تمہیں ایسا کیوں لگ رہا ہے؟”

“کیونکہ میں نے تمہاری کالز ٹریس کی تھیں۔ میں جانتا ہوں تمہیں وہاں بلوایا گیا تھا اور جانتے بوجھتے اس فیکٹری میں آگ لگوائی گئی تھی۔”

اس بات پہ سب نے شاک کی کیفیت میں اس کو دیکھا تھا۔ اگر کوئی شاک میں نہیں تھا تو وہ اورہان اور اس کے بابا تھے۔

“تمہیں یہ سب پتا تھا تو تم نے ہمیں بتایا کیوں نہیں بیٹا۔”

صوفیا بیگم نے قدرے ناراضی سے اس سے پوچھا۔

“کیونکہ وہ ہمیں مزید تکلیف میں نہیں دیکھنا چاہتا تھا صوفیا بیگم۔ اسے گولیاں بھی انہی لوگوں نے ماری ہیں جنہوں نے اورہان کے قتل کی سازش کی۔ کیونکہ وہ جان چکے تھے کہ انس ان کو کیفرکردار تک پہنچائے بغیر سکون سے نہیں بیٹھے گا۔”

سب حیرت سے ان دونوں کو دیکھ رہے تھے۔

“بابا آپ نے بھی ہم سے چھپایا؟”

“یہ آپ کے سکون کے لیے ہی کیا تھا بیٹا۔ مجھے بھی اسی دن علم ہوا جب انس کو گولیاں لگیں۔ وہ بھی اس نے نہیں بتایا تھا۔ یہ اکیلا اس کرب سے گزرتا رہا تھا کسی کو بھنک بھی نہیں لگنے دی کہ یہ کس اذیت کا شکار رہا۔ اور میرے اورہان کی طرح ہمیں سنبھالے رکھا۔”

وہ بہت مان سے انس کی جانب دیکھتے سب سے کہہ رہے تھے۔ سب کی نظروں میں انس کے لیے عزت بڑھ چکی تھی اور فاریہ کی آنکھیں تو نم چکی تھیں۔ کتنا غلط سمجھی تھی وہ اسے۔ اسے تو یہی محسوس ہوا تھا کہ وہ اپنے دوست کی خاطر کچھ نہیں کر رہا۔ مگر وہ تو تنہا لڑتا رہا اور کسی پہ آنچ بھی نہیں آنے دی۔

“دوست کس کا ہے بابا۔ میں جانتا تھا یہ کبھی مجھ سے اور میری فیملی سے دستبردار نہیں ہو گا۔”

اورہان نے صوفہ پہ اس کے ساتھ بیٹھتے اس کے گرد بازو پھیلاتے ہوئے کہا تھا۔ جس پہ سب ان دونوں دوستوں کی دوستی پہ ایمان لے آئے تھے۔ وہ دونوں جان سے پیارے دوست ایک دوسرے کی خاطر جان دینے سے بھی نہیں کتراتے تھے۔

“کون شامل تھا اس سب میں؟ اور تمہاری اس سے کیا دشمنی تھی؟”

یہ سوال سرفراز صاحب نے پوچھا تھا۔ جس پہ اورہان اور مہرماہ کی نگاہوں کا تبادلہ ہوا تھا۔ اورہان نے مہرماہ کو یہ ضرور بتا دیا تھا کہ یہ سارا کھیل عریش سلطان کی وجہ سے کھیلنا پڑا تھا۔ مگر کیوں ؟ یہ جواب فلحال صرف اورہان ہی دے سکتا تھا۔

“انکل جو انسان طاقت کے نشے میں ہوتا ہے اس کے لیے سب انسان کیڑوں مکوڑوں کی مامند ہوتے ہیں جن کو اپنے دل کی چاہت پہ وہ کبھی بھی کچل سکتا ہے۔ بس اس کے لیے میں بھی ایک بےمعنی وجود تھا۔”

“شروع سے بتاو کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔”

حیدر صاحب نے اس کو کہانی کے آغاز سے بتانے کے لیے کہا تھا جس پہ اس نے ایک گہری سانس خارج کی تھی پھر بولنا شروع کیا۔

