Yaar-E-Gaar By Esha Afzal Readelle 50382 Yaar-E-Gaar (Episode 11)
No Download Link
Rate this Novel
Yaar-E-Gaar (Episode 11)
Yaar-E-Gaar By Esha Afzal
اگلی صبح امل کے لیے پرنور اور منور تھی ۔ وہ جب صبح اٹھی تو اسے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے اس کے دل کا بوجھ ہلکا ہو گیا ہو ۔ تکلیف کا شائبہ تک نہیں تھا وہ سوچ رہی تھی اگر صرف رب کو پکارنے سے اتنا افاقہ ہو سکتا ہے تو اس رب کائنات کی عبادت کرنے سے تو سکون انسان کے اندر رچ بس جاتا ہو گا۔ اسے ان لوگوں کی قسمت پر رشک آ رہا تھا جو اللہ سے دعائیں مانگتے ہیں ۔ ابھی تو اس نے رحمن سے صرف گلے شکوے ہی کیے تھے تو جب دعائیں کرے گی تو نہ جانے کیا ہو جائے گا۔
وہ بیڈ سے اٹھی فریش ہو کر جب آئینے میں اپنا چہرہ دیکھا تو اپنی بڑی بڑی آنکھوں کو سوجن کے باعث چھوٹا پایا۔ اف۔۔۔ “اگر کسی کو علم ہو گیا کہ میں روئی ہوں۔ایسا کرتی ہوں یونیورسٹی نہیں جاتی ۔ نہیں، نہیں ،مجھے مہرماہ میم کی کلاس مس نہیں کرنی، ہو سکا تو ان سے ملنا بھی ہے۔ اب میں کیا کروں؟”
وال کلاک کی طرف نظر ڈالی تو معلوم ہوا کہ ابھی مہرماہ کی کلاس میں وقت ہے۔آخرکار اس نے فیصلہ کیا اور تیار ہو کر نیچے آئی تو صبح کے ساڑھے دس بج چکے تھے ۔ وہ باقی کلاسز مس کر چکی تھی مگر مہرماہ کی کلاس میں جانا ضروری تھا اس لیے اسے ساڑھے گیارہ سے پہلے یونیورسٹی جانا تھا۔ لیٹ ہو جانے کی وجہ سے گھر میں اس وقت صرف اس کی پھوپھو ہی موجود تھی وہ بھی اپنے کمرے میں ہی تھی ۔ اس کو کسی نے نہیں اٹھایا تھا کیونکہ وہ اپنی مرضی کی مالک تھی اگر وہ صبح ڈائیننگ ٹیبل پر نہیں آئی تو اس کا مطلب تھا کہ وہ آج لمبی تان کر سوئی ہے اور اس کا یونیورسٹی جانے کا کوئی ارادہ نہیں۔ کوئی اسے نہیں اٹھاتا تھا۔
اس نے ہلکا سا ناشتہ کیا اور یونیورسٹی چلی آئی ۔ وہ تیز تیز قدموں سے کلاس کی جانب بڑھ رہی تھی۔ اس کا بس چلتا تو وہ بھاگ کر کلاس کی طرف جاتی مگر اسے کسی کی نظر میں نہیں آنا تھا۔لہٰذا گھڑی پر نگاہیں جما رکھی تھی جو گیارہ بج کر پچیس منٹ دکھا رہی تھی۔ اور وہ وقت پر کلاس میں آ چکی تھی۔
اس کا سانس اکھڑا ہوا تھا ماتھے پر پسینے کی ننھی ننھی بوندیں چمک رہی تھی۔ لئیرڈ بال چہرے پر آگے کی جانب آئے ہوئے تھے۔وہ آ کر اپنی سیٹ پر بیٹھی جو فاریہ کے بالکل برابر میں تھی تو فاریہ جو پانی پینے ہی والی تھی اس کی حالت کے پیش نظر اپنی پانی کی بوتل اس کے سامنے کی تو اس نے ایک نظر فاریہ کو دیکھ کر بوتل تھام کر اس سے غٹاغت پانی پینا شروع کیا۔ فاریہ مسکرا کر اس کو دیکھ رہی تھی۔
دونوں بہن بھائی کی پانی آفر کرنے کی عادت۔۔۔۔ وللہ
پانی پی کر اس نے بوتل فاریہ کو واپس کی تو اس کی ساری ہنسی اڑن چھو ہو گئی ۔
“یہ لو تمہاری بوتل۔”
امل نے اس کی واٹر بوتل واپس کی لیکن وہ تو صدمے میں تھی کیونکہ وہ اس کی پوری بوتل خالی کر چکی تھی ۔
“بھلائی کا تو کوئی زمانہ ہی نہیں بھئی۔”
افسوس کے مارے کہا۔ ساتھ ہی اس کو گھور کر بھی دیکھ رہی تھی۔
“کیا ہوا تمہیں؟ ایسے کیوں گھور رہی ہو؟”
“پہلی بات تو یہ کہ میں نے اگر انسانیت کے ناطے تمہیں پانی آفر کر دیا تو تم نے تو پوری بوتل ہی خالی کر دی اور دوسری بات تم نے مجھے تھینکس بھی نہیں کہا ۔”
” سوری وہ ایکچوئلی مجھے شدید پیاس محسوس ہو رہی تھی ۔ بریک میں میری طرف سے تمہیں فریش جوس کی آفر یا پھر جو بھی تمہاری فیورٹ ڈرنک ؟”
کھلے دل سے آفر کی گئی۔
“اسلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ کلاس۔”
ابھی وہ سوچ رہی تھی کہ امل کی آفر قبول کی جائے یا نہیں کہ مہرماہ پورے وقت پہ کلاس میں آ چکی تھی۔
“وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ و برکاتہ میم”
پورے جوش و خروش میں مہرماہ پر سلامتی بھیجی۔ جس سے مہرماہ کے لب مسکراہٹ میں ڈھل گئے۔ وہ کلاس کو ہیلو اور ہائے سے سلام پہ لے آئی تھی۔ زیر لب اللہ پاک کا شکر ادا کیا جس نے اسے یہ توفیق بخشی۔
کلاس کا آغاز ہوا اور سب نے پوری دلجمعی سے اس کا لیکچر سنا۔ تیسری رو میں بیٹھی ایک لڑکی نے سوال پوچھنے کی غرض سے ہاتھ کھڑا کیا۔
“جی پوچھیں بیٹا۔”
“میم جیسا کہ آپ نے بتایا کہ کچھ لوگوں کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ سب ان کے پلان کے مطابق ہو رہا ہے تو کیا سچ میں ایسا ہوتا ہے؟”
پوری توجہ سے سوال سننے کے بعد اپنی بات کا آغاز کیا۔
“میں آپ کی بات کو ایک مثال کے ذریعے سمجھاو گی ۔ اگر ایک باپ اپنے چھوٹے سے بچے کو اپنی گود میں بٹھا کر گاڑی کا سٹیرنگ تھما دے اور وہ بچہ یہ محسوس کرے کہ وہ گاڑی کو کنٹرول کر رہا ہے تو آپ کیا کہیں گی؟ کیا آپ یہ مان لیں گی کہ گاڑی وہ چھوٹا بچہ چلا رہا ہے؟”
“نہیں میم بالکل بھی نہیں۔”
“ایگزیکٹلی آپ بالکل نہیں مانیں گی کہ اتنی بڑی گاڑی کو ایک چھوٹا بچہ چلا رہا ہے کیونکہ اس گاڑی کو چلانے والا اس کا باپ ہے جس نے بے شک سٹیرنگ اپنے بچے کے ہاتھ میں تھما دیا ہے مگر گاڑی کو کنٹرول وہی کر رہا ہے ، گئیر لگانا ،سپیڈ بڑھانا اور کم کرنا ، موڑ مڑنا سب اس کا باپ کر رہا ہے۔ تو میرا مثال دینے کا مقصد یہ تھا کہ آپ کی زندگی کی گاڑی کو بھی اللہ تعالٰی کنٹرول کر رہے ہیں اگر کبھی آپ اپنے پسند کے موڑ کی طرف چل پڑتے ہیں تو یہ اس لیے نہیں ہوتا کہ یہ آپ نے طے کیا بلکہ یہ اس لیے ہوتا ہے کیونکہ یہ آپ کے رب کی طرف سے طے شدہ تھا۔ لہٰذا اگر کبھی اپنے پسندیدہ موڑ پر پہنچ جائے تو اس میں آپ کی کوئی کاریگری نہیں ہوتی اس لیے خود کو عظیم اور دی گریٹ پلانر سمجھنے کی بجائے اس ذات کا شکر ادا کرنا چاہیے جس نے آپ کی گاڑی کو ایک ٹریک دے دیا وہ بھی آپ کا پسندیدہ۔ کیونکہ وہ بیسٹ پلانر ہے۔ سمجھ آئی؟ “