“یہ کہانی اس روز شروع ہوئی تھی جب انس پہلی بار میرے پاس ایک کیس لے کر آیا تھا۔ اسے اس کیس کے مشکوک فرد کی تلاش تھی ۔ اس کیس کے چند روز بعد ہی میں نے نیوز میں ولید نعمان کی بلڈنگ کی تباہی کے بعد کی فوٹیج دیکھی تو عام عوام میں عریش سلطان کا ڈرائیور اصغر ، ولید نعمان کے کاموں میں کجی نکالتا دکھائی دیا۔ سیاست میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے بہت کچھ کیا جاتا ہے۔ دنیا کی نظر میں عریش بھلے ایک شریف اور نیک انسان تھا مگر جب کسی کو شک میں شامل کیا جاتا ہے تو اس کو نیوٹرل ہو کر دیکھا جاتا ہے۔ میں نے بھی یہی کیا میں نے ایاز سے کہہ کر اس کی پروفائل نکلوائی اور میرا شک سیدھا عریش سلطان پہ گیا۔ انس کو ریسٹورنٹ بلوا کر میں نے اس پہ اپنا شک بھی واضح کیا۔”

اس بات پہ انس نے ہاں میں سر ہلایا تھا اورہان نے بات جاری رکھی۔

“مگر میں پھر بھی اس کو مجرم نہیں کہہ سکتا تھا۔ اس سب میں فہد دوسرا انسان تھا جس پر میرا شک تھا مگر میں نے کسی کو اس بارے میں نہیں بتایا۔ فہد بہت سارے سیاستدانوں کے لیے کام کرتا تھا اس کے کافی بزنس مین سے بھی تعلقات تھے ان میں سے ایک میں بھی تھا۔ چونکہ میرا شک پہلے ہی فہد اور عریش پہ تھا اسی دوران فہد میرے پاس ولید نعمان کا پراجیکٹ لے کر آیا تھا۔ جو میرے لیے بالکل بھی حیران کن نہیں تھا مگر ایک چیز مجھے مسلسل پریشان کر رہی تھی کہ اگر عریش سلطان، ولید نعمان کو مزید نیچا دکھانے کے لیے یہ سب کرنا چاہتا ہے تو مجھے کیوں اس سب میں گھسیٹ رہا ہے۔ جب میری ولید نعمان سے اس کے ہسپتال والے پراجیکٹ کے متعلق بات ہوئی تو وہ کسی بھی طرح بس مجھے ہی یہ پراجیکٹ دینا چاہتا تھا۔ میں یہ سمجھ چکا تھا کہ ولید نعمان جیسے اناڑی سیاست دان کسی کی بھی بات میں آ جاتے ہیں اور اس کی برین واشنگ کرنے والا کوئی اور نہیں سو فیصد فہد ہی ہو گا۔ میں نے بخوشی پراجیکٹ کے لیے حامی بھر لی۔ لیکن ایک گڑبڑ مجھ سے ہو گئی یہ جاننے کے باوجود کہ وہ اس پراجیکٹ کو ہر قیمت پہ ناکام کرنا چاہتے ہیں میں نے بارات والے روز فون آف کر دیا۔ اور انہی چند گھنٹوں میں وہ سب ہو گیا۔”

اورہان چند لمحے کے لیے خاموش ہوا تو انس فورا بول پڑا۔

“میں نے تم سے پوچھا بھی تھا کہ تمہیں کسی پہ شک ہے تو تم نے مجھے آگاہ کیوں نہیں کیا؟”

“تاکہ تم جذبات میں آ کر جو گولیاں دو دن پہلے لگیں وہ اس روز ہی کھا لیتے۔”

اورہان کی بات پہ سب دبا دبا مسکرائے تھے اور انس منہ بسور کر خاموش ہو گیا تھا۔

“اس کے بعد کیا ہوا؟”

مہرماہ نے آگے کی تفصیلات جاننا چاہی تھی۔

“اونہوں یہ پوچھیں اس سے پہلے کیا ہوا؟”

اس پہ اورہان کو اریسٹ ہونے سے ایک ہفتہ قبل کا منظر یاد آیا تھا۔ وقت نے چکر الٹا تھا اور بارات سے ایک ہفتہ پہلے آ کر تھما تھا۔ وہ اس وقت کنسٹرکشن سائٹ پہ موجود تھا جب اسے اسی ڈاکٹر کی کال ریسیو ہوئی تھی جو کہ اس کا پرانا دوست ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھا اداکار بھی تھا۔

“اورہان تمہارا گولڈن بلڈ ہے ناں؟”

وہ گولڈن بلڈ کے باعث ہمیشہ ہر جگہ جانا جاتا تھا۔

“ہاں ۔۔۔ خیریت تو ہے؟”

“ایک پیشنٹ ہے اس کو فورا بلڈ کی ضرورت ہے اور وہ بھی گولڈن بلڈ کی ۔ کیا تم فورا ہسپتال آ سکتے ہو؟”

” ہاں ہاں میں ابھی آ رہا ہوں۔”

وہ فورا وہاں سے ہسپتال پہنچا تھا اور اپنا نایاب خون اس پیشنٹ کو ڈونیٹ کیا تھا جو زندگی موت کی جنگ لڑ رہی تھی۔ اس کے پوچھے جانے پہ اسے بتایا گیا تھا کہ وہ چودہ سال کی بچی ایکیوٹ لیمفوبلاسٹک لیوکیمیا سے لڑ رہی تھی۔ اس کے دل نے شدت سے اس بچی کو دیکھنے کی خواہش کی تھی اور صرف اس نے ہی نہیں اس بچی کے والدین بھی اس مسیحا سے ملنا چاہتے تھے جو اگر آج وقت پر اپنا خون نہ دیتا تو وہ اپنی بچی کو کھو دیتے۔ اس کی سرجری کے لیے اس خون کی بہت ضرورت تھی جو کہیں سے بھی ارینج نہیں ہو رہا تھا۔ اورہان بلڈ ڈونیٹ کرنے کے بعد ہسپتال کے کمرے میں موجود اپنے دوست سے باتوں میں مصروف تھا کئی گھنٹے گزر چکے تھے کیونکہ وہ اس بچی کو دیکھنا چاہتا تھا جو اتنی بڑی بیماری سے لڑ رہی تھی۔اسی دوران دروازہ کھولتے دو لوگ اندر داخل ہوئے تھے۔

“آئیں یہ ہیں جنہوں نے آپ کی بیٹی کو بلڈ ڈونیٹ کیا ہے۔”

کامیاب سرجری کے بعد ڈاکٹر اس بچی کے بابا کو لیے اندر آیا تھا۔ ڈاکٹر کی اس بات پہ اصغر کا دل چاہا کہ زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے۔ جس انسان کی زندگی کو جہنم بنایا جا رہا تھا وہی انسان اس کو اس کی زندگی لوٹا گیا تھا۔ اس کے ضمیر نے اس کو جھنجھوڑا تھا۔

“اصغر تم؟”

“اورہان سر میں آپ کا بہت شکرگزار ہوں اگر آج آپ نہیں آتے تو میری بیٹی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتی۔ اور اس کے ساتھ ہی اس کا باپ بھی مر جاتا۔”

وہ دونوں ہاتھوں کو جوڑے اس کا احسان مند تھا۔

“اونہوں۔۔۔ تمہاری بیٹی بہت مضبوط ہے وہ ضرور سروائیو کرے گی۔ اور رہی بات بلڈ ڈونیٹ کرنے کی تو یہ اللہ کے کام ہیں تمہیں اللہ کا شکرگزار ہونا چاہیے۔”

اس نے اس کے جوڑے ہوئے ہاتھوں کو تھاما کر اسے حوصلہ دیا تھا۔ وہ کتنا عاجز تھا اس نے اس پہ کوئی احسان نہیں جتایا تھا۔

“پھر بھی۔۔۔”

“نہیں کچھ نہیں۔۔ میں ضرور اس پرنسس کو دیکھنا چاہوں گا جو اتنی بہادر ہے۔”

“ابھی تو سرجری ہوئی ہے اورہان ۔ اسے ہوش آنے میں وقت لگے گا۔”

“سر آپ مجھے اپنا نمبر دے دیں میں آپ کو فون کر کے اطلاع دے دوں گا۔”

اصغر نے فورا مشورہ پیش کیا تھا جو کافی مناسب تھا۔

“ہاں یہ ٹھیک ہے۔”

اورہان نے اصغر کو اپنا نمبر نوٹ کروایا اور اس کے کندھے پہ تھپکی دیتا وہاں سے چلا گیا مگر اصغر کو شدید پچھتاوے میں چھوڑ گیا۔ اگلے روز اورہان کو ایک نامعلوم نمبر سے کال آئی تھی جس کو سننے کے بعد وہ ہسپتال گیا تھا۔ ایک کمرے میں داخل ہوا تو ایک معصوم اور کمزور بچی مرجھایا ہوا چہرہ لیے ،پٹیوں میں جکڑی آنکھیں کھولے چھت کو دیکھ رہی تھی۔ وہ ہاتھوں میں ایک پیاری سی ڈائری اور چاکلیٹ لیے اس تک آیا۔ اصغر اور اس کی بیوی بہت عقیدت سے اورہان کو دیکھ رہے تھے۔

“کیسی ہو پرنسز؟”

وہ مسکراتے ہوئے اس کے پاس بیڈ پر بیٹھا تھا۔

“آپ اینجل ہیں ناں؟”