اس کے خاموش ہو جانے پر ایک دلکش فسوں ٹوٹا تھا۔
“یس میم۔”
اونچی آواز میں کہہ کر ساتھ میں تائید میں سر بھی ہلایا۔
“الحمدللہ، دیٹس گریٹ۔”
کلاس کا ٹائم اوور ہونے پر وہ چلی گئی۔ تو امل جو مہرماہ سے ملنا چاہتی تھی مگر اب فاریہ کو آفر کر چکی تھی اسی لیے اس نے فاریہ کی طرف دیکھا۔
“آفر کے بارے میں کیا خیال ہے؟”
“ہاں آف کورس چلو ۔ کون فریش جوس کو انکار کرے گا بھئی۔”
امل اس کی بات پہ مسکرائی اور دونوں باتیں کرتے کینٹین کی جانب بڑھ گئے۔ آہستہ آہستہ ان کی آوازیں مدھم ہوتی جا رہی تھی۔ اچھے لوگوں سے یقینا اچھی شعاعیں پھوٹتی ہیں لیکن یہ ان کو ہی دکھتی ہیں جو خود اچھے ہوتے ہیں یا اچھا بننے کے راستے پر ہوتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عریش اپنے گرینڈ بیڈ روم میں موجود تھا۔ جو کہ چاکلیٹ اور ٹورٹیلا براون کلر سے سجایا گیا تھا۔ دیکھنے والا اس کا روم دیکھ کر حیران رہ جاتا تھا اس میں موجود ہر چیز اپنی قیمت آپ بتاتی تھی۔ ہر چیز شاہانہ اور اس کے ذوق کا منہ بولتا ثبوت تھی۔ نفاست سے سیٹ کیا گیا روم اس کی نفیس طبیعت کی عکاسی کرتا تھا۔ جہازی سائز بیڈ کے اوپر خوبصورت اور مہنگے فریم میں ایک بڑے سائز کی تصویر موجود تھی۔ جس میں وہ سیاہ پراڈو سے اترتا دکھائی دے رہا تھا آنکھوں پر کالا چشمہ لگائے، ڈارک براون سوٹ جس کے بازو کہنیوں تک فولڈ کیے ہوئے تھے اس پر لائٹ براون واسکٹ زیب تن کیے پاوں میں بھوری کھیڑی پہنے وہ گاڑی سے اتر رہا تھا اور یہ تصویر غالبا اچانک کھینچی گئی تھی مگر اس کی وجاہت اور سٹائل کی بدولت وہ فریم کیے جانے کے قابل تھی۔ یہ تصویر کمرے کے انٹیریر کے ساتھ اس حد تک میچ کر رہی تھی کہ دیکھنے والا بلا جھجھک کہہ سکتا تھا کہ یہ کمرے کے عین مطابق لی گئی ہے۔
اس وقت وہ قیمتی صوفہ پر براجمان کچھ سوچ رہا تھا۔ اگر مہرماہ کو کال کرے گا تو ایسا کیا کہے گا کہ وہ مائینڈ نہیں کرے۔ منجھے ہوئے سیاست دان کو اس وقت ایسا بہانہ کرنا تھا کہ وہ لڑکی اس سے بد گمان نہ ہو جائے۔ وہ اس سے یہ تو نہیں کہہ سکتا تھا کہ مہرماہ میرا آپ سے بات کرنے کا بہت دل چاہ رہا تھا اس لیے کال کی کیونکہ اگر ایسا کہا تو پہلے تو وہ بلاک کرے گی اور اگر وہ اس کو کہیں ملا تو بے عزت کرنے میں دیر نہیں لگائے گی۔ اور اسے مہرماہ کی یہی بات سب سے زیادہ پسند تھی کہ وہ مردوں سے فرینک نہیں ہوتی تھی وہ آج کے دور میں بھی دین اور دنیا کو ساتھ لے کر چلتی تھی۔