اس بات پہ اورہان نے حیرت سے اس بچی کو دیکھا تھا ۔ اصغر اور اس کی بیوی کی آنکھیں آنسوؤں کے باعث دھندلا رہی تھیں۔

“یہ آپ سے کس نے کہا؟”

اس کے پاس بیٹھے اورہان نے اس معصوم بچی سے استفسار کیا تھا۔

“میری ٹیچر کہتی ہیں جو کسی کو بچاتا ہے وہ اینجل ہوتا ہے۔ آپ بھی تو اینجل ہوئے ناں پھر؟”

وہ بچی اس کی آنکھوں میں دیکھتی اس سے پوچھ رہی تھی یا شاید بتا رہی تھی کیونکہ اس کی ماما نے اسے اورہان کے بارے میں بتا دیا تھا۔

“ٹھیک کہتی ہیں آپ کی ٹیچر لیکن جانتی ہو انسان بننا زیادہ مشکل ہے۔۔۔ اینجل بننے سے بھی زیادہ۔”

اصغر کو اپنے سارے گناہ یاد آ رہے تھے جب جب وہ عریش کے غلط کاموں پہ اس کو روکنے کی بجائے خاموش رہتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ عریش ، فہد کے ذریعے اورہان کو تباہ کروانا چاہتا ہے۔ اس کے ضمیر کا بوجھ بڑھتا ہی جا رہا تھا۔

“آپ میرے لیے ڈائری لائے ہیں؟”

“ہاں اور یہ دیکھو چاکلیٹ بھی۔”

اس نے ڈائری اور چاکلیٹ دونوں اس کے آگے بڑھائیں تھیں۔

“مجھے چاکلیٹ نہیں پسند۔”

اس پرنسز نے منہ بسورتے اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا جس پہ اورہان کا قہقہہ گونجا تھا۔

“کتنی کیوٹ ہیں آپ۔”

“آپ بھی بہت پیارے ہیں۔ بالکل پرنس چارمنگ”

“میں آپ کو پرنسز بلا لیا کروں؟”

“اوں۔۔۔۔ہاں۔”

کافی دیر سوچنے کی اداکاری کرتی وہ جھٹ سے مانی تھی جس پہ اس کے والدین حیران ہوئے تھے۔ وہ کبھی کسی سے فرینک نہیں ہوتی تھی مگر اورہان کے ساتھ وہ ایسی بیہیو کر رہی تھی جیسے ان کی پرانی دوستی رہی ہو۔

“ڈائری پسند ہے آپ کو؟”

چاکلیٹ کی طرح اسے اپنا دوسرا تحفہ بھی ریجیکٹ ہوتا نظر آ رہا تھا۔

“بہہہتت زیادہ “

اس نے اس کے ہاتھ سے ڈائری لی تھی اور بغور اس کا جائزہ لے رہی تھی۔ وہ حیران ہوا تھا جس عمر میں بچوں کو کھلونے اور چاکلیٹ پسند ہوتی ہیں وہ بچی پڑھائی والی چیزیں پسند کرتی تھی۔ اچانک اس کے سینے میں درد اٹھا تھا اور اس کے ہاتھ سے ڈائری چھوٹ گئی۔

“بابا ۔۔۔”

سینے پہ ہاتھ رکھتی وہ درد سے کراہ رہی تھی۔

“میں ڈاکٹر کو بلا کر لاتا ہوں۔”

اورہان جھٹ سے بیڈ سے اٹھا تھا اور بھاگتا ہوا ڈاکٹر کو بلا کر لایا تھا جس نے چیک اپ کرنے کے بعد اس کو نیند کی دوائی دے دی تھی۔ اورہان اس بچی کی تکلیف پہ رنجیدہ تھا۔

“اصغر ہمت کرو۔ تمہاری بیٹی بالکل ٹھیک ہو جائے گی۔”

اصغر جو اپنی بیٹی کے پاس بیٹھا رو رہا تھا اورہان کے حوصلہ دینے پہ اس کے گلے لگ گیا تھا۔ اورہان نے اس کو تسلی دی تھی۔ پھر واپس جانے کی اجازت طلب کی تو وہ اس کو چھوڑنے باہر تک آیا۔ اورہان جب وائٹ اوڈی کے پاس پہنچا تو اس نے اورہان کو پکارا تھا۔

“سر مجھے آپ سے ایک بہت ضروری بات کرنی ہے۔”

وہ ہچکچاہٹ کا شکار تھا۔

“کہو”

” سر کوئی آپ کو تباہ کروانا چاہتا ہے۔ اور اگر وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکا تو وہ ہر حد پار کر سکتا ہے۔”

اصغر کی بات اورہان کے ہر شک کو یقین میں تبدیل کر گئی تھی۔ وہ خاموش تھا۔

” سر کیا آپ میری بات کو سنجیدہ لے رہے ہیں؟”

“شکریہ اصغر۔ بیٹی کا خیال رکھنا اب میں چلتا ہوں۔”

وہ ہلکا سا مسکرا کر کہتا وائٹ اوڈی کا دروازہ کھولتا اس میں بیٹھا اور گاڑی بھگا کر لے گیا۔ گاڑی میں موجود اورہان کے ماتھے پہ شکنوں کا جال بن گیا تھا پیچھے ہسپتال کی پارکنگ میں کھڑے اصغر نے اورہان کی زندگی کے لیے دعا کی تھی۔ وہ ایک وفادار ملازم تھا اسی لیے عریش سلطان کا نام نہیں لیا مگر وہ ایک بیٹی کا باپ بھی تھا اسی لیے اسے ڈھکے چھپے الفاظ میں مستقبل کی سازش سے آگاہ بھی کر گیا۔

اورہان نے اپنے راز میں صرف ایک انسان کو شامل کیا تھا۔ ہاں وہی جو بغیر کسی رشتے کے اس کی خاطر جان بھی دے سکتا تھا۔ وہی جس کے لیے وہ اتنا اہم تھا اور اسے علم بھی نہیں تھا۔ وہی جس کی بہن کے علاج کے لیے اورہان نے تگ و دو کی تھی۔ ایاز حسن۔۔۔ اورہان کا وفادار سیکرٹری

ایک وہی تھا جس پہ کبھی عریش کا شک نہیں جا سکتا تھا۔

پورا ہفتہ اورہان اور ایاز نے عریش سلطان اور فہد پہ نگاہ رکھی ہوئی تھی جس بات سے وہ قطعا لاعلم تھے۔ انہیں ان کی پوری پلاننگ کرنے دی گئی تھی مگر وہ ان کے ہر قدم پہ نظریں جمائے بیٹھے تھے۔ وہ جان چکے تھے کہ ولید نعمان کے ہسپتال کو گرانے کی پلاننگ کی جا چکی تھی مگر اس روز ایک غلطی اورہان سے ہوئی تھی جس کی وجہ سے اس کو جیل جانا پڑا۔ اس نے اپنا فون بند کر دیا تھا۔ ایاز مسلسل اس کو فون کر رہا تھا مگر اس کا نمبر بند جا رہا تھا۔ ایاز کی قابلیت اسی وقت ثابت ہو چکی تھی جب اس نے فہد کے آدمیوں کو بلڈنگ کو زمین بوس کرنے کی غرض سے انفراسٹرکچر تباہ کرتا دیکھ ویڈیو بنا لی تھی۔ ان دو راہ گیروں کی موت کی فوٹیج بھی ریکارڈ ہو چکی تھی۔ مگر اورہان سے رابطہ نہیں ہو پا رہا تھا۔ اس کے بعد اورہان کو جیل جانا پڑا تھا۔ اس کا فون بھی گھر پر ہی موجود تھا۔ انس اور ایس پی کی غیر موجودگی میں ایاز اس کے پاس تھانے آیا تھا اور اس کو سارے حالات سے آشنا کروایا تھا۔

“سر ہم یہ ویڈیو ثبوت کے طور پہ پیش کریں گے اور آپ کو جیل سے رہا کروائیں گے۔”

سیاہ سلاخوں کے باہر موجود ایاز نے سلاخوں کے اندر شیروانی میں موجود اورہان کے سامنے اپنی رائے قائم کی تھی۔

“بالکل نہیں۔”

“مگر کیوں سر؟”

“ہم اس ثبوت کو اس وقت استعمال کریں گے جب اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہو گی۔”

“تو کیا اب اس کی ضرورت نہیں ہے؟”

“نہیں، بہت جلد میری ضمانت ہو جائے گی۔ انس ،وکیل کا انتظام کر رہا ہے۔ ہمیں اس کھیل کو انجام تک پہنچانا ہے۔ اس بار مقابل کو یہ سوچنے دو کہ وہ جیت گیا ہے۔”

“مگر سر آپ کی شادی؟”

“فکر نہیں کرو میری بیوی یقین کرتی ہے مجھ پہ۔”

اس روز والا مہرماہ کا تاثر آج بھی اورہان کے ذہن میں نقش تھا جب اس نے اس پہ یقین کی مہر ثبت کر کے اس کو اعزاز بخشا تھا۔