کچھ سوچ کر اس نے فون پر اس کا نمبر ملایا۔ بیل جا رہی تھی اور وہ اس کے فون ریسیو کرنے کا منتظر تھا۔ پانچویں بیل پر کال ریسیو کر لی گئی۔
“اسلام علیکم، جی کون؟ “
وہ یونیورسٹی لیکچرار تھی اس لیے کالز اس کی زندگی کا معمولی حصہ تھی کبھی یونیورسٹی ، کبھی سٹوڈنٹس، کبھی کولیگز ، کبھی فیملی اسے دن میں نہ جانے کتنی کالز اور مسیجز ریسیو ہوتے تھے۔
“وعلیکم السلام مس مہرماہ، پہچانا آپ نے؟”
لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سوال داغا گیا۔
“جی نہیں ،آپ جلدی بتائیں کیا کام ہے؟”
وہ اس وقت مصروف تھی اس لیے اس کے لہجے پر غور نہ کر سکی۔
“میں عریش سلطان بات کر رہا ہوں۔کیا آپ سے بات کر سکتا ہوں؟”
وہ جو کتاب کی ورق گردانی میں مصروف تھی جھٹکے سے فون کان سے ہٹایا اور پھر دوبارہ کان کو لگایا۔
“اوہ مسٹر عریش ،سوری میں مصروف تھی اس لیے پہچان نہیں سکی۔”
” اگر آپ مصروف نہیں ہوتی تو کیا مجھے پہچان لیتی؟”
نہ جانے کیا جاننے کی کوشش کی گئی تھی۔
“شاید کیونکہ آپ کی کچھ تقاریر میں نے بھی سنی ہوئی ہیں تو شاید آپ کی آواز پہچان میں آ جاتی۔”
“نوازش ہے آپ کی ۔”
“آپ کو کوئی کام تھا؟”
وہ پھر سے پروفیشنل ہو چکی تھی۔
” جی میں جانتا ہوں آپ کو فون کرنے کے لیے کسی کام کا ہونا ضروری ہے۔”
“جی بالکل۔”
وہ اس سے ایسے ہی دو ٹوک جواب کی امید کر سکتا تھا۔
“وہ دراصل جو فیکٹری بنانے کا میں نے عوام سے وعدہ کیا تھا جس میں عام لوگوں کو کام کرنے کا موقع ملے گا اس کا کام اپنے آخری مراحل میں ہے اس لیے میں آپ کو افتتاح والے دن کی دعوت دینا چاہتا ہوں۔”
“بہت شکریہ، مگر میں آپ سے وعدہ نہیں کر سکتی کہ میں آوں گی۔ ہاں کوشش ضرور کروں گی۔”
“آپ آئیں گی تو بہت اچھا لگے گا میں آپ کا منتظر رہوں گا۔”
التجائیہ انداز میں کہا گیا۔ کیونکہ حکم وہ اس پر نہیں چلا سکتا تھا اور کبھی چلانا بھی نہیں چاہتا تھا۔
“آپ مجھے دن اور وقت کا بتا دیجئے گا میں پوری کوشش کروں گی۔”
” وہ جب ڈیسائیڈ ہو گا تو میں آپ کو بتا دوں گا۔ “
“اچھا اب میں فون رکھتی ہوں اللہ حافظ “
“سنیے مس مہرماہ۔”
وہ جو فون بند کرنے والی تھی دوبارہ اس کی جانب متوجہ ہوئی۔
“جی”
“میں نے آپ کو دو دن پہلے بھی کال کی تھی مگر آپ کا فون آف تھا۔”
تفتیشی انداز کی بجائے فکریہ انداز اپنایا گیا تھا۔
” وہ دراصل میرا فون ٹوٹ گیا تھا۔”
“آپ تو ٹھیک ہیں ؟”
نہایت متفکر انداز میں پوچھا گیا۔
“مجھے کیا ہونا ہے فون میرے ہاتھ سے گر گیا تھا اور میں اس وقت ریلنگ کے کنارے کھڑی تھی اسی لیے فون کافی اونچائی سے گرنے کے باعث ٹوٹ گیا۔”
“شکر ” گہرا سانس بھر کر زیر لب کہا تو مہرماہ سن نہیں سکی۔
“اللہ حافظ “
“خدا حافظ، بہت شکریہ آپ کا اپنا قیمتی وقت دینے کا ۔ آنا مت بھولئے گا۔”