“ٹھیک ہے سر۔”

“ابھی ایس پی اور انس کے آنے سے پہلے پہلے یہاں سے چلے جاو اور ہاں اس ثبوت کی کاپیز بھی اپنے پاس محفوظ رکھنا۔ ہمیں اس کی بہت ضرورت ہو گی۔ یہ میری بے گناہی کا واحد ثبوت ہے۔”

“فکر مت کریں سر آپ کی عزت اور جان میرے لیے بےحد اہم ہے۔”

وہ آج پھر اپنے الفاظ سے اورہان کو حیران کر رہا تھا۔ شاید کچھ لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں کوئی رشتہ نہ ہونے کے باوجود بھی آپ کے اپنے ہوتے ہیں۔

اورہان کی ضمانت ہو چکی تھی۔ اس نے انس کو واپس گھر جانے کے لیے کہہ دیا تھا۔ اب وہ بھی گرے بنگلے جانے کے لیے گاڑی میں بیٹھا تھا۔ کچھ دور جا کر ہی اسے ایک پیغام موصول ہوا تھا۔ اس پیغام کو پڑھ کر اس نے گہرا سانس بھرا۔ وہ جو فلحال گھر جانے کا خواہشمند تھا اس میسج کو پڑھتے ہی اس کے دل نے عریش کی آخری حد دیکھنے کی خواہش کی تھی۔ وہ گاڑی کا رخ فیکٹری کی جانب موڑ چکا تھا۔ وہ مزید ایاز کو اس سب میں نہیں گھسیٹ سکتا تھا۔ وہ اور اس کی فیملی پہلے ہی ایک بڑے صدمے سے گزرے تھے اب اگر ایاز کو کچھ ہو جاتا تو وہ کبھی خود کو معاف نہ کر پاتا۔یہ اس کی جنگ تھی اور اسے تنہا اپنے دشمن کے مدمقابل جانا تھا۔

اس نے وائٹ اوڈی کو فیکٹری کے پاس روکا تھا اور اسی نامعلوم نمبر پر میسج کیا جس پر اسے اندر آنے کے لیے کہا گیا تھا۔ وہ محتاط ہو چکا تھا کیونکہ اسے سنسان فیکٹری میں رات کے وقت بلانا صاف صاف ایک جال محسوس ہوا جس میں پھنس کر وہ کبھی نکل نہ سکے۔ اس نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور گاڑی لاک کیے بغیر ہی اندر کی جانب بڑھنے لگا۔ جان بوجھ کر ایک پتھر پہ ٹھوکر لگنے کی اداکاری کرتے ہوئے اس نے اپنی گھڑی کا لاک کھولا تھا جس سے گھڑی کے ساتھ ساتھ اس کی انگوٹھی جو اسے کھلی تھی وہ بھی ڈھیلی ہوئی تھی اور وہ چمکتی قیمتی کھڑی اور فائر ریزیسٹنٹ انگوٹھی دونوں زمین بوس ہوئی تھیں۔ موبائل کی ٹارچ آن کرتے وہ فیکٹری کے اندر داخل ہوا تھا۔ ایک منٹ سے بھی کم وقت میں اپنی تیز نظروں سے ساری فیکٹری کا سکین کیا تھا۔ دو سے تین بار پکارنے پر بھی جب جواب موصول نہیں ہوا تو وہ چند قدم اپنی جگہ سے ہلتا ایک خفیہ انڈر گراونڈ ہول کے اوپر جا کر کھڑا ہو گیا جو دکھنے میں تو زمین کا ہی حصہ معلوم ہوتا تھا مگر وہ ایک خفیہ ایگزٹ تھا۔اپنے ہاتھوں سے ڈیزائن کیا گیا اس فیکٹری کا نقشہ اسے ازبر تھا۔ وہ اس فیکٹری کا آرکیٹیکٹ تھا۔ ایک ایک چیز اس نے خود ڈیزائن کی تھی۔