“جی انشاءاللہ “
یہ کہتے مہرماہ نے کال بند کر دی اور وہ اس کو اپنے روبرو دیکھنے کے لیے اب دنوں کا حساب کتاب کرنے لگا۔
مہرماہ ابھی کتاب سے ضروری پوائنٹس ایک نوٹ بک پر اتار رہی تھی کہ پھر سے فون کی بیل بجی۔اس نے فون کال ریسیو کی۔
“اسلام علیکم میم”
“وعلیکم السلام بیٹا ، جی بتائیں؟”
“میم میں امل شہریار “
“امل آپ، کیسی ہیں آپ ؟”
اس نے فورا کتاب بند کی۔
“میں ٹھیک ہوں میم، کل تک میں ٹھیک نہیں تھی مگر اب کافی بہتر محسوس کر رہی ہوں۔”
“یہ تو بہت اچھی اور خوشی کی بات ہے کہ آپ بہتر ہیں ۔ “
“میم آپ پوچھیں گی نہیں کہ کس چیز نے مجھے پر سکون کر دیا۔”
“یہ پوچھنے والی بات نہیں ہے امل، اگر آپ پرسکون ہیں تو یہ صاف اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آپ اپنے رب سے رابطہ استوار کر چکی ہیں۔”
وہ فون کی دوسری جانب مہرماہ کی پیش گوئی پر ہکا بکا رہ گئی۔
“میم آپ نے کہا تھا ہمت کے لیے اللہ پاک سے دعا کرنی ہے ، مگر میں نے تو ابھی دعا بھی نہیں کی۔ پھر کیسے میں خود میں ہمت محسوس کر رہی ہوں؟”
وہ کنفیوژن کا شکار تھی ۔
“امل آپ کا بس اپنے رب سے رابطہ ہونا چاہیے۔ پھر چاہے وہ دعا کی صورت ہو یا اپنی تکالیف بتانے کی صورت۔ جب آپ اس کے پاس آنے کی کوشش کرتے ہیں ناں تو وہ آپ کو مزید اپنے پاس کر لیتا ہے۔ وہ آپ میں سکون اتار دیتا ہے جس کے لیے لوگ دربدر بھٹکتے ہیں ،جانتی ہیں اگر آپ دنیا کی ہر آسائش بھی پا لیں لیکن اللہ سے رابطہ نہ رکھ سکیں تو کبھی سکون حاصل نہیں کر سکتی۔ اس لیے اس رب کائنات کی بارگاہ میں حاضری دیتے رہنا چاہیے ۔”
“میم لیکن میں تو پھر اپنے فائدے کے لیے اس کی بارگاہ میں جاوں گی۔”
وہ شرمندگی سے کہہ رہی تھی۔
“اس نے یہ تو نہیں کہا کہ آپ اپنے فائدے کے لیے میرے پاس نہ آنا ، وہ تو کہتا ہے بس مجھے پکارو چاہے اپنے مقصد کے لیے ہی پکارو۔ اس پوری کائنات میں اگر کوئی ہے جو ہمارے فائدے ہمارے لیے سب سے زیادہ مد نظر رکھتا ہے تو وہ صرف اللہ پاک ہی کی ذات ہے۔ دنیا کا ہر رشتہ ایک نہ ایک دن اپنی حقیقت دکھا جاتا ہے۔ کوئی اس بات پر خوش نہیں ہوتا اگر آپ اپنے مفاد کے لیے اس کے پاس جائیں مگر یہ صرف رحمن و رحیم ہی ہے جو اس پر بھی خوش ہوتا ہے کہ آپ اس کے پاس آئے ہیں۔ پھر چاہے صرف اپنے مفاد کے لیے ہی کیوں نہ آئے۔”
وہ بول رہی تھی اور امل کی آنکھیں نمکین پانی سے بھرتی جا رہی تھی۔ اس نے اپنی آدھی عمر اس رب سے رابطہ نہیں رکھا تھا جو اسے سب سے زیادہ چاہتا تھا۔ وہ کتنی نافرمان تھی اور وہ اس بات پر شرمندہ بھی تھی۔
“میم اگر ہم سے حماقت ہو جائے تو کیا کرنا چاہیے؟”
آنسوؤں کو نکلنے دیا اسے اب اس بات کی پرواہ نہیں تھی۔