کیا کوئی اس سے بہتر اس فیکٹری کے بارے میں جان سکتا تھا؟

ٹھیک اسی وقت فیکٹری کے باہر سے گزرتا راہ گیر کچھ چمکتا ہوا دیکھ کر زمین پر جھکا تھا اس نے گھڑی اور انگوٹھی دونوں کو اٹھایا اور اردگرد دیکھنے لگا۔ یہ جس کی بھی تھیں وہ شاید یہیں کہیں موجود ہو۔ وائٹ اوڈی کی موجودگی اس بات کی اطلاع دے رہی تھی کہ شاید یہ اشیاء اسی گاڑی والے کی ہوں گی۔ اس نے انگوٹھی کو دیکھا تو منفرد ہونے کے باعث ایک بار پہن کر دیکھنا چاہا جس پر عمل کرتے ہوئے انگوٹھی پہن لی گئی جبکہ دوسرے ہاتھ میں گھڑی تھامی ہوئی تھی۔ اورہان اور مقابل کے فون پر میسجز کا تبادلہ ہو رہا تھا۔ پھر مائک سے آتی ایک آواز سنائی دی تھی جس کو پہچاننے میں اورہان کو محض چند سیکنڈز لگے تھے۔اسی پل آواز سنتے وہ شخص اندر کی جانب بڑھا تھا گھڑی اس کے ہاتھ سے چھوٹ چکی تھی۔اس کے بعد یک لخت پوری فیکٹری آگ کی لپٹوں میں جکڑی گئی تھی اور سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں اورہان نے اپنے جوتے سے بٹن پریس کیا تھا۔ وہ چند قدم پیچھے ہٹا تھا آہستہ آہستہ وہ خفیہ انڈرگراؤنڈ ہول کھلا تھا اور اس نے ایک لمحہ بھی ضائع کیے بغیر اس کے اندر چھلانگ لگا دی تھی۔ انڈر گراونڈ راہ داریوں کو پار کرتا وہ آگ میں لپٹی اس فیکٹری سے باہر نکل آیا تھا۔ مگر اندر جانے والا راہ گیر زندگی کی بازی ہار چکا تھا۔ اورہان نے انس اور اپنے بابا کو روتے اور تڑپتے دیکھ تھا۔ اس کا دل چاہا وہ آگے بڑھے اور ان کے گلے لگ جائے مگر اب وہ سب کی نظروں میں مر چکا تھا اور اسے یہی ثابت کرنا تھا کہ وہ مر چکا ہے۔ وہ ایمبولینس کا پیچھا کرتے ہسپتال پہنچا تھا۔ وہاں پہنچ کر وہ اپنے دوست سے ملا جو کہ سینئر ڈاکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ ہسپتال کا انچارج بھی تھا۔

“ارے اورہان تم آج کیسے آ گئے؟”

“مجھے تم سے ایک فیور چاہیے تھی۔”

وہ پریشان اور تھکا ہوا دکھ رہا تھا۔ اس نے شیروانی اتار دی ہوئی تھی۔ نیچے موجود سفید لباس جگہ جگہ سے داغدار ہوا تھا۔

“خیریت تو ہے؟ “

“ہاں ہاں سب خیریت ہے۔ یہ ڈیڈ باڈی جو ابھی ڈی این اے ٹیسٹنگ کے لیے آئی ہے۔ اس کے پوزیٹو رزلٹ میں تم میرے نام کی رپورٹ تیار کرو گے۔”

“ہیں ہیں۔۔۔ تم ہوش میں تو ہو۔”

ڈاکٹر جھٹکے سے اپنی سیٹ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔

“بیٹھو واپس اور میری بات سنو۔ میری جان کو خطرہ ہے اور میرے زندہ رہنے سے میری فیملی کو۔ اب تم بتاو جو میں کہوں گا وہ کرو گے یا میں جاو۔”

“کس سے خطرہ ہے؟”

“تم وہ کرو گے جو میں کہوں گا؟”

بےلچک لہجے میں سوال پوچھا۔

“ہاں کیوں نہیں۔ اگر میں تمہارے کسی کام آ جاؤں تو مجھے خوشی ہو گی۔”

“اب سنو۔ تم نے ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد اس ڈیڈ باڈی کو اس کے لواحقین کے حوالے کرنا ہے۔ مگر کسی لاوارث میت کو تم میرے گھر بھیجو گے۔۔ میری میت کہہ کر۔ تم نے میرے گھر والوں کو یہ یقین دلانا ہے کہ یہ ڈیڈ باڈی میری ہے۔”

“تمہیں خوف محسوس نہیں ہو رہا جیتے جی خود کو مار دینے کا۔”

“اپنوں کے لیے تو بہت کچھ کرنا پڑتا ہے۔ اور اپنوں کی بات ہو تو اورہان حیدر عظیم کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔”

“اللہ تمہیں کامیاب کرے۔”

“آمین ۔ اب یہ بتاو سب ہینڈل کر لو گے ناں؟”

“تمہیں مجھ پہ کوئی شک ہے؟ میں اگر ڈاکٹر نہ ہوتا تو ہالی ووڈ کا ایک جانا مانا ایکٹر ہوتا۔”

کوئی اور وقت ہوتا تو وہ اس کی خود کی تعریف پہ اچھا سا جواب دیتا مگر ابھی وہ وقت ہی تو نہیں تھا۔

“اچھا سب دیکھ لینا۔ اب میں چلتا ہوں۔”

یہ کہتے وہ اس کے ٹیبل سے ماسک اٹھاتا اپنا چہرہ ماسک سے چھپائے ہسپتال سے باہر نکلتا ایک راستے کی جانب چل پڑا تھا جس کی منزل ایاز کا گھر تھا۔ اسے اب اسی کے پاس رکنا تھا تاکہ وہ سب کی نظروں سے چھپا رہ سکے۔ دن گزرتے جا رہے تھے۔ وہ اور اس کے اپنے اذیت کی انتہاؤں کو چھو رہے تھے مگر عریش کے خلاف مکمل ثبوت حاصل کرنا بھی ضروری تھا۔ لیکن وہ اپنی فیملی پہ گزرنے والی قیامت سے بھی واقف تھا۔ اس لیے ان پر بھی نگاہ رکھے ہوئے تھا۔ حادثے کے روز وہ انس کو دیکھنے ہسپتال آیا تھا۔ یہ وہی ہسپتال تھا جہاں اصغر کی بیٹی ابھی بھی موجود تھی۔ سوتے ہوئے انس پہ ایک نگاہ ڈالتا ہوا وہ اس کمرے کی جانب بڑھا تھا جہاں وہ پرنسز اس کو دیکھ کر پھر سے چہک اٹھی تھی۔ اتنی دیر میں اصغر بھی کمرے میں داخل ہوا تھا جب دونوں کی نگاہوں کا تبادلہ ہوا تھا اور پھر وہ وہاں سے چلا گیا تھا۔ ایاز کے علاوہ صرف ایک انسان تھا جو یہ جانتا تھا کہ اورہان زندہ ہے مگر دونوں نے خاموشی کا لبادہ اوڑھے رکھا تھا۔ پہلا اپنے سر کا وفادار تھا تو دوسرا بھی کچھ بے وفا نہ تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اورہان زندہ ہے مگر نہ تو اس نے اورہان کی کوئی مدد کی اور نہ ہی عریش کو کوئی اطلاع دی۔ شاید اب وہ نیوٹرل ہونا چاہتا تھا۔ اسے صرف اپنی بیٹی کی پرواہ تھی۔ اب وہ اس سب میں مزید الجھنا نہیں چاہتا تھا۔ اگلے روز اورہان نے عریش کے خلاف سارے ثبوت میڈیا کے حوالے کر دیے تھے۔ جس کے بعد توپوں کا رخ عریش کی جانب ہو چکا تھا۔ اس کا کام ختم ہو چکا تھا اب قانون نے اپنا کام کرنا تھا۔

وقت نے اپنا چکر مکمل کیا تھا اور گرے بنگلے کے لاوئنج میں آ کر رک چکا تھا۔ سب ساکت و جامد اس کی کہانی سن رہے تھے اور اتنے سارے جھٹکوں کے باعث اب کسی میں ایک لفظ پوچھنے کی بھی گنجائش باقی نہیں تھی۔ اورہان نے ایک نظر سب پہ دوڑائی تو سب کی آنکھیں اشک بار تھیں۔ اس کی ماما تو باقاعدہ رو رہیں تھیں اس نے اپنی ماما کے گرد بازو لپیٹ کر ان کے سارے دکھ دور کر دیے تھے۔

” اب کوئی نہیں رووے گا ماما ۔ اب تو ہماری خوشیوں کا وقت ہے۔ کٹھن وقت ختم ہو چکا ہے۔”

صوفیا بیگم کے آنسو پوچھتے اس نے سب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا۔

“چلیں اب وہیں سے کنٹینیو کرتے ہیں؟”

“کہاں سے؟”

“میری بارات سے”

اورہان کی جانب سے بلا تاخیر جواب موصول ہوا تھا جس پر سب کے چہروں پہ مسکراہٹ نے اپنا ڈیرہ جما لیا تھا مگر ایک وجود تھا جس پہ مسکراہٹ سے زیادہ شرماہٹ نے بسیرا کیا تھا۔ اورہان نے اس کی جانب دیکھا تو وہ شرم کے مارے سرخ ہو رہی تھی۔ اورہان بہت محبت سے اس کی جانب دیکھ رہا تھا جو ہر بار شرما جاتی تھی مگر پھر بھی مانتی نہیں تھی۔

رات میں اجالا کرتے جگنوؤں کی مانند وہ وجود سب کی زندگیوں کو پھر سے روشن کر گیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