“تو مان لینا چاہیے کہ ہم سے غلطی ہو گئی کیونکہ یہی چیز آپ میں اور ابلیس میں فرق کرتی ہے۔”
“وہ کیسے میم؟”
آنسو رک چکے تھے اور اب تجسس نے اس کو آن گھیرا تھا۔
“جانتی ہیں جب ابلیس نے نافرمانی کی تو اپنی حماقت کو مان کر معافی مانگنے کی بجائے وہ اپنی غلطی پر ڈٹ گیا تھا جبکہ آدم سے جب غلطی ہوئی تو انہوں نے فورا اللہ تعالٰی سے معافی طلب کی ۔ دونوں ہی جانتے تھے کہ وہ غلطی پر ہیں مگر معافی ابلیس نے نہیں بلکہ آدم نے مانگی تھی۔ ابلیس شیطان مردود قرار پایا اور آدم اشرف المخلوقات۔”
“تو اگر معافی مانگ لوں گی تو کیا وہ مجھے معاف کر دے گا؟”
“امل قرآن پاک میں اللہ نے جب جب کسی آیت میں عذاب کی تنبیہ کی اور اپنے غصے کا اظہار کیا ساتھ ہی اپنے ان ناموں کا بھی حوالہ دیا جس میں وہ بار بار کہہ رہا ہے کہ وہ رحمن ہے وہ رحیم ہے وہ غفور ہے وہ معاف کر دے گا ۔امل وہ تو کافروں کو بھی معافی مانگنے پر معاف کر دیتا ہے اگر وہ شرک سے باز آ جائیں، اپنے گناہوں پر نادم ہوں،توبہ کر لیں ۔ تو آپ تو پھر مسلمان ہیں آپ نے تو شرک بھی نہیں کیا وہ کیوں آپ کو معاف نہیں کرے گا۔”
مہرماہ کا ہر لفظ اس کے دل سے نکل رہا تھا اور امل کے دل میں اتر رہا تھا۔ایک وقت تھا جب اسے بھی یہی لگا تھا کہ اس نے بہت نافرمانی کی ہے اللہ تعالٰی کی ، اس وقت ہانی نے اسے بتایا تھا کہ اللہ پاک تو بڑے بڑے گنہگاروں کو بھی معاف کر دیتے ہیں تو اسے کیوں معاف نہیں کریں گے۔
“میں معافی مانگوں گی اللہ تعالٰی سے ، اور ہاں وہ مجھے معاف بھی کر دے گا۔”
“انشاءاللہ امل ، اپنے یقین کو مضبوط رکھئیے گا۔”
“میم آپ کا بہت شکریہ آپ نہ ہوتی تو نہ جانے کیا ہوتا۔”
“میں نہ ہوتی تو کوئی اور ہوتا ، یہ دنیا ایسے ہی چلتی ہے اس میں ایک جاتا ہے تو ایک آ بھی جاتا ہے ۔ “
“میم آپ میرے لیے بہت اہمیت رکھتی ہیں ۔ میں آپ کو بتا نہیں سکتی کہ میرے دل میں آپ کی کتنی عزت ہے۔”
“عزت دینے والی ذات بھی اسی کی ہے اگر اس نے میری ہر خطا کو ڈھانپ کر آپ کے سامنے میرا اچھا امیج بنایا ہے تو یہ بھی اس کا مجھ پر کرم ہے۔ “
“جی میم”
“اچھا امل اب میں فون رکھتی ہوں۔ اللہ حافظ”
“اللہ حافظ میم”
فون بند ہو چکا تھا اور مہرماہ کو کسی کی شدت سے یاد آ رہی تھی۔
“کہاں ہو ہانی ؟ مجھے تمہاری بہت یاد آتی ہے ۔ ہانی دیکھو تم میرے لیے شمع بن کر آئی تھی مگر اب کہاں چلی گئی ہو۔ میں نے بہت ڈھونڈا ہے تمہیں اور اس بات کا میرا اللہ گواہ ہے۔مجھے تمہیں سب بتانا ہے ۔ ایک بار مجھے مل جاو۔ یا اللہ میری ہانی کو مجھ سے ملا دیں۔”
مہرماہ کی آنکھیں بھیگ چکی تھی۔ وہ اس سے ملنا چاہتی تھی۔ وہی جو اس کی زندگی کی خوبصورت ترین یادوں میں سے ایک تھی ۔ اس کی یار غار۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
